Al-Qasas 28:36

Al-Qasas · from ayah 36

28:36

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰی بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًی وَّمَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآىِٕنَا الْاَوَّلِیْنَ ۟فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ قَالُوۡا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَـرًى وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰذَا فِىۡۤ اٰبَآئِنَا الۡاَوَّلِيۡنَ

اور جب موسٰی اُن کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لےکر آئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ جادو ہے جو اُس نے بنا کھڑا کیا ہے اور یہ باتیں ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی) سنی نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But when Moses came to them with Our signs as clear evidences, they said, "This is not except invented magic, and we have not heard of this [religion] among our forefathers."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 4 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:36

پھر جب موسیٰؑ اُن لوگوں کے پاس ہماری کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر بناوٹی جادوگر اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سُنیں ہی نہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب موسٰی اُن کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لےکر آئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ جادو ہے جو اُس نے بنا کھڑا کیا ہے اور یہ باتیں ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی) سنی نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس جب ان کے پاس موسیٰ ؑ ہمارے دیے ہوئے کھلے معجزے لے کر پہنچے تو وه کہنے لگے یہ تو صرف گھڑا گھڑایا جادو ہے ہم نے اپنے اگلے باپ دادوں کے زمانہ میں کبھی یہ نہیں سنا

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ جب موسیٰ ان کے پاس ہماری کھلی ہوئی نشانیاں لے کر پہنچے تو انہوں نے کہا : یہ کچھ نہیں، بس بناوٹی جادو ہے، اور ہم نے یہ بات اپنے پچھلے باپ دادوں میں نہیں سنی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب موسیٰ ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں لایا بولے یہ تو نہیں مگر بناوٹ کا جادو اور ہم نے اپنے اگلے باپ داداؤں میں ایسا نہ سنا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب موسٰی ؑ ان کے پاس ہماری واضح اور روشن نشانیاں لے کر آئے تو وہ لوگ کہنے لگے کہ یہ تو مَن گھڑت جادو کے سوا (کچھ) نہیں ہے۔ اور ہم نے یہ باتیں اپنے پہلے آباء و اجداد میں (کبھی) نہیں سنی تھیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو جب موسیٰ ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انھوں نے کہا یہ تو ایک گھڑے ہوئے جادو کے سوا کچھ نہیں اور ہم نے یہ اپنے پہلے باپ دادا میں نہیں سنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب موسیٰ ہمارے واضح معجزات لے کر ان (فرعونیوں) کے پاس آجائے تو وہ کہنے لگے : یہ تو محض شعبدہ کی قسم کا جادو ہے اور ایسی باتیں تو ہم نے اپنے سابقہ باپ دادوں سے کبھی سنی ہی نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو جب موسیٰ ان کے پاس ہماری نہایت واضح نشانیوں کے ساتھ آیا تو انہوں نے کہا، یہ تو محض گھڑا ہوا جادو ہے اور ہم نے اس طرح کی باتیں اپنے اگلوں میں تو سنی نہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر جب پہنچ گئے موسیٰ ان لوگوں کے پاس ہماری کھلی نشانیوں کے ساتھ تو انہوں نے کہا کہ یہ تو محض ایک جادو ہے گھڑا گھڑایا اور یہ کچھ تو ہم نے اپنے اگلے باپ دادوں کے وقت میں بھی کبھی نہیں سنا

— مولانا اسحاق مدنی

پھر جب موسیٰ ؑ ان کے پاس ہمارے کھلے ہوئے نشان لے کر آئے۔ تو وہ بولے کہ یہ تو ایک بس گڑھا ہوا جادو ہے اور ہم نے ایسی بات اپنے اگلوں باپ دادوں کے وقت تو سنی نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو جب موسیٰ ؑ پہنچا ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں لے کر انہوں نے کہا کہ یہ کچھ بھی نہیں سوائے گھڑے ہوئے جادو کے اور ہم نے ایسی کوئی بات اپنے پہلے آباء و اَجداد میں نہیں سنی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب موسیٰ ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ کہنے لگے کہ ”یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کھڑا کیا ہے اور یہ باتیں ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو کبھی سنی نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But when Moses came to them with Our Clear Signs, they said: "This is nothing but a magic that has been contrived. We never heard anything like it from our ancestors of yore."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So when Musa came to them with Our clear signs, they said, :This is nothing but a forged magic, and we have never heard of such a thing happening in the days of our forefathers.

— Muhammad Taqi Usmani

So when Musa came to them with Our clear signs, they said, :This is nothing but a forged magic, and we have never heard of such a thing happening in the days of our forefathers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then when Musa came to them with Our Clear Ayat, they said: "This is nothing but invented magic. Never did we hear of this among our fathers of old."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But when Moses came unto them with Our clear tokens, they said: This is naught but invented magic. We never heard of this among our fathers of old.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But when Moses came to them with Our signs as clear evidences, they said, "This is not except invented magic, and we have not heard of this [religion] among our forefathers."

