Explained with ayahs 29–32
دس سال حق مہر
پہلے یہ بیان گزرچکا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ الاجل سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے واللہ اعلم۔ بلکہ حضرت مجاہد کا تو قول ہے کہ دس سال یہ اور دس سال اور بھی گزرے۔ اس قول میں یہ صرف تنہا ہے۔ واللہ اعلم۔ اب حضرت موسیٰ ؑ کو خیال اور شوق پیدا ہوا کہ چپ چاپ وطن میں جاؤں اور اپنے والوں سے مل آؤں چناچہ آپ اپنی بیوی صاحبہ کو اور اپنی بکریوں کو لے کر وہاں سے چلے رات کو بارش ہونے لگی اور سرد ہوائیں چلنے لگیں اور سخت اندھیرا ہوگیا۔ آپ ہرچند چراغ جلاتے تھے مگر روشنی نہیں ہوتی تھی۔ سخت متعجب اور حیران تھے اتنے میں دیکھتے ہیں کہ کچھ دور آگ روشن ہے تو اپنی اہلیہ صاحبہ…
Read the full tafseer →سورة القصص 40
حضرت حسن بن علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے آٹھ کے بجائے دس سال کی مدت پوری کی تھی، ابن عباس کی روایت ہے کہ یہ بات خود نبی ﷺ سے مروی ہے۔ حضور نے فرمایا قضی موسیٰ اتم الاجلین وا طیبھما عشر شنین۔ " موسیٰ ؑ نے دونوں مدتوں میں سے وہ مدت پوری کی جو زیادہ کامل اور ان کے خسر کے لیے زیاہ خوشگوار تھی، یعنی دس سال "۔
سورة القصص 41
اس سفر کا رخ طور کی جانب ہونے سے یہ خیال ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اپنے اہل و عیال کو لیکر مصر ہی جانا چاہتے ہوں گے۔ اس لیے کہ طور اس راستے پر ہے جو مدین سے مصر کی طرف جاتا ہے، غالبا حضرت موسیٰ نے خیال کیا ہوگا کہ دس سال گزر چکے ہیں، وہ فرعون بھی مرچکا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
غرض جب موسیٰ ؑ اس مدت کو پورا کرچکے اور (باجازت شعیب ؑ کے) اپنی بی بی کو لے کر (مصر کو یا شام کو) روانہ ہوئے تو (ایک شب میں ایسا اتفاق ہوا کہ سردی بھی تھی اور راہ بھی بھول گئے اس وقت) ان کو کوہ طور کی طرف سے ایک (روشنی بشکل) آگ دکھلائی دی، انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم (یہاں ہی) ٹھہرے رہو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید میں تمہارے پاس وہاں سے (راستہ کی) کچھ خبر لاؤں یا کوئی آگ کا (دہکتا ہوا) انگارا لے آؤں تاکہ تم سینک لو، سو وہ جب اس آگ کے پاس پہنچے تو ان کو اس میدان کے داہنی جانب سے (جو کہ موسیٰ ؑ کی داہنی جانب تھی) اس مبارک مقام میں ایک درخت میں سے آواز…
Read the full tafseer →مصرکو واپسی اور جلوہ طور کا مشاہدہ
حضرت موسیٰ ؑ موعودہ مدت پوری کرنے کے بعد اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مصر کے لئے روانہ ہوئے۔ اس بات کی تصریح قرآن یا تورات میں نہیں ہے ہے کہ انہوں نے آٹھ سال کی مدت پوری کی یا وہاں دس سال گزارے۔ البتہ تورات سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ انکے ساتھ بیوی کے سوا آپ کے دو بچے بھی تھے جب جبل طور کے قریب پہنچے تو رات اندھیری تھی اور سردی بھی تھی۔ اندھیرے میں راستہ کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ اتنے میں طور کی جانب سے آگ کی ایک چمک سی دکھائی دی۔ آپ نے بیوی بچوں سے فرمایا، تم لوگ یہیں ٹھہرو، مجھے آگ کی چمک نظر آئی ہے۔ میں وہاں جاتا ہوں۔ اگر وہاں کچھ لوگ ہوئے تو راستہ کی خبر لاتا ہوں…
Read the full tafseer →29-1حضرت ابن عباس نے اس مدت سے دس سالہ مدت مراد لی ہے، کیونکہ یہی اکمل اور اطیب (یعنی خسر موسیٰ ؑ کے لئے خوشگوار اور مرغوب) تھی اور حضرت موسیٰ ؑ کے کریمانہ اخلاق نے اپنے بوڑھے خسر کی دلی خواہش کے خلاف کرنا پسند نہیں کیا۔
29-2اس سے معلوم ہوا کہ خاوند اپنی بیوی کو جہاں چاہے لے جاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
19: بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے دس سال حضرت شعیب ؑ کے پاس پورے کیے تھے، اس کے بعد غالبا انہوں نے اپنی والدہ اور دوسرے رشتہ داروں کے پاس مصر جانے کا ارادہ فرمایا یا اور یہ سوچا کہ قبطی کے قتل کا قصہ اب بھولا بسرا ہوچکا ہوگا، اور واپس مصر جانے میں کوئی خطرہ نہیں رہا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
