Al-Qasas 28:34

Al-Qasas · from ayah 34

28:34

وَاَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ ؗ— اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ ۟وَاَخِىۡ هٰرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّىۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِىَ رِدۡاً يُّصَدِّقُنِىۡٓ‌ ۖ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ

اور ہارون (جو) میرا بھائی (ہے) اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بناکر بھیج کہ میری تصدیق کرے مجھے خوف ہے کہ وہ میری لوگ تکذیب کریں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And my brother Aaron is more fluent than me in tongue, so send him with me as support, verifying me. Indeed, I fear that they will deny me."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 4 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:34

اور میرا بھائی ہارونؑ مجھے سے زیادہ زبان آور ہے، اسے میرے ساتھ مدد گار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہارون (جو) میرا بھائی (ہے) اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بناکر بھیج کہ میری تصدیق کرے مجھے خوف ہے کہ وہ میری لوگ تکذیب کریں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور میرا بھائی ہارون ؑ مجھ سے بہت زیاده فصیح زبان واﻻ ہے تو اسے بھی میرا مددگار بنا کر میرے ساتھ بھیج کہ وه مجھے سچا مانے، مجھے تو خوف ہے کہ وه سب مجھے جھٹلا دیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور میرے بھائی ہارون کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے۔ اس لیے ان کو بھی میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج دیجیے کہ وہ میری تائید کریں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور میرا بھائی ہارون اس کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے تو اسے میری مدد کے لیے رسول بنا، کہ میری تصدیق کرے مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور میرے بھائی ہارون ؑ، وہ زبان میں مجھ سے زیادہ فصیح ہیں سو انہیں میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج دے کہ وہ میری تصدیق کر سکیں میں اس بات سے (بھی) ڈرتا ہوں کہ (وہ) لوگ مجھے جھٹلائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور میرا بھائی ہارون، وہ زبان میں مجھ سے زیادہ فصیح ہے، تو اسے میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج کہ میری تصدیق کرے، بیشک میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور میرے بھائی ہارون کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے اسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تصدیق کرے ! مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلا دیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور میرے بھائی، ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں تو ان کو بھی میرے ساتھ مددگار کی حیثیت سے بھیج کہ وہ میری تائید کریں۔ میں ڈرتا ہوں کہ وہ لوگ مجھے جھٹلا دیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور میرے بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہیں سو ان کو بھی میرے ساتھ بھیج دیجئے رسول بنا کر میرے مددگار کے طور پر تاکہ وہ میری تصدیق کریں مجھے سخت اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلا دیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اور میرے بھائی ہارون کو وہ مجھ سے زیادہ خوش بیان ہیں انہیں بھی میرے ساتھ رسالت دے دیجیے مددگار بنا کر کہ وہ میری تصدیق کرتے رہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب بھی کریں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور میرا بھائی ہارون ؑ مجھ سے زیادہ فصیح زبان والا ہے تو اسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تصدیق کرے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہارون میرا بھائی کہ اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج کہ میری تصدیق کرے مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

My brother Aaron is more eloquent in speech than I: so send him with me as a helper to confirm my truthfulness for I fear that they will reject me as a liar."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And my brother Harun is more eloquent than me in speech; so send him with me as a helper to bear me out. I am afraid, they will give the lie to me.

— Muhammad Taqi Usmani

And my brother Harun is more eloquent than me in speech; so send him with me as a helper to bear me out. I am afraid, they will give the lie to me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And my brother Harun -- he is more eloquent in speech than me, so send him with me as a helper to confirm me. Verily, I fear that they will deny me."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

My brother Aaron is more eloquent than me in speech. Therefor send him with me as a helper to confirm me. Lo! I fear that they will give the lie to me.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And my brother Aaron is more fluent than me in tongue, so send him with me as support, verifying me. Indeed, I fear that they will deny me."

— Saheeh International

My brother Aaron is more fluent then I am. Send him with me to assist me and express my truthfulness; I am afraid they will reject me".

— Muhammad Sarwar

And my brother, Haroun, he is more eloquent of tongue than I, therefore send him with me as an aider, verifying me: surely I fear that they would reject me.

— Muhammad Habib Shakir

And My brother Harun! He is more eloquent than I in speech; wherefore send him with me as a support, to corroborate me; verily I fear that they shall belie me.

