Al-Qasas 28:2

Al-Qasas · from ayah 2

28:2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۟تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡـكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ

یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

These are the verses of the clear Book.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:2

یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں جو حقیقت واضح کرنے والی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ آیتیں ہیں روشن کتاب

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ واضح کتاب (قرآن) کی آیات ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

واضح کتاب الٰہی کی آیات ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ آیتیں ہیں کھول کر بیان کرنے والی اس کتاب عظیم کی

— مولانا اسحاق مدنی

یہ کتاب روشن کی آیات ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

These are the verses of the Clear Book.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

These are verses of the clear Book.

— Muhammad Taqi Usmani

These are verses of the clear Book.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

These are the Ayat of the manifest Book.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

These are revelations of the Scripture that maketh plain.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

These are the verses of the clear Book.

— Saheeh International

These are the verses of the illustrious Book.

— Muhammad Sarwar

These are the verses of the Book that makes (things) clear.

— Muhammad Habib Shakir

These are verses of the Manifest Book.

— Abdul Majid Daryabadi

These are Verses of the Book that makes (things) clear.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

حروف مقطعہ کا بیان پہلے ہوچکا ہے۔ یہ آیتیں ہیں واضح جلی روشن صاف اور کھلے قرآن کی تمام کاموں کی اصلیت اب گذشتہ اور آئندہ کی خبریں اس میں ہیں اور سب سچی اور کھلی۔ ہم تیرے سامنے موسیٰ اور فرعون کا سچا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے ہم تیرے سامنے بہترین واقعہ بیان کرتے ہیں۔ اس طرح کہ گویا تو اس کے ہونے کے وقت وہیں موجود تھا۔ فرعون ایک متکبر سرکش اور بددماغ انسان تھا۔ اس نے لوگوں پر بری طرح قبضہ جمارکھا تھا اور انہیں آپس میں لڑوا لڑوا کر ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈلوا کر انہیں کمزور کرکے خود ان پر جبر وتعدی کے ساتھ سلطنت کر رہا تھا۔ خصوصا بنی اسرائیل کو تو اس ظالم نے نیست ونابود کرنے کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–2

سورة القصص نام آیت نمبر 25 کے اس فقرے سے ماخوذ ہے وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ ، یعنی وہ سورة جس میں القصص کا لفظ آیا ہے۔ لظت کے اعتبار سے قصص کے معنی ترتیب وار واقعات بیان کرنے ہیں، اس لحاظ سے یہ لفظ باعتبار معنی بھی اس سورے کا عنوان ہوسکتا ہے، کیونکہ اس میں حضرت موسیٰ کا مفصل بیان ہوا ہے۔ زمانہ نزول سورة نمل کے دیباچے میں ابن عباس اور جابر بن زید کا یہ قول ہم نقل کرچکے ہیں کہ سورة شعراء، سورة نمل اور سورة قصس یکے بعد دیگرے نازل ہوئی ہیں، زبان، انداز بیان اور مضامین سے بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان تینوں سورتوں کا زمانہ نزول قریب ایک ہی ہے۔ اور اس لحاظ سے بھی ان تینوں میں قریبی تعلق ہے کہ حضرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–4

معارف و مسائل سورة قصص مکی سورتوں میں سب سے آخری سورت ہے جو ہجرت کے وقت مکہ مکرمہ اور جحفہ (رابغ) کے درمیان نازل ہوئی۔ بعض روایات میں ہے کہ سفر ہجرت میں جب رسول اللہ ﷺ جحفہ یعنی رابغ کے قریب پہنچے تو جبرئیل امین تشریف لائے اور رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اے محمد ﷺ کیا آپ کو آپ کا وطن جس میں آپ پیدا ہوئے یاد آتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہاں ضرور یاد آتا ہے۔ اس پر جبرئیل امین نے یہ سورت قرآن سنائی جس کے آخر میں آنحضرت ﷺ کو اس کی بشارت ہے کہ انجام کار مکہ مکرمہ فتح ہو کر آپ کے قبضہ میں آئے وہ آیت یہ ہے اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَاۗدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ ، سورة قصص میں سب سے پہلے حضرت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 1–2

