Explained with ayahs 38–42
فرعون کی سرکشی اور اس کے الہامی دعوے کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس نے اپنی قوم کو بےعقل بناکر ان سے اپنا دعویٰ منوالیا اس نے ان کمینوں کو جمع کرکے ہانک لگائی کہ تمہارا رب میں ہی ہوں سب سے اعلی اور بلند تر ہستی میری ہی ہے اسی بنا پر اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذابوں میں پکڑلیا اور دوسروں کے لئے اسے نشان عبرت بنایا۔ ان کمینوں نے اسے اللہ مان کر اس کا دماغ یہاں تک بڑھا دیا کہ اس نے کلیم اللہ حضرت موسیٰ سے ڈانٹ کر کہا کہ سن اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنایا تو میں تجھے قید میں ڈال دونگا۔ انہی سفلے لوگوں میں بیٹھ کر اپنا دعوی انہیں منواکر اپنے ہی جیسے اپنے خبیث وزیر ہامان سے کہتا ہے کہ تو…
Read the full tafseer →سورة القصص 52
اس قول سے فرعون کا مطلب ظاہر ہے کہ یہ نہیں تھا کہ اور نہیں ہوسکتا تھا کہ میں ہی تمہارا اور زمین و آسمان کا خالق ہوں، کیونکہ ایسی بات صرف ایک پاگل ہی کے منہ سے نکل سکتی تھی، اور اسی طرح اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ میرے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، کیونکہ اہل مصر کے مذہب میں بہت سے معبودوں کی پرستش ہوتی تھی اور خود فرعون کو جس بنا پر معبودیت کا مرتبہ دیا گیا تھا وہ بھی صرف یہ تھی کہ اسے سورج دیوتا کا اوتار مانا جاتا تھا، سب سے بڑی شہادت قرآن مجید کی موجود ہے کہ فرعون خود بہ سے دیوتاؤں کا پرستار تھا وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَهٗ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
معارف و مسائل
فَاَوْقِدْ لِيْ يٰهَامٰنُ عَلَي الطِّيْنِ ، فرعون نے بہت اونچا بلند محل تیار کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے وزیر ہامان کو اس کی تیاری کے لئے پہلے یہ حکم دیا کہ مٹی کی اینٹوں کو پکا کر پختہ کیا جائے کیونکہ کچی اینٹوں پر کوئی بڑی اور اونچی بنیاد قائم نہیں ہو سکتی۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ فرعون کے اس واقعہ سے پہلے پختہ اینٹوں کی تعمیر کا رواج نہ تھا سب سے پہلے فرعون نے یہ ایجاد کرائی۔ تاریخی روایات میں ہے کہ ہامان نے اس محل کی تعمیر کے لئے پچاس ہزار معمار جمع کئے مزدور اور لکڑی لوہے کا کام کرنے والے ان کے علاوہ تھے اور محل کو اتنا اونچا بنایا کہ اس زمانے میں اس سے زیادہ بلند کوئی تعمیر…
Read the full tafseer →ھامان کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔ یہاں سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کو فرعون کے وزیر اعظم یا کم از کم وزیر تعمیرات کی حیثیت حاصل تھی۔
فرعون کا استہزاء ارتد علی الطائن کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ اینٹوں کا پزاوہ مگوا اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ مٹی کی عمارت بنوا کر اس پر آگ دہکا تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نینوا اور مصر وغریہ میں تعمیر کا یہ طریقہ معروف رہا ہے کہ مٹی کا مکان بنا کر اس پر خوب آگ دہکاتے جس سے دیواروں پر مینا کاری کی صورت پیدا ہوجاتی اور وہ بارش و ہوا کے اثرات سے بالکل محفوظ ہوجاتیں۔
لعلی اطلع الی الہ موسیٰ میں الی کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں تضمین ہے۔ گویا پوری بات یوں ہے…
Read the full tafseer →38-1یعنی مٹی کو آگ میں تپا کر اینٹیں تیار کر، ہامان، فرعون کا وزیر، مشیر اور اس کے معاملات کا انتظام کرنے والا تھا۔
38-2یعنی ایک اونچا اور مضبوط محل تیار کر، جس پر چڑھ کر میں آسمان پر یہ دیکھ سکوں کہ وہاں میرے سوا کوئی اور رب ہے۔
38-3یعنی موسیٰ ؑ جو یہ دعوی کرتا ہے کہ آسمانوں پر رب ہے جو ساری کائنات کا پالن ہار ہے، میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