— Abdul Majid Daryabadi

"And my brother Aaron - He is more eloquent in speech than I: so send him with me as a helper, to confirm (and strengthen) me: for I fear that they may accuse me of falsehood."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 33–35

یاد ماضی یہ گزر چکا کہ حضرت موسیٰ فرعون سے خوف کھاکر اس کے شہر سے بھاگ نکلے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے وہیں اسی کے پاس نبی بن کر جانے کو فرمایا تو آپ کو وہ سب یاد آگیا اور عرض کرنے لگے اے اللہ ان کے ایک آدمی کی جان میرے ہاتھ سے نکل گئی تھی تو ایسانہ ہو کہ وہ بدلے کا نام رکھ کر میرے قتل کے درپے ہوجائیں۔ حضرت موسیٰ نے بچپن کے زمانے میں جب کہ آپ کے سامنے بطور تجربہ کے ایک آگ اور ایک کھجور یا یک موتی رکھا تھا تو آپ نے انگارہ پکڑلیا تھا اور منہ میں ڈال لیا تھا اس واسطے آپ کی زبان میں کچھ کسر رہ گئی تھی اور اسی لیے آپ نے اپنی زبان کی بابت اللہ سے دعا مانگی تھی کہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 33–34

سورة القصص 47 اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس ڈر سے میں وہاں نہیں جانا چاہتا۔ بلکہ مطلب یہ تھا کہ حضور کی طرف سے ایسا کوئی انتظام ہونا چاہیے کہ میرے پہنچتے ہی کسی بات چیت اور ادائے رسالت کی نوبت آنے سے پہلے وہ لوگ مجھے الزام قتل میں گرفتار نہ کرلیں، کیونکہ اس صورت میں تو وہ مقصد ہی فوت ہوجائے گا جس کے لیے مجھے اس مہم پر بھیجا جارہا ہے۔ بعد کی عبارت سے یہ بات خود واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت موسیٰ کی اس گزارش کا یہ مدعا ہرگز نہیں تھا کہ وہ ڈر کے مارے نبوت کا منصب قبول کرنے اور فرعون کے ہاں جانے سے انکار کرنا چاہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–35

وعظ میں اچھی خطابت اور فصاحت مطلوب ہے هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا اس سے معلوم ہوا کہ وعظ تبلیغ میں فصاحت کلام اور مقبول طرز خطابت محمود اور مطلوب ہے۔ اس کی تحصیل میں کوشش بھی مذموم نہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ردء کے معنی مددگار و معین کے ہیں۔ دوسرے مقامات میں اسی مفہم کے لئے وزیر استعمال ہوا ہے۔ یصدقنی یعنی یویدنی وہ میری مدد کریں۔ حضرت ہارون کے تعاون کی درخواست یہ حضرت موسیٰ نے اپنی ایک اور مشکل کا اظہار فرمایا۔ سورة طہ کی تفسیر میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ وہ اپنی اس عظیم ذمہ داری کے اعتبار سے اپنی قوت بیان میں کمی محسوس فرماتے تھے اس وجہ سے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست بھی کی کہ میرے بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں، انہیں اس کام میں میرا مددگار بنا دے کہ وہ میری تائید و مدد کریں۔ یہی بات دوسرے مقام میں یوں مذکور ہوئی ہے کی تسبح کثیرونذکرک کثیراً (طہ 34-33) (تاکہ ہم دونوں مل کر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

34-1اسرائیلی روایات کی رو سے حضرت موسیٰ ؑ کی زبان میں لکنت تھی، جس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے سامنے آگ کا انگارہ اور کھجور یا موتی رکھے گئے تو آپ نے انگارہ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا تھا جس سے آپ کی زبان جل گئی۔ یہ وجہ صحیح ہے یا نہیں ؟ تاہم قرآن کریم کی اس نص سے یہ تو ثابت ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے مقابلے میں حضرت ہارون ؑ فصیح اللسان تھے اور حضرت موسیٰ ؑ کی زبان میں گرہ تھی۔ جس کے کھولنے کی دعا انہوں نے نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد کی۔ ردءا کے معنی ہیں معین، مددگار تقویت پہنچانے والا۔ یعنی ہارون ؑ اپنی فصاحت لسانی سے مجھے مدد اور تقویت پہنچائیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 34–36

22: جیسا کہ سورة طہ : 25 میں گذرا ہے کہ بچپن میں حضرت موسیٰ ؑ نے ایک انگارا زبان پر رکھ لیا تھا جس کی وجہ سے ان کی زبان میں تھوڑی سی لکنت پیدا ہوگئی تھی، اس لیے انہوں نے درخواست کی کہ ان کے بھائی حضرت ہارون ؑ کو بھی ان کے ساتھ نبی بنا کر بھیج دیا جائے، کیونکہ ان کی زبان زیادہ صاف ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 29–35