فلما قضی موسیٰ الاجل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعکما الغلبون (29- 35)
قبل اس کے کہ ہم اس حلقے کے ان دو مناظر پر تفصیلی گفتگو کریں ، ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ ان دس سالوں کے وقفے میں اللہ نے حضرت موسیٰ کے حوالے سے کیا تدابیر اختیار کیں اور کیا اقدامات کیے۔ اس سفر اور آنے جانے میں کیا حکمت تھی۔
دست قدرت کو یوں منظور تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایک قدم آگے بڑھتے جائیں۔ یعنی اس وقت سے لے کر جب وہ شیرخوار بچہ تھے ، ان کی موجودہ پوزیشن تک ان کے ستاھ دست قدرت کا معاملہ کیا رہا۔ ان کو دریا میں پھنکا گیا تاکہ فرعون کے لوگ اسے پکڑلیں۔ ان کو دیکھ کر فرعون کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی یا کردی گئی کہ وہ عین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
8 یہ وہ ہی درخت تھا جس پر آگ بھڑکتی ہوئی نظر آئی۔
Read the full tafseer →آیت 29 فَلَمَّا قَضٰی مُوْسَی الْاَجَلَ وَسَارَ بِاَہْلِہٖٓ ”
یہ سوچ کر کہ آٹھ دس سال کا عرصہ بیت جانے کے بعد قتل والا معاملہ ٹھنڈا پڑگیا ہوگا ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے اہل و عیال کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوئے۔
اِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْٓ اٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِخَبَرٍ ”
ممکن ہے آگ کی جگہ پر موجود کسی شخص سے مجھے راستے کے بارے میں کچھ یقینی معلومات مل جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ ہم بھٹک کر غلط راستے پر چل پڑے ہوں۔
اَوْ جَذْوَۃٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ ”
اگر وہاں سے مجھے کوئی انگارا وغیرہ مل گیا تو اس سے ہم آگ جلا کر اس سرد رات میں اپنے لیے گرمی حاصل کرسکیں گے۔
Read the full tafseer →39 اس معاہدہ کے بعد حضرت شعیب نے اپنی بیٹی کا حضرت موسیٰ سے نکاح کردیا۔ اور آپ وہاں متاہل زندگی گزارنے لگے۔ کہتے ہیں کہ جس لڑکی سے آپ کا نکاح ہوا اس کا نام صفورہ تھا۔ آپ نکاح کے بعد یہاں آٹھ کے بجائے دس سال ہی قیام پذیر رہے۔ پھر اپنے آبائی وطن مصر کی طرف جانے کے ارادہ سے اپنے اہل و عیال سمیت مدین سے نکل کھڑے ہوئے۔ ایک تو آپ کو اپنے والدین اور بہن بھائی سے ملنے کا اشتیاق تھا۔ دوسرے آپ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ ممکن ہے لوگ اب تک واقعہ قتل کو بھول چکے ہوں، اس لئے اپنے ہی وطن جانا مناسب سمجھا۔
راستہ میں جب آپ طور سینا کے دامن میں پہنچے تو اندھیری رات کی وجہ سے راستہ بھول گئے۔ سردی کا موسم اور شدید…
Read the full tafseer →41۔ (مصر کی طرف) اپنی مدت مقرر بسر کرکے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع اہل و عیال اب اپنے وطن مصر کو روانہ ہوئے ہیں۔ (آیت) ” اھلہ “۔ توریت میں تصریح ہے کہ ساتھ میں آپ کی زوجہ محترمہ حضرت صفورہ تھیں اور ان کے دونوں بچے تھے۔ (خروج۔ 4: 20) نیزملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
42۔ یعنی ایسی روشنی جسے وہ آگ سمجھے اور آگ ہی وہ معلوم ہوتی بھی تھی۔
43۔ رات اندھیری تھی اور سردی کا موسم۔ راستہ بھی یہ چھوٹا سا قافلہ بھول گیا تھا۔ آگ کی روشنی آبادی کی علامت تھی۔ مفصل حاشیے سورة طہ پ 16 میں گزر چکے، نیز سورة النمل پ 19 میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
آیت نمبر 29 تا 32
