Explained with ayahs 29–32
دس سال حق مہر
پہلے یہ بیان گزرچکا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ الاجل سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے واللہ اعلم۔ بلکہ حضرت مجاہد کا تو قول ہے کہ دس سال یہ اور دس سال اور بھی گزرے۔ اس قول میں یہ صرف تنہا ہے۔ واللہ اعلم۔ اب حضرت موسیٰ ؑ کو خیال اور شوق پیدا ہوا کہ چپ چاپ وطن میں جاؤں اور اپنے والوں سے مل آؤں چناچہ آپ اپنی بیوی صاحبہ کو اور اپنی بکریوں کو لے کر وہاں سے چلے رات کو بارش ہونے لگی اور سرد ہوائیں چلنے لگیں اور سخت اندھیرا ہوگیا۔ آپ ہرچند چراغ جلاتے تھے مگر روشنی نہیں ہوتی تھی۔ سخت متعجب اور حیران تھے اتنے میں دیکھتے ہیں کہ کچھ دور آگ روشن ہے تو اپنی اہلیہ صاحبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
سورة القصص 42
یعنی اس کنارے پر جو حضرت موسیٰ کے داہنے ہاتھ کی طرف تھا۔
سورة القصص 43
یعنی اس خطے میں جو نور تجلی سے روشن ہورہا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
نُوْدِيَ مِنْ شَا 8 الْوَادِ الْاَيْمَنِ (الی) اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، یہ مضمون بضمن قصہ موسیٰ ؑ سورة طہ اور سورة نمل میں گزرا ہے۔ سورة طہ میں ہے اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ اور سورة نمل میں ہے نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّار اور اس سورت میں ہے اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ یہ الفاظ اگرچہ مختلف ہیں مگر معنی تقریباً ایک ہی ہیں واقعہ کی حکایت پر ہر مقام کے مناسب الفاظ سے کی گئی ہے (کذا قال الامام) اور یہ تجلی بشکل نار تجلی مثالی تھی کیونکہ تجلی ذاتی کا مشاہدہ اس دنیا میں کسی کو نہیں ہوسکتا اور خود موسیٰ ؑ کو اس تجلی ذاتی کے اعتبار سے لَن تَرَانِی فرمایا گیا…
Read the full tafseer →پہلا معجزہ
ساتھ ہی یہ ہدایت ہوئی کہ اپنا عصا زمین پر ڈال دو۔ حضرت موسیٰ نے اس ہدایت کی تعمیل کی تو دیکھا کہ عصا سانپ کی طرح حرکت کرنے لگا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر وہ سخت دہشت زدہ ہوئے اور اس طرح پیچھے کو بھاگے کہ اس کی طرف مڑ کے دیکھنے کی بھی جرأ نہیں کی۔ ولم یعقب کی وضاحت سورة نمل کی آیت کے تحت ہوچکی ہے۔
حضرات انبیاء پر ابتدائی مشاہدات کا اثر
حضرت انبیائے کرام (علیہم السلام) کو نبوت کے ابتدائی مشاہدات بالکل بےسان گمان پیش آتے ہیں، نہ ان کے ذہن میں پہلے سے ان کا کوئی تصور ہوتا، نہ ارمان، اس وجہ سے شروع شروع میں وہ ان سے گھبراتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بالتدریج ان سے مانوس کردیتا ہے۔ ساحروں، کا…
Read the full tafseer →31-1یہ موسیٰ ؑ کا وہ معجزہ ہے جو کوہ طور پر، نبوت سے سرفراز کئے جانے کے بعد ان کو ملا۔ چونکہ اللہ کے حکم اور مشیت سے ظاہر ہوتا ہے کسی بھی انسان کے اختیار سے نہیں۔ چاہے وہ جلیل القدر پیغمبر اور نبی مقرب ہی کیوں نہ ہو۔ اس لئے جب موسیٰ ؑ کے اپنے ہاتھ کی لاٹھی، زمین پر پھینکنے سے حرکت کرتی اور دوڑتی پنکارتی سانپ بن گئی، تو حضرت موسیٰ ؑ بھی ڈر گئے۔ جب اللہ تعالیٰ نے بتلایا اور تسلی دی تو حضرت موسیٰ ؑ کا خوف دور ہوا اور یہ واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کے لئے بطور دلیل یہ معجزہ انھیں عطا فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →20: یہ ایک طبعی خوف تھا جو نبوت کے منافی نہیں ہوتا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
فلما قضی موسیٰ الاجل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعکما الغلبون (29- 35)
