Al-Qasas 28:6

Al-Qasas · from ayah 6

28:6

وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَنُرِیَ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ ۟وَنُمَكِّنَ لَهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ وَنُرِىَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ

اور ملک میں ان کو قدرت دیں اور فرعون اور ہامان اور اُن کے لشکر کو وہ چیزیں دکھا دیں جس سے وہ ڈرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And establish them in the land and show Pharaoh and [his minister] Haman and their soldiers through them that which they had feared.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:6

اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں اور ان سے فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دکھلا دیں جس کا انہیں ڈر تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ملک میں ان کو قدرت دیں اور فرعون اور ہامان اور اُن کے لشکر کو وہ چیزیں دکھا دیں جس سے وہ ڈرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ بھی کہ ہم انہیں زمین میں قدرت واختیار دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وه دکھائیں جس سے وه ڈر رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انہیں زمین میں اقتدار عطاکریں، اور فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دکھا دیں جس سے بچاؤ کی وہ تدبیریں کر رہے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور انہیں زمین میں قبضہ دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی دکھادیں جس کا انہیں ان کی طرف سے خطرہ ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم انہیں ملک میں حکومت و اقتدار بخشیں اور فرعون اور ہامان اور ان دونوں کی فوجوں کو وہ (انقلاب) دکھا دیں جس سے وہ ڈرا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھیں زمین میں اقتدار دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو ان سے وہ چیز دکھلائیں جس سے وہ ڈرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور انھیں اس ملک میں اقتدار بخشیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دکھا دیں جس کا انھیں ان (بنی اسرائیل) سے خطرہ تھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کو زمین میں اقتدار عطا کریں اور فرعون و ہامان اور ان کی فوجوں کو ان کے ہاتھوں وہ دکھائیں جن کا وہ اندیشہ رکھتے تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور پیشوائی و وراثت بھی اسطرح کہ) ان کو حکومت و اقتدار دے دیں زمین میں اور دکھا دیں فرعون اور ہامان اور اس کے لشکرون کو ان مظلوموں کی طرف سے وہی کچھ جس سے وہ لوگ ڈرتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم انہیں زمین میں حکومت دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے تابعین کو ان میں سے وہ کچھ دکھلائیں جن سے وہ بچنا چاہتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم تمکن عطا کریں ان کو زمین میں اور ہم دکھا دیں فرعون ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ کچھ جس سے وہ ڈرتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ملک میں ان کو قدرت دیں فرعون ہامان اور ان کے لشکر کو وہ چیزیں دکھا دیں جن سے وہ ڈرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and to grant them power in the land, and make Pharaoh and Haman and their hosts see what they had feared.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and give them power in the land, and to show Pharaoh, Haman and their armies the very thing they were fearing from them.

— Muhammad Taqi Usmani

and give them power in the land, and to show Pharaoh, Haman and their armies the very thing they were fearing from them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And to establish them in the land, and We let Fir`awn and Haman and their armies receive from them that which they feared.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And to establish them in the earth, and to show Pharaoh and Haman and their hosts that which they feared from them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And establish them in the land and show Pharaoh and [his minister] Haman and their soldiers through them that which they had feared.

— Saheeh International

give them power in the land and make the Pharaoh, Haman (his Minister), and their armies to experience from their victims what they feared most.

— Muhammad Sarwar

And to grant them power in the land, and to make Firon and Haman and their hosts see from them what they feared.

— Muhammad Habib Shakir

And We should establish them in the earth, and We should let Fir'awn and Haman and their hostee from them that which they dreaded.

— Abdul Majid Daryabadi

To establish a firm place for them in the land, and to show Pharaoh, Haman, and their hosts, at their hands, the very things against which they were taking precautions.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

حروف مقطعہ کا بیان پہلے ہوچکا ہے۔ یہ آیتیں ہیں واضح جلی روشن صاف اور کھلے قرآن کی تمام کاموں کی اصلیت اب گذشتہ اور آئندہ کی خبریں اس میں ہیں اور سب سچی اور کھلی۔ ہم تیرے سامنے موسیٰ اور فرعون کا سچا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے ہم تیرے سامنے بہترین واقعہ بیان کرتے ہیں۔ اس طرح کہ گویا تو اس کے ہونے کے وقت وہیں موجود تھا۔ فرعون ایک متکبر سرکش اور بددماغ انسان تھا۔ اس نے لوگوں پر بری طرح قبضہ جمارکھا تھا اور انہیں آپس میں لڑوا لڑوا کر ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈلوا کر انہیں کمزور کرکے خود ان پر جبر وتعدی کے ساتھ سلطنت کر رہا تھا۔ خصوصا بنی اسرائیل کو تو اس ظالم نے نیست ونابود کرنے کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القصص 8 مغربی مستشرقین نے اس بات پر بڑی لے دے کی ہے کہ ہامان تو ایران کے بادشاہ اخسویرس یعنی خشیارشا (Xerxes) کے دربار کا ایک امیر تھا، اور اس بادشاہ کا زمانہ حضرت موسیٰ کے سینکڑوں برس بعد 486 اور 465 قبل مسیح میں گزرا ہے، مگر قرآن نے اسے مصر لے جاکر فرعون کا وزیر بنادیا۔ ان لوگوں کی عقل پر تعصب کا پردہ پڑا ہوا نہ ہو تو یہ خود غور کریں کہ آخر ان کے پاس یہ یقین کرنے کے لیے کیا تاریخی ثبوت موجود ہے کہ اخسویرس کے درباری ہامان سے پہلے دنیا میں کوئی شخص کبھی اس نام کا نہیں گزرا ہے۔ جس فرعون کا ذکر یہاں ہورہا ہے اگر اس کے تمام وزراء اور امراء اور اہل دربار کی کوئی مکمل فہرست بالکل مستند ذریعے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–6

وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَي الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ اَىِٕمَّةً ، الآیتہ، اس آیت میں تدبیر فرعونی کا بمقابلہ تقدیر الہی کے نہ صرف خائب و خاسر ہونا بلکہ فرعون اور اس کے سب اہل دربار کو انتہائی بیوقوف بلکہ اندھا بنانے کا ذکر ہے کہ جس لڑکے کے متعلق خواب اور تعبیر خواب کی بناء پر فرعون کو خطرہ لاحق ہوا تھا اور جس کی بناء پر بنی اسرائیل کے لاتعداد نوزائیدہ لڑکوں کو ذبح کرنے کا قانون جاری کیا تھا اس کو حق تعالیٰ نے اسی فرعون کے گھر میں اسی کے ہاتھوں پرورش کرایا اور والدہ کے اطمینان کے لئے انہی کی گود میں حیرت انگیز طریقہ پر پہنچا دیا اور فرعون سے رضاعت کا خرچ جو بعض…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

بنی اسرائیل کو اقتدار دینے کا خدائی فیصلہ تمکین فی الارض سے مراد اقتدار و صولت و دبدبہ ہے۔ یعنی اراد ہالٰہی یہ ہوا کہ ان دبائے ہوئے مظلوموں کو ایک مضبوط اور طاقت ور سلطنت عطا کرے اور فرعون وہامان اور ان کی فوجوں کو وہ چیز دکھا دے جس کا وہ اندیشہ رکھتے تھے۔ ماکانوا یحذورون سے اشارہ فرعون اور اس کے البان کے اس اقتدار کی حرف ہے جس کی وضاحت ہم اس کے محل میں کرچکے ہیں کہ وہ بنی اسرائیل کی تعداد میں روز افزوں اضافہ سے بہت خائف تھے کہ اگر یہ قوت پکڑ گئے تو یا تو وہ خود ملک پر قابض ہوجائیں گے یا باہر کے دشمنوں سے مل کر یہاں سے قطبیوں کے بےدخل کردیں گے۔ اسی خطرے کے سدباب کے لئے ان احمقوں نے بنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6-1یہاں زمین سے مراد ارض شام ہے جہاں وہ کنعانیوں کی زمین کے وارث بنے کیونکہ مصر سے نکلنے کے بعد بنی اسرائیل مصر واپس نہیں گئے، واللہ اعلم۔ 6-2یعنی انھیں جو اندیشہ تھا کہ ایک اسرائیلی کے ہاتھوں فرعون کی اور اس کے ملک و لشکر کی تباہی ہوگی، ان کے اس اندیشے کو ہم نے حقیقت کر دکھایا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–7

2: انہیں جو خطرہ تھا کہ کوئی بچہ بڑا ہو کر ان کے زوال کا باعث بنے گا، اسی سے بچنے کے لیے وہ تدبیریں کر رہے تھے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم یہ چاہتے تھے کہ انہیں یہ دکھائیں کہ ان کی ساری تدبیریں ناکام ہوگئی ہیں اور وہ خطرہ حقیقت بن کر سامنے آگیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–6

ونرید ان نمن علی الذین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ما کانوا یحذرون (28: 5 – 6) ” “۔ یہ کمزور لوگ جن کو اس سرکش نے پوری طرح غلام بنا رکھا تھا ، ان کے حالات میں اپنی مرضی سے تصرف کرتا تھ ، ان کو سخت سے سخت سزائیں دیتا تھا ، ان کے لڑکوں کو ذبح کرتا تھا۔ اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑتا تھا۔ اس تشدد اور ظلم و ستم کے باوجود وہ اپنی ذات اور اپنے اقتدار کے بارے میں ان عوام سے سخت خائف تھا۔ چناچہ اس نے ان کے خلاف خفیہ پولیس قائم کر رکھی تھی اور ان کے ہاں جو بچہ بھی پیدا ہوتا اسے رپورٹ مل جاتی اور وہ اسے مذبح خانے کو بھیج دیتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک قصاب تھا۔ یہ مفلوک الحال مستضعفین تھے جن پر اللہ نے پناہ فضل و کرم کرنے والا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 5–6

