Explained with ayahs 33–35
یاد ماضی
یہ گزر چکا کہ حضرت موسیٰ فرعون سے خوف کھاکر اس کے شہر سے بھاگ نکلے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے وہیں اسی کے پاس نبی بن کر جانے کو فرمایا تو آپ کو وہ سب یاد آگیا اور عرض کرنے لگے اے اللہ ان کے ایک آدمی کی جان میرے ہاتھ سے نکل گئی تھی تو ایسانہ ہو کہ وہ بدلے کا نام رکھ کر میرے قتل کے درپے ہوجائیں۔ حضرت موسیٰ نے بچپن کے زمانے میں جب کہ آپ کے سامنے بطور تجربہ کے ایک آگ اور ایک کھجور یا یک موتی رکھا تھا تو آپ نے انگارہ پکڑلیا تھا اور منہ میں ڈال لیا تھا اس واسطے آپ کی زبان میں کچھ کسر رہ گئی تھی اور اسی لیے آپ نے اپنی زبان کی بابت اللہ سے دعا مانگی تھی کہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
سورة القصص 47
اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس ڈر سے میں وہاں نہیں جانا چاہتا۔ بلکہ مطلب یہ تھا کہ حضور کی طرف سے ایسا کوئی انتظام ہونا چاہیے کہ میرے پہنچتے ہی کسی بات چیت اور ادائے رسالت کی نوبت آنے سے پہلے وہ لوگ مجھے الزام قتل میں گرفتار نہ کرلیں، کیونکہ اس صورت میں تو وہ مقصد ہی فوت ہوجائے گا جس کے لیے مجھے اس مہم پر بھیجا جارہا ہے۔ بعد کی عبارت سے یہ بات خود واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت موسیٰ کی اس گزارش کا یہ مدعا ہرگز نہیں تھا کہ وہ ڈر کے مارے نبوت کا منصب قبول کرنے اور فرعون کے ہاں جانے سے انکار کرنا چاہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
نُوْدِيَ مِنْ شَا 8 الْوَادِ الْاَيْمَنِ (الی) اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، یہ مضمون بضمن قصہ موسیٰ ؑ سورة طہ اور سورة نمل میں گزرا ہے۔ سورة طہ میں ہے اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ اور سورة نمل میں ہے نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّار اور اس سورت میں ہے اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ یہ الفاظ اگرچہ مختلف ہیں مگر معنی تقریباً ایک ہی ہیں واقعہ کی حکایت پر ہر مقام کے مناسب الفاظ سے کی گئی ہے (کذا قال الامام) اور یہ تجلی بشکل نار تجلی مثالی تھی کیونکہ تجلی ذاتی کا مشاہدہ اس دنیا میں کسی کو نہیں ہوسکتا اور خود موسیٰ ؑ کو اس تجلی ذاتی کے اعتبار سے لَن تَرَانِی فرمایا گیا…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ کا ایک اندیشہ
حضرت موسیٰ اس عظیم مہ کے لئے حکم الٰہی کی تعمیل میں تیار تو ہوگئے لیکن ساتھ ہی اپنے ایک اندیشہ کا بھی انہوں نے اظہار فرمایا کہ میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے اس وجہ سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے دیکھتے ہی قتل کردیں گے۔ حضرت موسیٰ کا مطلب یہ تھا کہ یوں تو میں آٹھ دس سال باہر گزارنے کے بعد مصر جا رہا ہوں اس وجہ سے گمان ہے کہ شاید وہ اس واقعہ کو بھول چکے ہوں لیکن ایک رسول کی حیثیت سے اگر میں ان کے اس گیا تو بھلا وہ کب مجھے معاف کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →33-1یہ خطرہ تھا جو واقع حضرت موسیٰ ؑ کی جان کو لاحق تھا، کیونکہ ان کے ہاتھوں ایک قبطی قتل ہوچکا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
21: لاٹھی کے سانپ بننے اور ہاتھ سے اچانک روشنی نکلنے کے واقعات سے جو طبعی گھبراہٹ ہوئی، اس کا علاج بھی اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ جس ہاتھ کو بغل سے نکالا تھا، اور وہ چمکنے لگا تھا، اسے دوبارہ اپنے جسم سے لپٹا لو، تو گھبراہٹ دور ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
فلما قضی موسیٰ الاجل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعکما الغلبون (29- 35)
