Al-Qasas 28:32

Al-Qasas · from ayah 32

28:32

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ ؗ— وَّاضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ ؕ— اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ ۟اُسۡلُكۡ يَدَكَ فِىۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ‌ فَذٰنِكَ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَا۟ئِهٖؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ

اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا اور خوف دور ہونے (کی وجہ) سے اپنے بازو کو اپنی طرف سیکڑلو۔ یہ دو دلیلیں تمہارے پروردگار کی طرف سے ہیں (ان کے ساتھ) فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Insert your hand into the opening of your garment; it will come out white, without disease. And draw in your arm close to you [as prevention] from fear, for those are two proofs from your Lord to Pharaoh and his establishment. Indeed, they have been a people defiantly disobedient."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 4 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:32

اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے اور خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازو بھینچ لے یہ دو روشن نشانیاں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے، وہ بڑے ہی نافرمان لوگ ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا اور خوف دور ہونے (کی وجہ) سے اپنے بازو کو اپنی طرف سیکڑلو۔ یہ دو دلیلیں تمہارے پروردگار کی طرف سے ہیں (ان کے ساتھ) فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ڈال وه بغیر کسی قسم کے روگ کے چمکتا ہوا نکلے گا بالکل سفید اور خوف سے (بچنے کے لیے) اپنے بازو اپنی طرف ملا لے، پس یہ دونوں معجزے تیرے لیے تیرے رب کی طرف سے ہیں فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، یقیناً وه سب کے سب بےحکم اور نافرمان لوگ ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر چمکتا ہوا نکلے گا، اور ڈر دور کرنے کے لیے اپنا بازو اپنے جسم سے لپٹا لینا اب یہ دو زبردست دلیلیں ہیں جو تمہارے پروردگار کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس بھیجی جارہی ہیں۔ وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال نکلے گا سفید چمکتا بے عیب اور اپنا ہاتھ سینے پر رکھ لے خوف دور کرنے کو تو یہ دو حُجتیں ہیں تیرے رب کی فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بیشک وہ بے حکم لوگ ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ بغیر کسی عیب کے سفید چمک دار ہوکر نکلے گا اور خوف (دور کرنے کی غرض) سے اپنا بازو اپنے (سینے کی) طرف سکیڑ لو، پس تمہارے رب کی جانب سے یہ دو دلیلیں فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف (بھیجنے اور مشاہدہ کرانے کے لئے) ہیں، بیشک وہ نافرمان لوگ ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں داخل کر، وہ کسی عیب کے بغیر سفید (چمکدار) نکلے گا اور خوف سے (بچنے کے لیے) اپنا بازو اپنی جانب ملالے، سو یہ دونوں تیرے رب کی جانب سے فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف دو دلیلیں ہیں۔ بلاشبہ وہ ہمیشہ سے نافرمان لوگ ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(نیز) اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ بغیر کسی تکلیف کے چمکتا ہوا نکلے گا۔ اور اگر ذرا محسوس ہو تو اپنا بازو اپنے جسم، سے لگا لو۔ سو یہ تیرے پروردگار کی طرف سے دو معجزے ہیں جنہیں تم فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرسکتے ہو۔ وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو وہ بغیر کسی مرض کے سفید نکلے گا اور سکیٹر لو اپنا بازو جس طرح خوف سے سکیٹر لیتے ہیں۔ پس یہ تیرے رب کی جانب سے دو نشانیاں ہیں فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جانے کے لئے۔ بیشک وہ بڑے ہی نافرمان لوگ ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور مزید یہ کہ ڈالو اپنا ہاتھ گریباں میں وہ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی بیماری اور عیب کے اور سکیڑ لو اپنا ہاتھ گریباں یا بغل کی طرف خوف کو رفع کرنے کے لئے سو یہ دو بڑی سندیں ہیں آپ کے رب کی جانب سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بیشک وہ بڑے بدکار لوگ ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ روشن ہو کر نکلے گا بغیر کسی مرض کے اور خوف (رفع کرنے) کے واسطے اپنا بازو پھر اپنے سے ملا لینا۔ سو یہ دو سندیں ہیں تمہارے پروردگار کی طرف سے فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس (جانے کے لئے) بیشک وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ نکلے گا سفید ہو کر بغیر کسی بیماری کے اور اپنا بازو اپنے ساتھ چپکا لو خوف سے (بچنے کے لیے) تو یہ دو نشانیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف یقیناً وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔ اور خوف دور ہونے کی وجہ سے اپنے بازو کو اپنی طرف سکیڑ لو۔ یہ دو معجزے تمہارے رب کی طرف سے ہیں۔ ان کے ساتھ فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Put your hand into your bosom, and it will come out shining without any blemish; and draw your hand close to your body to still your fear. Those are the two clear Signs from your Lord for Pharaoh and his chiefs, for truly they are a disobedient people."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Insert your hand into your bosom, and it will come out white without any evil (disease), and press your arm to your side for (removing) fear. Thus these are two proofs from your Lord (sent) to Pharaoh and his chiefs. Indeed they are transgressing people.