ترجمہ : چناچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدت پوری کردی یعنی (بکریاں) چَرائی کی مدت، اور وہ آٹھ یا دس سال تھی اور غالب گمان یہ ہے کہ دس سال پورے کئے اور اپنی اہلیہ کو اس کے والد کی اجازت سے مصر کی طرف ہمراہ لیکر روانہ ہوگئے (تو) دور سے طور جو کہ ایک پہاڑ کا نام کی جانب آگ دیکھی تو اپنی اہلیہ سے کہا تم یہاں ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے بہت ممکن ہے کہ میں وہاں سے راستہ کی خبر حال یہ ہے کہ موسیٰ راستہ بھول گئے تھے یا آگ کا ٹکڑا یا شعلہ لاؤں جَذُوۃ جیم میں تینوں اعراب جائز ہیں تاکہ تم تاپو یعنی تاکہ تم سینکو طاء باب افتعال کی تاء سے بدلی ہوئی ہے، اور یہ صَلِیِّ بالنار کسرہ لام اور…
Read the full tafseer →فلما قضی موسیٰ الاجل . پھر جب موسیٰ نے مدت مقررہ پوری کردی۔ یعنی مدت ختم کر کے فارغ ہوگئے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ سعید بن جبیر نے کہا : مجھ سے حیرہ کے رہنے والے یہودی نے دریافت کیا کہ موسیٰ نے کون سی مدت پوری کی تھی ؟ میں نے جواب دیا : مجھے معلوم نہیں ‘ حبر العرب (علامۂ عرب یعنی حضرت ابن عباس کے) پاس جا کر پوچھ کر بتاؤں گا۔ چناچہ میں حضرت ابن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا : سب سے زیادہ اور خوشگوار ترین (جس سے فریقین کو پورا اطمینان حاصل ہوگیا) مدت پوری کی۔ اللہ کا رسول جب کوئی بات کہہ دیتا ہے تو کرتا بھی ہے۔ بغوی کا بیان ہے کہ حضرت ابوذر نے فرمایا (کہ رسول اللہ نے فرمایا…
Read the full tafseer →(29) غرض کہ جب حضرت موسیٰ ؑ اس دس سالہ مدت کو پورا کرچکے اور اپنی بیوی کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو ایک رات جب کہ سردی بھی سخت تھی اور راستہ بھی بھول گئے تھے راستہ کے بائیں جانب ایک روشنی آگ کی صورت میں دکھائی دی۔
انھوں نے اپنی بیوی سے کہا تم یہاں ٹھہرے رہو میں نے آگ دیکھی ہے شاید میں تمہارے پاس وہاں سے رستہ کی کچھ خبر لاؤں یا تمہارے سینکنے کو کوئی آگ کا دہکتا ہوا انگارا لے آؤں۔
Read the full tafseer →فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَسَارَ بِاَهْلِهٖٓ : اہل کتاب اور اکثر مسلمان مفسرین کا کہنا ہے کہ ان دس سالوں کے دوران وہ فرعون فوت ہوگیا جس نے موسیٰ ؑ کی پرورش کی تھی اور اب اس کی جگہ اور فرعون حکمران تھا۔ (واللہ اعلم)
موسیٰ ؑ نے جب وہ مدت پوری کرلی تو بیوی کو لے کر اپنے وطن جانے کے ارادے سے مدین سے روانہ ہوگئے۔ اس ارادے کی دلیل یہ ہے کہ طور اس راستے پر واقع ہے جو مدین سے مصر کی طرف جاتا ہے۔ ایک تو اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے ملنے کا شوق تھا، دوسرے ہوسکتا ہے یہ خیال بھی ہو کہ لوگ اب تک اس واقعہ کو بھول چکے ہوں گے اور وہاں رہنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔
اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 1۔ فلما قضی موسیٰ الاجل سعید بن جبیر نے نے کہا : نصرانیوں میں سے ایک آدمی نے مجھ سے پوچھا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کون سی مدت پوری کی ؟ میں نے کہا : میں نہیں جانتا یہاں تک کہ میں حبر العرب (عربوں کے عالم) یعنی حضرت ابن عباس کے پاس آئوں اور ان سے سوال کروں، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سیسوال کیا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان دونوں مدتوں میں اکمل مدت کو پورا کیا۔ تو میں نے اس نصرانی کو بتا دیا۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! اس نے سچ بولا۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نی اس بارے میں جبرئیل امین سے پوچھا تو جبریل نے حضور ﷺ کو بتایا کہ حضرت…
Read the full tafseer →1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلما قضی موسیٰ الاجل میں اجل سے مراد ہے دس سال پھر اس کے بعد دس سال مزید ٹھہرے رہے۔
