Explained with ayahs 36–37
فرعونی قوم کا رویہ
حضرت موسیٰ ؑ خلعت نبوت سے اور کلام الٰہی سے ممتاز ہو کر بحکم اللہ مصر میں پہنچے اور فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کی وحدت اور اپنی رسالت کی تلقین کے ساتھ ہی جو معجزے اللہ نے دئیے تھے انہیں دکھایا۔ سب کو مع فرعون کے یقین کامل ہوگیا کہ بیشک حضرت موسیٰ اللہ کے رسول ہیں۔ لیکن مدتوں کا غرور اور پرانا کفر سر اٹھائے بغیر نہ رہا اور زبانیں دل کے خلاف کر کے کہنے لگے یہ تو صرف مصنوعی جادو ہے۔ اب فرعونی اپنے دبدے اور قوت وطاقت سے حق کے مقابلے پر جم گئے اور اللہ کے نبیوں کا سامنا کرنے پر تل گئے اور کہنے لگے کبھی ہم نے تو نہیں سنا کہ اللہ ایک ہے اور ہم تو کیا ہمارے اگلے باپ دادوں کے کان…
Read the full tafseer →سورة القصص 51
یعنی تو مجھے ساحر اور افترا پرداز قرار دیتا ہے، لیکن میرا رب میرے حال سے خوب واقف ہے، وہ جانتا ہے کہ جو شخص اس کی طرف سے رسول مقرر کیا گیا ہے وہ کیسا آدمی ہے۔ اور آخری انجام کا فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہے، میں جھوٹا ہوں تو میرا انجام برا ہوگا اور تو جھوٹا ہے تو پھر خوب جان لے کہ تیرا انجام اچھا نہیں ہے۔ بہرحال یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ ظالم کے لیے فلاح نہیں ہے، جو شخص خدا کا رسول نہ ہو اور جھوٹ موٹ کا رسول بن کر اپنا کوئی مفاد حاصل کرنا چاہے وہ بھی ظالم ہے اور فلاح سے محروم رہے گا، اور جو طرح طرح کے جھوٹے الزامات لگا کر سچے رسول کو جھٹلائے اور مکاریوں سے صداقت کو دبانا چاہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
خلاصہ تفسیر
غرض جب ان لوگوں کے پاس موسیٰ ؑ ہماری صریح دلیلیں لے کر آئے تو ان لوگوں نے (معجزات دیکھ کر) کہا کہ یہ تو محض ایک جادو ہے کہ (خواہ مخواہ اللہ تعالیٰ پر) افترا کیا جاتا ہے (کہ یہ اس کی جانب سے معجزات اور دلیل رسالت ہیں) اور ہم نے ایسی بات کبھی نہیں سنی کہ ہمارے اگلے باپ دادوں کے وقت میں بھی ہوئی ہو اور موسیٰ ؑ نے (اس کے جواب میں) فرمایا کہ (جب باوجود دلائل صحیحہ قائم ہونے کے اور اس میں کوئی شبہ معقول نہ نکال سکنے کے بعد بھی نہیں مانتے تو یہ ہٹ دھرمی ہے اور اس کا اخیر جواب یہی ہے کہ) میرا پروردگار اس شخص کو خوب جانتا ہے جو صحیح دین اس کے پاس سے لے کر آیا ہے اور جس کا انجام (یعنی…
Read the full tafseer →مستقبل سے متعلق حضرت موسیٰ کا چیلنج
یہ مستقبل سے متعلق حضرت موسیٰ کا ان کو چیلنج ہے کہ تم لوگ مجھے مفتری قرار دے رہے ہو تو میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے پاس سے ہدایت لے کر آیا ہے اور کون لوگ جانتے بوجھتے اس کو جھٹلا رہے ہیں ! کن کو انجام کار کی کامیابی حاصل ہونے والی ہے اور کون مغلوب و مامراد ہونے والے ہیں ؟ دوسرے الفاظ میں یوں کہیے کہ حضرت موسیٰ نے نہایت بلیغ اور شائستہ اسلوب میں یہ اعلان فرما دیا کہ میں اور میرے ساتھی انشاء اللہ غالب و فتحمند رہیں گے اور تم لوگ ذلیل و خوار ہو کر رہو گے۔
یعنی یہ حقیقت بہرحال اپنی جگہ پر اٹل ہے کہ جو لوگ خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت کی تکذیب کریں گے وہ اپنی…
Read the full tafseer →37-1یعنی مجھ سے اور تم سے زیادہ ہدایت کا جاننے والا اللہ ہے، اس لئے جو بات اللہ کی طرف سے آئے گی، وہ صحیح ہوگی یا تمہارے اور تمہارے باپ دادوں کی۔