24: یہ اس نے محض مذاق اڑانے کے طور پر کہا تھا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویوم القیمۃ ھم من المقبوحین (36 – 42)
یہاں قرآن کریم نے نہایت ہی جلدی میں فرعون کا انجام بتا دیا اور ایک فیصلہ کن دار کے نتیجے میں اس کا کام تمام ہوگیا۔
یہاں جادوگروں کے مقابلے کو حذف کردیا گیا ہے جبکہ دوسری سورتوں میں بعض جگہ اجمال اور بعض جگہ تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے۔ یہ کڑی یہاں اس لیے حذف کردی گئی ہے کہ تکذہب کے بعد جلد ہی ہلاکت کا منظر پیش کردیا جائے ۔ اور نہ صرف یہ کہ دنیاوی عذاب کا ذکر ہو بلکہ آخرت کے عذاب کی ایک جھلک بھی دکھا دی جائے۔ اختصار اور جدلی کے ساتھ بات کو انجام پہنچانا اس سورت میں مقصود بالذات ہے۔ کیونکہ پوری سورت کا انداز یوں ہی ہے۔ اس…
Read the full tafseer →3 یعنی اپنے وزیر ہامان کو کہا کہ اچھا اینٹوں کا ایک پزاوہ لگواؤ تاکہ پکی اینٹوں کی خوب اونچی عمارت بنوا کر اور آسمان کے قریب ہو کر میں موسیٰ کے خدا کو جھانک آؤں کہ کہاں ہے اور کیسا ہے۔ کیونکہ زمین میں تو مجھے کوئی خدا اپنے سوا نظر نہیں پڑتا۔ آسمان میں بھی خیال تو یہ ہے کہ کوئی نہ ہوگا، تاہم موسیٰ کی بات کا جواب ہوجائے گا۔ یہ بات ملعون نے استہزاء و تمسخر سے کہی اور ممکن ہے اس قدر بدحواس و پاگل ہوگیا ہو کہ اس طرح کی لچر پوچ اور مضحکہ خیز تجویزیں سوچنے لگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
آیت 38 وَقَالَ فِرْعَوْنُ یٰٓاَیُّہَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ ج ”
اس ملک میں میری حکومت ہے اور یہاں صرف میرا حکم چلتا ہے۔ چناچہ میں اپنے علاوہ کسی اور کو تمہار 1 ”الٰہ“ یا ”رب“ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔
فَاَوْقِدْ لِیْ یٰہَامٰنُ عَلَی الطِّیْنِ ”
یعنی گارے سے اینٹیں بنا کر انہیں بھٹے میں پکانے کا بندوبست کرو۔
فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْٓ اَطَّلِعُ الآی اِلٰہِ مُوْسٰیلا ”
موسیٰ جس الٰہ کی بات کرتا ہے ‘ میں اس اونچی عمارت پر چڑھ کر آسمانوں میں جھانک کر اس الٰہ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔
Read the full tafseer →49 فرعون کی خدائی کا دعویٰ اس حد تک تھا کہ اس نے ملک کے تمام وسائل معاش پر قبضہ کر رکھا تھا۔ دوسرے وہ اپنے قانونی اور سیاسی اختیارات میں کسی بالاتر ہستی کا قائل نہ تھا۔ ورنہ وہ دوسرے مشرکوں کی طرف کائنات کا خالق اللہ ہی کو سمجھتا تھا اور اللہ کے علاوہ دوسرے معبودوں کا بھی قائل تھا۔ چناچہ خود اس کے درباریوں نے فرعون سے کہا تھا کہ تو موسیٰ کو کھلی چھٹی دے دے گا کہ وہ اور اس کے پیرو کار تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں گے (7: 127) فراعنہ مصر دراصل اپنے آپ کو سورج دیوتا کا اوتار سمجھتے تھے۔ اس لئے وہ اپنی رعایا سے اپنے مجسموں کی پوجا بھی کرواتے تھے۔ علاوہ ازیں ان لوگوں میں گائے بیل کی پرستش کا…
Read the full tafseer →51۔ میں ہی تمہارا اصلی اور قدیمی دیوتا ہوں، میری ہی پوجا تمہارے باپ دادا ہمیشہ سے کرتے چلے آتے ہیں تو اب یہ نیا نام کس خدا کا سننے میں آرہا ہے۔ فراعنہ مصر کی نسل مصریوں کے عقیدہ میں خدائی اوتار تھی اور بادشاہ سب سے بڑے دیوتا سورج کا زندہ نمائندہ ہوتا تھا۔ ملاحظہ ہو سورة الشعراء (پ 19) میں آیہ (آیت) ” لئن اتخذت الھا غیری “۔ پر حاشیہ۔ نیز انگریزی تفسیر القرآن۔
52۔ ھامان پر حاشیہ ابھی اوپر گزر چکا نمبر 4 یہاں بھی سیاق کلام سے اندازہ یہی ہوتا ہے کہ ہامان کسی اعلی ترین عہدہ دار کا سرکاری لقب ہے۔
53۔ حق تعالیٰ گویا یہاں اور اور کہیں بھی نہیں ہے۔ بلکہ مجسم ہو کر آسمان پر بیٹھا ہوا ہے، اور اس تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
آیت نمبر 33 تا 42