طسم تلک ایت الکتب المبین (2-1) حروف مقطعات پر پیچھے بحث گزر چکی ہے۔ کتاب مبین کے اندر احسان و امتنان اور اتمام حجت کے جو پہلو ہیں خاص طور پر اہل کتاب کے لئے ان کی وضاحت بھی ان کے محل میں ہوچکی ہے۔ کم و بیش انہی الفاظ سے سابق سورة کی تمہید بھی شروع ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ دونوں کا مرکزی مضمون ایک ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–3

3-1یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے پیغمبر ہیں کیونکہ وحی الٰہی کے بغیر صدیوں قبل کے واقعات بالکل اس طریقے سے بیان کردینا جس طرح پیش آتے ناممکن ہے، تاہم اس کے باوجود اس سے فائدہ اہل ایمان ہی کو ہوگا کیونکہ وہی آپ کی باتوں کی تصدیق کریں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–2

درس نمبر 176 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 43 طسم (1) تلک ایت الکتٰب المبین (2) ” “۔ سورت کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے ۔ حر وف تہجی سے آغاز کا مطلب یہ ہے کہ یہ سورت ایسے ہی حروف سے مر کب ہے ، لیکن عام حروف تہجی سے مر کب یہ کتاب ایک بلند مر تبہ اور معجز انہ کتاب ہے۔ ان ہی حروف سے بننے والی دوسری کتابوں اور اس کتاب میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ یہ کتاب عام لوگوں ہی کی زبان میں ہے ، عام لوگ فانی ہیں لیکن یہ کتاب لازوال ہے ۔ اور یہ تلک ایت الکتب المبین (2:28) ” یہ کتاب مبین کی آیات ہیں “۔ لہٰذایہ کتاب مبین کسی انسان کی بنائی ہوئی نہیں ہے کیونکہ اگر انسان کی بنائی ہوئی ہوتی تو دوسرے انسان بھی ایسی کتاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–3

5 یعنی مسلمان لوگ اپنا حال قیاس کرلیں ظالموں کے مقابلہ میں (موضح) جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو باوجود کمزوری کے فرعونیوں کی طاقت کے مقابلہ میں منصور و کامیاب کیا۔ ایسے ہی مسلمان جو فی الحال مکہ میں قلیل اور ضعیف و ناتواں نظر آتے ہیں اپنے بیشمار طاقتور حریفوں کے مقابلہ پر کامیاب ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

آیت 3 نَتْلُوْا عَلَیْکَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰی وَفِرْعَوْنَ بالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ” گویا سورت کا آغاز ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر سے ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–3

1 قرآن کریم میں اکثر مقامات پر حض موسیٰ اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے اور انبیاء کے ذکر میں حضرت موسیٰ کا ذکر پہلے کیا گیا ہے۔ اس کی وجوہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ مختصراً یہ کہ موسیٰ کو رسول اللہ سے زیادہ شدید حالات میں فریضہ ئرسالت سرانجام دینے کا حکم ہوا تھا۔ مثلاً یہ کہ حضرت موسیٰ جس قوم بنی اسرائیل کے فرد تھے، فرعون نے انھیں اچھوتوں کی طرح کم تر درجہ کی مخلوق اور عملاً غلام بنا کر رکھا ہوا تھا۔ جبکہ آپ اپنی قوم قریش ہی کے ایک فرد تھے۔ پھر حضرت موسیٰ کو فرعون جیسے مغرور، متمرد اور سرکش، فوراً بھڑک اٹھنے والے فرمانروا کے ہاں دعوت رسالت کے لئے بھیجا گیا تھا جبکہ آپ کے مخاطبین اول آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ یعنی نفع اس سے وہی اٹھائیں گے، سبق اس سے وہی حاصل کریں گے جو صاحب ایمان ہیں خواہ حقیقۃ، یا حکما، یعنی ایمان کا ارادہ رکھتے ہوں۔ (آیت) ” من نبا “۔ میں (آیت) ” من “۔ تبعیضیہ ہے ” کچھ “ کے معنی میں۔ جیسا کہ ظاہر ہے، قصہ پورا نہیں بلکہ اس کا کچھ حصہ یہاں بیان ہورہا ہے۔ (آیت) ” بالحق “۔ بالکل صحیح ومتعبر۔ توریت وغیرہ کے ذریعہ سے ناقص اور محرف قصہ پہلے سے مشہور تھا ،