قبل اس کے کہ ہم اس حلقے کے ان دو مناظر پر تفصیلی گفتگو کریں ، ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ ان دس سالوں کے وقفے میں اللہ نے حضرت موسیٰ کے حوالے سے کیا تدابیر اختیار کیں اور کیا اقدامات کیے۔ اس سفر اور آنے جانے میں کیا حکمت تھی۔
دست قدرت کو یوں منظور تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایک قدم آگے بڑھتے جائیں۔ یعنی اس وقت سے لے کر جب وہ شیرخوار بچہ تھے ، ان کی موجودہ پوزیشن تک ان کے ستاھ دست قدرت کا معاملہ کیا رہا۔ ان کو دریا میں پھنکا گیا تاکہ فرعون کے لوگ اسے پکڑلیں۔ ان کو دیکھ کر فرعون کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی یا کردی گئی کہ وہ عین…
Read the full tafseer →4 یعنی پہنچتے ہی قتل کردیا تو آپ کی دعوت کیسے پہنچاؤں گا۔
Read the full tafseer →آیت 33 قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْہُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ ”
اگر میں مصر پہنچ کر خاموشی سے کسی جگہ آباد ہوجاؤں تو شاید محفوظ رہ سکوں ‘ لیکن اگر میں سیدھا فرعون کے دربار میں چلا گیا تو اندیشہ ہے کہ فوری طور پر میرے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا اور مجھے قتل کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
44 موسیٰ اس زبردست آزمائش سے انکار نہ کرسکے البتہ جو خطرات اس مہم میں انھیں نظر آرہے تھے وہ ضرور عرض کردیئے ایک یہ کہ کہیں وہ سابقہ جرم میں دھر کر قتل ہی نہ کر ڈالیں اور دوسرا یہ کہ جو لوگ خود خدا بنے بیٹھے ہیں وہ میری یہ دعوت کیسے قبول کریں گے ؟ لہذا مجھے کم از کم ایک ساتھی ضرور درکار ہے۔ اگر میرے ہارون کو بھی نبوت عطا کردیں تو ایک تو اس کی زبان فصیح ہے۔ جو بات میں پیش کروں اسے وضاحت سے پیش کر دے گا۔ دوسرے وہ ایک آدمی تو میرا مددگار ہو۔ جب سب لوگ مجھے جھٹلا دیں تو ایک تو میری تصدیق کرنے والا ہو۔ جس سے مجھے کچھ سہارا مل جائے اور وہ بھی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکے۔
Read the full tafseer →46۔ (اسی خون کے عوض میں، اور آگے کچھ میری سنیں ہی نہیں) فرعون کے سلسلہ میں یہ خوب ذہن نشین رہے کہ وہ ایک خود مختار، مطلق العنان جابر بادشاہ تھا۔ اس کے فیصلے کے خلاف اپیل کی کہیں گنجائش نہیں تھی، وہ اپنے اختیارات سے سب کچھ کرسکتا تھا۔ یہ مضمون بھی اوپر کئی بار آچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
آیت نمبر 33 تا 42
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھ سے ان کے ایک شخص کا خون ہوگیا تھا اور وہی وہی سابق قبطی تھا مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس کے عوض میں مجھے بھی قتل کر ڈالیں اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے تو اسے بھی (میرا) معاون بنا کر بھیج دیجئے ایک قرأۃ میں ردًا دال کے فتحہ کے ساتھ بغیر ہمزہ کے ہے وہ میری تائید کریں گے یُصَدِّقُنِیْ جزم کے ساتھ جواب دعاء (ارسِلْہٗ کا) اور ایک قرأۃ قاف کے رفع کے ساتھ جملہ ہو کر ردءًا کی صفت ہونے کی وجہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں، ارشاد ہوا ہم ابھی تمہارے بھائی کو تمہارا قوت بازو بنائے دیتے ہیں (یعنی)…
Read the full tafseer →قال رب انی قتلت منھم نفسا فاخاف ان یقتلون موسیٰ نے کہا : اے میرے رب ! میں نے ان کا آدمی قتل کردیا ہے اس لئے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے
Read the full tafseer →(33) حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا میں نے ان کا ایک آدمی مار دیا تھا مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس کے بدلے میں وہ مجھے قتل نہ کردیں۔