— Muhammad Taqi Usmani

Insert your hand into your bosom, and it will come out white without any evil (disease), and press your arm to your side for (removing) fear. Thus these are two proofs from your Lord (sent) to Pharaoh and his chiefs. Indeed they are transgressing people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Put your hand into the opening of your garment, it will come forth white without a disease; and draw your hand close to your side to be free from the fear. These are two proofs from your Lord to Fir`awn and his chiefs. Verily, they are the people who are rebellious."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thrust thy hand into the bosom of thy robe it will come forth white without hurt. And guard thy heart from fear. Then these shall be two proofs from your Lord unto Pharaoh and his chiefs. Lo! they are evil-living folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Insert your hand into the opening of your garment; it will come out white, without disease. And draw in your arm close to you [as prevention] from fear, for those are two proofs from your Lord to Pharaoh and his establishment. Indeed, they have been a people defiantly disobedient."

— Saheeh International

Place your hand in your pocket; it will come out sheer white but not sick. Be humble for fear of God and show these two miracles of your Lord to the Pharaoh and his officials; they are an evil-doing people."

— Muhammad Sarwar

Enter your hand into the opening of your bosom, it will come forth white without evil, and draw your hand to yourself to ward off fear: so these two shall be two arguments from your Lord to Firon and his chiefs, surely they are a transgressing people.

— Muhammad Habib Shakir

Slip thy hand in thy bosom, it shall come forth white without hurt; and draw back thy arm unto thee for fear. These shall be two proofs from thy Lord unto Fir'awn and his chiefs; verily they have been a people given to transgression.

— Abdul Majid Daryabadi

"Move thy hand into thy bosom, and it will come forth white without stain (or harm), and draw thy hand close to thy side (to guard) against fear. Those are the two credentials from thy Lord to Pharaoh and his Chiefs: for truly they are a people rebellious and wicked."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 29–32

دس سال حق مہر پہلے یہ بیان گزرچکا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ الاجل سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے واللہ اعلم۔ بلکہ حضرت مجاہد کا تو قول ہے کہ دس سال یہ اور دس سال اور بھی گزرے۔ اس قول میں یہ صرف تنہا ہے۔ واللہ اعلم۔ اب حضرت موسیٰ ؑ کو خیال اور شوق پیدا ہوا کہ چپ چاپ وطن میں جاؤں اور اپنے والوں سے مل آؤں چناچہ آپ اپنی بیوی صاحبہ کو اور اپنی بکریوں کو لے کر وہاں سے چلے رات کو بارش ہونے لگی اور سرد ہوائیں چلنے لگیں اور سخت اندھیرا ہوگیا۔ آپ ہرچند چراغ جلاتے تھے مگر روشنی نہیں ہوتی تھی۔ سخت متعجب اور حیران تھے اتنے میں دیکھتے ہیں کہ کچھ دور آگ روشن ہے تو اپنی اہلیہ صاحبہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القصص 44 یہ دونوں معجزے اس وقت حضرت موسیٰ کو اس لیے دکھائے گئے کہ اول تو انہیں خود پوری طرح یقین ہوجائے کہ فی الواقع وہی ہستی ان سے مخاطب ہے جو کائنات کے پورے نظام کی خالق ومالک اور فرماں روا ہے۔ دوسرے وہ ان معجزوں کو دیکھ کر مطمئن ہوجائیں کہ جس خطرناک مشن پر انہیں فرعون کی طرف بھیجا جارہا ہے اس کا سامنا کرنے کے لیے وہ بالکل نہتے نہیں جائیں گے بلکہ دو زبردست ہتھیار لے کر جائیں گے۔ سورة القصص 45 یعنی جب کبھی کوئی خطرناک موقع ایسا آئے جس سے تمہارے دل میں خوف پیدا ہو تو اپنا بازو بھینچ لیا کرو، اس سے تمہارا دل قوی ہوجائے گا اور رعب و دہشت کی کوئی کیفیت تمہارے اندر باقی نہ رہے گی۔ بازو سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–33

نُوْدِيَ مِنْ شَا 8 الْوَادِ الْاَيْمَنِ (الی) اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، یہ مضمون بضمن قصہ موسیٰ ؑ سورة طہ اور سورة نمل میں گزرا ہے۔ سورة طہ میں ہے اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ اور سورة نمل میں ہے نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّار اور اس سورت میں ہے اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ یہ الفاظ اگرچہ مختلف ہیں مگر معنی تقریباً ایک ہی ہیں واقعہ کی حکایت پر ہر مقام کے مناسب الفاظ سے کی گئی ہے (کذا قال الامام) اور یہ تجلی بشکل نار تجلی مثالی تھی کیونکہ تجلی ذاتی کا مشاہدہ اس دنیا میں کسی کو نہیں ہوسکتا اور خود موسیٰ ؑ کو اس تجلی ذاتی کے اعتبار سے لَن تَرَانِی فرمایا گیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اسلک یدک فی جیباک تخرج بیضآء من غیر سوٓء واضمم الیک جناحک من الرھب فذنک برھانن من ربک الی فرعون وملا بہ الھمم کانوا قوماً فسقین (32) دوسرا معجزہ اور اس کے ظہور کا طریقہ یہ دوسرے معجزے کے ظہور کا طریقہ بنایا گیا کہ تم اپنا ہاتھ کو بیان میں ڈالو، پھر جب اس کو لگا لو کے تو وہ بغیر کسی مرض کے چٹا سفید نکلے گا۔ واضمم الیک جناحک من الرھب یہ ہاتھ کو گریبان میں ڈالنے کا طریقہ بتایا گیا کہ جس طرح کوئی شخص ڈر سے اپنے بازو بھینچ لاتا ہے اس طرح تم اپنے ہاتھ بازو کے اندر ڈال کر اس کو بھینچ لو۔ یہی مضمون سورة طہ میں یوں بیان ہوا ہے۔ واضمم یدک الی جناحک تخرج بیضآء من غیر سوٓء (22) اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