قبل اس کے کہ ہم اس حلقے کے ان دو مناظر پر تفصیلی گفتگو کریں ، ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ ان دس سالوں کے وقفے میں اللہ نے حضرت موسیٰ کے حوالے سے کیا تدابیر اختیار کیں اور کیا اقدامات کیے۔ اس سفر اور آنے جانے میں کیا حکمت تھی۔
دست قدرت کو یوں منظور تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایک قدم آگے بڑھتے جائیں۔ یعنی اس وقت سے لے کر جب وہ شیرخوار بچہ تھے ، ان کی موجودہ پوزیشن تک ان کے ستاھ دست قدرت کا معاملہ کیا رہا۔ ان کو دریا میں پھنکا گیا تاکہ فرعون کے لوگ اسے پکڑلیں۔ ان کو دیکھ کر فرعون کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی یا کردی گئی کہ وہ عین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
1 شروع رکوع سے یہاں تک کے مفصل واقعات سورة " طہٰ " وغیرہ میں گزر چکے ملاحظہ کرلیے جائیں۔
2 یعنی بازو کو پہلو سے ملا لو۔ سانپ وغیرہ کا ڈر جاتا رہے گا۔ شاید آگے کے لیے بھی خوف زائل کرنے کی یہ ترکیب بتلائی ہو۔
3 یعنی معجزہ " عصا " و " ید بیضاء " بطور سند نبوت کے دیے گئے ہیں تاکہ فرعون اور اس کی قوم پر اتمام حجت کرسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
آیت 31 وَاَنْ اَلْقِ عَصَاکَ ط ”
قرآن میں اس واقعہ سے متعلق مختلف تفصیلات مختلف مقامات پر ملتی ہیں۔
فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ ط ”
اس واقعہ کے حوالے سے سورة النمل میں بھی ان سے ملتے جلتے الفاظ آئے ہیں۔
یٰمُوْسٰٓی اَقْبِلْ وَلَا تَخَفْقف اِنَّکَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ ”
تم بالکل امن وامان میں رہو گے اور تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
41 اسی مقام پر حضرت موسیٰ کو دو معجزے عطا کئے گئے۔ ان معجزات کی تفصیل بھی پہلے متعدد مقامات پر گزر چکی ہے۔ یہ دونوں معجزات آپ کی نبوت کی سند کے طور پر تھے اور ان سے مقصود یہ تھا کہ سب سے پہلے تو خود موسیٰ کو یہ یقین کامل ہوجائے کہ جو ذات اس وقت ان سے ہمکلام ہو رہی ہے وہ فی الواقع اللہ ہی ہے جو ساری کائنات کا پروردگار اور مالک ہے۔ بالفاظ دیگر ایسے نمایاں معجزات اللہ رب العالمین کے علاوہ نہ کوئی عطا کرسکتا ہے اور نہ دکھلا سکتا ہے۔ اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ موسیٰ کو تن تنہا ایک ظالم اور جابر حکمران کے دربار میں تبلیغ رسالت اور دعوت توحید کے لئے بھیجا جارہا تھا۔ ان کے ساتھ کوئی لاؤ لشکر تو تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
44۔ (اور یہ تو تمہارا معجزہ ہے) (آیت) ” الوادالایمن “۔ میدان کی داہنی جانب۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی داہنی جانب تھی۔ سارے واقعہ پر مفصل حاشیے سورة طہ پ 16 میں گزر چکے، نیز سورة النمل پ 19، سورة الاعراف پ 8 میں۔ (آیت) ” انی انا اللہ “۔ کے ساتھ صفت (آیت) ” رب العلمین “۔ کا اضافہ اس حقیقت کو اور مؤکد ومصرح کررہا ہے کہ جو سارے عالم کا مالک وحاکم ہے وہ کسی محدود جگہ کے اندر گھر کیونکر سکتا ہے ؟۔ (آیت) ” ولی مدبرا ولم یعقب “۔ سانپ، شیر، وغیرہ زہریلے اور خطرناک جانوروں سے ڈرنا بالکل ایک امر طبعی ہے، اور بڑے سے بڑے کمالات ولایت، یہاں تک کہ نبوت کے بھی منافی نہیں۔ اور حضرت کلیم اللہ کا یہ خوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
آیت نمبر 29 تا 32
