Explained with ayahs 25–28
حضرت موسیٰ اور شعیب (علیہما السلام) کا معاہدہ
ان دونوں بچیوں کی بکریوں کو جب حضرت موسیٰ ؑ نے پانی پلادیا تو یہ اپنی بکریاں لیکر واپس اپنے گھر گئیں۔ باپ نے دیکھا کہ آج وقت سے پہلے یہ آگئیں ہیں تو دریافت فرمایا کہ آج کیا بات ہے ؟ انہوں نے سچا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ نے اسی وقت ان دونوں میں سے ایک کو بھیجا کہ جاؤ اور ان کو میرے پاس لے آؤ۔ وہ حضرت موسیٰ ؑ کے پاس آئیں اور جس طرح گھر گھر ہست پاک دامن عفیفہ عورتوں کا دستور ہوتا ہے شرم وحیا سے اپنی چادر میں لپٹی ہوئی پردے کے ساتھ چل رہی تھی۔ منہ بھی چادر کے کنارے سے چھپائے ہوئے تھیں پھر اس دانائی اور صداقت کو دیکھئے کہ صرف یہی نہی کہا کہ میرے ابا آپ کو…
Read the full tafseer →سورة القصص 35
حضرت عمر ؓ نے اس فقرے کی یہ تشریح کی ہے جاءت تمشی علی استحیاء قائلۃ بثوبھا علی وجھھا لیست بسلفع من النساء دلاجۃ ولاجۃ خراجۃ۔ " وہ شرم و حیا کے ساتھ لچتی ہوئی اپنا منہ گھونٹ سے چھپائے ہوئے آئی۔ ان بےباک عورتوں کی طرح درانہ نہیں چلی آئی جو ہر طرف نکل جاتی اور ہر جگہ جا گھستی ہیں "۔ اس مضمون کی متعدد روایات سعید بن منصور، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن المنذر نے معتبر سندوں کے ساتھ حضرت عمر سے نقل کی ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کے عہد میں حیا داری کا اسلامی تصور جو قرآن اور نبی ﷺ کی تعلیم و تربیت سے ان بزرگوں نے سمجھا تھا، چہرے کو اجنبیوں کے سامنے کھولے پھرنے اور گھر…
Read the full tafseer →فَجَاۗءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِيْ عَلَي اسْـتِحْيَاۗءٍ ، قرآنی اسلوب کے مطابق یہاں قصہ کو مختصر کردیا گیا ہے۔ پورا واقعہ یہ ہوا کہ یہ عورتیں اپنے مقررہ وقت سے پہلے جلدی سے گھر پہنچ گئیں تو ان کے والد نے وجہ دریافت کی، لڑکیوں نے واقعہ بتلایا۔ والد نے چاہا کہ اس شخص نے احسان کیا ہے۔ اس کی مکافات کرنا چاہئے اس لئے انہیں لڑکیوں میں سے ایک کو ان کے بلانے کے لئے بھجیا۔ یہ حیا کے ساتھ چلتی ہوئی پہنچی۔ اس میں بھی اشارہ ہے کہ باوجود پردہ کے باقاعدہ احکام نازل نہ ہونے کے نیک عورتیں مردوں سے بےمحابا خطاب نہ کرتی تھیں۔ ضرورت کی بناء پر یہ وہاں پہنچی تو حیاء کے ساتھ بات کی جس کی صورت میں بعض مفسرین نے یہ…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ ؑ کے لئے خیر کی راہ
حضرت موسیٰ ؑ ابھی سایہ ہی میں بیٹھے تھے کہ ان میں سے ایک صاحبزادی لحباتی شرماتی ہوئی آئیں اور بولیں کہ آپ کو ہمارے والجد ماجد بلاتے ہیں کہ آپ نے ہماری بکریوں کو جو پانی پلایا ہے اس کا آپ کو صلہ دیں تو رات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روز صاحبزادیاں چونکہ معمول کے خلاف وقت سے پہلے فارغ ہو کجر گھر پہنچ گئیں اس وجہ سے حضرت شعیب نے ان سے پوچھا کہ آج تم اتنی جلدی کیسے چلی آئیں ؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ آج ایک مصری نے ہم پر یہ احسان کیا کہ اس نے ہماری بکریوں کو خود بھکر پانی پلا دیا۔ حضرت شعیب نے ان سے فرمایا تم نے انکو چھوڑ کیوں دیا ؟ جا کر ان کو بلا لائو کہ ہمارے ہاں روٹی…
Read the full tafseer →25-1اللہ نے حضرت موسیٰ ؑ کی دعا قبول فرمالی اور دونوں میں سے ایک لڑکی انہیں بلانے آگئی۔ لڑکی کی شرم و حیا کا قرآن نے بطور خاص ذکر کیا ہے کہ یہ عورت کا اصل زیور ہے اور مردوں کی طرح حیاء و حجاب سے بےنیازی اور بےباکی عورت کے لئے شرعا ناپسندیدہ ہے۔
25-2بچیوں کا باپ کون تھا ؟ قرآن کریم نے وضاحت سے کسی کا نام نہیں لیا ہے۔ مفسرین کی اکثریت نے اس سے مراد حضرت شعیب ؑ کو لیا ہے جو اہل مدین کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ امام شوکانی نے بھی اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ لیکن امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت شعیب ؑ کا زمانہ نبوت، حضرت موسیٰ ؑ سے بہت پہلے کا ہے۔ اس لئے یہاں حضرت شعیب ؑ کا برادر زادہ یا کوئی اور قوم شعیب…
