Explained with ayahs 21–24
موسیٰ ؑ کافرار
فرعون اور فرعونیوں کے ارادے جب اس شخص کی زبانی آپ کو معلوم ہوگئے تو آپ وہاں سے تن تنہاچپ چاپ نکل کھڑے ہوئے۔ چونکہ اس سے پہلے کی زندگی کے ایام آپ کے شہزادوں کی طرح گزرے تھے سفر بہت کڑا معلوم ہوا لیکن خوف وہراس کے ساتھ ادھر ادھر دیکھتے سیدھے چلے جارہے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے جارہے تھے کہ اے اللہ ! ان ظالموں سے یعنی فرعون اور فرعونیوں سے نجات دے۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی رہبری کے واسطے ایک فرشتہ بھیجا تھا جو گھوڑے پر آپ کے پاس آیا اور آپ کو راستہ دکھا گیا واللہ اعلم۔ تھوڑی دیر میں آپ جنگلوں اور بیابانوں سے نکل کر مدین کے راستے پر پہنچ گئے تو خوش ہوئے اور فرمانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
سورة القصص 33
یہ مقام جہاں حضرت موسیٰ پہنچے تھے، عربی روایات کے مطابق خلیج عقبہ کے غربی ساحل پر مقنا سے چند میل بجانب شمال واقع تھا۔ آج کل اسے البدع کہتے ہیں اور وہاں ایک چھوٹا سا قصبہ آباد ہے، میں نے دسمبر 1959 میں تبوک سے عقبہ جاتے ہوئے اس جگہ کو دیکھا ہے، مقامی باشندوں نے مجھے بتایا کہ ہم باپ دادا سے یہی سنتے چلے آئے ہیں کہ مدین اسی جگہ واقع تھا۔ یوسیفوس سے لیکر برٹن تک قدیم و جدید سیاحوں اور جغرافیہ نویسوں نے بھی بالعموم مدین کی جائے وقوع یہی بتائی ہے۔ اس کے قریب تھوڑے فاصلے پر وہ جگہ ہے جسے اب مغائر شعیب یا مغارات شعیب کہا جاتا ہے، اسی جگہ ثمودی طرز کی کچھ عمارات موجود ہیں، اور اس سے…
Read the full tafseer →وَلَمَّا وَرَدَ مَاۗءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُوْنَ ، مآء مدین سے مراد وہ کنواں ہے جس سے اس بستی کے لوگ اپنے مواشی کو پانی پلاتے تھے وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَيْنِ تَذُوْدٰنِ ، یعنی دو عروتوں کو دیکھا کہ وہ اپنی بکریوں کو پانی کی طرف جانے سے روک رہی تھیں تاکہ ان کی بکریاں دوسرے لوگوں کی بکریوں میں رل نہ جائیں۔
قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۭ قَالَتَا لَا نَسْقِيْ حَتّٰى يُصْدِرَ الرِّعَاۗءُ وَاَبُوْنَا شَيْخٌ كَبِيْرٌ، لفظ خطب شان اور حال کے معنے میں جبکہ وہ کوئی مہم کام ہو۔ معنے یہ ہیں کہ موسیٰ ؑ نے ان دونوں عورتوں سے پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے کہ تم اپنی بکریوں…
Read the full tafseer →مآء سے مراد
مآء سے مراد چشمہ بھی ہوسکتا ہے اور کنواں بھی۔ تو رات میں کنوئیں ہی کا ذکر آیا ہے ویسے پہاڑی چشمے بھی کنوئوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوتے۔ بالعموم ان تک پہنچنے کے راستے نہایت تنگ ہوتے ہیں اس وجہ سے ان پر پانی پینا اور پلانا کوئی سہل کام نہیں ہوتا بالخصوص جب کہ پانی پینے پلانے والوں کی بھیڑ بھی ہو۔
ایک واقعہ کا حضرت موسیٰ پر اثر
حضرت موسیٰ ؑ مدین پہنچے تو اس کے کنوئیں یا چشمے پر بیٹھ گئے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ چرواہوں کی ایک بھیڑ اپنے اپنے گلوں کو پانی پلا رہی ہے اور دو عورتیں اپنیگ لے کو روکے ہوئے ان سے پرے کھڑی ہیں۔ لفظ تذرون سے یہ بات نکلتی ہے کہ ان کا گلہ تو گھاٹ پر پہنچ کر…
Read the full tafseer →23-1یعنی جب مدین پہنچے تو اس کے کنویں پر دیکھا کہ لوگوں کا ہجوم ہے جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہا ہے۔ مدین یہ قبیلے کا نام تھا اور حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد سے تھا، جب کہ حضرت موسیٰ ؑ حضرت یعقوب ؑ کی نسل سے تھے جو حضرت ابراہیم ؑ کے پوتے (حضرت اسحاق ؑ کے بیٹے تھے۔ یوں اہل مدین اور موسیٰ کے درمیان نسبی تعلق بھی تھا (ایسرالتفاسیر) اور یہی حضرت شعیب ؑ کا مسکن مبعث بھی تھا۔
23-2دو عورتوں کو اپنے جانور روکے، کھڑے دیکھ کر حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں رحم آیا اور ان سے پوچھا، کیا بات ہے تم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلاتیں ؟۔ رعاء راع (چرواہا) کی جمع ہے۔
23-3تاکہ مردوں سے ہمارا اختلاط نہ ہو۔
23-4والد صاحب…