ترجمہ : چناچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدت پوری کردی یعنی (بکریاں) چَرائی کی مدت، اور وہ آٹھ یا دس سال تھی اور غالب گمان یہ ہے کہ دس سال پورے کئے اور اپنی اہلیہ کو اس کے والد کی اجازت سے مصر کی طرف ہمراہ لیکر روانہ ہوگئے (تو) دور سے طور جو کہ ایک پہاڑ کا نام کی جانب آگ دیکھی تو اپنی اہلیہ سے کہا تم یہاں ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے بہت ممکن ہے کہ میں وہاں سے راستہ کی خبر حال یہ ہے کہ موسیٰ راستہ بھول گئے تھے یا آگ کا ٹکڑا یا شعلہ لاؤں جَذُوۃ جیم میں تینوں اعراب جائز ہیں تاکہ تم تاپو یعنی تاکہ تم سینکو طاء باب افتعال کی تاء سے بدلی ہوئی ہے، اور یہ صَلِیِّ بالنار کسرہ لام اور…
Read the full tafseer →وان الق عصاک . اور اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دو ۔ اس کے بعد موسیٰ نے لاٹھی زمین پر پھینک دی ‘ لاٹھی فوراً اژدھا
بن گئی اور حرکت کرنے لگی۔
فلما راھا تھتز کانھا جان ولی مدبرا ولم یعقب . سو انہوں نے جب اس کو لہراتے ہوئے دیکھا
(تیز سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ) گویا وہ سنپولیا تھا تو پشت پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑکر بھی نہ دیکھا۔ یعنی موسیٰ نے لاٹھی ڈال دی ‘ وہ اژدھا بن گئی اور لہرانے لگی۔ جب موسیٰ نے اس کو (تیز دوڑتے اور تڑپتے) دیکھا تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ پتلا چھوٹا سانپ ہے تو بھاگے۔
وَلَمْ یُعْقِّبْ اور پیچھے نہ لوٹے۔
یموسی اقبل ولا تخف انک من الامنین . (حکم ہوا) اے موسیٰ ! تم ادھر آؤ اور…
Read the full tafseer →(31) اور تم اپنے ہاتھ میں سے اپنا عصا ڈال دو ، چناچہ انہوں نے ڈال دیا اور سانپ بن کر چلنے لگا جب انہوں نے اس کو لہراتا ہوا دیکھا جیسا کہ پتلا سانپ تیز ہوتا ہے تو پشت پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
ارشاد خداوندی ہوا اے موسیٰ ؑ آگے آؤ اور اس سے ڈرو نہیں تم اس کے شر سے امن میں ہو۔
چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے اس کو پکڑ لیا تو وہ اپنی اصلی حالت کے مطابق پھر لکڑی ہوگیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اب تم اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو وہ بلا کسی برص وغیرہ کی بیماری کے سورج کی طرح روشن ہو کر نکلے گا۔
Read the full tafseer →وَاَنْ اَلْقِ عَصَاكَ : یہاں کچھ عبارت محذوف ہے کہ جب انھوں نے اپنی لاٹھی پھینکی تو وہ یکلخت سانپ بن گئی۔
فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ۔۔ : تو جب اس نے اسے دیکھا کہ حرکت کر رہی ہے۔۔ ”جَانٌّ“ اور ”ثُعْبَانٌ“ کی تطبیق کے لیے دیکھیے سورة نمل (10)۔
وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّلَمْ يُعَقِّبْ : یعنی اتنے خوف زدہ ہوئے کہ ایک جانب کو نہیں بلکہ پیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے اور مڑ کر بھی نہیں دیکھا کہ کہیں وہ سانپ پیچھے نہ پہنچ جائے۔
يٰمُوْسٰٓي اَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ : اللہ تعالیٰ نے آواز دی، اے موسیٰ ! مڑ کر بھاگنے کے بجائے آگے آ، کیونکہ تو امن والوں سے ہے۔ ”إِنَّ“ علت بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ سورة طٰہٰ (21) میں…