Read the full tafseer →15: معلوم ہوا کہ اگرچہ اس وقت پردے کے باقاعدہ احکام نہیں تھے جو قرآن کریم نے عطا فرمائے، لیکن خواتین شرم و حیا کے لباس میں رہتی تھیں، اور مردوں سے معاملات کرتے وقت شرم و حیاء کو پوری طرح ملحوظ رکھتی تھیں، چنانچہ ابن جریر، ابن ابی حاتم اور سعید بن منصور نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ خاتون جب آئیں تو انہوں نے اپنی قمیص کی آستیں اپنے چہرے پر رکھی ہوئی تھی۔
16: اگرچہ کسی نیکی کا انعام وصول کرنے کے لیے جانا حضرت موسیٰ ؑ کی غیرت اور شرافت کے خلاف تھا، لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تھی کہ آپ کی طرف سے جو بھلائی بھی آئے گی، میں اس کا محتاج ہوں، اور اس خاتون کی دعوت سے ایک راستہ ایسا…
Read the full tafseer →فجآء تہ احدھما ۔۔۔۔۔ اجر ما سقیت لنا۔
”(کچھ دیر نہ گزری تھی) ان دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی “۔ میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے لیے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں “۔
اللہ کے فضل وکرم کے کیا کہنے ، حضرت موسیٰ اللہ کے کس قدر قریب ہیں ، ان کی پکار کس قدر تیزی سے سنی جاتی ہے۔ دو عورتوں کے والد سن رسید شیخ عالم بالا کی ہدایت پر حضرت موسیٰ کو دعوت دیتے ہیں ، یہ دعوت عزت و احترام پر مبنی پناہ عطا کرنے اور جزائے احسان دینے کے لیے ہے۔ یہ دعوت لے کر ان دو دوشیزاؤں میں سے ایک آتی ہے اور وہ تمشی علی استحیآء (28: 25) ” شرم و…
Read the full tafseer →10 جیسا کہ شریف اور پاکباز عورتوں کا قاعدہ ہے۔ کہتے ہیں کہ شرم کے مارے چہرہ چھپا کر بات کی۔
1 حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کر رہے تھے۔ اس نے اپنے فضل سے غیر متوقع طور پر خیر بھیجی، تو قبول کیوں نہ کرتے۔ اٹھ کر عورت کے ساتھ ہو لیے۔ لکھتے ہیں کہ چلتے وقت اس کو ہدایت فرمائی کہ میں آگے چلوں گا تم پیچھے آؤ۔ مبادا اجنبیہ پر عمدًا نظر کرنے کی نوبت آئے۔ چناچہ وہ پیچھے پیچھے راستہ بتلاتی ان کو لے کر گھر پہنچی۔
2 موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب کو اپنی ساری سرگذشت کہہ سنائی۔ انہوں نے تسلی دی اور فرمایا کہ اب تو اس ظالم قوم کے پنجہ سے بچ نکلا۔ انشاء اللہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ (مدین فرعون کی…
Read the full tafseer →قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْکَ لِیَجْزِیَکَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا ط ”
یعنی آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلانے کے لیے جو مشقت اٹھائی ‘ ہمارے والد آپ کو اس کا کچھ اجر دینا چاہتے ہیں۔
فَلَمَّا جَآءَ ہٗ وَقَصَّ عَلَیْہِ الْقَصَصَلا ”
اس آیت میں لفظ ”القَصَص“ آیا ہے اور اسی مناسبت سے اس سورة کا نام القَصَصہے۔
قَالَ لَا تَخَفْقف نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ”
یعنی آپ علیہ السلام کے ان دشمنوں کی اس علاقے تک رسائی نہیں۔ یہاں آپ کو کسی قسم کی پریشانی یا تکلیف نہیں ہوگی۔ آپ یہاں آرام سے رہ سکتے ہیں۔
بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں جس شخصیت کا ذکر ہے وہ حضرت شعیب علیہ السلام تھے ‘ اس لیے کہ…
Read the full tafseer →34 یہ عورتیں دل ہی دل میں ان کی احسان مند تھیں کہ ایک اجنبی شخص نے ان سے کیسی بھلائی کی ہے۔ واپس جاتے ہوئے مڑ کر جو دیکھا تو موسیٰ ایک درخت کے سایہ میں آبیٹھے تھے۔ اس سے انہوں نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ کوئی مسافر ہے۔ جس کے رہنے کے لئے یہاں کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔ موسیٰ کو ابھی سایہ میں بیٹھے اور اللہ سے دعا کئے تھوڑی ہی دیر گزری تھی، کہ ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک لڑکی لجائی شرمائی منہ چھپائے اور گھونگٹ لٹکائے آپ کے پاس آکر کہنے لگی کہ میرا والد آپ کو بلا رہا ہے۔ آپ نے ہماری بکریوں کو پانی پلا کر ہم پر جو احسان فرمایا ہے وہ آپ کو اس کا کچھ بدلہ دینا چاہتا ہے۔ گویا اللہ نے حضرت موسیٰ کی دعا…
