Explained with ayahs 25–28
حضرت موسیٰ اور شعیب (علیہما السلام) کا معاہدہ
ان دونوں بچیوں کی بکریوں کو جب حضرت موسیٰ ؑ نے پانی پلادیا تو یہ اپنی بکریاں لیکر واپس اپنے گھر گئیں۔ باپ نے دیکھا کہ آج وقت سے پہلے یہ آگئیں ہیں تو دریافت فرمایا کہ آج کیا بات ہے ؟ انہوں نے سچا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ نے اسی وقت ان دونوں میں سے ایک کو بھیجا کہ جاؤ اور ان کو میرے پاس لے آؤ۔ وہ حضرت موسیٰ ؑ کے پاس آئیں اور جس طرح گھر گھر ہست پاک دامن عفیفہ عورتوں کا دستور ہوتا ہے شرم وحیا سے اپنی چادر میں لپٹی ہوئی پردے کے ساتھ چل رہی تھی۔ منہ بھی چادر کے کنارے سے چھپائے ہوئے تھیں پھر اس دانائی اور صداقت کو دیکھئے کہ صرف یہی نہی کہا کہ میرے ابا آپ کو…
Read the full tafseer →سورة القصص 37
ضروری نہیں کہ یہ بات لڑکی نے اپنے باپ سے حضرت موسیٰ کی پہلی ملاقات کے وقت ہی کہہ دی ہو۔ اغلب یہ ہے کہ اس کے والد نے اجنبی مسافر کو ایک دو روز اپنے پاس ٹھہرا لیا ہوگا اور اس دوران میں کسی وقت بیٹی نے باپ کو یہ مشورہ دیا ہوگا، اس مشورے کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی کبر سنی کے باعث مجبورا ہم لڑکیوں کو کام کے لیے نکلنا پڑتا ہے۔ ہمارا کوئی بھائی نہیں ہے کہ باہر کے کام سنبھالے، آپ اس شخص کو ملازم رکھ لیں، مضبوط آدمی ہے، ہر طرح کی مشقت کرے گا، اور بھروسے کے قابل آدمی ہے، محض اپنی شرافت کی بنا پر اس نے ہم عورتوں کو بےبس کھڑا دیکھ کر ہماری مدد کی، اور کبھی ہماری طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھا۔
Read the full tafseer →اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْـتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ ، یعنی شعیب ؑ کی ایک صاحبزادی نے اپنے والد سے عرض کیا کہ آپ کو گھر کے کاموں کے لئے ملازم کی ضرورت ہے آپ ان کو نوکر رکھ لیجئے کیونکہ ملازم میں دو صفتیں ہونا چاہئیں ایک کام کی قوت و صلاحیت دوسرے امانتداری۔ ہمیں ان کے پتھر اٹھا کر پانی پلانے سے ان کی قوت وقدرت کا، اور راستہ میں لڑکی کو اپنے پیچھے کردینے سے امانتداری کا تجربہ ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →یہاں احد لھما، کے اعادے سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے حق میں یہ سفارش حضرت شعیب کی دوسری صاحبزادی نے فرمائی۔ اگر انہی نے یہ سفارش کی ہوتی جو ان کو بلانے کے لئے گئی تھیں تو یہاں فاعل کے اعادے کی ضرورت نہیں تھی۔
صاحب کردار کے کردار کا اندازہ ایک نظر کہہ دیا جاتا ہے
حضرت شعیب کو اپنے گلے کی دیکھ بھال کے لئے ایک مددگار کی ضرورت تو تھی ہی اور قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ کسی موزوں آدمی کی تلاش میں بھی تھے۔ اس وجہ سے صاحبزادی صاحبہ نے سفارش کی کہ انہی کو ملازم رکھ لیجیے۔ بہترین ملازم وہی ہوتا ہے جو قوی اور امانت دار ہو۔ یہ قوی بھی ہیں اور ساتھ ہی امانت دار بھی۔ جہاں تک جسمانی صحت و…
Read the full tafseer →26-1بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ باپ نے بچیوں سے پوچھا تمہیں کس طرح معلوم ہے کہ یہ طاقتور بھی ہے اور ایمان دار بھی، جس پر بچیوں نے بتلایا کہ جس کنویں سے پانی پلایا، اس پر اتنا بھاری پتھر رکھا ہوتا ہے کہ اسے اٹھانے کے لئے دس آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم نے دیکھا کہ اس شخص نے وہ پتھر اکیلے ہی اٹھا لیا اور پھر بعد میں رکھ دیا اسی طرح جب میں اس کو بلا کر ساتھ لا رہی تھی، تو چونکہ راستے کا علم مجھے ہی تھا، میں آگے آگے چل رہی تھی اور یہ پیچھے پیچھے لیکن ہوا سے میری چادر اڑ جاتی تھی تو اس شخص نے کہا تو پیچھے چل، میں آگے آگے چلتا ہوں تاکہ میری نگاہ تیرے جسم کے کسی حصے پر نہ پڑے۔ راستے کی نشان دہی کے…
