Explained with ayahs 38–42
فرعون کی سرکشی اور اس کے الہامی دعوے کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس نے اپنی قوم کو بےعقل بناکر ان سے اپنا دعویٰ منوالیا اس نے ان کمینوں کو جمع کرکے ہانک لگائی کہ تمہارا رب میں ہی ہوں سب سے اعلی اور بلند تر ہستی میری ہی ہے اسی بنا پر اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذابوں میں پکڑلیا اور دوسروں کے لئے اسے نشان عبرت بنایا۔ ان کمینوں نے اسے اللہ مان کر اس کا دماغ یہاں تک بڑھا دیا کہ اس نے کلیم اللہ حضرت موسیٰ سے ڈانٹ کر کہا کہ سن اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنایا تو میں تجھے قید میں ڈال دونگا۔ انہی سفلے لوگوں میں بیٹھ کر اپنا دعوی انہیں منواکر اپنے ہی جیسے اپنے خبیث وزیر ہامان سے کہتا ہے کہ تو…
Read the full tafseer →سورة القصص 54
یعنی بڑائی کا حق تو اس کائنات میں صرف اللہ رب العالمین کو ہے، مگر فرعون اور اس کے لشکر زمین کے ایک ذرا سے خطے میں تھوڑا سا اقتدار پاکر یہ سمجھ بیٹھے کہ یہاں بڑے بس وہی ہیں۔
سورة القصص 55
یعنی انہوں نے اپنے آپ کو غیر مسؤل سمجھ لیا اور یہ فرض کر کے خود مختارانہ کام کرنے لگے کہ انہیں جاکر کسی کے سامنے جواب دہی نہیں کرنی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
معارف و مسائل
فَاَوْقِدْ لِيْ يٰهَامٰنُ عَلَي الطِّيْنِ ، فرعون نے بہت اونچا بلند محل تیار کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے وزیر ہامان کو اس کی تیاری کے لئے پہلے یہ حکم دیا کہ مٹی کی اینٹوں کو پکا کر پختہ کیا جائے کیونکہ کچی اینٹوں پر کوئی بڑی اور اونچی بنیاد قائم نہیں ہو سکتی۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ فرعون کے اس واقعہ سے پہلے پختہ اینٹوں کی تعمیر کا رواج نہ تھا سب سے پہلے فرعون نے یہ ایجاد کرائی۔ تاریخی روایات میں ہے کہ ہامان نے اس محل کی تعمیر کے لئے پچاس ہزار معمار جمع کئے مزدور اور لکڑی لوہے کا کام کرنے والے ان کے علاوہ تھے اور محل کو اتنا اونچا بنایا کہ اس زمانے میں اس سے زیادہ بلند کوئی تعمیر…
Read the full tafseer →واستکبر ھروجنودہ فی الارض بغیر الحق وظنوا انھما لینا لایرجعون 39
استکبار بغیر الحق
بعی بغیر الحق کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ وہی مفہوم استکبار بغیر الحق کا بھی ہے اس زمین و آسمان میں استکبار کا حق صرف اس کو حاصل ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کے نظام کو چلا رہا ہے۔ جن کو نہ ان کے خلق میں کوئی دخل اور نہ جن کا ان کے تدبیر و انتظام میں کوئی حصہ اگر وہ اس میں اکڑیں اور اپنی مالکیت کے مدعی بن کر اٹھیں تو یہ انکی شامت کی دلیل ہے۔ اس قسم کے استکبار کو اس کائنات کا خالق زیادہ مہلت نہیں دیتا۔ یہ ابھی یہاں ملحوظ رہے کہ اس زمین کے بادشاہی حقیقی کے حکم و قانون کے خلاف کوئی قانون اس میں جاری کرنا…
Read the full tafseer →39-1زمین سے مراد ارض مصر ہے جہاں فرعون حکمران تھا اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا، یعنی ان کے پاس کوئی دلیل ایسی نہیں تھی جو موسیٰ ؑ کے دلائل معجزات کا رد کرسکتے لیکن استکبار بلکہ ان کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے ہٹ دھرمی اور انکار کا راستہ اختیار کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