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–13

آیت نمبر 1 تا 13 ترجمہ : طٓسمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے یہ آیات مبین کی آیات ہیں آیات الکتاب میں اضافت بمعنی من اور مبین سے حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی آیات ہیں ہم آپ کے سامنے موسیٰ و فرعون کا صحیح واقعہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں (یعنی) مومنین کے لئے اس لئے کہ وہی اس قصہ سے استفادہ کرتے ہیں یقیناً فرعون نے سرزمین مصر میں سرکشی کر رکھی تھی اور مصر کے باشندوں کو اپنی خدمت کے لئے فرقوں میں تقسیم کر رکھا تھا ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا اور وہ بنی اسرائیل تھے ان کے نومود لڑکوں کو قتل کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تلک ایت الکتب المبین . اَبَانَ (باب افعال جس سے مُبِیْن بنا ہے) لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ اول صورت میں کتاب کے مبین ہونے کے یہ معنی ہوں گے کہ اعجاز کی وجہ سے اس کتاب کا اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہونا ظاہر ہے۔ دوسری صورت میں صورت میں مبین کا یہ معنی ہوگا کہ یہ کتاب احکام کو ‘ وعدہ وعید کو اور قصص وغیرہ کو کھول کر بیان کرنے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) طسم۔ طاء سے طول وقدرت اور سین سے خوبصورتی و بلندی میم سے بادشاہت وسلطنت مراد ہے یا یہ کہ ایک قسم ہے جو تاکید کے لیے بیان کی گئی ہے یہ سورت ایسی کتاب کی آیتیں ہیں جو حلال و حرام اور اوامرو نواہی کو بیان کرنے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–2

تفسیر سورة القصص طٰسۗمّۗ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ : حروف مقطعات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (1) اور دوسری آیت کی تفسیر سورة یوسف کی آیت (2) میں دیکھیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–6

طسم اس کے متعلق گفتگو گزر چکی ہے۔ تلک ایت الکتب المبین تلک محل میں ہے یہ ھذہ تلک کے معنی میں ہے آیات اس سے بدل ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ تلو کی وجہ سے محل نصب میں ہو۔ ایٓات اس سے بدل ہو تو اس کو نصب دے گا جس طرح تو کہتا ہے : زید اضربت۔ المبین اس کی برکت اور خیر کو واضح کرنے والی ہے، حق کو باطل سے واضح کرنے والی ہے، حلال کو حرام سے واضح کرنے والی ہے۔ انبیاء کے قصے اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت کو واضح کرنے والی ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : بان الثی، وأبان شے واضح ہوگئی۔ نتلوا علیک من نبا موسیٰ و فرعون بالحق لقوم یومنون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور قارون کے قصہ کا ذکر کیا اور قریش کے مشرکین کے خلاف…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کی باتوں میں سے ایک بات یہ ہے کہ اس نے انی نیند میں ایک خواب دیکھا کہ ایک آگ بیت المقدس سے آئی یہاں تک کہ اس نے مصر کے تمام تھروں کو گھیرلیا قبطیوں کو جلادیا ہے۔ اور بنی اسرائیل کو چھوڑد یا ہے یہ خواب دیکھنے بعد اس نے جادوگروں کو کاہنوں کو فال پکڑنے والوں کو بلایا زجرہ سے مراد فال پکڑنے والے ہیں۔ پرندوں کو اڑاتے ہیں اس نے ان سے اپنے خواب کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرعون سے کہا ایک آدمی اس شہر سے جہاں بنواسرائیل آئے ہیں یعنی بیت المقدس سے نکلے گا اس کی وجہ سے مصر تباہ و برباد ہوجائے گا یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–4