37-2اچھے انجام سے مراد آخرت میں اللہ کی رضامندی اور اس کی رحمت و مغفرت کا مستحق قرار پا جانا ہے اور یہ استحقاق صرف اہل توحید کے حصے میں آئے گا
37-3ظالم سے مراد مشرک اور کافر ہیں، کیونکہ ظلم کے معنی ہیں۔ وضع الشئ فی غیر محلہ کسی چیز کو اسکے اصل مقام سے ہٹا کر کسی اور جگہ رکھ دینا۔ مشرک بھی چونکہ الوہیت کے مقام پر ایسے لوگوں کو بٹھا دیتے ہیں جو اس کے مستحق نہیں ہوتے۔ اسی طرح کافر بھی رب کے اصل مقام سے ناآشنا ہی رہتے ہیں۔ اس لئے یہ لوگ سب سے بڑے ظالم…
Read the full tafseer →23: ٹھکانے سے مراد دنیا بھی ہوسکتی ہے کہ دنیا میں اچھا انجام کس کا ہوگا کہ خاتمہ بخیر ہو، اور آخرت بھی مراد ہوسکتی ہے کہ آخرت میں انجام بہتر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویوم القیمۃ ھم من المقبوحین (36 – 42)
یہاں قرآن کریم نے نہایت ہی جلدی میں فرعون کا انجام بتا دیا اور ایک فیصلہ کن دار کے نتیجے میں اس کا کام تمام ہوگیا۔
یہاں جادوگروں کے مقابلے کو حذف کردیا گیا ہے جبکہ دوسری سورتوں میں بعض جگہ اجمال اور بعض جگہ تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے۔ یہ کڑی یہاں اس لیے حذف کردی گئی ہے کہ تکذہب کے بعد جلد ہی ہلاکت کا منظر پیش کردیا جائے ۔ اور نہ صرف یہ کہ دنیاوی عذاب کا ذکر ہو بلکہ آخرت کے عذاب کی ایک جھلک بھی دکھا دی جائے۔ اختصار اور جدلی کے ساتھ بات کو انجام پہنچانا اس سورت میں مقصود بالذات ہے۔ کیونکہ پوری سورت کا انداز یوں ہی ہے۔ اس…
Read the full tafseer →2 یعنی خدا خوب جانتا ہے کہ میں اپنے دعوے میں سچا ہوں اور اسی کے پاس سے ہدایت لایا ہوں اس لیے انجام میرا ہی بہتر ہوگا۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی کھلی نشانیاں دیکھ کر اور دلائل صداقت سن کر ناانصافی سے حق کو جھٹلاتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوسکتے۔ انجام کار ان کو ذلت و ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
آیت 38 وَقَالَ فِرْعَوْنُ یٰٓاَیُّہَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ ج ”
اس ملک میں میری حکومت ہے اور یہاں صرف میرا حکم چلتا ہے۔ چناچہ میں اپنے علاوہ کسی اور کو تمہار 1 ”الٰہ“ یا ”رب“ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔
فَاَوْقِدْ لِیْ یٰہَامٰنُ عَلَی الطِّیْنِ ”
یعنی گارے سے اینٹیں بنا کر انہیں بھٹے میں پکانے کا بندوبست کرو۔
فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْٓ اَطَّلِعُ الآی اِلٰہِ مُوْسٰیلا ”
موسیٰ جس الٰہ کی بات کرتا ہے ‘ میں اس اونچی عمارت پر چڑھ کر آسمانوں میں جھانک کر اس الٰہ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔
Read the full tafseer →48 یعنی تم نے مجھے ایک جادوگر سمجھا ہے حالانکہ میرا پروردگار میرے حال سے خوب واقف ہے کہ ہر شخص کے کاموں کے انجام کا فیصلہ بھی اسی کے ہاتھ میں ہے بہرحال ایک بات تو یقینی ہے اور وہ یہ ہے کہ ظالم اور بےانصاف لوگ کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔ اگر میں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرکے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا الزام لگا دیا ہے تو میرا انجام کبھی بخیر نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح اگر میں اللہ کی طرف سچا رسول ہوں اور تم مجھے جادوگر کہہ کر دوسرے حیلے بہانوں سے مجھے جھٹلاؤ گے تو تمہارا بھی کبھی انجام بخیر نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →50۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے منکروں کی ہٹ دھرمی دیکھ کر آخر میں عاجز آکرکہا کہ خیر آج میری نہیں سنتے ہو تو نہ سنو اللہ کو تو خوب معلوم ہے کہ راہ ہدایت پر کون ہے اور ظالم کون ؟ عاقبت بخیر کس کی ہونا ہے اور محروم الفلاح کون ؟ (آیت) ” عاقبۃ الدار “۔ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ العاقبۃ المحمودۃ فی الدار الاخرۃ (جلالین)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
آیت نمبر 33 تا 42
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھ سے ان کے ایک شخص کا خون ہوگیا تھا اور وہی وہی سابق قبطی تھا مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس کے عوض میں مجھے بھی قتل کر ڈالیں اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے تو اسے بھی (میرا) معاون بنا کر بھیج دیجئے ایک قرأۃ میں ردًا دال کے فتحہ کے ساتھ بغیر ہمزہ کے ہے وہ میری تائید کریں گے یُصَدِّقُنِیْ جزم کے ساتھ جواب دعاء (ارسِلْہٗ کا) اور ایک قرأۃ قاف کے رفع کے ساتھ جملہ ہو کر ردءًا کی صفت ہونے کی وجہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں، ارشاد ہوا ہم ابھی تمہارے بھائی کو تمہارا قوت بازو بنائے دیتے ہیں (یعنی)…
Read the full tafseer →وقال موسیٰ ربی اعلم بمن جآء بالھدی من عندہ . اور موسیٰ نے کہا : میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو اس کے پاس سے ہدایت (دین صحیح) لے کر آیا ہے۔
پس وہی جانتا ہے کہ میں حق پر ہوں اور تم لوگ باطل پرست ہو۔ وضوح آیات کے بعد حق کا انکار کرتے ہو باوجودیکہ تم دلوں سے اس پر یقین رکھتے ہو مگر غلط طور پر زبانوں سے انکار کرتے ہو۔
ومن تکون لہ عاقبۃ الدار انہ لا یفلح الظلمون . اور اس کو جس کا انجام اچھا ہوگا۔ بلاشبہ ظالم کامیاب نہیں ہوں گے۔
عَاقِبَۃُ الدَّار یعنی دار آخرت میں اچھا انجام۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ الدَّار سے دنیا مراد ہے اور اس کا اصلی انجام جنت ہے کیونکہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اصل مقصد ثواب ہی ہے اور…
Read the full tafseer →(37) حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ میرا پروردگار اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے رسالت و توحید لے کر آیا ہے اور جس کو آخرت میں جنت ملنے والی ہو، اور مشرکین کو عذاب خداوندی سے کبھی نجات نہیں ملے گی ،
Read the full tafseer →وَقَالَ مُوْسٰي رَبِّيْٓ اَعْلَمُ بِمَنْ جَاۗءَ بالْهُدٰى۔۔ : مفسرین کہتے ہیں کہ بظاہر فرعون کی بات نقل کرنے کے بعد موسیٰ ؑ کی بات نقل کرنے کے لیے ”قال“ ہی کافی تھا، ”واؤ“ کی ضرورت نہ تھی، مگر دونوں کی بات کا موازنہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ”واؤ“ کا ذکر کیا کہ فرعون نے یہ کہا اور موسیٰ ؑ نے یہ کہا۔
3 موسیٰ ؑ کا یہ کلام اللہ تعالیٰ کی اس تلقین پر عمل کا ایک خوب صورت نمونہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرعون کی طرف بھیجتے ہوئے کی تھی، فرمایا : (فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى) [ طٰہٰ : 44 ] ”پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرلے، یا ڈر…