Read the full tafseer →35۔ ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کھانے پینے کے لیے خدا سے دعا کی، ادھر یہ ہوا کہ لڑکیاں جو آج خلاف معمول سویرے واپس آگئیں تو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے سبب دریافت کیا۔ لڑکیوں نے اصل ماجرا سنا دیا۔ حضرت کی شرافت کب اسے گوارا کرسکتی تھی کہ ایسے محسن کو یوں ہی بالا بالا چلا جانے دیتے لڑکی کو بھیج اپنے گھر بلوایا کہ کچھ تو حق میزبانی کا ادا کریں۔ توریت میں ہے :۔” اور جب وہ اپنے باپ رعد ایل کے پاس آئیں اس نے پوچھا کہ آج تم کیونکر سویرے پھریں ؟ وہ بولیں ایک مصری نے ہمیں گڈریوں کے ہاتھ سے بچایا اور ہمارے لیے جتنا کافی تھا پانی بھرا۔ اور گلے کو پلایا۔ اس نے اپنی بیٹیوں سے کہا کہ وہ مرد کہاں ہے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
آیت نمبر 22 تا 28
ترجمہ : اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے یعنی مدین کی طرف رخ کیا، مدین شعیب (علیہ السلام) کی بستی تھی جو مصر سے آٹھ دن کی مسافت پر واقع تھی، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کے نام سے یہ بستی موسوم تھی، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین کے راستہ سے واقف نہیں تھے تو کہنے لگے مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھے راستے کی رہنمائی فرمائے گا، یعنی سیدھے راستہ یعنی مدین کے متوسط راستہ کی رہنمائی کرے گا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ایک فرشتہ کو بھج دیا جس کے ہاتھ میں نیزہ تھا، تو وہ فرشتہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کی…
Read the full tafseer →فجآء تہ احدھما تمشی علی استحیاء قالت ان ابی یدعوک لیجزیک اجرما سقیت لنا
سو موسیٰ کے پاس ان دونوں میں سے ایک لڑکی آئی جو شرمائی ہوئی چلتی تھی (اور) کہنے لگی : میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ کو اس کا صلہ دیں جو آپ نے ہماری خاطر (ہمارے جانوروں کو) پانی پلایا تھا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا : وہ عورت بےباک نہ تھی کہ بےجھجک مردوں میں گھستی پھرتی بلکہ موسیٰ کے پاس دبتی ‘ لچتی ‘ کرتے کی آستین منہ میں ڈالے شرماتی آئی۔
ا بن عساکر نیز بغوی نے ابو حزام سلمہ بن دینار کا بیان نقل کیا ہے ‘ سلمہ کا بیان ہے کہ موسیٰ نے جب یہ بات سنی تو جانے کا ارادہ نہیں کیا لیکن بھوکے تھے ‘ مجبوراً…
Read the full tafseer →(25) اتنے میں ان دونوں لڑکیوں میں سے چھوٹی لڑکی صفورا نامی آئی جو کہ بالکل کنواری لڑکی کی طرح شرماتی ہوئی چلتی تھی اور آکر کہنے لگی کی میرے والد تمہیں بلاتے ہیں تاکہ تمہیں اس کا صلہ دیں جو تم نے ہماری خاطر ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے، چناچہ جب حضرت موسیٰ ؑ ان کے باپ برؤن یعنی شعیب ؑ کے بھتیجے کے پاس آئے اور شعیب ؑ پہلے انتقال فرما چکے تھے اور برؤن سے فرعون کے پاس سے آنے کا واقعہ بیان یا تو برؤن نے موسیٰ ؑ سے فرمایا اب فکر مت کرو تم مصر والوں کی زد سے نکل آئے۔
Read the full tafseer →فَجَاۗءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِيْ عَلَي اسْـتِحْيَاۗءٍ : ”عَلٰی حَیَاءٍ“ کا معنی ہے حیا کے ساتھ، ”عَلَي اسْـتِحْيَاۗءٍ“ میں حروف زیادہ ہونے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی بہت حیا کے ساتھ۔
3 شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ”عورتوں نے پہچانا کہ چھاؤں پکڑتا ہے مسافر ہے، دور سے آیا ہوا تھکا، بھوکا، جا کر اپنے باپ سے کہا۔“ ابن کثیر لکھتے ہیں : ”جب وہ دونوں باپ کے پاس جلدی واپس پہنچ گئیں تو اسے تعجب ہوا اور اس نے ان سے اس کے متعلق پوچھا، انھوں نے موسیٰ ؑ کے احسان کا ذکر کیا، تو اس نے ان میں سے ایک کو انھیں بلانے کے لیے بھیجا۔“
”تو ان دونوں میں سے ایک بہت حیا کے ساتھ چلتی ہوئی موسیٰ کے پاس آئی۔“ سبحان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