32-1یہ ید بیضاء دوسرا معجزہ تھا جو انھیں عطا کیا گیا۔ 32-2لاٹھی کا اژدھا بن جانے کی صورت میں جو خوف حضرت موسیٰ ؑ کو لاحق ہوتا تھا، اس کا حل بتلا دیا گیا کہ اپنا بازو اپنی طرف ملا لیا کرو یعنی بغل میں دبا لیا کرو جس سے خوف جاتا رہا کرے گا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ عام ہے کہ جب بھی کسی سے کوئی خوف محسوس ہو تو اس طرح کرنے سے خوف دور ہوجائے گا۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ کی اقتداء میں جو شخص بھی گھبراہٹ کے موقع پر اپنے دل پر ہاتھ رکھے گا، تو اس کے دل سے خوف جاتا رہے گا یا کم از کم ہلکا ہوجائے گا۔ ان شاء اللہ۔ 32-3یعنی فرعون اور اسکی جماعت کے سامنے یہ دونوں معجزے اپنی صداقت کی دلیل…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–33

21: لاٹھی کے سانپ بننے اور ہاتھ سے اچانک روشنی نکلنے کے واقعات سے جو طبعی گھبراہٹ ہوئی، اس کا علاج بھی اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ جس ہاتھ کو بغل سے نکالا تھا، اور وہ چمکنے لگا تھا، اسے دوبارہ اپنے جسم سے لپٹا لو، تو گھبراہٹ دور ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 29–35

فلما قضی موسیٰ الاجل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعکما الغلبون (29- 35) قبل اس کے کہ ہم اس حلقے کے ان دو مناظر پر تفصیلی گفتگو کریں ، ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ ان دس سالوں کے وقفے میں اللہ نے حضرت موسیٰ کے حوالے سے کیا تدابیر اختیار کیں اور کیا اقدامات کیے۔ اس سفر اور آنے جانے میں کیا حکمت تھی۔ دست قدرت کو یوں منظور تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایک قدم آگے بڑھتے جائیں۔ یعنی اس وقت سے لے کر جب وہ شیرخوار بچہ تھے ، ان کی موجودہ پوزیشن تک ان کے ستاھ دست قدرت کا معاملہ کیا رہا۔ ان کو دریا میں پھنکا گیا تاکہ فرعون کے لوگ اسے پکڑلیں۔ ان کو دیکھ کر فرعون کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی یا کردی گئی کہ وہ عین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 31–32

1 شروع رکوع سے یہاں تک کے مفصل واقعات سورة " طہٰ " وغیرہ میں گزر چکے ملاحظہ کرلیے جائیں۔ 2 یعنی بازو کو پہلو سے ملا لو۔ سانپ وغیرہ کا ڈر جاتا رہے گا۔ شاید آگے کے لیے بھی خوف زائل کرنے کی یہ ترکیب بتلائی ہو۔ 3 یعنی معجزہ " عصا " و " ید بیضاء " بطور سند نبوت کے دیے گئے ہیں تاکہ فرعون اور اس کی قوم پر اتمام حجت کرسکے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَّاضْمُمْ اِلَیْکَ جَنَاحَکَ مِنَ الرَّہْبِ ” خوف کی کیفیت کا سامنا کرنے کے لیے یہ ایک خاص ترکیب بتائی گئی کہ جب کبھی آپ علیہ السلام کو کوئی خوف لاحق ہو تو اپنے بازو کو اپنی بغل کے ساتھ چمٹا لینا ‘ اس طرح خوف کے اثرات زائل ہوجائیں گے۔ اِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ ” فرعون اور اس کے اعیان سلطنت ایک فاسق ‘ فاجر اور سرکش قوم بن گئے ہیں۔ لہٰذا ان نشانیوں کے ساتھ ان کے پاس جاؤ اور انہیں اللہ رب العالمین کی اطاعت و بندگی کی دعوت دو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 31–32

41 اسی مقام پر حضرت موسیٰ کو دو معجزے عطا کئے گئے۔ ان معجزات کی تفصیل بھی پہلے متعدد مقامات پر گزر چکی ہے۔ یہ دونوں معجزات آپ کی نبوت کی سند کے طور پر تھے اور ان سے مقصود یہ تھا کہ سب سے پہلے تو خود موسیٰ کو یہ یقین کامل ہوجائے کہ جو ذات اس وقت ان سے ہمکلام ہو رہی ہے وہ فی الواقع اللہ ہی ہے جو ساری کائنات کا پروردگار اور مالک ہے۔ بالفاظ دیگر ایسے نمایاں معجزات اللہ رب العالمین کے علاوہ نہ کوئی عطا کرسکتا ہے اور نہ دکھلا سکتا ہے۔ اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ موسیٰ کو تن تنہا ایک ظالم اور جابر حکمران کے دربار میں تبلیغ رسالت اور دعوت توحید کے لئے بھیجا جارہا تھا۔ ان کے ساتھ کوئی لاؤ لشکر تو تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