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھ سے ان کے ایک شخص کا خون ہوگیا تھا اور وہی وہی سابق قبطی تھا مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس کے عوض میں مجھے بھی قتل کر ڈالیں اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے تو اسے بھی (میرا) معاون بنا کر بھیج دیجئے ایک قرأۃ میں ردًا دال کے فتحہ کے ساتھ بغیر ہمزہ کے ہے وہ میری تائید کریں گے یُصَدِّقُنِیْ جزم کے ساتھ جواب دعاء (ارسِلْہٗ کا) اور ایک قرأۃ قاف کے رفع کے ساتھ جملہ ہو کر ردءًا کی صفت ہونے کی وجہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں، ارشاد ہوا ہم ابھی تمہارے بھائی کو تمہارا قوت بازو بنائے دیتے ہیں (یعنی)…
Read the full tafseer →وقال فرعون یایھا الملا ما علمت لکم من الہ غیری . اور فرعون نے کہا : اے سردارو ! میں تو اپنے
سوا تمہارا کوئی اور خدا نہیں جانتا۔
فرعون نے اپنے سوا کسی دوسرے خدا کو جاننے کی نفی کی ‘ خدا کے وجود کی نفی نہیں کی کیونکہ اس کو اپنے سوا دوسرے خدا کے نہ ہونے کا جزم نہ تھا (یعنی موسیٰ کے کہنے اور دلائل پیش کرنے سے وہ متردد ہوگیا تھا۔ اس کے پاس کوئی قطعی دلیل ایسی نہ تھی کہ وہ دوسرے خدا کے وجود کو محال ثابت کرسکتا ‘ مترجم) اس لئے اس نے کہا۔
فاوقد لی یھامن علی الطین فاجعل لی صرحرا لعلی اطلع الی الہ موسیٰ وانی لاظنہ من
الکذبین . تو اے ہامان ! تو میرے لئے مٹی (کی اینٹیں بنوا کر ان) پر آگ دہکا پھر ان (پختہ…
Read the full tafseer →(38) فرعون نے کہا اے مصر والو ! مجھے تو تمہارا اپنے سوا کوئی اللہ معلوم نہیں ہوتا سو تم موسیٰ ؑ کی پیروی مت کرنا اور اے ہامان تم ہمارے لیے مٹی کی اینٹیں بنوا کر ان کو آگ میں پکواؤ اور ان اینٹوں سے میرے لیے ایک بلند عمارت بناؤ تاکہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ ؑ کے اللہ کو دیکھوں اور میں تو موسیٰ ؑ کو اس دعوے میں کہ کوئی اور اللہ بھی اوپر ہے جھوٹا سمجھتا ہوں۔
Read the full tafseer →وَقَالَ فِرْعَوْنُ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ : سرکش اور مغرور فرعون پر موسیٰ ؑ کی اتنی نرم اور حلم والی بات کا کچھ اثر نہیں ہوا، بلکہ اس نے اپنے سرداروں کو مخاطب کر کے لاف زنی شروع کردی، کہ ”اے سردارو ! میں نے اپنے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں جانا۔“ اس سے فرعون کے تکبر کا اور اس کی حماقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ گویا وہ انھیں کہہ رہا تھا کہ مجھے معلوم نہیں کہ میرے سوا تمہارا کوئی معبود ہو اور جو مجھے معلوم نہیں وہ ہے ہی نہیں۔ بتائیے اس سے بڑی بےوقوفی کیا ہوگی۔ تمہیں تو یہ تک معلوم نہ ہوسکا کہ تمہارے گھر میں کس کی پرورش ہو رہی ہے ؟ اس کی قوم کے سرداروں نے بھی اس…
Read the full tafseer →وقال فرعون یا یھا الملا ما علمت لکم من الہ غیری حضرت ابن عباس نے کہا : اس کلام اور انا ربکم الاعلی کے قول کے درمیان چالیس سال کا عرصہ حائل ہے۔ اللہ کے دشمن نے جھوٹ بولا ہے بلکہ اسے علم تھا کہ اس کا وہاں رب ہے جو اس کا اور اس کی قوم کا خالق ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ولئن سآلتھم من خلقھم لیقولن اللہ (الزخرف : 78) اس نے کہا فاوقدلی یھامن علی الطین میرے لئے اینٹیں پکائو یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ قتادہ نے کہا : فرعون وہ پہلا شخص ہے جس نے اینٹیں پکوائیں اور ان سے عمارت بنوائی۔
جب فرعون نے اپنے وزیر ہامان کو حکم دیا کہ وہ اس کے لئے محل بنائے تو ہامان نے مزدور جمع کئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب فرعون نے کہا آیت یا ایہا الملأ ما علمت لکم من الہ غیری یعنی اے سردارو میں تمہارے لیے اپنے علاوہ کسی کو خدا نہیں جانتا۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب تیرے بندے نے سرکشی کی مجھے اس کے ہلاک کرنے کی اجازت دیجیے رب تعالیٰ نے فرمایا اے جبرئیل وہ میرا بندہ ہے اس کی موت کا وقت ہر گزر آگے نہیں بڑھے گا جو اس کا وقت مقرر ہوچکا ہے یہاں تک کہ وہ وقت آئے گا جب فرعون نے کہا انا ربکم الاعلی۔ یعنی میں تمہارا بآ رب ہوں تو فرمایا اے جبریل تیری روح کو سکون ہوچکا ہے۔ میرے بندے نے بغاوت کی اور اس کی ہلاکت کا وقت آچکا ہے۔