Read the full tafseer →وان الق عصاک اس کا عطف ان یموسی پر ہے۔ اس بارے میں گفتگو سورة نمل اور سورة طہ میں گزر چکی ہے۔ مدیراً حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے اسی طرح ولم یعقب کا حال ہے یہ بھی حال ہنے کی حیثیت میں محل نصب میں ہے۔ یموسیٰ اقبل ولاتخف وہب نے کہا، اسے کہا جائے گا جہاں تھے واپس چلے جائو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لوٹے اور اپنے جبے کا حصہ اپنے ہاتھ میں لپیٹا فرشتے نے آپ سے کہا : مجھے بتائو اگر اللہ تعالیٰ تجھے کوئی تکلیف کرے جس سے تو بچتا ہے تو کیا تیرا ہاتھ لپیٹنا تجھے نفع دے گا ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : نہیں لیکن میں ضعیف ہوں میں ضعف سے پیدا کیا گیا ہوں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ہاتھ کو ننگا کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت ولی مدبرا سے لے کر آیت من الرھب کے بارے میں فرمایا کہ یہ تقدیم قرآن میں سے ہے۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واضمم الیک جناحک میں جناحک سے مراد ہے اپنا ہاتھ۔
3۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واضمم الیک جناحک یعنی اپنے ہاتھ کو اپنے بازو کے نیچے کرلو آیت من الرہب یعنی خوف سے آیت فذنک برہانٰن (یعنی یہ دو دلیلیں ہیں) لاٹھی اور ہاتھ آیت ردأ یعنی مددگار آیت ونجعل لکما سلطنا تاکہ ہم بتادیں تمہارے لیے ایک حجت
4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والم یعقب…
Read the full tafseer →وَاَنْ [ اور یہ کہ ] اَلْقِ [ آپ (علیہ السلام) ڈال دیں ] عَصَاكَ ۭ [ اپنی لاٹھی کو ] فَلَمَّا [ پھر جب ] رَاٰهَا [ انھوں (علیہ السلام) نے دیکھا اس کو ] تَهْتَزُّ [ ہلتے ہوئے ] كَاَنَّهَا [ جیسے کہ وہ ] جَاۗنٌّ [ کوئی سانپ ہے ] وَّلّٰى [ تو وہ پلٹے ] مُدْبِرًا [ پیٹھ پھیرنے والا ہوتے ہوئے ] وَّلَمْ يُعَقِّبْ ۭ [ اور پیچھے ہوئے ہی نہیں ] يٰمُوْسٰٓي [ اے موسیٰ (علیہ السلام) ] اَقْبِلْ [ آپ (علیہ السلام) سامنے آئیں ] وَلَا تَخَفْ ۣ [ اور مت ڈریں ] اِنَّكَ [ بیشک آپ (علیہ السلام) ] مِنَ الْاٰمِنِيْنَ [ امن میں ہونے والوں میں سے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–36
رسالت سے سر فراز ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مصر کو واپس ہونا، پھر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس پہنچ کر حق کی دعوت دینا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپس ہوتے ہوئے وادی طویٰ میں نبوت سے سرفراز کیے گئے اور وہیں انہوں نے اللہ جل شانہٗ سے دعا کی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی رسول بنا دیجیے تاکہ میں اور وہ مل کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جائیں اور آپ کا فرمان پہنچائیں اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرما دی، جس کی کچھ تفصیل گزر چکی ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر پہنچے تو اپنے گھر گئے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ساتھ لیا۔ دونوں مل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
قال اللہ تعالیٰ فلما قضی موسیٰ الاجل وسار باھلہ الی۔۔۔ ویوم القیمۃ ہم من المقبوحین۔
الغرض جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہ کر پوری مدت گزار دی یعنی دس برس تک بکریاں چرائیں اور دس برس تک ایک نبی کی صحبت میں رہے اور مجاہدہ اور ریاضت اور باطنی تربیت کی منزلیں طے ہوگئیں اور چالیس سال کی سن کو پہنچے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی زوجہ اور اہل خانہ کو لے کر مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اہل قرابت سے جا کر ملیں اور طور کے آس پاس پہنچے۔ رات کا وقت تھا اندھیری چھائی ہوئی تھی اور سخت سردی تھی۔ اتفاق سے راہ بھٹک گئے ایسے وقت میں طبعا آگ کی تلاش ہوتی ہے۔ کوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
