Explained with ayahs 21–24
موسیٰ ؑ کافرار
فرعون اور فرعونیوں کے ارادے جب اس شخص کی زبانی آپ کو معلوم ہوگئے تو آپ وہاں سے تن تنہاچپ چاپ نکل کھڑے ہوئے۔ چونکہ اس سے پہلے کی زندگی کے ایام آپ کے شہزادوں کی طرح گزرے تھے سفر بہت کڑا معلوم ہوا لیکن خوف وہراس کے ساتھ ادھر ادھر دیکھتے سیدھے چلے جارہے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے جارہے تھے کہ اے اللہ ! ان ظالموں سے یعنی فرعون اور فرعونیوں سے نجات دے۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی رہبری کے واسطے ایک فرشتہ بھیجا تھا جو گھوڑے پر آپ کے پاس آیا اور آپ کو راستہ دکھا گیا واللہ اعلم۔ تھوڑی دیر میں آپ جنگلوں اور بیابانوں سے نکل کر مدین کے راستے پر پہنچ گئے تو خوش ہوئے اور فرمانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
سورة القصص 33
یہ مقام جہاں حضرت موسیٰ پہنچے تھے، عربی روایات کے مطابق خلیج عقبہ کے غربی ساحل پر مقنا سے چند میل بجانب شمال واقع تھا۔ آج کل اسے البدع کہتے ہیں اور وہاں ایک چھوٹا سا قصبہ آباد ہے، میں نے دسمبر 1959 میں تبوک سے عقبہ جاتے ہوئے اس جگہ کو دیکھا ہے، مقامی باشندوں نے مجھے بتایا کہ ہم باپ دادا سے یہی سنتے چلے آئے ہیں کہ مدین اسی جگہ واقع تھا۔ یوسیفوس سے لیکر برٹن تک قدیم و جدید سیاحوں اور جغرافیہ نویسوں نے بھی بالعموم مدین کی جائے وقوع یہی بتائی ہے۔ اس کے قریب تھوڑے فاصلے پر وہ جگہ ہے جسے اب مغائر شعیب یا مغارات شعیب کہا جاتا ہے، اسی جگہ ثمودی طرز کی کچھ عمارات موجود ہیں، اور اس سے…
Read the full tafseer →فَسَقٰى لَهُمَا، یعنی موسیٰ ؑ نے ان عورتوں پر رحم کھا کر کنوئیں سے پانی نکال کر ان کی بکریوں کو سیراب کردیا۔ بعض روایات میں ہے کہ چرواہوں کی عادت یہ تھی کہ اپنے جانوروں کو پانی پلانے کے بعد کنوئیں کو ایک بھاری پتھر سے بند کردیتے تھے اور یہ عورتیں اپنی بکریوں کے لئے بچے کچے پانی پر اکتفا کرتی تھیں۔ یہ بھاری پتھر ایسا تھا جس کو دس آدمی مل کر اٹھاتے تھے مگر موسیٰ ؑ نے اس کو تنہا اٹھا کر الگ کردیا اور کنوئیں سے پانی نکالا۔ شاید اسی وجہ سے ان عورتوں میں سے ایک نے موسیٰ ؑ کے متعلق اپنے والد سے یہ کہا کہ یہ قوی ہیں۔ (قرطبی)
ثُمَّ تَوَلّيٰٓ اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّىْ لِمَآ اَنْزَلْتَ…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ ؑ کا جذبہ حمایت ضعیف
ان شریف زادیوں کی یہ بات سن کر حضرت موسیٰ ؑ کا جذبہ حمایت ضعیف بھڑک اٹھا وہ اٹھے اور ان کی بکریوں کو انہوں نیپانی پلایا اور پانی پلا کر پھر اسی سایہ میں آ کر بھٹت گئے جس کے نیچے بیٹھے ہوئیت ہے اور دعا فرمائی کہ اے رب ! اس وقت جو چیز بھی تو میرے لئے نازل فرمائے میں اس کا محتاج ہوں۔
چند قابل توجہ باتیں
یہاں چند باتیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں
ایک یہ کہ حضرت موسیٰ ؑ کو یہ بات نایت اہم محسوس ہوئی کہ دو شریف لڑکیوں کو بکریاں چرانے کا پر مشقت نام کرنا پڑ رہا ہے اور وہ اس بےبسی کے ساتھ عین گھاٹ سامنے اپنی بکریوں کو روکے کھڑی ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ کے اس احساس کا اظہار ان کے…
Read the full tafseer →24-1حضرت موسیٰ ؑ اتنا لمبا سفر کر کے مصر سے مدین پہنچے تھے، کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا، جب کہ سفر کی تھکان اور بھوک سے نڈھال تھے۔ چناچہ جانوروں کو پانی پلا کر ایک درخت کے سائے تلے آ کر مصروف دعا ہوگئے۔ خیر کئی چیزوں پر بولا جاتا ہے، کھانے پر، امور خیر اور عبادت پر، قوت پر اور مال پر (ایسر التفاسیر) یہاں اس کا اطلاق کھانے پر ہوا ہے۔ یعنی میں اس وقت کھانے کا ضرورت مند ہوں۔
Read the full tafseer →13: حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے ان عورتوں سے پوچھا کہ کیا یہاں کوئی اور کنواں بھی ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ ایک کنواں اور ہے، مگر اس کے منہ پر ایک بہت بھاری پتھر رکھا ہوا ہے جسے اٹھانا آسان نہیں۔ اس پر حضرت موسیٰ ؑ وہاں گئے اور پتھر کو اٹھا کر ان کی بکریوں کو پانی پلا دیا۔ (روح المعانی بحوالہ عبد بن حمید ص 367 ج 20