Read the full tafseer →17: یہ وہی خاتون تھیں جو حضرت موسیٰ ؑ کو بلانے گئی تھیں ان کا نام صفورا تھا، اور پھر انہی سے حضرت موسیٰ ؑ کا نکاح ہوا، گھر میں ایک ایسے مرد کی ضرورت تھی جو گھر کے باہر کے کاموں کی دیکھ بھال کرے اور عورتوں کو بکریاں چرانے اور انہیں پانی پلانے کی ضرورت نہ پڑے، اس لئے انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ آپ انہیں اس کام پر رکھ لیں اور اسکی باقاعدہ اجرت طے کرلیں، اور خاتون کا یہ جملہ کہ : آپ کسی سے اجرت پر کام لیں تو اس کے لئے بہترین شخص وہ ہے جو طاقتور بھی ہو، امانت دار بھی، ان کی کمال عقل مندی کا ثبوت ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ جملہ نقل فرما کر ملازمت کے فیصلے کے لئے بہترین معیار عطا فرمادیا ہے کہ ایک…
Read the full tafseer →اب منظر پر ایک نہایت ہی سلیم الفطرت اور عفیف عورت کی آواز آتی ہے
قالت احدھما ۔۔۔۔۔۔ القوی الامین (26)
ان دونوں بہنوں کو بھیڑ بکریاں چرانا پڑتی تھیں اور پانی پلاتے وقت ان کو مردوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور ان کو مردوں سے واسطہ پڑتا تھا اور ان سے ٹکرانا پڑتا تھا ، جس طرح ہر اس عورت کو ایسے حالات درپیش ہوتے رہتے ہیں جو مردوں والا کام کرتی ہے۔ ان دونوں بہنوں کو ہر وقت اس کام میں اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ وہ امور خانہ داری تک محدود ہوجائیں اور ایک پاک دامن عفت مآب ” زن خانہ “ کی طرح زندگی بسر کرنے کا موقع ملے اور انہیں چراگاہوں اور گھاٹوں پر غیر مردوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →3 یعنی موسیٰ میں دونوں باتیں موجود ہیں۔ زور دیکھا، ڈول نکالنے یا مجمع کو ہٹا دینے سے، اور امانتدار سمجھا بےطمع اور عفیف ہونے سے۔
Read the full tafseer →آیت 26 قَالَتْ اِحْدٰٹہُمَا یٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْہُز ”
اِسْتَاْجَرَ ”اج ر“ مادہ سے باب استفعال ہے۔ ”مُسْتأجِر“ وہ شخص ہے جو کسی کو اجرت پر ملازم رکھے ‘ جبکہ اجرت پر کام کرنے والے کو عربی میں ”آجر“ یا ”اَجِیر“ کہا جاتا ہے ہمارے ہاں عام طور پر آجر کے معنی اجرت دینے والا یا ملازم رکھنے والا کے لیے جاتے ہیں جو غلط ہیں۔ بہر حال عربی میں یہ دونوں الفاظ ہم معنی ہیں۔ ”اَجِیر“ صفت مشبہ ہے اور ”آجر“ اسم الفاعل۔
اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ ”
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شخصیت کی یہ دونوں خصوصیات ان بچیوں کے مشاہدے میں آچکی تھیں۔ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ جب ان کی بکریوں کو پانی…
Read the full tafseer →36 حضرت شعیب کا کوئی لڑکا نہ تھا۔ بس دو لڑکیاں ہی لڑکیاں تھیں جنہیں اندر اور باہر دونوں طرف کے کام کرنا پڑتے تھے۔ لہذا شعیب پہلے اس جستجو میں تھے کہ کوئی شریف آدمی مل جائے تو اسے ملازم رکھ لیا جائے۔ حضرت موسیٰ کے چند روزہ قیام میں ہی گھر کے سب افراد نے حضرت موسیٰ کے متعلق یہ رائے قائم کرکے اس پر اتفاق کرلیا کہ اگر یہی پردیسی نوجوان ہمارے ہاں رہنا قبول کرلی تو یہ بہت مناسب رہے گا۔ چناچہ ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ اگر آپ کوئی آدمی ملازم رکھنا ہی چاہتے ہیں تو شاید اس سے بہتر آپ کو کوئی آدمی نہ مل سکے۔ کیونکہ یہ شخص نوجوان ہے اور طاقتور ہے۔ ہلکے اور بھاری سب کام کرسکتا…
