Al-Qasas 28:30

Al-Qasas · from ayah 30

28:30

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤی اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ۟ۙفَلَمَّاۤ اَتٰٮهَا نُوۡدِىَ مِنۡ شَاطِیٴِ الۡوَادِ الۡاَيۡمَنِ فِى الۡبُقۡعَةِ الۡمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنۡ يّٰمُوۡسٰٓى اِنِّىۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ

جب اس کے پاس پہنچے تو میدان کے دائیں کنارے سے ایک مبارک جگہ میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ موسٰی میں تو خدائے رب العالمین ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But when he came to it, he was called from the right side of the valley in a blessed spot - from the tree, "O Moses, indeed I am Allah, Lord of the worlds."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 4 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:30

وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے پر مبارک خطے میں ایک درخت سے پکارا گیا کہ "اے موسیٰؑ، میں ہی اللہ ہوں، سارے جہان والوں کا مالک"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب اس کے پاس پہنچے تو میدان کے دائیں کنارے سے ایک مبارک جگہ میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ موسٰی میں تو خدائے رب العالمین ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس جب وہاں پہنچے تو اس بابرکت زمین کے میدان کے دائیں کنارے کے درخت میں سے آواز دیئے گئے کہ اے موسیٰ! یقیناً میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ جب وہ اس آگ کے پاس پہنچے تو دائیں وادی کے کنارے پر جو برکت والے علاقے میں واقع تھی، ایک درخت سے آواز آئی کہ : اے موسیٰ ! میں ہی اللہ ہوں، تمام جہانوں کا پروردگار !

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب آگ کے پاس حاضر ہوا ندا کی گئی میدان کے دہنے کنارے سے برکت والے مقام میں پیڑ سے کہ اے موسیٰ! بیشک میں ہی ہوں اللہ رب سارے جہان کا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جب موسٰی ؑ وہاں پہنچے تو وادئ (طور) کے دائیں کنارے سے بابرکت مقام میں (واقع) ایک درخت سے آواز دی گئی کہ اے موسٰی! بیشک میں ہی اللہ ہوں (جو) تمام جہانوں کا پروردگار (ہوں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اسے اس بابرکت قطعہ میں وادی کے دائیں کنارے سے ایک درخت سے آواز دی گئی کہ اے موسیٰ ! بلاشبہ میں ہی اللہ ہوں، جو سارے جہانوں کا رب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب موسیٰ وہاں پہنچے تو وادی کے کنارے مبارک خطہ کے ایک درخت سے آواز آئی کہ : اے موسیٰ ! میں ہی اللہ ہوں۔ سارے جہانوں کا پروردگار۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو جب وہ اس کے پاس آیا، خطہ مبارک میں، وادی ایمن کے کنارے سے، درخت سے اس کو آواز آئی کہ اے موسیٰ ! میں اللہ، عالم کا خداوند ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر جب آپ وہاں پہنچے تو اس وادی کی دائیں جانب اس مبارک خطے میں ایک درخت سے آپ کو آواز آئی کہ اے موسیٰ یقینی طور پر میں اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار

— مولانا اسحاق مدنی

سو جب وہ اس آگ کے پاس پہنچے تو انہیں آواز آئی اس میدان کے داہنی جانب سے اس مبارک مقام میں ایک درخت سے کہ اسے موسیٰ یہ تو میں ہوں اللہ پروردگار عالم

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو جب وہ وہاں پہنچا تو اسے ندا دی گئی وادی کے دائیں کنارے سے بابرکت جگہ میں ایک درخت سے کہ اے موسیٰ ؑ ٰ ! میں ہی اللہ ہوں تمام جہانوں کا پروردگار

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب اس کے پاس پہنچے تو میدان کے دائیں کنارے سے ایک مبارک جگہ میں ایک درخت سے آواز آئی کہ ”موسیٰ میں تو اللہ رب العلمین ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But when he came to the fire, a cry was heard from the right bank of the valley, from a tree in the hallowed ground: "O Moses, verily I am Allah, the Lord of all creatures of the Universe."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So when he came to it, he was called by a voice coming from a side of the right valley in the blessed ground, from the tree, saying, :O Musa, I AM ALLAH, the Lord of the worlds,

— Muhammad Taqi Usmani

So when he came to it, he was called by a voice coming from a side of the right valley in the blessed ground, from the tree, saying, :O Musa, I AM ALLAH, the Lord of the worlds,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So when he reached it, he was called from the right side of the valley, in the blessed place, from the tree: "O Musa! Verily, I am Allah, the Lord of all that exists!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when he reached it, he was called from the right side of the valley in the blessed field, from the tree: O Moses! Lo! I, even I, am Allah, the Lord of the Worlds;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But when he came to it, he was called from the right side of the valley in a blessed spot - from the tree, "O Moses, indeed I am Allah, Lord of the worlds."