فرعون کی سرکشی اور بنی اسرائیل پر مظالم کا تذکرہ ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں پھر فرمایا کہ آپ کو موسیٰ اور فرعون کی بعض خبروں کو حق کے ساتھ بالکل ٹھیک ٹھیک آپ کو سناتے ہیں آپ کے واسطہ سے یہ خبریں اہل ایمان کو پہنچیں گی اور وہ ان سے عبرت حاصل کریں گے۔ پھر فرمایا کہ فرعون زمین میں یعنی سر زمین مصر میں حکومت اور اقتدار کے اعتبار سے بڑھ چڑھ گیا تھا۔ اس نے وہاں کے رہنے والوں کو کئی جماعتوں میں تقسیم کر رکھا تھا انہیں جماعتوں میں سے ایک جماعت بنی اسرائیل کی تھی ان کو اس نے ضعیف بنا رکھا تھا اور ان کے ضعف اور مجبوری کا یہ عالم تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

آغاز سورت بحقانیت قرآن وذکر اجمالی قصۂ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) وفرعون برائے تہدید اہل نخوت و رعونت ومنکرین نبوت ورسالت قال اللہ تعالیٰ طسم تلک ایات الکتب المبین۔۔۔ الی۔۔۔۔ موسیٰ وفرعون بالحق لقوم یؤمنون۔ (ربط) گزشتہ سورت کی طرح اس سورت کا آغاز بھی حقانیت قرآن سے فرمایا جو رسالت محمد یہ کی سب سے واضح اور روشن دلیل ہے اور فرعون کا قصہ ذکر کیا جس سے اہل نخوت و رعونت کی تہدید مقصود ہے کہ متکبرین کو چاہئے کہ فرعون کے قصہ سے عبرت پکڑیں کہ جس نے بنی اسرائیل کو ضعیف اور کمزور سمجھ کر ظلم وستم میں کسر نہ اٹھا رکھی اور اپنی وقتی طاقت کے غرور میں خدا کے حکم اور اس کی تاخیر اور مہلت سے غافل رہا اس کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ یہ تمہید مع ترغیب ہے یعنی یہ کتاب مبین کی آیتیں ہیں انہیں توجہ سے سنیں اور ان پر عمل کریں۔ الکتاب کی صفت المبین سے اس طرف اشارہ ہے کہ اس سورت میں اگرچہ عقلی دلیلیں بھی مذکور ہیں لیکن زیادہ زور دلیل نقلی پر دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة القصص ہے ۔ قصص قصہ کی جمع ہے جس کا معنی واقعہ یا کہانی ہوتا ہے ، چونکہ اس سورة میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قارون اور بعض دیگر اقوام کے واقعات مذکور ہیں ۔ اس لیے اس کا نام سورة القصص ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تفصیلی واقعات کی نسبت سے اس سورة کا دوسرا نام سورة موسیٰ بھی بیان کیا جاتا ہے تا ہم زیادہ مشہور زیادہ سورة القصص ہی ہے۔ گزشتہ سورة الشعراء اور سورة النمل کی طرح یہ سورة بھی مکی زندگی کے آخری حصے میں نازل ہوئی ۔ اس کی بعض آیات دوران ہجرت حجفہ کے مقام پر نازل ہوئیں ۔ جن میں آپ کی تسلی دی گئی ہے ۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة ہجرت سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–2

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ طٰسۗمّۗ۝ 1 تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ۝ 2 الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

طٰسٓمّٓ۔ تِلْکَ اٰیٰتُ الْـکِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۔ (القصص : 1، 2) ( طا۔ سین۔ میم۔ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں۔ ) کتاب مبین کا مفہوم حروفِ مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں یعنی یہ کتاب خود بھی روشن ہے اور ان احکام و قصص کو بھی نہایت تفصیل سے بیان کرتی ہے جو اس کتاب میں مذکور ہیں۔ کتاب مبین کے اندر ایک پہلو تو احسان و امتنان کا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے انسانی ہدایت کے لیے جو آخری کتاب اتاری ہے وہ نہایت روشن اور واضح کتاب ہے، اس کے سمجھنے میں نہ کسی قسم کی الجھن ہے اور نہ دشواری ہے۔ اس کا ہر بیان نہایت سلجھا ہوا اور ہر دور میں فہم اور عمل کے لیے آسان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 2–3