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اِنِّىْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا۔۔ : موسیٰ ؑ نے یہ بات ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کے لیے نہیں کہی، بلکہ اس سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات میں مدد کی درخواست کے لیے کہی۔ چناچہ ان خطرات کا ذکر کیا جو انھیں اس سلسلے میں نظر آرہے تھے اور اللہ تعالیٰ سے ان خطرات میں مدد کی ضمانت حاصل کرلی۔ (تفسیر بقاعی میں ہے کہ یہ پیش بینی اس جلیل القدر پیغمبر کی عادت مبارکہ تھی، دیکھیے انھوں نے کس طرح ہماری بھلائی کے لیے بار بار نبی کریم ﷺ کو تخفیف کی درخواست کے لیے اللہ تعالیٰ کی جناب میں واپس جانے کو کہا) ان میں سے پہلا خطرہ یہ بیان کیا کہ میں نے ان کا ایک آدمی قتل کیا ہے، اس لیے ڈرتا ہوں کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
اسلک یدک فی جیبک اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے واضم الیک جناح من الرھب من حرف جار ولی کے متعلق ہے یعنی ولی مدبرا من الرشب۔ حفص، سلمی، عیسیٰ بن عمر اور ابن ابی اسحاق نے من الرھب راء کے فتحہ اور ہاء کے سکو ن کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن عامر، کوفہ کے قراء نے سوائے حفص کے راء کے ضمہ اور ہاء کی جزم کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی فراء نے راء اور ہاء دونوں کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبید اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ویدعوننا رغباً و رھباً (الانبیائ : 90) یہ سب غتیں ہیں اور معنی خوف ہے۔ معنی ہے جب تیرے ہاتھ کا معاملہ اور اس کی شعاع تجھے پریشان کرے تو اسے اپنے گریبان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت ولی مدبرا سے لے کر آیت من الرھب کے بارے میں فرمایا کہ یہ تقدیم قرآن میں سے ہے۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واضمم الیک جناحک میں جناحک سے مراد ہے اپنا ہاتھ۔
3۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واضمم الیک جناحک یعنی اپنے ہاتھ کو اپنے بازو کے نیچے کرلو آیت من الرہب یعنی خوف سے آیت فذنک برہانٰن (یعنی یہ دو دلیلیں ہیں) لاٹھی اور ہاتھ آیت ردأ یعنی مددگار آیت ونجعل لکما سلطنا تاکہ ہم بتادیں تمہارے لیے ایک حجت
4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والم یعقب…
Read the full tafseer →قَالَ [(موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا ] رَبِّ [اے میرے رب ] اِنِّىْ قَتَلْتُ [بیشک میں نے قتل کیا ] مِنْهُمْ [ان میں سے ] نَفْسًا [ایک جان (شخص) کو ] فَاَخَافُ [تو میں ڈرتا ہوں ] اَنْ يَّقْتُلُوْنِ [کہ وہ قتل کریں گے مجھ کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–36
رسالت سے سر فراز ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مصر کو واپس ہونا، پھر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس پہنچ کر حق کی دعوت دینا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپس ہوتے ہوئے وادی طویٰ میں نبوت سے سرفراز کیے گئے اور وہیں انہوں نے اللہ جل شانہٗ سے دعا کی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی رسول بنا دیجیے تاکہ میں اور وہ مل کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جائیں اور آپ کا فرمان پہنچائیں اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرما دی، جس کی کچھ تفصیل گزر چکی ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر پہنچے تو اپنے گھر گئے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ساتھ لیا۔ دونوں مل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
