Explained with ayahs 38–42
فرعون کی سرکشی اور اس کے الہامی دعوے کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس نے اپنی قوم کو بےعقل بناکر ان سے اپنا دعویٰ منوالیا اس نے ان کمینوں کو جمع کرکے ہانک لگائی کہ تمہارا رب میں ہی ہوں سب سے اعلی اور بلند تر ہستی میری ہی ہے اسی بنا پر اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذابوں میں پکڑلیا اور دوسروں کے لئے اسے نشان عبرت بنایا۔ ان کمینوں نے اسے اللہ مان کر اس کا دماغ یہاں تک بڑھا دیا کہ اس نے کلیم اللہ حضرت موسیٰ سے ڈانٹ کر کہا کہ سن اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنایا تو میں تجھے قید میں ڈال دونگا۔ انہی سفلے لوگوں میں بیٹھ کر اپنا دعوی انہیں منواکر اپنے ہی جیسے اپنے خبیث وزیر ہامان سے کہتا ہے کہ تو…
Read the full tafseer →سورة القصص 56
ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے جھوٹے تکبر کے مقابلے میں ان کی بےحقیقی اور ہیچ میرزی کی تصویر کھینچ دی ہے، وہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھ بیٹھے تھے، مگر جب وہ مہلت جو خدا نے ان کو راہ راست پر آنے کے لیے دی تھی ختم ہوگئی تو انہیں اس طرح اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا گیا جیسے کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
معارف و مسائل
فَاَوْقِدْ لِيْ يٰهَامٰنُ عَلَي الطِّيْنِ ، فرعون نے بہت اونچا بلند محل تیار کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے وزیر ہامان کو اس کی تیاری کے لئے پہلے یہ حکم دیا کہ مٹی کی اینٹوں کو پکا کر پختہ کیا جائے کیونکہ کچی اینٹوں پر کوئی بڑی اور اونچی بنیاد قائم نہیں ہو سکتی۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ فرعون کے اس واقعہ سے پہلے پختہ اینٹوں کی تعمیر کا رواج نہ تھا سب سے پہلے فرعون نے یہ ایجاد کرائی۔ تاریخی روایات میں ہے کہ ہامان نے اس محل کی تعمیر کے لئے پچاس ہزار معمار جمع کئے مزدور اور لکڑی لوہے کا کام کرنے والے ان کے علاوہ تھے اور محل کو اتنا اونچا بنایا کہ اس زمانے میں اس سے زیادہ بلند کوئی تعمیر…
Read the full tafseer →استکبار کا انجام
یہ اس استکبار کا انجام بیان فرمایا کہ ہم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو پکڑا اور ان کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ ان کے پکڑنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو تدبیر اختیار فرمائی اس کی پوری تفصیل پچھلی سورتوں، بالخصوص سورة طحہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ فانظرکیف کان عاقبۃ الظلمین یہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گی ہے جس کو واضح کرنے ہی کے لئے یہ سرگزشت منائی گی ہے۔ اس میں آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی بھی ہے اور ان فرعونوں کے لئے تنبیہ بھی جو آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کی دعوت کے معاملے میں بالکل اسی روش پر چل رہے تھے جو روش حضرت موسیٰ کے مقابل میں فرعون اور اس کے اعوان و انصار نے اختیار کی تھی۔
Read the full tafseer →40-1یعنی جب ان کا کفر و طغیان حد سے بڑھ گیا اور کسی طرح بھی وہ ایمان لانے پر آمادہ نہیں ہوئے تو بالآخر ایک صبح ہم نے انھیں دریا میں غرق کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
24: یہ اس نے محض مذاق اڑانے کے طور پر کہا تھا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویوم القیمۃ ھم من المقبوحین (36 – 42)