Read the full tafseer →وقال موسیٰ عام قرأت وائو کے ساتھ ہے۔ مجاہد، ابن کثیر اور ابن محیصن نے وائو کے بغیر قال قرأت کی ہے اہل مکہ کے مصحف میں یہ اس طرح ہے ربی اعلم بمن جآء بالھدی، ھدی سے مراد ارشاد ہے۔ من عندہ ومن تکون لہ عاصم کے ملاوہ کوفہ کے قراء نے یکون یاء کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے عاقبۃ الذار یعنی دار جزا انہ ہاء ضمیر امرو شان ہے لایفلح الظلمون ظالم فلاح نہیں پائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت ولی مدبرا سے لے کر آیت من الرھب کے بارے میں فرمایا کہ یہ تقدیم قرآن میں سے ہے۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واضمم الیک جناحک میں جناحک سے مراد ہے اپنا ہاتھ۔
3۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واضمم الیک جناحک یعنی اپنے ہاتھ کو اپنے بازو کے نیچے کرلو آیت من الرہب یعنی خوف سے آیت فذنک برہانٰن (یعنی یہ دو دلیلیں ہیں) لاٹھی اور ہاتھ آیت ردأ یعنی مددگار آیت ونجعل لکما سلطنا تاکہ ہم بتادیں تمہارے لیے ایک حجت
4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والم یعقب…
Read the full tafseer →وَقَالَ [اور کہا ] مُوْسٰي [موسیٰ (علیہ السلام) نے ] رَبِّيْٓ [میرا رب ] اَعْلَمُ [سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] [بِمَنْ : اس کو جو ] جَاۗءَ بِالْهُدٰى [ہدایت لایا ] مِنْ عِنْدِهٖ [اس کے پاس سے ] وَمَنْ [اور اس کو (بھی)] تَكُوْنُ [ہوگا ] لَهٗ [جس کے لئے ] عَاقِبَةُ الدَّارِ ۭ [اس (آخری) گھر کا انجام ] اِنَّهٗ [حقیقت یہ ہے کہ ] لَا يُفْلِحُ [فلاح نہیں پاتے ] الظّٰلِمُوْنَ [ظلم کرنے والے لوگ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
(وَ جَعَلْنٰھُمْ اَءِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ ) (اور ہم نے انہیں پیشوا بنا دیا جو دوزخ کی طرف بلاتے رہے) یعنی وہ کفرو شرک کی دعوت دیتے رہے جس کا نتیجہ دوزخ میں جانا ہے (وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ لَا یُنْصَرُوْنَ ) (اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
قال اللہ تعالیٰ فلما قضی موسیٰ الاجل وسار باھلہ الی۔۔۔ ویوم القیمۃ ہم من المقبوحین۔
الغرض جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہ کر پوری مدت گزار دی یعنی دس برس تک بکریاں چرائیں اور دس برس تک ایک نبی کی صحبت میں رہے اور مجاہدہ اور ریاضت اور باطنی تربیت کی منزلیں طے ہوگئیں اور چالیس سال کی سن کو پہنچے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی زوجہ اور اہل خانہ کو لے کر مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اہل قرابت سے جا کر ملیں اور طور کے آس پاس پہنچے۔ رات کا وقت تھا اندھیری چھائی ہوئی تھی اور سخت سردی تھی۔ اتفاق سے راہ بھٹک گئے ایسے وقت میں طبعا آگ کی تلاش ہوتی ہے۔ کوہ…
Read the full tafseer →36:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انکے جواب میں فرمایا جسے اللہ تعالیٰ نے رسالت و نبوت کا اہل سمجھ کر ہدایت کا پیغام دے کر بھیجا ہے اور جسے اس نے حسن عاقبت کا وعدہ دیا ہے اللہ اسے تم سے زیادہ جانتا ہے۔ اگر وہ ساحر و مفتری ہوتا جیسا کہ تمہارا خیال ہے تو وہ اسے منصب نبوت پر فائز نہ فرماتا کیونکہ ایسے مفتری اس کے نزدیک فوز و فلاح کے مستحق نہیں (روح و مدارک) ۔ امر ثالث یعنی قل ربی اعلم من جاء بالہدی الخ اس پر متفرع ہے۔ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا تھا ایسا ہی جواب دینے کاحضور ﷺ کو حکم دیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