45۔ (جس سے ہاتھ اپنے اصلی رنگ پر لوٹ آئے گا اور یہ تمہارا طبعی خوف بھی جاتا رہے گا) (آیت) ” واضمم الیک “۔ الخ کی تعبیر وتقریر میں ائمہ مفسرین کو اشکالات پیش آئے ہیں یہاں ترجمہ وتقریر میں مفسر تھانوی (رح) کی پیروی کی گئی ہے جو بالکل بےتکلف وبے غبار ہے۔ عصا کے بعد یہ ذکر دوسرے معجزہ یدبیضا کا ہے۔ (آیت) ” من غیر سوٓء “۔ یہ تصریح توریت مروجہ کی تغلیط کے لیے ہے جس کا بیان ہے کہ نعوذ باللہ آپ کو برص کا مرض تھا۔ (حاشیے سورة طہ وغیرہ میں گزر چکے) (آیت) ” برھانن “۔ یعنی سندیں اور دلیلیں جو مشرکوں کے بھی سمجھ میں آجائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 29–32

آیت نمبر 29 تا 32 ترجمہ : چناچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدت پوری کردی یعنی (بکریاں) چَرائی کی مدت، اور وہ آٹھ یا دس سال تھی اور غالب گمان یہ ہے کہ دس سال پورے کئے اور اپنی اہلیہ کو اس کے والد کی اجازت سے مصر کی طرف ہمراہ لیکر روانہ ہوگئے (تو) دور سے طور جو کہ ایک پہاڑ کا نام کی جانب آگ دیکھی تو اپنی اہلیہ سے کہا تم یہاں ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے بہت ممکن ہے کہ میں وہاں سے راستہ کی خبر حال یہ ہے کہ موسیٰ راستہ بھول گئے تھے یا آگ کا ٹکڑا یا شعلہ لاؤں جَذُوۃ جیم میں تینوں اعراب جائز ہیں تاکہ تم تاپو یعنی تاکہ تم سینکو طاء باب افتعال کی تاء سے بدلی ہوئی ہے، اور یہ صَلِیِّ بالنار کسرہ لام اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اسلک یدک فی جیبک تخرج بیضا من غیر سوء . تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو ‘ وہ بلا کسی مرض کے نہایت روشن ہو کر نکلے گا۔ واضمم الیک جناحک من الرھب . اور خوف دور کرنے کے لئے پھر اپنا بازو اپنی طرف ملا لینا۔ عطاء نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے موسیٰ کو حکم دیا کہ اپنا ہاتھ اپنے سے ملا لو تاکہ خوف دور ہوجائے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : موسیٰ کے بعد جو خوف زدہ آدمی بھی اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ لیتا ہے اس کا ڈر جاتا رہتا ہے۔ مجاہد نے کہا : جو شخص بھی اپنے دونوں جناح اپنے بدن سے ملا لے گا اس کا خوف دور ہوجائے گا ‘ اور جناح پورا ہاتھ ہے (یعنی صرف باز و ہی کو جناح نہیں کہتے بلکہ پورے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(32) اور خوف دور کرنے کے لیے اپنا وہ ہاتھ پھر گریبان اور بغل سے بدستور ملا لینا تاکہ ہاتھ پھر اصلی حالت پر آجائے سو یہ تمہاری نبوت کی دو نشانیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے فرعون اور اس کی قوم کے پاس جانے کے لیے کیوں کہ وہ بڑے نافرمان مشرک لوگ ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اُسْلُكْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ۔۔ : دوسری جگہ فرمایا : (اَدْخِلْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ) ”سِلْکٌ“ اس دھاگے کو کہتے ہیں جس میں موتی پروئے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے ان میں دھاگا مہارت اور احتیاط سے داخل کیا جاتا ہے، یعنی کسی گھبراہٹ کے بغیر اطمینان کے ساتھ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (22)۔rnۡ وَّاضْمُمْ اِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ : موسیٰ ؑ کو جس مقصد کے لیے بھیجا جا رہا تھا، اس میں کئی مقامات ایسے آنے والے تھے جن میں آدمی شدید خوف کا شکار ہوجاتا ہے، بلکہ اسے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ دو عظیم الشان معجزوں کے ساتھ اس خوف کا علاج بھی بتادیا کہ جب بھی تمہیں کوئی خوف محسوس ہو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–35

اسلک یدک فی جیبک اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے واضم الیک جناح من الرھب من حرف جار ولی کے متعلق ہے یعنی ولی مدبرا من الرشب۔ حفص، سلمی، عیسیٰ بن عمر اور ابن ابی اسحاق نے من الرھب راء کے فتحہ اور ہاء کے سکو ن کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن عامر، کوفہ کے قراء نے سوائے حفص کے راء کے ضمہ اور ہاء کی جزم کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی فراء نے راء اور ہاء دونوں کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبید اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ویدعوننا رغباً و رھباً (الانبیائ : 90) یہ سب غتیں ہیں اور معنی خوف ہے۔ معنی ہے جب تیرے ہاتھ کا معاملہ اور اس کی شعاع تجھے پریشان کرے تو اسے اپنے گریبان میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–37