— Saheeh International

When Moses came to them with Our miracles, they said, "These are only invented magic. We have never heard of such things from our fathers".

— Muhammad Sarwar

So when Musa came to them with Our clear signs, they said: This is nothing but forged enchantment, and we never heard of it amongst our fathers of old.

— Muhammad Habib Shakir

Then when Musa came unto them with Our manifest signs, they said: this is naught but magic fabricated; and we heard not of this among our fathers of old.

— Abdul Majid Daryabadi

When Moses came to them with Our clear signs, they said: "This is nothing but sorcery faked up: never did we head the like among our fathers of old!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:36

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–37

فرعونی قوم کا رویہ حضرت موسیٰ ؑ خلعت نبوت سے اور کلام الٰہی سے ممتاز ہو کر بحکم اللہ مصر میں پہنچے اور فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کی وحدت اور اپنی رسالت کی تلقین کے ساتھ ہی جو معجزے اللہ نے دئیے تھے انہیں دکھایا۔ سب کو مع فرعون کے یقین کامل ہوگیا کہ بیشک حضرت موسیٰ اللہ کے رسول ہیں۔ لیکن مدتوں کا غرور اور پرانا کفر سر اٹھائے بغیر نہ رہا اور زبانیں دل کے خلاف کر کے کہنے لگے یہ تو صرف مصنوعی جادو ہے۔ اب فرعونی اپنے دبدے اور قوت وطاقت سے حق کے مقابلے پر جم گئے اور اللہ کے نبیوں کا سامنا کرنے پر تل گئے اور کہنے لگے کبھی ہم نے تو نہیں سنا کہ اللہ ایک ہے اور ہم تو کیا ہمارے اگلے باپ دادوں کے کان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القصص 49 اصل الفاظ ہیں سِحْرٌ مُّفْتَرًى " افترا کیا ہوا جادو "۔ اس افترا کو جھوٹ کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ لاٹھی کا اژدھا بننا اور ہاتھ کا چمک اٹھنا، نفس شے میں حقیقی تغیر نہیں ہے بلکہ محض ایک نمائشی شعبدہ ہے جسے یہ شخص معجزہ کہہ کر ہمیں دھوکا دے رہا ہے۔ اور اگر اسے بناوٹ کے معنی میں لیا جائے تو مراد یہ ہوگی کہ یہ شخص کسی کرتب سے ایک ایسی چیز بنا لایا ہے جو دیکھنے میں لاٹھی معلوم ہوتی ہے مگر جب یہ اسے پھینک دیتا ہے تو سانپ نظر آنے لگتی ہے، اور اپنے ہاتھ پر بھی اس نے کوئی ایسی چیز مل لی ہے کہ اس کی بغل سے نکلنے کے بعد وہ یکایک چمک اٹھتا ہے، یہ مصنوعی طلسم اس نے خود تیار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–37

خلاصہ تفسیر غرض جب ان لوگوں کے پاس موسیٰ ؑ ہماری صریح دلیلیں لے کر آئے تو ان لوگوں نے (معجزات دیکھ کر) کہا کہ یہ تو محض ایک جادو ہے کہ (خواہ مخواہ اللہ تعالیٰ پر) افترا کیا جاتا ہے (کہ یہ اس کی جانب سے معجزات اور دلیل رسالت ہیں) اور ہم نے ایسی بات کبھی نہیں سنی کہ ہمارے اگلے باپ دادوں کے وقت میں بھی ہوئی ہو اور موسیٰ ؑ نے (اس کے جواب میں) فرمایا کہ (جب باوجود دلائل صحیحہ قائم ہونے کے اور اس میں کوئی شبہ معقول نہ نکال سکنے کے بعد بھی نہیں مانتے تو یہ ہٹ دھرمی ہے اور اس کا اخیر جواب یہی ہے کہ) میرا پروردگار اس شخص کو خوب جانتا ہے جو صحیح دین اس کے پاس سے لے کر آیا ہے اور جس کا انجام (یعنی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

جب حضرت موسیٰ ان روشن اور ناقابل تردید نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے پاس آئے تو انہوں نے ان کے معجزات کو تو جادو کا کرشمہ قرار دیا اور ان کی دعوت توحید کے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ یہ ہمارے آبائو اجاد کی روایات کے بالکل خلاف ہے۔ سحر مفتری یعنی حضرت موسیٰ یہ کرشمے دکھاتے تو ہیں اپنے جادو کے زور سے لیکن ہم پر رعب جمانے کے لئے جھوٹ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ یہ معجزے ہیں جو ان کو خدا کی طرف سے عطا ہوئے ہیں۔ ماسمعنا بھذا فی ابآئنا الاولین کا اشارہ حضرت موسیٰ کی دعوت توحید کی طرف ہے۔ یعنی ان کا یہ دعویٰ کہ یہ رب العالمین کے رسول ہیں بالکل انوکھا اور نرالا دعویٰ ہے۔ ہم نے اپنے اگلوں سے کسی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

