Al-Qasas 28:22

Al-Qasas · from ayah 22

28:22

وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰی رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ ۟وَلَـمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّىۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِىۡ سَوَآءَ السَّبِيۡلِ

اور جب مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے اُمید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ بتائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when he directed himself toward Madyan, he said, "Perhaps my Lord will guide me to the sound way."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 3 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:22

(مصر سے نکل کر) جب موسیٰؑ نے مَدیَن کا رُخ کیا تو اُس نے کہا "اُمید ہے کہ میرا رب مجھے ٹھیک راستے پر ڈال دے گا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے اُمید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ بتائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے تو کہنے لگے مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راه لے چلے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب انہوں نے مدین کی طرف رخ کیا تو کہا کہ : مجھے پوری امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھے راستے پر ڈال دے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوا کہا قریب ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راہ بتائے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب وہ مَديَن کی طرف رخ کر کے چلے (تو) کہنے لگے: امید ہے میرا رب مجھے (منزلِ مقصود تک پہنچانے کے لئے) سیدھی راہ دکھا دے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب اس نے مدین کی طرف رخ کیا تو کہا میرا رب قریب ہے کہ مجھے سیدھے راستے پر لے جائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پر جب انہوں نے مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے امید ہے میرا پروردگار مجھے ٹھیک راستے میں ڈال دے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب اس نے مدین کا رخ کیا تو اس نے دعا کی، امید ہے کہ میرا رب میری رہنمائی سیدھی راہ کی طرف فرمائے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور مصر سے نکلنے کے بعد جب آپ نے مدین کا رخ کیا تو آپ نے کہا امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھے راستے پر ڈال دے گا

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب (موسی علیہ السلام) مدین کی طرف ہولئے تو بولے کہ امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھی راہ پر چلا دے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب اس نے مدین کی طرف رخ کیا اس نے کہا : امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے ”امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا رستہ بتائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When (after his departure from Egypt) Moses headed towards Midian, he said: "I hope my Lord will show me the right Path."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When he set out towards Madyan, he said, :I hope my Lord will guide me to the straight path .

— Muhammad Taqi Usmani

When he set out towards Madyan, he said, :I hope my Lord will guide me to the straight path .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when he went towards Madyan, he said: "It may be that my Lord guides me to the right way."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when he turned his face toward Midian, he said: Peradventure my Lord will guide me in the right road.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when he directed himself toward Madyan, he said, "Perhaps my Lord will guide me to the sound way."

— Saheeh International

When he started his journey to Midian he said, "Perhaps my Lord will show me the right path."

— Muhammad Sarwar

And when he turned his face towards Madyan, he said: Maybe my Lord will guide me in the right path.

— Muhammad Habib Shakir

And when he betook himself toward Madyan, he said: belike my Lord will guide me even way.

— Abdul Majid Daryabadi

Then, when he turned his face towards (the land of) Madyan, he said: "I do hope that my Lord will show me the smooth and straight Path."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–24