2۔ ابن ابی حاتم سدی کے طریق سے عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان فرمایا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدتپوری کرلی تو اپنی بویوی کو رات کو لے کر چل پڑے کہ راستہ بھول گئے اور یہ سردی کا موسم تھا ان کے لیے آگ کو بلند کیا گیا جب اس کو دیکھا تو گمان کیا کہ یہ آگ ہے۔ حالانکہ وہ اللہ کا نور تھا اپنی بیوی سے فرمایا آیت امکثوا انی اٰنست نارا لعلی اتیکم منہا بخبر یعنی یہاں ٹھہر جاؤ میں نے آگ کو دیکھا ہے شاید کہ میں تمہارے پاس کوئی خبر لے آؤں اگر میں…
Read the full tafseer →فَلَمَّا [ پھر جب ] قَضٰى مُوْسَى [ پورا کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے ] الْاَجَلَ [ اس مدت کو ] وَسَارَ [ اور وہ چلے ] بِاَهْلِهٖٓ [ اپنے گھر والوں کے ساتھ ] اٰنَسَ [ تو انہوں (علیہ السلام) نے دیکھا ] مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ [ کوہ طور کی طرف ] نَارًا ۚ [ ایک آگ ] قَالَ [ انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] لِاَهْلِهِ [ اپنے گھر والوں سے ] امْكُثُوْٓا [ تم لوگ ٹھہرو ] اِنِّىْٓ اٰنَسْتُ [ بیشک میں نے دیکھی ] نَارًا ] ایک آگ ] لَّعَلِّيْٓ اٰتِيْكُمْ [ شاید میں لاؤں تمہارے پاس ] مِّنْهَا [ اس سے ] بِخَبَرٍ [ کوئی خبر ] اَوْ جَذْوَةٍ [ یا ایک انگارہ ] مِّنَ النَّارِ [ آگ میں سے ] لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی اہلیہ کے ساتھ مدین سے واپس مصر کے لیے روانہ ہونا، اور کوہ طور پر آگ نظر آنا پھر وہاں پہنچنے پر رسالت سے سرفراز کیا جانا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں اپنے خسر صاحب کے پاس اہلیہ کے ساتھ رہتے رہے پھر وہاں سے مصر کی طرف واپس لوٹنے کا ارادہ فرمایا، جب آنے لگے تو اپنی اہلیہ کو ساتھ لیا چلتے چلتے راستہ بھی بھول گئے اور رات کی ٹھنڈک کی وجہ سے سردی بھی لگنے لگی، طور پر پہاڑ سے کچھ دور ہی تھے کہ طور کی جانب آگ نظر آئی فرمایا میں وہاں جاتا ہوں۔ امید ہے کہ وہاں راستہ کی کوئی خبر مل جائے گی یعنی کسی راستہ بتانے والے سے ملاقات ہوجائے گی، اگر یہ نہ ہوا تو کم از کم اتنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
قال اللہ تعالیٰ فلما قضی موسیٰ الاجل وسار باھلہ الی۔۔۔ ویوم القیمۃ ہم من المقبوحین۔
الغرض جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہ کر پوری مدت گزار دی یعنی دس برس تک بکریاں چرائیں اور دس برس تک ایک نبی کی صحبت میں رہے اور مجاہدہ اور ریاضت اور باطنی تربیت کی منزلیں طے ہوگئیں اور چالیس سال کی سن کو پہنچے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی زوجہ اور اہل خانہ کو لے کر مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اہل قرابت سے جا کر ملیں اور طور کے آس پاس پہنچے۔ رات کا وقت تھا اندھیری چھائی ہوئی تھی اور سخت سردی تھی۔ اتفاق سے راہ بھٹک گئے ایسے وقت میں طبعا آگ کی تلاش ہوتی ہے۔ کوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
28:۔ تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دس سال کی مدت پوری کی۔ اتمام میعاد کے بعد اپنی بیوی کو ساتھ لے کر مصر کا رخ کیا تاکہ وہاں اپنی والدہ، ہمشیرہ اور بھائی کی ملاقات کریں۔ ان کا خیال تھا کافی عرصہ گذر چکا ہے اب قبطی کے قتل کا معاملہ فع دفع ہوچکا ہوگا۔ راستے میں جب وادی طوی میں پہنچے جو کوہ طور کے دامن میں ہے تو راستہ بھول گئے۔ رات کا وقت تھا اور سردی بھی پڑ رہی تھی۔ اچانک کوہ طور کی جانب سے آگ دیکھی تو بیوی سے فرمایا تم یہیں ٹھہرو مجھے آگ نظر آئی ہے۔ میں وہاں جاتا ہوں، وہاں کوئی آدمی ہوگا اس سے راستہ پوچھوں گا یا کم از کم تمہارے تاپنے کے لیے وہاں سے آگ ہی لے آؤں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
ربط آیات
یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کا ذکر ہو رہا ہے ۔ جب آپ شعیب (علیہ السلام) کے گھر پہنچے تو آپ کو اطمینان حاصل ہوا کہ فرعونیوں کے مظالم سے بچ گئے ہیں ۔ شعیب (علیہ السلام) کی دو بیٹیوں میں سے ایک نے اپنے باپ کو مشورہ دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو نوکر رکھ لیا جائے ۔ یہ شخص بڑا طاقتور اور امانتدار ہے ۔ شعیب (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پیش کش کی میں دو میں سے ایک بیٹی کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں گا ۔ بشرطیکہ تم کم از کم آٹھ سال میرے یہاں نوکری کرو۔ تم دس سال پورے کر دو تو یہ تمہاری منشاء پر منحصرہو گا اور میری طرف سے کوئی اصرار نہیں ہوگا ، البتہ میں تمہارے ساتھ انشاء اللہ…
Read the full tafseer →فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَسَارَ بِاَہْلِہٖٓ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا 0ۚ قَالَ لِاَہْلِہِ امْكُثُوْٓا اِنِّىْٓ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّيْٓ اٰتِيْكُمْ مِّنْہَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَۃٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ 29
قضی
الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی:
وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک،
( ق ض ی ) القضاء
کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
جب موسیٰ ( علیہ السلام) وہ میعاد پوری کرچکے تو بیوی کو لے کر وطن (مصر) کی طرف چلے، سردی کا موسم تھا۔ رستہ بھی رات میں بھول گئے تھے، گھر کے لوگوں سے کہا کہ وہ جو دور سے جنگل میں آگ چمک رہی ہے، تم یہیں ٹھہرو، میں وہاں جاکر دریافت کرتا ہوں، یعنی رستہ کے لیے کہ اس آگ کے پاس کوئی ہوگا اور جو آگ زیادہ ہوئی تو اس میں سے ایک انگارا بھی تمہارے تاپنے کو لادوں گا، جب موسیٰ ( علیہ السلام) وہاں آئے تو رستہ کے دائیں جانب ایک جنگل کی پاک جگہ میں ایک درخت سے یہ آواز آئی کہ اے موسیٰ ! میں ہوں ” اللہ رب العالمین “ یہ وادی کہ جہاں درخت میں سے دور سے رات کو موسیٰ ( علیہ السلام) کو آگ دکھائی دی تھی، کوہ طور کی…
Read the full tafseer →فَلَمَّا قَضٰی مُوْسَی الْاَجَلَ وَسَارَبِاَھْلِہٖٓ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا ج قَالَ لِاَھْلِہِ امْکُثُوْٓا اِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْٓ اٰتِیْکُمْ مِّنْھَا بِخَبَرٍ اَوْجَذْوَۃٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّـکُمْ تَصْطَلُوْنَ ۔ (القصص : 29)
(پس جب حضرت موسیٰ نے مدت پوری کرلی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر چلے تو طور کی جانب سے انھیں ایک آگ نظر آئی، انھوں نے اپنے اہل سے کہا، تم لوگ ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے میں وہاں سے کوئی خبر یا آگ کا انگارہ لائوں تاکہ تم لوگ تاپو۔ )
مصر کو واپسی اور جلوہ طور کا مشاہدہ
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) موعودہ مدت پوری کرنے کے بعد بیوی بچوں کو ساتھ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنے وطن واپس آنا۔
قرآن مجید اور حدیث مبارکہ میں اس بات کی وضاحت موجود نہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے معاہدہ کے مطابق آٹھ سال پورے کیے یا اختیاری مدت کے مطابق دس (10) سال مدین میں گزارے
قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدّت پوری کرلی تو حضرت شعیب (علیہ السلام) سے اجازت لے کر اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوئے راستہ میں طور پہاڑ کے دامن میں انھوں نے جلتی ہوئی آگ دیکھی۔ اپنی اہلیہ سے فرمایا کہ تم ٹھہرو میں وہ آگ دیکھ رہا ہوں وہاں سے راستہ کی معلومات حاصل کروں یا آگ کے کچھ انگارے لاؤں تاکہ تم تاپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