2۔ ابن مردوی نے ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →وَقَالَ [اور کہا ] فِرْعَوْنُ [فرعون نے ] يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ [اے سردارو ] مَا عَلِمْتُ [میں نے نہیں جانا ] لَكُمْ [تمہارے لئے ] مِّنْ اِلٰهٍ [کوئی بھی الٰہ ] غَيْرِيْ ۚ [میرے علاوہ ] فَاَوْقِدْ [پس تو آگ بھڑکا ] لِيْ [میرے لئے ] يٰهَامٰنُ [اے ہامان ] عَلَي الطِّيْنِ [گارے پر ] فَاجْعَلْ لِّيْ [پھر تو بنا میرے لئے ] صَرْحًا [ایک بلند عمارت ] لَّعَلِّيْٓ [شاید کہ میں ] اَطَّلِــعُ [جھانکوں ] اِلٰٓى اِلٰهِ مُوْسٰي ۙ [موسیٰ (علیہ السلام) کے الٰہ کی طرف ] وَاِنِّىْ [اور بیشک میں ] لَاَظُنُّهٗ [یقینا گمان کرتا ہوں اس کو ] مِنَ الْكٰذِبِيْنَ [جھوٹ کہنے والوں میں سے ]
نوٹ۔ 1: فرعون نے بہت اونچا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
(وَ جَعَلْنٰھُمْ اَءِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ ) (اور ہم نے انہیں پیشوا بنا دیا جو دوزخ کی طرف بلاتے رہے) یعنی وہ کفرو شرک کی دعوت دیتے رہے جس کا نتیجہ دوزخ میں جانا ہے (وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ لَا یُنْصَرُوْنَ ) (اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
قال اللہ تعالیٰ فلما قضی موسیٰ الاجل وسار باھلہ الی۔۔۔ ویوم القیمۃ ہم من المقبوحین۔
الغرض جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہ کر پوری مدت گزار دی یعنی دس برس تک بکریاں چرائیں اور دس برس تک ایک نبی کی صحبت میں رہے اور مجاہدہ اور ریاضت اور باطنی تربیت کی منزلیں طے ہوگئیں اور چالیس سال کی سن کو پہنچے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی زوجہ اور اہل خانہ کو لے کر مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اہل قرابت سے جا کر ملیں اور طور کے آس پاس پہنچے۔ رات کا وقت تھا اندھیری چھائی ہوئی تھی اور سخت سردی تھی۔ اتفاق سے راہ بھٹک گئے ایسے وقت میں طبعا آگ کی تلاش ہوتی ہے۔ کوہ…
Read the full tafseer →37:۔ فرعون کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں بعض لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت سے متاثر نہ ہوجائیں اس لیے اصل حقیقت پر پردہ اور ان کے دلوں میں شبہات ڈالنے کے لیے ازراہ خیر خواہی لوگوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا اے شرفاء قوم ! گذشتہ زمانے میں تو مجھے اپنی ذات کے سوا تمہارا کوئی معبود معلوم نہیں ہوسکا اگر کوئی ہوتا تو میں تمہیں ضرور بتاتا۔ اور اب میں اس کی مزید تحقیق کرتا ہوں۔ فاوقد لی یہامن علی الطین الخ ارے ہامان فورًا پختہ اینٹوں کی بھٹی چڑھاأ اور ایک بہت ہی بلند مقام پر نہایت اونچی رصد گہ تعمیر کرو تاکہ میں اس پر چڑھ کر دیکھوں موسیٰ کا خدا کہاں ہے جسے وہ رب العالمین کہتا ہے۔ مجھے تو موسیٰ کا یہ دعوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
ربط آیات
موسیٰ (علیہ السلام) اپنی اہلیہ اور ساز و سامان مدین سے مصر جا رہے تھے کہ راستے میں کوہ طور کی مقدس وادی سے گزر ہوا۔ اس مقام پر اللہ نے ان سے کلام کیا اور نبوت و رسالت عطا فرمائی اور ساتھ دو عظیم معجزات عصا اور ید بیضاء بھی عنایت کیے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو تبلیغ حق کا حکم ہوا ۔ انہوں نے اس راستے میں حائل مشکلات کا ذکر کیا تو اللہ نے یقین دلایا کہ فکر نہ کرو ، بالآخر تم ہی غالب رہو گے ۔ اللہ نے آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا اور فریضہ نبوت میں آپ کا ممدو معاون بنایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) حکم خداوندی کے مطابق مصر پہنچے اور آگے اپنے بھائی ہارون (علیہ…