اس میں تئیس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ ولما ورمآء مدین حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چلتے رہے یہاں تک کہ مدین کے چشمہ پر پہنچے۔ وردمآء سے مراد ہے اس تک پہنچ گئے اس کا یہ مطلب نہیں اس میں داخل ہوگئے ورود کا لفظ بعض اوقات مورد میں داخل ہونے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، بعض اوقات اطلاع پانے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور کبھی پہنچنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اگرچہ اس میں داخل نہ ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے چشمہ پروارد ہونے سے مردا تک پہنچنا ہے۔ اس معنی میں زہیر کا قول ہے :
فلما وردن الماء زرقا جمامہ وضعن عصی الحاضر المتخیم
جب وہ اس چشمہ پروارد ہوئیں جس کا لبالب پانی آسمان کے رنگ جیسا نظر آ رہا تھا۔
یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
1۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھوکے ہونے کی حالت میں ڈرتے ہوئے نکلے ان کے پاس کانے پینے کی کوئی چیز نہ تھی یہاں تک کہ مدین کے چشمہ پر پہنچے اور اس پر لوگوں کی ایک جماعت جانوروں کو پانی پلا رہی تھی۔ اور دو عورتیں اپنی بکریوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں موسیٰ نے ان سے پوچھا کیا مسئلہ ہے آیت قالتا لا نسقی حتی یصدر الرعاء وابونا شیخ کبیر، دونوں عورتوں نے کہا ہم اپنے جانوروں کو اس وقت تک پانی نہیں بلاتیں جب تک چرواہے پانی پلا کر نکال کر نہ لے جائیں اور ہمارے والد بڑے بوڑھے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا کیا تمہارے قریب بھی پانی ہے انہوں نے کہا…
Read the full tafseer →فَجَاۗءَتْهُ [ پھر آئی ان کے پاس ] اِحْدٰىهُمَا [ ان دونوں کی ایک ] تَمْشِيْ [ چلتی ہوئی ] عَلَي اسْـتِحْيَاۗءٍ ۡ [ شرم سے ] قَالَتْ [ اس نے کہا ] اِنَّ اَبِيْ [ بیشک میرے والد ] يَدْعُوْكَ [ بلاتے ہیں آپ (علیہ السلام) کو ] لِيَجْزِيَكَ [ تاکہ وہ بدلے میں دیں آپ (علیہ السلام) کو ] اَجْرَ مَا [ اس کی اجرت جو ] سَقَيْتَ [ آپ نے پانی پلایا ] لَنَا ۭ [ ہمارے لئے ] فَلَمَّا [ پھر جب ] جَاۗءَهٗ [ وہ (موسیٰ علیہ السلام) آئے اس کے (والد) پاس ] وَقَصَّ عَلَيْهِ [ اور انہوں (علیہ السلام) نے بیان کیا اس سے ] الْقَصَصَ ۙ [ سارا قصہ ] قَالَ [ تو اس نے کہا ] لَا تَخَفْ ڣ [ آپ (علیہ السلام) خوف مت کریں ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
فائدہ رابعہ : شیخ مدین کی ایک لڑکی نے جو کہا کہ اے ابا جان اس شخص کو اپنے یہاں اجرت پر رکھ لیجیے اور ساتھ یوں بھی کہا (اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ ) (کہ جسے آپ مزدوری پر رکھیں ان میں بہتر آدمی وہ ہے جو قوی بھی ہو امین بھی ہو) اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تعریف تو ہے ہی کہ یہ شخص قوت والا ہے اور امانتدار ہے ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ اپنے کام کے لیے ایسے شخص کو مزدور رکھا جائے جو اس کام کو کرسکتا ہو جس کے لیے ملازم رکھا جا رہا ہے اور ہر عمل کی قوت علیحدہ ہوتی ہے کسی کو پڑھانے کی قوت و صلاحیت ہوتی ہے۔ جس کسی کو محاسب رکھا جائے وہ حساب دان ہونا چاہیے۔ جس کسی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین کی جانب سفر
قال اللہ تعالیٰ ولما توجہ تلقاء مدین۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علی ما نقول وکیل۔
(ربط) گزشتہ آیت میں اس بات کا ذکر تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک خیر خواہ نے یہ مشورہ دیا کہ آپ فورا مصر سے نکل جائیے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی۔ رب نجنی من القوم الظالمین۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول کی اور ظالموں سے نجات کا ایک ذریعہ بنایا چناچہ وہ مصر سے نکل کھڑے ہوئے راہ سے واقف نہ تھے توکلا علی اللہ ایک سمت پر چل پڑے اور جب بالقاء غیبی شہر مدین کی طرف متوجہ ہوئے اور قضاء وقدر نے وجہ (منہ) کو مدین کی طرف کردیا اور ” مدین “ ایک شہر کا نام ہے جو…