فلما قضی موسیٰ الاجل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعکما الغلبون (29- 35) قبل اس کے کہ ہم اس حلقے کے ان دو مناظر پر تفصیلی گفتگو کریں ، ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ ان دس سالوں کے وقفے میں اللہ نے حضرت موسیٰ کے حوالے سے کیا تدابیر اختیار کیں اور کیا اقدامات کیے۔ اس سفر اور آنے جانے میں کیا حکمت تھی۔ دست قدرت کو یوں منظور تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایک قدم آگے بڑھتے جائیں۔ یعنی اس وقت سے لے کر جب وہ شیرخوار بچہ تھے ، ان کی موجودہ پوزیشن تک ان کے ستاھ دست قدرت کا معاملہ کیا رہا۔ ان کو دریا میں پھنکا گیا تاکہ فرعون کے لوگ اسے پکڑلیں۔ ان کو دیکھ کر فرعون کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی یا کردی گئی کہ وہ عین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی کوئی تصدیق و تائید کرنے والا ساتھ ہو تو فطرۃً دل مضبوط و قوی رہتا ہے۔ اور ان کے جھٹلانے پر اگر بحث و مناظرہ کی نوبت آجائے تو میری زبان کی لکنت ممکن ہے بولنے میں رکاوٹ ڈالے۔ اس وقت ہارون کی رفاقت مفید ہوگی۔ کیونکہ ان کی زبان زیادہ صاف اور تیز ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 34–35

وَنَجْعَلُ لَکُمَا سُلْطٰنًافَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْکُمَا ج ” جس طرح بچپن میں ہم نے آپ علیہ السلام کے چہرے پر اپنی محبت کا پرتو ڈال کر فرعون کو آپ علیہ السلام کے قتل سے باز رکھا تھا ایسے ہی اب بھی ہم آپ علیہ السلام کی حفاظت کریں گے۔ ہم آپ کی شخصیت میں ایسا رعب اور دبدبہ ڈال دیں گے کہ دشمن آپ علیہ السلام کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرسکیں گے ‘ آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 33–34

44 موسیٰ اس زبردست آزمائش سے انکار نہ کرسکے البتہ جو خطرات اس مہم میں انھیں نظر آرہے تھے وہ ضرور عرض کردیئے ایک یہ کہ کہیں وہ سابقہ جرم میں دھر کر قتل ہی نہ کر ڈالیں اور دوسرا یہ کہ جو لوگ خود خدا بنے بیٹھے ہیں وہ میری یہ دعوت کیسے قبول کریں گے ؟ لہذا مجھے کم از کم ایک ساتھی ضرور درکار ہے۔ اگر میرے ہارون کو بھی نبوت عطا کردیں تو ایک تو اس کی زبان فصیح ہے۔ جو بات میں پیش کروں اسے وضاحت سے پیش کر دے گا۔ دوسرے وہ ایک آدمی تو میرا مددگار ہو۔ جب سب لوگ مجھے جھٹلا دیں تو ایک تو میری تصدیق کرنے والا ہو۔ جس سے مجھے کچھ سہارا مل جائے اور وہ بھی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

47۔ (اور گفتگو مناظرہ کے لیے روانی زبان وفصاحت بیان کی ضرورت بہت پڑا کرے گی) (آیت) ” ھرون “۔ اور ” ھو افصح منی “۔ پر بھی حاشیے سورة طہ پ 16 میں گزر چکے۔ ” ردا “۔ ردء وہ چیز ہے جس کا سہارا لیا جائے۔ یہاں مراد مددگار ہے۔ معینا وھو فی الاصل اسم مایعان بہ (بیضاوی) الرداء الذی یتبع غیرہ معینا لہ (راغب)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–42