9 یعنی اس ملعون کے انتظامات تو وہ تھے، اور ہمارا ارادہ یہ تھا کہ کمزوروں کو قوی اور پستوں کو بالا کیا جائے۔ جس قوم کو فرعونیوں نے ذلیل غلام بنا رکھا تھا ان ہی کے سر پر دین کی امامت اور دنیا کی سرداری کا تاج رکھ دیں۔ ظالموں اور متکبروں سے جگہ خالی کرا کر اس مظلوم و ستم رسیدہ قوم سے زمین کو آباد کریں اور دینی سیادت کے ساتھ دنیاوی حکومت بھی اس مظلوم و مقہور قوم کے حوالے کی جائے۔ 10 " ہامان " وزیر تھا فرعون کا جو ظلم و ستم میں اس کا شریک اور آلہ کار بنا ہوا تھا۔ 11 یعنی جس خطرہ کی وجہ سے انہوں نے بنی اسرائیل کے ہزارہا بچوں کو ذبح کر ڈالا تھا۔ ہم نے چاہا کہ وہ ہی خطرہ ان کے سامنے آئے۔ فرعون نے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6 وَنُمَکِّنَ لَہُمْ فِی الْاَرْضِ ” ہم نے فیصلہ کیا کہ دنیا میں ہم بنی اسرائیل کو حکومت ‘ طاقت اور سربلندی عطا کریں گے۔ وَنُرِیَ فِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ وَجُنُوْدَہُمَا مِنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَحْذَرُوْنَ ” ہامان فرعون کا وزیر تھا۔ ان لوگوں کو بنی اسرائیل کی طرف سے کیا خطرہ تھا ؟ اس کے بارے میں دو توجیہات ملتی ہیں۔ ان میں سے جو توجیہہ ہماری تفسیری روایات میں بہت تکرار سے بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا جس سے اسے یہ اشارہ ملا کہ اسرائیلیوں کے ہاں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو اسے اور اس کی سلطنت کو ختم کر دے گا۔ چناچہ اس نے اسرائیلیوں کے ہاں پیدا ہونے والے ہر لڑکے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 فرعون کا وزیر جو اس ظلم و ستم کا شریک اور آلہ کار بنا ہوا تھا۔ اس کی تفصیل اسی سورة میں آگے مذکور ہے۔۔9 یعنی فرعون ہامان اور ان کے ساتھیوں کی کوشش یہ تھی کہ بنی اسرائیل کو اتنا کمزور بنادیا جائے کہ وہ آئندہ سر اٹھانے کے قابل نہ رہیں۔ اسی غرض سے ان کی نسل ختم کردینے کی سکیم تیار کی گئی تھی۔ مگر ہم یہ چاہتے تھے کہ جس خطرہ کی روک تھام کے لئے وہ سارے پاپڑ بیل رہے تھے وہی خطرہ ہم ان کی آنکھوں سے انھیں دکھادیں۔ اور وہ اپنے جیتے جی یہ دیکھ لیں کہ اللہ کی تقدیر کبھی ٹل نہیں سکتی، نہ اسے کوئی طاقت روک سکتی یا اس میں تاخیر پیدا کرسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ (اور اپنی قضاوقدر کے سامنے ان کی ایک تدبیر بھی نہ چلے دیں) (آیت) ” ھامن “۔ ھامان کا نام یہاں پہلی بار قرآن میں آیا ہے۔ یہ کون شخص تھا ؟ یہود ونصاری کہتے ہیں کہ مصر میں کوئی شخص اس نام کا تھا ہی نہیں۔ البتہ ایران میں ایک شخص اس نام کا گزرا ہے۔ اور (نعوذ باللہ) قرآن نے دونوں میں خلط کردیا۔ لیکن ہامان کو شخصی نام فرض ہی کیوں کیا جائے ؟ جس طرح اس کا عطف ” فرعون “ کے ساتھ یہاں اور آگے چل کر بھی آیا ہے اس سے تو قیاس یہی ہوتا ہے کہ جس طرح فرعون شخصی نام نہیں بلکہ شاہی لقب تھا اسی طرح ہامان بھی کوئی سرکاری لقب ہی تھا۔ تاریخ سے اتنا تو بہرحال ثابت ہے کہ مصر کے ایک بہت بڑے دیوتا کا نام آمن (AMON)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–13