30:۔ یہ دوسرا معجزہ ہے۔ من غیر سوء الخ، یعنی ہاتھ کا سفید ہونا کسی بیماری کی وجہ سے نہ ہوگا۔ واضمم الیک الخ، یعنی اگر خوف وغیرہ ہو تو ہاتھ سینے پر رکھ لیا کرو اس سے خوف وہراس جاتا رہے گا۔ خوف و ہراس کے وقت اگر آدمی ہاتھ سینے پر رکھ لے تو اس سے دل کو تقویت ملتی ہے اور گھبراہٹ کم ہوجاتی ہے۔ من الرھب ای من اجل المخافۃ ومن شان الانسان اذا فعل ذلک فی وقت فزعہ ان یقوی قلبہ (روح ج 20 ص 75) ۔ یا یہ عدم خوف سے کنایہ ہے کیونکہ پرندے ب خوف و خطر سے مامون ہوتے ہیں تو پروں کو اطمینان سے سمیٹ لیتے وھو ماخوذ من فعل الطائر عند الامن بعد الخوف وھو فی الاصل مستعار من فعل الطائر عند ھذہ الحالۃ الخ (روح) ۔
31:۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
ربط آیات
یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کا ذکر ہو رہا ہے ۔ جب آپ شعیب (علیہ السلام) کے گھر پہنچے تو آپ کو اطمینان حاصل ہوا کہ فرعونیوں کے مظالم سے بچ گئے ہیں ۔ شعیب (علیہ السلام) کی دو بیٹیوں میں سے ایک نے اپنے باپ کو مشورہ دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو نوکر رکھ لیا جائے ۔ یہ شخص بڑا طاقتور اور امانتدار ہے ۔ شعیب (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پیش کش کی میں دو میں سے ایک بیٹی کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں گا ۔ بشرطیکہ تم کم از کم آٹھ سال میرے یہاں نوکری کرو۔ تم دس سال پورے کر دو تو یہ تمہاری منشاء پر منحصرہو گا اور میری طرف سے کوئی اصرار نہیں ہوگا ، البتہ میں تمہارے ساتھ انشاء اللہ…
Read the full tafseer →وَاَنْ اَلْقِ عَصَاكَ 0ۭ فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ كَاَنَّہَا جَاۗنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّلَمْ يُعَقِّبْ 0ۭ يٰمُوْسٰٓي اَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ 0ۣ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِيْنَ 31
لقی( افعال)
والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ
[ الأعراف/ 115] ،
( ل ق ی ) لقیہ ( س)
الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
جب موسیٰ ( علیہ السلام) وہ میعاد پوری کرچکے تو بیوی کو لے کر وطن (مصر) کی طرف چلے، سردی کا موسم تھا۔ رستہ بھی رات میں بھول گئے تھے، گھر کے لوگوں سے کہا کہ وہ جو دور سے جنگل میں آگ چمک رہی ہے، تم یہیں ٹھہرو، میں وہاں جاکر دریافت کرتا ہوں، یعنی رستہ کے لیے کہ اس آگ کے پاس کوئی ہوگا اور جو آگ زیادہ ہوئی تو اس میں سے ایک انگارا بھی تمہارے تاپنے کو لادوں گا، جب موسیٰ ( علیہ السلام) وہاں آئے تو رستہ کے دائیں جانب ایک جنگل کی پاک جگہ میں ایک درخت سے یہ آواز آئی کہ اے موسیٰ ! میں ہوں ” اللہ رب العالمین “ یہ وادی کہ جہاں درخت میں سے دور سے رات کو موسیٰ ( علیہ السلام) کو آگ دکھائی دی تھی، کوہ طور کی…
Read the full tafseer →وَاَنْ اَلْقِ عَصَاکَ ط فَلَمَّا رَاٰھَا تَھْتَـزُّکَاَنَّھَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبُ ط یٰـمُوْسٰٓی اَقْبِلْ وَلاَ تَخَفْ قف اِنَّـکَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ ۔ (القصص : 31)
(یہ کہ تم اپنا عصا ڈال دو ، جونہی ( حضرت موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا) تو آپ نے اس کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا گویا سانپ ہو، تو حضرت موسیٰ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پھر مڑ کر بھی نہ دیکھا، (ارشاد ہوا) اے موسیٰ ! آگے آئو، اور خوف نہ کرو، تم بالکل مامون ہو۔ )
پہلا معجزہ اور اس کا اثر