29: فَلَمَّا قَضٰی مُوْسَی الْاَجَلَ (جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدت کو پورا کیا) ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آپ نے مدت کامل ترین پوری کی اور شادی ان دونوں میں سے چھوٹی سے کی۔ (یہ ہیثمی کی روایت ہے) مگر یہ گزشتہ روایت کے خلاف ہے۔ وَسَارَ بِاَہْلِہٖ (آپ اپنے گھر والوں کو لے کر چلے) ۔ اہل سے مراد بیوی کو مصر کی طرف لے کرچلے۔
قول ابن عطاء m :
جب آپ نے مشقت کا زمانہ پورا کرلیا تو قرب کا زمانہ قریب آن لگا۔ انوار نبوت ظاہر ہونے لگے۔ اپنے گھر والوں کو لے کر مصر روانہ ہوئے تاکہ بیوی بھی اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں میں شریک حال ہو۔ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا قَالَ لِاَہْلِہِ امْکُثُوْا اِنِّیْ…
Read the full tafseer →تفسیر۔
29۔ فلماقضی موسیٰ الاجل، ، جب موسیٰ نے مقررہ مدت پوری کی اور اپنی مزدوری سے فارغ ہوئے ، وسار باھلہ، مجاہد کا بیان ہے کہ جب وہ مدت پوری ہوگئی تو اس کے بعد اپنے سسر کے پاس دس سال اور قیام پذیر رہے رکل بیس سال رہے اس کے بعد مصر کو واپس جانے کی اجازت طلب کی ، حضرت شعیب نے اجازت دے دی اور آپ روانہ ہوگئے۔
” انس، انہوں نے دیکھا، من جانب الطور نارا، اور رات تاریک گھی اور سردیوں کی راتیں تھیں، شدید سردی تھی، قال لاھلہ امکثوا انی انست نارا لعلی اتیکم منھابخبر، ، تاکہ راستہ معلوم کروں کیونکہ وہ راستہ بھول چکے تھے۔ اوجذوۃ من لنار، ، کوئی آگ کا ٹکڑا یا آگ کا شعلہ اس میں تینوں لغات درست ہیں۔ جذوۃ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
29 تا 34۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں مدتوں میں سے دس برس کی مدت کو پورا کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر کے جانے کا اور اپنے بھائی اور اپنی ماں سے ملنے کا شوق ہوا اور وہ شعیب (علیہ السلام) سے رخصت ہوئے ان کے ساتھ ان کی بی بی اور بکریاں تھیں جو شعیب (علیہ السلام) نے ان کو دی تھیں یہ سفر جاڑے کے موسم کا تھا اور اندھیری رات میں راستہ بھی بھول گئے تھے اسی حالت میں انہوں نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا تم ٹھہرو میں جاتا ہوں تاکہ راستہ کی کچھ خبر لاؤں اور تاپنے کے لیے کچھ آگ بھی لیتا آؤں جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے پاس آئے جو کوہ طور کے جانب کو تھی یہ آگ ایک سبز درخت میں دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–54
شعراء کی دو اقسام
قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
37 تکمیل مدت کے مرحلے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر جب موسیٰ نے وہ مدت پوری کرلی ان کے درمیان جو مقرر کی گئی تھی تو موسیٰ اپنے گھر والوں کو لے کر وہاں سے واپس چل دیے۔ اور روایات کے مطابق آپ نے بڑی مدت یعنی دس سال پورے کئے کہ یہی تقاضا ہے اس حسن خلق اور خوش معاملگی کا جس کی تعلیم دین حق دیتا ہے۔ اور جس کو قرآن حکیم نے اپنے اس ایک معجزانہ جملے میں سمو دیا ہے ۔ { وَلا تَنْسَوُوا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ } ۔ (البقرۃ : 237) یعنی " تم لوگ آپس میں احسان اور مہربانی کا معاملہ کرنے کی خو کو کبھی نہیں بھولنا "۔ سو حضرت موسیٰ نے دس سال تک حضرت شعیب کے پاس رہنے کے اور اتنا عرصہ گلہ بانی کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–46
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
آیات 29 تا 46
اسرارومعارف
چنانچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عرصہ پورا کردیا جس کا وعدہ فرمایا تھا تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس مصر کو روانہ ہوئے کہ گھر والوں سے بچھڑے ہوئے دس سال بیت چکے تھے روایات کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس پورے کیے۔ راستے میں رات ہوگئی موسم بھی سرد تھا تو کوہ طور پر جو آپ کی راہ کے ساتھ پڑتا تھا روشنی دیکھی جیسے کسی نے آگ روشن کی ہو۔ تو اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ آپ لوگ یہاں انتظار کریں میں وہاں جاتا ہوں ممکن ہے کوئی راستے کے بارے خبر وہاں سے مل جائے کہ لگتا ہے کہ ہم راستہ بھول رہے ہیں اور آگ بھی لیتا آؤں گا یہاں جلا کر…