آیت نمبر 1 تا 13 ترجمہ : طٓسمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے یہ آیات مبین کی آیات ہیں آیات الکتاب میں اضافت بمعنی من اور مبین سے حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی آیات ہیں ہم آپ کے سامنے موسیٰ و فرعون کا صحیح واقعہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں (یعنی) مومنین کے لئے اس لئے کہ وہی اس قصہ سے استفادہ کرتے ہیں یقیناً فرعون نے سرزمین مصر میں سرکشی کر رکھی تھی اور مصر کے باشندوں کو اپنی خدمت کے لئے فرقوں میں تقسیم کر رکھا تھا ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا اور وہ بنی اسرائیل تھے ان کے نومود لڑکوں کو قتل کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ونمکن لھم فی الارض . ا اور ان کو زمین میں حکومت عطا کریں۔ وَنَرِیْدُ اَنْ نَّْمْنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتَعِفُوْا یعنی ہم چاہتے تھے کہ بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم اور دباؤ سے رہا کردیں۔ اَءِمَّۃً مجاہد کے نزدیک دینی پیشوا اور داعیان خیر مراد ہیں۔ قتادہ کے نزدیک والیان ملک اور بادشاہ مراد ہیں کیونکہ اللہ نے بنی اسرائیل کے متعلق ایک اور آیت میں فرمایا ہے : وَجَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا۔ اَلْوَارِثِیْنَ یعنی فرعون اور اس کی قوم کے ملک و مال کے مالک۔ وَنْمَکِّنَ لَھُمْ فِیْ الْاَرْضِ یعنی سرزمین مصر و شام میں ان کو حکومت عطا کریں۔ تَمْکِیْن کا لغوی معنی ہے کسی چیز کی جگہ بنا دینا کہ اس میں وہ چیز ٹھہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(6) اور حکومت دین اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ بات دکھائیں جس سے وہ بنی اسرائیل کی طرف سے ڈرا کرتے تھے یعنی بادشاہت کے ختم ہوجانے سے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْاَرْضِ۔۔ : ہامان فرعون کا وزیر تھا، جو ظلم و ستم میں اس کا شریک اور آلہ کار تھا۔ یعنی ہم چاہتے تھے کہ انھیں زمین میں اقتدار بخشیں اور ان کا سِکّہ جما دیں اور فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں نے جس خطرے کی وجہ سے بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنا شروع کیا تھا کہ کہیں ان کی تعداد اور قوت اتنی نہ بڑھ جائے کہ وہ ہماری حکومت پر قابض ہوجائیں، بنی اسرائیل ہی کے ذریعے سے وہ خطرہ انھیں حقیقت بنا کر دکھا دیں اور وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ اللہ کی تقدیر کبھی ٹل نہیں سکتی، نہ اس کے ارادے کو پورا ہونے سے کوئی طاقت روک سکتی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–6

طسم اس کے متعلق گفتگو گزر چکی ہے۔ تلک ایت الکتب المبین تلک محل میں ہے یہ ھذہ تلک کے معنی میں ہے آیات اس سے بدل ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ تلو کی وجہ سے محل نصب میں ہو۔ ایٓات اس سے بدل ہو تو اس کو نصب دے گا جس طرح تو کہتا ہے : زید اضربت۔ المبین اس کی برکت اور خیر کو واضح کرنے والی ہے، حق کو باطل سے واضح کرنے والی ہے، حلال کو حرام سے واضح کرنے والی ہے۔ انبیاء کے قصے اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت کو واضح کرنے والی ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : بان الثی، وأبان شے واضح ہوگئی۔ نتلوا علیک من نبا موسیٰ و فرعون بالحق لقوم یومنون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور قارون کے قصہ کا ذکر کیا اور قریش کے مشرکین کے خلاف…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–6

1۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض سے یوسف اور آپ کی اولاد مراد ہے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض سے بنواسرائیل مراد ہیں آیت وجنعلہم ائمۃ سے مراد معاملات کے نگران ہیں آیت ونجعلہم الوارثین یعنی فرعون اور اس کی قوم کے بعد وہ زمین کے وارث ہیں آیت ونری فرعون وہامان وجنودہما منہم ماکانوا یحذرون یعنی وہ قوم جن سے ڈرتی تھی۔ 3۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ونجعلہم الوارثین یعنی آل فرعون کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَنُمَكِّنَ [ اور ہم اختیار دیں ] لَهُمْ [ ان (کمزور) لوگوں کو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَنُرِيَ [ اور ہم دکھائیں ] فِرْعَوْنَ [ فرعون کو ] وَهَامٰنَ [ اور ہامان کو ] وَجُنُوْدَهُمَا [ اور ان دونوں کے لشکروں کو ] مِنْهُمْ [ ان (کمزوروں ) سے ] مَّا [ وہ جس سے ] كَانُوْا يَحْذَرُوْنَ [ وہ ڈرتے تھے ] نوٹ۔ 2: یہاں پہلی مرتبہ فرعون کے ساتھ ہامان کا ذکر آیا ہے اور اس طرح آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی حیثیت فرعون کے وزیر کی تھی ۔ آگے بھی اس کا ذکر فرعون کے وزیر اعظم کی حیثیت سے آرہا ہے ۔ تورات میں اس کا نام نہیں آیا ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ کتنی باتیں ہیں جن میں قرآن نے تورات کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–7