14: اس مختصر دعا میں عبدیت کا عجیب مظاہرہ ہے، ایک طرف اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے محتاج ہونے کا ذکر فرما رہے ہیں کہ اس غریب الوطنی میں جہاں کوئی شخص آشنا نظر نہیں آتا، زندگی کی ہر ضرورت کی احتیاج ہے اور دوسری طرف خود سے کوئی نعمت تجویز کرنے کے بجائے…
Read the full tafseer →فسقی لھما (28: 24) ” یہ سن کر موسیٰ نے ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا “۔ یہاں سیاق کلام سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نہایت ہی تربیت یافتہ شریف النفس شخصیت کے مالک تھے۔ وہ جسمانی لحاظ سے بھی ایک کڑیل جوان تھے ، جسے دیکھ کر عام آدمی مرعوب ہوجاتا تھا۔ حالانکہ وہ طویل سفر سے تھکے ہوئے آئے تھے۔ چرواہوں پر ان کی جسمانی قوت سے زیادہ ان کی نفسیاتی برتری اور اخلاقی رویہ نے زیادہ اثر کیا۔ کیونکہ جسمانی قوت کے مقابلے میں لوگ اخلاقی رویوں سے زیادہ مرعوب ہوتے ہیں۔
ثم تولیٰ الی الظل (28: 24) ” پھر ایک سائے کہ جگہ جا بیٹھا “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسم سخت گرمی اور لو کا تھا اور حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →8 پیغمبروں کے فطری جذبات و ملکات ایسے ہوتے ہیں، تھکے ماندے، بھوکے پیاسے تھے مگر غیرت آئی کہ میری موجودگی میں یہ صنف ضعیف ہمدردی سے محروم رہے۔ اٹھے اور مجمع کو ہٹا کر یا ان کے بعد کنوئیں سے تازہ پانی نکال کر لڑکیوں کے جانوروں کو سیراب کیا۔
9 یعنی اے اللہ کسی عمل کی اجرت مخلوق سے نہیں چاہتا۔ البتہ تیری طرف سے کوئی بھلائی پہنچے اس کا ہمہ وقت محتاج ہوں۔ حضرت شاہ صاحب ' لکھتے ہیں " عورتوں نے پہچانا کہ چھانؤں پکڑتا ہے مسافر ہے۔ دور سے آیا ہوا، تھکا، بھوکا۔ جا کر اپنے باپ سے کہا (وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے علی القول المشہور) ان کو درکار تھا کہ کوئی مرد ملے نیک بخت جو بکریاں تھامے اور بیٹی بھی…
Read the full tafseer →آیت 24 فَسَقٰی لَہُمَا ثُمَّ تَوَلّٰٓی اِلَی الظِّلِّ ”
حضرت موسیٰ علیہ السلام بہت توانا اور قوی تھے۔ ان کی مردانہ غیرت نے گوارا نہ کیا کہ وہ لڑکیاں یوں بےبسی کی تصویر بنی کھڑی رہیں۔ چناچہ وہ کنویں کی طرف بڑھے اور سب چرواہوں کو پیچھے ہٹا کر ان کی بکریوں کو پانی پلانے کا انتظام کردیا۔ اس کے بعد وہ لڑکیاں اپنی بکریوں کو لے کر چلی گئیں اور آپ علیہ السلام ایک درخت کے سائے میں جا کر بیٹھ گئے۔ تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی :
فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ ”
یہ انتہائی عاجزی کی دعا ہے۔ ہم سب کو یہ دعا یاد کر لینی چاہیے۔ یہاں ”فَقِیْر“ کے لفظ سے…
Read the full tafseer →33 موسیٰ ان لڑکیوں کی بات سن کر آگے بڑھے۔ طاقتور نوجوان تھے۔ اکیلے ہی پانی کا بھاری بھر کم ڈول نکالا اور ان کی بکریوں کو پانی پلا دیا۔ لڑکیاں اپنے جانور لے کر چلی گئیں تو آپ ایک درخت کے سایہ تلے جاکر بیٹھ گئے۔ آٹھ دن کے تھکے ماندے اور بھوک سے بےتاب ہو رہے تھے۔ اللہ سے کھانا مانگا تو ایسا ادب و احترام کا اندازہ اختیار کیا۔ جس سے پیغمبرانہ شان خوب نمایاں ہوجاتی ہے۔ فرمایا اس وقت تیری طرف سے جو بھی مجھے بھلائی پہنچے میں اس کا محتاج ہوں۔
Read the full tafseer →34۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا طویل سفر کے بعد بھوکا پیاسا، تھکا ماندہ ہونا بالکل قدرتی تھا۔ آپ سایہ میں آکر بیٹھ گئے۔ اور اللہ تعالیٰ سے رزق کے لیے دعا کی، انس بن مالک ؓ کی حدیث مرفوع میں آتا ہے۔ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حاجت صرف بقدر ایک کف دست کے بیان فرمائی تھی، مرشد تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ تفسیر اس پر دلالت کرتی ہے کہ کاملین کی شان اپنی ہر حاجت قلیل وکثیر کا حق تعالیٰ کے سامنے ظاہر کرنا ہے۔ بخلاف مدعیان زہد کے جو حق تعالیٰ کی نعمتوں سے استغناء بلکہ نفرت ظاہر کیا کرتے ہیں۔ (آیت) ” فسقی لھما “۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) نے ان عورتوں کی خاطر ان کے جانوروں کو پانی بھر کر پلا دیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