24: یہ اس نے محض مذاق اڑانے کے طور پر کہا تھا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویوم القیمۃ ھم من المقبوحین (36 – 42)
یہاں قرآن کریم نے نہایت ہی جلدی میں فرعون کا انجام بتا دیا اور ایک فیصلہ کن دار کے نتیجے میں اس کا کام تمام ہوگیا۔
یہاں جادوگروں کے مقابلے کو حذف کردیا گیا ہے جبکہ دوسری سورتوں میں بعض جگہ اجمال اور بعض جگہ تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے۔ یہ کڑی یہاں اس لیے حذف کردی گئی ہے کہ تکذہب کے بعد جلد ہی ہلاکت کا منظر پیش کردیا جائے ۔ اور نہ صرف یہ کہ دنیاوی عذاب کا ذکر ہو بلکہ آخرت کے عذاب کی ایک جھلک بھی دکھا دی جائے۔ اختصار اور جدلی کے ساتھ بات کو انجام پہنچانا اس سورت میں مقصود بالذات ہے۔ کیونکہ پوری سورت کا انداز یوں ہی ہے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
4 یعنی انجام سے بالکل غافل ہو کر لگے ملک میں تکبر کرنے یہ نہ سمجھا کہ کوئی ان کی گردن نیچی کرنے والا اور سر توڑنے والا بھی موجود ہے۔ آخر خداوند قہار نے اس کو لاؤ لشکر سمیت بحرقلزم میں غرق کردیا تاکہ یادگار رہے کہ بدبخت ظالموں کا جو انجام سے غافل ہوں ایسا انجام ہوا کرتا ہے۔ غرق وغیرہ کے واقعات کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
آیت 41 وَجَعَلْنٰہُمْ اَءِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ ج ”
یعنی فرعون اور اس کے درباری لوگوں کو جہنم کی طرف بلانے والے گروہ کے پیشوا بن گئے۔
Read the full tafseer →51 انھیں اللہ نے زمین کے تھوڑے سے حصہ میں چند دن کے لئے اقتدار بخشا تو وہ یہ سمجھنے لگے کہ ان سے اوپر کوئی ہستی ہے نہیں جو ان سے یہ اقتدار چھین بھی سکتی ہے۔ نہ ہی انھیں کبھی یہ خیال آیا تھا کہ مرنے کے بعد ہمیں اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور ہمارے ایک ایک کام سے متعلق ہم سے باز پرس ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →54۔ یہ فرعونیوں کے عام فسق اعمال و فساد عقائد کا بیان ہے۔ یوں بھی روز جزا کا اعتقاد اور پرسش اعمال کا یقین ان کے مذہب میں داخل نہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
آیت نمبر 33 تا 42
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھ سے ان کے ایک شخص کا خون ہوگیا تھا اور وہی وہی سابق قبطی تھا مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس کے عوض میں مجھے بھی قتل کر ڈالیں اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے تو اسے بھی (میرا) معاون بنا کر بھیج دیجئے ایک قرأۃ میں ردًا دال کے فتحہ کے ساتھ بغیر ہمزہ کے ہے وہ میری تائید کریں گے یُصَدِّقُنِیْ جزم کے ساتھ جواب دعاء (ارسِلْہٗ کا) اور ایک قرأۃ قاف کے رفع کے ساتھ جملہ ہو کر ردءًا کی صفت ہونے کی وجہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں، ارشاد ہوا ہم ابھی تمہارے بھائی کو تمہارا قوت بازو بنائے دیتے ہیں (یعنی)…
Read the full tafseer →واستکبر ھو و جنودہ فی الارض بغیر الحق وظنوا انھم الینا لایرجعون . اور فرعون اور
اس کے تابعین سے زمین (یعنی اس دنیا) میں بغیر استحقاق کے بڑے بن بیٹھے تھے (مولانا تھانوی نے لکھا ہے اور فرعون اور اس کے تابعین نے اس دنیا میں سر اٹھا رکھا تھا) اور یوں سمجھ رہے تھے کہ ان کو ہمارے پاس لوٹا کر نہیں لایا جائے گا۔