موسیٰ ؑ کافرار فرعون اور فرعونیوں کے ارادے جب اس شخص کی زبانی آپ کو معلوم ہوگئے تو آپ وہاں سے تن تنہاچپ چاپ نکل کھڑے ہوئے۔ چونکہ اس سے پہلے کی زندگی کے ایام آپ کے شہزادوں کی طرح گزرے تھے سفر بہت کڑا معلوم ہوا لیکن خوف وہراس کے ساتھ ادھر ادھر دیکھتے سیدھے چلے جارہے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے جارہے تھے کہ اے اللہ ! ان ظالموں سے یعنی فرعون اور فرعونیوں سے نجات دے۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی رہبری کے واسطے ایک فرشتہ بھیجا تھا جو گھوڑے پر آپ کے پاس آیا اور آپ کو راستہ دکھا گیا واللہ اعلم۔ تھوڑی دیر میں آپ جنگلوں اور بیابانوں سے نکل کر مدین کے راستے پر پہنچ گئے تو خوش ہوئے اور فرمانے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القصص 31 بائیبل کا بیان اس امر میں قرآن سے متفق ہے کہ حضرت موسیٰ نے مصر سے نکل کر مدین کا رخ کیا تھا۔ لیکن تلمود یہ بےسرو پا قصہ بیان کرتی ہے کہ حضرت موسیٰ سے بھاگ کر حبش چلے گئے اور وہاں بادشاہ کے مقرب ہوگئے۔ پھر اس کے مرنے پر لوگوں نے ان کو اپنا بادشاہ بنا لیا اور اس کی بیوہ سے ان کی شادی کردی۔ 40 سال انہوں نے وہاں حکومت کی، مگر اس پوری مدت میں اپنی حبشی بیوی سے کبھی مقاربت نہ کی۔ 40 سال گزر جانے کے بعد اس عورت نے حبش کے باشندوں سے شکایت کی کہ اس شخص نے آج تک نہ تو مجھ سے زن و شو کا تعلق رکھا ہے اور نہ کبھی حبش کے دیوتاؤں کی پرستش کی ہے، اس پر امرائے سلطنت نے انہیں معزول کر کے اور بہت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور جب موسیٰ (علیہ السلام یہ دعا کر کے ایک سمت کو توکلا علی اللہ چلے اور بتائید غیبی) مدین کی طرف ہو لئے (چونکہ راستہ معلوم نہ تھا اس لئے تقویت و توکل اور نفس کو تسکین دینے کے لئے آپ ہی آپ) کہنے لگے کہ امید ہے کہ میرا رب مجھ کو (کسی مقام امن کا) سیدھا راستہ چلاوے گا (چنانچہ ایسا ہی ہوا اور مدین جا پہنچے) اور جب مدین کے پانی (یعنی کنوئیں) پر پہنچے تو اس پر (مختلف) آدمیوں کا ایک مجمع دیکھا جو (اس کنوئیں سے کھینچ کھینچ کر اپنے مواشی کو) پانی پلا رہے تھے اور ان لوگوں سے ایک طرف (الگ) دو عورتیں دیکھیں کہ وہ (اپنی بکریاں) روکے کھڑی ہیں، موسیٰ ؑ نے (ان سے) پوچھا تمہارا کیا مطلب ہے وہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حضرت موسیٰ ؑ کا قصد مدین اور اللہ کی راہ میں کام کرنے والوں کے لئے ایک سبق اسلوب کلام سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت موسیٰ جس وقت مصر سے نکلے ہیں اس وقت انہوں نے اپنے سفر کی منزل متعین نہیں کی تھی۔ یہ فیصلہ انہوں نے بعد میں کیا کہ انہیں مدین کی طرف جانا چاہئے اور مدین کے معاملے میں بھی یہ بات ان کے ذہن میں واضح نہیں تھی کہ انہیں کس کے پاس اور کس مقام پر جانا چاہئے بلکہ بغیر کسی تعین کے مدین کی سمت کو اس امید کے ساتھ چل کھڑے ہوئے کہ رب کریم و کار ساز سیدھی راہ کی طرف رہنمائی فرمائے گا اور کسی مستقر پر پہنچائے گا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ حضرت موسیٰ کا یہ نکلنا اس نوعیت کی ہجرت نہیں تھا جس کا مرحلہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

22-1چناچہ اللہ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور ایسے سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی جس سے ان کی دنیا بھی سنور گئی اور آخرت بھی یعنی وہ ہادی بھی بن گئے اور مہدی بھی، خود بھی ہدایت یافتہ اور دوسروں کو بھی ہدایت کا راستہ بتلانے والے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

11: مدین حضرت شعیب ؑ کی بستی تھی اور وہ علاقہ فرعون کی حکومت سے باہر تھا اس لئے حضرت موسیٰ ؑ نے وہاں جانے کا ارادہ کیا لیکن شاید راستہ پوری طرح معلوم نہیں تھا، محض اندازے سے چل رہے تھے اس لئے یہ جملہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مجھے صحیح راستے پر ڈالدے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولما توجہ تلقاء ۔۔۔۔۔۔ سوآء السبیل (22) ”(مصر سے نکل کر ) جب موسیٰ نے مدین کا رخ کیا تو اس نے کہا ” امید ہے کہ میرا رب ، مجھے ٹھیک راستے پر ڈال دے گا “۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یکہ و تنہا مصر سے نکلنے پر مجبور کر دئیے گئے ہیں اور وہ ایک بےآب وگیاہ صحرا میں بغیر کسی زاد و عتاد کے جانب مدین رواں ہیں ، مدین کا علاقہ شام کے جنوب اور حجاز کے شمال میں ہے۔ یہ ایک طویل سفر ہے ، دور دراز کا سفر۔ جس کے لیے حضرت موسیٰ نے کوئی تیاری نہیں کی۔ وہ شہر سے نہایت ہی ڈر کی حالت میں سہمے ہوئے نکلے اور فرعون کے سردار ناصح نے انہیں مزید خوفزدہ کردیا تھا۔ اس لئے آپ نے ایک منٹ کی تاخیر کے بغیر وہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 21–22