36-1یعنی یہ دعوت کہ کائنات میں صرف ایک ہی اللہ اس کے لائق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے ہمارے لئے بالکل نئی بات ہے۔ یہ ہم نے سنی ہے نہ ہمارے باپ دادا اس توحید سے واقف تھے مشرکین مکہ نے بھی نبی ﷺ کی بابت کہا تھا ' اس نے تو تمام معبودوں کو (ختم کر کے) ایک ہی معبود بنادیا ہے ؟ یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے '۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 34–36

22: جیسا کہ سورة طہ : 25 میں گذرا ہے کہ بچپن میں حضرت موسیٰ ؑ نے ایک انگارا زبان پر رکھ لیا تھا جس کی وجہ سے ان کی زبان میں تھوڑی سی لکنت پیدا ہوگئی تھی، اس لیے انہوں نے درخواست کی کہ ان کے بھائی حضرت ہارون ؑ کو بھی ان کے ساتھ نبی بنا کر بھیج دیا جائے، کیونکہ ان کی زبان زیادہ صاف ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 36–42

فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویوم القیمۃ ھم من المقبوحین (36 – 42) یہاں قرآن کریم نے نہایت ہی جلدی میں فرعون کا انجام بتا دیا اور ایک فیصلہ کن دار کے نتیجے میں اس کا کام تمام ہوگیا۔ یہاں جادوگروں کے مقابلے کو حذف کردیا گیا ہے جبکہ دوسری سورتوں میں بعض جگہ اجمال اور بعض جگہ تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے۔ یہ کڑی یہاں اس لیے حذف کردی گئی ہے کہ تکذہب کے بعد جلد ہی ہلاکت کا منظر پیش کردیا جائے ۔ اور نہ صرف یہ کہ دنیاوی عذاب کا ذکر ہو بلکہ آخرت کے عذاب کی ایک جھلک بھی دکھا دی جائے۔ اختصار اور جدلی کے ساتھ بات کو انجام پہنچانا اس سورت میں مقصود بالذات ہے۔ کیونکہ پوری سورت کا انداز یوں ہی ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی معجزات دیکھ کر کہنے لگے جادو ہے اور جو باتیں خدا کی طرف منسوب کر کے کہتا ہے وہ بھی جادو کی باتیں ہیں جو خود تصنیف کر کے لے آیا، اور دعویٰ کرنے لگا کہ خدا نے مجھ پر وحی کی ہے۔ حقیقت میں وحی وغیرہ کچھ نہیں۔ محض ساحرانہ تخیل و افتراء ہے۔ 1 یعنی جو باتیں یہ کرتا ہے (مثلاً ایک خدا نے ساری دنیا کو پیدا کیا، اور ایک وقت سب کو فنا کر کے دوبارہ زندہ کرے گا پھر حساب کتاب ہوگا اور مجھ کو اس نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے، وغیرہ وغیرہ) اپنے اگلے بزرگوں سے ہمارے کانوں میں یہ چیزیں کبھی نہیں پڑیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

قَالُوْا مَا ہٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًی وَّمَا سَمِعْنَا بِہٰذَا فِیْٓ اٰبَآءِنَا الْاَوَّلِیْنَ ” ہمارے لیے یہ بالکل نئی بات ہے کہ اللہ جو اس کائنات کا خالق ہے وہ کسی انسان کو اپنا نمائندہ بنا کر دنیا میں بھیجے اور وہ اس حیثیت میں لوگوں سے اپنی اطاعت کا مطالبہ کرے۔ ہم نے اپنے باپ دادا سے بھی نہیں سنا کہ ان کے زمانے میں پہلے کبھی ایسا ہوا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

46 موسیٰ یہ عظیم ذمہ اٹھائے طویٰ کے میدان سے واپس لوٹے۔ درمیان میں ایک خلا ہے جس کو قرآن نے غیر اہم سمجھ کر بتلانا چھوڑ دیا ہے۔ جو یہ کہ وہاں سے موسیٰ اپنے بال بچوں کو لے کر سیدھے اپنے گھر ہی پہنچے ہوں گے۔ وہاں والدین اور بہن بھائی سے ملاقات۔ اپنے بھائی ہارون سے تمام حالات کا تفصیلی تذکرہ وغیرہ چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ انہی ایام میں ہارون کو نبوت عطا ہوگی۔ قرآن آگے یہاں سے ان کا قصہ ذکر کرتا ہے کہ وہ دونوں بھائی فرعون کے دربار میں پہنچ گئے۔ ان کی رسائی دربار میں کس انداز سے ہوئی ؟ یہ بات معلوم نہیں۔ بہرحال دربار میں پہنچ کر موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام تفصیل سے فرعون اور اس کے درباریوں تک پہنچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 35–36