فہم القرآن ربط کلام : سورة نمل کا اختتام ان الفاظ میں ہوا کہ اے لوگو ! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی نشانیاں دکھلائے گا، کیونکہ آپ کا رب کسی کے اچھے اور برے عمل سے غافل نہیں ہے۔” اللہ “ کی نشانیوں میں یہ بھی اس کی قدرت کی نشانی ہے کہ اس نے بنی اسرائیل جیسی مظلوم قوم اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے وسائل کے لحاظ سے کمزور شخص کو فرعون جیسے ظالم شخص سے نجات دی اور بنی اسرائیل کو پوری دنیا میں معزز بنایا۔ حضرت موسیٰ اور فرعون کی کشمکش کا تذکرہ پایا جاتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اہل مکہ اور آل فرعون کے کردار میں بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد : ” اے موسیٰ ! تو اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2: تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ (یہ کتاب مبین کی آیات ہیں) ۔ کہا جاتا ہے۔ بان الشیٔ و ابان۔ دونوں کا ایک معنی ظاہر ہونا۔ اور کہا جاتا ہے ابنتہ فابان۔ یہ لازم و متعدی دونوں طرح مستعمل ہے۔ یعنی اس کی خیر و برکت ظاہر ہے۔ نمبر 2۔ یہ حلال و حرام کو ظاہر کرنے والی اور وعدہ ووعید اور اخلاص و توحید کو ظاہر کرنے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 1–3

تفسیر۔ 3۔ نتلو علیک من نبا موسیٰ و فرعون بالحق، حق سے مراد صدق ہے ۔ لقوم یومنون، اور وہ قرآن کی تصدیق کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–2

سورة قصص 2 تا 2۔ حروف مقطعات کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اب آگے حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ بیان فرمایا مُبِیْن کے مُبِیْن حق اور ناحق کو کرنے کے ہیں لقوم یؤمنون میں ایمان والوں کو اس واسطے خاص کیا کہ انہیں کو قرآن کی نصیحت فائدہ کرتی ہے علا کے معنی تکبر کے ہیں اور بعضے مفسرین کا قول ہے کہ علا سے مطلب ہے کہ فرعون نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا فرعون نے مصر کے رہنے والوں کو کئی فرقے کرنے کی تفسیر میں قتادہ کا قول ہے کہ ایک جماعت کو فرعون نے غلام بنایا تھا اور ایک جماعت کو قتل کرتا تھا غرض فرعون نے بنی اسرائیل کو ہر طرح سے کمزور اور ضعیف کر رکہا تھا اور ان سے ذلیل کام لیتا تھا بنی اسرائیل اپنے زمانہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

1 قرآن حکیم کی عظمت شان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ آیتیں ہیں کھول کر بیان کرنے والی اس کتاب عظیم کی " جس کی عظمت کا کوئی کنارہ نہیں۔ اور جو منبع ومصدر ہے ہر خوبی و کمال کا اور سر چشمہ ہے حق و ہدایت کا۔ جس نے کھول کر بیان کردیا حق و حقیقت کو اور صدق و صفا کو۔ اور جس نے پوری طرح تفریق وتمیز کردی حق و باطل کے درمیان۔ حرام و حلال اور جائز و ناجائز کے درمیان۔ یہاں پر سورة نمل کی پہلی آیت کے حواشی پر بھی ایک نظر ڈالی جائے۔ سو یہ اس شان کی ایک ہی کتاب ہے اور یہ ایسی عظیم الشان اور بےمثال نعمت ہے جس جیسی دوسری کوئی نعمت نہ ہوئی ہے نہ آئندہ کبھی ممکن ہے۔ لہذا اس نعمت عظمیٰ کی دل و جان سے قدر کرنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اور پرورش تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ قرآن پاک میں بار بار آیا ہے۔ سورة کہف میں خضر (علیہ السلام) کے ساتھ آیا ہے پھر سورة طہٰ میں سورة نمل میں اور اب سورة قصص میں کچھ کچھ حصہ ضرورت کے مطابق آیا ہے۔ یہاں تدبیر الٰہی کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ فرعون نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام اسرائیلی نوزائیدہ بچوں کو قتل کردینے کا حکم دے رکھا تھا۔ مگر اللہ کی تدبیر کے سامنے وہ اندھا ہوگیا اور اسی خاص اسرائیلی بچے کو خود پرورش کیا جو اس کا اصل دشمن تھا۔ اور اللہ نے اپنی حکمت اور تدبیر سے اس بچے کو اس کی ماں کے سپرد بھی کروا دیا بلکہ ماں کو دودھ پلانے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–13