آیت نمبر 33 تا 42 ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھ سے ان کے ایک شخص کا خون ہوگیا تھا اور وہی وہی سابق قبطی تھا مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس کے عوض میں مجھے بھی قتل کر ڈالیں اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے تو اسے بھی (میرا) معاون بنا کر بھیج دیجئے ایک قرأۃ میں ردًا دال کے فتحہ کے ساتھ بغیر ہمزہ کے ہے وہ میری تائید کریں گے یُصَدِّقُنِیْ جزم کے ساتھ جواب دعاء (ارسِلْہٗ کا) اور ایک قرأۃ قاف کے رفع کے ساتھ جملہ ہو کر ردءًا کی صفت ہونے کی وجہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں، ارشاد ہوا ہم ابھی تمہارے بھائی کو تمہارا قوت بازو بنائے دیتے ہیں (یعنی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واخی ھرون ھوا فصح منی لسانا فارسلہ معنی ردا . اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ تیز زبان ہے اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج دے۔ حضرت موسیٰ نے اپنے منہ میں انگارا رکھ لیا تھا اس لئے زبان میں گرہ پڑگئی تھی (اور بولنے میں گنگڑانے لگے تھے) ۔ رِدْءٌ مددگار ‘ کہا جاتا ہے اَرْدَاْتُہٗ میں نے اس کی مدد کی۔ رِدْءٌ اصل میں اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ سے مدد کی جاتی ہے۔ یصدقنی انی اخاف ان یکذبون . کہ وہ میری (تقریر کی وضاحت کر کے اور شبہات دور کر کے) تصدیق کرے گا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے جھوٹا قرار دیں گے۔ بعض علماء نے کہا : تصدیق ہارون سے مراد تصدیق قوم جو ہارون کی تقریر اور توضیح سے حاصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(34) اور دوسری بات یہ ہے کہ میرے بھائی ہارون مجھ سے زیادہ خوش گفتار ہیں اور ان کی زبان مجھ سے زیادہ رواں ہے، حضرت موسیٰ ؑ کی زبان میں گرہ تھی تو ان کو بھی میرا مددگار بنا کر میری رسالت دے دیجیے کہ میری تقریر کی تائید اور تصدیق کریں گے کیوں کہ مجھ کو تکذیب کا اندیشہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا۔۔ : ”رِدْاً“ مددگار، دیوار کا پشتہ جو اسے مضبوط کرنے کے لیے لگایا جائے۔ بعض روایات میں ہے کہ ایک دفعہ بچپن میں موسیٰ ؑ نے فرعون کی ڈاڑھی پکڑ لی تو اس نے کہا، یہ وہی ہے جس کے ہاتھوں میری سلطنت کے زوال کی پیش گوئی کی گئی ہے، اس وجہ سے اس نے موسیٰ ؑ کو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ آسیہ[ نے کہا، یہ بچہ ہے، اسے ان باتوں کی کیا خبر ؟ اس کے سامنے انگارا اور ہیرا رکھ کر دیکھ لو، جب موسیٰ ؑ کے سامنے انگارا اور ہیرا رکھ کر ان کی آزمائش کی جانے لگی اور موسیٰ ؑ ہیرے کی طرف ہاتھ بڑھانے لگے، تو جبریل ؑ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انگارے کی طرف کردیا اور انھوں نے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–35

اسلک یدک فی جیبک اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے واضم الیک جناح من الرھب من حرف جار ولی کے متعلق ہے یعنی ولی مدبرا من الرشب۔ حفص، سلمی، عیسیٰ بن عمر اور ابن ابی اسحاق نے من الرھب راء کے فتحہ اور ہاء کے سکو ن کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن عامر، کوفہ کے قراء نے سوائے حفص کے راء کے ضمہ اور ہاء کی جزم کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی فراء نے راء اور ہاء دونوں کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبید اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ویدعوننا رغباً و رھباً (الانبیائ : 90) یہ سب غتیں ہیں اور معنی خوف ہے۔ معنی ہے جب تیرے ہاتھ کا معاملہ اور اس کی شعاع تجھے پریشان کرے تو اسے اپنے گریبان میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–37

1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت ولی مدبرا سے لے کر آیت من الرھب کے بارے میں فرمایا کہ یہ تقدیم قرآن میں سے ہے۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واضمم الیک جناحک میں جناحک سے مراد ہے اپنا ہاتھ۔ 3۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واضمم الیک جناحک یعنی اپنے ہاتھ کو اپنے بازو کے نیچے کرلو آیت من الرہب یعنی خوف سے آیت فذنک برہانٰن (یعنی یہ دو دلیلیں ہیں) لاٹھی اور ہاتھ آیت ردأ یعنی مددگار آیت ونجعل لکما سلطنا تاکہ ہم بتادیں تمہارے لیے ایک حجت 4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والم یعقب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَخِيْ هٰرُوْنُ [اور میرا بھائی ہارون ] هُوَ اَفْصَحُ [وہ زیادہ فصیح ہے ] مِنِّيْ [مجھ سے ] لِسَانًا [بلحاظ زناب کے ] فَاَرْسِلْهُ [پس تو بھیج اس کو ] مَعِيَ [میرے ساتھ ] رِدْاً [بطور مدد کے ] يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ [وہ تصدیق کرے گا میری ] اِنِّىْٓ اَخَافُ [بیشک میں ڈرتا ہوں ] اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ [کہ وہ جھٹلائیں گے مجھ کو ] ص ح (ک) فصاحۃ مراد کو ظاہر کرنا۔ خوش بیان ہونا۔ فصیح ہونا۔ افصح افعل تفصیل ہے۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 34 ۔ ر د ء (ف) ردأ کسی کی مدد کرنا۔ ردء اسم ذات۔ مدد۔ زیر مطالعہ آیت۔ 34 ۔ نوٹ۔ 2: ہارون (علیہ السلام) کے بارے میں موسیٰ (علیہ السلام) کی درخواست اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 30–36