48۔ معجزات و دلائل وغیرہ سب اس میں شامل ہیں۔ (آیت) ” نجعل لکما سلطنا “۔ یہ یاد کرلیجئے کہ موسیٰ وہارون (علیہما السلام) دونوں محکوم قوم اور رعایا کے فرد تھے اور ان کا مقابلہ ایسے بادشاہ خود مختار سے ہورہا تھا جس کی زبان خود ہی قانون تھی۔ اور جو ملک میں مطاع مطلق ہی کی حیثیت نہیں رکھتا تھا بلکہ ملک کی اکثریت کے عقیدہ میں معبود والہ (سب سے بڑے دیوتا کا اوتار) بھی تھا ! اس استحضار حقیقت کے بعد اس رعب نبوت کی پوری قدر ہوگی، فرعون تو فرعون، اس کے درباری اور ارکان حکومت تک موسیٰ اسرائیلی وہارون اسرائیلی کی حقیقت کیا سمجھتے تھے اور اپنے کو ان کے پیس ڈالنے کے لیے کافی سمجھ رہے تھے۔ (آیت) ” فلایصلون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–42

آیت نمبر 33 تا 42 ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھ سے ان کے ایک شخص کا خون ہوگیا تھا اور وہی وہی سابق قبطی تھا مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس کے عوض میں مجھے بھی قتل کر ڈالیں اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے تو اسے بھی (میرا) معاون بنا کر بھیج دیجئے ایک قرأۃ میں ردًا دال کے فتحہ کے ساتھ بغیر ہمزہ کے ہے وہ میری تائید کریں گے یُصَدِّقُنِیْ جزم کے ساتھ جواب دعاء (ارسِلْہٗ کا) اور ایک قرأۃ قاف کے رفع کے ساتھ جملہ ہو کر ردءًا کی صفت ہونے کی وجہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں، ارشاد ہوا ہم ابھی تمہارے بھائی کو تمہارا قوت بازو بنائے دیتے ہیں (یعنی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما جاء ھم موسیٰ بایتنا بتینت قالو ما ھذا الا سحر مفتری وما سمعنا بھذا فی ابآئنا الاولین . پھر جب ان کے پاس موسیٰ کھلی دلیلیں لے کر پہنچے تو انہوں نے (معجزات دیکھ کر) کہا : یہ تو محض جادو ہے جس کی اللہ پر افترابندی کی جا رہی ہے۔ ایسی بات تو ہم نے اگلے باپ دادوں میں بھی (ہوتی) نہیں سنی۔ مَا ھٰذَا یعنی لاٹھی وغیرہ ‘ آیات بینات سے مراد ہے عصا اور یَدِ بَیضَآء ‘ مُفْتَرٰی گھڑا ہوا ‘ تراشیدہ جس کی مثل پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ یہ صرف جادو ہے جو موسیٰ نے بنا لیا ہے اور غلط طور پر اس کی نسبت اللہ کی طرف کردیتے ہیں۔ یا سِحْرٌ مُّفْتَرٰی سے جھوٹا سحر مراد ہے اور سحر کا یہ واقعی وصف ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(36) غرض کہ جب موسیٰ ؑ ان لوگوں کے پاس ہماری کھلی نشانیاں یعنی یدبیضاء اور عصا لے کر آئے تو ان لوگوں نے کہا موسیٰ ؑ یہ جو تم لے کر آئے ہو یہ تو تمہارے خود کا گھڑا ہوا ایک جادو ہے اور تم جو کہتے ہو ہم نے کبھی بھی ایسی بات نہیں سنی کہ ہمارے آباؤ و اجداد کے وقت میں بھی ہوئی ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ مُّوْسٰي بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ۔۔ : موسیٰ ؑ یہ ذمہ داری لے کر وادی طویٰ سے واپس لوٹے۔ درمیان کی بات قرآن نے یہاں چھوڑ دی ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ اپنے گھر آئے۔ والدین اور بھائی بہنوں سے ملاقات کی، ہارون ؑ کو نبوت عطا ہونے کا ماجرا سنایا، پھر دونوں بھائی فرعون اور اس کے سرداروں کو دعوت دینے کے لیے ان کے دربار میں پہنچے اور انھیں توحید الٰہی کی دعوت دی اور انھیں اللہ کی طرف سے اپنی رسالت کا اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے کا حکم سنایا۔ موسیٰ ؑ کی یہ دعوت سورة طٰہٰ (47 تا 54) اور شعراء (16 تا 33) میں تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ جب فرعون نے ان کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا تو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فلما جآء ھم موسیٰ بایتنا بینت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واضح اور ظاہر آیات لائے۔ قالوا ماھذا الا سحر مفتری انہوں نے کہا : یہ گھڑا ہوا جھوٹ ہے۔ وما سمعنا بھذا فی ابآئنا الاولین ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیات جن سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے توحید کے اثبات میں استدلال کیا ہے جو دلائل عقلیہ سے تعلق رکھتی ہیں ہم نے انہیں اپنے آباء سے تو نہیں سنا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیات سے مراد معجزات ہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–37

