Al-Qasas 28:35

Al-Qasas · from ayah 35

28:35

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا ۛۚ— بِاٰیٰتِنَاۤ ۛۚ— اَنْتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ ۟قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ وَنَجۡعَلُ لَـكُمَا سُلۡطٰنًا فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا‌‌ ۛ ‌ۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ‌ ۛ‌ ۚ اَنۡـتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ‏

(خدا نے) فرمایا ہم تمہارے بھائی سے تمہارے بازو مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے تو ہماری نشانیوں کے سبب وہ تم تک پہنچ نہ سکیں گے (اور) تم اور جنہوں نے تمہاری پیروی کی غالب رہو گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Allah] said, "We will strengthen your arm through your brother and grant you both supremacy so they will not reach you. [It will be] through Our signs; you and those who follow you will be the predominant."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 4 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:35

فرمایا "ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سطوت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیروؤں کا ہی ہو گا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(خدا نے) فرمایا ہم تمہارے بھائی سے تمہارے بازو مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے تو ہماری نشانیوں کے سبب وہ تم تک پہنچ نہ سکیں گے (اور) تم اور جنہوں نے تمہاری پیروی کی غالب رہو گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو مضبوط کردیں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے فرعونی تم تک پہنچ ہی نہ سکیں گے، بسبب ہماری نشانیوں کے، تم دونوں اور تمہاری تابعداری کرنے والے ہی غالب رہیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ارشاد ہوا : ہم تمہارے بھائی کے ذریعے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے دیتے ہیں، اور تم دونوں کو ایسا دبدبہ عطا کردیتے ہیں کہ ان کو ہماری نشانیوں کی برکت سے تم پر دسترس حاصل نہیں ہوگی، تم اور تمہارے پیروکار ہی غالب رہو گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمایا، قریب ہے کہ ہم تیرے بازو کو تیرے بھائی سے قوت دیں گے اور تم دونوں کو غلبہ عطا فرمائیں گے تو وہ تم دونوں کا کچھ نقصان نہ کرسکیں گے، ہماری نشانیوں کے سبب تم دونوں اور جو تمہاری پیروی کریں گے غالب آؤ گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ارشاد فرمایا: ہم تمہارا بازو تمہارے بھائی کے ذریعے مضبوط کر دیں گے۔ اور ہم تم دونوں کے لئے (لوگوں کے دلوں میں اور تمہاری کاوشوں میں) ہیبت و غلبہ پیدا کئے دیتے ہیں۔ سو وہ ہماری نشانیوں کے سبب سے تم تک (گزند پہنچانے کے لئے) نہیں پہنچ سکیں گے، تم دونوں اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے غالب رہیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو ضرور مضبوط کریں گے اور تم دونوں کے لیے غلبہ رکھیں گے، سو وہ تم تک نہیں پہنچیں گے، ہماری نشانیوں کے ساتھ تم دونوں اور جنھوں نے تمہاری پیروی کی، غالب آنے والے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم تیرے بھائی سے تیرا بازو مضبوط کردیں گے اور تم دونوں کو ایسا غلبہ عطا کریں گے کہ وہ تم پر دست درازی نہ کرسکیں گے۔ ہمارے معجزات کی وجہ سے تم دونوں اور تمہارے پیروکار ہی غالب رہیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ارشاد ہوا کہ ہم تمہارے بھائی کو بھی تمہارے لئیقوت بازو بنائیں گے اور تمدونوں کو خاص دبدبہ عطا کریں گے تو وہ تم پر دست درازی نہ کرسکیں گے تو ہماری نشانیوں کے ساتھ جائو، تم دونوں اور جو تمہاری پیروی کریں گے، غالب رہو گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ارشاد ہوا کہ ہم نے مضبوط کردیا تمہارے بازو کو تمہارے بھائی کے ذریعے اور ہم تم دونوں کو ایک ایسا غلبہ بھی عطا کئے دیتے ہیں کہ وہ لوگ تمہارے قتل وغیرہ تک پہنچنے بھی نہ پائیں گے ہماری نشانیوں کے سبب یا ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ تم دونوں فرعونیوں کی طرف غلبہ بہرحال تم دونوں ہی کا اور انہی لوگوں کا رہے گا جو تمہاری پیروی کریں گے

— مولانا اسحاق مدنی

(اللہ نے) فرمایا ہم ابھی تمہارے بھائی کو تمہاری قوت بازو بنائے دیتے ہیں اور ہم تم دونوں کو ایک شوکت (خاص) عطا کرتے ہیں سو انہیں تم دونوں پر دسترس نہ ہوگی ہمارے نشان لے کر جاؤ تم دونوں اور جو تمہارے پیرو ہوں گے غالب رہیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ نے فرمایا : ہم تمہارے بازو کو مضبوط کریں گے تمہارے بھائی کے ذریعے سے اور ہم تم دونوں کے لیے ایسا رعب پیدا کردیں گے کہ وہ تمہیں ہاتھ نہیں لگا سکیں گے ہماری نشانیوں کی بدولت تم دونوں اور تمہارے پیروکار سب غالب رہیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ نے فرمایا ”ہم تمہارے بھائی سے تمہارے بازو مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے تو ہماری نشانیوں کے سبب وہ تم تک پہنچ نہ سکیں گے ‘ تم اور تمہاری پیروی کرنے والے غالب رہیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He said: "We will certainly strengthen you through your brother and will invest both of you with such power that they shall not be able to hurt you. With the help of Our Signs the two of you and your followers will prevail."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Allah) said, :We will strengthen your arm with your brother, and will give both of you such a power that they will have no access to you (to cause any harm) because of Our signs.10 You and your followers will be the victors.