یہاں قرآن کریم نے نہایت ہی جلدی میں فرعون کا انجام بتا دیا اور ایک فیصلہ کن دار کے نتیجے میں اس کا کام تمام ہوگیا۔
یہاں جادوگروں کے مقابلے کو حذف کردیا گیا ہے جبکہ دوسری سورتوں میں بعض جگہ اجمال اور بعض جگہ تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے۔ یہ کڑی یہاں اس لیے حذف کردی گئی ہے کہ تکذہب کے بعد جلد ہی ہلاکت کا منظر پیش کردیا جائے ۔ اور نہ صرف یہ کہ دنیاوی عذاب کا ذکر ہو بلکہ آخرت کے عذاب کی ایک جھلک بھی دکھا دی جائے۔ اختصار اور جدلی کے ساتھ بات کو انجام پہنچانا اس سورت میں مقصود بالذات ہے۔ کیونکہ پوری سورت کا انداز یوں ہی ہے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
4 یعنی انجام سے بالکل غافل ہو کر لگے ملک میں تکبر کرنے یہ نہ سمجھا کہ کوئی ان کی گردن نیچی کرنے والا اور سر توڑنے والا بھی موجود ہے۔ آخر خداوند قہار نے اس کو لاؤ لشکر سمیت بحرقلزم میں غرق کردیا تاکہ یادگار رہے کہ بدبخت ظالموں کا جو انجام سے غافل ہوں ایسا انجام ہوا کرتا ہے۔ غرق وغیرہ کے واقعات کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
آیت 41 وَجَعَلْنٰہُمْ اَءِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ ج ”
یعنی فرعون اور اس کے درباری لوگوں کو جہنم کی طرف بلانے والے گروہ کے پیشوا بن گئے۔
Read the full tafseer →52 اس مقام پر درمیان سے بہت سے واقعات چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ جو دیگر متعدد مقامات پر مذکور ہیں۔ یہاں صرف ان کے انجام کی خبر دی گئی ہے کہ ان ظالموں اور زمین میں بڑا بننے والوں کا انجام کیا ہوا۔ کس بےبسی کی حالت میں مرے۔ اور کیسی کیسی دل میں حسرتیں لے کر مرے۔ اور مرتے وقت کسی سے کوئی بات تک نہ کرسکے۔
Read the full tafseer →55۔ اس واقعہ غرقابی کی تفصیل (سورۃ البقر پ 1) کے علاوہ کئی جگہ گزر چکی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
آیت نمبر 33 تا 42
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھ سے ان کے ایک شخص کا خون ہوگیا تھا اور وہی وہی سابق قبطی تھا مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس کے عوض میں مجھے بھی قتل کر ڈالیں اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے تو اسے بھی (میرا) معاون بنا کر بھیج دیجئے ایک قرأۃ میں ردًا دال کے فتحہ کے ساتھ بغیر ہمزہ کے ہے وہ میری تائید کریں گے یُصَدِّقُنِیْ جزم کے ساتھ جواب دعاء (ارسِلْہٗ کا) اور ایک قرأۃ قاف کے رفع کے ساتھ جملہ ہو کر ردءًا کی صفت ہونے کی وجہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں، ارشاد ہوا ہم ابھی تمہارے بھائی کو تمہارا قوت بازو بنائے دیتے ہیں (یعنی)…
Read the full tafseer →فاخذنہ و جنودہ فنبذنھم فی الیم فانظر کیف کان عاقبۃ اظلمین . تو ہم نے اس کو اور اس کے
تابعین کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا (اور غرق کردیا) سو دیکھئے ظالموں کا کیسا برا انجام ہوا۔ یعنی اپنی قوم کو اس طرح کے برے انجام سے ڈرائیے۔
Read the full tafseer →(40) سو ہم نے اس تکبر کی سزا میں فرعون اور اس کے قبطی لشکر کو دریا میں پھینک دیا سو آپ دیکھیے کہ فرعون اور اس کی مشرک قوم کا کیا انجام ہوا۔
Read the full tafseer →فَاَخَذْنٰهُ وَجُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِي الْيَمّ : ”نَبَذَ یَنْبِذُ“ پھینک مارنا۔ اس مقام پر درمیان کے بہت سے واقعات چھوڑ دیے گئے ہیں، جو دوسرے مقامات پر مذکور ہیں، یہاں صرف ان کے انجام کی خبر دی گئی ہے۔ ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے جھوٹے تکبر کے مقابلے میں ان کے بےحقیقت ہونے کی تصویر کھینچ دی ہے کہ وہ جو اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھ بیٹھے تھے، جب وہ مہلت ختم ہوگئی جو اللہ تعالیٰ نے انھیں راہ راست پر آنے کے لیے دی تھی تو انھیں کوڑے کرکٹ کی طرح سمندر میں پھینک دیا گیا۔
فَانْــظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيْنَ : اس میں ہر عبرت حاصل کرنے والے شخص کو ان کے انجام سے عبرت حاصل کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
واستکبرھود جمودہ فرعون نے خود اور اس کے لشکروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے اپنے آپ کو بڑا خیال کیا۔ فی الارض بغیر الحق بغیر الحق سے مراد سرکشی ہے یعنی اس کے پاس کوئی ایسی دلیل نہ تھی جس کے ساتھ وہ ان معجزات کا دفاع کرسکتا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لائے تھے۔ وظنوا انھم الینا لایرجعون انہوں نے گمان کیا کہ نہ ان کے لئے معاد ہے اور نہ ہی دوبارہ اٹھانا ہے۔ نافن، ابن محیصن، شیبہ، حمید، یعقوب، حمزہ اور کسائی نے لایرجعون پڑھا یعنی یاء پر فتحہ اور جیم کے نیچے کسرہ ہے، اس بنا پر کہ یہ معروف کا صیغہ ہے۔ باقی قراء نے یرجعن مجہول کا صیغہ پڑھا ہے، یہ ابو عبید کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ پہلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
1۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت و جنودہ فنبذنہم فی الیم میں الیم سے مراد ہے سمندر، اس سمندر کو ساف کہا جاتا ہے جو مصر سے آگے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو غرق کردیا۔
2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلنہم ائمۃ یدعون الی النار یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے سردار بنایا کہ وہ گناہوں کی طرف بلاتے ہیں۔
3۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت واتبعنہم فی ہذہ الدنیا لعنۃ، ویوم القیمۃ یعنی قیامت کے دن ایک اور لعنت ہوگی پھر ان کی طرف توجہ کرتے ہوئے فرمایا آیت ہم من المقبوحین، کہ وہ قیامت کے دن قباحت والوں میں سے ہوں گے۔
4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے…
Read the full tafseer →فَاَخَذْنٰهُ [پھر ہم نے پکڑا اس کو ] وَجُنُوْدَهٗ [اور اس کے لشکروں کو ] فَنَبَذْنٰهُمْ [پھر ہم نے پھینکا ان سب کو ] فِي الْيَمِّ ۚ [پانی میں ] فَانْــظُرْ [تو آپ ﷺ دیکھ لیں ] كَيْفَ كَانَ [کیسا تھا ] عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيْنَ [ظلم کرنے والوں کا انجام ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
(وَ جَعَلْنٰھُمْ اَءِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ ) (اور ہم نے انہیں پیشوا بنا دیا جو دوزخ کی طرف بلاتے رہے) یعنی وہ کفرو شرک کی دعوت دیتے رہے جس کا نتیجہ دوزخ میں جانا ہے (وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ لَا یُنْصَرُوْنَ ) (اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
قال اللہ تعالیٰ فلما قضی موسیٰ الاجل وسار باھلہ الی۔۔۔ ویوم القیمۃ ہم من المقبوحین۔
الغرض جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہ کر پوری مدت گزار دی یعنی دس برس تک بکریاں چرائیں اور دس برس تک ایک نبی کی صحبت میں رہے اور مجاہدہ اور ریاضت اور باطنی تربیت کی منزلیں طے ہوگئیں اور چالیس سال کی سن کو پہنچے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی زوجہ اور اہل خانہ کو لے کر مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اہل قرابت سے جا کر ملیں اور طور کے آس پاس پہنچے۔ رات کا وقت تھا اندھیری چھائی ہوئی تھی اور سخت سردی تھی۔ اتفاق سے راہ بھٹک گئے ایسے وقت میں طبعا آگ کی تلاش ہوتی ہے۔ کوہ…