— Saheeh International

He was called from a tree of the blessed spot of the bank of the right side of the valley when he appraoched it, "Moses, I am God, the Lord of the Universe.

— Muhammad Sarwar

And when he came to it, a voice was uttered from the right side of the valley in the blessed spot of the bush, saying: O Musa! surely I am Allah, the Lord of the worlds.

— Muhammad Habib Shakir

Then when he was come thereto, he was called from the right side of the valley in the ground blest from the tree: Musa! verily I! I am Allah, the Lord of the worlds;

— Abdul Majid Daryabadi

But when he came to the (fire), a voice was heard from the right bank of the valley, from a tree in hallowed ground: "O Moses! Verily I am Allah, the Lord of the Worlds....

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 29–32

دس سال حق مہر پہلے یہ بیان گزرچکا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ الاجل سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے واللہ اعلم۔ بلکہ حضرت مجاہد کا تو قول ہے کہ دس سال یہ اور دس سال اور بھی گزرے۔ اس قول میں یہ صرف تنہا ہے۔ واللہ اعلم۔ اب حضرت موسیٰ ؑ کو خیال اور شوق پیدا ہوا کہ چپ چاپ وطن میں جاؤں اور اپنے والوں سے مل آؤں چناچہ آپ اپنی بیوی صاحبہ کو اور اپنی بکریوں کو لے کر وہاں سے چلے رات کو بارش ہونے لگی اور سرد ہوائیں چلنے لگیں اور سخت اندھیرا ہوگیا۔ آپ ہرچند چراغ جلاتے تھے مگر روشنی نہیں ہوتی تھی۔ سخت متعجب اور حیران تھے اتنے میں دیکھتے ہیں کہ کچھ دور آگ روشن ہے تو اپنی اہلیہ صاحبہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 30–31

سورة القصص 42 یعنی اس کنارے پر جو حضرت موسیٰ کے داہنے ہاتھ کی طرف تھا۔ سورة القصص 43 یعنی اس خطے میں جو نور تجلی سے روشن ہورہا تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–33

نُوْدِيَ مِنْ شَا 8 الْوَادِ الْاَيْمَنِ (الی) اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، یہ مضمون بضمن قصہ موسیٰ ؑ سورة طہ اور سورة نمل میں گزرا ہے۔ سورة طہ میں ہے اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ اور سورة نمل میں ہے نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّار اور اس سورت میں ہے اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ یہ الفاظ اگرچہ مختلف ہیں مگر معنی تقریباً ایک ہی ہیں واقعہ کی حکایت پر ہر مقام کے مناسب الفاظ سے کی گئی ہے (کذا قال الامام) اور یہ تجلی بشکل نار تجلی مثالی تھی کیونکہ تجلی ذاتی کا مشاہدہ اس دنیا میں کسی کو نہیں ہوسکتا اور خود موسیٰ ؑ کو اس تجلی ذاتی کے اعتبار سے لَن تَرَانِی فرمایا گیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس آیت کے تمام اجزاء کی وضاحت سورة طہ اور سورة نمل وغیرہ کی تفسیر میں پیچھے گزر چکی ہے۔ جب حضرت موسیٰ ؑ اس جگہ پہنچے جہاں سے ان کو آگ نظر آئی تھی تو وادی مبارک کے کنارے سے، جو مبارک خطہ میں تھی، ایک خاص درخت سے یہ آواز آئی اے موسیٰ ! یہ تو میں ہوں، اللہ، عالم کا خداوند ! یہاں آواز کی نشان دہی کے لئے تین ظرف مذکور ہوئے ہیں، ایک یہ کہ یہ آواز وادی مبارک کی سمت سے آئی، دوسرا یہ کہ یہ وادی، مبارک خطہ میں تھی، تیسرا یہ کہ یہ آواز ایک خاص درخت سے آئی۔ ان تمام تعینات کے ذکر سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ حضرت موسیٰ کو یہ آواز فضائے لامتناہی کے اندر ایک مبہم و بےجہت آواز کی صورت میں نہیں بلکہ تعین جہت و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

30-1یعنی آواز وادی کے کنارے سے آرہی تھی، جو مغربی جانب سے پہاڑ کے دائیں طرف تھی، یہاں درخت سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے جو دراصل رب کی تجلی کا نور تھا۔ 30-2یعنی اے موسٰی ! تجھ سے جو اس وقت مخاطب اور ہم کلام ہے، وہ میں اللہ ہوں رب العالمین۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–30