— Muhammad Taqi Usmani

He (Allah) said, :We will strengthen your arm with your brother, and will give both of you such a power that they will have no access to you (to cause any harm) because of Our signs.10 You and your followers will be the victors.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah said: "We will strengthen your arm through your brother, and give you both power, so they shall not be able to harm you, with Our Ayat; you two as well as those who follow you, will be the victors."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: We will strengthen thine arm with thy brother, and We will give unto you both power so that they cannot reach you for Our portents. Ye twain, and those who follow you, will be the winners.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Allah] said, "We will strengthen your arm through your brother and grant you both supremacy so they will not reach you. [It will be] through Our signs; you and those who follow you will be the predominant."

— Saheeh International

The Lord said, "We will support you by your brother and will grant you such prestige that no one will dare to approach anyone of you. By the help of Our miracles both you and your follower will certainly triumph."

— Muhammad Sarwar

He said: We will strengthen your arm with your brother, and We will give you both an authority, so that they shall not reach you; (go) with Our signs; you two and those who follow you shall be uppermost.

— Muhammad Habib Shakir

He said: We shall indeed strengthen thine arm with thy brother, and We shall vouchsafe unto you authority, so that they shall not be able to come up to you. Go forth with Our signs! Ye twain and those who follow you, shall be the victors.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "We will certainly strengthen thy arm through thy brother, and invest you both with authority, so they shall not be able to touch you: with Our Sign shall ye triumph,- you two as well as those who follow you."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:35

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 33–35

یاد ماضی یہ گزر چکا کہ حضرت موسیٰ فرعون سے خوف کھاکر اس کے شہر سے بھاگ نکلے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے وہیں اسی کے پاس نبی بن کر جانے کو فرمایا تو آپ کو وہ سب یاد آگیا اور عرض کرنے لگے اے اللہ ان کے ایک آدمی کی جان میرے ہاتھ سے نکل گئی تھی تو ایسانہ ہو کہ وہ بدلے کا نام رکھ کر میرے قتل کے درپے ہوجائیں۔ حضرت موسیٰ نے بچپن کے زمانے میں جب کہ آپ کے سامنے بطور تجربہ کے ایک آگ اور ایک کھجور یا یک موتی رکھا تھا تو آپ نے انگارہ پکڑلیا تھا اور منہ میں ڈال لیا تھا اس واسطے آپ کی زبان میں کچھ کسر رہ گئی تھی اور اسی لیے آپ نے اپنی زبان کی بابت اللہ سے دعا مانگی تھی کہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القصص 48 اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضرت موسیٰ کی اس ملاقات اور گفتگو کا حال اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ سورة طہ آیت 9 تا 48 میں بیان ہوا ہے۔ قرآن مجید کے اس بیان کا جو شخص بھی اس داستان سے مقابلہ کرے گا جو اس سلسلہ میں بائیبل کی کتاب خروج (باب 3۔ 4) بیان کی گئی ہے، وہ اگر کچھ ذوق سلیم رکھتا ہو تو خود محسوس کرلے گا کہ ان دونوں میں سے کلام لہی کونسا ہے اور انسانی داستان گوئی کا اطلاق کس پر ہوتا ہے۔ نیز وہ اس معاملہ میں بھی بآسانی رائے قائم کرسکے گا کہ آیا قرآن کی یہ روایت معاذ اللہ بائیبل اور اسرائیلی روایات کی نقل ہے، یا وہ خدا خود اصل واقعہ بیان فرما رہا ہے جس نے حضرت موسیٰ کو باریاب فرمایا تھا۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–35

وعظ میں اچھی خطابت اور فصاحت مطلوب ہے هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا اس سے معلوم ہوا کہ وعظ تبلیغ میں فصاحت کلام اور مقبول طرز خطابت محمود اور مطلوب ہے۔ اس کی تحصیل میں کوشش بھی مذموم نہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

سلطان سے مراد یہاں غلبہ دبدبہ اور ہیبت ہے۔ بایتنآ میں دو امکان ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو نجعل تکما سلطانا سے متعلق مانیے یعنی ہم اپنے معجزات کے ذریعہ سے فرعونیوں پر تمہارا دبدبہ قائم کردیں گے۔ دوسرا یہ کہ اس سے پہلے کوئی محذوف مانیے جس کی مثال اوپر آیت 32 میں گزر چکی ہے۔ فرعونیوں پر حضرت موسیٰ کا رعب ان کو یہ اطمینان بھی دلا دیا کہ تم خاطر جمع رکھو۔ ہم فرعونیوں پر تمہارا ایسا رعب و دبدبہ قائم کردیں گے کہ وہ تم پر دست درازی کی جرأت نہ کرسکیں گے۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ فرعون اور اس کے اعیان پہلے ہی مقابلے میں حضرت موسیٰ سے اتنے مرعوب ہوگئے کہ ان سے پیچھا چھڑانے کی دل تمنا رکھنے اور اپنی تمام سطوت و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