Read the full tafseer →25:۔ اسی خیال ہی میں تھے کہ ان دونوں عورتوں میں سے ایک آئی، اس کی چال ہی سے شرم و حیا اور شرافت نمایاں تھی، اس نے آکر کہا میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ کے احسان کا آپ کو بدلہ دیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ساتھ ہو لیے اور لڑکی سے کہا تم میرے پیچھے پیچھے چلو تاکہ تمہارے بدن پر میری نگاہ نہ پڑے اور دائیں بائیں مجھے راستہ بتاتی جاؤ روی انہ (علیہ السلام) اجابھا فقام معھا فقال لھا مشی خلفی وانعتی لی الطریق فانی اکرہ ان تصیب الریح ثیابک فتصف لی جسد ففعلت الخ (روح ج 20 ص 65) ۔ جب انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس پہنچ کر سارا ماجرا بیان کیا تو انہوں نے فرمایا اب بےخوف ہوجاؤ یہاں فرعون کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
ربط آیات
جب موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک قبطی آدمی قتل ہوگیا اور قتل کا الزام بھی آپ پر لگا تو فرعون کے درباریوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس شخص کو سزائے موت دینی چاہئے۔ چناچہ آپ کی گرفتاری کا حکم دے دیا گیا ۔ اسی اثناء میں موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک خیر خواہ نے آپ کو اطلاع دے دی کہ فرعون نے آپ کی گرفتاری اور قتل کا حکم دے دیا ہے لہٰذا آپ بلا تاخیر یہاں سے نکل جائیں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) فوراً وہاں سے چل دیے ، آپ کو پریشانی بھی لا حق تھی کہ پتہ نہیں اب کیا صورت حال پیش آئے گی اور ضمن میں آپ پیچھے مڑ مڑ کر بھی دیکھتے تھے۔ اندریں حالات آپ نے یہ دعا بھی کی ، پروردگار ! تجنی من القوم الظلمین…
Read the full tafseer →فَجَاۗءَتْہُ اِحْدٰىہُمَا تَمْشِيْ عَلَي اسْـتِحْيَاۗءٍ 0ۡقَالَتْ اِنَّ اَبِيْ يَدْعُوْكَ لِيَجْزِيَكَ اَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا 0ۭ فَلَمَّا جَاۗءَہٗ وَقَصَّ عَلَيْہِ الْقَصَصَ 0ۙ قَالَ لَا تَخَفْ 0۪ۣ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِــمِيْنَ 25
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
(…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
1 ؎ اسی لفظ کی مناسبت سے اس سورة کو سورة قصص کہتے ہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فَجَآئَ تْہُ اِحْدٰہُمَا تَمْشِیْ عَلَی اسْتِحْیَـآئٍ ز قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْکَ لِیَجْزِیَکَ اَجْرَمَا سَقَیْتَ لَنَا ط فَلَمَّا جَآئَ ہٗ وَقَصَّ عَلَیْہِ الْقَصَصَ لا قَالَ لاَ تَخَفْ قف وقفۃ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْن۔ (القصص : 25)
(کچھ دیر نہ گزری تھی) کہ ان دونوں میں سے ایک شرماتی ہوئی موسیٰ کے پاس آئی اور کہنے لگی، میرے باپ آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے لیے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں۔ تو جب موسیٰ ان کے پاس پہنچے اور انھیں اپنا سارا قصہ سنایا تو انھوں نے کہا کچھ خوف نہ کرو، تم نے ظالموں سے نجات پائی۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کی قبولیت اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا مستجاب ہوئی جس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے انھیں بہترین ٹھکانہ عنایت فرمایا۔
اِدھر موسیٰ (علیہ السلام) دعا کر رہے تھے ادھر لڑکیوں نے گھر جا کر اپنے والد گرامی حضرت شعیب (علیہ السلام) کو واقعہ عرض کیا کہ آج اس لیے ہم جلد واپس آگئی ہیں ایک مسافر نے ہمارے ساتھ یہ تعاون کیا ہے۔ ظاہر ہے لڑکیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حیاء اور بھیڑ میں پانی پلانے کے واقعے کی قدرے تفصیل بیان کی ہوگی۔ جس سے متاثر ہو کر حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی ایک بیٹی کو بھیجا کہ وہ اس مسافر کو بلا لائے تاکہ اس کی اس خدمت کا بدلہ اور شکریہ ادا کیا جائے۔ پیغمبر کی…