آیت نمبر 22 تا 28
ترجمہ : اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے یعنی مدین کی طرف رخ کیا، مدین شعیب (علیہ السلام) کی بستی تھی جو مصر سے آٹھ دن کی مسافت پر واقع تھی، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کے نام سے یہ بستی موسوم تھی، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین کے راستہ سے واقف نہیں تھے تو کہنے لگے مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھے راستے کی رہنمائی فرمائے گا، یعنی سیدھے راستہ یعنی مدین کے متوسط راستہ کی رہنمائی کرے گا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ایک فرشتہ کو بھج دیا جس کے ہاتھ میں نیزہ تھا، تو وہ فرشتہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کی…
Read the full tafseer →ولما وردمآ مدین . اور جب مدین کے پانی پر اترے۔ یعنی مدین کے کنویں تک پہنچے جس کا پانی کھینچ کر لوگ اپنے جانوروں کو پلاتے تھے۔
وجد علیہ امۃ من الناس یسقون . تو پانی کے (کنارے) لوگوں کا ایک (بڑا) گروہ دیکھا (اپنے مویشیوں کو) پانی پلا رہا تھا۔
ووجد من دونھم امراتین تذدون . اور ان سے درے (یعنی نشیبی مقام میں) دو عورتیں پائیں جو (اپنے جانوروں کو) روکے ہوئے (کھڑی تھیں۔ یعنی اپنی بکریوں کو الگ روکے کھڑی تھیں تاکہ ان کی بکریاں دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر پانی پر نہ چلی جائیں۔
قال ما خطبکما . موسیٰ نے کہا : تمہارا کیا واقعہ ہے ؟ یعنی کیا وجہ ہے کہ تم اپنے مویشیوں کو پانی سے روک رہی ہو ؟
خَطْبٌ کا معنی…
Read the full tafseer →(24) یہ سن کر حضرت موسیٰ ؑ نے ان کی بکریوں کو پانی پلا دیا انہوں نے جا کر اپنے والد سے حضرت موسیٰ ؑ کا واقعہ بیان کیا پھر حضرت موسیٰ ؑ وہاں سے ہٹ کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے یا یہ کہ دیوار کے سایہ میں بیٹھ گئے اور عرض کرنے لگے کہ اے میرین رب اس وقت جو کھانے کی چیز بھی آپ مجھے بھیج دیں میں اس کا محتاج ہوں۔
Read the full tafseer →فَسَقٰى لَهُمَا : پیغمبروں میں فطری طور پر ہمدردی کا بےپناہ جذبہ ہوتا ہے، جیسا کہ اُمّ المومنین خدیجہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا : (کَلَّا، وَاللّٰہِ ! مَا یُخْزِیْکَ اللّٰہُ أَبَدًا، إِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ ، وَ تَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَ تَقْرِی الضَّیْفَ وَ تُعِیْنُ عَلٰی نَوَاءِبِ الْحَقِّ) [ بخاري، بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي۔۔ : 3 ] ”ہرگز (ایسا) نہیں (ہو گا) ، اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور بےکسوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور بےروز گار کے لیے کام ڈھونڈھتے ہیں اور مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
اس میں تئیس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ ولما ورمآء مدین حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چلتے رہے یہاں تک کہ مدین کے چشمہ پر پہنچے۔ وردمآء سے مراد ہے اس تک پہنچ گئے اس کا یہ مطلب نہیں اس میں داخل ہوگئے ورود کا لفظ بعض اوقات مورد میں داخل ہونے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، بعض اوقات اطلاع پانے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور کبھی پہنچنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اگرچہ اس میں داخل نہ ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے چشمہ پروارد ہونے سے مردا تک پہنچنا ہے۔ اس معنی میں زہیر کا قول ہے :
فلما وردن الماء زرقا جمامہ وضعن عصی الحاضر المتخیم