Read the full tafseer →12: مطلب یہ تھا کہ ہمارے والد بوڑھے ہونے کی وجہ سے جانوروں کو پانی پلانے کے لئے نہیں آسکتے اور ہم چونکہ عورت ذات ہیں اس لئے مردوں میں گھس کر پانی نہیں پلاسکتیں، اس لئے انتظار میں ہیں کہ مرد چلے جائیں اور کنواں خالی ہوجائے تو ہم اپنے جانوروں کو لے جاکر پانی پلائیں، واضح رہے کہ ان عورتوں کے والد حضرت شعیب ؑ تھے جنہیں مدین کے لوگوں کی اصلاح کے لئے پیغمبر بناکر بھیجا گیا تھا، اور جن کا واقعہ سورة اعراف، سورة ہود وغیرہ میں تفصیل سے آچکا ہے۔
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت خواتین کا کسی کام کے لئے باہر نکلنا جائز ہے، البتہ اگر مرد کام انجام دے سکتے ہوں تو مردوں ہی کو انجام دینا چاہیے، اسی لئے…
Read the full tafseer →ولما ورد مآء مدین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الی من خیر فقیر (23-24)
یہ طویل صحرائی سفر ختم ہوا اور حضرت موسیٰ مدین کے ایک چشمے پر پہنچے۔ آپ تھکے ماندے مسافر ہیں۔ اس چشمے پر وہ ایک ایسا منظر دیکھتے ہیں جسے کوئی شریف اور بامروت آدمی برداشت نہیں کرسکتا اور پھر حضرت موسیٰ کیسے برداشت کرتے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ مرد چرواہے اپنے مویشیوں کو لا لا کر پانی پلا رہے ہیں اور دو عورتیں ہیں جو اپنی بکریوں کو پانی سے دور روک رہی ہیں۔ حالانکہ فطرت سلیمہ اور مروت کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے عورتوں کو موقعہ دیا جائے کہ وہ اپنی بھیڑوں کو پانی پلائیں اور چلی جائیں اور مرد ان کو موقع دیں اور ان کے ساتھ تعاون کریں۔ ” Ladies First…
Read the full tafseer →5 " مدین "، " مصر " سے آٹھ دس دن کی راہ ہے۔ وہاں پہنچے بھوکے پیاسے، دیکھا کنوئیں پر لوگ اپنے مواشی کو پانی پلا رہے ہیں۔
6 وہ دونوں بکریاں لے کر حیا سے کنارے کھڑی تھیں۔ اتنی قوت نہ تھی کہ مجمع کو ہٹا دیں یا بذات خود بھاری ڈول نکال لیں۔ شاید اوروں سے بچا ہوا پانی پلاتی ہوں۔
7 یعنی ہمارا باپ جوان اور توانا ہوتا تو ہم کو آنا نہ پڑتا۔ وہ خود ان مردوں سے نبٹ لیا کرتا۔
Read the full tafseer →آیت 23 وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ ”
یہ کٹھن اور طویل سفر طے کرنے میں کتنا عرصہ لگا ہوگا اور اس دوران آپ علیہ السلام کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہوگا ‘ اس سب کچھ کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے اور اب بات وہاں سے شروع ہو رہی ہے جب آپ علیہ السلام مدین کے کنویں پر پہنچ گئے :
وَجَدَ عَلَیْہِ اُمَّۃً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَز ”
آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ کنویں پر لوگوں کا ہجوم تھا اور وہ کنویں سے پانی نکال نکال کر اپنے جانوروں کو پلا رہے تھے۔
وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ ج ”
ان عورتوں کی بکریاں پیاس کی وجہ سے پانی کی طرف جانے کے لیے بےتاب تھیں لیکن وہ ہجوم چھٹ جانے کے انتظار…
Read the full tafseer →32 آٹھ دن کی مسافت طے کرنے کے بعد آپ مدین کے کنوئیں پر پہنچ گئے۔ وہاں دیکھا کہ جانوروں کو پانی پلانے کے لئے کافی لوگ وہاں جمع ہیں۔ ایک بھاری سے ڈول سے دو مضبوط طاقتور آدمی۔۔ پانی نکالتے ہیں اور اپنے جانوروں کو پانی پلانے کے بعد وہ چلے جاتے تو دوسرے آدمی آکر کنوئیں سے پانی نکالنے لگتے ہیں اور ایک بھیڑ سی لگی ہوئی ہے اور ایک دو لڑکیاں کھڑی ہیں جو اپنی بکریوں کو روک رہی ہیں۔ حضرت موسیٰ ان کے پاس گئے اور پوچھا تم اس حال میں کیوں کھڑی ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم اس انتظار میں ہیں کہ یہ چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے جائیں تو بعد میں ہم پلا لیں گے۔ ہم ہی ان بکریوں کو چرانے کے لئے لے جاتی ہیں۔…
Read the full tafseer →32۔ (وہ مردوں کے مجمع میں گھسی نہیں پڑتیں) (آیت) ” مآء مدین “۔ سے مراد شہر مدین کا کنواں ہے۔ قدیم تہذیب و تمدن میں کنوؤں کو بڑی اہمیت اور مرکزیت حاصل تھی، جس کا کچھ نمونہ آج بھی دیہات میں نظر آجاتا ہے۔ یہ دونوں نوجوان لڑکیاں شہر کے رئیس وچودھری اور اللہ کے پیغمبر حضرت شعیب (علیہ السلام) کی تھیں۔ توریت میں ان کا نام رعدایل آیا ہے۔ اور اس موقع پر توریت کا بیان حسب ذیل ہے۔ ” موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے حضور سے بھاگا۔ اور مدیان کی زمین میں گیا اور ایک کنوئیں کے نزدیک بیٹھا اور مدیان کے کاہن کی سات بیٹیاں تھیں وہ آئیں اور پانی نکالنے لگیں اور کٹھروں کو بھرا تاکہ اپنے باپ کے گلے کو پانی پلاویں “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