حق بمعنی استحقاق ‘ برحق۔ بڑا ہونااسی کو زیبا ہوتا ہے جس سے بڑا اور اس کے برابر بلکہ اس کی نسبت سے کچھ کم بھی کوئی دوسرا بڑا نہ ہو اور ایسا صرف خدا تعالیٰ ہے (اس کی بڑائی سے کسی کی بڑائی کی کوئی نسبت ہی نہیں ‘ نہ زیادتی کی ‘ نہ برابری کی ‘ نہ کمی کی۔ درحقیقت وہی بڑا ہے کبریائی کے درجہ پر پہنچا…
Read the full tafseer →(39) اور فرعون اور اس کے قبطی لشکر نے ناحق سرزمین مصر میں سراٹھارکھا تھا اور ایمان سے انکار کر رہے تھے اور یوں سمجھ رکھا تھا کہ آخرت میں ان کو ہمارے سامنے پیش ہونا ہی نہیں۔
Read the full tafseer →وَاسْـتَكْبَرَ هُوَ وَجُنُوْدُهٗ فِي الْاَرْضِ : ”الْاَرْضِ“ سے مراد زمین مصر ہے۔ یعنی بڑائی کا حق تو صرف اللہ رب العالمین کو ہے، مگر یہ لوگ ایک ذرا سے ملک میں اقتدار پا کر یہ سمجھ بیٹھے کہ بس ہم ہی بڑے ہیں۔
وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ اِلَيْنَا لَا يُرْجَعُوْنَ : یعنی چند روزہ اقتدار پاکر وہ سمجھ بیٹھے کہ ان کے اوپر کوئی ہستی نہیں، جس کے سامنے مر کر انھیں پیش ہونا ہے، لہٰذا کھلی چھٹی ہے جو چاہیں کریں اور ملک میں جو فساد پھیلانا چاہیں پھیلاتے رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
واستکبرھود جمودہ فرعون نے خود اور اس کے لشکروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے اپنے آپ کو بڑا خیال کیا۔ فی الارض بغیر الحق بغیر الحق سے مراد سرکشی ہے یعنی اس کے پاس کوئی ایسی دلیل نہ تھی جس کے ساتھ وہ ان معجزات کا دفاع کرسکتا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لائے تھے۔ وظنوا انھم الینا لایرجعون انہوں نے گمان کیا کہ نہ ان کے لئے معاد ہے اور نہ ہی دوبارہ اٹھانا ہے۔ نافن، ابن محیصن، شیبہ، حمید، یعقوب، حمزہ اور کسائی نے لایرجعون پڑھا یعنی یاء پر فتحہ اور جیم کے نیچے کسرہ ہے، اس بنا پر کہ یہ معروف کا صیغہ ہے۔ باقی قراء نے یرجعن مجہول کا صیغہ پڑھا ہے، یہ ابو عبید کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ پہلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب فرعون نے کہا آیت یا ایہا الملأ ما علمت لکم من الہ غیری یعنی اے سردارو میں تمہارے لیے اپنے علاوہ کسی کو خدا نہیں جانتا۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب تیرے بندے نے سرکشی کی مجھے اس کے ہلاک کرنے کی اجازت دیجیے رب تعالیٰ نے فرمایا اے جبرئیل وہ میرا بندہ ہے اس کی موت کا وقت ہر گزر آگے نہیں بڑھے گا جو اس کا وقت مقرر ہوچکا ہے یہاں تک کہ وہ وقت آئے گا جب فرعون نے کہا انا ربکم الاعلی۔ یعنی میں تمہارا بآ رب ہوں تو فرمایا اے جبریل تیری روح کو سکون ہوچکا ہے۔ میرے بندے نے بغاوت کی اور اس کی ہلاکت کا وقت آچکا ہے۔
2۔ ابن مردوی نے ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →وَاسْـتَكْبَرَ [اور بڑے بنے ] هُوَ [وہ ] وَجُنُوْدُهٗ [اور اس کے لشکر ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] بِغَيْرِ الْحَقِّ [حق کے بغیر ] وَظَنُّوْٓا [اور انہوں نے گمان کیا ] اَنَّهُمْ [کہ وہ لوگ ] اِلَيْنَا [ہماری طرف ] لَا يُرْجَعُوْنَ [لوٹائے نہیں جائیں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