1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت ولی مدبرا سے لے کر آیت من الرھب کے بارے میں فرمایا کہ یہ تقدیم قرآن میں سے ہے۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واضمم الیک جناحک میں جناحک سے مراد ہے اپنا ہاتھ۔ 3۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واضمم الیک جناحک یعنی اپنے ہاتھ کو اپنے بازو کے نیچے کرلو آیت من الرہب یعنی خوف سے آیت فذنک برہانٰن (یعنی یہ دو دلیلیں ہیں) لاٹھی اور ہاتھ آیت ردأ یعنی مددگار آیت ونجعل لکما سلطنا تاکہ ہم بتادیں تمہارے لیے ایک حجت 4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والم یعقب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَلَمَّا [پھر جب ] جَاۗءَهُمْ [آئے ان کے پاس ] مُّوْسٰي [موسیٰ (علیہ السلام) ] بِاٰيٰتِنَا [ہماری نشانیوں کے ساتھ ] بَيِّنٰتٍ [واضح ہوتے ہوئے ] قَالُوْا [تو ان لوگوں نے کہا ] مَا هٰذَآ [نہیں ہے یہ ] اِلَّا سِحْرٌ [مگر ایک جادو ] مُّفْتَرًى [گھڑا ہوا ] وَّمَا سَمِعْنَا [اور ہم نے نہیں سنا ] بِهٰذَا [اس کو ] فِيْٓ اٰبَاۗىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ [اپنے اگلے آباؤ اجداد (کے قصوں) میں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 30–36

رسالت سے سر فراز ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مصر کو واپس ہونا، پھر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس پہنچ کر حق کی دعوت دینا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپس ہوتے ہوئے وادی طویٰ میں نبوت سے سرفراز کیے گئے اور وہیں انہوں نے اللہ جل شانہٗ سے دعا کی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی رسول بنا دیجیے تاکہ میں اور وہ مل کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جائیں اور آپ کا فرمان پہنچائیں اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرما دی، جس کی کچھ تفصیل گزر چکی ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر پہنچے تو اپنے گھر گئے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ساتھ لیا۔ دونوں مل کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–42

قال اللہ تعالیٰ فلما قضی موسیٰ الاجل وسار باھلہ الی۔۔۔ ویوم القیمۃ ہم من المقبوحین۔ الغرض جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہ کر پوری مدت گزار دی یعنی دس برس تک بکریاں چرائیں اور دس برس تک ایک نبی کی صحبت میں رہے اور مجاہدہ اور ریاضت اور باطنی تربیت کی منزلیں طے ہوگئیں اور چالیس سال کی سن کو پہنچے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی زوجہ اور اہل خانہ کو لے کر مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اہل قرابت سے جا کر ملیں اور طور کے آس پاس پہنچے۔ رات کا وقت تھا اندھیری چھائی ہوئی تھی اور سخت سردی تھی۔ اتفاق سے راہ بھٹک گئے ایسے وقت میں طبعا آگ کی تلاش ہوتی ہے۔ کوہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

35:۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب ان کے پاس گئے اور انہیں معجزے دکھائے تو وہ کہنے لگے یہ تو بڑا زبردست جادو ہے جو موسیٰ نے خود ایجاد کیا ہے ایسا جادو تو آج تک ہمارے باپ دادا کے زمانے میں بھی کہیں دیکھنے سننے میں نہیں آیا۔ (بحر) یا اس سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت اور دعوت ہے کہ اللہ کے سوا سارے جہاں کا کوئی مالک و کارساز نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی دعاء اور پکار کے لائق ہے۔ وما سمعنا بہذا یعنی بالذی تدعونا الیہ (معالم و خازن ج 5 ص 114) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–42