رسالت سے سر فراز ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مصر کو واپس ہونا، پھر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس پہنچ کر حق کی دعوت دینا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپس ہوتے ہوئے وادی طویٰ میں نبوت سے سرفراز کیے گئے اور وہیں انہوں نے اللہ جل شانہٗ سے دعا کی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی رسول بنا دیجیے تاکہ میں اور وہ مل کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جائیں اور آپ کا فرمان پہنچائیں اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرما دی، جس کی کچھ تفصیل گزر چکی ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر پہنچے تو اپنے گھر گئے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ساتھ لیا۔ دونوں مل کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–42

قال اللہ تعالیٰ فلما قضی موسیٰ الاجل وسار باھلہ الی۔۔۔ ویوم القیمۃ ہم من المقبوحین۔ الغرض جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہ کر پوری مدت گزار دی یعنی دس برس تک بکریاں چرائیں اور دس برس تک ایک نبی کی صحبت میں رہے اور مجاہدہ اور ریاضت اور باطنی تربیت کی منزلیں طے ہوگئیں اور چالیس سال کی سن کو پہنچے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی زوجہ اور اہل خانہ کو لے کر مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اہل قرابت سے جا کر ملیں اور طور کے آس پاس پہنچے۔ رات کا وقت تھا اندھیری چھائی ہوئی تھی اور سخت سردی تھی۔ اتفاق سے راہ بھٹک گئے ایسے وقت میں طبعا آگ کی تلاش ہوتی ہے۔ کوہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

33:۔ یہ دوسری درخواست تھی کہ ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اور قادر الکلام ہے اسے میرا معاون بنا کر میرے ساتھ بھیجا جائے تاکہ وہ میری تائید کرے اور میری تقریر کو بسط و تفصیل کے ساتھ پیش کرسکے اور کافروں کے مجادلے کا منہ توڑ جواب دے سکے۔ و معنی تصدیقہ موسیٰ اعانتہ ایاہ بزیادۃ البیان فی مظان الجدال ان احتاج الیہ لیثبت دعواہ (مدارک ج 3 ص 180) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–35

ربط آیات یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کا ذکر ہو رہا ہے ۔ جب آپ شعیب (علیہ السلام) کے گھر پہنچے تو آپ کو اطمینان حاصل ہوا کہ فرعونیوں کے مظالم سے بچ گئے ہیں ۔ شعیب (علیہ السلام) کی دو بیٹیوں میں سے ایک نے اپنے باپ کو مشورہ دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو نوکر رکھ لیا جائے ۔ یہ شخص بڑا طاقتور اور امانتدار ہے ۔ شعیب (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پیش کش کی میں دو میں سے ایک بیٹی کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں گا ۔ بشرطیکہ تم کم از کم آٹھ سال میرے یہاں نوکری کرو۔ تم دس سال پورے کر دو تو یہ تمہاری منشاء پر منحصرہو گا اور میری طرف سے کوئی اصرار نہیں ہوگا ، البتہ میں تمہارے ساتھ انشاء اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَخِيْ ہٰرُوْنُ ہُوَاَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْہُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ۝ 0ۡاِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ۝ 34 أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–38

1 ؎ ذکر جاء اللہ فی معینین احدھما حقیقۃ وھو انہ لما قلب اللہ لعصاحیۃ فزع واضظرب فاتقاھا بیدہ کھا یفعل الخائف من الشئی فقیل ران اتقاءک بیدک فیہ نقصان تدرک عند الاحدار فان اتقیتہا فکما تنقلب حیۃ فادخل یدک تحت عضدف مکان اتقاءک بہاثم اخرجھا بیضاء لیحصل الامر ان اجتناب النقص و اظہار معجزہ اخری وثاینہما مجاز وھو ان یرد بفہم الجناح التجلد وضبط النفس حتی لا یضطرب فیکون استعارۃ من فعل الطائر لانہ اذا فاف ارخی جناجبہ والا ضمہما ومعنی الرہب من اجل الخوف (نیشا پوری)

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَخِیْ ھٰرُوْنُ ھُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْہُ مَعِیَ رِدْأً یُّـصَدِّقُـنِٓیْ ز اِنِّیْ اَخَافُ اَنْ یُّـکَذِّبُوْنِ ۔ (القصص : 34) (اور میرے بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں، انھیں میرے ساتھ مدد کے طور پر بھیج دیجیے تاکہ وہ میری تائید کریں، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔ ) اپنی تائید و نصرت کے لیے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے تعاون کی درخواست حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی تائید و نصرت کے لیے ایک اور درخواست پیش کی۔ سورة طٰہٰ میں ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں لکنت نہ تھی لیکن وہ اپنی عظیم ذمہ داری کے اعتبار سے اپنی قوت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–35