Read the full tafseer →25: فَجَآئَ تْہُ اِحْدٰہُمَآ تَمْشِیْ عَلَی اسْتِحْیَآئٍ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ (پس ان میں سے ایک موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئی جو شرمائی ہوئی تھی) ۔ یَدْعُوْکَ لِیَجْزِیَکَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا (چلتی تھی اور کہنے لگی کہ میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ کو اس کا صلہ دیں جو آپ نے ہماری خاطر پانی پلایا ہے) ۔ نحو : علی استحیائٍ یہ حال ہے تمشی کی ضمیر سے اے مستحیۃً ۔
یہ آیت اس عورت کے کمال ایمان کی دلیل ہے اور عفت و حیا کی گواہی ہے۔ کیونکہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو مہمانی کی دعوت دے رہی تھی آیا وہ یہ نہ جانتی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اس کو قبول کریں گے یا کہ نہیں۔ پس وہ ان کے پاس حیاء کے…
Read the full tafseer →25۔ فجاء تہ احداھما تمشی علی الستحیائ، ، حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا کہ وہ عورت بےباک نہیں تھی کہ بےجھجھک مردوں میں گھستی پھرتی بلکہ موسیٰ کے پاس دبتی ، لجتی، کرتے کی آستین منہ میں ڈالے شرماتی ہوئی آئی، قالت ان ابی یدعوک لیجزیک اجرماسقیت لنا، ابوحازم سلمہ بن دینار کا بیان ہے کہ موسیٰ نے جب یہ بات سنی تو جانے کا ارادہ نہیں کیا، لیکن بھوک لگی ہوئی تھی مجبورا جاناپڑا، عوت آگے آگے چلی اور موسیٰ اس کے پیچھے پیچھے ہوا کے جھونکے سے عورت کی پنڈلی سے کپڑا ہٹ جاتا تھا، اور پنڈلی کھل جاتی تھی، موسیٰ کو یہ بات بری محسوس ہوئی آپ نے عورت سے کہا کہ تم میرے پیچھے چلو اگر راستے سے ہٹ جاؤں توبتلادینا، عورت نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–26
14 تا 26۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھر پرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم اور سمجھ دونوں عنایت کئے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے نکل کر مدین میں پہنچنے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے ہوئے دیکھا جن میں ایک ان کے گروہ میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے حین غفلۃ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ دوپہر کا وقت تھا اسرائیل نے فریاد کی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
نبی سے کوئی جرم سرزد ہو تو خدا سے معافی مانگتا ہے
قول باری ہے : (فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ۔ موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا) نیز قول باری ہے (وقتلت نفسا۔ تونے ایک آدمی کو قتل کردیا تھا) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتادیا کہ انہوں نے گھونسا مار کر اس شخص کو قتل کردیا تھا پھر اپنے اس فعل پر جن الفاظ میں ندامت کا اظہار کیا تھا اس کا ذکر قرآن میں اس طرح ہوا ہے : (رب انی ظلمت نفسی۔ اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے نفس پر ظلم کرلیا) ۔
بعض حضرات کا قول ہے کہ تھپڑ مار کر کسی کی جان لے لینا قتل عمد ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) علی الاطلاق یہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
33 حضرت موسیٰ کیلئے حضرت شعیب کے یہاں سے بلاوا : سو اتنے میں آپ کو حضرت شعیب کی طرف سے بلاوا آگیا جس کو آپ نے فورا قبول کرلیا۔ اس لئے کہ ایک بزرگ ہستی کی طرف سے دعوت موصول ہوئی تھی جس کا قبول کرنا سنت ہے۔ مشہور قول کے مطابق ان بزرگوں سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) ہیں۔ مگر بعض اہل علم کے نزدیک یہ بات بہت بعید ہے۔ کیونکہ حضرت شعیب کا زمانہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت پہلے تھا۔ اس لئے انہوں نے کچھ اور نام لئے ہیں۔ بہرکیف قول مشہور حضرات اہل علم کے نزدیک یہی ہے کہ اس سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس لڑکی کے بلانے پر اس کے والد سے ملنے چلے گئے۔ روایات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–46