Read the full tafseer →37۔ یعنی جس کے قوائے جسمانی بھی اچھے ہوں، محنت سے اپنے کام انجام دے سکے اور اخلاقی صفات سے بھی متصف ہو۔ خدمت کی بجا آوری میں خیانت و بددیانتی سے کام نہ لے۔ بی بی صاحبہ کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق دونوں چیزوں کے تجربے اتنے عرصہ میں ہوچکے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
آیت نمبر 22 تا 28
ترجمہ : اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے یعنی مدین کی طرف رخ کیا، مدین شعیب (علیہ السلام) کی بستی تھی جو مصر سے آٹھ دن کی مسافت پر واقع تھی، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کے نام سے یہ بستی موسوم تھی، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین کے راستہ سے واقف نہیں تھے تو کہنے لگے مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھے راستے کی رہنمائی فرمائے گا، یعنی سیدھے راستہ یعنی مدین کے متوسط راستہ کی رہنمائی کرے گا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ایک فرشتہ کو بھج دیا جس کے ہاتھ میں نیزہ تھا، تو وہ فرشتہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کی…
Read the full tafseer →قالت احدھما یابت استاجرہ ان خیر من استاجرت القوی الامین . ان دونوں میں سے ایک
نے کہا : ابا ! ان کو ملازم رکھ لیجئے کیونکہ آپ کا اچھا ملازم وہی ہوگا جو طاقتور اور امانت دار ہو۔
یعنی جس کو آپ کام پر رکھیں اس کا کام پورا کرنے کی طاقت رکھنا اور امانت دار ہونا ضروری ہے۔ بہترین کارگزار وہی ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو (اور ان میں یہ دونوں اوصاف موجود ہیں اس لئے یہ بہتر اجیر ہوں گے) اِسْتَاْجَرْتَ ماضی کا صیغہ بجائے مضارع کے بولنا اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ ان کے ان دونوں اوصاف کا تجربہ کیا جا چکا ہے۔
خطیب نے اپنی تاریخ میں حضرت ابوذر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اس لڑکی سے اس…
Read the full tafseer →(26) اس چھوٹی لڑکی نے کہا کہ اباجان ان کو ملازم رکھ لیجیے کیوں کہ اچھا نوکر وہ ہے جو مضبوط اور امانت دار بھی ہو۔
Read the full tafseer →قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا يٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ : ان دونوں میں سے ایک نے کہا، ابا جان ! آپ اسے مزدور رکھ لیں، تاکہ ہم عورتوں کو بکریاں چرانے کی مشقت سے رہائی مل جائے۔ ضروری نہیں کہ اس نے یہ بات موسیٰ ؑ کی اس کے باپ سے پہلی ملاقات کے وقت ہی کہہ دی ہو۔ تین دن مہمان نوازی تو حق ہے، اس لیے غالب یہی ہے کہ اس دوران ان لڑکیوں اور ان کے والد نے موسیٰ ؑ کے اوصاف حمیدہ کا اچھی طرح سے مشاہدہ کرلیا تو لڑکی نے اپنے باپ سے یہ بات کہی۔
اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْـتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ : تفسیر ابن کثیر میں ہے : ”عمر، ابن عباس، شریح قاضی، ابو مالک، قتادہ، محمد بن اسحاق اور کئی ایک نے فرمایا کہ اس کے والد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
اس میں تئیس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ ولما ورمآء مدین حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چلتے رہے یہاں تک کہ مدین کے چشمہ پر پہنچے۔ وردمآء سے مراد ہے اس تک پہنچ گئے اس کا یہ مطلب نہیں اس میں داخل ہوگئے ورود کا لفظ بعض اوقات مورد میں داخل ہونے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، بعض اوقات اطلاع پانے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور کبھی پہنچنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اگرچہ اس میں داخل نہ ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے چشمہ پروارد ہونے سے مردا تک پہنچنا ہے۔ اس معنی میں زہیر کا قول ہے :