سورة القصص آیات 1 تا 13 اسرار و معارف طسم۔ وہ آیات ایسی کتاب کی ہیں جو حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے۔ اور یہاں آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعی اور اس کی حقیقت کا بیان سنایا جائے ا کہ مومنین کو اس سے مزید عبرت حاصل ہو۔ قرآن اگرچہ مخاطب تو ساری انسانیت کو کرتا ہے مگر اس سے فائدہ وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جنہیں ایمان نصیب ہوتا ہے۔ بے شک فرعون اپنی سرزمین میں بہت طاقتور شاہنشاہ تھا اور اس نے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔ لفظ شیعہ : یہ پہلے بھی گزر چکا کہ شیعہ کا لفظی تر جمہ گروہ ، پارٹی یا جماعت ہے مگر قرآن کریم نے ہمیشہ گمراہ لوگوں کے ٹولہ پر اس کا اطلاق کیا ہے۔ جیسے اس جگہ کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–2

1 ۔ یعنی جو حق کو باطل سے واضح کرنے والی ہے یا جو اپنا مدعا بیان کرنے میں واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 1–2

(28:1) الکتب المبین : موصوف وصفت واضح کتاب جو حرام اور حلال میں اور حدود و احکام کو واضح طور پر بیان کرتی ہے۔ مراد اس سے القرآن ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 2–6

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : نتلوا (ہم پڑھتے ہیں) نبا (خبر۔ حال) ‘ علا (اس نے سرکشی کی) شیع (فرقے۔ گروہ) ‘ یستضعف (وہ کمزور کرتا ہے) ‘ یذبح (وہ ذبح کرتا ہے) یستحی (وہ زندہ رکھتا ہے) ‘ نمن (ہم احسان کرتے ہیں) ‘ ائمۃ (امام) پیشوا۔ رہنما ‘ نری (ہم دکھائیں گے) ‘ یحذرون (وہ ڈرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 : سورۃ القصص کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے۔ یہ وہ حروف ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو حاصل ہے۔ ممکن ہے ان حروف کے معنی اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو بتادیئے ہوں اور آپ نے امت کو بتانا ضروری نہ سمجھا ہو۔ لہٰذا ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ ان حروف کے معنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–4

فرعون کا واقعہ۔ (ف 1) ان آیتوں میں موسیٰ اور فرعون کا قصہ بیان فرمایا کہ فرعون نے خدا ہونے کا دعوی کیا تھا فرعون نے مصر کے رہنے والوں کے کئی گروہ کرڈالے تھے ان میں سے ایک گروہ بنی اسرائیل کو ہر طرح سے کمزور اور ضعیف کررہا تھا اور ان سے ذلیل کام لیتا تھا بنی اسرائیل اپنے زمانہ کے لوگوں میں عزت دار تھے فرعون نے ان کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں یہیاں تک کہ فرعون ان کے لڑکوں کو ذبح کرادیتا تھ اور لڑکیوں کو چھوڑ دیتا تھا یہاں تک کہ ننانوے ہزار معصوم بچوں کو ذبح کرادیا، اور جو لڑکی پیدا ہوتی تھی اس کو خدمت کے لیے چھوڑ دیتا تھا اور یہ اس لیے کرتا تھا کہ کسی نجومی نے اس کو خبر دی تھی کہ بنی اسرائیل میں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–4