35-1یعنی حضرت موسیٰ ؑ کی دعا قبول کرلی گئی اور ان کی سفارش پر حضرت ہارون ؑ کو بھی نبوت سے سرفراز فرما کر ان کا ساتھی اور مددگار بنادیا گیا۔ 35-2یعنی ہم تمہاری حفاظت فرمائیں گے، فرعون اور اس کے حوالی موالی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ 35-3یہ وہی مضمون ہے جو قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان کیا گیا مثلاً ، (قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭوَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ) 5۔ المائدہ :68،…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 34–36

22: جیسا کہ سورة طہ : 25 میں گذرا ہے کہ بچپن میں حضرت موسیٰ ؑ نے ایک انگارا زبان پر رکھ لیا تھا جس کی وجہ سے ان کی زبان میں تھوڑی سی لکنت پیدا ہوگئی تھی، اس لیے انہوں نے درخواست کی کہ ان کے بھائی حضرت ہارون ؑ کو بھی ان کے ساتھ نبی بنا کر بھیج دیا جائے، کیونکہ ان کی زبان زیادہ صاف ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 29–35

فلما قضی موسیٰ الاجل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعکما الغلبون (29- 35) قبل اس کے کہ ہم اس حلقے کے ان دو مناظر پر تفصیلی گفتگو کریں ، ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ ان دس سالوں کے وقفے میں اللہ نے حضرت موسیٰ کے حوالے سے کیا تدابیر اختیار کیں اور کیا اقدامات کیے۔ اس سفر اور آنے جانے میں کیا حکمت تھی۔ دست قدرت کو یوں منظور تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایک قدم آگے بڑھتے جائیں۔ یعنی اس وقت سے لے کر جب وہ شیرخوار بچہ تھے ، ان کی موجودہ پوزیشن تک ان کے ستاھ دست قدرت کا معاملہ کیا رہا۔ ان کو دریا میں پھنکا گیا تاکہ فرعون کے لوگ اسے پکڑلیں۔ ان کو دیکھ کر فرعون کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی یا کردی گئی کہ وہ عین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی دونوں درخواستیں منظور ہیں، ہارون تمہارے قوت بازو رہیں گے اور فرعونیوں کو تم پر کچھ دسترس نہ ہوگی۔ ہماری نشانیوں کی برکت سے۔ تم اور تمہارے ساتھی ہی غالب و منصور رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 34–35

وَنَجْعَلُ لَکُمَا سُلْطٰنًافَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْکُمَا ج ” جس طرح بچپن میں ہم نے آپ علیہ السلام کے چہرے پر اپنی محبت کا پرتو ڈال کر فرعون کو آپ علیہ السلام کے قتل سے باز رکھا تھا ایسے ہی اب بھی ہم آپ علیہ السلام کی حفاظت کریں گے۔ ہم آپ کی شخصیت میں ایسا رعب اور دبدبہ ڈال دیں گے کہ دشمن آپ علیہ السلام کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرسکیں گے ‘ آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

45 اس مطالبہ کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے تین امور بیان فرمائے۔ سب سے پہلے یہ کہ وہ لوگ تم پر ہرگز درست درازی نہ کرسکیں گے۔ اور تمہارا بال بھی بیکا نہیں ہوگا۔ تمہیں قتل کرنے کی بجائے انھیں اپنے معاملات حکومت کی فکر پڑجائے گی۔ دوسرے تمہارے ہارون کو نبی بناکر تمہارے ہمراہ بھیجنے کا مطالبہ منظور کیا جاتا ہے۔ وہ تمہارے ہمراہ فرعون کے دربار میں جائے گا اور تیسرے یہ کہ تم اس بات کا یقین رکھو کہ بالآخر فتح تمہاری ہی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 35–36

48۔ معجزات و دلائل وغیرہ سب اس میں شامل ہیں۔ (آیت) ” نجعل لکما سلطنا “۔ یہ یاد کرلیجئے کہ موسیٰ وہارون (علیہما السلام) دونوں محکوم قوم اور رعایا کے فرد تھے اور ان کا مقابلہ ایسے بادشاہ خود مختار سے ہورہا تھا جس کی زبان خود ہی قانون تھی۔ اور جو ملک میں مطاع مطلق ہی کی حیثیت نہیں رکھتا تھا بلکہ ملک کی اکثریت کے عقیدہ میں معبود والہ (سب سے بڑے دیوتا کا اوتار) بھی تھا ! اس استحضار حقیقت کے بعد اس رعب نبوت کی پوری قدر ہوگی، فرعون تو فرعون، اس کے درباری اور ارکان حکومت تک موسیٰ اسرائیلی وہارون اسرائیلی کی حقیقت کیا سمجھتے تھے اور اپنے کو ان کے پیس ڈالنے کے لیے کافی سمجھ رہے تھے۔ (آیت) ” فلایصلون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–42