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
آیات 22 تا 28
اسرارومعارف
اور جب آپ مصر سے چلے تو آپ کا رخ مدین کی طرف تھا اور دعا کی کہ مجھے رب کریم سے امید ہے کہ درست سمت کی رہنمائی فرمائیں گے اور میں کسی بہتر ٹھکانے پر پہنچ سکوں گا آخر چلتے چلتے آپ مدین کے کنویں پر پہنچ گئے آپ کسی سے واقف نہ تھے دیکھا بہت سے لوگ جمع ہیں اور اپنے مواشی اور ریوڑوں کو پانی پلا رہے ہیں مگر دو نوجوان لڑکیاں الگ سے اپنی بکریاں روکے کھڑی ہیں آپ کو تعجب ہوا تو پوچھ لیا کہ آپ اس طرح ریوڑ کو روک کر کیوں کھڑی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ہم مردوں میں مل کر تو کام نہیں کرسکتیں لہذا انتظار کرتی ہیں جب یہ لوگ اپنے مواشی کو پانی پلا کر چلے جاتے ہیں تو ہم اپنے ریوڑ کو…
Read the full tafseer →7 ۔ ” شرماتی چلی آرہی ہے “۔ کی تشریح حضرت عمر ؓ نے فرمائی ہے : ” گھونگھٹ سے اپنا چہرہ چھپائے چلی آرہی ہے نہ کہ ان بےباک عورتوں کی طرح جو ہر طرف نکل جاتی ہیں اور ہر جگہ گھس جاتی ہیں۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(28:25) علی استحیائ۔ استفعال سے مصدر ہے ۔ شرمانا۔ حیا کرنا۔ شرم و حیا سے (چلتی ہوئی) یہ تمشی کی ضمیر فاعل سے حال ہے
لیجزیک لام تعلیل کا ہے یجزی مضارع واحد مذکر غائب (منصوب بوجہ لام تعلیل۔ جزی یجزی (ضرب) جزاء مصدر۔ بدلہ، دینا۔ ھزاء دینا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ تاکہ وہ تجھے بدلہ دے۔ (اس کا مرجع موسیٰ (علیہ السلام) ہیں) ۔
ماسبقت لنا۔ میں ما مصدریہ بھی ہوسکتا ہے۔ ہمارے لئے (ریوڑ کو) پانی پلانے کا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
لغات القرآن : آیت نمبر 22 تا 25 :
توجہ ( متوجہ ہوا۔ اس نے رخ کیا) ‘ تلقاء (طرف۔ سمت) ‘ یسقون ( وہ پانی پلاتے ہیں) ‘ تذودان ( روکے ہوئے) ‘ ماخطبکما ( تم دونوں کا کیا معاملہ ہے) ‘ لانسقی (ہم نہیں پلاتیں) یصدر (واپس لے جاتا ہے۔ لے جاتے ہیں) ‘ الرعائ (راع) چرواہے) ‘ الظل (سایہ) ‘ تمشی (وہ چلتی ہے)
تشریح : آیت نمبر 22 تا 25 :
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کی ظالمانہ کاروائیوں سے بچنے کے لئے ایک انجانی سی منزل کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔ ہر مشکل کے وقت تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اور صالحین کا ایک ہی طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنے اللہ سے دعاکرکے مدد مانگتے ہیں چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بار گاہ رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
حضرت موسیٰ کا حضرت شعیب سے ملاقات کرنا اور ان کی صحبت میں رہنا۔
(ف 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) شعیب (علیہ السلام) کے پاس آئے اور انہوں نے اپنی تمام داستان بیان کی کہ جس کے سبب سے مصر سے نکلے تھے تو حضرت شعیب نے کہا اب کچھ نہ ڈرو تم ظالم قوم کے ظلم سے بچ گئے لڑکی نے کہا، اے باپ ان کو بکریاں چرانے کے واسطے نوکر رکھ لو۔ اور جب لڑکی نے یہ بات کہی کہ یہ صاحب قوت اور امانت دار ہے۔ تو باپ نے کہا تجھ کو اس شخص کی طاقت اور امانت کا حال کیونکر معلوم ہوا، اس نے جواب دیا میں کہا کنوئیں کے منہ پر سے اس پتھر کو اٹھالیا جس کو دس آدمی اٹھاتے ہیں اور جس وقت میں ان کو بلا کر لائی تو اس کے آگے آگے چلتی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
[13] لڑکیاں خلاف معمول سویرے گھر واپس آگئیں تو ان کے باپ نے جلد آنے کا سبب دریافت کیا۔ لڑکیوں نے اصل ماجرا سنا دیا۔ باپ کی شرافت کب اسے گوارا کرسکتی تھی کہ ایسے محسن کو یوں ہی چلا جانے دیا جائے۔ لڑکی کو بھیج کر اپنے گھر بلوایا کہ کچھ تو حق میزبانی ادا کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آجر ۔ مزدوری ہوسکتا ہے بنت شعیب نے انہیں غریب اور مزدور سمجھ کر باپ سے سفارش کی ہو ۔ کہ انہیں کچھ دیدیا جائے ۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) جو ان کے ساتھ چلے گئے تو اس لئے کہ شائد اس کے ساتھ جانے میں موافق اور مساعد حالات پیدا ہوجائیں