ربط آیات
موسیٰ (علیہ السلام) اپنی اہلیہ اور ساز و سامان مدین سے مصر جا رہے تھے کہ راستے میں کوہ طور کی مقدس وادی سے گزر ہوا۔ اس مقام پر اللہ نے ان سے کلام کیا اور نبوت و رسالت عطا فرمائی اور ساتھ دو عظیم معجزات عصا اور ید بیضاء بھی عنایت کیے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو تبلیغ حق کا حکم ہوا ۔ انہوں نے اس راستے میں حائل مشکلات کا ذکر کیا تو اللہ نے یقین دلایا کہ فکر نہ کرو ، بالآخر تم ہی غالب رہو گے ۔ اللہ نے آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا اور فریضہ نبوت میں آپ کا ممدو معاون بنایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) حکم خداوندی کے مطابق مصر پہنچے اور آگے اپنے بھائی ہارون (علیہ…
Read the full tafseer →وَقَالَ مُوْسٰي رَبِّيْٓ اَعْلَمُ بِمَنْ جَاۗءَ بِالْہُدٰى مِنْ عِنْدِہٖ وَمَنْ تَكُوْنُ لَہٗ عَاقِبَۃُ الدَّارِ 0ۭ اِنَّہٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ 37
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–38
1 ؎ ذکر جاء اللہ فی معینین احدھما حقیقۃ وھو انہ لما قلب اللہ لعصاحیۃ فزع واضظرب فاتقاھا بیدہ کھا یفعل الخائف من الشئی فقیل ران اتقاءک بیدک فیہ نقصان تدرک عند الاحدار فان اتقیتہا فکما تنقلب حیۃ فادخل یدک تحت عضدف مکان اتقاءک بہاثم اخرجھا بیضاء لیحصل الامر ان اجتناب النقص و اظہار معجزہ اخری وثاینہما مجاز وھو ان یرد بفہم الجناح التجلد وضبط النفس حتی لا یضطرب فیکون استعارۃ من فعل الطائر لانہ اذا فاف ارخی جناجبہ والا ضمہما ومعنی الرہب من اجل الخوف (نیشا پوری)
Read the full tafseer →وَقَالَ مُوْسٰی رَبِّیْٓ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآئَ بِالْھُدٰی مِنْ عِنْدِہٖ وَمَنْ تَـکُوْنُ لَـہٗ عَاقِـبَۃُ الدَّارِ ط اِنَّـہٗ لاَ یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (القصص : 37)
(اور موسیٰ نے کہا میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو اس کی طرف سے ہدایت لے کے آیا اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کا اچھا ہونا ہے، بیشک ظالم ہرگز فلاح پانے والے نہیں۔ )
فرعون کی یا وہ گوئی کا جواب
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی الزام تراشی اور دریدہ دہنی کے جواب میں فرمایا کہ تم مجھے مفتری قرار دے رہے ہو اور مجھے عطا کیے جانے والے معجزات کو جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی قرار دیتے ہو۔ میرا رب خوب جانتا ہے کہ میں کس حیثیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ضمانت اور عطا کیے ہوئے معجزات کی وجہ سے فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی جرأت نہ کرسکا۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سفر کے دوران دو عظیم معجزات عنایت فرمائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے معجزات ملنے کے بعد اپنے رب کے حضور دو التجائیں پیش کیں : بارِ الٰہ ! میرے بھائی ہارون کو میر اپشتی بان بنا اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی دونوں گزارشات منطور کرلی گئیں۔ مصر واپس آکر موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو لے کر۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ معجزات اور ٹھوس دلائل کے ساتھ فرعون اور اس کے حواریوں کے پاس…