فہم القرآن ربط کلام : عظیم معجزات ملنے کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے خوفزدہ ہونا۔ جوں ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر زمین پر رینگنے لگا۔ اتنا بڑا سانپ دیکھ کر حضرت موسیٰ ڈر کر بھاگنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا موسیٰ ڈرو نہیں بلکہ آگے ہو کر پکڑ لو۔ یہ پہلے کی طرح لاٹھی بن جائے گا اور آپ مامون رہیں گے۔ اپنا ہاتھ بغل میں دبا کر نکال یہ بغیر کسی تکلیف کے چمکتا ہوا ظاہر ہوگا خوف کے وقت ہاتھ کو بغل میں دبا لینا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر چھوڑ کر مدین اس لیے گئے تھے کہ ان سے سہوًا ایک شخص قتل ہوگیا تھا۔ فرعون اور اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

34: وَاَخِیْ ہٰرُوْنُ ہُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْہُ مَعِیَ رِدْئً ا (اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح ہے اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج دیجئے) ۔ قراءت : حفص نے مَعِیَ پڑھا ہے۔ رِدْئً ا مددگار ٗ معاون ٗ کہا جاتا ہے ردأتہٗ ای اعنتہٗ : میں نے اس کی مدد کی۔ قراءت : بلا ہمزہ مدنی نے پڑھا ہے۔ یُصَدِّقُنِیْ (جو میری تصدیق کرے گا) ۔ قراءت : عاصم و حمزہ نے یصدقنی ردائً کی صفت قرار دیا۔ ای مصدقالی۔ ضمہ سے پڑھا۔ اور دیگر قراء نے جزم یُصدِقْنی پڑھا اور اَرْسِلْہٗ کا جواب قرار دیا۔ تصدیق کا مفہوم : جھگڑے اور مناظرے کے مقامات میں ثبوت دعوی میں مزید وضاحت کی اگر ضرورت پیش آئے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 33–34

34۔ واخی ہارون ھوافصح منی لسانا، ، یہ اس وجہ سے حضرت موسیٰ نے کہا تھا کہ بچپن میں انہوں نے جلتا ہوا انگارہ منہ میں رکھ لیا تھا، فارسلہ معنی رداء بمعنی مددگار ۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے رداتہ ای اعنتہ میں نے اس کی مدد کی ، رداء دال کے فتحہ کے ساتھ تخفیف کے ساتھ۔ باقی قراء نے دال کے سکون کے ساتھ ۔ یصدقنی ابن عمر عامر حمزہ نے رفع کے ساتھ قاف پر حال ہونے کی وجہ سے اور دوسرے قراء نے مجزوم پڑھا ہے جواب الدعا ہے حضرت ہارون کی تمام باتوں میں تصدیق کی۔ مقاتل کا بیان ہے کہ ، یصدقنی ، کی ضمیر فرعون کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ کہ اگر تو میرے ساتھ ہارون کو پیغمبر بناکربھیج دے انی خاف ان یکذبون، یعنی فرعون اور اس کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–34

29 تا 34۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں مدتوں میں سے دس برس کی مدت کو پورا کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر کے جانے کا اور اپنے بھائی اور اپنی ماں سے ملنے کا شوق ہوا اور وہ شعیب (علیہ السلام) سے رخصت ہوئے ان کے ساتھ ان کی بی بی اور بکریاں تھیں جو شعیب (علیہ السلام) نے ان کو دی تھیں یہ سفر جاڑے کے موسم کا تھا اور اندھیری رات میں راستہ بھی بھول گئے تھے اسی حالت میں انہوں نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا تم ٹھہرو میں جاتا ہوں تاکہ راستہ کی کچھ خبر لاؤں اور تاپنے کے لیے کچھ آگ بھی لیتا آؤں جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے پاس آئے جو کوہ طور کے جانب کو تھی یہ آگ ایک سبز درخت میں دیکھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 27–54