جب وہ اس چشمہ پروارد ہوئیں جس کا لبالب پانی آسمان کے رنگ جیسا نظر آ رہا تھا۔
یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
1۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھوکے ہونے کی حالت میں ڈرتے ہوئے نکلے ان کے پاس کانے پینے کی کوئی چیز نہ تھی یہاں تک کہ مدین کے چشمہ پر پہنچے اور اس پر لوگوں کی ایک جماعت جانوروں کو پانی پلا رہی تھی۔ اور دو عورتیں اپنی بکریوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں موسیٰ نے ان سے پوچھا کیا مسئلہ ہے آیت قالتا لا نسقی حتی یصدر الرعاء وابونا شیخ کبیر، دونوں عورتوں نے کہا ہم اپنے جانوروں کو اس وقت تک پانی نہیں بلاتیں جب تک چرواہے پانی پلا کر نکال کر نہ لے جائیں اور ہمارے والد بڑے بوڑھے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا کیا تمہارے قریب بھی پانی ہے انہوں نے کہا…
Read the full tafseer →فَسَقٰى [ تو انہوں (علیہ السلام) نے پانی پلایا ] لَهُمَا [ ان دونوں کے لئے ] ثُمَّ تَوَلّيٰٓ [ پھر وہ پھرگئے ] اِلَى الظِّلِّ [ سائے کی طرف ] فَقَالَ [ تو انھوں نے کہا ] رَبِّ [ اے میرے رب ] اِنِّىْ [ بیشک میں ] لِمَآ [ اس کے لئے جو ] اَنْزَلْتَ [ تو اترے ] اِلَيَّ [ میری طرف ] مِنْ خَيْرٍ [ کوئی بھی بھلائی ] فَقِيْرٌ [ محتاج ہوں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
فائدہ رابعہ : شیخ مدین کی ایک لڑکی نے جو کہا کہ اے ابا جان اس شخص کو اپنے یہاں اجرت پر رکھ لیجیے اور ساتھ یوں بھی کہا (اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ ) (کہ جسے آپ مزدوری پر رکھیں ان میں بہتر آدمی وہ ہے جو قوی بھی ہو امین بھی ہو) اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تعریف تو ہے ہی کہ یہ شخص قوت والا ہے اور امانتدار ہے ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ اپنے کام کے لیے ایسے شخص کو مزدور رکھا جائے جو اس کام کو کرسکتا ہو جس کے لیے ملازم رکھا جا رہا ہے اور ہر عمل کی قوت علیحدہ ہوتی ہے کسی کو پڑھانے کی قوت و صلاحیت ہوتی ہے۔ جس کسی کو محاسب رکھا جائے وہ حساب دان ہونا چاہیے۔ جس کسی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین کی جانب سفر
قال اللہ تعالیٰ ولما توجہ تلقاء مدین۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علی ما نقول وکیل۔
(ربط) گزشتہ آیت میں اس بات کا ذکر تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک خیر خواہ نے یہ مشورہ دیا کہ آپ فورا مصر سے نکل جائیے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی۔ رب نجنی من القوم الظالمین۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول کی اور ظالموں سے نجات کا ایک ذریعہ بنایا چناچہ وہ مصر سے نکل کھڑے ہوئے راہ سے واقف نہ تھے توکلا علی اللہ ایک سمت پر چل پڑے اور جب بالقاء غیبی شہر مدین کی طرف متوجہ ہوئے اور قضاء وقدر نے وجہ (منہ) کو مدین کی طرف کردیا اور ” مدین “ ایک شہر کا نام ہے جو…
Read the full tafseer →24:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے حال پر رحم آگیا آپ آگے بڑھے اور لوگوں کو ایک طرف ہٹا کر اکیلے ہی ڈول بھر کر نکالا اور ان کے مویشیوں کو پانی پلا کر انہیں روانہ کیا اور خود قریب ہی کسی درخت یا دیوار کے سائے میں جا بیٹھے۔ کہتے ہیں ڈول اس قدر وزنی تھا کہ کئی آدمی مل کر نکال سکتے تھے۔ روی انہ نحی القوم عن راس البئر و سالھم دلوا فاعطوہ دلوھم وقالوا استق بھا وکانت لاینزعھا الا اربعون فاستقی بھا و صبھا فی الحوض الخ (مدارک ج 3 ص 177) ۔ سائے میں بیٹھ کر اپنے مولی سے بھوک کی شکایت کی کہ میرے مولی ! اس وقت جو بھی تو مجھے تھوڑا بہت کہیں سے بھجوا دے میں اس کا محتاج ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
ربط آیات