Read the full tafseer →وَقَالَ فِرْعَوْنُ يٰٓاَيُّہَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرِيْ 0ۚ فَاَوْقِدْ لِيْ يٰہَامٰنُ عَلَي الطِّيْنِ فَاجْعَلْ لِّيْ صَرْحًا لَّعَلِّيْٓ اَطَّلِعُ اِلٰٓى اِلٰہِ مُوْسٰي 0ۙ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّہٗ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ 38
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
فِرْعَوْنُ
: اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–38
1 ؎ ذکر جاء اللہ فی معینین احدھما حقیقۃ وھو انہ لما قلب اللہ لعصاحیۃ فزع واضظرب فاتقاھا بیدہ کھا یفعل الخائف من الشئی فقیل ران اتقاءک بیدک فیہ نقصان تدرک عند الاحدار فان اتقیتہا فکما تنقلب حیۃ فادخل یدک تحت عضدف مکان اتقاءک بہاثم اخرجھا بیضاء لیحصل الامر ان اجتناب النقص و اظہار معجزہ اخری وثاینہما مجاز وھو ان یرد بفہم الجناح التجلد وضبط النفس حتی لا یضطرب فیکون استعارۃ من فعل الطائر لانہ اذا فاف ارخی جناجبہ والا ضمہما ومعنی الرہب من اجل الخوف (نیشا پوری)
Read the full tafseer →وَقَالَ فِرْعَوْنُ یٰٓـاَیُّھَا الْمَلَاُ مَاعَلِمْتُ لَـکُمْ مِّنْ اِلٰـہٍ غَیْرِیْ ج فَاَوْقِدْلِیْ یٰـہَا مٰـنُ عَلَی الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّـعَلِّیْٓ اَطَّلِعُ اِلٰٓی اِلٰـہِ مُوْسٰی وَاِنِّیْ لَاَظُنُّـہٗ مِنَ الْـکٰذِبِیْنَ ۔ (القصص : 38)
(اور فرعون نے کہا، اے اہل دربار ! میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔ تو اے ہامان میرے لیے گارے کو آگ دے (یعنی پختہ اینٹیں تیار کروا) پھر میرے لیے ایک اونچی عمارت بنا تاکہ میں موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں، میں تو اس کو جھوٹا آدمی خیال کرتا ہوں۔ )
فرعون کا استہزاء اور اس کے دعویٰ کا مفہوم
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب فرعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کے ظالمانہ رویہ کی انتہا۔
قرآن مجید کے دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل کے مقابلہ میں فرعون اپنے آپ کو بےبس محسوس کرنے لگا تو اس نے دیوانے کے بھڑ مارنے کی مانند بھڑ مارتے ہوئے اپنے وزیروں، مشیروں کو کہا کہ میں یہ بات کسی حال میں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ کہ میرے سوا بھی تمہارا کوئی الٰہ ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور بھڑ مارتے ہوئے اپنے دست راست وزیر ہامان کو کہا اے ہامان ! ملک بھر کے بھٹوں میں فی الفور پکی اینٹیں کثیر تعداد میں تیار کروائی ایک فلک بوس ٹ اور تیار کیا جائے۔ تاکہ بلند وبالا عمارت پر چڑھ کر دیکھوں کہ موسیٰ…
Read the full tafseer →38: وَقَالَ فِرْعَوْنُ یٰٓـاَ یُّہَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ (فرعون نے کہا اے سردارو ! مجھے اپنے سوا تمہارا کوئی معبود معلوم نہیں) ۔ نمبر 1۔ فرعون کا مقصد اپنے علاوہ کسی اور معبود کے متعلق علم کی نفی سے اس کے وجود کی نفی تھی۔ نمبر 2۔ یہ اپنے ظاہر پر ہے۔ کہ میرے علم میں اپنے سوا معبود نامعلوم ہے۔ فَاَوْ قِدْلِیْ یٰہَامٰنُ عَلَی الطِّیْنِ (اے ہامان تم میرے لئے مٹی پر آگ جلائو) پکی اینٹیں تیار کرائو۔ اس نے یہ اس بناء نہیں کہا کہ پہلے اس سے کسی نے اینٹ بنائی نہ تھی۔ در حقیقت وہ اس کو اس تعبیر سے صنعت سکھا رہا تھا اور یہ جباروں کی گفتگو کے مناسب ومشابہ ہے۔ کیونکہ ہامان…