1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت ولی مدبرا سے لے کر آیت من الرھب کے بارے میں فرمایا کہ یہ تقدیم قرآن میں سے ہے۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واضمم الیک جناحک میں جناحک سے مراد ہے اپنا ہاتھ۔ 3۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واضمم الیک جناحک یعنی اپنے ہاتھ کو اپنے بازو کے نیچے کرلو آیت من الرہب یعنی خوف سے آیت فذنک برہانٰن (یعنی یہ دو دلیلیں ہیں) لاٹھی اور ہاتھ آیت ردأ یعنی مددگار آیت ونجعل لکما سلطنا تاکہ ہم بتادیں تمہارے لیے ایک حجت 4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والم یعقب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اُسْلُكْ [ آپ (علیہ السلام) ڈال دیں ] يَدَكَ [ اپنا ہاتھ ] فِيْ جَيْبِكَ [ اپنے گریبان میں ] تَخْــرُجْ [ تو وہ نکلے گا ] بَيْضَاۗءَ [ سفید ہوتے ہوئے ] مِنْ غَيْرِ سُوْۗءٍ ۡ [ کسی برائی (بیماری) کے بغیر ] وَّاضْمُمْ [ اور آپ (علیہ السلام) ملائیں ] اِلَيْكَ [ اپنی طرف ] جَنَاحَكَ [ اپنے پہلو کو ] مِنَ الرَّهْبِ [ خوف سے (یعنی خوف کی صورت میں)] فَذٰنِكَ [ تو یہ ] بُرْهَانٰنِ [ دو روشن دلیلیں ہیں ] مِنْ رَّبِّكَ [آپ (علیہ السلام) کے رب (کی جانب) سے ] اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهٖ ۭ [فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف ] اِنَّهُمْ كَانُوْا [بیشک وہ سب ہیں ] قَوْمًا فٰسِقِيْنَ [ایک نافرمانی کرنے والی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 30–36

رسالت سے سر فراز ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مصر کو واپس ہونا، پھر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس پہنچ کر حق کی دعوت دینا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپس ہوتے ہوئے وادی طویٰ میں نبوت سے سرفراز کیے گئے اور وہیں انہوں نے اللہ جل شانہٗ سے دعا کی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی رسول بنا دیجیے تاکہ میں اور وہ مل کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جائیں اور آپ کا فرمان پہنچائیں اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرما دی، جس کی کچھ تفصیل گزر چکی ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر پہنچے تو اپنے گھر گئے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ساتھ لیا۔ دونوں مل کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–42

قال اللہ تعالیٰ فلما قضی موسیٰ الاجل وسار باھلہ الی۔۔۔ ویوم القیمۃ ہم من المقبوحین۔ الغرض جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہ کر پوری مدت گزار دی یعنی دس برس تک بکریاں چرائیں اور دس برس تک ایک نبی کی صحبت میں رہے اور مجاہدہ اور ریاضت اور باطنی تربیت کی منزلیں طے ہوگئیں اور چالیس سال کی سن کو پہنچے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی زوجہ اور اہل خانہ کو لے کر مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اہل قرابت سے جا کر ملیں اور طور کے آس پاس پہنچے۔ رات کا وقت تھا اندھیری چھائی ہوئی تھی اور سخت سردی تھی۔ اتفاق سے راہ بھٹک گئے ایسے وقت میں طبعا آگ کی تلاش ہوتی ہے۔ کوہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–32

30:۔ یہ دوسرا معجزہ ہے۔ من غیر سوء الخ، یعنی ہاتھ کا سفید ہونا کسی بیماری کی وجہ سے نہ ہوگا۔ واضمم الیک الخ، یعنی اگر خوف وغیرہ ہو تو ہاتھ سینے پر رکھ لیا کرو اس سے خوف وہراس جاتا رہے گا۔ خوف و ہراس کے وقت اگر آدمی ہاتھ سینے پر رکھ لے تو اس سے دل کو تقویت ملتی ہے اور گھبراہٹ کم ہوجاتی ہے۔ من الرھب ای من اجل المخافۃ ومن شان الانسان اذا فعل ذلک فی وقت فزعہ ان یقوی قلبہ (روح ج 20 ص 75) ۔ یا یہ عدم خوف سے کنایہ ہے کیونکہ پرندے ب خوف و خطر سے مامون ہوتے ہیں تو پروں کو اطمینان سے سمیٹ لیتے وھو ماخوذ من فعل الطائر عند الامن بعد الخوف وھو فی الاصل مستعار من فعل الطائر عند ھذہ الحالۃ الخ (روح) ۔ 31:۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–35

ربط آیات یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کا ذکر ہو رہا ہے ۔ جب آپ شعیب (علیہ السلام) کے گھر پہنچے تو آپ کو اطمینان حاصل ہوا کہ فرعونیوں کے مظالم سے بچ گئے ہیں ۔ شعیب (علیہ السلام) کی دو بیٹیوں میں سے ایک نے اپنے باپ کو مشورہ دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو نوکر رکھ لیا جائے ۔ یہ شخص بڑا طاقتور اور امانتدار ہے ۔ شعیب (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پیش کش کی میں دو میں سے ایک بیٹی کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں گا ۔ بشرطیکہ تم کم از کم آٹھ سال میرے یہاں نوکری کرو۔ تم دس سال پورے کر دو تو یہ تمہاری منشاء پر منحصرہو گا اور میری طرف سے کوئی اصرار نہیں ہوگا ، البتہ میں تمہارے ساتھ انشاء اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُسْلُكْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ تَخْــرُجْ بَيْضَاۗءَ مِنْ غَيْرِ سُوْۗءٍ۝ 0ۡوَّاضْمُمْ اِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّہْبِ فَذٰنِكَ بُرْہَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕہٖ۝ 0ۭ اِنَّہُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِيْنَ۝ 32 سلك السُّلُوكُ : النّفاذ في الطّريق، يقال : سَلَكْتُ الطّريق، وسَلَكْتُ كذا في طریقه، قال تعالی: لِتَسْلُكُوا مِنْها سُبُلًا فِجاجاً [ نوح/ 20] ، وقال : فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا[ النحل/ 69] ، يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ [ الجن/ 27] ، وَسَلَكَ لَكُمْ فِيها سُبُلًا [ طه/ 53] ، ومن الثاني قوله : ما سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ [ المدثر/ 42] ، وقوله : كَذلِكَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–38