فلما وردن الماء زرقا جمامہ وضعن عصی الحاضر المتخیم
جب وہ اس چشمہ پروارد ہوئیں جس کا لبالب پانی آسمان کے رنگ جیسا نظر آ رہا تھا۔
یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
1۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھوکے ہونے کی حالت میں ڈرتے ہوئے نکلے ان کے پاس کانے پینے کی کوئی چیز نہ تھی یہاں تک کہ مدین کے چشمہ پر پہنچے اور اس پر لوگوں کی ایک جماعت جانوروں کو پانی پلا رہی تھی۔ اور دو عورتیں اپنی بکریوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں موسیٰ نے ان سے پوچھا کیا مسئلہ ہے آیت قالتا لا نسقی حتی یصدر الرعاء وابونا شیخ کبیر، دونوں عورتوں نے کہا ہم اپنے جانوروں کو اس وقت تک پانی نہیں بلاتیں جب تک چرواہے پانی پلا کر نکال کر نہ لے جائیں اور ہمارے والد بڑے بوڑھے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا کیا تمہارے قریب بھی پانی ہے انہوں نے کہا…
Read the full tafseer →قَالَتْ [ کہا ] اِحْدٰىهُمَا [ ان دونوں کی ایک نے ] يٰٓاَبَتِ [ اے میرے والد ] اسْتَاْجِرْهُ ۡ [ آپ مزدوری پر رکھیں ان کو ] اِنَّ [ بیشک ] خَيْرَ مَنِ اسْـتَاْجَرْتَ [ جس کو آپ مزدوری پر رکھیں اس کا بہتر وہ ہے جو ] الْقَوِيُّ [ قوی ہے ] الْاَمِيْنُ [ امین ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
فائدہ رابعہ : شیخ مدین کی ایک لڑکی نے جو کہا کہ اے ابا جان اس شخص کو اپنے یہاں اجرت پر رکھ لیجیے اور ساتھ یوں بھی کہا (اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ ) (کہ جسے آپ مزدوری پر رکھیں ان میں بہتر آدمی وہ ہے جو قوی بھی ہو امین بھی ہو) اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تعریف تو ہے ہی کہ یہ شخص قوت والا ہے اور امانتدار ہے ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ اپنے کام کے لیے ایسے شخص کو مزدور رکھا جائے جو اس کام کو کرسکتا ہو جس کے لیے ملازم رکھا جا رہا ہے اور ہر عمل کی قوت علیحدہ ہوتی ہے کسی کو پڑھانے کی قوت و صلاحیت ہوتی ہے۔ جس کسی کو محاسب رکھا جائے وہ حساب دان ہونا چاہیے۔ جس کسی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین کی جانب سفر
قال اللہ تعالیٰ ولما توجہ تلقاء مدین۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علی ما نقول وکیل۔
(ربط) گزشتہ آیت میں اس بات کا ذکر تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک خیر خواہ نے یہ مشورہ دیا کہ آپ فورا مصر سے نکل جائیے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی۔ رب نجنی من القوم الظالمین۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول کی اور ظالموں سے نجات کا ایک ذریعہ بنایا چناچہ وہ مصر سے نکل کھڑے ہوئے راہ سے واقف نہ تھے توکلا علی اللہ ایک سمت پر چل پڑے اور جب بالقاء غیبی شہر مدین کی طرف متوجہ ہوئے اور قضاء وقدر نے وجہ (منہ) کو مدین کی طرف کردیا اور ” مدین “ ایک شہر کا نام ہے جو…
Read the full tafseer →26:۔ دونوں بہنوں میں سے ایک بولی، اور یہ وہی تھی جو انہیں بلانے گئی تھی، ابا جان ! اس نوجوان کو آپ ملازم رکھ لیں جو ریوڑ کو چرانے، اسے پانی پلانے اور اس کی دیکھ بھال کا کام کیا کرے، کیونکہ آپ کو ملازم ایسا چاہیے جو طاقت ور بھی ہو اور نیک بھی اور اس نوجوان میں یہ دونوں صفتیں موجود ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوت کا اندازہ اس نے اس سے لگایا کہ انہوں نے تنہا ڈول کھینچ لیا جو کئی آدمی مل کر کھینچ سکتے تھے اور ان کی امانت اور نیکی کا اندازہ اس سے لگایا جب وہ انہٰں ساتھ لے کر گھر آرہی تھی تو انہوں نے اسے کہا تھا تم میرے پیچھے پیچھے چلو تاکہ تمہارے بدن پر میری نگاہ نہ پڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ربط آیات