(وَ جَعَلْنٰھُمْ اَءِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ ) (اور ہم نے انہیں پیشوا بنا دیا جو دوزخ کی طرف بلاتے رہے) یعنی وہ کفرو شرک کی دعوت دیتے رہے جس کا نتیجہ دوزخ میں جانا ہے (وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ لَا یُنْصَرُوْنَ ) (اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
قال اللہ تعالیٰ فلما قضی موسیٰ الاجل وسار باھلہ الی۔۔۔ ویوم القیمۃ ہم من المقبوحین۔
الغرض جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہ کر پوری مدت گزار دی یعنی دس برس تک بکریاں چرائیں اور دس برس تک ایک نبی کی صحبت میں رہے اور مجاہدہ اور ریاضت اور باطنی تربیت کی منزلیں طے ہوگئیں اور چالیس سال کی سن کو پہنچے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی زوجہ اور اہل خانہ کو لے کر مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اہل قرابت سے جا کر ملیں اور طور کے آس پاس پہنچے۔ رات کا وقت تھا اندھیری چھائی ہوئی تھی اور سخت سردی تھی۔ اتفاق سے راہ بھٹک گئے ایسے وقت میں طبعا آگ کی تلاش ہوتی ہے۔ کوہ…
Read the full tafseer →38:۔ یہ فرعون اور اس کی قوم کی سرکشی اور ان کے کبر و غرور کا بیان ہے فرعون اور اس کی قوم کے لوگ دوسروں کو نہایت حقیر و ذلیل سمجھتے ان کا خیال تھا کہ دنیا میں عزت و عظمت انہی کا حق ہے حالانکہ انہیں اپنے کو بڑا اور دوسروں کو غلاموں کی طرح ذلیل سمجھنے کا کوئی حق نہ تھا اسی کبر و نخوت کی وجہ سے انہوں نے حق کو نہا مان یعنی تعظموا عن الایمان ولم ینقادو للحق (خازن ج 5 ص 145) ۔ وہ دولت و حکومت کے نشے میں اس قدر بد مست تھے کہ انہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے کا بھی یقین نہ تھا۔ بڑائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو زیبا ہے اور صرف اسی کا حق ہے۔ فی الحدیث القدسی الکبریاء ردائی والعظمۃ ازاری فمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
ربط آیات
موسیٰ (علیہ السلام) اپنی اہلیہ اور ساز و سامان مدین سے مصر جا رہے تھے کہ راستے میں کوہ طور کی مقدس وادی سے گزر ہوا۔ اس مقام پر اللہ نے ان سے کلام کیا اور نبوت و رسالت عطا فرمائی اور ساتھ دو عظیم معجزات عصا اور ید بیضاء بھی عنایت کیے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو تبلیغ حق کا حکم ہوا ۔ انہوں نے اس راستے میں حائل مشکلات کا ذکر کیا تو اللہ نے یقین دلایا کہ فکر نہ کرو ، بالآخر تم ہی غالب رہو گے ۔ اللہ نے آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا اور فریضہ نبوت میں آپ کا ممدو معاون بنایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) حکم خداوندی کے مطابق مصر پہنچے اور آگے اپنے بھائی ہارون (علیہ…
Read the full tafseer →وَاسْـتَكْبَرَ ہُوَ وَجُنُوْدُہٗ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَظَنُّوْٓا اَنَّہُمْ اِلَيْنَا لَا يُرْجَعُوْنَ 39
الاسْتِكْبارُ
والْكِبْرُ والتَّكَبُّرُ والِاسْتِكْبَارُ تتقارب، فالکبر الحالة التي يتخصّص بها الإنسان من إعجابه بنفسه، وذلک أن يرى الإنسان نفسه أكبر من غيره . وأعظم التّكبّر التّكبّر علی اللہ بالامتناع من قبول الحقّ والإذعان له بالعبادة .