پروردگار نے اپنے تعارف کے بعد جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنا عصا زمین پر ڈال دو ، تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
فہم القرآن
ربط کلام : عظیم معجزات ملنے کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے خوفزدہ ہونا۔
جوں ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر زمین پر رینگنے لگا۔ اتنا بڑا سانپ دیکھ کر حضرت موسیٰ ڈر کر بھاگنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا موسیٰ ڈرو نہیں بلکہ آگے ہو کر پکڑ لو۔ یہ پہلے کی طرح لاٹھی بن جائے گا اور آپ مامون رہیں گے۔ اپنا ہاتھ بغل میں دبا کر نکال یہ بغیر کسی تکلیف کے چمکتا ہوا ظاہر ہوگا خوف کے وقت ہاتھ کو بغل میں دبا لینا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر چھوڑ کر مدین اس لیے گئے تھے کہ ان سے سہوًا ایک شخص قتل ہوگیا تھا۔ فرعون اور اس…
Read the full tafseer →31: وَاَنْ اَلْقِ عَصَاکَ (اور یہ کہ تم اپنی لاٹھی ڈال دو ) ۔ اور ان کو آواز دی گئی کہ اپنی لاٹھی ڈال دو انہوں نے ڈال دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو سانپ سے بدل دیا۔ فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ (جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حرکت کرتے دیکھا) ۔ تہتز کا معنی حرکت کرنا۔ کَاَنَّہَا جَآنٌّ (گویا کہ وہ سانپ ہے) ۔ دوڑنے میں چھوٹا سانپ اور جسامت میں بڑا سانپ۔ وَلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ (پشت پھیر کر بھاگے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا ) ۔ لم یعقب کا معنی نہ لوٹے۔ پس ان کو کہا گیا۔ یٰمُوْسٰٓی اَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ اِنَّکَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ (اے موسیٰ متوجہ ہو اور ڈرو نہیں بیشک تو امن والوں میں سے ہے) ۔ یعنی تو…
Read the full tafseer →تفسیر۔
31۔ وان الق عصاک، فلماراھاتھتز، وہ حرکت میں آگیا۔ کانھاجان، ، گویا کہ وہ چھوٹا ساسانپ ہے جو سریع الحرکت ہے ولی مدبرا، س سے خوف کھاکر بھاگ گئے۔ ولم یعقب، وہ نہیں لوٹے یہاں تک کہ ان کو آوا ز دی گئی، یاموسی ولاتخف انک من الامنین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
29 تا 34۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں مدتوں میں سے دس برس کی مدت کو پورا کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر کے جانے کا اور اپنے بھائی اور اپنی ماں سے ملنے کا شوق ہوا اور وہ شعیب (علیہ السلام) سے رخصت ہوئے ان کے ساتھ ان کی بی بی اور بکریاں تھیں جو شعیب (علیہ السلام) نے ان کو دی تھیں یہ سفر جاڑے کے موسم کا تھا اور اندھیری رات میں راستہ بھی بھول گئے تھے اسی حالت میں انہوں نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا تم ٹھہرو میں جاتا ہوں تاکہ راستہ کی کچھ خبر لاؤں اور تاپنے کے لیے کچھ آگ بھی لیتا آؤں جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے پاس آئے جو کوہ طور کے جانب کو تھی یہ آگ ایک سبز درخت میں دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–54
شعراء کی دو اقسام
قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