آیت نمبر 22 تا 28
ترجمہ : اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے یعنی مدین کی طرف رخ کیا، مدین شعیب (علیہ السلام) کی بستی تھی جو مصر سے آٹھ دن کی مسافت پر واقع تھی، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کے نام سے یہ بستی موسوم تھی، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین کے راستہ سے واقف نہیں تھے تو کہنے لگے مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھے راستے کی رہنمائی فرمائے گا، یعنی سیدھے راستہ یعنی مدین کے متوسط راستہ کی رہنمائی کرے گا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ایک فرشتہ کو بھج دیا جس کے ہاتھ میں نیزہ تھا، تو وہ فرشتہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کی…
Read the full tafseer →ولما توجہ تلقآ مدین قال عسٰی ربی ان یھدینی سو آ السبیل . اور جب موسیٰ مدین کی طرف
ہو لئے ‘ کہنے لگے : امید ہے کہ میرا رب مجھے (کسی مقام کے) سیدھے راستہ پر چلا دے گا۔
زجاج نے کہا : یعنی اس راستہ پر چل پڑے جو مدین پر پہنچتا تھا۔ مدین ایک بستی کا نام تھا جو حضرت ابراہیم کے صاحبزادے مدین کے نام پر آباد کی گئی تھی۔ موسیٰ پیدل نکلے تھے ‘ نہ سواری تھی ‘ نہ کھانے پینے کا سامان ساتھ تھا۔ مدین مصر سے آٹھ منزل کے فاصلہ پر تھا اور فرعون کی حکومت سے خارج تھا۔
قَال یعنی موسیٰ نے اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے کہا۔ موسیٰ کو اپنے رب پر پورا یقین تھا۔
اَنْ یَّھْدِ یَنِیْ سَوآء السَّبِیْلِ یعنی امید ہے کہ اللہ مجھے…
Read the full tafseer →(23) چناچہ جب مدین کے کنوئیں پر پہنچے تو اس پر تقریبا چالیس آدمیوں کا مجمع تھا جو اس کنویں سے پانی کھینچ کر اپنی بکریوں کو پلا رہے تھے۔
اور ان لوگوں سے ایک طرف الگ ہو کر دو عورتیں دیکھیں جو اپنی کمزوری کی وجہ سے پانی سے اپنی بکریاں روکے ہوئے کھڑی تھیں اور لوگوں کے فارغ ہوجانے کی منتظر تھیں۔
حضرت موسیٰ ؑ نے ان سے فرمایا تمہارا کیا مطلب ہے اپنی بکریوں کو پانی کیوں نہیں پلاتیں وہ بولیں ہم اس وقت تک اپنی بکریوں کو پانی نہیں پلاتیں جب تک کہ یہ چرواہے پلا کر فارغ نہ ہوجائیں پھر اس کے بعد پلاتی ہیں اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں ہمارے علاوہ ان کا اور کوئی مددگار نہیں۔
Read the full tafseer →وَلَمَّا وَرَدَ مَاۗءَ مَدْيَنَ۔۔ : یعنی جب مدین پہنچے تو اس کے کنویں پر دیکھا کہ لوگوں کا ایک ہجوم ہے، جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہا ہے۔ مدین ایک قبیلے کا نام بھی ہے، جو مدین بن ابراہیم کی اولاد سے تھا۔ اس لحاظ سے موسیٰ ؑ کا ان سے نسبی تعلق بھی تھا، کیونکہ وہ بھی ابراہیم ؑ کے پوتے یعقوب ؑ کی اولاد سے تھے۔ (ابن عاشور)
وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَيْنِ تَذُوْدٰنِ : ”ذَادَ یذُوْدُ ذَوْدًا“ ہٹانا۔ موسیٰ ؑ نے دیکھا کہ دو عورتیں مردوں سے الگ ایک کنارے پر کھڑی ہیں اور اپنی بھیڑ بکریوں کو پانی کی طرف جانے سے ہٹا رہی ہیں، تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ پانی پینے کے لیے لوگوں کی بکریوں میں گھس جائیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
اس میں تئیس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ ولما ورمآء مدین حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چلتے رہے یہاں تک کہ مدین کے چشمہ پر پہنچے۔ وردمآء سے مراد ہے اس تک پہنچ گئے اس کا یہ مطلب نہیں اس میں داخل ہوگئے ورود کا لفظ بعض اوقات مورد میں داخل ہونے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، بعض اوقات اطلاع پانے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور کبھی پہنچنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اگرچہ اس میں داخل نہ ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے چشمہ پروارد ہونے سے مردا تک پہنچنا ہے۔ اس معنی میں زہیر کا قول ہے :
فلما وردن الماء زرقا جمامہ وضعن عصی الحاضر المتخیم
جب وہ اس چشمہ پروارد ہوئیں جس کا لبالب پانی آسمان کے رنگ جیسا نظر آ رہا تھا۔
یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
1۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھوکے ہونے کی حالت میں ڈرتے ہوئے نکلے ان کے پاس کانے پینے کی کوئی چیز نہ تھی یہاں تک کہ مدین کے چشمہ پر پہنچے اور اس پر لوگوں کی ایک جماعت جانوروں کو پانی پلا رہی تھی۔ اور دو عورتیں اپنی بکریوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں موسیٰ نے ان سے پوچھا کیا مسئلہ ہے آیت قالتا لا نسقی حتی یصدر الرعاء وابونا شیخ کبیر، دونوں عورتوں نے کہا ہم اپنے جانوروں کو اس وقت تک پانی نہیں بلاتیں جب تک چرواہے پانی پلا کر نکال کر نہ لے جائیں اور ہمارے والد بڑے بوڑھے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا کیا تمہارے قریب بھی پانی ہے انہوں نے کہا…
Read the full tafseer →وَلَمَّا [ اور جب ] وَرَدَ [ وہ پہنچے ] مَاۗءَ مَدْيَنَ [ مدین کے پانی پر ] وَجَدَ [ تو انہوں (علیہ السلام) نے پایا ] عَلَيْهِ [ اس پر ] اُمَّةً [ ایک جماعت کو ] مِّنَ النَّاسِ [ لوگوں میں سے ] يَسْقُوْنَ ۋ [ جو پانی پلاتی ہے ] وَوَجَدَ [ اور انہوں (علیہ السلام) نے پایا ] مِنْ دُوْنِهِمُ [ ان لوگوں کے علاوہ ] امْرَاَتَيْنِ [ دو عورتوں کو ] تَذُوْدٰنِ ۚ [ روکتے ہوئے (اپنے مویشی کو)] قَالَ [ تو انہوں نے کہا ] مَا خَطْبُكُمَا ۭ [ تم دونوں کا کیا حال (یعنی مسئلہ) ہے ] قَالَتَا [ ان دونوں نے کہا ] لَا نَسْقِيْ [ ہم پانی نہیں پلاتے ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] يُصْدِرَ [ واپس لے جائیں ] الرِّعَاۗءُ ۫ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
فائدہ رابعہ : شیخ مدین کی ایک لڑکی نے جو کہا کہ اے ابا جان اس شخص کو اپنے یہاں اجرت پر رکھ لیجیے اور ساتھ یوں بھی کہا (اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ ) (کہ جسے آپ مزدوری پر رکھیں ان میں بہتر آدمی وہ ہے جو قوی بھی ہو امین بھی ہو) اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تعریف تو ہے ہی کہ یہ شخص قوت والا ہے اور امانتدار ہے ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ اپنے کام کے لیے ایسے شخص کو مزدور رکھا جائے جو اس کام کو کرسکتا ہو جس کے لیے ملازم رکھا جا رہا ہے اور ہر عمل کی قوت علیحدہ ہوتی ہے کسی کو پڑھانے کی قوت و صلاحیت ہوتی ہے۔ جس کسی کو محاسب رکھا جائے وہ حساب دان ہونا چاہیے۔ جس کسی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین کی جانب سفر
قال اللہ تعالیٰ ولما توجہ تلقاء مدین۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علی ما نقول وکیل۔
(ربط) گزشتہ آیت میں اس بات کا ذکر تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک خیر خواہ نے یہ مشورہ دیا کہ آپ فورا مصر سے نکل جائیے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی۔ رب نجنی من القوم الظالمین۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول کی اور ظالموں سے نجات کا ایک ذریعہ بنایا چناچہ وہ مصر سے نکل کھڑے ہوئے راہ سے واقف نہ تھے توکلا علی اللہ ایک سمت پر چل پڑے اور جب بالقاء غیبی شہر مدین کی طرف متوجہ ہوئے اور قضاء وقدر نے وجہ (منہ) کو مدین کی طرف کردیا اور ” مدین “ ایک شہر کا نام ہے جو…
Read the full tafseer →23:۔ خدا خدا کر کے مدین پہنچ گئے۔ ابھی شہر سے باہر ہی تھے کہ ایک کنویں پر لوگوں کا ہجوم دیکھا جو اپنے چوپایوں کو پانی پلا رہے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ دو عورتیں دور پرے اپنا ریوڑ روکے کھڑی ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی حالت عجیب سی معلوم ہوئی، آگے بڑھ کر ان سے پوچھا کیا بات ہے تم اپنا ریوڑ اس طرح دور کیوں روکھے کھڑی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا جب تک یہ لوگ اپنے مویشیوں کو پانی پلا کر فارغ نہ ہوجائیں اس وقت تک ہم اپنی بکریں کو پانی نہیں پلا سکتیں۔ کیونکہ ہم خود کنویں سے پانی نہیں نکال سکتیں اور ہمارا والد بھی بوڑھا ضعیف ہے وہ بھی اس کام سے عاجز ہے، اس لیے جب یہ لوگ اپنے مویشیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
ربط آیات