والاسْتِكْبارُ يقال علی وجهين :
أحدهما :
أن يتحرّى الإنسان ويطلب أن يصير كبيرا، وذلک متی کان علی ما يجب، وفي المکان الذي يجب، وفي الوقت الذي يجب فمحمود .
والثاني :
أن يتشبّع فيظهر من نفسه ما ليس له، وهذا هو المذموم، وعلی هذا ما ورد في القرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
وَ یْومَ الْقِیٰمَۃِ ھم من المقبوحین تک فرعون اور موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ تھا۔ اس کو تمام کرکے ولقد آتینا موسیٰ الکتب الخ سے اس قصہ کے نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب پہلی قرن یعنی زمانے والے ہلاک ہوچکے تو خلق کی رہنمائی کے لیے ہم نے موسیٰ کو مبعوث کیا۔ اس کو یہ یہ باتیں پیش آئیں، جنگل میں کلام کیا۔ معجزات دیے اور کتاب یعنی تورات عطا کی جو بصارت اور ہدایت اور رحمت تھی۔ سمجھداروں کے لیے اس طرح موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد جب گمراہی کا ایک زمانہ دراز گزر گیا۔ خلق کی ہدایت کے لیے اے محمد ﷺ تجھ کو مبعوث کیا اور تجھ پر قرآن نازل کیا جس میں گزشتہ انبیاء کے صحیح صحیح واقعات تجھ پر ظاہر کئے ورنہ…
Read the full tafseer →وَاسْتَـکْبَرَھُوَ وَجُنُوْدُہٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِالْحَقِّ وَظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ اِلَیْنَا لاَ یُرْجَعُوْنَ ۔
(القصص : 39)
(اور اس نے اور اس کی فوجوں نے ناحق تکبر کیا اور انھوں نے گمان کیا کہ وہ ہماری طرف نہیں لوٹیں گے۔ )
فرعون اور اس کے عیان سلطنت اعتقاد کی جس خرابی اور عمل کی جس ناہمواری کا شکار تھے اس کا سبب اپنے وسائل پر بیجا اعتماد اور اپنی ذات پر جھوٹا پندار تھا جس نے انھیں ایک ایسے ناحق گھمنڈ میں مبتلا کردیا تھا کہ وہ زمین پر اپنے آپ کو سب سے بڑی قوت سمجھنے لگے تھے۔ ملک کی مطلق العنان حکومت کے باعث ایک ایسے اقتدار کے نشے میں مخمور تھے جس نے انھیں اپنے انجام سے بالکل بےفکر کردیا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کے ظالمانہ رویہ کی انتہا۔
قرآن مجید کے دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل کے مقابلہ میں فرعون اپنے آپ کو بےبس محسوس کرنے لگا تو اس نے دیوانے کے بھڑ مارنے کی مانند بھڑ مارتے ہوئے اپنے وزیروں، مشیروں کو کہا کہ میں یہ بات کسی حال میں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ کہ میرے سوا بھی تمہارا کوئی الٰہ ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور بھڑ مارتے ہوئے اپنے دست راست وزیر ہامان کو کہا اے ہامان ! ملک بھر کے بھٹوں میں فی الفور پکی اینٹیں کثیر تعداد میں تیار کروائی ایک فلک بوس ٹ اور تیار کیا جائے۔ تاکہ بلند وبالا عمارت پر چڑھ کر دیکھوں کہ موسیٰ…
Read the full tafseer →39: وَاسْتَکْبَرَ ہُوَ وَجُنُوْدُہٗ (اس نے اور اس کے لشکر نے تکبر کیا) ۔ اپنے آپ کو بڑا جانا۔ فِی الْاَرْضِ (سرزمین مصر میں) بِغَیْرِ الْحَقِّ (ناحق) اس لئے کہ سچی بڑھائی اللہ تعالیٰ کے لائق ہے۔ حقیقی متکبر وہی ہے۔ یعنی شان کبریائی میں انتہاء کو پہنچا ہوا ہے۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں وارد ہے : ( الکبریاء ردائی والعظمۃ ازاری فمن نازعنی واحدًا منہما القیتہ فی النار) (احمد ٗ مسلم ٗ ابودائود) یعنی عظمت وکبریائی میرا ہی لباس ہے جو شخص بھی اس لباس کو کھینچ کر پہننا چاہے گا میں اس کو آگ میں پھینک دونگا۔ تمام متکبر برابر ہیں ان کا استکبار ناحق ہی ہے۔