Read the full tafseer →2 ۔ یہ کلمہ عہد کو پختہ کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ “ ہمارے حضرت محمد ﷺ بھی وطن سے نکلے۔ سو آٹھ برس پیچھے آ کر مکہ فتح کیا۔ اگر چاہتے اسی وقت شہر خالی کرواتے کافروں سے۔ دس برس پیچھے پاک کیا۔ “ (موضح) 3 ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے آٹھ برس کے بجائے دس کی مدت پوری کی تھی۔ یہی بات متعدد روایات میں نبی ﷺ سے بھی مروی ہے۔ ان روایات کی سند میں اگرچہ کلام ہے لیکن وہ ایک دوسرے سے مل کر قوی ہوجاتی ہیں۔ (شوکانی) 4 ۔ یہ اس لئے کہ غالباً حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اندھیری رات میں راستہ بھول گئے تھے۔ (طہ :10)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(28:28) قال ذلک۔۔ ای قال موسی۔
ایما۔ جونسی۔ ما زائدہ ہے۔
الاجلین۔ دو مقررہ مدتیں اجل (مقررہ مدت) کا تثنیہ۔
قضیت۔ ماضی واحد متکلم قضہ مصدر (باب ضرب) میں پوری کردوں ۔ قضی یقضی قضاء پورا کرنا۔
لاعدوان علی۔ عدوان ظلم و زیادتی۔ عدا یعدو باب نصر کا مصدر ہے۔
سار۔ ماضی واحد مذکر غائب ساریسیر سیر وہ چلا ۔ وہ روانہ ہوا۔
انس۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ انس یؤنس ایناس (افعال) انس مادہ۔ انس الصوت آواز سننا۔ انس الشیء کسی چیز کو (دور سے) دیکھنا۔ انس الامر۔ کسی بات کو سمجھنا ۔ انس نارا۔ اس نے آگ کو (دور سے) دیکھا۔
امکثوا مکث یمکث (نصر) مکث سے۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم ٹھہرے رہو۔ تم ٹھہرو۔
لعلی۔ لعل حرف مشبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
لغات القرآن : آیت نمبر 29 تا 35 :
سار (وہ چلا) اھل (گھروالے ۔ گھر والی) ‘ انس (اس نے محسوس کیا) ‘ امکئوا (تم ٹھہرو) جذوۃ ( انگارہ۔ شعلہ۔ چنگاری) شاطی (کنارہ) وادالایمن (داہنا میدان) ‘ البقعۃ (جگہ) الق (ڈال دے۔ پھینک دے) تھتز (وہ پھنکارتا ہے۔ وہ لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ) ولی (وہ پلٹا) ‘ مدبر ( پیٹھ پھیر نے والا) ‘ لم یعقب (پیچھے مڑکرنہ دیکھا) اقبل (سامنے آ) اسلک (تو ڈال دے) اضمم (ملالے) الرھب (خوف۔ ڈر) افصح (زیادہ فصیح۔ اچھی زبان بولنے والا) ‘ ردا (مدد گار) ‘ سنشد (ہم عنقریب مضبوط کردیں گے) ‘ عضد (بازو) ‘ سلطان (غلبہ۔ قوت و طاقت) ۔
تشریح : آیت نمبر 29 تا 35 :
حضرت شعیب (علیہ السلام) اور حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
(ف 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس کی مدت کو پورا کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر کے جانے کا اور اپنے بھائی اور اپنی ماں سے ملنے کا شوق ہوا، اور حضرت شعیب (علیہ السلام) سے رخصت ہوئے ان کے ساتھ ان کی بیوی اور بکریاں تھیں جو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو دی تھیں یہ سفر جاڑے کے موسم کا تھا، اور اندھیری رات میں راستہ بھول گئے تھے ، اس حالت میں انہوں نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بیوی سے کہا، تم ٹھہرو، میں جاتا ہوں کہ تاکہ راستہ کی کچھ خبرلاؤں اور تاپنے کے لیے کچھ آگ بھی لیتاآؤں۔ جب حضرت موسیٰ آگ کے پاس آئے جو کوہ طور کی جانب کو تھی یہ آگ ایک سبز درخت میں دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
[16] یعنی دس سال۔ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دو مدتوں میں سے وہ مدت پوری کی جو زیادہ کامل اور ان کے خسر کے لئے خوشگوار تھی۔ (یعنی دس سال، بروایت ابن عباس ؓ ۔