Read the full tafseer →37: وَقَالَ مُوْسٰی رَبِّیْ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآئَ بِالْہُدٰی مِنْ عِنْدِہٖ وَمَنْ تَکُوْنُ لَہٗٗ عَاقِبَۃُ الدَّارِ اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ (اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا۔ میرا رب ان کو خوب جانتا ہے۔ جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا اور کس کے لئے آخرت کا انجام ہے بیشک وہ کافروں کو کامیابی نہیں دیتا) ۔ مطلب یہ ہے کہ میرا رب تم سے بڑھ کر واقف ہے۔ کہ کس کو اس نے عظیم فلاح کا اہل بنا کر نبوت سے سرفراز فرمانا اور ہدایت سے نواز نا ہے اور اس نے حسن عاقبت کا وعدہ کرلیا۔ یعنی میں موسیٰ اگر بقول تمہارے میں ساحر و مفتری ہوتا تو وہ مجھے نبوت کے اہل قرار نہ دیتے کیونکہ وہ بےنیاز اور حکمت والے…
Read the full tafseer →37۔ وقال موسی، ، مکی نے بغیر واؤ کے پڑھا ہے۔ اسی طرح ان کے مصاحف میں بھی مذکور ہے۔ ربی اعلم بمن جاء بالھدی من عندہ، ، وہی جانتا ہے کہ میں حق پر ہوں اور تم لوگ باطل پرست۔ ومن تکون لہ عاقبۃ الدار۔ آخرت میں اچھا گھر، انہ لایفلح الظالمون، ظالم سے مراد کافر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
36۔ 37 جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس معجزات لے کر گئے تو انہوں نے سرکشی کی راہ سے ان معجزات کو یہ کہا کہ یہ جادو جوڑا ہوا ہے اور ہم نے اپنے باپ دادا سے کبھی یہ نہیں سنا کہ فرعون کے سوا اور کوئی خدا ہے اسی کی عبادت چاہیے ہم نے تو یہی بات ہیمشہ دیکھی کہ لوگ فرعون کو خدا جانتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میرا پروردگار ایسے شخص کی عقبے کی بہتری کو خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لایا یہ یاد رہے کہ مشرک لوگ جو بڑے ظالم ہیں کبھی فلاح نہ پاویں گے میرے تمہارے درمیان میں پروردگار جلد فیصلہ کرے گا۔ یہ اوپر ایک جگہ گزچکا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–54
شعراء کی دو اقسام
قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…
Read the full tafseer →49 ظالم کبھی فلاح نہیں پاسکتے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک ظالم کبھی فلاح نہیں پاس کیں گے۔ سو حضرت موسیٰ نے ان کے جواب میں اور ان کے لیے چیلنج کے انداز میں فرمایا کہ تم لوگ مجھے مفتری قرار دے رہے ہو تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے یہاں سے ہدایت لے کر آیا اور کون جھوٹا اور مفتری ہے۔ اور یہ کہ انجام کار کامیابی کس کو حاصل ہونے والی ہے اور کون ناکام و نامراد ہوگا ؟ سو حضرت موسیٰ نے اپنے اس جواب میں ایک بڑے بلیغ انداز اور شستہ اسلوب میں ان لوگوں کے سامنے اس حقیقت کو واضح فرما دیا کہ میں اور میرے ساتھی ہی انشاء اللہ غالب اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–46
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
آیات 29 تا 46
اسرارومعارف
چنانچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عرصہ پورا کردیا جس کا وعدہ فرمایا تھا تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس مصر کو روانہ ہوئے کہ گھر والوں سے بچھڑے ہوئے دس سال بیت چکے تھے روایات کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس پورے کیے۔ راستے میں رات ہوگئی موسم بھی سرد تھا تو کوہ طور پر جو آپ کی راہ کے ساتھ پڑتا تھا روشنی دیکھی جیسے کسی نے آگ روشن کی ہو۔ تو اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ آپ لوگ یہاں انتظار کریں میں وہاں جاتا ہوں ممکن ہے کوئی راستے کے بارے خبر وہاں سے مل جائے کہ لگتا ہے کہ ہم راستہ بھول رہے ہیں اور آگ بھی لیتا آؤں گا یہاں جلا کر…
Read the full tafseer →3 ۔ مطلب یہ ہے کہ تم مجھے جھوٹا اور جادوگر قرار دے رہے ہو لیکن میرا رب میرے حال سے پوری طرح واقف ہے۔ اسے خوب معلوم ہے کہ جس شخص کو اس نے اپنا رسول بنایا ہے اور اس کے ذریعہ اپنی ہدایت بھیجی ہے وہ کس سم کا آدمی ہے۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو میرا انجام برا ہوگا اور اگر تم مجھے جھٹلا کر ظلم کر رہے ہو تو خوب سمجھ لو کہ ظالموں کا انجام کیا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →(28:37) عاقبۃ۔ انجام کار۔ اختتام۔ اخیر۔ الداری الدنیا۔ یہاں عاقبۃ سے مراد عاقبت محمود ہے یعنی کسی کی دنیاوی زندگی کا اخیر نہتر ہوتا ہے کہ اسے قیامت میں جنت نصیب ہو۔
انہ لایفلح الظلمون۔ میں انہ کی ضمیر ضمیر شان کی ہے ۔ اور شان یہ ہے کہ ظالم (کبھی) فلاح نہیں پاتے۔ بیشک بات یہ ہے کہ ظالم بامراد نہیں ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 42 :
مفتری (گھڑا گیا۔ بنایا گیا) ‘ ماسمعنا (ہم نے نہیں سنا) ‘ عاقبۃ الدار (آخرت کا گھر) اوقد ( بھڑکادے۔ جلادے) الطین (مٹی۔ گارا) ‘ صرح ( بلند محل۔ اونچی بلڈنگ) ‘ اطلع (میں جھانکتا ہوں) نبذنا ( ہم نے پھینک دیا) ‘ المقبوحین ( بد حال لوگ) ۔
تشریح : آیت نمبر 36 تا 42 :
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کھلی نشانیوں یعنی معجزات کے ساتھ فرعون کے بھرے دربار میں پہنچے تو معجزات کو دیکھ کر فرعون کہنے لگا کہ یہ معجزات نہیں ہیں بلکہ خود سے گھڑا ہواوہ جادو ہے جس کے ذریعہ وہ لوگوں کے دل جیتنا چاہتا ہے۔ حالانکہ ایسی باتیں ہم نے پہلے تو کبھی بھی نہ دیکھیں نہ سنیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(ف 1) جب موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس معجزات لے کرگئے تو انہوں نے سرکشی کی راہ سے ان معجزات کو یہ کہا کہ یہ جادو بناوتی ہے اور ہم نے اپنے باپ دادا سے کبھی یہ نہیں سنا کہ فرعون کے سوا اور کوئی خدا ہے ہم نے تو یہ بات ہمیشہ دیکھی کہ لوگ فرعون کو خدا جانتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میرا پروردگار ایسے شخص کے عقبی کی بہتری کو خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لایا، یہ یاد رہے کہ مشرک لوگ کبھی فلاح نہ پائیں گے میرے اور تمہارے درمیان میں پروردگار جلد فیصلہ کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
[19] یہاں فرعون نے اپنے لئے اِلٰہ کا لفظ یعنی خالق و معبود نہیں بلکہ حاکم مطلق استعمال کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سرزمین مصر کا مالک میں ہوں اور یہاں میرا حکم چلے گا۔ یہ موسیٰ کون ہے جو اس طرح کے احکام سنا رہا ہے کہ گویا اصل حاکم وہ ہے۔ یہ واضح رہے کہ فرعون خود بہت سے دیوتاؤں کا پرستار تھا جیسا کہ سورة اعراف کی آیت 127 سے ظاہر ہے۔ لہذا اِلَہ کا مفہوم اس کے نزدیک وہی تھا جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
حل لغات :۔ عاقبۃ الدار ۔ حسن انجام سے تعبیر ہے ۔ مراد بہشت سے ہے صرحا ۔ محل