وَظَنُّوْا اَنَّہُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ (اور…
Read the full tafseer →39۔ واستکبراھو و جنودہ فی الارض بغیر الحق، ،، ، نافع، حمزہ، کسائی، یعقوب نے یاء پر فتحہ پڑھا ہے۔ اور جیم کے کسرہ کے ساتھ اور باقی قراء نے ضمہ کے ساتھ اور جیم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
38 تا 40۔ جن مفسروں نے اپنی تفسیریں عقلی طور پر لکھی ہیں انہوں نے ان آیتوں کی تفسیر میں طرح طرح کی باتیں لکھی ہیں زمخشری نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس قول سے فرعون کا مطلب یہ تھا کہ وہ خدا کا منکر تھا قاضی بیضاوی نے لکھا ہے کہ نہیں فرعون کا مطلب یہ تھا کہ کسی دلیل سے خدا کا موجود ہونا اب تک اس کو معلوم نہیں ہو تھا اسی واسطے خدا کے موجود ہونے کا علم حاصل کرنے کے لیے اس نے آسمان تک جانے کے لیے وہ اونچی مینار بنائی تھی اگو وہ خدا کا منکر ہوتا تو پھر مینار کیوں بنواتا اور اس طرح کی عقلی بحثیں اور تفسیروں میں بھی ہیں لیکن قرآن شریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون دہر یہ تھا۔ اور خدا کا منکر تھا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–54
شعراء کی دو اقسام
قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
51 فرعون اور اس کے لشکروں کے ہولناک انجام کا ذکر : سو اس سے فرعون اور اس لشکروں کے انتہائی ہولناک اور عبرتناک انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخرکار اٹھا کر پھینک دیا ہم نے فرعون کو بھی اور اس کے تمام لشکروں کو بھی سمندر میں "۔ جس طرح کوڑا کرکٹ اور کچرا اٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے۔ معلوم ہوا کہ ایمان اور حق پرستی کے جوہر کے بغیر انسان کوڑا کرکٹ، بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر گھٹیا اور فروتر ہے۔ اور وہ لوگ یوں بھی اس سزا کے زیادہ لائق اور مستحق تھے کہ انہوں نے بڑی سرکشی اختیار کی تھی اور اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھ رکھا تھا۔ اس لیے ان کو ایک ایسے ہولناک عذاب میں دھر لیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–46
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
آیات 29 تا 46
اسرارومعارف
چنانچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عرصہ پورا کردیا جس کا وعدہ فرمایا تھا تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس مصر کو روانہ ہوئے کہ گھر والوں سے بچھڑے ہوئے دس سال بیت چکے تھے روایات کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس پورے کیے۔ راستے میں رات ہوگئی موسم بھی سرد تھا تو کوہ طور پر جو آپ کی راہ کے ساتھ پڑتا تھا روشنی دیکھی جیسے کسی نے آگ روشن کی ہو۔ تو اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ آپ لوگ یہاں انتظار کریں میں وہاں جاتا ہوں ممکن ہے کوئی راستے کے بارے خبر وہاں سے مل جائے کہ لگتا ہے کہ ہم راستہ بھول رہے ہیں اور آگ بھی لیتا آؤں گا یہاں جلا کر…
Read the full tafseer →6 ۔ یعنی بڑائی کا حق تو صرف اللہ رب العالمین کو ہے مگر یہ لوگ ایک ذرا سے ملک میں اقتدار پا کر یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ بس ہم ہی بڑے ہیں۔