[17] موسیٰ (علیہ السلام) اپنے اہل و عیال کو لے کر مصر جانا چاہتے ہوں گے، غالباً انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ دس سال گزر چکے ہیں۔ وہ فرعون مرچکا ہوگا جس کے زمانے میں وہ مصر سے نکلے تھے۔ اب اگر وہاں چلا جاؤں اور اپنے خاندان والوں کے ساتھ وہاں رہوں تو شاید کسی کو میرا پتہ بھی نہ لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
حل لغات :۔ شاطی الوادالایمن ۔ یعنی مبارک میدان کے کنارے سے یا میدان کے داہنی جانب سے اس کا مطلب دونوں معنوں میں مشترک ہے یمن سے بھی اس کا اشتقاق ہوسکتا ہے اور یمن سے بھی ۔
Read the full tafseer →29۔ الغرض ! جب موسیٰ (علیہ السلام) وہ مدت پوری کرچکا اور اپنے گھر والوں کو لیکر چلا تو اس نے کوہ طور کی جانب ایک آگ دیکھی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا تم ذرا ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید میں وہاں سے تمہارے لئے کوئی خبر لے آئوں یا آگ کا کوئی انگارا لے آئوں تا کہ تم اس سے گرمی حاصل کرو اور تاپو ! غرض موسیٰ (علیہ السلام) جب وہ مدت یعنی بقول مشہور دس سال پورے کردیئے تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے مصر یا شام کا سفر اختیار کیا چلتے وقت ان کی اہلیہ محترمہ نے کچھ بکریاں حضرت شعیب سے مانگ لیں باپ نے لڑکی کو اس سال کی پیدا شدہ تمام بکریاں دے دیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ف 7۔ چناچہ انہوں نے ڈال دیا اور وہ سانپ بن کر چلنے لگا۔
8۔ یہ کوئی ڈر کی بات نہیں بلکہ تمہارا معجزہ ہے۔
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مقررہ مدت کو پورا کرکے مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے :
29۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین میں ایک عرصہ قیام کیا اور اس پوری مدت میں اپنے خسر کے ریوڑ کی گلہ بانی کرتے رہے تورات کے بیان کے مطابق اس قیام میں موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام انہوں نے ” جیرسون “ رکھا عبرانی میں اس کے معنی غربت ومسافرت کے ہیں گویا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کے نام میں اپنی مسافرت کو بطور یادگار قائم رکھا تاکہ خاندان والوں کو یاد رہے کہ اس بچہ کی ولادت سے غربت ومسافرت میں ہوئی تھی چناچہ تحریر ہے کہ ” اور اس نے اپنی بیٹی صفورہ موسیٰ کو دی ‘ وہ بیٹا جنی اس نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
Commentary
فَلَمَّا قَضَىٰ مُوسَى الْأَجَلَ (So When Musa (علیہ السلام) completed the term - 28:29). Then Sayyidna Musa (علیہ السلام) completed his term of service, which was eight years compulsory and two years optional. A question arises here, whether he completed eight years of service or ten years. Sahih al-Bukhari has reported that when this question was put to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، he answered ten years, and added that prophets always fulfill their commitments, rather they do more than what they agree to. The Holy Prophet ﷺ was also in the habit of giving more than due to the one…
Read the full tafseer →40 According to Hadrat Hasan bin `Ali bin Abi Talib, the Prophet Moses had completed the ten years term instead of the eight years. According to Ibn 'Abbas, this has been related on the authority of the Holy Prophet himself. He has said, "Moses (peace be upon him) completed the term which was more perfect and more agreeable to his father-in-law, i.e. ten years."
41 That the direction of the journey was towards Mt. Tur shows that the Prophet Moses might be traveling to Egypt with his family, for Tur lies on the way from Midian to Egypt. Probably Prophet Moses thought that he had stayed away…
Read the full tafseer →