Read the full tafseer →38۔ وقال فرعون یا ایھا الملاء ماعلمت لکم، ،، ،، ، اس مٹی کی میرے لیے اینٹیں بنواؤ بعضنے کہا کہ سب سے پہلے جس نے اینٹیں پکوائیں وہ فرعون ہی تھا۔ فاجعل لی صرحا، بلند محل محض نے کہ امنارہ تیارکرائیں۔ اہل تفسیر کا قول ہے کہ جب فرعون نے حکم دیا کہ اپنے وزیر ہامان کو میرے لیے محل تیار کرواؤ ہامان نے بکثرت راجوں اور مزدوروں کو جمع کیا یہاں تک کہ مزدوروں کے علاوہ پچاس ہزار معمار اکٹھے ہوگئے۔ اینٹیں پکارنے والے چونہ تیار کرنے والے ، لکڑی کا کام کرنے والے کیلیں بنانے والے اور دوسرے کارگزار انکے علاوہ چناچہ سب نے مل کر اتنی مضبوط اور اونچی عمارت بنائی کہ کسی شخص کی عمارت اتنی اونچی نہیں تھی اللہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
38 تا 40۔ جن مفسروں نے اپنی تفسیریں عقلی طور پر لکھی ہیں انہوں نے ان آیتوں کی تفسیر میں طرح طرح کی باتیں لکھی ہیں زمخشری نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس قول سے فرعون کا مطلب یہ تھا کہ وہ خدا کا منکر تھا قاضی بیضاوی نے لکھا ہے کہ نہیں فرعون کا مطلب یہ تھا کہ کسی دلیل سے خدا کا موجود ہونا اب تک اس کو معلوم نہیں ہو تھا اسی واسطے خدا کے موجود ہونے کا علم حاصل کرنے کے لیے اس نے آسمان تک جانے کے لیے وہ اونچی مینار بنائی تھی اگو وہ خدا کا منکر ہوتا تو پھر مینار کیوں بنواتا اور اس طرح کی عقلی بحثیں اور تفسیروں میں بھی ہیں لیکن قرآن شریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون دہر یہ تھا۔ اور خدا کا منکر تھا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–54
شعراء کی دو اقسام
قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…
Read the full tafseer →50 فرعونی ذہنیت کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے نور ایمان سے محروم فرعونی ذہنیت کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے اور اس سے فرعون کے استہزاء اور نور ایمان سے محروم لوگوں کی مادہ پرستانہ ذہنیت کا ایک مظہر اور نمونہ سامنے آتا ہے کہ ایسے لوگ کتنے اندھے اور کس قدر اوندھے اور بدبخت ہوتے ہیں۔ سو اس طرح اس بدبخت نے حق کے ساتھ استہزاء اور اپنی مادہ پرستانہ ذہنیت اور حماقت و سفاہت کا ایک اور ثبوت پیش کیا۔ سو یہی ہے منکرین حق مادہ پرستوں کی وہ مادہ پرستانہ ذہنیت جو آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے کے اس زمانے میں پائی جاتی تھی۔ اور یہی آج بھی جوں کی توں موجود ہے۔ اس میں انگشت کے برابر نہ فرق آیا نہ کمی واقع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–46
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
آیات 29 تا 46
اسرارومعارف
چنانچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عرصہ پورا کردیا جس کا وعدہ فرمایا تھا تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس مصر کو روانہ ہوئے کہ گھر والوں سے بچھڑے ہوئے دس سال بیت چکے تھے روایات کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس پورے کیے۔ راستے میں رات ہوگئی موسم بھی سرد تھا تو کوہ طور پر جو آپ کی راہ کے ساتھ پڑتا تھا روشنی دیکھی جیسے کسی نے آگ روشن کی ہو۔ تو اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ آپ لوگ یہاں انتظار کریں میں وہاں جاتا ہوں ممکن ہے کوئی راستے کے بارے خبر وہاں سے مل جائے کہ لگتا ہے کہ ہم راستہ بھول رہے ہیں اور آگ بھی لیتا آؤں گا یہاں جلا کر…
Read the full tafseer →4 ۔ شاہ صاحب (رح) نے یہاں ” الہ “ (خدا) کا ترجمہ ” حاکم “ کیا ہے اور یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ فرعون اپنے آپ کو ارض و سماکا خالق اور معبود نہیں سمجھتا تھا بلکہ وہ خود بہت سے دیوتائوں کی پرستش کرتا تھا۔ ( سورة اعراف :127) پس فرعون کا مطلب یہ ہے کہ میں ہی تمہارا مطاع اور حاکم مطلق ہوں۔ میرے سوا کوئی دوسرا ایسا نہیں ہوسکتا جس کی فرمانبرداری کی جائے۔ 5 ۔ جو یہ کہتا ہے کہ میرا خدا آسمان پر ہے فرعون نے جس ذہنیت کا مظاہرہ کیا، ہر دور میں خدا کے منکر ایسی باتیں کھلتے آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(28:38) اوقد۔ فعل امر واحد مذکر تو آگ جلا۔ تو آگ سلگا۔ تو آگ روشن کر۔ ایقاد افعال مصدر وقود۔ ایندھن کی لکڑیاں۔ یہاں مراد یہ ہے کہ اے ہامان میرے لئے مٹی پر آگ جلاؤ اور اینٹیں پکاؤ۔