1 ۔ یعنی وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں لہٰذا کھلی چھٹی ہے کہ جو چاہیں کریں، اور جس قسم کی شرارت ملک میں پھیلانا چاہیں پھیلائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(28:38) اوقد۔ فعل امر واحد مذکر تو آگ جلا۔ تو آگ سلگا۔ تو آگ روشن کر۔ ایقاد افعال مصدر وقود۔ ایندھن کی لکڑیاں۔ یہاں مراد یہ ہے کہ اے ہامان میرے لئے مٹی پر آگ جلاؤ اور اینٹیں پکاؤ۔
صرحا لعلی : صرحا۔ بلند، منقش و مزین مکان (جو ہر عیب سے پاک ہو) اس لئے لبن صریح خالص دودھ کو کہتے ہیں جس میں پانی کی ملاوٹ نہ ہو۔ لعلی۔ تاکہ میں۔ شاید کہ میں لعل حرف مشبہ بفعل ی ضمیر واحد متکلم اس کا اسم ۔
اطلع الی : اصعد الی۔ میں چڑھ جاؤں (موسی کے خدا کی طرف) یعنی اوپر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کو دیکھوں۔ اطلع یطلع اطلاع (افتعال) سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر متکلم۔ میں جھانکوں۔ میں اطلاع پاؤں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 42 :
مفتری (گھڑا گیا۔ بنایا گیا) ‘ ماسمعنا (ہم نے نہیں سنا) ‘ عاقبۃ الدار (آخرت کا گھر) اوقد ( بھڑکادے۔ جلادے) الطین (مٹی۔ گارا) ‘ صرح ( بلند محل۔ اونچی بلڈنگ) ‘ اطلع (میں جھانکتا ہوں) نبذنا ( ہم نے پھینک دیا) ‘ المقبوحین ( بد حال لوگ) ۔
تشریح : آیت نمبر 36 تا 42 :
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کھلی نشانیوں یعنی معجزات کے ساتھ فرعون کے بھرے دربار میں پہنچے تو معجزات کو دیکھ کر فرعون کہنے لگا کہ یہ معجزات نہیں ہیں بلکہ خود سے گھڑا ہواوہ جادو ہے جس کے ذریعہ وہ لوگوں کے دل جیتنا چاہتا ہے۔ حالانکہ ایسی باتیں ہم نے پہلے تو کبھی بھی نہ دیکھیں نہ سنیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
فرعون کے غرق ہونے کا ذکر۔
(ف 2) قرآن شریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون دہریہ اور خدا کا منکر تھا اور گمراہی کے سبب سے اپنے آپ کو خدا کہلواتا تھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کا ذکر کیا تو اس نے صاف کہہ دیا کہ میرے سوا کوئی دوسراخدا تم قرار دو گے تو تم کو قید کردوں گا، اس صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ملعون دہریہ اس قدر خدا کا منکر تھا کہ خدا کے نام لینے والے کو قید کے قابل مجرم گنتا تھا، اس لیے اس نے اپنے تمام اراکین کو جمع کرکے دھنڈ اور پٹوایا تھا کہ فرعون سب کا خدا ہے چناچہ اس ڈھنڈورے کا ذکر سورة والنازعات میں آئے گا، رسول اللہ نے فرمایا فرعون نے دو باتیں کہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ سوا اپنے اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
[20] لعنت پیچھے لگا دینے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو کوئی ظالموں اور کافروں پر لعنت کرتا ہے چونکہ یہ لوگ بھی ایسے ہی تھے اس لئے ان پر بھی لعنت پڑتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ف 1: فرعون دراصل بڑا مکار اور گھاگ تھا ۔ اس نے جب دیکھا کہ موسیٰ کی تعلیم لوگوں میں اثر کررہی تو اس نے اراہ طنز عقیدہ توحید کا مضحکہ اڑایا ۔ اور کہنے لگا کہ اے معزین و شرفاء میں تو یہ جانتا ہوں کہ میں تمہارا خدا ہوں ۔ اور موسیٰ کے کلام سے جو یہ مستفاد ہوتا ہے ۔ کہ اللہ آسمان پر ہے ۔ تو یہ کیونکر ممکن ہے ! پھر ہامان سے مخاطب ہوکر کہا ۔ کہ ہامان ایک اونچا سا محل تو تعمیر کردو ۔ میں دیکھوں تو سہی کہ موسیٰ کا خدا کہاں ہے ؟ ظاہر ہے یہ جملہ محض موسیٰ کے عقیدہ کے استخفاف کے لئے کہا گیا ۔ ورنہ انہوں نے کبھی اس سے یا اس کی قوم سے یہ نہیں کہا ۔ کہ خدا آسمان پر بیٹھا ہوا نظر آتا ہے ۔ اور نہ حقیقتاً…