جب موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک قبطی آدمی قتل ہوگیا اور قتل کا الزام بھی آپ پر لگا تو فرعون کے درباریوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس شخص کو سزائے موت دینی چاہئے۔ چناچہ آپ کی گرفتاری کا حکم دے دیا گیا ۔ اسی اثناء میں موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک خیر خواہ نے آپ کو اطلاع دے دی کہ فرعون نے آپ کی گرفتاری اور قتل کا حکم دے دیا ہے لہٰذا آپ بلا تاخیر یہاں سے نکل جائیں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) فوراً وہاں سے چل دیے ، آپ کو پریشانی بھی لا حق تھی کہ پتہ نہیں اب کیا صورت حال پیش آئے گی اور ضمن میں آپ پیچھے مڑ مڑ کر بھی دیکھتے تھے۔ اندریں حالات آپ نے یہ دعا بھی کی ، پروردگار ! تجنی من القوم الظلمین…
Read the full tafseer →وَلَمَّا وَرَدَ مَاۗءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْہِ اُمَّۃً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُوْنَ 0ۥۡ وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمُ امْرَاَتَيْنِ تَذُوْدٰنِ 0ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا 0ۭ قَالَتَا لَا نَسْقِيْ حَتّٰى يُصْدِرَ الرِّعَاۗءُ 0۫ وَاَبُوْنَا شَيْخٌ كَبِيْرٌ 23
ورد
الوُرُودُ أصله : قصد الماء، ثمّ يستعمل في غيره . يقال : وَرَدْتُ الماءَ أَرِدُ وُرُوداً ، فأنا وَارِدٌ ، والماءُ مَوْرُودٌ ، وقد أَوْرَدْتُ الإبلَ الماءَ. قال تعالی: وَلَمَّا وَرَدَ ماءَ مَدْيَنَ [ القصص/ 23] والوِرْدُ : الماءُ المرشّحُ للوُرُودِ ، والوِرْدُ : خلافُ الصّدر،
( ور د ) الورود
۔ یہ اصلی میں وردت الماء ( ض ) کا مصدر ہے جس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ترکیب : علی استحیاء حال ماسقیت، مصدریۃ ان تاجرنی فی موضع الحال و ثمانی ظرف۔ فمن عندک یجوزان یکون خبر مبتداء محذوف اے فالا تمام الرعاء اجمع راع تذودان تمنعان اغنامھما عن الماء۔ الزیاد منع۔
تفسیر : یہ ہے کہ ہرچند اسرائیلی مجرم نہ تھا زیادتی مصری کی تھی مگر مشہور ہے ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی، بہرحال بازاروں میں لڑنا لپا ڈ کی ہونا صالحین کی سیرت نہیں ان کو جو کوئی برا بھلا بھی کہتا ہے تو صبر ہی کرجاتے ہیں، آمادئہ جنگ نہیں ہوتے، اس لیے اس اسرائیلی کو اگلے روز آپ نے انک لغوی مبین کہا، اس لحاظ سے حضرت ( علیہ السلام) نے اس کو بھی مجرم ہی قرار دیا اور قصد کیا کہ آیندہ سے ایسے جھگڑوں میں نہ پڑوں گا،…
Read the full tafseer →وَلَمَّا وَرَدَمَـآئَ مَدْیَنَ وَجَدَعَلَیْہِ اُمَّۃً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ 5 ز وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِھِمُ امْرَاَ تَیْنِ تَذُوْدٰنِ ج قَالَ مَاخَطْبُکُمَا ط قَالَتَا لاَ نَسْقِیْ حَتّٰی یُصْدِرَالرِّعَآ ئُ سکتۃ وَاَبُوْنَا شَیْخٌ کَبِیْرٌ۔ (القصص : 23)
(اور جب حضرت موسیٰ مدین کے کنویں پر پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان سے ورے دو عورتوں کو دیکھا جو اپنی بکریوں کو روکے کھڑی تھیں تو موسیٰ نے ان سے پوچھا، تمہارا کیا ماجرا ہے، انھوں نے کہا ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتے جب تک چرواہے اپنی بکریاں ہٹا نہ لیں، اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں۔ )
مَـآئَ سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
گئے، پوچھا کہ آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں ؟ انھوں نے حیا دار لہجے میں کہا کہ ہمارے باپ بوڑھے ہیں ہم اکیلی ہیں اور اس وقت تک اپنی بکریوں کو پانی نہیں پلا سکتیں جب تک یہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا کر فارغ نہیں ہوپاتے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کنویں کی طرف بڑھے اور لوگوں کو پیچھے ہٹا کر لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلایا خود پیچھے ہٹ کر ایک درخت کے سائے میں بیٹھ کر دعا کرنے لگے۔ میرے رب ! میں ایک پردیسی اور بھوکا آدمی ہوں تو جو بھی مجھ پر خیر نازل کرے گا میں اس کا محتاج اور طلب گار ہوں۔ یعنی میرے پاس کچھ بھی نہیں اس لیے ہر چیز کا محتاج ہوں۔
دوسروں کی خدمت کرنے والوں کا اجر :
عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ…