19: بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے دس سال حضرت شعیب ؑ کے پاس پورے کیے تھے، اس کے بعد غالبا انہوں نے اپنی والدہ اور دوسرے رشتہ داروں کے پاس مصر جانے کا ارادہ فرمایا یا اور یہ سوچا کہ قبطی کے قتل کا قصہ اب بھولا بسرا ہوچکا ہوگا، اور واپس مصر جانے میں کوئی خطرہ نہیں رہا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 29–35

فلما قضی موسیٰ الاجل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعکما الغلبون (29- 35) قبل اس کے کہ ہم اس حلقے کے ان دو مناظر پر تفصیلی گفتگو کریں ، ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ ان دس سالوں کے وقفے میں اللہ نے حضرت موسیٰ کے حوالے سے کیا تدابیر اختیار کیں اور کیا اقدامات کیے۔ اس سفر اور آنے جانے میں کیا حکمت تھی۔ دست قدرت کو یوں منظور تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایک قدم آگے بڑھتے جائیں۔ یعنی اس وقت سے لے کر جب وہ شیرخوار بچہ تھے ، ان کی موجودہ پوزیشن تک ان کے ستاھ دست قدرت کا معاملہ کیا رہا۔ ان کو دریا میں پھنکا گیا تاکہ فرعون کے لوگ اسے پکڑلیں۔ ان کو دیکھ کر فرعون کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی یا کردی گئی کہ وہ عین…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 30–31

آیت 31 وَاَنْ اَلْقِ عَصَاکَ ط ” قرآن میں اس واقعہ سے متعلق مختلف تفصیلات مختلف مقامات پر ملتی ہیں۔ فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ ط ” اس واقعہ کے حوالے سے سورة النمل میں بھی ان سے ملتے جلتے الفاظ آئے ہیں۔ یٰمُوْسٰٓی اَقْبِلْ وَلَا تَخَفْقف اِنَّکَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ ” تم بالکل امن وامان میں رہو گے اور تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

40 یہ آگ نہیں تھی، نہ اس میں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ بلکہ یہ اللہ کا نور تھا۔ جس نے ایک درخت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور اس آگ یا نور کے درمیان یہ سرسبز درخت لہلہا رہا تھا۔ اس درخت میں سے آواز آنے لگی کہ موسیٰ ! تم یہاں اتفاقاً نہیں پہنچ گئے بلکہ ٹھیک میرے اندازہ کے مطابق اس مبارک وادی میں پہنچے ہو اور میں اللہ تم سے ہمکلام ہو رہا ہوں۔ جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے (اس مقام پر اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰ کی گفتگو کی تفصیل چھوڑ دی گئی ہے جو سورة طٰہ اور دوسری مقامات پر مذکور ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 30–31

44۔ (اور یہ تو تمہارا معجزہ ہے) (آیت) ” الوادالایمن “۔ میدان کی داہنی جانب۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی داہنی جانب تھی۔ سارے واقعہ پر مفصل حاشیے سورة طہ پ 16 میں گزر چکے، نیز سورة النمل پ 19، سورة الاعراف پ 8 میں۔ (آیت) ” انی انا اللہ “۔ کے ساتھ صفت (آیت) ” رب العلمین “۔ کا اضافہ اس حقیقت کو اور مؤکد ومصرح کررہا ہے کہ جو سارے عالم کا مالک وحاکم ہے وہ کسی محدود جگہ کے اندر گھر کیونکر سکتا ہے ؟۔ (آیت) ” ولی مدبرا ولم یعقب “۔ سانپ، شیر، وغیرہ زہریلے اور خطرناک جانوروں سے ڈرنا بالکل ایک امر طبعی ہے، اور بڑے سے بڑے کمالات ولایت، یہاں تک کہ نبوت کے بھی منافی نہیں۔ اور حضرت کلیم اللہ کا یہ خوف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 29–32