شعراء کی دو اقسام قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 33–34

45 راہ حق میں معاون و مددگار کے لیے دعا و درخواست : سو اس سے حضرت موسیٰ کی طرف سے اپنے رب کے حضور اپنے لیے ایک مددگار و معاون کی دعا و درخواست کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو حضرت موسیٰ حکم الہی کی تعمیل میں اس عظیم الشان مہم پر روانگی کے لیے تیار ہوگئے لیکن اس کے ساتھ ہی اس بارے اپنے ایک خدشے کا بھی اظہار کیا کہ میں نے ان لوگوں کا ایک آدمی قتل کیا ہوا ہے جس کی بنا پر مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ وہ مجھے دیکھتے ہی قتل کردیں گے۔ اور دوسری عرض اپنے رب کے حضور آپ نے یہ پیش کی کہ میرے بھائی ہارون چونکہ مجھ سے زیادہ فصیح ہیں اس لیے ان کو میرا معین اور مددگار مقرر فرمایا جائے تاکہ وہ میری معاونت کریں۔ اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–46

تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–42

آیات 29 تا 46 اسرارومعارف چنانچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عرصہ پورا کردیا جس کا وعدہ فرمایا تھا تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس مصر کو روانہ ہوئے کہ گھر والوں سے بچھڑے ہوئے دس سال بیت چکے تھے روایات کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس پورے کیے۔ راستے میں رات ہوگئی موسم بھی سرد تھا تو کوہ طور پر جو آپ کی راہ کے ساتھ پڑتا تھا روشنی دیکھی جیسے کسی نے آگ روشن کی ہو۔ تو اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ آپ لوگ یہاں انتظار کریں میں وہاں جاتا ہوں ممکن ہے کوئی راستے کے بارے خبر وہاں سے مل جائے کہ لگتا ہے کہ ہم راستہ بھول رہے ہیں اور آگ بھی لیتا آؤں گا یہاں جلا کر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 33–34

1 ۔ کیونکہ میں اتنا زبان آور نہیں ہوں کہ اکیلا ان کی ہر دلیل کا فوراً توڑ کرتا رہوں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:34) افصح۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے زیادہ فصیح۔ فصح کے معنی ہر قسم کی آمیزش سے پاک ہونا۔ افصح متی لسانا وہ مجھ سے گفتگو میں زیادہ فصیح ہے۔ (لسانا تمیز ہے افصح کی) ردا۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے ارداء جمع۔ ردء مادہ۔ الردء جو دوسرے کا مددگار بن کر اس کے تابع ہو۔ فارسلہ معنی ردأ یصدقنی اس کو مدد گار بنا کر میرے ساتھ بھیج کہ میری تصدیق کرے۔ یعنی اظہار حق کے لئے۔ وضاحت کلام کے لئے۔ کفار کے ساتھ مناظرہ و مجادلہ کے لئے روانی بیان اور فصاحت کے بیان کی ضرورے پڑے گی اور اس میں وہ میری مدد کرے گا۔ (یعنی ہارون علیہ السلام) اور ھق کی تصدیق کو واضح کرے گا اور کفار کی تکذیب کو رد کرے گا۔ ردء اس چیز کو کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 29–35

لغات القرآن : آیت نمبر 29 تا 35 : سار (وہ چلا) اھل (گھروالے ۔ گھر والی) ‘ انس (اس نے محسوس کیا) ‘ امکئوا (تم ٹھہرو) جذوۃ ( انگارہ۔ شعلہ۔ چنگاری) شاطی (کنارہ) وادالایمن (داہنا میدان) ‘ البقعۃ (جگہ) الق (ڈال دے۔ پھینک دے) تھتز (وہ پھنکارتا ہے۔ وہ لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ) ولی (وہ پلٹا) ‘ مدبر ( پیٹھ پھیر نے والا) ‘ لم یعقب (پیچھے مڑکرنہ دیکھا) اقبل (سامنے آ) اسلک (تو ڈال دے) اضمم (ملالے) الرھب (خوف۔ ڈر) افصح (زیادہ فصیح۔ اچھی زبان بولنے والا) ‘ ردا (مدد گار) ‘ سنشد (ہم عنقریب مضبوط کردیں گے) ‘ عضد (بازو) ‘ سلطان (غلبہ۔ قوت و طاقت) ۔ تشریح : آیت نمبر 29 تا 35 : حضرت شعیب (علیہ السلام) اور حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–34

فرعونی لوگوں پر عذاب الٰہی کا آنا۔ (ف 1) جب موسیٰ (علیہ السلام) پہلی جگہ آکھڑے ہوگئے تو پھر فرمایا اپنا ہاتھ اپنی بغل کے اندر ڈالو اور پھر نکالو وہ بلا کسی مرض کے نہایت روشن ہو کر نکلے گا، پھر فرمایا، اگر لکڑی کے سانپ بن جانے سے کچھ ڈرلگے تو سینہ پر ہاتھ رکھ لینے سے یہ ڈر جاتا رہے گا، پھر فرمایا یہ دونوں معجزے ہیں اور یہ تمہارے سندیں ہیں تمہارے رب کی طرف سے فرعون کی اور اس کے سرداروں کی طرف دونوں معجزے خدا نے بھیجے ہیں کہ وہ لوگ نافرمان ہیں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ یہ دونوں معجزے لے کر فرعون کے پاس جاؤ، تو موسیٰ نے کہا کہ میں نے تو ایک فرعونی کو قتل کیا تھا، میں اندیشہ کرتا ہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 33–38