Read the full tafseer →39:۔ فرعون، اس کے امراء دربار، اس کی فوجوں اور اس کی ساری قوم نے استکبار و غرور سے حق کو ٹھکرایا تو ہم نے سب کو پکڑلیا اور دریا میں غرق کردیا۔ اب دیکھ لو آخر ان ظالموں کا انجام کیا ہوا۔ نہ حکومت کام آئی دولت، نہ جتھہ، نہ لاؤ لشکر، وجعلنھم ائمۃ یدعون الی النار الخ، وہ کیا تھے ؟ کفر و ضلال کے امام اور پیشوا۔ وہ لوگوں کو کفر و شرک کی طرف بلاتے اور لوگوں کو دین حق اور اللہ کی توحید سے گمراہ کرتے تھے۔ ویوم القیمۃ لا ینصرون دنیا میں جن کے بل بوتے پر کفر و شرک کی تبلیغ کرتے رہے آخرت میں وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکیں گے اور نہ انہیں عذاب سے بچا سکیں گے۔ واتبعنہم فی ھذہ الدنیا الخ دنیا میں ہم نے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
ربط آیات
موسیٰ (علیہ السلام) اپنی اہلیہ اور ساز و سامان مدین سے مصر جا رہے تھے کہ راستے میں کوہ طور کی مقدس وادی سے گزر ہوا۔ اس مقام پر اللہ نے ان سے کلام کیا اور نبوت و رسالت عطا فرمائی اور ساتھ دو عظیم معجزات عصا اور ید بیضاء بھی عنایت کیے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو تبلیغ حق کا حکم ہوا ۔ انہوں نے اس راستے میں حائل مشکلات کا ذکر کیا تو اللہ نے یقین دلایا کہ فکر نہ کرو ، بالآخر تم ہی غالب رہو گے ۔ اللہ نے آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا اور فریضہ نبوت میں آپ کا ممدو معاون بنایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) حکم خداوندی کے مطابق مصر پہنچے اور آگے اپنے بھائی ہارون (علیہ…
Read the full tafseer →فَاَخَذْنٰہُ وَجُنُوْدَہٗ فَنَبَذْنٰہُمْ فِي الْيَمِّ 0ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِــمِيْنَ 40
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
وَ یْومَ الْقِیٰمَۃِ ھم من المقبوحین تک فرعون اور موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ تھا۔ اس کو تمام کرکے ولقد آتینا موسیٰ الکتب الخ سے اس قصہ کے نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب پہلی قرن یعنی زمانے والے ہلاک ہوچکے تو خلق کی رہنمائی کے لیے ہم نے موسیٰ کو مبعوث کیا۔ اس کو یہ یہ باتیں پیش آئیں، جنگل میں کلام کیا۔ معجزات دیے اور کتاب یعنی تورات عطا کی جو بصارت اور ہدایت اور رحمت تھی۔ سمجھداروں کے لیے اس طرح موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد جب گمراہی کا ایک زمانہ دراز گزر گیا۔ خلق کی ہدایت کے لیے اے محمد ﷺ تجھ کو مبعوث کیا اور تجھ پر قرآن نازل کیا جس میں گزشتہ انبیاء کے صحیح صحیح واقعات تجھ پر ظاہر کئے ورنہ…
Read the full tafseer →فَاَخَذْنٰـہُ وَجُنُوْدَہٗ فَـنَـبَذْنٰـھُمْ فِی الْیَمِّ ج فَانْظُرْکَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیْنَ ۔
(القصص : 40)
(تو ہم نے اس کو اور اس کی فوجوں کو پکڑا، پس ان کو سمندر میں پھینک دیا، تو غور کرو ظالموں کا انجام کیسا ہوا۔ )
اس استکبار کے نتیجے میں فرعون اور اس کے حواریوں نے جو سرکشی اختیار کی اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا یہ دی کہ انھیں سمندر میں پھینک دیا۔ اس کی تفصیلات گزشتہ سورتوں بالخصوص سورة طٰہٰ کی تفصیل میں گزر چکی ہیں۔ اس واقعہ اور اس کی تفصیلات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ پھر غور کرو کیسا ہوا ظالموں کا انجام۔ اور یہی وہ حقیقی سبق ہے جس کے لیے یہ سرگزشت سنائی گئی ہے۔ اس میں نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کا دنیا و آخرت میں انجام۔