صرحا لعلی : صرحا۔ بلند، منقش و مزین مکان (جو ہر عیب سے پاک ہو) اس لئے لبن صریح خالص دودھ کو کہتے ہیں جس میں پانی کی ملاوٹ نہ ہو۔ لعلی۔ تاکہ میں۔ شاید کہ میں لعل حرف مشبہ بفعل ی ضمیر واحد متکلم اس کا اسم ۔
اطلع الی : اصعد الی۔ میں چڑھ جاؤں (موسی کے خدا کی طرف) یعنی اوپر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کو دیکھوں۔ اطلع یطلع اطلاع (افتعال) سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر متکلم۔ میں جھانکوں۔ میں اطلاع پاؤں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 42 :
مفتری (گھڑا گیا۔ بنایا گیا) ‘ ماسمعنا (ہم نے نہیں سنا) ‘ عاقبۃ الدار (آخرت کا گھر) اوقد ( بھڑکادے۔ جلادے) الطین (مٹی۔ گارا) ‘ صرح ( بلند محل۔ اونچی بلڈنگ) ‘ اطلع (میں جھانکتا ہوں) نبذنا ( ہم نے پھینک دیا) ‘ المقبوحین ( بد حال لوگ) ۔
تشریح : آیت نمبر 36 تا 42 :
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کھلی نشانیوں یعنی معجزات کے ساتھ فرعون کے بھرے دربار میں پہنچے تو معجزات کو دیکھ کر فرعون کہنے لگا کہ یہ معجزات نہیں ہیں بلکہ خود سے گھڑا ہواوہ جادو ہے جس کے ذریعہ وہ لوگوں کے دل جیتنا چاہتا ہے۔ حالانکہ ایسی باتیں ہم نے پہلے تو کبھی بھی نہ دیکھیں نہ سنیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
فرعون کے غرق ہونے کا ذکر۔
(ف 2) قرآن شریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون دہریہ اور خدا کا منکر تھا اور گمراہی کے سبب سے اپنے آپ کو خدا کہلواتا تھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کا ذکر کیا تو اس نے صاف کہہ دیا کہ میرے سوا کوئی دوسراخدا تم قرار دو گے تو تم کو قید کردوں گا، اس صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ملعون دہریہ اس قدر خدا کا منکر تھا کہ خدا کے نام لینے والے کو قید کے قابل مجرم گنتا تھا، اس لیے اس نے اپنے تمام اراکین کو جمع کرکے دھنڈ اور پٹوایا تھا کہ فرعون سب کا خدا ہے چناچہ اس ڈھنڈورے کا ذکر سورة والنازعات میں آئے گا، رسول اللہ نے فرمایا فرعون نے دو باتیں کہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ سوا اپنے اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
[19] یہاں فرعون نے اپنے لئے اِلٰہ کا لفظ یعنی خالق و معبود نہیں بلکہ حاکم مطلق استعمال کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سرزمین مصر کا مالک میں ہوں اور یہاں میرا حکم چلے گا۔ یہ موسیٰ کون ہے جو اس طرح کے احکام سنا رہا ہے کہ گویا اصل حاکم وہ ہے۔ یہ واضح رہے کہ فرعون خود بہت سے دیوتاؤں کا پرستار تھا جیسا کہ سورة اعراف کی آیت 127 سے ظاہر ہے۔ لہذا اِلَہ کا مفہوم اس کے نزدیک وہی تھا جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →حق وصداقت کا ایک انوکھا معیار
1: ان آیات میں اس بات کا ذکر ہے ۔ کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب خوشخبریوں اور معجزوں سے مسلح ہوکر فرعون کے پاس پہنچے ۔ تو انہوں نے کہا ۔ کہ یہ سب جادو اور کرشمہ سازی ہے ۔ اور یہ تمہارا پیغام توحید وتجرید تو ہماری سمجھ میں آتا نہیں ۔ ہم نے کبھی اپنے باپ دادا سے اس قسم کی باتیں نہیں سنیں ۔ گویا حق وصداقت کا یہ بھی ایک معیار ہے ۔ کہ فرعون کے باپ دادا یا اس کے اکابر اس سے آشنا ہوں حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ قدیم اعتراض ہے ۔ جو اہل نصروعصیان کی جانب سے ہمیشہ پیش کیا جاتا رہا ہے چناچہ جب بھی اللہ کے پیغمبروں اور رسول آئے ۔ اور انہوں نے لوگوں کو راہ راست کی جانب بلایا تو انہوں نے…