39 حضرت موسیٰ کی معجزئہ عصا سے سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ موسیٰ کو حکم ہوا کہ اپنی لاٹھی کو ڈال دو زمین پر۔ سو آپ نے اس کو زمین پر ڈال دیا۔ پھر یکایک عصائے موسوی ایسے بل کھا رہا تھا جیسے وہ کوئی باریک سانپ ہو۔ یعنی چلنے اور پھرتی میں تو وہ { جان } ۔ " پتلے باریک سانپ " کی طرح تھا مگر جسم میں خوفناک اژدھے کی طرح۔ جیسا کہ دوسری جگہ اسے { ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ } فرمایا گیا۔ اور ان دو متضاد صفتوں کو اس میں یکجا ہوجانا اس کی انفرادی شان ہی کا ایک پہلو تھا۔ بہرکیف یہ پہلا معجزہ تھا جس سے حضرت موسیٰ کو نوازا گیا کہ اللہ کے حکم و ارشاد سے آپ نے اپنے عصا کو زمین پر ڈال دیا اور زمین پر پڑتے ہی وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–46
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
آیات 29 تا 46
اسرارومعارف
چنانچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عرصہ پورا کردیا جس کا وعدہ فرمایا تھا تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس مصر کو روانہ ہوئے کہ گھر والوں سے بچھڑے ہوئے دس سال بیت چکے تھے روایات کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس پورے کیے۔ راستے میں رات ہوگئی موسم بھی سرد تھا تو کوہ طور پر جو آپ کی راہ کے ساتھ پڑتا تھا روشنی دیکھی جیسے کسی نے آگ روشن کی ہو۔ تو اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ آپ لوگ یہاں انتظار کریں میں وہاں جاتا ہوں ممکن ہے کوئی راستے کے بارے خبر وہاں سے مل جائے کہ لگتا ہے کہ ہم راستہ بھول رہے ہیں اور آگ بھی لیتا آؤں گا یہاں جلا کر…
Read the full tafseer →6 ۔ کسی قسم کا اندیشہ نہ کرو۔ (طہ :22، 46، 61)
Read the full tafseer →(28:31) الق : القاء (افعال) سے فعل امر واحد مذکر حاضر ۔ تو ڈال دے۔ تو (نیچے) پھینک دے القاء کے اصل معنی کسی شی کو اس طرح ڈالنے کے ہیں کہ نظر آتی رہے۔ پھر عرف عام میں اس کا استعمال ہر طرح کے ڈالنے کے متعلق ہونے لگا۔ عصا (عصو مادہ) تیری لاٹھی۔ اپنی لاٹھی۔
فلما راھا۔ اس سے قبل جملہ محذوف ہے ای فالقھا فصارت حبۃ تھتز ۔ فلما راھا تھتز۔ یعنی اس نے حکم خداوندی کی تعمیل میں عصا نیچے ڈال دیا تو وہ ایک سانپ کی شکل اختیار کر گیا اور سانپ کی طرح لہرانے لگا (جھومنے لگا) راھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع عصا ہے۔
تھتز۔ مضارع واحد مؤنث غائب اھتزاز افتعال ۔ الھز کے معنی کسی چیز کو ہلانے کے ہیں جیسے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
لغات القرآن : آیت نمبر 29 تا 35 :
سار (وہ چلا) اھل (گھروالے ۔ گھر والی) ‘ انس (اس نے محسوس کیا) ‘ امکئوا (تم ٹھہرو) جذوۃ ( انگارہ۔ شعلہ۔ چنگاری) شاطی (کنارہ) وادالایمن (داہنا میدان) ‘ البقعۃ (جگہ) الق (ڈال دے۔ پھینک دے) تھتز (وہ پھنکارتا ہے۔ وہ لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ) ولی (وہ پلٹا) ‘ مدبر ( پیٹھ پھیر نے والا) ‘ لم یعقب (پیچھے مڑکرنہ دیکھا) اقبل (سامنے آ) اسلک (تو ڈال دے) اضمم (ملالے) الرھب (خوف۔ ڈر) افصح (زیادہ فصیح۔ اچھی زبان بولنے والا) ‘ ردا (مدد گار) ‘ سنشد (ہم عنقریب مضبوط کردیں گے) ‘ عضد (بازو) ‘ سلطان (غلبہ۔ قوت و طاقت) ۔
تشریح : آیت نمبر 29 تا 35 :
حضرت شعیب (علیہ السلام) اور حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
(ف 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس کی مدت کو پورا کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر کے جانے کا اور اپنے بھائی اور اپنی ماں سے ملنے کا شوق ہوا، اور حضرت شعیب (علیہ السلام) سے رخصت ہوئے ان کے ساتھ ان کی بیوی اور بکریاں تھیں جو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو دی تھیں یہ سفر جاڑے کے موسم کا تھا، اور اندھیری رات میں راستہ بھول گئے تھے ، اس حالت میں انہوں نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بیوی سے کہا، تم ٹھہرو، میں جاتا ہوں کہ تاکہ راستہ کی کچھ خبرلاؤں اور تاپنے کے لیے کچھ آگ بھی لیتاآؤں۔ جب حضرت موسیٰ آگ کے پاس آئے جو کوہ طور کی جانب کو تھی یہ آگ ایک سبز درخت میں دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