آیت نمبر 29 تا 32 ترجمہ : چناچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدت پوری کردی یعنی (بکریاں) چَرائی کی مدت، اور وہ آٹھ یا دس سال تھی اور غالب گمان یہ ہے کہ دس سال پورے کئے اور اپنی اہلیہ کو اس کے والد کی اجازت سے مصر کی طرف ہمراہ لیکر روانہ ہوگئے (تو) دور سے طور جو کہ ایک پہاڑ کا نام کی جانب آگ دیکھی تو اپنی اہلیہ سے کہا تم یہاں ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے بہت ممکن ہے کہ میں وہاں سے راستہ کی خبر حال یہ ہے کہ موسیٰ راستہ بھول گئے تھے یا آگ کا ٹکڑا یا شعلہ لاؤں جَذُوۃ جیم میں تینوں اعراب جائز ہیں تاکہ تم تاپو یعنی تاکہ تم سینکو طاء باب افتعال کی تاء سے بدلی ہوئی ہے، اور یہ صَلِیِّ بالنار کسرہ لام اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما اتھا نودی من شاطی الواد الایہ من فی البقعہ المبرکۃ من الشجرۃ ان یموسی انی انا اللّٰہ . جب موسیٰ آگ پر پہنچے تو (پاک یا) برکت والے مقام میں دائیں طرف کی وادی کے کنارے ایک درخت سے آواز دی گئی کہ موسیٰ ! بلاشبہ میں ہی اللہ رب العالمین ہوں۔ اَلْبُقًعَۃِ الْمُبٰرَکَۃِ یعنی موسیٰ کے لئے بڑی برکت والا مقام۔ یہیں اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا اور اسی جگہ پیغمبری سے سرفراز کیا۔ عطا نے کہا : مُبَارَکَۃ سے مراد ہے مقدس (کیونکہ دوسری آیت میں بالوادی المقدس طوی آیا ہے ‘ مترجم) ۔ مِنَ الشَّجَرَۃِ یہ درخت وادی کے کنارے پر تھا۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : یہ ایک سرسبز درخت تھا جو چمک رہا تھا۔ قتادہ ‘ کلبی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(30) چناچہ جب وہ اس آگ کے پاس پہنچے تو حضرت موسیٰ ؑ کو دائیں طرف سے جو ان کی بھی دائیں طرف تھی اس مبارک مقام میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ موسیٰ ؑ میں رب العالمین ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَلَمَّآ اَتٰىهَا نُوْدِيَ۔۔ :”شَاطی الْوَادِ الْاَيْمَنِ“ کی تفسیر کے لیے دیکھے سورة مریم (52) اور طٰہٰ (80) ”مِنَ الشَّجَرۃِ“ جب موسیٰ ؑ اس آگ کے پاس آئے تو دیکھا کہ سرسبز درخت میں آگ لگی ہوئی ہے، جس سے جلنے کے بجائے درخت مزید سرسبز اور خوب صورت دکھائی دے رہا ہے۔ موسیٰ ؑ حیرت سے یہ منظر دیکھ ہی رہے تھے کہ درخت میں سے آواز آئی : ”اے موسیٰ ! بلاشبہ میں ہی اللہ ہوں جو رب العالمین ہے۔“ اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ : دیکھیے سورة طٰہٰ (14) اللہ تعالیٰ نے یہاں موسیٰ ؑ کو دو ناموں کے ساتھ اپنا تعارف کروانے کا ذکر فرمایا ہے، ایک ”اللّٰهُ“ جو ذاتی نام ہے، جس میں اس کی ساری صفات آجاتی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فلما اتھا، ھاضمیر سے مراد درخت ہے ضمیر کو اسم سے مقدم کیا۔ نودی من شاطی الواد پہلا اور دوسرا من ابتداء غایت کے لئے ہے آپ کو ندا وادی کی جانب سے درخت کی جانب سے آئی۔ من الشجرۃ یہ من شاطی الواد پہلا اور دوسرا من ابتداء غایت کے لئے ہے آپ کو نداوادی کی جانب سے درخت کی جانب سے ائٓی۔ من الشجرۃ یہ من شاطی الواد سے بدل اشتمال ہے، کیونکہ درخت وادی کے کنارے پر اگا ہوا تھا۔ شاطی الوادی اور شط الوادی دونوں کا معنی اس کی جانب ہے۔ جمع شطان اور شواطی آتی ہے، قشیری نے اسے ذکر کیا ہے۔ جوہری نے کہا، شاطی الاودیۃ کہا جاتا ہے اس کی جمع نہیں بنائی جاتی۔ شاطات الرجل جب ت ایک کنارے پر چلے اور وہ دوسرے کنارے پر چلے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

بقعہ مبارک میں غیبی آواز 1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت نؤدی من شاطئی الوادء الایمن کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آسمان دنیا سے آواز تھی۔ 2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت نودی من شاطء الواد الایمن سے مراد ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی دائیں جانب سے جو طور کے پاس ہے۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ ندا درخت کے دائیں طرف سے تھی یہ ندا آسمان سے آئی تھی اس کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔ 4۔ عبد بن حمید وابن المنذ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ درخت کے داہنی جانب سے پکارا گیا۔ 5۔ ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَلَمَّآ [ پھر جب ] اَتٰىهَا [ وہ پہنچے اس کے پاس ] نُوْدِيَ [ تو ندا دی گئی ] مِنْ شَا 8 الْوَادِ الْاَيْمَنِ [ وادی کے داہنے کنارے سے ] فِي الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ [ برکت دئیے ہوئے اس قطعہ زمین میں ] مِنَ الشَّجَرَةِ [ اس درخت سے ] ااَنْ يّٰمُـوْسٰٓي [ کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ] اِنِّىْٓ [ بیشک میں ] اَنَا اللّٰهُ [ ہی اللہ ہوں ] رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کا رب ہوں ] (ف) شطأ کنارے یا ساحل پر چلنا۔ کھیتی میں بالی آنا۔ خوشہ نکلنا۔ شطأ اسم ذات ہے۔ کنارہ ، بالی۔ خوشہ۔ کزرع اخرج شطاہ (کسی کھیتی کی مانند جس نے نکالا اپنا خوشہ) ۔ 48/29 ۔ شاطی سمندر کا ساحل ۔ دریا کا کنارہ۔ زیر مطالعہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 30–36