جب موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک قبطی آدمی قتل ہوگیا اور قتل کا الزام بھی آپ پر لگا تو فرعون کے درباریوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس شخص کو سزائے موت دینی چاہئے۔ چناچہ آپ کی گرفتاری کا حکم دے دیا گیا ۔ اسی اثناء میں موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک خیر خواہ نے آپ کو اطلاع دے دی کہ فرعون نے آپ کی گرفتاری اور قتل کا حکم دے دیا ہے لہٰذا آپ بلا تاخیر یہاں سے نکل جائیں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) فوراً وہاں سے چل دیے ، آپ کو پریشانی بھی لا حق تھی کہ پتہ نہیں اب کیا صورت حال پیش آئے گی اور ضمن میں آپ پیچھے مڑ مڑ کر بھی دیکھتے تھے۔ اندریں حالات آپ نے یہ دعا بھی کی ، پروردگار ! تجنی من القوم الظلمین…
Read the full tafseer →فَسَقٰى لَہُمَا ثُمَّ تَوَلّٰٓي اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّىْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٌ 24
ولي
وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه .
فمن الأوّل قوله :
وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] .
ومن الثاني قوله :
فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ،
( و ل ی ) الولاء والتوالی
اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ترکیب : علی استحیاء حال ماسقیت، مصدریۃ ان تاجرنی فی موضع الحال و ثمانی ظرف۔ فمن عندک یجوزان یکون خبر مبتداء محذوف اے فالا تمام الرعاء اجمع راع تذودان تمنعان اغنامھما عن الماء۔ الزیاد منع۔
تفسیر : یہ ہے کہ ہرچند اسرائیلی مجرم نہ تھا زیادتی مصری کی تھی مگر مشہور ہے ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی، بہرحال بازاروں میں لڑنا لپا ڈ کی ہونا صالحین کی سیرت نہیں ان کو جو کوئی برا بھلا بھی کہتا ہے تو صبر ہی کرجاتے ہیں، آمادئہ جنگ نہیں ہوتے، اس لیے اس اسرائیلی کو اگلے روز آپ نے انک لغوی مبین کہا، اس لحاظ سے حضرت ( علیہ السلام) نے اس کو بھی مجرم ہی قرار دیا اور قصد کیا کہ آیندہ سے ایسے جھگڑوں میں نہ پڑوں گا،…
Read the full tafseer →فَسَقٰی لَھُمَا ثُمَّ تَوَلّٰیٓ اِلَی الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍفَـقِیْرٌ۔
(القصص : 24)
(پس (یہ سن کر) موسیٰ نے ان دونوں کی خاطر جانوروں کو پانی پلا یا، پھر سائے کی طرف ہٹ گئے اور دعا کی اے میرے رب ! جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کردے، میں اس کا محتاج ہوں۔ )
ایک واقعہ کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اثر
ان شریف زادیوں کی یہ بات سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جذبہ حمایتِ ضعیف میں تحریک پیدا ہوئی۔ وہ اٹھے اور تنہا کنویں سے پوری قوت سے ڈول کھینچ کر جانوروں کو پانی پلایا اور پھر پہلے جس درخت کے سائے میں بیٹھے تھے، وہیں جا کر بیٹھ گئے۔ نہ ان شریف زادیوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
گئے، پوچھا کہ آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں ؟ انھوں نے حیا دار لہجے میں کہا کہ ہمارے باپ بوڑھے ہیں ہم اکیلی ہیں اور اس وقت تک اپنی بکریوں کو پانی نہیں پلا سکتیں جب تک یہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا کر فارغ نہیں ہوپاتے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کنویں کی طرف بڑھے اور لوگوں کو پیچھے ہٹا کر لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلایا خود پیچھے ہٹ کر ایک درخت کے سائے میں بیٹھ کر دعا کرنے لگے۔ میرے رب ! میں ایک پردیسی اور بھوکا آدمی ہوں تو جو بھی مجھ پر خیر نازل کرے گا میں اس کا محتاج اور طلب گار ہوں۔ یعنی میرے پاس کچھ بھی نہیں اس لیے ہر چیز کا محتاج ہوں۔
دوسروں کی خدمت کرنے والوں کا اجر :
عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ…
Read the full tafseer →24: فَسَقٰی لَہُمَا (پس آپ نے ان کو پلا دیا) ۔ ان کی بکریوں کو ان کی خاطر نیکی میں رغبت کرتے ہوئے اور مظلوم کی مدد کرتے ہوئے پانی پلادیا۔
روایت میں ہے :
آپ نے لوگوں کو کنوئیں سے ہٹایا۔ اور ان سے ڈول لیا۔ انہوں نے ڈول دے دیا۔ اور کہنے لگے اس سے پانی پلائو۔ اس ڈول کو چالیس آدمی کھینچتے تھے۔ آپ نے اس ڈول سے پانی نکالا۔ اور اس کو حوض میں ڈال کر برکت کی دعا فرمائی۔