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا صندوق میں رکھ کر انہیں سمندر میں ڈال دینا اور فرعون کے گھر والوں کا ان کو اٹھا لینا، پھر فرعون کے محل میں پرورش پانا فرعون یہ سن کر کہ میری سلطنت کا زوال بنی اسرائیل کے لڑکے کے ہاتھ ہوگا اس کے توڑ میں لگ گیا اور اس کے نزدیک اس کا توڑ یہ تھا کہ بنی اسرائیل میں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے چناچہ اس کی حکومت کے جاسوس بنی اسرائیل کے رہنے کی جگہوں میں گھومتے پھرتے تھے اور بنی اسرائیل کے جس گھر میں کسی لڑکے کے پیدا ہونے کی خبر ملتی تھی اسے ماں باپ سے چھین کرلے جاتے تھے اور ذبح کر ڈالتے تھے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو ان کی والدہ اپنے بچہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–21

تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–7

7:۔ اب یہاں سے اس اجمال کی تفصیل شروع ہوتی ہے جو پہلی آیتوں میں تھا یعنی ان مستضعفین کی سربلندی اور ان سرکشوں کی پستی کا آغاز اس طرح ہوتا ہے۔ وہ مولود مسعود پیدا ہوچکا ہے جس کے ہاتھ پر بنی اسرائیل کا غلبہ اور قوم فرعون کی تباہی اور رسوائی ہونے والی تھی۔ اوحینا میں وحی سے الہام اور القاء فی القلب مراد ہے یعنی ہم نے موسیٰ کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ابھی اسے اپنے پاس چھپائے رکھو اور اسے دودھ پلاتی رہو اگر اس کے قتل کا خطرہ لاحق ہو تو اسے صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈال دینا اور پھر اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ اور اس کی جدائی کا غم نہ کرنا میں جلد ہی اسے تیرے پاس واپس لاؤں گا اور میں اسے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة القصص ہے ۔ قصص قصہ کی جمع ہے جس کا معنی واقعہ یا کہانی ہوتا ہے ، چونکہ اس سورة میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قارون اور بعض دیگر اقوام کے واقعات مذکور ہیں ۔ اس لیے اس کا نام سورة القصص ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تفصیلی واقعات کی نسبت سے اس سورة کا دوسرا نام سورة موسیٰ بھی بیان کیا جاتا ہے تا ہم زیادہ مشہور زیادہ سورة القصص ہی ہے۔ گزشتہ سورة الشعراء اور سورة النمل کی طرح یہ سورة بھی مکی زندگی کے آخری حصے میں نازل ہوئی ۔ اس کی بعض آیات دوران ہجرت حجفہ کے مقام پر نازل ہوئیں ۔ جن میں آپ کی تسلی دی گئی ہے ۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة ہجرت سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَنُمَكِّنَ لَہُمْ فِي الْاَرْضِ وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ وَجُنُوْدَہُمَا مِنْہُمْ مَّا كَانُوْا يَحْذَرُوْنَ۝ 6 مكن المَكَان عند أهل اللّغة : الموضع الحاوي للشیء، قال : وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ [ الأعراف/ 10] ( م ک ن ) المکان اہل لغت کے نزدیک مکان اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی جسم پر حاوی ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ [ الأعراف/ 10] اور ہم نے زمین میں تمہارا ٹھکانا بنایا ۔ جند يقال للعسکر الجُنْد اعتبارا بالغلظة، من الجند، أي : الأرض الغلیظة التي فيها حجارة ثم يقال لكلّ مجتمع جند، نحو : «الأرواح جُنُودٌ مُجَنَّدَة» «2» . قال تعالی: إِنَّ جُنْدَنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 3–6

ترکیب : نتلوا کا مفعول محذوف ای شیئاً من نباء اس کی صفت جو اس پر دال ہے۔ اخفش کے نزدیک من زائد تب یہ نباء موسیٰ مفعول ہے، بالحق حال ہے نباء سے۔ نتلوا کے فاعل سے بھی حال ہوسکتا ہے۔ ای نتلوا متلبساً بالحق لقوم لام نتلوا سے متعلق ونری معطوف ہے، نمکن پر اور وہ اور نجعل لمن پر اَنْ کے نیچے فرعون ھامان و جنودھما نری کا اول مفعول ماکانوا یحذرون مفعول دوم منہم تری سے متعلق اور بعض کہتے ہیں یحذرون سے وفیہ مافیہ لان الصلۃ لا تتقدم علی الموصول۔ تفسیر : اس سے پہلے سورة نمل کے خاتمہ میں یہ کہا وان اتلوا القرآن کہ مجھے قرآن سنانے کا حکم ہوا ہے، خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔ اس لیے اس سورة کا ابتداء طسم حروف…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–6

وَنُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَنَجْعَلَھُمْ اَئِمَّۃً وَّنَجْعَلَھُمُ الْوٰرِثِیْنَ ۔ وَنُمَکِّنَ لَہُمْ فِی الْاَرْضِ وَنُرِیَ فِرْعَوْنَ وَھَا مٰـنَ وَجُنُوْدَھُمَا مِنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَحْذَرُوْنَ ۔ (القصص : 5، 6) (اور ہم چاہتے تھے ان لوگوں پر احسان کریں جنھیں ملک (مصر) میں کمزور بنادیا گیا تھا اور ان کو پیشوا بنائیں اور انھیں (فرعون کے تاج و تخت کا) وارث بنائیں۔ اور ان کو زمین میں اقتدار عطا کریں اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو ان کی جانب سے وہ دکھائیں جن کا وہ اندیشہ رکھتے تھے۔ ) فرعون کے مظالم کے برعکس خدائی فیصلہ گزشتہ آیت میں فرعون کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–6

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ فرعون اس کے ساتھیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ۔ بنی اسرائیل حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں مصر میں برسراقتدار آئے اور مدت دراز تک انہیں اقتدار اور اختیار حاصل رہا لیکن اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے نہ صرف اقتدار سے محروم ہوئے بلکہ مصر میں انھیں حقیر ترین شہری بنا دیا گیا۔ وہ مدّت تک فرعون کے مظالم سہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ جناب موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی بےمثال جدوجہد سے بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے میں کامیابی نصیب ہوئی اور ان کے لیے شام اور فلسطین کی فتح کا دروازہ کھول دیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

6: وَنُمَکِّنَ (اور ہم ان کو حکومت دیں) ۔ مکن لہ کا معنی اس کے لئے ایسی جگہ بنادینا جس پر وہ بیٹھ سکے۔ نمبر 2۔ یا سو سکے اور تمکین فی الارض کا مطلب ارض مصر و شام کو اس طرح کردینا کہ وہاں ان کو کوئی روک ٹوک نہ ہو اور ان کو تسلط دے دیا جائے اور ان کا حکم چلے۔ لَہُمْ فِی الْاَرْضِ (زمین میں) ۔ ارض سے شام و مصر مراد ہے۔ وَنُرِیَ فِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ وَجُنُوْدَہُمَا (اور فرعون ٗ ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ بات دکھا دی) ۔ قراءت : نُری۔ نون کا ضمہ اور فرعون اور مابعد کا نصب۔ نمبر 2۔ یاء کے ساتھ یُری اور فرعون اور مابعد پر رفع علی و حمزہ نے پڑھا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ یرون منہم ماحذروہ من ذہاب ملکہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6۔ ونمکن الھم فی الارض، ا اور تمہیں ارض مصر اور شام میں ٹھکانہ عطا کردیں گے۔ اور تمہارے لی مکان بنائیں گے جس میں تم ٹھہرو گے۔ ونری فرعون، اعمش، حمزہ کسائی نے یر ی کی یاء کے ساتھ مفتوح پڑھا ہے۔ وھامان وجنودھما، ان سب کو مرفوع پڑھا ہے کیونکہ یہ ان کے لیے فعل ہے۔ دوسرے قراء نے نون کے ساتھ مضموم پڑھا ہے۔ راء کے کسرہ کے ساتھ یاء کے نصب کے ساتھ اور اس کے مابعد کو بھی نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ منھم ماکانوا یحذرون حذرکامعنی ہے ضرر سے بچنا کیونکہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو (نجومیوں سے) اطلاع ملی تھی کہ بنی اسرایئل میں سے ایک آدمی کے ہاتھوں سے اس کی تباہی ہوگی اس لیے ان کو بنی اسرائیل کی طرف سے اندیشہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 3–7

3 تا 7۔ اوپر گزر چکا ہے کہ فرعون نے ایک رات کو سوتے میں خواب دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ مصر میں آن کر پھیل گئی اور فرعون کی قوم کے تمام گھر تو اس آگ میں جل گئے لیکن مصر میں بنی اسرائیل کا محلہ اس آگ سے بچ گیا ہے صبح کو فرعون جب سو کر اٹھا تو اس نے اپنے نجومیوں اور جادو گروں کو جمع کر کے اس خواب کی تعبیر پوچھی انہوں نے کہا بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ جس کے ہاتھوں سے تیری بادشاہت غارت ہوجائے گی اور مصر کو صدمہ پہنچے گا اس خواب اور اس تعبیر کے ڈر سے فرعون نے بنی اسرائیل کے لڑکوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا تھا۔ جب ہزارہا لڑکے بنی اسرائیل کے قتل ہونے لگے تو فرعون کی قوم کے سرداروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