Read the full tafseer →23: وَلَمَّا وَرَدَ (جب آپ پہنچے) ۔ مَآئَ مَدْیَنَ (مدین کے پانی پر) ۔ جس سے لوگ جانوروں کو پلاتے تھے۔ یہ کنواں تھا۔ وَجَدَ عَلَیْہِ (اس کنوئیں کے ایک جانب پایا) ۔ اُمَّۃً (بڑی جماعت کو) مِنَ النَّاسِ (مختلف انسانوں کی) ۔ یَسْقُوْنَ (وہ اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے) ۔ وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمْ (اور آپ نے پایا ان سے نچلی جانب) ۔ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ (دو عورتیں وہ روکنے والی تھیں اپنی بکریوں کو پانی سے) ۔ کیونکہ پانی پر ان سے قوی تر لوگ قابض تھے۔ وہ پلانے کی طاقت نہ رکھتی تھیں۔ نمبر 2۔ یا اس لئے کہ ان کی بکریاں دوسروں میں نہ مل جائیں۔ الذود : دور کرنا۔ ہانکنا۔ قَالَ مَا خَطْبُکُمَا (آپ…
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کا حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بکریوں کو کنویں سے پانی پلانے کا واقعہ۔
تفسیر۔
23۔ ولم اور دماء مدین، ، اور یہ ایساکنواں تھا جس سے وہ اپنے جانوروں کو پانی پلاتے تھے۔ وجد علیہ امہ، اس پر ایک جماعت تھی۔ من الناس یسقون ، جو اپنے جانوروں کو پانی پلاتی تھی۔ ووجد من دونھم، اس جماعت کے علاوہ دوسرے لوگ تھے۔ امراتین تذودان، وہ رکی ہوئی کھڑی تھیں تاکہ لوگ پانی پلاکر فارغ ہوجائیں اور کنواں فارغ ہوجائے تو وہ اپنے مویشیوں کو پانی پلائیں۔ حسن کا قول ہے کہ وہ پانے بھیڑوں کو روکے ہوئے تھیں، ان کی بھیڑیں لوگوں کی بھیڑوں سے نہ مل جائیں ۔ بعض نے کہا کہ وہ اپنی بکریوں بھیڑوں کو روکے ہوئے تھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–26
14 تا 26۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھر پرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم اور سمجھ دونوں عنایت کئے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے نکل کر مدین میں پہنچنے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے ہوئے دیکھا جن میں ایک ان کے گروہ میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے حین غفلۃ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ دوپہر کا وقت تھا اسرائیل نے فریاد کی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
نبی سے کوئی جرم سرزد ہو تو خدا سے معافی مانگتا ہے
قول باری ہے : (فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ۔ موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا) نیز قول باری ہے (وقتلت نفسا۔ تونے ایک آدمی کو قتل کردیا تھا) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتادیا کہ انہوں نے گھونسا مار کر اس شخص کو قتل کردیا تھا پھر اپنے اس فعل پر جن الفاظ میں ندامت کا اظہار کیا تھا اس کا ذکر قرآن میں اس طرح ہوا ہے : (رب انی ظلمت نفسی۔ اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے نفس پر ظلم کرلیا) ۔
بعض حضرات کا قول ہے کہ تھپڑ مار کر کسی کی جان لے لینا قتل عمد ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) علی الاطلاق یہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
33 حضرت موسیٰ کیلئے حضرت شعیب کے یہاں سے بلاوا : سو اتنے میں آپ کو حضرت شعیب کی طرف سے بلاوا آگیا جس کو آپ نے فورا قبول کرلیا۔ اس لئے کہ ایک بزرگ ہستی کی طرف سے دعوت موصول ہوئی تھی جس کا قبول کرنا سنت ہے۔ مشہور قول کے مطابق ان بزرگوں سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) ہیں۔ مگر بعض اہل علم کے نزدیک یہ بات بہت بعید ہے۔ کیونکہ حضرت شعیب کا زمانہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت پہلے تھا۔ اس لئے انہوں نے کچھ اور نام لئے ہیں۔ بہرکیف قول مشہور حضرات اہل علم کے نزدیک یہی ہے کہ اس سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس لڑکی کے بلانے پر اس کے والد سے ملنے چلے گئے۔ روایات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–46
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
آیات 22 تا 28
اسرارومعارف