فرعون کو اپنے اقتدار اور اختیارات پر بڑا ناز تھا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل پر اس قدر مظالم کا بازار گرم رکھا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی انتہائی کرب کے عالم میں بلبلا کر ان الفاظ میں فریاد کرنے لگے۔
” انہوں نے کہا موسیٰ آپ کے ہمارے ہاں آنے سے پہلے ہمیں تکلیف پہنچائی گئی اور آپ کے آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے فرمایا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں زمین میں جانشین بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ “ [ الاعراف : 129]
” ہم نے موسیٰ کو وحی بھیجی کہ راتوں رات میرے بندوں کو…
Read the full tafseer →40: فَاَخَذْنٰہُ وَ جُنُوْدَہٗ فَنَبَذْنٰہُمْ فِی الْیَمِّ (ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر سمندر میں پھینک دیا) ۔ یہ جلال والی کلام ہے۔ جو اس کی عظمت شان کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کی تعداد کو قلیل تعداد سے تشبیہ دی اگرچہ وہ جم غفیر تھا ان کنکریوں سے جن کو ایک ہی مٹھی میں پکڑ کر سمندر میں پھینک دیا جائے۔ فَانْظُرْ (پس دیکھیں) اے محمد ﷺ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیْنَ (ظالموں کا انجام کیسے ہوا) ۔ اور آپ اپنی قوم کو ڈرائیں بلاشبہ آپ کو ان کے مقابلہ میں غلبہ دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
40۔ فاخذناہ و جنودہ فنبذناھم ، ، پس ہم نے ان کو ڈال دیا ، فی الیم فانظر کیف کان عاقبۃ الظالمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
38 تا 40۔ جن مفسروں نے اپنی تفسیریں عقلی طور پر لکھی ہیں انہوں نے ان آیتوں کی تفسیر میں طرح طرح کی باتیں لکھی ہیں زمخشری نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس قول سے فرعون کا مطلب یہ تھا کہ وہ خدا کا منکر تھا قاضی بیضاوی نے لکھا ہے کہ نہیں فرعون کا مطلب یہ تھا کہ کسی دلیل سے خدا کا موجود ہونا اب تک اس کو معلوم نہیں ہو تھا اسی واسطے خدا کے موجود ہونے کا علم حاصل کرنے کے لیے اس نے آسمان تک جانے کے لیے وہ اونچی مینار بنائی تھی اگو وہ خدا کا منکر ہوتا تو پھر مینار کیوں بنواتا اور اس طرح کی عقلی بحثیں اور تفسیروں میں بھی ہیں لیکن قرآن شریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون دہر یہ تھا۔ اور خدا کا منکر تھا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–54
شعراء کی دو اقسام
قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
51 فرعون اور اس کے لشکروں کے ہولناک انجام کا ذکر : سو اس سے فرعون اور اس لشکروں کے انتہائی ہولناک اور عبرتناک انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخرکار اٹھا کر پھینک دیا ہم نے فرعون کو بھی اور اس کے تمام لشکروں کو بھی سمندر میں "۔ جس طرح کوڑا کرکٹ اور کچرا اٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے۔ معلوم ہوا کہ ایمان اور حق پرستی کے جوہر کے بغیر انسان کوڑا کرکٹ، بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر گھٹیا اور فروتر ہے۔ اور وہ لوگ یوں بھی اس سزا کے زیادہ لائق اور مستحق تھے کہ انہوں نے بڑی سرکشی اختیار کی تھی اور اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھ رکھا تھا۔ اس لیے ان کو ایک ایسے ہولناک عذاب میں دھر لیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–46