8 فرعونی تدبیر اور اس کے مقابلے میں خدائی تقدیر : یعنی فرعون اور فرعون والے تو ان کو دبا کر رکھنا چاہتے تھے اور بالفعل انہوں نے ان کو غلامی کی زنجیروں میں بری طرح جکڑ بھی رکھا تھا اور وہ ان کے مٹانے کے درپے تھے مگر ہم اس کے علی الرغم ان مظلوموں کو اپنی عنایات سے نواز کر ان کو حکومت و اقتدار سے سرفراز کرنا چاہتے تھے۔ آخر ہوا وہی جو اللہ چاہتا تھا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ وہ جو چاہے کرے۔ کوئی اس کو روکنے والا نہیں ۔ { وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰی اَمْرِہ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ } ۔ (یوسف : 21) ۔ سو بندے کی تدبیر خدائی ارادئہ و تقدیر کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں اگرچہ وہ تدبیر فرعون…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اور پرورش تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ قرآن پاک میں بار بار آیا ہے۔ سورة کہف میں خضر (علیہ السلام) کے ساتھ آیا ہے پھر سورة طہٰ میں سورة نمل میں اور اب سورة قصص میں کچھ کچھ حصہ ضرورت کے مطابق آیا ہے۔ یہاں تدبیر الٰہی کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ فرعون نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام اسرائیلی نوزائیدہ بچوں کو قتل کردینے کا حکم دے رکھا تھا۔ مگر اللہ کی تدبیر کے سامنے وہ اندھا ہوگیا اور اسی خاص اسرائیلی بچے کو خود پرورش کیا جو اس کا اصل دشمن تھا۔ اور اللہ نے اپنی حکمت اور تدبیر سے اس بچے کو اس کی ماں کے سپرد بھی کروا دیا بلکہ ماں کو دودھ پلانے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–13

سورة القصص آیات 1 تا 13 اسرار و معارف طسم۔ وہ آیات ایسی کتاب کی ہیں جو حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے۔ اور یہاں آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعی اور اس کی حقیقت کا بیان سنایا جائے ا کہ مومنین کو اس سے مزید عبرت حاصل ہو۔ قرآن اگرچہ مخاطب تو ساری انسانیت کو کرتا ہے مگر اس سے فائدہ وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جنہیں ایمان نصیب ہوتا ہے۔ بے شک فرعون اپنی سرزمین میں بہت طاقتور شاہنشاہ تھا اور اس نے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔ لفظ شیعہ : یہ پہلے بھی گزر چکا کہ شیعہ کا لفظی تر جمہ گروہ ، پارٹی یا جماعت ہے مگر قرآن کریم نے ہمیشہ گمراہ لوگوں کے ٹولہ پر اس کا اطلاق کیا ہے۔ جیسے اس جگہ کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

6 ۔ اور وہ یہ کہ کہیں نجومیوں کا کہنا سچ نہ نکلے اور بنی اسرائیل ہمارے ملک و مال کے وارث نہ ہوجائیں۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:6) ونمکن لہم واؤ عطف کی ہے۔ نمکن کا عطف ان نمن پر ہے۔ نمکن مضارع منصوب جمع متکلم۔ تمکین مصدر (باب تفعیل) ہم ان کو قدرت دیں۔ ہم ان کو تسلط بخشیں۔ تمکینکا لغوی معنی ہے کسی کو ایسی جگہ دیتا کہ وہ اس میں جماؤ کرسکے۔ مجازا حکومت اور قدرت دینے کا معنی ہوگیا۔ نری مضارع جمع متکلم اراء ۃ افعال مصدر ان نری۔ کہ ہم دکھا دیں۔ بےبس و ناتواں گروہ کے ہاتھوں (یعنی بنی اسرائیل) ۔ منہم کا تعلق نری سے ہے یعنی ہم فرعون و ہامان اور ان کی فوجوں کو بنی اسرائیل کے ہاتھوں وہ چیزیں دکھادیں جس کا وہ اندیشہ کرتے تھے ۔ بعض کے نزدیک یہ یحذرون سے متعلق ہے لیکن الصلۃ لاتقدم علی الموصول۔ صلہ موصول سے مقدم نہیں ہوتا۔ ما…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 2–6

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : نتلوا (ہم پڑھتے ہیں) نبا (خبر۔ حال) ‘ علا (اس نے سرکشی کی) شیع (فرقے۔ گروہ) ‘ یستضعف (وہ کمزور کرتا ہے) ‘ یذبح (وہ ذبح کرتا ہے) یستحی (وہ زندہ رکھتا ہے) ‘ نمن (ہم احسان کرتے ہیں) ‘ ائمۃ (امام) پیشوا۔ رہنما ‘ نری (ہم دکھائیں گے) ‘ یحذرون (وہ ڈرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 : سورۃ القصص کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے۔ یہ وہ حروف ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو حاصل ہے۔ ممکن ہے ان حروف کے معنی اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو بتادیئے ہوں اور آپ نے امت کو بتانا ضروری نہ سمجھا ہو۔ لہٰذا ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ ان حروف کے معنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–7