آیت نمبر 33 تا 42 ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھ سے ان کے ایک شخص کا خون ہوگیا تھا اور وہی وہی سابق قبطی تھا مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس کے عوض میں مجھے بھی قتل کر ڈالیں اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے تو اسے بھی (میرا) معاون بنا کر بھیج دیجئے ایک قرأۃ میں ردًا دال کے فتحہ کے ساتھ بغیر ہمزہ کے ہے وہ میری تائید کریں گے یُصَدِّقُنِیْ جزم کے ساتھ جواب دعاء (ارسِلْہٗ کا) اور ایک قرأۃ قاف کے رفع کے ساتھ جملہ ہو کر ردءًا کی صفت ہونے کی وجہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں، ارشاد ہوا ہم ابھی تمہارے بھائی کو تمہارا قوت بازو بنائے دیتے ہیں (یعنی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال سنشدعضدک باخیک ونجعل لکما سلطنا فلا یصلون الیکما . اللہ نے فرمایا : ہم تمہارے بھائی کے ذریعہ سے تمہارا بازو قوی کردیں گے اور تم دونوں کو غلبہ عطا کریں گے پھر وہ لوگ تم دونوں تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ بازو کی قوت سے موسیٰ کو قوی بنا دیا۔ آدمی کی قوت ہاتھ کی طاقت سے ہوتی ہے اور ہاتھ کی طاقت بازو کی قوت ہے۔ بِاَخِیْکَ یعنی تمہارے بھائی کو پیغمبر بنا کر تمہارے ساتھ بھیج کر۔ حضرت ہارون اس زمانہ میں مصر میں تھے۔ سلطنا غلبہ یا دلیل۔ فَلاَ یَصِلُوْنَ اِلَیْکُمَا یعنی فرعون اور اس کی قوم والے تم دونوں کو ضرر نہیں پہنچا سکیں گے۔ بایتنا انتما ومن اتبعکما الغلبون . تم دونوں ہمارے معجزات کے ساتھ (جاؤ) تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(35) ارشاد خداوندی ہوا اچھا ہم ابھی تمہارے بھائی ہارون کو تمہارا قوت بازو بنادیتے ہیں اور ہم تم دونوں کو ایک خاص شوکت عطا کرتے ہیں جس سے ان لوگوں کو تمہارے قتل کی جرأت نہ ہو سکے گی یہ معجزات لے کر جاؤ تم دونوں اور جو تم پر ایمان لائے گا فرعون اور اس کی قوم پر غالب رہو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيْكَ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کی دعا قبول فرمائی اور تین باتوں کا وعدہ فرمایا، پہلا یہ کہ ہم ہارون کو نبی بنا کر تمہارا بازو ضرور مضبوط کریں گے (سین تاکید کے لیے ہے) ، وہ تمہارے ساتھ فرعون کے دربار میں جائیں گے۔ بعض سلف نے فرمایا، کسی بھائی پر اس کے بھائی کا اتنا بڑا احسان نہیں جتنا بڑا احسان موسیٰ ؑ کا ہارون ؑ پر ہے کہ ان کی شفاعت سے انھیں نبوت مل گئی، اس سے اللہ تعالیٰ کے ہاں موسیٰ ؑ کا مرتبہ بھی معلوم ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَكَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِيْهًا) [ الأحزاب : 69 ] ”اور وہ (یعنی موسیٰ ؑ اللہ کے ہاں بہت مرتبے والا تھا۔“ فَلَا يَصِلُوْنَ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–35

اسلک یدک فی جیبک اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے واضم الیک جناح من الرھب من حرف جار ولی کے متعلق ہے یعنی ولی مدبرا من الرشب۔ حفص، سلمی، عیسیٰ بن عمر اور ابن ابی اسحاق نے من الرھب راء کے فتحہ اور ہاء کے سکو ن کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن عامر، کوفہ کے قراء نے سوائے حفص کے راء کے ضمہ اور ہاء کی جزم کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی فراء نے راء اور ہاء دونوں کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبید اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ویدعوننا رغباً و رھباً (الانبیائ : 90) یہ سب غتیں ہیں اور معنی خوف ہے۔ معنی ہے جب تیرے ہاتھ کا معاملہ اور اس کی شعاع تجھے پریشان کرے تو اسے اپنے گریبان میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–37