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
آیات 29 تا 46
اسرارومعارف
چنانچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عرصہ پورا کردیا جس کا وعدہ فرمایا تھا تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس مصر کو روانہ ہوئے کہ گھر والوں سے بچھڑے ہوئے دس سال بیت چکے تھے روایات کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس پورے کیے۔ راستے میں رات ہوگئی موسم بھی سرد تھا تو کوہ طور پر جو آپ کی راہ کے ساتھ پڑتا تھا روشنی دیکھی جیسے کسی نے آگ روشن کی ہو۔ تو اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ آپ لوگ یہاں انتظار کریں میں وہاں جاتا ہوں ممکن ہے کوئی راستے کے بارے خبر وہاں سے مل جائے کہ لگتا ہے کہ ہم راستہ بھول رہے ہیں اور آگ بھی لیتا آؤں گا یہاں جلا کر…
Read the full tafseer →2 ۔ ان میں سے کوئی زندہ نہ بچا اور نہ کسی کو بات تک کرنے کی مہلت ملی۔
Read the full tafseer →(28:40) فنبذنھم۔تعقیب کی ہے۔ نبذنا ماضی جمع متکلم النبذ سے (باب ضرب) جس کے معنی ہیں کسی چیز کو درخوراعتناء نہ سمجھ کر پھینک دینے کے ہیں ۔ مثلاً نبذہ فریق منھم (2:100) تو ان میں سے ایک فریق نے اس کو (بےقدر چیز کی طرح) پھینک دیا۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جس کا مرجع فرعون اور اس کی فوج ہے پس ہم نے ان کو پھینک دیا۔
الیہم۔ دریا۔ سمندر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 42 :
مفتری (گھڑا گیا۔ بنایا گیا) ‘ ماسمعنا (ہم نے نہیں سنا) ‘ عاقبۃ الدار (آخرت کا گھر) اوقد ( بھڑکادے۔ جلادے) الطین (مٹی۔ گارا) ‘ صرح ( بلند محل۔ اونچی بلڈنگ) ‘ اطلع (میں جھانکتا ہوں) نبذنا ( ہم نے پھینک دیا) ‘ المقبوحین ( بد حال لوگ) ۔
تشریح : آیت نمبر 36 تا 42 :
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کھلی نشانیوں یعنی معجزات کے ساتھ فرعون کے بھرے دربار میں پہنچے تو معجزات کو دیکھ کر فرعون کہنے لگا کہ یہ معجزات نہیں ہیں بلکہ خود سے گھڑا ہواوہ جادو ہے جس کے ذریعہ وہ لوگوں کے دل جیتنا چاہتا ہے۔ حالانکہ ایسی باتیں ہم نے پہلے تو کبھی بھی نہ دیکھیں نہ سنیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
فرعون کے غرق ہونے کا ذکر۔
(ف 2) قرآن شریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون دہریہ اور خدا کا منکر تھا اور گمراہی کے سبب سے اپنے آپ کو خدا کہلواتا تھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کا ذکر کیا تو اس نے صاف کہہ دیا کہ میرے سوا کوئی دوسراخدا تم قرار دو گے تو تم کو قید کردوں گا، اس صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ملعون دہریہ اس قدر خدا کا منکر تھا کہ خدا کے نام لینے والے کو قید کے قابل مجرم گنتا تھا، اس لیے اس نے اپنے تمام اراکین کو جمع کرکے دھنڈ اور پٹوایا تھا کہ فرعون سب کا خدا ہے چناچہ اس ڈھنڈورے کا ذکر سورة والنازعات میں آئے گا، رسول اللہ نے فرمایا فرعون نے دو باتیں کہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ سوا اپنے اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