قال اللہ تعالیٰ فلما قضی موسیٰ الاجل وسار باھلہ الی۔۔۔ ویوم القیمۃ ہم من المقبوحین۔
الغرض جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہ کر پوری مدت گزار دی یعنی دس برس تک بکریاں چرائیں اور دس برس تک ایک نبی کی صحبت میں رہے اور مجاہدہ اور ریاضت اور باطنی تربیت کی منزلیں طے ہوگئیں اور چالیس سال کی سن کو پہنچے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی زوجہ اور اہل خانہ کو لے کر مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اہل قرابت سے جا کر ملیں اور طور کے آس پاس پہنچے۔ رات کا وقت تھا اندھیری چھائی ہوئی تھی اور سخت سردی تھی۔ اتفاق سے راہ بھٹک گئے ایسے وقت میں طبعا آگ کی تلاش ہوتی ہے۔ کوہ…
Read the full tafseer →32:۔ منصب رسالت پر فائز ہونے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین تھا کہ اب اللہ تعالیٰ کی تائید و حمایت ہر وقت ان کے شامل حال رہے گی لیکن وہ قتل قبطی کے معاملے کو اللہ کے سامنے پیش کر کے اللہ کی جانب سے حفظ وامان کے وعدے کی صراحت چاہتے تھے اس لیے اس کا ذکر کیا۔ اس سے ان کا یہ مطلب ہرگز نہ تھا کہ وہ رسالت سے استعفاء چاہتے ہیں۔ طلب من اللہ تالیٰ ما یقوی قلبہ و یزیل خوفہ (کبیر ج 6 ص 606) ولمراد بہذا الخبر طلب الحفظ والتائید لا بلاغ الرسالۃ علی اکمل وجہ لا الاستعفاء من الارسال (روح ج 20 ص 77) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
ربط آیات
یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کا ذکر ہو رہا ہے ۔ جب آپ شعیب (علیہ السلام) کے گھر پہنچے تو آپ کو اطمینان حاصل ہوا کہ فرعونیوں کے مظالم سے بچ گئے ہیں ۔ شعیب (علیہ السلام) کی دو بیٹیوں میں سے ایک نے اپنے باپ کو مشورہ دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو نوکر رکھ لیا جائے ۔ یہ شخص بڑا طاقتور اور امانتدار ہے ۔ شعیب (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پیش کش کی میں دو میں سے ایک بیٹی کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں گا ۔ بشرطیکہ تم کم از کم آٹھ سال میرے یہاں نوکری کرو۔ تم دس سال پورے کر دو تو یہ تمہاری منشاء پر منحصرہو گا اور میری طرف سے کوئی اصرار نہیں ہوگا ، البتہ میں تمہارے ساتھ انشاء اللہ…
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اِنِّىْ قَتَلْتُ مِنْہُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ يَّقْتُلُوْنِ 33
قتل
أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144]
( ق ت ل ) القتل
( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–38
1 ؎ ذکر جاء اللہ فی معینین احدھما حقیقۃ وھو انہ لما قلب اللہ لعصاحیۃ فزع واضظرب فاتقاھا بیدہ کھا یفعل الخائف من الشئی فقیل ران اتقاءک بیدک فیہ نقصان تدرک عند الاحدار فان اتقیتہا فکما تنقلب حیۃ فادخل یدک تحت عضدف مکان اتقاءک بہاثم اخرجھا بیضاء لیحصل الامر ان اجتناب النقص و اظہار معجزہ اخری وثاینہما مجاز وھو ان یرد بفہم الجناح التجلد وضبط النفس حتی لا یضطرب فیکون استعارۃ من فعل الطائر لانہ اذا فاف ارخی جناجبہ والا ضمہما ومعنی الرہب من اجل الخوف (نیشا پوری)
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْہُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّـقْتُلُوْنِ ۔ (القصص : 33)
(حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے رب ! میں تو ان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں، ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک اندیشہ