ربط آیات موسیٰ (علیہ السلام) اپنی اہلیہ اور ساز و سامان مدین سے مصر جا رہے تھے کہ راستے میں کوہ طور کی مقدس وادی سے گزر ہوا۔ اس مقام پر اللہ نے ان سے کلام کیا اور نبوت و رسالت عطا فرمائی اور ساتھ دو عظیم معجزات عصا اور ید بیضاء بھی عنایت کیے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو تبلیغ حق کا حکم ہوا ۔ انہوں نے اس راستے میں حائل مشکلات کا ذکر کیا تو اللہ نے یقین دلایا کہ فکر نہ کرو ، بالآخر تم ہی غالب رہو گے ۔ اللہ نے آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا اور فریضہ نبوت میں آپ کا ممدو معاون بنایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) حکم خداوندی کے مطابق مصر پہنچے اور آگے اپنے بھائی ہارون (علیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّا جَاۗءَہُمْ مُّوْسٰي بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ قَالُوْا مَا ہٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّمَا سَمِعْنَا بِہٰذَا فِيْٓ اٰبَاۗىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ۝ 36 موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . بينات يقال : بَانَ واسْتَبَانَ وتَبَيَّنَ نحو عجل واستعجل وتعجّل وقد بَيَّنْتُهُ. قال اللہ سبحانه : وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَساكِنِهِمْ [ العنکبوت/ 38] ، وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنا بِهِمْ [إبراهيم/ 45] ، ولِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 55] ، قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ [ البقرة/ 256] ، قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–38

1 ؎ ذکر جاء اللہ فی معینین احدھما حقیقۃ وھو انہ لما قلب اللہ لعصاحیۃ فزع واضظرب فاتقاھا بیدہ کھا یفعل الخائف من الشئی فقیل ران اتقاءک بیدک فیہ نقصان تدرک عند الاحدار فان اتقیتہا فکما تنقلب حیۃ فادخل یدک تحت عضدف مکان اتقاءک بہاثم اخرجھا بیضاء لیحصل الامر ان اجتناب النقص و اظہار معجزہ اخری وثاینہما مجاز وھو ان یرد بفہم الجناح التجلد وضبط النفس حتی لا یضطرب فیکون استعارۃ من فعل الطائر لانہ اذا فاف ارخی جناجبہ والا ضمہما ومعنی الرہب من اجل الخوف (نیشا پوری)

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَلَمَّا جَآئَ ھُمْ مُّوْسٰی بِاٰیٰـتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَاھٰذَٓا اِلاَّ سِحْرٌ مُّفْتَرًی وَّمَا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِیْٓ اٰبَـآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ ۔ (القصص : 36) (پس جب موسیٰ ان کے پاس ہماری کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو انھوں نے کہا یہ تو محض گھڑا ہوا جادو ہے اور ہم نے اس طرح کی باتیں اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سنی ہی نہیں۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات اور ان کی دعوت کی مخالفت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان بڑی بڑی نشانیوں کو لے کر جو دو معجزات کی صورت میں آپ ( علیہ السلام) کو دی گئی تھیں فرعون اور اس کی قوم کے پاس پہنچے اور انھیں اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلایا، تو انھوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–37

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ضمانت اور عطا کیے ہوئے معجزات کی وجہ سے فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی جرأت نہ کرسکا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سفر کے دوران دو عظیم معجزات عنایت فرمائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے معجزات ملنے کے بعد اپنے رب کے حضور دو التجائیں پیش کیں : بارِ الٰہ ! میرے بھائی ہارون کو میر اپشتی بان بنا اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی دونوں گزارشات منطور کرلی گئیں۔ مصر واپس آکر موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو لے کر۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ معجزات اور ٹھوس دلائل کے ساتھ فرعون اور اس کے حواریوں کے پاس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

36: فَلَمَّا جَآئَ ہُمْ مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا (جب موسیٰ ان کے پاس ہماری واضح آیات لے کر آئے تو وہ کہنے لگے) یہ تو۔ مَا ہٰذَا اِلاَّ سِحْرٌ مُّفَْتَرًی (من گھڑت جادو ہے) ۔ بینات کا معنی واضح۔ سحر مفتری کا مطلب یہ کہ وہ سحر پہلے تو خود کرتا ہے۔ پھر اس کو جھوٹ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیتا ہے۔ نمبر 2۔ وہ ایسا جادو ہے جو تمام انواع سحر کی طرح افتراء کے ساتھ موصوف ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا معجزہ نہیں ہے۔ وَّمَا سَمِعْنَا بِہٰذَا فِیْ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ (اور ہم نے یہ اپنے پہلے آباء و اجداد میں سنا تک نہیں) ۔ نحو : فی آبائنایہ حال ہے اور ہذا کی وجہ سے منصوب ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

36۔ فلما جاء ھم موسیٰ بایاتنا، بینات۔ واضح دلائل ، قالوا ماھذا الاسحر مفتری، گھڑا ہوا تراشیدہ وماسمعنا بھذاجس کو تم پکارتے ہو ، فی اباء ناالاولین۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–37