[18] یعنی جب کبھی تمہارے دل میں خوف پیدا ہو تو اپنا بازو پہلو سے ملا لینا۔ اس سے خوف دور ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →تھتز ۔ اہتزاز سے بمعنی جنبش کرنا
Read the full tafseer →31۔ اور نیز یہ آواز آئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنا عصاڈال دے پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس لاٹھی کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا جیسے وہ ایک تیز رفتار سانپ ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) پیٹھ پھیرکر الٹے پھرے اور پلٹ کر بھی نہ دیکھا ارشاد ہوا اے موسیٰ (علیہ السلام) آگے آ اور ڈر نہیں یقینا تو امن یافتہ لوگوں میں سے ہے۔ عضا کو ڈالنے کا حکم ہوا جب موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی ڈالی تو وہ ایک پتلے سانپ کی طرح دوڑنے لگی موسیٰ (علیہ السلام) کو بہ تقاضائے بشریت خوف معلوم ہوا اور وہ پیٹھ پھیر کر چلنے لگے تو ارشاد ہوا سامنے آئو اور ڈرو نہیں تم ہر طرح امن میں ہو ۔
یہاں جان فرمایا سورة طہٰ میں حیۃ فرمایا ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ف 7۔ چناچہ انہوں نے ڈال دیا اور وہ سانپ بن کر چلنے لگا۔
8۔ یہ کوئی ڈر کی بات نہیں بلکہ تمہارا معجزہ ہے۔
Read the full tafseer →موسیٰ کی لاٹھی پھینکنے کا حکم اور سانپ کو دیکھ کر نہ ڈرنے کا حکم :
31۔ لاٹھی کے سانپ بنانے جانے اور سانپ کے لاٹھی ہوجانے کے استعارات کیوں استعمال کئے گئے ان میں کیا حکمت تھی ؟ اس کی ضرورت کیا پیش آئی ؟ اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ موسیٰ (علیہ السلام) کیسے ڈرے اور آپ کا ڈر کیسے دور ہوگیا ؟ اس طرح کے سارے سوالات کے جوابات سورة طہ کی آیات 19 تا 23 میں تفصیل سے دیئے جا چکے ہیں وہاں سے ایک نظر دیکھ لیں اور حقیقت حال کو یاد رکھنے کی کوشش کریں کیونکہ وہ استعارات ہیں جو اکثر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات میں پائے جاتے ہیں ایک بار بات سمجھ لی جائے تو سب جگہوں پر وہ کام دے سکتی ہے مطلب سمجھ میں آچکا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
A sermon should have high degree of eloquence
هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا (He is more fluent in his tongue - 28:34). This verse points out that a high degree of oratory and eloquence is desirable for sermons and preaching, and there is no harm if one takes training in that.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
44 These two miracles were shown to the Prophet Moses at that time so that, firstly, he himself is fully convinced that the same Being Who is speaking to him is, in fact, the Creator and Master and Ruler of the whole system of the universe and secondly, he should have full satisfaction that he was not going unarmed before Pharaoh, to perform the dangerous mission assigned to him, but would go well armed with the two powerful weapons.
45 That is, "Whenever you experience the fear of any danger, fold back your arm to yourself: this will strengthen your heart and will deliver you completely from…
Read the full tafseer →