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ فرعون تو اپنا مکر کررہا تھ اور تم یہ ارادہ کررہے تھے کہ جو لوگ زمین میں ذلیل اور ناتواں سمجھے گئے ہیں یعنی اسرائیل پر اپنا فضل کریں اور نجات دیں اور ان کو امام بنائیں اور اس ملک کا وارث اور مالک بنائیں اور اس زمین میں ان کو قابض کردیں اور دکھائیں فرعون اور اس کے وزیر ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو اس بنی اسرائیل سے وہ چیز جس کا ڈر تھا کہ یہ ملک کہیں ہمارے قبضہ سے نہ نکل جائے فرعون تو یہ تدبیریں کررہا تھا کہ جابجا جاسوس بٹھارکھے تھے جب کسی عورت کو حمل ہوتا تھا تو وضع حمل تک نگرانی کی جاتی تھی پھر اگر لڑکا پیدا ہوتا ذبح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 5–6

[4] ہامان فرعون کا وزیر تھا جو ظلم و استبداد میں اس کا شریک اور آلہ کار تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–7

ف 2: اس کے بعد قصہ کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں کہ کیونکر ہم نے موسیٰ کو ان کی ماں کی گود سے اٹھا کر فرعون کی آغوش میں پہنچا دیا ۔ اور پھر کیونکر ام موسیٰ کو موقع دیا ۔ کہ وہ مادرانہ جذبات محبت و شفقت کی تکمیل کرے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

6۔ اور ہم انہی کو ملک میں صاحب تصرف اور ذی اقتدار بنائیں اور ملک میں ان کو جمادیں اور فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان بنی اسرائیل کی جانب سے اور ان کے ہاتھوں سے وہ واقعات دکھائیں اور وہ چیزیں دکھلائیں جن چیزوں سے وہ خوف کھاتے اور ڈرا کرتے تھے۔ یعنی ہم کو یہ بھی منظور تھا کہ ان کمزوروں کو حکومت عطا کریں اور فرعون و ہامان اور ان کے پیروں کو انہی کمزورلوگوں کے ہاتھوں وہ واقعات دکھلائیں جن کا ان کو خوف تھا وہ چونکہ زورال سلطنت سے ڈرتے تھے اور ان کو یہ اندیشہ تھا کہ بنی اسرائیل کو اگر ڈھیل دی گئی تو یہ ہم سے ملک چھین لیں گے اور خود ملک مصر کے مالک بن جائیں گے اور ان کو یہ خبر نہ تھی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–6

ف 5۔ مراد اس سے زوال سلطنت و ہلاکت ہے کہ اسی سے بچاو کرنے کے لئے ابناء بنی اسرائیل کو بنا بر تعبیر ایک خواب کے جو فرعون نے دیکھا تھا اور نجومیوں نے تعبیر دی تھی قتل کر رہا تھا، پس ہمارے قضا و قدر کے سامنے ان لوگوں کی تدبیر کچھ کام نہ آئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بنی اسرائیل کے تسلط کی بنیاد اللہ نے رکھ دی اور فرعون وہامان کی سکیموں کو فیل کردیا : 6۔ فرعون کے ظالمانہ عزائم تو یہ تھے کہ بنی اسرائیل کو مختلف طریقوں سے بےبس اور کمزور کردیا جائے تاکہ وہ اپنی قومی انفرادیت کو قائم نہ رکھ سکیں لیکن اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی مرضی یہ نہ تھی بلاشبہ وہ یعقوب کے گھرانے کو برقرار اور آباد رکھنا چاہتا تھا جیسا کہ گزشتہ آیت میں خود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے چاہا کہ جس قوم کو عرصہ سے ظلم وستم کی چکی میں پیسا جا رہا ہے ان پر ہم اپنا فضل و کرم فرمائیں اور ان سرکشوں اور ظالموں کا تخت وتاج ان سے چھین کر بنی اسرائیل کو بخش دیں تاکہ فرعون اور اس کے بدمست…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ (28:7) The word Wahy (inspiration) is used here in its literal meaning. It does not mean the Wahy that is peculiar to prophets. This point has already been explained under Surah Taha.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

7 That is, "Bestow on them inheritance of the land so that they should be rulers over it. 8 The Western orientalists have been very critical of this. They say that Haman was a courtier of the Persian King Xerxes, who reigned hundreds of years after the Prophet Moses, from 486 to 465 B.C., but the Qur'an has made him a minister of Pharaoh in Egypt. This is nothing but an instance of sheer prejudice. After all, what historical evidence have these orientalists got to prove that there never lived any other person called Haman before Xerxes' courtier Haman? If an orientalist has been able to…

Read the full tafseer →