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فریضہ رسالت کی ادائیگی کے لیے جب فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا گیا تو انھوں نے عرض کیا، میرے آقا تعمیلِ حکم میں سرتابی کی مجال نہیں، میں دل و جان سے اس کے لیے آمادہ ہوں۔ البتہ دل میں ایک کھٹکا سا لگا ہوا ہے کہ میرے ہاتھوں سے ان کا ایک آدمی مارا گیا تھا۔ اگرچہ میں اس کے قتل کا ارادہ نہیں رکھتا تھا، لیکن وہ لوگ تو بہرصورت مجھے اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
فہم القرآن
ربط کلام : عظیم معجزات ملنے کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے خوفزدہ ہونا۔
جوں ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر زمین پر رینگنے لگا۔ اتنا بڑا سانپ دیکھ کر حضرت موسیٰ ڈر کر بھاگنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا موسیٰ ڈرو نہیں بلکہ آگے ہو کر پکڑ لو۔ یہ پہلے کی طرح لاٹھی بن جائے گا اور آپ مامون رہیں گے۔ اپنا ہاتھ بغل میں دبا کر نکال یہ بغیر کسی تکلیف کے چمکتا ہوا ظاہر ہوگا خوف کے وقت ہاتھ کو بغل میں دبا لینا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر چھوڑ کر مدین اس لیے گئے تھے کہ ان سے سہوًا ایک شخص قتل ہوگیا تھا۔ فرعون اور اس…
Read the full tafseer →33: قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْہُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ (کہا اے میرے رب ! بیشک میں نے ان میں سے ایک جان کو قتل کیا۔ ) اَنْ یَّقْتُلُوْنِ (پس مجھے خطرہ ہے کہ وہ اس کی وجہ سے مجھے قتل کردیں گے) ۔ قراءت : یعقوب نے یاء سے پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
34۔ واخی ہارون ھوافصح منی لسانا، ، یہ اس وجہ سے حضرت موسیٰ نے کہا تھا کہ بچپن میں انہوں نے جلتا ہوا انگارہ منہ میں رکھ لیا تھا، فارسلہ معنی رداء بمعنی مددگار ۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے رداتہ ای اعنتہ میں نے اس کی مدد کی ، رداء دال کے فتحہ کے ساتھ تخفیف کے ساتھ۔ باقی قراء نے دال کے سکون کے ساتھ ۔ یصدقنی ابن عمر عامر حمزہ نے رفع کے ساتھ قاف پر حال ہونے کی وجہ سے اور دوسرے قراء نے مجزوم پڑھا ہے جواب الدعا ہے حضرت ہارون کی تمام باتوں میں تصدیق کی۔ مقاتل کا بیان ہے کہ ، یصدقنی ، کی ضمیر فرعون کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ کہ اگر تو میرے ساتھ ہارون کو پیغمبر بناکربھیج دے انی خاف ان یکذبون، یعنی فرعون اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
29 تا 34۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں مدتوں میں سے دس برس کی مدت کو پورا کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر کے جانے کا اور اپنے بھائی اور اپنی ماں سے ملنے کا شوق ہوا اور وہ شعیب (علیہ السلام) سے رخصت ہوئے ان کے ساتھ ان کی بی بی اور بکریاں تھیں جو شعیب (علیہ السلام) نے ان کو دی تھیں یہ سفر جاڑے کے موسم کا تھا اور اندھیری رات میں راستہ بھی بھول گئے تھے اسی حالت میں انہوں نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا تم ٹھہرو میں جاتا ہوں تاکہ راستہ کی کچھ خبر لاؤں اور تاپنے کے لیے کچھ آگ بھی لیتا آؤں جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے پاس آئے جو کوہ طور کے جانب کو تھی یہ آگ ایک سبز درخت میں دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–54
شعراء کی دو اقسام
قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