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات زندگی میں سے رسالت کو اس کے بعد کے واقعات تو سورة الشعراء میں بیان ہوئے ہیں ۔ البتہ ابتدائی زندگی کے بیشتر واقعات یہاں اس سورة میں مذکورہ ہیں ۔ ان واقعات کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آمادہ نسلیں انت سے نصیحت حاصل کریں ۔ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ، ان کی پرورش ، پھر آپ کے ہاتھوں ایک قبطی کا قتل ، فرعونیوں کا موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا مشورہ پھر ایک مومن آدمی کا موسیٰ (علیہ السلام) کو مطلع کرنا اور آپ کا مصر سے نکل کر مدین جانا ، وہاں دو عورتوں کی بکریوں کو پانی پلانا اور پھر لڑکیوں کے باپ کا آپ کو اپنے گھر طلب کرنا ، یہ سب واقعات…
Read the full tafseer →قَالَتْ اِحْدٰىہُمَا يٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْہُ 0ۡاِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْـتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ 26
أجير
والأجير : فعیل بمعنی فاعل أو مفاعل، والاستئجارُ : طلب الشیء بالأجرة، ثم يعبّر به عن تناوله بالأجرة، نحو : الاستیجاب في استعارته الإيجاب، وعلی هذا قوله تعالی:
اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ [ القصص/ 26] .
الاجیرہ بروزن فعیل بمعنی فاعل یا مفاعل ہے یعنی معاوضہ یا اجرت کا پر کام کرنے والا ۔ الاستیجار کے اصل معنی کسی چیز کو اجرت پر طلب کرنا پھر یہ اجرت پر رکھ لینے کے معنی میں بولا جاتا ہے جس طرح کہ استیجاب ( استفعال ) بمعنی اجاب آجاتا ہے چناچہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
1 ؎ اسی لفظ کی مناسبت سے اس سورة کو سورة قصص کہتے ہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قَالَتْ اِحْدٰ ھُمَا یٰٓـاَبَتِ اسْتَاْجِرْہُ ز اِنَّ خَیْرَمَنِ اسْتَاجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ ۔
(القصص : 26)
(ان میں سے ایک نے کہا ابا جان اس شخص کو نوکر رکھ لیجیے، کیونکہ بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہوسکتا ہے جو قوی اور امانتدار ہو۔ )
بیٹی کی تجویز
معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس گھر میں چند دن بطور مہمان رہے۔ اہل خانہ کو یوں تو پہلی ہی ملاقات میں اندازہ ہوگیا تھا، لیکن اب چند دنوں کے قیام سے ان کی نیکی، شرافت اور صلاحیتوں کا مزید یقین پیدا ہوا۔ گھر میں باپ کے سوا اور کوئی مرد نہ تھا جو گھر کی ذمہ داریاں ادا کرسکے۔ اور باپ اپنی کبرسنی کے باعث مجبوراً باہر کے کاموں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
فہم القرآن
ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کا شعیب (علیہ السلام) کے گھر جانا اور شعیب (علیہ السلام) کا انہیں گھر داماد بنانا۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نہایت بوڑھے اور ضعیف ہوچکے تھے جس بناء پر ان کی بچیاں ان کی بھیڑ بکریوں کی نگرانی کرتی تھیں۔ ان کی برادری میں کوئی ایسا حیا دار جوان نہ تھا جس پر اعتماد کیا جاسکے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب مالی لحاظ سے کمزور ہوں جس وجہ سے ملازم رکھنے کی گنجائش نہ ہو۔ جونہی موسیٰ (علیہ السلام) کی صورت میں انھیں ایک جوان میسر آیا جو خود بھی ضرورت مند تھا اس لیے اسے گھریلو ملازم رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →26: قَالَتْ اِحْدٰہُمَا یٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْہُ (ان میں سے ایک نے کہا اے ابا جی ! اس کو اجیر بنالیں) ۔ اس کو بکریاں چرانے والا مزدور بنالیں۔ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجِرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ (ان میں سے بہتر جس کو آپ مزدور بنائیں جو امانت دار اور طاقتور ہو) ۔ شعیب (علیہ السلام) نے کہا تمہیں اس کی امانت وقوت کا کیسے علم ہوا۔ اس نے ڈول والا واقعہ ذکر کردیا اور پیچھے چلنے کا حکم دینے والے واقعہ کا۔