36۔ 37 جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس معجزات لے کر گئے تو انہوں نے سرکشی کی راہ سے ان معجزات کو یہ کہا کہ یہ جادو جوڑا ہوا ہے اور ہم نے اپنے باپ دادا سے کبھی یہ نہیں سنا کہ فرعون کے سوا اور کوئی خدا ہے اسی کی عبادت چاہیے ہم نے تو یہی بات ہیمشہ دیکھی کہ لوگ فرعون کو خدا جانتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میرا پروردگار ایسے شخص کی عقبے کی بہتری کو خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لایا یہ یاد رہے کہ مشرک لوگ جو بڑے ظالم ہیں کبھی فلاح نہ پاویں گے میرے تمہارے درمیان میں پروردگار جلد فیصلہ کرے گا۔ یہ اوپر ایک جگہ گزچکا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 27–54

شعراء کی دو اقسام قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

47 فرعونیوں کے کفر و انکار کا ذکر : سو اس فرعونیوں کی طرف سے کفر وانکار اور معجزات موسیٰ کو جادو قرار دینے کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرعونیوں کی طرف سے جواب ملا کہ یہ تو ایک جادو ہے گھڑا گھڑایا۔ جو یہ خود سیکھ اور بنا کر اور گھڑ کر لائے ہیں کہ ایسے ایسے کرتب دکھائیں اور شعبدہ بازیاں پیش کریں۔ البتہ ان میں تاثیر ضرور جادو کی سی ہے۔ سو حضرت موسیٰ جب حق و ہدایت سے متعلق کھلی اور روشن آیتیں لیکر ان لوگوں کے پاس پہنچے تو انہوں نے اس کو قبول کرنے اور حق کی طرف رجوع کرنے کی بجائے الٹا ان کو ایک من گھڑت جادو قرار دیا اور کہا کہ اس جادو کے بارے میں رعب جمانے کیلئے یہ کہتے ہیں کہ یہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–46

تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–42

آیات 29 تا 46 اسرارومعارف چنانچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عرصہ پورا کردیا جس کا وعدہ فرمایا تھا تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس مصر کو روانہ ہوئے کہ گھر والوں سے بچھڑے ہوئے دس سال بیت چکے تھے روایات کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس پورے کیے۔ راستے میں رات ہوگئی موسم بھی سرد تھا تو کوہ طور پر جو آپ کی راہ کے ساتھ پڑتا تھا روشنی دیکھی جیسے کسی نے آگ روشن کی ہو۔ تو اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ آپ لوگ یہاں انتظار کریں میں وہاں جاتا ہوں ممکن ہے کوئی راستے کے بارے خبر وہاں سے مل جائے کہ لگتا ہے کہ ہم راستہ بھول رہے ہیں اور آگ بھی لیتا آؤں گا یہاں جلا کر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 35–36

2 ۔ کہ کسی نے اللہ کی طرف سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا اس قسم کا جادو دکھایا ہو۔ یہاں آیات سے مراد معجزات ہیں۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:36) بایتنا بینت۔ ب حرف جر۔ ایتنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ بینت صفت آیات کی۔ جاء ب لے کر آیا۔ ہماری روشن اور واضح نشانیاں لے کر آیا۔ ما ھذا میں ما نافیہ ہے۔ سحر۔ موصوف صفت۔ مفتری۔ اسم مفعول افتراء (افتعال) مصدر خود ساختہ۔ گھڑا ہوا (جھوٹ) سحر تختلقہ لم یفعل قبلہ مثلہ۔ جھوٹ جو گھڑا گیا ہو اور قبل ازیں اس جیسا عمل میں نہ لایا گیا ہو۔ بھذا۔ میں باء زائدہ ہے ھذا سے مراد یا جادو ہے (جو نام انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو دیا) یا اس سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دعوی نبوت ہے یہ سمعنا کا مفعول ہے۔ فی ابائنا الاولین : فی بمعنی واقعا فی ایامہم (ان کے وقتوں میں وقوع پذیر ہونے والا۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 36–42

لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 42 : مفتری (گھڑا گیا۔ بنایا گیا) ‘ ماسمعنا (ہم نے نہیں سنا) ‘ عاقبۃ الدار (آخرت کا گھر) اوقد ( بھڑکادے۔ جلادے) الطین (مٹی۔ گارا) ‘ صرح ( بلند محل۔ اونچی بلڈنگ) ‘ اطلع (میں جھانکتا ہوں) نبذنا ( ہم نے پھینک دیا) ‘ المقبوحین ( بد حال لوگ) ۔ تشریح : آیت نمبر 36 تا 42 : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کھلی نشانیوں یعنی معجزات کے ساتھ فرعون کے بھرے دربار میں پہنچے تو معجزات کو دیکھ کر فرعون کہنے لگا کہ یہ معجزات نہیں ہیں بلکہ خود سے گھڑا ہواوہ جادو ہے جس کے ذریعہ وہ لوگوں کے دل جیتنا چاہتا ہے۔ حالانکہ ایسی باتیں ہم نے پہلے تو کبھی بھی نہ دیکھیں نہ سنیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–37