Read the full tafseer →38۔ اور فرعون نے اپنے مشیروں اور سرداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا اے اہل دربار میں تو سوائے اپنے تمہارے لئے کسی اور معبود کو جانتا نہیں پھر اپنے وزیر ہامان کو حکم دیا اے ہامان ! تو میرے لئے مٹی کی کچی انیٹوں کو آگ میں پکوا کر ان پکی اور پختہ اینٹوں سے میرے لئے ایک محل اور بلند عمارت بنوا تا کہ میں ذرا موسیٰ (علیہ السلام) کے معبود کی ٹوہ لگائوں اور دیکھ بھال کروں اور میں موسیٰ (علیہ السلام) کے رب کو جھانک کر دیکھ لوں اور میں تو موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں اور میری اٹل میں تو وہ موسیٰ (علیہ السلام) جھوٹا ہے۔
یعنی فرعون کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ اہل دربار موسیٰ (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
ف 1۔ لعنت پیچھے لگا دینے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو ظالموں کافروں وغیرہم پر لعنت کرتا ہے چونکہ وہ لوگ بھی ایسے ہی تھے ان پر بھی پڑتی ہے۔
2۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ فرعون کے ساتھ ختم ہوا۔ آگے اس قصہ کے اعظم مقاصد یعنی اثبات رسالت محمدیہ ﷺ کا مضمون مذکور ہے، مع جواب بعض شبہات کفار، اور تمہید کے لئے تصریح رسالت موسویہ کی ارشاد ہے۔
Read the full tafseer →فرعون نے اپنے درباریوں سے پوچھا کہ کیا تم میرے سوا اپنا کوئی الہ جانتے ہو ؟ :
38۔ خناس لوگوں کی فطرت بھی بڑی عجیب واقع ہوئی ہے کہ جب کسی بات کا جواب بھی بن نہ آئے اور اس کی بات کی تصدیق بھی کرنے کو جی نہ چاہے تو ایسے وقت میں یہ خرانٹ اور خناس قسم کے لوگ کیا کرتے ہیں کہ جس سے مخاطب ہو کر بات کی جا رہی ہو اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو مخاطب کرلیتے ہیں ‘ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس کا جواب خود سوچ لو تمہارا تعلق جس طبقہ سے بھی ہے فطرت انشاء اللہ جواب صحیح دے گی ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب فرعون کے بھرے دربار میں رب العالمین کا ذکر کیا تو اسے سخت ناگوار گزرا اس نے اپنے وزراء اور رؤساء مملکت کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
Commentary
فَأَوْقِدْ لِي يَا هَامَانُ عَلَى الطِّينِ (So kindle for me, 0 Haman, a fire on the clay (to bake bricks) - 28:38). When the Pharaoh planned to build a very tall palace for himself, he asked his minister Haman to get the bricks baked properly first, because half baked bricks could not take the load of a tall building. Some people have observed that the Pharaoh was the first one to have tough bricks baked for the buildings, as no one had used them before. Historical narrations have recorded that Haman had collected fifty thousand masons for building this palace. Skilled labour,…
Read the full tafseer →52 By this Pharaoh did not, and could not, mean that he was the creator of his people and the earth and the heavens, for such a thing be uttered only by a madman. Likewise; he also did not mean that they had no other deity besides him for the Egyptians worshipped many gods, and the Pharaoh himself had been made the incarnation of the sungod. The Qur'an testifies that the Pharaoh himself worshipped many gods: "The chiefs of Pharaoh's people said, `Will you leave Moses and his followers free to spread disorder in the land, and to discard you and your deities'?" (A1-A`raf: 127) Therefore,…
Read the full tafseer →