1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت ولی مدبرا سے لے کر آیت من الرھب کے بارے میں فرمایا کہ یہ تقدیم قرآن میں سے ہے۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واضمم الیک جناحک میں جناحک سے مراد ہے اپنا ہاتھ۔ 3۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واضمم الیک جناحک یعنی اپنے ہاتھ کو اپنے بازو کے نیچے کرلو آیت من الرہب یعنی خوف سے آیت فذنک برہانٰن (یعنی یہ دو دلیلیں ہیں) لاٹھی اور ہاتھ آیت ردأ یعنی مددگار آیت ونجعل لکما سلطنا تاکہ ہم بتادیں تمہارے لیے ایک حجت 4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والم یعقب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [(اللہ نے) کہا ] سَنَشُدُّ [میں مضبوط کروں گا ] عَضُدَكَ [آپ (علیہ السلام) کے دست و باز کو ] بِاَخِيْكَ [آپ (علیہ السلام) کے بھائی سے ] وَنَجْعَلُ [اور ہم بنائیں گے ] لَكُمَا [آپ دونوں کے لئے ] سُلْطٰنًا [ایک قوت ] فَلَا يَصِلُوْنَ [تو وہ لوگ نہیں پہنچ سکیں گے ] اِلَيْكُمَا ڔ[آپ (علیہ السلام) دونوں تک ] بِاٰيٰتِنَآ ڔ [ہماری نشانیوں کے سبب سے ] اَنْتُمَا [آپ (علیہ السلام) دونوں ] وَمَنِ [اور وہ جنہوں نے ] اتَّبَعَكُمَا [پیروی کی آپ (علیہ السلام) دونوں کی ] الْغٰلِبُوْنَ [غالب ہونے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 30–36

رسالت سے سر فراز ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مصر کو واپس ہونا، پھر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس پہنچ کر حق کی دعوت دینا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپس ہوتے ہوئے وادی طویٰ میں نبوت سے سرفراز کیے گئے اور وہیں انہوں نے اللہ جل شانہٗ سے دعا کی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی رسول بنا دیجیے تاکہ میں اور وہ مل کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جائیں اور آپ کا فرمان پہنچائیں اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرما دی، جس کی کچھ تفصیل گزر چکی ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر پہنچے تو اپنے گھر گئے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ساتھ لیا۔ دونوں مل کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–42

قال اللہ تعالیٰ فلما قضی موسیٰ الاجل وسار باھلہ الی۔۔۔ ویوم القیمۃ ہم من المقبوحین۔ الغرض جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہ کر پوری مدت گزار دی یعنی دس برس تک بکریاں چرائیں اور دس برس تک ایک نبی کی صحبت میں رہے اور مجاہدہ اور ریاضت اور باطنی تربیت کی منزلیں طے ہوگئیں اور چالیس سال کی سن کو پہنچے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی زوجہ اور اہل خانہ کو لے کر مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اہل قرابت سے جا کر ملیں اور طور کے آس پاس پہنچے۔ رات کا وقت تھا اندھیری چھائی ہوئی تھی اور سخت سردی تھی۔ اتفاق سے راہ بھٹک گئے ایسے وقت میں طبعا آگ کی تلاش ہوتی ہے۔ کوہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

34:۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دونوں درخواستیں منظور فرما لیں اور فرمایا تیرے بھائی کو تیرا معاون بھی بنا دوں گا اور تمہیں ایسا غلبگہ دوں گا کہ وہ تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچا سکیں گے اور تمہیں ایسا رعب عطا کردوں گا کہ وہ مارے خوف وہیبت کے برے ارادے سے تمہارے قریب بھی نہ آسکیں گے۔ بایاتنا کا متعلق محذوف ہے ای اذھبا بایاتنا، یا نجعل یا سلطانا، یا لا یصلون کے متعلق ہے، یا یہ ظرف الغالبون کے متعلق ہے اور ظرف کی تقدیم رعایت فاصلہ یا حصر کے لیے ہے (روح) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–35

ربط آیات یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کا ذکر ہو رہا ہے ۔ جب آپ شعیب (علیہ السلام) کے گھر پہنچے تو آپ کو اطمینان حاصل ہوا کہ فرعونیوں کے مظالم سے بچ گئے ہیں ۔ شعیب (علیہ السلام) کی دو بیٹیوں میں سے ایک نے اپنے باپ کو مشورہ دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو نوکر رکھ لیا جائے ۔ یہ شخص بڑا طاقتور اور امانتدار ہے ۔ شعیب (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پیش کش کی میں دو میں سے ایک بیٹی کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں گا ۔ بشرطیکہ تم کم از کم آٹھ سال میرے یہاں نوکری کرو۔ تم دس سال پورے کر دو تو یہ تمہاری منشاء پر منحصرہو گا اور میری طرف سے کوئی اصرار نہیں ہوگا ، البتہ میں تمہارے ساتھ انشاء اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيْكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا يَصِلُوْنَ اِلَيْكُمَا۝ 0ۚۛ بِاٰيٰتِنَآ۝ 0ۚۛ اَنْتُـمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ۝ 35 شد الشَّدُّ : العقد القويّ. يقال : شَدَدْتُ الشّيء : قوّيت عقده، قال اللہ : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] ، ( ش دد ) الشد یہ شدد ت الشئی ( ن ) کا مصدر ہے جس کے معنی مضبوط گرہ لگانے کے ہیں ۔ قرآں میں ہے : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] اور ان کے مفاصل کو مضبوط بنایا ۔ عضد العَضُد : ما بين المرفق إلى الکتف، وعَضَدْتُهُ : أصبت عضده، وعنه استعیر : عَضَدْتُ الشّجر بالمِعْضَد، وجمل عاضد : يأخذ عضد النّاقة فيتنوّخها، ويقال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–38