1 ؎ ذکر جاء اللہ فی معینین احدھما حقیقۃ وھو انہ لما قلب اللہ لعصاحیۃ فزع واضظرب فاتقاھا بیدہ کھا یفعل الخائف من الشئی فقیل ران اتقاءک بیدک فیہ نقصان تدرک عند الاحدار فان اتقیتہا فکما تنقلب حیۃ فادخل یدک تحت عضدف مکان اتقاءک بہاثم اخرجھا بیضاء لیحصل الامر ان اجتناب النقص و اظہار معجزہ اخری وثاینہما مجاز وھو ان یرد بفہم الجناح التجلد وضبط النفس حتی لا یضطرب فیکون استعارۃ من فعل الطائر لانہ اذا فاف ارخی جناجبہ والا ضمہما ومعنی الرہب من اجل الخوف (نیشا پوری)

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اُسْلُـکْ یَدَکَ فِیْ جَیْبِکَ تَخْرُجْ بَیْضَآئَ مِنْ غَیْرِسُوْٓئٍ ز وَّاضْمُمْ اِلَیْکَ جَنَاحَکَ مِنَ الرَّھْبِ فَذٰنِکَ بُرْھَانٰنِ مِنْ رَّبِّکَ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَـلَاْ ئِہٖ ط اِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ ۔ (القصص : 32) (اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو، بغیر کسی مرض کے چمکتا ہوا نکلے گا اور خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازو بھینچ لو، پس یہ آپ کے رب کی جانب سے دو نشانیاں ہیں، فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جانے کے لیے، بیشک وہ بڑے ہی نافرمان لوگ ہیں۔ ) دوسرا معجزہ یہ دوسرا معجزہ ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کیا گیا جو یدبیضا کے نام سے مشہور ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–35

فہم القرآن ربط کلام : عظیم معجزات ملنے کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے خوفزدہ ہونا۔ جوں ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر زمین پر رینگنے لگا۔ اتنا بڑا سانپ دیکھ کر حضرت موسیٰ ڈر کر بھاگنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا موسیٰ ڈرو نہیں بلکہ آگے ہو کر پکڑ لو۔ یہ پہلے کی طرح لاٹھی بن جائے گا اور آپ مامون رہیں گے۔ اپنا ہاتھ بغل میں دبا کر نکال یہ بغیر کسی تکلیف کے چمکتا ہوا ظاہر ہوگا خوف کے وقت ہاتھ کو بغل میں دبا لینا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر چھوڑ کر مدین اس لیے گئے تھے کہ ان سے سہوًا ایک شخص قتل ہوگیا تھا۔ فرعون اور اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

32: اُسْلُکْ یَدَکَ فِیْ جَیْبِکَ تَخْرُجْ بَیْضَآئَ (تم اپنا ہاتھ داخل کرو اپنے قمیص کے گریبان میں وہ سفید ہو کر نکلے گا کہ سورج کی طرح اس کی شعاعیں ہوں گی) ۔ مِنْ غَیْرِ سُوْئٍ (بغیر کسی بیماری کے) ۔ سوء سے مراد برص۔ وَاضْمُمْ اِلَیْکَ جَنَاحَکَ مِنَ الرَّہْبِ (اور خوف دور کرنے کے لئے تم اپنا بازو اپنی طرف ملا لینا) ۔ قراءت : الرہب۔ حجازی وبصری قراء نے دونوں فتحوں کے ساتھ پڑھا اور حفص نے الرَّہب پڑھا۔ دیگر قراء نے الرُّہب پڑھا ہے۔ تمام کا معنی خوف ہے۔ مطلب یہ ہوا۔ تم اپنا ہاتھ اپنے سینے کے ساتھ لگائو اس سے تمہارا خوف جاتا رہے گا۔ جو خوف سانپ کی وجہ سے ہوا۔ قول ابن عباس ؓ : ہر ڈر والا جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

32۔ اسلک، ، داخل کیجئے۔ یدک فی جیبک تخرج بیضاء من غیرسوئ، بغیر کسی بیماری کے یعنی کوئی برص وغیرہ کی بیماری نہیں ہوگی اور وہ چمکتا ہوئے سورج کی طرح ہوگا۔ واضمم یدک الیک جناحک من الرھب، اہل کوفہ شام نے راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور ھاء کے سکون کے ساتھ اور راء کے فتحہ کے ساتھ حضص نے پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ان دونوں کے فتحہ کیس اتھ پڑھا ہے۔ ان تمام لغات میں اس کا معنی خوف ہی آتا ہے یہ ایک نشانی ہے۔ جب آپ اپنے بازو کی چمک دیکھیں اور اس کو واپس اپنی حالت پر جب لاناچا ہیں تو دوبارہ بغل میں داخل کیجئے، تو وہ اپنی حالت پر آجائے گا، جناح کا لفظ پورے ہاتھ پر بولاجاتا ہے۔ ” واخفض لھما جناح الذل من…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–34