رسالت سے سر فراز ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مصر کو واپس ہونا، پھر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس پہنچ کر حق کی دعوت دینا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپس ہوتے ہوئے وادی طویٰ میں نبوت سے سرفراز کیے گئے اور وہیں انہوں نے اللہ جل شانہٗ سے دعا کی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی رسول بنا دیجیے تاکہ میں اور وہ مل کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جائیں اور آپ کا فرمان پہنچائیں اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرما دی، جس کی کچھ تفصیل گزر چکی ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر پہنچے تو اپنے گھر گئے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ساتھ لیا۔ دونوں مل کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–42

قال اللہ تعالیٰ فلما قضی موسیٰ الاجل وسار باھلہ الی۔۔۔ ویوم القیمۃ ہم من المقبوحین۔ الغرض جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہ کر پوری مدت گزار دی یعنی دس برس تک بکریاں چرائیں اور دس برس تک ایک نبی کی صحبت میں رہے اور مجاہدہ اور ریاضت اور باطنی تربیت کی منزلیں طے ہوگئیں اور چالیس سال کی سن کو پہنچے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی زوجہ اور اہل خانہ کو لے کر مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اہل قرابت سے جا کر ملیں اور طور کے آس پاس پہنچے۔ رات کا وقت تھا اندھیری چھائی ہوئی تھی اور سخت سردی تھی۔ اتفاق سے راہ بھٹک گئے ایسے وقت میں طبعا آگ کی تلاش ہوتی ہے۔ کوہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

29:۔ من شاطئ، مبدل منہ اور من الشجرۃ اس سے بدل ہے جب وہ آگ کے قریب پہنچے تو اس بابرکت اور سر سبز و شاداب کطے میں وادی کے دائیں کنارے کی جانب سے ایک درخت میں سے آواز آئی اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں یعنی ساری کائنات میں متصرف اور سارے جہاں کا مالک ہوں۔ ان یاموسی میں اَن تفسیریہ ہے جو نداء کی تفسیر کر رہا ہے۔ وان الق عصاک یہ ان یموسی پر معطوف ہے۔ فلما راھا تہتز الخ جب انہوں نے دیکھا کہ لاٹھی کا بہت بڑا اژدھا بن گیا ہے اور وہ سپولے کی مانند بڑی تیزی سے حرکت کر رہا ہے تو خوف سے پیٹھ پھیر کر بھاگے۔ یموسی اقبل الخ، پھر آواز آئی اے موسیٰ ! آگے بڑھو اور مت ڈرو اور اسے پکڑ لو تم ہر خوف و خطر سے محفوظ ہو اس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–35

ربط آیات یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کا ذکر ہو رہا ہے ۔ جب آپ شعیب (علیہ السلام) کے گھر پہنچے تو آپ کو اطمینان حاصل ہوا کہ فرعونیوں کے مظالم سے بچ گئے ہیں ۔ شعیب (علیہ السلام) کی دو بیٹیوں میں سے ایک نے اپنے باپ کو مشورہ دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو نوکر رکھ لیا جائے ۔ یہ شخص بڑا طاقتور اور امانتدار ہے ۔ شعیب (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پیش کش کی میں دو میں سے ایک بیٹی کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں گا ۔ بشرطیکہ تم کم از کم آٹھ سال میرے یہاں نوکری کرو۔ تم دس سال پورے کر دو تو یہ تمہاری منشاء پر منحصرہو گا اور میری طرف سے کوئی اصرار نہیں ہوگا ، البتہ میں تمہارے ساتھ انشاء اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّآ اَتٰىہَا نُوْدِيَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَيْمَنِ فِي الْبُقْعَۃِ الْمُبٰرَكَۃِ مِنَ الشَّجَرَۃِ اَنْ يّٰمُـوْسٰٓي اِنِّىْٓ اَنَا اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۝ 30 ۙ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 29–31