[19] یہاں فرعون نے اپنے لئے اِلٰہ کا لفظ یعنی خالق و معبود نہیں بلکہ حاکم مطلق استعمال کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سرزمین مصر کا مالک میں ہوں اور یہاں میرا حکم چلے گا۔ یہ موسیٰ کون ہے جو اس طرح کے احکام سنا رہا ہے کہ گویا اصل حاکم وہ ہے۔ یہ واضح رہے کہ فرعون خود بہت سے دیوتاؤں کا پرستار تھا جیسا کہ سورة اعراف کی آیت 127 سے ظاہر ہے۔ لہذا اِلَہ کا مفہوم اس کے نزدیک وہی تھا جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 33–34

ف 1: حضرت موسیٰ نے فرمایا ۔ میں اس خدمت پر خوش ہوں ۔ اور میں بنی اسرائیل کی آزادی کے لئے ضرور کوشش کروں گا ۔ مگر وقت یہ ہے کہ تنہا اس ذمہ داری کو اپنے لئے گراں سمجھتا ہوں ۔ ہارون کو میرے ساتھ کردیجئے ۔ کیونکہ اس کی زبان مجھ سے زیادہ رواں ہے ۔ اور یہ بھی لازم ہے کہ شاید مجھے وہ قتل والے معاملہ میں مار نہ ڈالیں حل لغات : حل لغات :۔ رداً ۔ مددگار اور معاون

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

34۔ اور میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح اور رواں ہے آپ اس کو بھی میرے ہمراہ میرا مدد گار بنا کر بھیج دیں کہ وہ میرے دعوے اور میری باتوں کی تصدیق کرے اور میری نبوت کی تائید کرے کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ فرعون والے میری تکذیب کریں گے۔ یعنی چونکہ میری زبان میں لکنت ہے اور میں بولتے بولتے کبھی اٹک جاتا ہوں تو ہوسکتا ہے کہ وہ بد دین لوگ ہیں کہیں میری تضحیک کریں اور مجھ کو ہنسی میں اڑا دیں اس لئے میرے بھائی ہارون جو فصاحت لسانی کے اعتبار سے مجھ سے زیادہ فصیح ہیں اور اگر مناظرے کی نوبت آئی تو ان کی زبان کی روانی سے مدد ملے گی لہٰذا ان کو میرے ہمراہ مدد گار بنا کر بھیج دے کہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ تو اس وقت مناظرہ کی ضرورت ہوگی اور زبانی مناظرہ کے لئے رواں زبان عادتا زیادہ مفید ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) کی عرضداشت بدگارہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام : 34۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بدرگاہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام عرض کیا کہ اے میرے پروردگار ! میرے ہاتھ سے ایک مصری قتل ہوگیا تھا اگرچہ اس کا تصفیہ ہوچکا لیکن فرعون حکمران ہے وہ اس معاملہ کو میرے لئے پریشانی کا باعث بنا سکتا ہے اور اگر وہ چاہے گا کہ میں موسیٰ کو قتل کرا دوں تو وہ اس کا بہانہ بنا سکتا ہے اور پھر اور کچھ نہیں تو اس کو مجھے جھٹلاتے ہوئے تو کچھ دیر نہیں لگے گی اور بلاشبہ یہ قتل خطا کی ایک ایسی خطا ہے جو میرے گلے میں اٹکتی ہے اور مجھے صاف بات نہیں کرنے دیتی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی فطری کمزوری واضح طور پر اپنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–34

A sermon should have high degree of eloquence هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا (He is more fluent in his tongue - 28:34). This verse points out that a high degree of oratory and eloquence is desirable for sermons and preaching, and there is no harm if one takes training in that.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–35

48 This meeting of the Prophet Moses with Allah and the mutual conversation has been described in much greater detail in Surah Ta Ha (vv. 9-48). Anyone possessed of fine taste, who compares this Qur'anic version with the story given in the Bible (Exod., chs. 3, 4), will be himself able to judge which of the two is Divine Revelation and which the result of human story-telling. Besides, he will also be able to judge whether the Qur'anic version is, God forbid, a plagiarism of the Bible and Israelite traditions, or that God Himself is describing the actual event, Who had honoured Moses by…

Read the full tafseer →