(ف 1) جب موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس معجزات لے کرگئے تو انہوں نے سرکشی کی راہ سے ان معجزات کو یہ کہا کہ یہ جادو بناوتی ہے اور ہم نے اپنے باپ دادا سے کبھی یہ نہیں سنا کہ فرعون کے سوا اور کوئی خدا ہے ہم نے تو یہ بات ہمیشہ دیکھی کہ لوگ فرعون کو خدا جانتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میرا پروردگار ایسے شخص کے عقبی کی بہتری کو خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لایا، یہ یاد رہے کہ مشرک لوگ کبھی فلاح نہ پائیں گے میرے اور تمہارے درمیان میں پروردگار جلد فیصلہ کرے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 33–38

[19] یہاں فرعون نے اپنے لئے اِلٰہ کا لفظ یعنی خالق و معبود نہیں بلکہ حاکم مطلق استعمال کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سرزمین مصر کا مالک میں ہوں اور یہاں میرا حکم چلے گا۔ یہ موسیٰ کون ہے جو اس طرح کے احکام سنا رہا ہے کہ گویا اصل حاکم وہ ہے۔ یہ واضح رہے کہ فرعون خود بہت سے دیوتاؤں کا پرستار تھا جیسا کہ سورة اعراف کی آیت 127 سے ظاہر ہے۔ لہذا اِلَہ کا مفہوم اس کے نزدیک وہی تھا جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–37

حل لغات :۔ عاقبۃ الدار ۔ حسن انجام سے تعبیر ہے ۔ مراد بہشت سے ہے صرحا ۔ محل

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

36۔ غرض جب موسیٰ (علیہ السلام) ہماری کھلی کھلی نشانیاں اور واضح دلائل اور معجزات لے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس آیا تو وہ کہنے لگے کچھ نہیں یہ تو ایک جادو ہے جو محض افترا ہے اور خدا کی طرف منسوب کردیا گیا ہے اور ہم نے تو ایسی باتیں اپنے گزشتہ باپ دادوں کے زمانے میں ہوتی نہیں سنیں ۔ یعنی یہ تو محض ایک جادو ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کیا گیا ہے کہ یہ دلائل اس کی جانب سے ہیں حالانکہ جب وہ ہے ہی نہیں تو اس کے دلائل کیسے محض ایک ساحرانہ افترا ہے اور اگر ان باتوں کی اصل ہوتی تو اپنے بزرگوں سے تو ہم کبھی سنتے جب ہمارے بزرگوں میں بھی اس قسم کا کوئی چرچا نہیں اور نہ کبھی ان سے ہم نہ یہ باتیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 35–37

ف 3۔ مطلب یہ کہ خدا کو خوب معلوم ہے کہ ہم میں اور تم میں کون اہل ہدی ہے، اور کون ظالم، اور کون محمود العاقبت ہے، اور کون محروم عن الفلاح۔ پس ہر ایک کی حالت اور ثمرہ کا جلدی مرنے کے ساتھ ہی ظہور ہوجاوے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ جب فرعون کے پاس آئے ‘ اس نے موسیٰ پر ساحر ہونے کا الزام لگایا : 36۔ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے رسالت ونبوت کا پیغام لے کر خوشی خوشی اپنے لوگوں کے پاس گئے اور ان کو اس آگ کے متعلق بتلایا کہ وہ آگ نہیں تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روشنی دکھائی گئی تھی اور جب میں وہاں پہنچا تو یہ پیغام میں دیا گیا اور اس پیغام میں میرا بھائی ہارون بھی میرے ساتھ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہارون کو بھی اپنی نبوت و رسالت کے لئے چن لیا ہے اور اب میں نے تم کو مصر پہنچا کر سیدھا فرعون کے پاس اللہ تعالیٰ کی توحید کا پیغام پہنچانے کے لئے جانا ہے اور وہاں چل کر مصر آئے اپنے خاندان میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–38

Commentary فَأَوْقِدْ لِي يَا هَامَانُ عَلَى الطِّينِ (So kindle for me, 0 Haman, a fire on the clay (to bake bricks) - 28:38). When the Pharaoh planned to build a very tall palace for himself, he asked his minister Haman to get the bricks baked properly first, because half baked bricks could not take the load of a tall building. Some people have observed that the Pharaoh was the first one to have tough bricks baked for the buildings, as no one had used them before. Historical narrations have recorded that Haman had collected fifty thousand masons for building this palace. Skilled labour,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

49 The words of the Text mean "Fabricated or forged magic." If fabrication is taken to mean falsehood, it would mean, "The staff's turning into a serpent and the shining of the hand is not any real change in the nature of the thing itself, but a mere illusion, which this man calls a miracle in order to deceive us." And if it is taken to mean a forgery it will imply: "This person has forged something which appears to be a staff; but when it is thrown on the ground, it moves like a snake. As for the hand, he has rubbed something on it so that when he draws it out of the armpit, it shines. He…

Read the full tafseer →