جب موسیٰ ( علیہ السلام) وہ میعاد پوری کرچکے تو بیوی کو لے کر وطن (مصر) کی طرف چلے، سردی کا موسم تھا۔ رستہ بھی رات میں بھول گئے تھے، گھر کے لوگوں سے کہا کہ وہ جو دور سے جنگل میں آگ چمک رہی ہے، تم یہیں ٹھہرو، میں وہاں جاکر دریافت کرتا ہوں، یعنی رستہ کے لیے کہ اس آگ کے پاس کوئی ہوگا اور جو آگ زیادہ ہوئی تو اس میں سے ایک انگارا بھی تمہارے تاپنے کو لادوں گا، جب موسیٰ ( علیہ السلام) وہاں آئے تو رستہ کے دائیں جانب ایک جنگل کی پاک جگہ میں ایک درخت سے یہ آواز آئی کہ اے موسیٰ ! میں ہوں ” اللہ رب العالمین “ یہ وادی کہ جہاں درخت میں سے دور سے رات کو موسیٰ ( علیہ السلام) کو آگ دکھائی دی تھی، کوہ طور کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَلَمَّـآ اَتٰـھَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِیِٔ الْوَادِالْاَیْمَنِ فِی الْـبُـقْـعَـۃِ الْمُبٰـرَکَۃِ مِنَ الشَّجَرَۃِ اَنْ یّٰمُوْسٰٓی اِنِّیْٓ اَنَا اللّٰہُ رَبُّ الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (القصص : 30) (جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو وادی کے داہنے کنارے پر مبارک خطے میں ایک درخت سے پکارا گیا کہ اے موسیٰ ! میں ہی اللہ ہوں سارے جہان والوں کا مالک۔ ) جلوہ طور کا تعارف جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس جگہ پہنچے جہاں ان کو آگ نظر آئی تھی، تو وہاں انھیں حیران کن صورتحال سے واسطہ پیش آیا جس کا انھوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا۔ وہ تو یہ سمجھ کر گئے تھے کہ وہاں پر آگ جل رہی ہوگی اور میں اس سے کوئی انگارہ اٹھا لائوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی اہلیہ کے لیے جمع کی ضمیر استعمال فرمائی۔ ” اُمْکُثُوْا، تم ٹھہرو۔ “ ہوسکتا ہے کہ جس طرح اردو زبان میں ہم واحد مخاطب کے لیے جمع مخاطب کی ضمیر استعمال کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بناء پر جمع کی ضمیر استعمال کی ہو۔ البتہ تورات میں موجود ہے کہ مدین میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاں دو بچے پیدا ہوچکے تھے۔ جو سفر میں ان کے ساتھ تھے جس وجہ سے انھوں نے جمع کی ضمیر استعمال فرمائی۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ انھوں نے جمع کی ضمیر اس لیے استعمال کی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی اہلیہ، بیٹا اور ایک خادم بھی تھا۔ جس بناء پر انھوں نے اپنی اہلیہ کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 29–30

29: فَلَمَّا قَضٰی مُوْسَی الْاَجَلَ (جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدت کو پورا کیا) ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آپ نے مدت کامل ترین پوری کی اور شادی ان دونوں میں سے چھوٹی سے کی۔ (یہ ہیثمی کی روایت ہے) مگر یہ گزشتہ روایت کے خلاف ہے۔ وَسَارَ بِاَہْلِہٖ (آپ اپنے گھر والوں کو لے کر چلے) ۔ اہل سے مراد بیوی کو مصر کی طرف لے کرچلے۔ قول ابن عطاء m : جب آپ نے مشقت کا زمانہ پورا کرلیا تو قرب کا زمانہ قریب آن لگا۔ انوار نبوت ظاہر ہونے لگے۔ اپنے گھر والوں کو لے کر مصر روانہ ہوئے تاکہ بیوی بھی اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں میں شریک حال ہو۔ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا قَالَ لِاَہْلِہِ امْکُثُوْا اِنِّیْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

30۔ فلمااتاھانودی من شاطی الوادی الایمن، اس وادی کی جانب جو حضرت موسیٰ کے دائیں جانب تھی، فی البقعۃ المبارکہ، موسیٰ کے لیے بری مبارک جگہ ہے۔ یہیں موسیٰ کے ساتھ اللہ نے کلام کیا اور اسی جگہ پیغمبرعطا کی۔ عطا کا قول ہے کہ مبارکہ سے مراد مقدس ہے۔ من الشجرۃ ، درخت وادی کے کنارے پر ہے۔ ابن مسعود نے کہایہ ایک سرسبز درخت تھا جو چمک رہاتھاقتادہ کلبی اور مقاتل کا بیان ہے کہ یہ عوجہ کا درخت تھا، وہب کا بیان ہے کہ یہ علیق کا درخت تھا، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہایہ عذب کا درخت تھا، ان یاموسی انی انا اللہ رب العالمین۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–34