1 ؎ ذکر جاء اللہ فی معینین احدھما حقیقۃ وھو انہ لما قلب اللہ لعصاحیۃ فزع واضظرب فاتقاھا بیدہ کھا یفعل الخائف من الشئی فقیل ران اتقاءک بیدک فیہ نقصان تدرک عند الاحدار فان اتقیتہا فکما تنقلب حیۃ فادخل یدک تحت عضدف مکان اتقاءک بہاثم اخرجھا بیضاء لیحصل الامر ان اجتناب النقص و اظہار معجزہ اخری وثاینہما مجاز وھو ان یرد بفہم الجناح التجلد وضبط النفس حتی لا یضطرب فیکون استعارۃ من فعل الطائر لانہ اذا فاف ارخی جناجبہ والا ضمہما ومعنی الرہب من اجل الخوف (نیشا پوری)

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ سَنَشُدُّعَضُدَکَ بِاَخِیْکَ وَنَجْعَلُ لَـکُمَا سُلْطٰنًا فَلاَ یَصِلُوْنَ اِلَیْکُمَا ج بِاٰیٰـتِنَا ج اَنْـتُـمَا وَمَنِ اتَّـبَعَکُمَا الْغٰلِبُوْنَ ۔ (القصص : 35) (پروردگار نے فرمایا، ہم تمہارے بھائی کے ذریعہ سے تمہارے ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو خاص دبدبہ عطا کریں گے تو وہ تم پر دست درازی نہ کرسکیں گے، ہماری نشانیوں کے باعث تم دونوں اور جو تمہارے پیروکار ہوں گے غالب رہیں گے۔ ) دونوں درخواستوں کی قبولیت اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دونوں درخواستیں قبول کرلیں۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو رسالت دے کر آپ ( علیہ السلام) کا معاون و مددگار بنادیا۔ اور دوسری دعا کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–35

فہم القرآن ربط کلام : عظیم معجزات ملنے کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے خوفزدہ ہونا۔ جوں ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر زمین پر رینگنے لگا۔ اتنا بڑا سانپ دیکھ کر حضرت موسیٰ ڈر کر بھاگنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا موسیٰ ڈرو نہیں بلکہ آگے ہو کر پکڑ لو۔ یہ پہلے کی طرح لاٹھی بن جائے گا اور آپ مامون رہیں گے۔ اپنا ہاتھ بغل میں دبا کر نکال یہ بغیر کسی تکلیف کے چمکتا ہوا ظاہر ہوگا خوف کے وقت ہاتھ کو بغل میں دبا لینا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر چھوڑ کر مدین اس لیے گئے تھے کہ ان سے سہوًا ایک شخص قتل ہوگیا تھا۔ فرعون اور اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

35: قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِاَخِیْکَ (فرمایا : ہم عنقریب تیرا بازو تیرے بھائی کے ساتھ مضبوط کردیں گے) ۔ اس کے ذریعہ تمہیں قوت دیں گے کیونکہ ہاتھ بازو کی مضبوطی سے مضبوط ہوتا ہے۔ کیونکہ ہاتھ کی طاقت وہی ہے اور تمام میں قوت ہاتھ کی مضبوطی کے باوجود معاملات کے تجربہ سے آتی ہے۔ وَنَجْعَلُ لَکُمَا سُلْطٰنًا (اور ہم تمہارے لئے غلبہ مقرر کردیں گے) سلطان غلبہ تسلط اور دشمنوں کے دلوں میں رعب کو کہا جاتا ہے۔ فَلاَ یَصِلُوْنَ اِلَیْکُمَا بِاٰیٰتِنَآ (پس وہ تم تک پہنچ نہ سکیں گے) ۔ بایتنا یہ یصلون کے متعلق ہے۔ ای لا یصلون الیکما بسبب آیاتنا۔ نمبر 1۔ وہ ہماری آیات و معجزات کے سبب تم تک نہیں پہنچ سکیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

35۔ قال سنشد عضدک باخیک۔ اور ہم آپ کو مضبوط کردیں گے۔ آپ کے بھائی کے ساتھ اور اس وقت آپ کے بھائی ہارون مصر میں تھے۔ ونجعل لکما سلطانا، حجت اور برہان، فلایصلون الیکما بایاتنا، ونجعل لکم سلطانابایاتنا بمانعطیکما من المعجزات فلایصلون الیکما ، فرعون اور اس کی قوم والے تم دونوں کو ضرر نہیں پہنچاسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

35۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے ‘ فرعون کے ساتھ اگرچہ بہت کچھ بھیڑ بھاڑ لشکر یک تھی اور اس لشکر کے مقابلہ میں ادھر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کل دوہی شخص تھے لیکن حضرت موسیٰ ہی اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کے موافق ہیمشہ فرعون اور اس کے ساتھیوں پر ایسے غالب رہے کہ فرعون اور اس کے ساتھ عاجز آگئے اور باوجود اس قدر لاؤ لشکر کے دو آدمیوں کا مقابلہ نہ کرسکے پہلے برسر میدان جادو گروں نے مقابلہ کیا وہ عاجز ہو کر مسلمان ہوگئے پھر قحط پڑا تو ایسا ہی کہ جنگل میں تمام کھیت اور شہر میں تما باغ خشک ہوگئے پھر آٹھ روز تک مینہ بر ساتو ایسا ہی برسا کہ بنی اسرائیل کو کچھ صدمہ نہ پہنچا اور قبطیوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 27–54