ترک ِمفعول :
یسقون اور تذودان اور لا نسقی اور فسقٰی میں مفعول کو ترک کردیا گیا۔ کیونکہ اصل مقصد فعل ہے۔ مفعول نہیں۔ ذرا غور تو کریں۔ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو ان پر رحم آیا۔ کیونکہ وہ بکریوں کو روکے کھڑی تھیں۔ اور لوگ پلا رہے تھے اور ان…
Read the full tafseer →24۔ فسقی لھما، ثم توالی الی الظل، ، پھر حضرت موسیٰ شدت گرمی کی وجہ سے درخت کے سایہ کے نیچے میں جاکربیٹھ گئے۔ فقال رب انی لماانزلت الی خیر، ، خیر سے مراد کھانا ہے۔ فقیر، اہل لغت میں لام بمعنی الی کے ہے ، جیسے کہاجاتا ہے، ھوفقیر لہ و فقیر الیہ۔ یعنی آپ میرے لیے خیرنازل فرمائیں جس کا میں سخت حاجت مند ہوں یعنی فقیر محتاج ہوں۔ حضرت موسیٰ سخت بھوک کی وجہ سے کھانا طلب کیا کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے ایک لقمہ طلب کیا جس سے اپنی کمر سیدھی کرسکیں۔
امام باقر علیہ الرحمہ، نے فرمایا موسیٰ اس وقت چھوہارے کے ایک ٹکڑے کے محتاج تھے۔ سعید بن جبیر نیابن عباس ؓ عنہماکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–26
14 تا 26۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھر پرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم اور سمجھ دونوں عنایت کئے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے نکل کر مدین میں پہنچنے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے ہوئے دیکھا جن میں ایک ان کے گروہ میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے حین غفلۃ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ دوپہر کا وقت تھا اسرائیل نے فریاد کی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
نبی سے کوئی جرم سرزد ہو تو خدا سے معافی مانگتا ہے
قول باری ہے : (فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ۔ موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا) نیز قول باری ہے (وقتلت نفسا۔ تونے ایک آدمی کو قتل کردیا تھا) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتادیا کہ انہوں نے گھونسا مار کر اس شخص کو قتل کردیا تھا پھر اپنے اس فعل پر جن الفاظ میں ندامت کا اظہار کیا تھا اس کا ذکر قرآن میں اس طرح ہوا ہے : (رب انی ظلمت نفسی۔ اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے نفس پر ظلم کرلیا) ۔
بعض حضرات کا قول ہے کہ تھپڑ مار کر کسی کی جان لے لینا قتل عمد ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) علی الاطلاق یہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
33 حضرت موسیٰ کیلئے حضرت شعیب کے یہاں سے بلاوا : سو اتنے میں آپ کو حضرت شعیب کی طرف سے بلاوا آگیا جس کو آپ نے فورا قبول کرلیا۔ اس لئے کہ ایک بزرگ ہستی کی طرف سے دعوت موصول ہوئی تھی جس کا قبول کرنا سنت ہے۔ مشہور قول کے مطابق ان بزرگوں سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) ہیں۔ مگر بعض اہل علم کے نزدیک یہ بات بہت بعید ہے۔ کیونکہ حضرت شعیب کا زمانہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت پہلے تھا۔ اس لئے انہوں نے کچھ اور نام لئے ہیں۔ بہرکیف قول مشہور حضرات اہل علم کے نزدیک یہی ہے کہ اس سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس لڑکی کے بلانے پر اس کے والد سے ملنے چلے گئے۔ روایات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–46
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
آیات 22 تا 28
اسرارومعارف
اور جب آپ مصر سے چلے تو آپ کا رخ مدین کی طرف تھا اور دعا کی کہ مجھے رب کریم سے امید ہے کہ درست سمت کی رہنمائی فرمائیں گے اور میں کسی بہتر ٹھکانے پر پہنچ سکوں گا آخر چلتے چلتے آپ مدین کے کنویں پر پہنچ گئے آپ کسی سے واقف نہ تھے دیکھا بہت سے لوگ جمع ہیں اور اپنے مواشی اور ریوڑوں کو پانی پلا رہے ہیں مگر دو نوجوان لڑکیاں الگ سے اپنی بکریاں روکے کھڑی ہیں آپ کو تعجب ہوا تو پوچھ لیا کہ آپ اس طرح ریوڑ کو روک کر کیوں کھڑی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ہم مردوں میں مل کر تو کام نہیں کرسکتیں لہذا انتظار کرتی ہیں جب یہ لوگ اپنے مواشی کو پانی پلا کر چلے جاتے ہیں تو ہم اپنے ریوڑ کو…