29 تا 34۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں مدتوں میں سے دس برس کی مدت کو پورا کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر کے جانے کا اور اپنے بھائی اور اپنی ماں سے ملنے کا شوق ہوا اور وہ شعیب (علیہ السلام) سے رخصت ہوئے ان کے ساتھ ان کی بی بی اور بکریاں تھیں جو شعیب (علیہ السلام) نے ان کو دی تھیں یہ سفر جاڑے کے موسم کا تھا اور اندھیری رات میں راستہ بھی بھول گئے تھے اسی حالت میں انہوں نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا تم ٹھہرو میں جاتا ہوں تاکہ راستہ کی کچھ خبر لاؤں اور تاپنے کے لیے کچھ آگ بھی لیتا آؤں جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے پاس آئے جو کوہ طور کے جانب کو تھی یہ آگ ایک سبز درخت میں دیکھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 27–54

شعراء کی دو اقسام قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 30–31

39 حضرت موسیٰ کی معجزئہ عصا سے سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ موسیٰ کو حکم ہوا کہ اپنی لاٹھی کو ڈال دو زمین پر۔ سو آپ نے اس کو زمین پر ڈال دیا۔ پھر یکایک عصائے موسوی ایسے بل کھا رہا تھا جیسے وہ کوئی باریک سانپ ہو۔ یعنی چلنے اور پھرتی میں تو وہ { جان } ۔ " پتلے باریک سانپ " کی طرح تھا مگر جسم میں خوفناک اژدھے کی طرح۔ جیسا کہ دوسری جگہ اسے { ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ } فرمایا گیا۔ اور ان دو متضاد صفتوں کو اس میں یکجا ہوجانا اس کی انفرادی شان ہی کا ایک پہلو تھا۔ بہرکیف یہ پہلا معجزہ تھا جس سے حضرت موسیٰ کو نوازا گیا کہ اللہ کے حکم و ارشاد سے آپ نے اپنے عصا کو زمین پر ڈال دیا اور زمین پر پڑتے ہی وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–46

تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–42

آیات 29 تا 46 اسرارومعارف چنانچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عرصہ پورا کردیا جس کا وعدہ فرمایا تھا تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس مصر کو روانہ ہوئے کہ گھر والوں سے بچھڑے ہوئے دس سال بیت چکے تھے روایات کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس پورے کیے۔ راستے میں رات ہوگئی موسم بھی سرد تھا تو کوہ طور پر جو آپ کی راہ کے ساتھ پڑتا تھا روشنی دیکھی جیسے کسی نے آگ روشن کی ہو۔ تو اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ آپ لوگ یہاں انتظار کریں میں وہاں جاتا ہوں ممکن ہے کوئی راستے کے بارے خبر وہاں سے مل جائے کہ لگتا ہے کہ ہم راستہ بھول رہے ہیں اور آگ بھی لیتا آؤں گا یہاں جلا کر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

5 ۔ یعنی اس کنارے جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے اپنے داہنے ہاتھ کی طرف تھا۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:30) اتھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع نارا ہے۔ نودی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ندا مصدر۔ اس کو پکارا گیا۔ نادی ینادی مناداۃ۔ ندائ۔ شاطیء الواد الایمن : الواد الایمن موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ ۔ شابیئ۔ کنارہ (جمع سواطی) دائیں جانب کی وادی کے ایک کنارہ سے (اسے پکارا گیا) یا شاطیء الواد (وادی کا کنارہ) مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف اور الایمن صفت، وادی کے بائیں کنارہ سے (اسے پکارا گیا) ۔ البقعۃ۔ زمین ۔ قطعہ زمین۔ بقاع وبقع جمع ۔ البقعۃ المبرکۃ مبارک اس لئے کہ وہ بقعہ آیات اللہ وانوار الٰہی کے اظہار کے لئے مخصوص ہوا۔ موضع حال میں ہے شاطی۔ من الشجرۃ۔ بدل اشتمال ہے کیونکہ درخت وادی کے اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 29–35

لغات القرآن : آیت نمبر 29 تا 35 : سار (وہ چلا) اھل (گھروالے ۔ گھر والی) ‘ انس (اس نے محسوس کیا) ‘ امکئوا (تم ٹھہرو) جذوۃ ( انگارہ۔ شعلہ۔ چنگاری) شاطی (کنارہ) وادالایمن (داہنا میدان) ‘ البقعۃ (جگہ) الق (ڈال دے۔ پھینک دے) تھتز (وہ پھنکارتا ہے۔ وہ لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ) ولی (وہ پلٹا) ‘ مدبر ( پیٹھ پھیر نے والا) ‘ لم یعقب (پیچھے مڑکرنہ دیکھا) اقبل (سامنے آ) اسلک (تو ڈال دے) اضمم (ملالے) الرھب (خوف۔ ڈر) افصح (زیادہ فصیح۔ اچھی زبان بولنے والا) ‘ ردا (مدد گار) ‘ سنشد (ہم عنقریب مضبوط کردیں گے) ‘ عضد (بازو) ‘ سلطان (غلبہ۔ قوت و طاقت) ۔ تشریح : آیت نمبر 29 تا 35 : حضرت شعیب (علیہ السلام) اور حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–31