شعراء کی دو اقسام قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

46 حضرت موسیٰ کی دعا کی قبولیت کا مژدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم تم دونوں کو ایسا غلبہ عطا کیے دیتے ہیں کہ وہ بدبخت تم دونوں تک پہنچنے ہی نہیں پائیں گے "۔ چناچہ بعد کے حالات و واقعات نے اس وعدہ و پیشنگوئی کو روز روشن کی طرح واضح کردیا کہ فرعون باوجود اتنے بڑے لاؤ لشکر کے اور اس قدر قوت و طاقت رکھتے ہوئے بھی حضرت موسیٰ کا بال بھی بیکا نہ کرسکا (علیہ الصلوۃ والسلام) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے آپ کو غلبہ عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا تھا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم دونوں میری نشانیوں کے ساتھ جاؤ۔ غلبہ بہرحال تم دونوں کا اور تمہارے پیروکاروں ہی کا ہوگا کہ حق پر تم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–46

تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–42

آیات 29 تا 46 اسرارومعارف چنانچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عرصہ پورا کردیا جس کا وعدہ فرمایا تھا تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس مصر کو روانہ ہوئے کہ گھر والوں سے بچھڑے ہوئے دس سال بیت چکے تھے روایات کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس پورے کیے۔ راستے میں رات ہوگئی موسم بھی سرد تھا تو کوہ طور پر جو آپ کی راہ کے ساتھ پڑتا تھا روشنی دیکھی جیسے کسی نے آگ روشن کی ہو۔ تو اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ آپ لوگ یہاں انتظار کریں میں وہاں جاتا ہوں ممکن ہے کوئی راستے کے بارے خبر وہاں سے مل جائے کہ لگتا ہے کہ ہم راستہ بھول رہے ہیں اور آگ بھی لیتا آؤں گا یہاں جلا کر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 35–36

2 ۔ کہ کسی نے اللہ کی طرف سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا اس قسم کا جادو دکھایا ہو۔ یہاں آیات سے مراد معجزات ہیں۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:35) سنشد۔ س مستقبل قریب کے لئے ہے نشد۔ مضارع جمع متکلم شد مصدر (باب نصر) ہم مضبوط کردیں گے۔ شدۃ مضبوطی۔ قوت جو کسی چیز میں ہو مثلاً گرہ کی مضبوطی ۔ بدن کی قوت۔ گرمی کی شدت۔ عذاب کی سختی وغیرہ۔ سلطانا۔ قوت، غلبہ، شوکت، سند، حجت، برہان، حکومت۔ لایصلون۔ مضارع منفی۔ جمع مذکر غائب وصل (باب ضرب) وہ تمہیں پہنچیں گے ای لایصلون الیکما باستیلاء او محاجۃ۔ یعنی نہ وہ تم پر غلبہ پاسکیں گے اور نہ تمہارے خلاف مباحثے میں فوقیت حاصل کرسکیں گے۔ بایتنا۔ متعلق بمحذوف ای اذھبا بایتنا تم دونوں ہمارے نشانوں کے ساتھ (فرعون اور اس کی قوم کے پاس) جاؤ۔ (تم اور تمہارے پیروکار غالب رہیں گے) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 29–35

لغات القرآن : آیت نمبر 29 تا 35 : سار (وہ چلا) اھل (گھروالے ۔ گھر والی) ‘ انس (اس نے محسوس کیا) ‘ امکئوا (تم ٹھہرو) جذوۃ ( انگارہ۔ شعلہ۔ چنگاری) شاطی (کنارہ) وادالایمن (داہنا میدان) ‘ البقعۃ (جگہ) الق (ڈال دے۔ پھینک دے) تھتز (وہ پھنکارتا ہے۔ وہ لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ) ولی (وہ پلٹا) ‘ مدبر ( پیٹھ پھیر نے والا) ‘ لم یعقب (پیچھے مڑکرنہ دیکھا) اقبل (سامنے آ) اسلک (تو ڈال دے) اضمم (ملالے) الرھب (خوف۔ ڈر) افصح (زیادہ فصیح۔ اچھی زبان بولنے والا) ‘ ردا (مدد گار) ‘ سنشد (ہم عنقریب مضبوط کردیں گے) ‘ عضد (بازو) ‘ سلطان (غلبہ۔ قوت و طاقت) ۔ تشریح : آیت نمبر 29 تا 35 : حضرت شعیب (علیہ السلام) اور حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) اللہ کا وعدہ سچا ہے فرعون کے ساتھ اگرچہ بہت کچھ لشکر کا جمگھٹا تھا، اور اس لشکر کے مقابلہ میں ادھر موسیٰ اور ہارون دوہی شخص تھے لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کے موافق ہمیشہ فرعون اور اس کے ساتھیوں پر ایسے غالب رہے کہ فرعون اور اس کے ساتھی عاجز آگئے اور باوجود اس قدر لاؤ لشکر کے دوآدمیوں کے مقابلہ نہ کرسکے، پہلے برسر میدان جادوگروں نے مقابلہ کیا اور وہ عاجز ہوکر مسلمان ہوگئے پھر قحط پڑا تو خدا کی پناہ۔ کہ جنگل میں تمام کھیت اور شہر میں تمام باغ خشک ہوگئے پھر آٹھ روز تک مینہ برسا کہ بنی اسرائیل کے محلہ میں تو ایک قطرہ پانی کا نہیں پڑا اور ہر فرعونی کے محلے میں قدآدم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 33–38