[20] لعنت پیچھے لگا دینے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو کوئی ظالموں اور کافروں پر لعنت کرتا ہے چونکہ یہ لوگ بھی ایسے ہی تھے اس لئے ان پر بھی لعنت پڑتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ف 1: فرعون دراصل بڑا مکار اور گھاگ تھا ۔ اس نے جب دیکھا کہ موسیٰ کی تعلیم لوگوں میں اثر کررہی تو اس نے اراہ طنز عقیدہ توحید کا مضحکہ اڑایا ۔ اور کہنے لگا کہ اے معزین و شرفاء میں تو یہ جانتا ہوں کہ میں تمہارا خدا ہوں ۔ اور موسیٰ کے کلام سے جو یہ مستفاد ہوتا ہے ۔ کہ اللہ آسمان پر ہے ۔ تو یہ کیونکر ممکن ہے ! پھر ہامان سے مخاطب ہوکر کہا ۔ کہ ہامان ایک اونچا سا محل تو تعمیر کردو ۔ میں دیکھوں تو سہی کہ موسیٰ کا خدا کہاں ہے ؟ ظاہر ہے یہ جملہ محض موسیٰ کے عقیدہ کے استخفاف کے لئے کہا گیا ۔ ورنہ انہوں نے کبھی اس سے یا اس کی قوم سے یہ نہیں کہا ۔ کہ خدا آسمان پر بیٹھا ہوا نظر آتا ہے ۔ اور نہ حقیقتاً…
Read the full tafseer →40۔ تو ہم نے فرعون کی اور اس کے تابعین اور ماننے والوں کی گرفت کی پھر ان سب کو دریا میں لیجا پھینکا سو اے پیغمبر آپ دیکھئے ستم گاروں اور نا انصافوں کا انجام کیسا ہوا ۔ یعنی جب ظلم حد سے تجاوز کر گیا اور ان کے غرور وتکبر میں کمی نہیں ہوئی اور قائل ہو نیکی بجائے سرکشی میں اضافہ ہوتا رہا تو انجام کار فرعون اور اس کے متبعین کو سب کو دریا میں پھینک دیا اور بحر قلزم میں لے جا پھینکا آگے خطاب ہے نبی کریم ﷺ کو کہ آپ دیکھیں کہ ناانصافی کرنیوالوں کا انجام کیسا ہوا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
ف 1۔ لعنت پیچھے لگا دینے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو ظالموں کافروں وغیرہم پر لعنت کرتا ہے چونکہ وہ لوگ بھی ایسے ہی تھے ان پر بھی پڑتی ہے۔
2۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ فرعون کے ساتھ ختم ہوا۔ آگے اس قصہ کے اعظم مقاصد یعنی اثبات رسالت محمدیہ ﷺ کا مضمون مذکور ہے، مع جواب بعض شبہات کفار، اور تمہید کے لئے تصریح رسالت موسویہ کی ارشاد ہے۔
Read the full tafseer →وہ وقت بھی آیا کہ فرعون اور اس کے سارے لشکر کو پانی میں بھسم کردیا گیا :
40۔ فرعون اور اس کے لشکر کے لوگ تو ” ہم چوما دیگرے نیست “ کا نعرہ بلند کرتے تھے اور بلاشبہ وہ اس نعرہ کو بلند کرتے رہے جب تک ان کو پکر نہیں لیا گیا لیکن جونہی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی پکڑ کا وقت آیا اور دریائے نیل یا بحرقلزم کے پانی کے دو گھونٹ سیدھے اندر چلے گئے تو اسی وقت فرعون پکار اٹھا ” میں یقین کرتا ہوں کہ اس ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان رکھتے ہیں اور ا میں بھی اس کے فرمانبرداروں میں ہوں ‘ (یونس 10 : 9) لیکن اس کی اس بےوقت بات کو فورا رد کردیا گیا اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ (And We had made them leaders who called (people) towards hell. - 28:41). Allah Ta` ala had elevated the courtiers of the Pharaoh as leaders of their people, but these wrong-doers were busy inviting the people towards fire - jahannam. Most commentators have taken the expression ` invitation to fire' as a metaphor. That is, by fire the allusion is toward evil deeds that will result in burning in the fire of Jahannam. But according to the work of my respected teacher Sayyidna Maulana Sayyid Muhammad Anwar Shah Kashmiri a (رح) the reward of the…
Read the full tafseer →56 Allah in these words has depicted their worthlessness and insignificance as against their false pride. They thought they were big people, but when the respite Allah had granted them to reform themselves came to an end, they were thrown into the sea like so much rubbish.
Read the full tafseer →