(ف 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس کی مدت کو پورا کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر کے جانے کا اور اپنے بھائی اور اپنی ماں سے ملنے کا شوق ہوا، اور حضرت شعیب (علیہ السلام) سے رخصت ہوئے ان کے ساتھ ان کی بیوی اور بکریاں تھیں جو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو دی تھیں یہ سفر جاڑے کے موسم کا تھا، اور اندھیری رات میں راستہ بھول گئے تھے ، اس حالت میں انہوں نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بیوی سے کہا، تم ٹھہرو، میں جاتا ہوں کہ تاکہ راستہ کی کچھ خبرلاؤں اور تاپنے کے لیے کچھ آگ بھی لیتاآؤں۔ جب حضرت موسیٰ آگ کے پاس آئے جو کوہ طور کی جانب کو تھی یہ آگ ایک سبز درخت میں دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 30–32

[18] یعنی جب کبھی تمہارے دل میں خوف پیدا ہو تو اپنا بازو پہلو سے ملا لینا۔ اس سے خوف دور ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–30

حل لغات :۔ شاطی الوادالایمن ۔ یعنی مبارک میدان کے کنارے سے یا میدان کے داہنی جانب سے اس کا مطلب دونوں معنوں میں مشترک ہے یمن سے بھی اس کا اشتقاق ہوسکتا ہے اور یمن سے بھی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

30۔ پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے پاس پہنچا تو اس کو ایک درخت میں سے جو میدان کی داہنی جانب زمین کے ایک مبارک قطعہ میں تھا یہ آواز دی گئی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) بلا شبہ میں ہی اللہ تمام عالموں کا پروردگار ہوں ۔ چناچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بڑھتے ہوئے طور کے پاس پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں ایک سبز درخت میں بےدھوئیں کی ایک روشنی ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) متحیر ہوئے کہ سبز درخت میں یہ آگ کیسی ہے اور اس سے آگ کس طرح حاصل کی جاسکتی ہے ابھی اسی حالت میں تھے کہ درخت میں سے آواز دی گئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا گیا ۔ انی انا للہ رب العالمین موسیٰ (علیہ السلام) نے درخت کی جانب گہری نظر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 29–31

ف 7۔ چناچہ انہوں نے ڈال دیا اور وہ سانپ بن کر چلنے لگا۔ 8۔ یہ کوئی ڈر کی بات نہیں بلکہ تمہارا معجزہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ جب آگ کے قریب پہنچ گئے تو آپ کو وہاں ایک آواز سنائی دی : 30۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اس آگ کے قریب پہنچنا کیا تھا کہ آپ کو ایک درخت پر ایک روشنی نظر آئی تھی آپ اس کی طرف بڑھتے جاتے تھے اور روشنی دور سے دور ہی ہوتی چلی جا رہی تھی اور پھر وہاں آگ کی بجائے ایک آواز آپ کو سنائی دی وہ آگ کیا تھی ؟ اور آواز کیسی تھی ؟ آواز میں کیا بات آپ کو بتائی گئی ؟ آواز کس کی تھی ؟ کیا اللہ تعالیٰ کی آواز میں قول ولحن بھی ہوتا ہے اور اس طرح کے سوالات کا جواب قبل ازیں ہم عروۃ الوثقی جلد پنچم میں سورة طہ کی آیت 10 تا 14 میں ذکر کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کرلیں ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَ‌كَةِ مِنَ الشَّجَرَ‌ةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَ‌بُّ الْعَالَمِينَ He was called by a voice coming from a side of the right valley in the blessed ground, from the tree, saying" 0 Musa, I am Allah, the Lord of the worlds" - 28:30). This subject was also mentioned in Surahs Taha and An-Naml in the story of Musa (علیہ السلام) . In Surah Taha it is said إِنِّي أَنَا رَ‌بُّكَ (it is Me your Lord - 20:12) and in Surah An-Naml نُودِيَ أَن بُورِ‌كَ مَن فِي النَّارِ‌ (So when he came to it, he was called: "Blessed is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

42 That is, in the ground which was being lit up by Divine Light. 43 That is, on that side of the valley which lay to the right of the Prophet Moses.

Read the full tafseer →