[19] یہاں فرعون نے اپنے لئے اِلٰہ کا لفظ یعنی خالق و معبود نہیں بلکہ حاکم مطلق استعمال کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سرزمین مصر کا مالک میں ہوں اور یہاں میرا حکم چلے گا۔ یہ موسیٰ کون ہے جو اس طرح کے احکام سنا رہا ہے کہ گویا اصل حاکم وہ ہے۔ یہ واضح رہے کہ فرعون خود بہت سے دیوتاؤں کا پرستار تھا جیسا کہ سورة اعراف کی آیت 127 سے ظاہر ہے۔ لہذا اِلَہ کا مفہوم اس کے نزدیک وہی تھا جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ تمہاری درخواست قبول ہے ہم تمہارے بھائی کو تمہارا قوت بازو بنائیں گے ۔ اور تم دونوں کو غلبہ دینگے ۔ مخالفین عداوت کا ہاتھ تمہاری طرف نہیں بڑھا سکیں گے ۔ اور تم مع اپنے ماننے والوں کے غالب ومقصود رہو گے ۔ حل لغات : سلطانا ۔ غلبہ ۔ قوت اور دلیل

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

35۔ حضرت حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہم تیرے بازو کو تیرے بھائی کی وجہ سے ابھی مضبوط کردیں گے اور ہم تم دونوں کو ایک ایسی ہیبت اور غلبہ عطا کردیں گے اور تم کو ایسی شوکت دیں گے کہ وہ تم تک پہنچ ہی نہ سکیں گے ، ہماری نشانیاں لیکر جائو تم دونوں اور جو تم دونوں کے متبع اور پیرو ہوں وہ سب غالب رہنے والے ہو ۔ باتینا کا ترجمہ اپنے اکابر نے دو طرح کیا ہے ہم نے ایک طریقہ اختیار کرلیا ہے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم کو ایذا پہنچا نے کی غرض سے تم تک نہ پہنچ سکیں گے ہم نے صاحب روح کے قول کو اختیار کیا ہے اور فاذھباباتینا کی آیت کو ملحوظ رکھا ہے ، خلاصہ یہ کہ تمہاری دونوں درخواستیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 35–37

ف 3۔ مطلب یہ کہ خدا کو خوب معلوم ہے کہ ہم میں اور تم میں کون اہل ہدی ہے، اور کون ظالم، اور کون محمود العاقبت ہے، اور کون محروم عن الفلاح۔ پس ہر ایک کی حالت اور ثمرہ کا جلدی مرنے کے ساتھ ہی ظہور ہوجاوے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سوال کے تکمیل کا اعلان کردیا : 35۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا سوال کیا تھا ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے تین باتیں عرض کی تھیں ایک یہ کہ اے پروردگار ! قبطیوں کا اتفاقی قتل مجھ سے ہوگیا تھا اگرچہ اس کا تصفیہ ہوچکا لیکن مجھے خوف ہے کہ کہیں فرعون کو جب میں رسالت کا پیغام پہنچاؤں تو وہ مجھے قتل کردینے کی کوئی سکیم کرے دوسرے بات یہ تھی کہ وہ مجھے جھٹلا ہی دے کہ بات نہ مانے تیسری بات یہ تھی کہ میرے بھائی ہارون کو اس بار رسالت میں میرا شریک کار بنا دے کہ وہ میری تائید کرنے والا ہو اور ایک ایک دو گیارہ کے تحت میری ہمت و طاقت بڑھ جائے ۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–38

Commentary فَأَوْقِدْ لِي يَا هَامَانُ عَلَى الطِّينِ (So kindle for me, 0 Haman, a fire on the clay (to bake bricks) - 28:38). When the Pharaoh planned to build a very tall palace for himself, he asked his minister Haman to get the bricks baked properly first, because half baked bricks could not take the load of a tall building. Some people have observed that the Pharaoh was the first one to have tough bricks baked for the buildings, as no one had used them before. Historical narrations have recorded that Haman had collected fifty thousand masons for building this palace. Skilled labour,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–35

48 This meeting of the Prophet Moses with Allah and the mutual conversation has been described in much greater detail in Surah Ta Ha (vv. 9-48). Anyone possessed of fine taste, who compares this Qur'anic version with the story given in the Bible (Exod., chs. 3, 4), will be himself able to judge which of the two is Divine Revelation and which the result of human story-telling. Besides, he will also be able to judge whether the Qur'anic version is, God forbid, a plagiarism of the Bible and Israelite traditions, or that God Himself is describing the actual event, Who had honoured Moses by…

Read the full tafseer →