Read the full tafseer →39۔ اور فرعون اور اس کے ماننے والوں نے ناحق ملک میں سر اٹھا رکھا تھا اور بڑائی کرتے رہے اور وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ ہماری طرواپس نہ آئیں گے اور ان کو ہماری طرف لوٹنا نہیں ۔ یعنی فرعون اور اس کا لشکر اپنی بڑائی اور تکبر و غرور میں مبتلا رہے اور انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہم خدا کی طرلوٹ کر جانے والے نہیں جب ان کی یہ سرکشی حد سے بڑھی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
ف 1۔ لعنت پیچھے لگا دینے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو ظالموں کافروں وغیرہم پر لعنت کرتا ہے چونکہ وہ لوگ بھی ایسے ہی تھے ان پر بھی پڑتی ہے۔
2۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ فرعون کے ساتھ ختم ہوا۔ آگے اس قصہ کے اعظم مقاصد یعنی اثبات رسالت محمدیہ ﷺ کا مضمون مذکور ہے، مع جواب بعض شبہات کفار، اور تمہید کے لئے تصریح رسالت موسویہ کی ارشاد ہے۔
Read the full tafseer →فرعون اور اس کے لشکر نے بغیر حق کے تکبر کیا اور وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے تھے :
39۔ فرعون اور اس کے لشکر نے تکبر و غرور کی راہ اختیار کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں پر دھیان کرنے کی زحمت گوارار ہی نہ کی حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت عقل وفکر کی دعوت تھی لیکن بڑے لوگوں کی باتوں پر کوئی عقل سے کام لے تو آخر کیوں لے ان کا حکم تو صرف ماننے کیلئے ہوتا ہے سمجھنے کے لئے نہیں اور ہماری مذہبی پیشوا ان کی اس حرکت سے اتنے متاثر ہوچکے ہیں کہ ہو جو بات چاہیں اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے نام سے کہہ دیتے ہیں اور پھر جب کوئی شخص عقل سے کام لے کر سوچنے کی کوشش کرتا ہے کہ آیا ایسا حکم اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ (And We had made them leaders who called (people) towards hell. - 28:41). Allah Ta` ala had elevated the courtiers of the Pharaoh as leaders of their people, but these wrong-doers were busy inviting the people towards fire - jahannam. Most commentators have taken the expression ` invitation to fire' as a metaphor. That is, by fire the allusion is toward evil deeds that will result in burning in the fire of Jahannam. But according to the work of my respected teacher Sayyidna Maulana Sayyid Muhammad Anwar Shah Kashmiri a (رح) the reward of the…
Read the full tafseer →54 That is, Allah, Lord of the worlds, alone is entitled to the right to greatness, but Pharaoh and his hosts assumed greatness when they attained a little power in a small territory on the earth.
55 That is, "They thought they were answerable to none and with this assumption they started behaving absolutely independently in their day to day life."
Read the full tafseer →