Read the full tafseer →6 ۔ غالباً مراد یہ ہے کہ سخت بھوکا ہوں کچھ کھانے کو دلا۔ بےآسرا۔ اور بےوطن ہوں کوئی ٹھکانہ دے۔ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) جب مصر سے بھاگے تو ان کے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ تھی۔ سبزیاں اور درختوں کے پتے کھا کر راستہ طے کرتے رہے۔ جب مدین پہنچے اور بکریوں کو پانی پلا کر سایہ میں بیٹھے تو بھوک کے مارے ان کا پیٹ پیٹھ سے لگ رہا تھا۔ اس حال میں انہوں نے یہ دعا کی۔ حضرت حسن بصری سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے علم و حکمت کیلئے دعا کی تھی اور ” خیر “ سے یہا یہی مراد ہے۔ (ملخص از ابن کثیر)
Read the full tafseer →(28:24) فسقی لہما ای فسقی غنمھما لاجلہما اس نے ان دونوں کی طرف سے ان کے ریوڑ کو پانی پلایا۔
تولی۔ وہ پھر آیا۔ وہ واپس مڑا۔ اس نے منہ موڑا۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ تولی باب تفعل سے۔ ولی مادہ۔
رب یا ربی۔ اے میرے پروردگار۔
فقیر۔ محتاج ۔ رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر : ای رب انی فقیر لما انزلت الی من خیر۔
فقیر۔ ان کی خبر ہے ما موصوف نکرہ اور اس کے بعد کا جملہ انزلت الی من خیر صفت دونوں مل کر متعلق خبر۔
اس آیت کے کئی معنی ہوسکتے ہیں :۔
(1) لما۔ بمعنی لای شیئ۔ یعنی میں تیری ہر اس نعمت کا جو تو مجھے عطا کرے محتاج ہوں (جمہور)
(2) لما میں لام تعلیل کا بھی ہوسکتا ہے اس اعتبار سے معنی ہوں گے۔ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
لغات القرآن : آیت نمبر 22 تا 25 :
توجہ ( متوجہ ہوا۔ اس نے رخ کیا) ‘ تلقاء (طرف۔ سمت) ‘ یسقون ( وہ پانی پلاتے ہیں) ‘ تذودان ( روکے ہوئے) ‘ ماخطبکما ( تم دونوں کا کیا معاملہ ہے) ‘ لانسقی (ہم نہیں پلاتیں) یصدر (واپس لے جاتا ہے۔ لے جاتے ہیں) ‘ الرعائ (راع) چرواہے) ‘ الظل (سایہ) ‘ تمشی (وہ چلتی ہے)
تشریح : آیت نمبر 22 تا 25 :
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کی ظالمانہ کاروائیوں سے بچنے کے لئے ایک انجانی سی منزل کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔ ہر مشکل کے وقت تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اور صالحین کا ایک ہی طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنے اللہ سے دعاکرکے مدد مانگتے ہیں چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بار گاہ رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سفر۔
(ف 1) جب فرعونی ظالم پر حضرت موسیٰ نے ہاتھ ڈالنا چاہا تو اسرائیلی نے جانا کہ مجھے مارنا چاہتے ہو کیونکہ مجھ ہی پر خفا ہوئے ہیں اور اپنے بچانے کے واسطے کہنے لگا کہ حضرت موسیٰ تم چاہتے ہو کہ جس طرح تم نے کل ایک آدمی کو مارڈالا اسی طرح مجھ کو بھی آج مارڈالو گے، اس سے پیشتر پہلے روز کا معاملہ سوائے موسیٰ اور اس اسرائیلی کے کوئی اور نہیں جانتا تھا فرعونی یہ سب سنا تو اس نے دوڑ کر فرعون سے جاکرکہا کہ کل کے روز جو تمہارا آدمی مارا گیا ہے اس کو حضرت موسیٰ نے قتل کیا ہے فرعون بہت غصہ ہوا اور موسیٰ کے مارنے کا ارادہ کیا کئی پیادے مقرر کیے کہ حضرت موسیٰ کو تلاش کرکے لاؤ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
[13] لڑکیاں خلاف معمول سویرے گھر واپس آگئیں تو ان کے باپ نے جلد آنے کا سبب دریافت کیا۔ لڑکیوں نے اصل ماجرا سنا دیا۔ باپ کی شرافت کب اسے گوارا کرسکتی تھی کہ ایسے محسن کو یوں ہی چلا جانے دیا جائے۔ لڑکی کو بھیج کر اپنے گھر بلوایا کہ کچھ تو حق میزبانی ادا کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آجر ۔ مزدوری ہوسکتا ہے بنت شعیب نے انہیں غریب اور مزدور سمجھ کر باپ سے سفارش کی ہو ۔ کہ انہیں کچھ دیدیا جائے ۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) جو ان کے ساتھ چلے گئے تو اس لئے کہ شائد اس کے ساتھ جانے میں موافق اور مساعد حالات پیدا ہوجائیں