Read the full tafseer →25۔ اتنے میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ان دو عورتوں میں سے ایک عورت شرم و حیا سے چلتی ہوئی آئی اور اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے قریب آ کر کہا میرا باپ اے موسیٰ (علیہ السلام) آپ کو بلاتا اور یاد کرتا ہے تا کہ وہ تجھ کو اس پانی پلانے کا حق دیدے جو تو نے ہمارے مویشوں کو پانی پلایا تھا پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) اس کے باپ کے پاس پہنچا اور اپنے آنے کے تمام واقعات ان کو سنائے اور اپنا تمام حال بیان کیا تو انہوں نے کہا ڈر نہیں اور کچھ خوف نہ کر تو ظالم لوگوں سے بچ آیا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں عورتوں نے پہچانا کہ چھانواں پکڑتا ہے مسافر ہے دور سے آیا تھکا بھوکا جا کر اپنے باپ سے کہا کہ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
ف 1۔ یہ بزرگ شعیب (علیہ السلام) تھے۔
2۔ موسیٰ (علیہ السلام) ساتھ ہولئے، گو مقصود موسیٰ (علیہ السلام) کا بالیقین حصول عوض نہ تھا، لیکن مقام امن اور کسی رفیق شفیق کے ضرور باقضائے وقت جویاں تھے، اور اگر بھوک کی شدت بھی اس جانے کا ایک جزو علت ہو تو مضائقہ نہیں، اور اس کو اجرت سے کچھ تعلق نہیں، اور ضیافت کی تو استدعا بھی خصوص حاجت کے وقت اور خصوص کریم سے کچھ ذلت نہیں، چہ جائیکہ دوسرے کی استدعا پر ضیافت کا قبول کرلینا۔
Read the full tafseer →ان دو بہنوں میں سے ایک نہایت حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی اور گھر لے جانے کی دعوت دی :
25۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر اوپر کیا گیا کہ پانی پلانے کے بعد قریب ہی ایک درخت کے سایہ میں بیٹھ کر سستانے لگے ‘ مسافرت اور غربت پھر بھوک اور پیاس لیکن اظہار کس کے سامنے ؟ رب کریم کو مخاطب کیا کہ ” اے پروردگار ! اس وقت جو بھی بہتر سامان میرے لئے تو اپنی قدرت سے نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں “ ادھر ان لڑکیوں نے جب گھر جا کر والد ماجد سے ذکر کیا کہ اس طرح ایک نوجوان نے ان کی مدد کی تو باپ نے کہا کہ عجلت سے جاؤ اور اس کو میرے پاس لے کر آؤ ‘ لڑکی تیزی کے ساتھ نہایت شرم وحیا کے ساتھ بولی کہ ” آپ ہمارے گھر…
Read the full tafseer →فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ (Then one of the two women came to him walking with shyness. - 28:25). In accordance with Qur'anic practice the story has been summarized here. The full story runs like this: When the two girls reached home earlier than usual, their father enquired the reason for that. So they related to him the whole incident. Their father thought that he should make up for the favour Musa (علیہ السلام) had done to his daughters. Hence he asked one of his daughters to bring him with her. She went to Sayyidna Musa (علیہ السلام) and talked to him with an…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
35 Hadrat `Umar has explained this sentence, thus: "She came walking modestly, with her face covered with a part of her outer garment, unlike those immodest women, who go about wherever they like, and enter wherever they like without any hesitation." Several traditions bearing on this subject have been reported by Said bin Mansur, Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim-and Ibn al-Mundhir from Hadrat 'Umar through authentic chains of athorities. This shows that the Islamic concept of modesty which the Companions of the Holy Prophet had understood from the Qur'an and the teaching and training of the Holy…
Read the full tafseer →