Read the full tafseer →37۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا میرا پروردگار اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے صحیح دین اور ہدایت و رہنمائی لیکر آتا ہے اور وہی اس کو بھی جانتا ہے جس کے حق میں اس عالم کا انجام بہتر اور اچھا ہونے والا ہے اور جس کی عاقبت محمود ہونیوالی ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ ظالم اور ناانصاف کبھی فلاح نہیں پاتے اور مقصد میں کامیاب نہیں ہوتے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ فرعونی ایک سیدھی سادھی اور معقول دلیل کو نہیں سمجھتے اور اس کو سحر و افترا اور ایک انوکھی نئی بات بتاتے ہیں تو انہوں نے فرمایا تم مانو یا نہ مانو جانو یا نہ جانو میرا پروردگار تو اس کو خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ف 3۔ مطلب یہ کہ خدا کو خوب معلوم ہے کہ ہم میں اور تم میں کون اہل ہدی ہے، اور کون ظالم، اور کون محمود العاقبت ہے، اور کون محروم عن الفلاح۔ پس ہر ایک کی حالت اور ثمرہ کا جلدی مرنے کے ساتھ ہی ظہور ہوجاوے گا۔
Read the full tafseer →فرعون کی باتوں کو سن کر موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت حوصلہ اور صفائی سے جواب دیا :
37۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ تو مجھے ساحر اور افتراء پرداز قرار دیتا ہے لیکن میرا پروردگار میرے حال سے خوب واقف ہے کہ اس نے جس آدمی کو رسول مقرر کیا ہے وہ کیسا آدمی ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخر انجام کس کا اچھا ہے یعنی جو نیک عمل کرے گا اس کا انجام بہتر ہوگا اور جو شخص اللہ کا مقرر کیا ہوا رسول نہ ہو محض رسول کا روپ دھار لے تو وہ ظالم ہے اور ظالموں کو کبھی فلاح نصیب نہیں ہوگی ۔ تفصیل اس کی سورة الحاقہ کی آیات 43 تا 47 میں ہوگی ۔ انشاء اللہ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
Commentary
فَأَوْقِدْ لِي يَا هَامَانُ عَلَى الطِّينِ (So kindle for me, 0 Haman, a fire on the clay (to bake bricks) - 28:38). When the Pharaoh planned to build a very tall palace for himself, he asked his minister Haman to get the bricks baked properly first, because half baked bricks could not take the load of a tall building. Some people have observed that the Pharaoh was the first one to have tough bricks baked for the buildings, as no one had used them before. Historical narrations have recorded that Haman had collected fifty thousand masons for building this palace. Skilled labour,…
Read the full tafseer →51 That is, "You think I am a magician and a forger, but my Lord is well aware of me. He knows what sort of a man is the person whom He has appointed as a Messenger; and the final judgement rests with Him. If I am a liar, I shall meet an evil end; and if you are a liar, you should know that your end will not be good. In any case, the inevitable fact is that the unjust will not attain true success. He who is not Allah's messenger but falsely presents himself as a messenger for selfish motives, is also unjust and will not attain success. And the one who rejects a true Messenger by false…
Read the full tafseer →