نکتہ : استأجرت ماضی کے لفظ سے لائے۔ تاکہ یہ ثابت ہوجائے کہ اس کی امانت و قوت دونوں قطعی چیزیں ہیں۔ اور لڑکی کا مقولہ ان خیر من استأجرت القوی الامین۔ یہ جامع کلام ہے۔ اس میں اس نے بتلا دیا کہ جب…
Read the full tafseer →26۔ قالت احداھما، یا ابت استاجرہ، ، ان کو اجیر رکھ دیں تاکہ یہ ہمارے مویشیوں کو چرائے۔ ان خیر من استاجرت القوی الامین، یعنی جس کو آپ کام پر رکھیں اس کا کام پورا کرنے کی طاقت رکھنا اور امانت دار ہوناضروری ہے۔ اس لڑکی سے اس کے باپ نے پوچھا کہ تجھے اس کی قوت و امانت کا حال کیسے معلوم ہوا۔ لڑکی نے کہا کنویں کے منہ سے اتنا بھاری پتھراٹھا کر جس کو دس آدمیوں سے کم یا چالیس سے کم نہیں اٹھاتے تھے یہ تو اس کی طاقت تھی اور امین ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ اس نے مجھ سے پیچھے پیچھے رہنے کو کہا تھا تاکہ ہوا کی وجہ سے میری کھلی پنڈلی پر اس کی نظر نہ پڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–26
14 تا 26۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھر پرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم اور سمجھ دونوں عنایت کئے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے نکل کر مدین میں پہنچنے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے ہوئے دیکھا جن میں ایک ان کے گروہ میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے حین غفلۃ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ دوپہر کا وقت تھا اسرائیل نے فریاد کی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
نبی سے کوئی جرم سرزد ہو تو خدا سے معافی مانگتا ہے
قول باری ہے : (فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ۔ موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا) نیز قول باری ہے (وقتلت نفسا۔ تونے ایک آدمی کو قتل کردیا تھا) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتادیا کہ انہوں نے گھونسا مار کر اس شخص کو قتل کردیا تھا پھر اپنے اس فعل پر جن الفاظ میں ندامت کا اظہار کیا تھا اس کا ذکر قرآن میں اس طرح ہوا ہے : (رب انی ظلمت نفسی۔ اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے نفس پر ظلم کرلیا) ۔
بعض حضرات کا قول ہے کہ تھپڑ مار کر کسی کی جان لے لینا قتل عمد ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) علی الاطلاق یہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
34 حضرت شعیب کی طرف سے حضرت موسیٰ کو ایک اہم پیشکش : یعنی حضرت شعیب کی طرف سے حضرت موسیٰ کو اپنی بیٹی سے نکاح کی پیشکش۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس لڑکی کے باپ نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ میں اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح آپ سے کردینا چاہتا ہوں۔ اس بات کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت موسیٰ کے پہنچتے ہی یہ سب باتیں ہوگئیں جیسا کہ بادی النظر میں خیال ہوتا ہے۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ قرآن پاک چونکہ کتاب ہدایت ہے اس کا مقصد محض تاریخی واقعات کو نقل کرنا نہیں کہ ان کو تفصیل سے اور تاریخی تسلسل کے ساتھ بیان کرے۔ بلکہ اس کا مقصد تو بندوں کو راہ راست دکھانا ہے۔ اس لئے وہ قصوں میں سے انہی حصوں کو منتخب کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–46