اور جب آپ مصر سے چلے تو آپ کا رخ مدین کی طرف تھا اور دعا کی کہ مجھے رب کریم سے امید ہے کہ درست سمت کی رہنمائی فرمائیں گے اور میں کسی بہتر ٹھکانے پر پہنچ سکوں گا آخر چلتے چلتے آپ مدین کے کنویں پر پہنچ گئے آپ کسی سے واقف نہ تھے دیکھا بہت سے لوگ جمع ہیں اور اپنے مواشی اور ریوڑوں کو پانی پلا رہے ہیں مگر دو نوجوان لڑکیاں الگ سے اپنی بکریاں روکے کھڑی ہیں آپ کو تعجب ہوا تو پوچھ لیا کہ آپ اس طرح ریوڑ کو روک کر کیوں کھڑی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ہم مردوں میں مل کر تو کام نہیں کرسکتیں لہذا انتظار کرتی ہیں جب یہ لوگ اپنے مواشی کو پانی پلا کر چلے جاتے ہیں تو ہم اپنے ریوڑ کو…
Read the full tafseer →2 ۔ مدین خلیج عقبہ کے مغربی ساحل پر مقنا سے چند میل بجانب شمال واقع تھا۔ آج کل ” البدع “ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے قریب تھوڑے فاصلے پر وہ جگہ ہے جسے اب مغائر شعیب یا مغارات شعیب کہا جاتا ہے۔ اس جگہ ثمودی طرز کی بعض عمارتیں بھی پائی جاتی ہیں اور اس سے تقریباً ڈیڑھ میل کے فاصلے پر کچھ قدیم کھنڈر واقع ہیں جہاں دو اندھے کنوئیں ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک کنواں وہ تھا جس پر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے بکریوں کو پانی پلایا تھا۔ بعض اصحاب کا بیان ہے اور بعض قدیم معجمات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔ 3 ۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ پانی پینے کے لئے لوگوں کی بکریوں میں گھس جائیں اور پھر گم ہوجائیں۔…
Read the full tafseer →(28:23) ماء مدین مضاف مضاف الیہ مدین بوجہ عجمہ و معرفہ غیر منصرف ہے۔ مدین کا پانی۔ یہاں ماء سے مراد (بئر کانوا یسقون منھا مواشیہم) چاہ (کنواں) ہے جہاں سے وہ اپنے مویشیوں کو پانی پلاتے تھے۔
امۃ۔ جماعت ۔ انبوہ۔ آدمیوں کا اجتماع۔
من دونھم۔ ان سے ورے۔ ان سے ایک طرف۔ ان سے الگ۔ من دون۔ علاوہ ۔ سوا۔
تذودان۔ مضارع تثنیہ مؤنث غائب۔ وہ دونوں عورتیں روکتی ہیں۔ ہٹاتی ہیں ذاد یذود ذود (باب نصر) مطلب کہ اپنے ریوڑ کو ایک طرف روکے ہوئے ہیں ۔
خطبکما۔ مضاف مضاف الیہ ۔ خطب حال۔ معاملہ۔ حقیقت ، بات۔ الخطب والمخاطبۃ والتخاطب باہم گفتگو کرنا۔ ایک دوسرے کی طرف بات لوٹانا۔ اسی سے خطبۃ اور خطبۃ ہے لیکن خطبۃ وعظ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
لغات القرآن : آیت نمبر 22 تا 25 :
توجہ ( متوجہ ہوا۔ اس نے رخ کیا) ‘ تلقاء (طرف۔ سمت) ‘ یسقون ( وہ پانی پلاتے ہیں) ‘ تذودان ( روکے ہوئے) ‘ ماخطبکما ( تم دونوں کا کیا معاملہ ہے) ‘ لانسقی (ہم نہیں پلاتیں) یصدر (واپس لے جاتا ہے۔ لے جاتے ہیں) ‘ الرعائ (راع) چرواہے) ‘ الظل (سایہ) ‘ تمشی (وہ چلتی ہے)
تشریح : آیت نمبر 22 تا 25 :
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کی ظالمانہ کاروائیوں سے بچنے کے لئے ایک انجانی سی منزل کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔ ہر مشکل کے وقت تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اور صالحین کا ایک ہی طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنے اللہ سے دعاکرکے مدد مانگتے ہیں چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بار گاہ رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سفر۔
(ف 1) جب فرعونی ظالم پر حضرت موسیٰ نے ہاتھ ڈالنا چاہا تو اسرائیلی نے جانا کہ مجھے مارنا چاہتے ہو کیونکہ مجھ ہی پر خفا ہوئے ہیں اور اپنے بچانے کے واسطے کہنے لگا کہ حضرت موسیٰ تم چاہتے ہو کہ جس طرح تم نے کل ایک آدمی کو مارڈالا اسی طرح مجھ کو بھی آج مارڈالو گے، اس سے پیشتر پہلے روز کا معاملہ سوائے موسیٰ اور اس اسرائیلی کے کوئی اور نہیں جانتا تھا فرعونی یہ سب سنا تو اس نے دوڑ کر فرعون سے جاکرکہا کہ کل کے روز جو تمہارا آدمی مارا گیا ہے اس کو حضرت موسیٰ نے قتل کیا ہے فرعون بہت غصہ ہوا اور موسیٰ کے مارنے کا ارادہ کیا کئی پیادے مقرر کیے کہ حضرت موسیٰ کو تلاش کرکے لاؤ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
[12] یعنی اگر ہمارے والد جوان اور توانا ہوتے تو ہمیں نہ آنا پڑتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