29 تا 34۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں مدتوں میں سے دس برس کی مدت کو پورا کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر کے جانے کا اور اپنے بھائی اور اپنی ماں سے ملنے کا شوق ہوا اور وہ شعیب (علیہ السلام) سے رخصت ہوئے ان کے ساتھ ان کی بی بی اور بکریاں تھیں جو شعیب (علیہ السلام) نے ان کو دی تھیں یہ سفر جاڑے کے موسم کا تھا اور اندھیری رات میں راستہ بھی بھول گئے تھے اسی حالت میں انہوں نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا تم ٹھہرو میں جاتا ہوں تاکہ راستہ کی کچھ خبر لاؤں اور تاپنے کے لیے کچھ آگ بھی لیتا آؤں جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے پاس آئے جو کوہ طور کے جانب کو تھی یہ آگ ایک سبز درخت میں دیکھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 27–54

شعراء کی دو اقسام قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

42 حضرت موسیٰ کے لیے ید بیضا کا معجزہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی ۔ عیب اور۔ اور بیماری کے "۔ { من غیر سوئ } نکرہ تحت النفی عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی کسی بھی قسم کا کوئی عیب نہیں ہوگا جیسا کہ برص وغیرہ کی شکل میں ہوتا ہے اور نہ ہی کسی درد تکلیف وغیرہ کا کوئی سوال ہوگا جیسا کہ کسی تبدیلی کے وقت عام طور پر ہوجاتا ہے۔ سو معجزئہ عصا کے بعد یہ یدبیضا کے دوسرے معجزے کا ذکر فرمایا گیا جس سے حضرت موسیٰ کو بطور خاص نوازا گیا تھا۔ اور طریقہ اس کا یہ بتایا گیا کہ مقابلہ اور خوف کے کسی ایسے موقعہ پر تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال دو وہ سفید…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–46

تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–42

آیات 29 تا 46 اسرارومعارف چنانچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عرصہ پورا کردیا جس کا وعدہ فرمایا تھا تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس مصر کو روانہ ہوئے کہ گھر والوں سے بچھڑے ہوئے دس سال بیت چکے تھے روایات کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس پورے کیے۔ راستے میں رات ہوگئی موسم بھی سرد تھا تو کوہ طور پر جو آپ کی راہ کے ساتھ پڑتا تھا روشنی دیکھی جیسے کسی نے آگ روشن کی ہو۔ تو اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ آپ لوگ یہاں انتظار کریں میں وہاں جاتا ہوں ممکن ہے کوئی راستے کے بارے خبر وہاں سے مل جائے کہ لگتا ہے کہ ہم راستہ بھول رہے ہیں اور آگ بھی لیتا آؤں گا یہاں جلا کر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ یعنی جب کبھی لاٹھی کے سانپ بن جانے سے تمہارے دل میں خوف پیدا ہو تو اپنا بازو اپنے بدن سے ملا لیا کرو تمہارا سب خوف جاتا رہے گا اور تم اپنے اندر قوت اور جرأت محسوس کرنے لگو گے یا ایسا کرنے سے ہاتھ دوبارہ اپنی حالت میں نظر آئے گا۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 32–33

(28:32) اسلک فعل امر واحد مذکر حاضر۔ سلوک (باب نصر) مصدر۔ السلوک کے اصل معنی راستہ پر چلنے کے ہیں۔ یہ فعل متعدی (بمعنی اسلک) بھی استعمال ہوتا ہے۔ پہلے معنی میں فاسلکی سبل ربک ذئلا۔ (16:69) اور اپنے پروردگار کے راستوں پر بےروک ٹوک چلی جا۔ دوسرے معنی میں ما سلککم فی سقر (74:42) تم کو دوزخ میں کونسی بات لے آئی ۔ پھر یہ داخل ہونے یا داخل کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے مثلاً سلک المکان۔ مکان میں داخل ہونا۔ اور فاسلک فیہا (23:27) تو اس میں (یعنی کشتی میں) بٹھالے یا داخل کرلے۔ اس دوسرے معنی میں ہی اسلک یدک ہے تو اپنے ہاتھ کو داخل کر یا ڈال۔ جیبک مضاف مضاف الیہ۔ تیرا گریبان اور جیب الثوب قمیص کی وہ جیب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 29–35

لغات القرآن : آیت نمبر 29 تا 35 : سار (وہ چلا) اھل (گھروالے ۔ گھر والی) ‘ انس (اس نے محسوس کیا) ‘ امکئوا (تم ٹھہرو) جذوۃ ( انگارہ۔ شعلہ۔ چنگاری) شاطی (کنارہ) وادالایمن (داہنا میدان) ‘ البقعۃ (جگہ) الق (ڈال دے۔ پھینک دے) تھتز (وہ پھنکارتا ہے۔ وہ لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ) ولی (وہ پلٹا) ‘ مدبر ( پیٹھ پھیر نے والا) ‘ لم یعقب (پیچھے مڑکرنہ دیکھا) اقبل (سامنے آ) اسلک (تو ڈال دے) اضمم (ملالے) الرھب (خوف۔ ڈر) افصح (زیادہ فصیح۔ اچھی زبان بولنے والا) ‘ ردا (مدد گار) ‘ سنشد (ہم عنقریب مضبوط کردیں گے) ‘ عضد (بازو) ‘ سلطان (غلبہ۔ قوت و طاقت) ۔ تشریح : آیت نمبر 29 تا 35 : حضرت شعیب (علیہ السلام) اور حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–34