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
آیات 22 تا 28
اسرارومعارف
اور جب آپ مصر سے چلے تو آپ کا رخ مدین کی طرف تھا اور دعا کی کہ مجھے رب کریم سے امید ہے کہ درست سمت کی رہنمائی فرمائیں گے اور میں کسی بہتر ٹھکانے پر پہنچ سکوں گا آخر چلتے چلتے آپ مدین کے کنویں پر پہنچ گئے آپ کسی سے واقف نہ تھے دیکھا بہت سے لوگ جمع ہیں اور اپنے مواشی اور ریوڑوں کو پانی پلا رہے ہیں مگر دو نوجوان لڑکیاں الگ سے اپنی بکریاں روکے کھڑی ہیں آپ کو تعجب ہوا تو پوچھ لیا کہ آپ اس طرح ریوڑ کو روک کر کیوں کھڑی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ہم مردوں میں مل کر تو کام نہیں کرسکتیں لہذا انتظار کرتی ہیں جب یہ لوگ اپنے مواشی کو پانی پلا کر چلے جاتے ہیں تو ہم اپنے ریوڑ کو…
Read the full tafseer →8 ۔ اور یہ دونوں صفات اس شخص میں پائی جاتی ہیں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : اور دیکھا ڈول ڈالنے سے اور امانت دیکھی بےطمع ہونے سے (موضح)
Read the full tafseer →(28:26) یابت۔ اے باپ۔ اب پر نداء کے وقت ت زیادہ کردیتے ہیں۔
استاجرہ : استاجر فعل امر۔ واحد مذکر حاضر۔ استیجار (استفعال) اجر مادہ۔ مزدوری پر نوکر رکھنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب تو اس کو اجرت پر نوکر رکھ لے۔
ان ۔۔ الامین۔ بیشک بہتر آدمی جس کو آپ نوکر رکھیں وہ ہے جو طاقت ور بھی ہو اور دیانت دار بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
لغات القرآن : آیت نمبر 26 تا 28 :
احدی (ایک) یابت (اے میرے ابا جان) ‘ استاجر (اجرت پر رکھ لے) ‘ انکح ( میں نکاح کرتا ہوں) ھتین (یہ دونوں) ثمنی (آٹھ) حجج ( سال۔ برس) اشق (میں مشکل میں ڈالتا ہوں) ایما (جو بھی) الاجلین (اجل) مدتیں ‘ لاعدوان (کوئی جبر یا زبردستی نہ ہو) ‘ وکیل ( گواہ۔ کام بنانے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا 28 :
جب حضرت موسیٰ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے گھر پہنچے تو ان کی مہمان نوازی کی گئی۔ کچھ دنوں کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دونوں بیٹیوں میں سے ایک نے کہا کہ اے ابا جان ! اگر ان کو بکریوں کی دیکھ بھال اور گھر کی حفاظت کے لئے رکھ لیاجائے تو بہتر ہوگا کیونکہ چند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
حضرت موسیٰ کا حضرت شعیب سے ملاقات کرنا اور ان کی صحبت میں رہنا۔
(ف 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) شعیب (علیہ السلام) کے پاس آئے اور انہوں نے اپنی تمام داستان بیان کی کہ جس کے سبب سے مصر سے نکلے تھے تو حضرت شعیب نے کہا اب کچھ نہ ڈرو تم ظالم قوم کے ظلم سے بچ گئے لڑکی نے کہا، اے باپ ان کو بکریاں چرانے کے واسطے نوکر رکھ لو۔ اور جب لڑکی نے یہ بات کہی کہ یہ صاحب قوت اور امانت دار ہے۔ تو باپ نے کہا تجھ کو اس شخص کی طاقت اور امانت کا حال کیونکر معلوم ہوا، اس نے جواب دیا میں کہا کنوئیں کے منہ پر سے اس پتھر کو اٹھالیا جس کو دس آدمی اٹھاتے ہیں اور جس وقت میں ان کو بلا کر لائی تو اس کے آگے آگے چلتی تھی…
Read the full tafseer →[14] ضروری نہیں کہ لڑکی نے وہ بات جو آگے آرہی ہے موسیٰ (علیہ السلام) کی پہلی ملاقات کے وقت ہی کہی ہو۔ قیاس کہتا ہے کہ لڑکیوں کے والد نے ایک دو روز کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے پاس ٹھہرا لیا ہوگا۔ اس دوران بیٹی نے کسی وقت باپ سے کہا ہوگا۔