قصہ غلامی وآزادی 1: سورة قصص کی ابتدا موسیٰ اور فرعون کے قصے سے ہوتی ہے کیونکہ یہ قصہ اپنے اندر مظلوموں اور بیکسوں کے لئے ایک عجیب کشش رکھتا ہے ۔ اس کے بیان کرنے سے مقصد یہ ہے ۔ کہ مکہ کے زبردست انسانوں کے دل میں ابھار اور بلندی کی خواہشات پیدا کی جائیں ۔ اور انہیں بتایا جائے ۔ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی کیونکر مدد کرتا ہے ۔ اور کس طرح حضیض غلامی سے اٹھا کر حکومت و وراثت کے بام بلند تک پہنچا دیتا ہے یہ قصہ حقیقت میں فرعون اور موسیٰ کا قصہ ہی نہیں ۔ بلکہ حق و باطل کی معرکہ آرائی کا مکمل نقشہ ہے ۔ فرعون اور فرعون جیسے ظالموں کی داستان عبرت ہے ۔ بلکہ یوں کہیے کہ آزادی اور غلامی کا کامل فوٹو ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

2۔ یہ سورت ایک واضح کتاب کی آیتیں ہیں ۔ یعنی قرآن شریف کی قرآن شریف کو واضح اور کھلی کتاب فرمایا ، چونکہ قرآن کریم کے احکام اور دلائل بہت ضاف اور واضح اور کھلے ہوئے ہیں اس لئے اس کو کتاب مبین فرمایا ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 3۔ کیونکہ مقاصد قصص کے کہ عبرت و استدلال علی النبوة وغیرہما ہیں مومنین ہی کو نافع ہیں، خواہ حقیقة مومن ہوں یا حکما۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ آیتیں ہیں بات کو کھول کھول کر بیان کرنے والی کتاب کی : 2۔ اس کتاب قرآن کریم میں جتنے اوامر ونواہی بیان کئے گئے ہیں سب واضح ہیں اس کا کوئی حکم بھی ایسا مبہم نہیں ہے جس سے بات واضح نہ ہوتی ہو اور جو قصص وواقعات اس میں بیان کئے گئے ہیں ان کا مقصد وحید نصیحت وتذکیر ہے اور ہر حصہ اور واقعہ کا صرف اتنا حصہ بیان کیا گیا ہے جس سے کسی چیز کی وضاحت پیش کرنا مطلوب ہے اور ہماری زندگی کے لئے کوئی نہ کوئی سبق اس میں ضرور موجود ہے گویا کسی قصہ کو بھی صرف قصہ گوئی کے رنگ سے پیش نہیں کیا گیا بلکہ کسی نہ کسی وضاحت کے لئے اس کو پیش کیا گیا ہے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے کے پیش نظر یہ بات رہے اور قرآن کریم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

Commentary Surah Al-Qasas is the very last among the Makki Surahs. It was revealed between Makkah and Juhfah (Rabigh) during the migration. It is mentioned in some narrations that during the journey from Makkah to Madinah when the Holy Prophet ﷺ reached near Juhfah or Rabigh, Jibra'il (علیہ السلام) came to him and enquired whether he was feeling home sick, as he was leaving the place where he was born and spent all his life. To this the Holy Prophet ﷺ replied in the affirmative. Then Jibra'il (علیہ السلام) recited this Surah and gave him the good tiding that ultimately Makkah will fall to him…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

1 For comparison, see AI-Baqarah: 47-59, AI-A'raf: 100-141, Yunus: 75-92. Hud: 96-109, Bani Isra'il: 101-111, Maryam: 51-53. Ta Ha: 1-89, Al- Mu'minun: 45-49, Ash-Shu`araa: 10-68, An-Naml: 7-14, Al-`Ankabut: 39-40, AlMu'min: 23-50, Az-Zukhruf: 46-56, Ad-Dukhan: 1 7-33, Adh-Dhariyat: 38-40, An-Naziyat: 1 5-26. 2 That is, "For the benefit of those who are not obstinate and stubborn, for it would be useless to address those who are not at all inclined to listen to you.

Read the full tafseer →