فرعونی لوگوں پر عذاب الٰہی کا آنا۔ (ف 1) جب موسیٰ (علیہ السلام) پہلی جگہ آکھڑے ہوگئے تو پھر فرمایا اپنا ہاتھ اپنی بغل کے اندر ڈالو اور پھر نکالو وہ بلا کسی مرض کے نہایت روشن ہو کر نکلے گا، پھر فرمایا، اگر لکڑی کے سانپ بن جانے سے کچھ ڈرلگے تو سینہ پر ہاتھ رکھ لینے سے یہ ڈر جاتا رہے گا، پھر فرمایا یہ دونوں معجزے ہیں اور یہ تمہارے سندیں ہیں تمہارے رب کی طرف سے فرعون کی اور اس کے سرداروں کی طرف دونوں معجزے خدا نے بھیجے ہیں کہ وہ لوگ نافرمان ہیں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ یہ دونوں معجزے لے کر فرعون کے پاس جاؤ، تو موسیٰ نے کہا کہ میں نے تو ایک فرعونی کو قتل کیا تھا، میں اندیشہ کرتا ہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 30–32

[18] یعنی جب کبھی تمہارے دل میں خوف پیدا ہو تو اپنا بازو پہلو سے ملا لینا۔ اس سے خوف دور ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

تجلیات 1: حضرت شعیب کے گھر سے موسیٰ (علیہ السلام) جس وقت رخصت ہوتے ہیں ۔ اس وقت ان کی بیوی ان کے ساتھ تھیں ۔ جنگل میں جارہے تھے ۔ تاریکی اور سردی تھی ۔ آگ کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ موسیٰ نے دور سے دیکھا ۔ کہ آگ کا شعلہ نظر آرہا ہے ۔ بیوی نے کہا ۔ میں نے آگ دیکھی ہے ۔ ذرا دور ہے ۔ میں جاتا ہوں ۔ شاید آگ مل جائے اور کچھ پتہ لگے تم یہیں ٹھہرو ۔ یہ کہہ کر موسیٰ آگے بڑھے دیکھا تو وہاں آگ نہ تھی ۔ تجلیات الٰہیہ کا ظہور تھا ارشاد ہوا ۔ کہ موسیٰ میں تمہارا خدا ہوں ۔ ساری کائنات کا رب ہوں ۔ غرض یہ تھی ۔ کہ موسیٰ کو عہدہ نبوت پر سرفراز کیا جائے ۔ ان کو معجزات عطا کئے جائیں ۔ اور بتایا جائے کہ اب تمہاری…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

32۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنا ہاتھ اپنے گریباں کے اندر لے جاتو وہ بغیر کسی نقص و عیب کے خوب چمکتا ہوا نکلے گا اور خوف کو رفع کرنے اور دور کرنے کی غرض سے اپنا ہاتھ اپنی بغل اور گریبان سے ملا لیجو یہ دونوں چیزیں فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس جانے کے لئے تیرے پروردگار کی طرف سے دو دلیلیں اور دو سندیں ہیں یقینا وہ لوگ بڑے نافرمان اور حد سے نکل جانے والے ہیں ۔ یعنی ہاتھ کو بغل کے نیچے لے جا اور گریبان میں ڈال تو وہ اس قدر چمکدار اور نورانی ہوکر نکلے گا جیسے سورج کی چمک بغیر کسی عیب اور نقص کے یہ روشنی ہوگی اور سفید چمک ہوگی یعنی کسی بیماری یا برص وغیرہ کی سفیدی نہ ہوگی اور جس طرح سانپ کو پکڑ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالنے کا حکم خاص : 32۔ لاٹھی اور سانپ کے استعارہ کے ساتھ ” یدبیضا “ کے استعارہ کا استعمال ایک اور ایک گیارہ کا مصداق ٹھہرا ۔ ان دونوں معجزات سے وہ تقویت آپ کو پہنچائی گئی کہ ایک مردہ قوم کو زندہ کردینے کے لئے جتنی قوت درکار ہوتی ہے وہ ان دونوں کے اندر سما گئی اور جب بھی اور جہاں بھی اس وقت کے اظہار کا وقت آیا اور اظہار ان سے کرایا گیا جس کے نتیجہ میں فرعون اور اس کا لشکر اپنی ساری طاقت وقوت کو بروئے کار لانے کے باوجود ناکام ٹھہرا اس لاٹھی کے نشان اور یدبیضا کے سہارے نے انجام کار اس داستان کا خاتمہ فرعون کی مکمل ناکامی اور موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–34

A sermon should have high degree of eloquence هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا (He is more fluent in his tongue - 28:34). This verse points out that a high degree of oratory and eloquence is desirable for sermons and preaching, and there is no harm if one takes training in that.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–32

44 These two miracles were shown to the Prophet Moses at that time so that, firstly, he himself is fully convinced that the same Being Who is speaking to him is, in fact, the Creator and Master and Ruler of the whole system of the universe and secondly, he should have full satisfaction that he was not going unarmed before Pharaoh, to perform the dangerous mission assigned to him, but would go well armed with the two powerful weapons. 45 That is, "Whenever you experience the fear of any danger, fold back your arm to yourself: this will strengthen your heart and will deliver you completely from…

Read the full tafseer →