ف 1 : جب حضرت موسیٰ ڈھونڈتے اور تلاش کرتے ہوئے مدین پہنچ گئے ۔ تو وہاں ایک پانی کے مقام پر لوگوں کا مجمع دیکھا کہ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں ۔ اور ان سے الگ دو عورتیں چپ چاپ کھڑی ہیں ۔ اور دیکھ رہی ہیں ۔ موسیٰ اپنی مصیبت کو بھول گئے ۔ اور انسانی ہمدردی سے مجبور ہوکر پوچھا ۔ خاتون محترم ! یہاں کیوں کھڑی ہو ؟ انہوں نے کہا ۔ ہم جانوروں کو اس وقت تک کیسے پانی پلاسکتی ہیں ۔ جب تک کہ یہ بھیڑ نہ چھٹ جائے ۔ اور پھر یہ خیال کرکے کہ کہیں یہ اجنبی دل میں ہمارے متعلق کوئی بری رائے قائم نہ کرلے ۔ اور یہ نہ کہے کہ یہ پانی پلانے کے لئے یہاں کیوں آئی ہیں ؟ انہوں نے دفع دخل مقدر کے طور پر کہہ دیا ۔ کہ…
Read the full tafseer →23۔ اور جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین کے پانی یعنی کنویں پر پہنچا تو اس کنویں پر لوگوں کے ایک گروہ کو دیکھا جو کنویں سے پانی کھینچ کھینچ کر اپنے مویشوں کو پانی پلا رہے تھے ان عورتوں سے پوچھا تمہارا کیا حال ہے انہوں نے جواب دیا جب تک یہ چرواہے اپنے مویشوں کو پانی پلا کر واپس نہ لے جائیں اس وقت تک ہم پانی نہیں پلا سکتے۔ یعنی کوئی مرد نہیں جو پانی کھینچ کر ہمارے جانوروں کو پلائے ہم سے ڈول کھینچ نہیں سکتا ہمارا باپ ہے تو وہ بوڑھا بہت ہے اس لئے جب یہ لوگ چلے جاتے ہیں تو ان کا بچا کھچا پانی ہم اپنی بکریوں کو پلا لیتی ہے۔
کہتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے لڑکیوں کی سفارش کی کیوں بھائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
ف 1۔ یہ بزرگ شعیب (علیہ السلام) تھے۔
2۔ موسیٰ (علیہ السلام) ساتھ ہولئے، گو مقصود موسیٰ (علیہ السلام) کا بالیقین حصول عوض نہ تھا، لیکن مقام امن اور کسی رفیق شفیق کے ضرور باقضائے وقت جویاں تھے، اور اگر بھوک کی شدت بھی اس جانے کا ایک جزو علت ہو تو مضائقہ نہیں، اور اس کو اجرت سے کچھ تعلق نہیں، اور ضیافت کی تو استدعا بھی خصوص حاجت کے وقت اور خصوص کریم سے کچھ ذلت نہیں، چہ جائیکہ دوسرے کی استدعا پر ضیافت کا قبول کرلینا۔
Read the full tafseer →مدین کے قریب پہنچ کر آپ کو جو سب سے پہلا واقعہ پیش آیا وہ کیا تھا ؟ :
23۔ موسیٰ (علیہ السلام) سفر کی صعوبت سے تھک ہار کر جب مدین کے قریب ایک کنویں پر پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں کا ایک بہت بڑا نبوہ ہے جو کئی ایک پارٹیوں کی شکل میں مختلف جگہوں پر دکھائی دے رہا ہے اور ہر ایک اپنے اپنے ریوڑ کو پلانی پلانے میں مصروف ہے لیکن دو نوجوان لڑکیاں الگ تھلک اپنے ریوڑ کر روک کر کھڑی ہیں اور اپنی بکریوں کو ادھر ادھر منتشر ہونے سے روک رہی ہیں ، موسیٰ نے کچھ دیر تک اس سارے منظر کو دیکھا اور آخر کار آپ سے رہا نہ کیا تو ان کے قریب جا کر پوچھا کہ تم اس طرح کیوں کھڑی ہو ۔ وہ دونوں بیک زبان بول گئیں کہ ہم اپنے ریوڑ…
Read the full tafseer →(And when he arrived at the waters of Madyan, he found a large number of people watering (their animals) - 28:23) مَاءَ مَدْيَنَ (waters of Madyan) refers to the well from where people of that place used to make their animals drink water. وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ امْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ (found, aloof from them, two women keeping back (their animals) - 23). That is he saw two girls stopping their goats from going to the water, so that they did not get mixed up with other goats.
قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۖ قَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّىٰ يُصْدِرَ الرِّعَاءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ (He said,…
Read the full tafseer →33 This place where the Prophet Moses had arrived was situated, according to the Arab tradition, on the western coast of the Gulf of 'Agabah, a few miles to the north of Magna . Today it is called Al-Bid, and is a small habitation. I visited this place in December, 1952, when I was travelling from Tabuk to 'Agabah. The natives told me that, as they had heard from their elders, Midian was situated there. From Josephus to Burton, alI ancient and modern explorers and geographers, have generally confirmedthis very place as the location of ancient Midian. Nearby there is the place now called…
Read the full tafseer →