45 راہ حق میں معاون و مددگار کے لیے دعا و درخواست : سو اس سے حضرت موسیٰ کی طرف سے اپنے رب کے حضور اپنے لیے ایک مددگار و معاون کی دعا و درخواست کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو حضرت موسیٰ حکم الہی کی تعمیل میں اس عظیم الشان مہم پر روانگی کے لیے تیار ہوگئے لیکن اس کے ساتھ ہی اس بارے اپنے ایک خدشے کا بھی اظہار کیا کہ میں نے ان لوگوں کا ایک آدمی قتل کیا ہوا ہے جس کی بنا پر مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ وہ مجھے دیکھتے ہی قتل کردیں گے۔ اور دوسری عرض اپنے رب کے حضور آپ نے یہ پیش کی کہ میرے بھائی ہارون چونکہ مجھ سے زیادہ فصیح ہیں اس لیے ان کو میرا معین اور مددگار مقرر فرمایا جائے تاکہ وہ میری معاونت کریں۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–46
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
آیات 29 تا 46
اسرارومعارف
چنانچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عرصہ پورا کردیا جس کا وعدہ فرمایا تھا تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس مصر کو روانہ ہوئے کہ گھر والوں سے بچھڑے ہوئے دس سال بیت چکے تھے روایات کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس پورے کیے۔ راستے میں رات ہوگئی موسم بھی سرد تھا تو کوہ طور پر جو آپ کی راہ کے ساتھ پڑتا تھا روشنی دیکھی جیسے کسی نے آگ روشن کی ہو۔ تو اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ آپ لوگ یہاں انتظار کریں میں وہاں جاتا ہوں ممکن ہے کوئی راستے کے بارے خبر وہاں سے مل جائے کہ لگتا ہے کہ ہم راستہ بھول رہے ہیں اور آگ بھی لیتا آؤں گا یہاں جلا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
1 ۔ کیونکہ میں اتنا زبان آور نہیں ہوں کہ اکیلا ان کی ہر دلیل کا فوراً توڑ کرتا رہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
(28:32) اسلک فعل امر واحد مذکر حاضر۔ سلوک (باب نصر) مصدر۔ السلوک کے اصل معنی راستہ پر چلنے کے ہیں۔ یہ فعل متعدی (بمعنی اسلک) بھی استعمال ہوتا ہے۔ پہلے معنی میں فاسلکی سبل ربک ذئلا۔ (16:69) اور اپنے پروردگار کے راستوں پر بےروک ٹوک چلی جا۔
دوسرے معنی میں ما سلککم فی سقر (74:42) تم کو دوزخ میں کونسی بات لے آئی ۔ پھر یہ داخل ہونے یا داخل کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے مثلاً سلک المکان۔ مکان میں داخل ہونا۔ اور فاسلک فیہا (23:27) تو اس میں (یعنی کشتی میں) بٹھالے یا داخل کرلے۔ اس دوسرے معنی میں ہی اسلک یدک ہے تو اپنے ہاتھ کو داخل کر یا ڈال۔
جیبک مضاف مضاف الیہ۔ تیرا گریبان اور جیب الثوب قمیص کی وہ جیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
لغات القرآن : آیت نمبر 29 تا 35 :
سار (وہ چلا) اھل (گھروالے ۔ گھر والی) ‘ انس (اس نے محسوس کیا) ‘ امکئوا (تم ٹھہرو) جذوۃ ( انگارہ۔ شعلہ۔ چنگاری) شاطی (کنارہ) وادالایمن (داہنا میدان) ‘ البقعۃ (جگہ) الق (ڈال دے۔ پھینک دے) تھتز (وہ پھنکارتا ہے۔ وہ لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ) ولی (وہ پلٹا) ‘ مدبر ( پیٹھ پھیر نے والا) ‘ لم یعقب (پیچھے مڑکرنہ دیکھا) اقبل (سامنے آ) اسلک (تو ڈال دے) اضمم (ملالے) الرھب (خوف۔ ڈر) افصح (زیادہ فصیح۔ اچھی زبان بولنے والا) ‘ ردا (مدد گار) ‘ سنشد (ہم عنقریب مضبوط کردیں گے) ‘ عضد (بازو) ‘ سلطان (غلبہ۔ قوت و طاقت) ۔
تشریح : آیت نمبر 29 تا 35 :
حضرت شعیب (علیہ السلام) اور حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
فرعونی لوگوں پر عذاب الٰہی کا آنا۔