[15] موسیٰ (علیہ السلام) کی قوت تو ان کے کنوئیں سے پانی کھینچنے سے پہچانی گئی اور امانت داری ان کے برتاؤ سے معلوم ہوئی۔
Read the full tafseer →حل لغات :۔ استاجرہ ۔ یعنی انہیں اچیر بنا کر رکھ لیجئے
Read the full tafseer →26۔ ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے کہا اے باپ آپ اس شخص کو نوکر رکھ لیجئے کیونکہ اچھا اور بہتر نوکر جس کو آپ نوکر رکھناچا ہیں وہ شخص ہے جو طاقت دار اور امانت دار ہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں زور دیکھاڈول نکالنے سے اور امانت دار دیکھا بےطمع ہونے سے نہ کہتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کو صلہ دینا چاہا ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے انکار کیا کہ میں ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں جس میں بھلے کام پر کوئی اجرت نہیں لیا کرتے ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا میں بھی ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں جس میں کسی معمولی سے معمولی خدمت کو بھی نظر انداز کرنا مناسب نہیں خیال…
Read the full tafseer →ف 3۔ اور ان میں دونوں صفتیں ہیں۔
Read the full tafseer →دونوں لڑکیوں میں سے ایک نے والد سے کہا کہ یہ اجر کے مستحق ہیں تو قوی وامین بھی ہیں :
26۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس لڑکی نے اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے ہی یہ بات کہہ دی تھی اگرچہ اس میں بھی کوئی قباحت نہیں تاہم قرین قیاس یہی ہے کہ لڑکی نے والد سے یہ بات کی ہوگی اور اس طرح جس طرح اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کو ٹھہرا ہی لیا گیا اور وہ بھی ٹھہر گئے تھے تو اس طرح کے صلاح ومشورے گھر میں بہر حال ایک فطری چیز ہے اس سے زیادہ سے زیادہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ والدین کو اولاد کے مشورہ کے بغیر کوئی قدم اٹھانا درست نہیں اس کے غلط نتائج بھی نکل سکتے ہیں خصوصا ان بچوں کے متعلق جس کے عقد…
Read the full tafseer →إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ (The best man you hire is the one who is strong, trustworthy - 28:26), One of the daughters of Sayyidna Shu'aib (علیہ السلام) pleaded to her father that as he needed the services of a man to help him in his. daily work at home, he might consider hiring him for this purpose. In support of her suggestion she said further that two qualities are required in a servant. One, that he should be strong, and the second, that he should be trustworthy. The girl pointed out that she had seen his strength when he removed the stone from the mouth of…
Read the full tafseer →37 It is not necessary that the girl said this to her father in his very first meeting with Moses. Most probably her father made the traveller stay with him fo a couple of days, and the girl counseled him thus during that time. What she meant by this counsel was: "Father, you are old, and therefore, we girls have to go out to perfom outdoor duties. We have no brother either, who could take up these chores. You thay, therefore, employ this man as a servant: he is strong and will be able to face all kind of rigours, and he is also trustworthy. He helped us only due to his noble nature when he…
Read the full tafseer →