Read the full tafseer →24۔ یہ سن کر موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لڑکیوں کے جانوروں کو پانی پلا دیا پھر وہاں سے ہٹ کر سایے میں جا بیٹھا اور دعا کی اے میرے پروردگار جو نعمت بھی اور بھلائی تو مجھ کو بھیج دے میں اس کا محتاج اور حاجت مندہوں ۔ ینی متواتر سفر رہا کچھ کھانے کو میسر نہیں آیا بےسروسامانی کی حالت میں نکلے تھے پیٹ پیٹھ سے مل گیا ۔ پتے وغیرہ جو راستے میں کھاتے تھے پیٹ میں ان کی سبزی جھلکتی تھی ۔ بہر حال دعا قبول ہوئی اور اس کے اسباب پیدا ہونے شروع ہوئے لڑکیاں جب گھر پہنچیں تو باپ نے جلدی آجانے کی وجہ دریافت کی لڑکیوں نے تمام حال اس مسافر کا سنایا اور پانی پلانے اور چرس کھینچنے کا حال سنایا باپ نے اسی وقت ایک لڑکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
ف 1۔ یہ بزرگ شعیب (علیہ السلام) تھے۔
2۔ موسیٰ (علیہ السلام) ساتھ ہولئے، گو مقصود موسیٰ (علیہ السلام) کا بالیقین حصول عوض نہ تھا، لیکن مقام امن اور کسی رفیق شفیق کے ضرور باقضائے وقت جویاں تھے، اور اگر بھوک کی شدت بھی اس جانے کا ایک جزو علت ہو تو مضائقہ نہیں، اور اس کو اجرت سے کچھ تعلق نہیں، اور ضیافت کی تو استدعا بھی خصوص حاجت کے وقت اور خصوص کریم سے کچھ ذلت نہیں، چہ جائیکہ دوسرے کی استدعا پر ضیافت کا قبول کرلینا۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) نے آگے بڑھ کر ان لڑکیوں کے ریوڑ کو پانی پلا دیا :
24۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان دونوں لڑکیوں کی بات سنی تو آپ کا خون کھول گیا اور جوش آیا ‘ آگے بڑھ کر تمام بھیڑ کو چیرتے ہوئے کنویں پر جا پہنچے اور کنوئیں کا بڑا ڈول اٹھایا اور تنہا کھینچ کر لڑکیوں کے ریوڑ کو پانی پلا دیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب بھیڑ کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے تو بلاشبہ لوگوں کو ناگوار گزرا مگر آپ کی پر جلالی صورت اور جسمانی طاقت قوت سے مرعوب ہوگئے اور ڈول کو تنہا کھینچتے دیکھ کر آپ کی قوت و طاقت کے سامنے ہار مان گئے اور کچھ نہ بول سکے اور نہ ہی کچھ کہہ سکے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مظالم کی داستانیں…
Read the full tafseer →وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُونَ
فَسَقَىٰ لَهُمَا (So he (Musa) watered (their animal) for their sake - 28:24). That is Sayyidna Musa (علیہ السلام) took pity on the girls and drew out 'water from the well and satiated their goats. It is reported in some narrations that the shepherds after making their cattle drink water used to place a very heavy stone on the mouth of the well to make it unusable, and hence these girls would have only the left over water for their herd. The stone was so heavy that ten men together could move it, but Sayyidna…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
35 Hadrat `Umar has explained this sentence, thus: "She came walking modestly, with her face covered with a part of her outer garment, unlike those immodest women, who go about wherever they like, and enter wherever they like without any hesitation." Several traditions bearing on this subject have been reported by Said bin Mansur, Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim-and Ibn al-Mundhir from Hadrat 'Umar through authentic chains of athorities. This shows that the Islamic concept of modesty which the Companions of the Holy Prophet had understood from the Qur'an and the teaching and training of the Holy…
Read the full tafseer →