(ف 1) جب موسیٰ (علیہ السلام) پہلی جگہ آکھڑے ہوگئے تو پھر فرمایا اپنا ہاتھ اپنی بغل کے اندر ڈالو اور پھر نکالو وہ بلا کسی مرض کے نہایت روشن ہو کر نکلے گا، پھر فرمایا، اگر لکڑی کے سانپ بن جانے سے کچھ ڈرلگے تو سینہ پر ہاتھ رکھ لینے سے یہ ڈر جاتا رہے گا، پھر فرمایا یہ دونوں معجزے ہیں اور یہ تمہارے سندیں ہیں تمہارے رب کی طرف سے فرعون کی اور اس کے سرداروں کی طرف دونوں معجزے خدا نے بھیجے ہیں کہ وہ لوگ نافرمان ہیں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ یہ دونوں معجزے لے کر فرعون کے پاس جاؤ، تو موسیٰ نے کہا کہ میں نے تو ایک فرعونی کو قتل کیا تھا، میں اندیشہ کرتا ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
[19] یہاں فرعون نے اپنے لئے اِلٰہ کا لفظ یعنی خالق و معبود نہیں بلکہ حاکم مطلق استعمال کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سرزمین مصر کا مالک میں ہوں اور یہاں میرا حکم چلے گا۔ یہ موسیٰ کون ہے جو اس طرح کے احکام سنا رہا ہے کہ گویا اصل حاکم وہ ہے۔ یہ واضح رہے کہ فرعون خود بہت سے دیوتاؤں کا پرستار تھا جیسا کہ سورة اعراف کی آیت 127 سے ظاہر ہے۔ لہذا اِلَہ کا مفہوم اس کے نزدیک وہی تھا جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
ف 1: حضرت موسیٰ نے فرمایا ۔ میں اس خدمت پر خوش ہوں ۔ اور میں بنی اسرائیل کی آزادی کے لئے ضرور کوشش کروں گا ۔ مگر وقت یہ ہے کہ تنہا اس ذمہ داری کو اپنے لئے گراں سمجھتا ہوں ۔ ہارون کو میرے ساتھ کردیجئے ۔ کیونکہ اس کی زبان مجھ سے زیادہ رواں ہے ۔ اور یہ بھی لازم ہے کہ شاید مجھے وہ قتل والے معاملہ میں مار نہ ڈالیں
حل لغات : حل لغات :۔ رداً ۔ مددگار اور معاون
Read the full tafseer →33۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے پروردگار میں نے ان میں سے ایک شخص کو قتل کردیا تھا میں ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھ کو قتل نہ کر ڈالیں۔ یعنی مجھے دیکھتے ہی ان کو وہ قتل کا واقعہ یاد آئے اور وہ سب سے پہلے مجھ کو قتل ہی کر ڈالیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ف 1۔ اور تبلیغ بھی نہ ہونے پاوے۔
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کے دربار میں حاضر ہونے کا عذر اور اس کا جواب :
33۔ یہی وہ آیت ہے جس سے مفسرین نے یہ استدلال کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے جب نکلے تھے تو مصر جانے کے ارادہ سے نہیں نکلے تھے اگر مصر جانے کا ارادہ ہوتا تو جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کے پاس پیغام لے جانے کا کہا تھا آپ یہ بیان کیوں دیتے کہ ” میرے اللہ ! میں تو ان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے “ حالانکہ حقیقت یہ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے جانے کا جو ارادہ تھا اس میں اپنے خاندان میں رہنے کے لئے جانے کا تھا فرعون کو کوئی راہ دکھانے کا ارادہ نہیں تھا اور ظاہر ہے کہ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
A sermon should have high degree of eloquence
هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا (He is more fluent in his tongue - 28:34). This verse points out that a high degree of oratory and eloquence is desirable for sermons and preaching, and there is no harm if one takes training in that.
Read the full tafseer →47 It did not mean that he was hesitant to go there because of the fear, but it meant this: "Kindly make some such arrangement that I am not apprehended on the charge of murder just on arrival even before I may convey to them Your message, for in that case the very object for which I am being sent will be defeated." The next verse makes it plain that the Prophet Moses, by this submission, did not at all mean to reject the office of Prophethood and refuse to go before Pharaoh because of the fear.
Read the full tafseer →