4 حضرت موسیٰ مصر سے نکل کھڑے ہوئے، راہ سے واقف نہ تھے۔ اللہ سے درخواست کی کہ سیدھی راہ پر چلائے۔ اس نے " مدین " کی سیدھی سڑک پر ڈال دیا۔ جہاں پہنچا کر انھیں امن واطمینان کے ساتھ متاہل بنانا تھا۔ صرف یہ ہی نہیں، بلکہ بہت دور تک کی سیدھی راہ پر لے چلنا تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 22 وَلَمَّا تَوَجَّہَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ ” نقشے پر دیکھیں تو مصر جزیرہ نمائے سینا کے ایک طرف ہے جبکہ مدین کا علاقہ اس کے دوسری طرف واقع ہے۔ گویا مصر سے مدین جانے کے لیے آپ علیہ السلام کو پورا صحرائے سینا عبور کرنا تھا۔ آپ علیہ السلام نے مدین جانے کا عزم اس لیے کیا کہ یہ علاقہ فرعون کی سلطنت سے باہر تھا۔ قَالَ عَسٰی رَبِّیْٓ اَنْ یَّہْدِیَنِیْ سَوَآء السَّبِیْلِ ” یعنی اس لق و دق صحرا میں سفر کرتے ہوئے میرا رب مسلسل میری راہنمائی کرتا رہے گا اور اس طرح میں راستہ بھٹکنے سے بچا رہوں گا۔ ظاہر ہے کہ ایک وسیع و عریض صحرا میں راستہ بھٹک جانے والے مسافر کا انجام تو ہلاکت ہی ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 21–22

31 مدین یہاں سے آٹھ دن کی مسافت پر تھا اور فرعون کی حدود سلطنت سے باہر تھا۔ آپ نے اس مخلص ساتھی سے یہ اطلاع پاتے ہی مدین کا رخ کیا اور بچتے بچاتے خوب چوکنے ہو کر وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ ! مجھے ان ظالموں کی دستبردار سے بچا لے اور ایسی راہ پر ڈال دے جو سیدھا مدین کو جاتا ہو اور میں ان ظالموں سے بچ کر وہاں پہنچ سکوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

31۔ (چنانچہ ایسا ہی ہوا اور آپ مدین پہنچ گئے) مدین پر حواشی پہلے گزر چکے۔ سورة الاعراف (پ 8) وغیرہ میں۔ ملزم کی تلاش میں سڑکوں کی ناکہ بندی ہوچکی تھی۔ اس لیے آپ جنگل بہیڑ ہوتے ہوئے چلے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–28

آیت نمبر 22 تا 28 ترجمہ : اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے یعنی مدین کی طرف رخ کیا، مدین شعیب (علیہ السلام) کی بستی تھی جو مصر سے آٹھ دن کی مسافت پر واقع تھی، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کے نام سے یہ بستی موسوم تھی، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین کے راستہ سے واقف نہیں تھے تو کہنے لگے مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھے راستے کی رہنمائی فرمائے گا، یعنی سیدھے راستہ یعنی مدین کے متوسط راستہ کی رہنمائی کرے گا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ایک فرشتہ کو بھج دیا جس کے ہاتھ میں نیزہ تھا، تو وہ فرشتہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال رب نجنی من القوم الظلمین . کہا : اے میرے رب ! مجھے ان کافر لوگوں سے بچا۔ یعنی مجھ تک ان کی رسائی نہ ہو ‘ میں ان گرفت سے باہر ہوجاؤں۔ فرعون کو جب موسیٰ کے فرار ہونے کی اطلاع ملی تو اس نے گرفتاری کے لئے سپاہیوں کا ایک دستہ بھیج دیا اور حکم دیا کہ سوار ہو کر مختلف راستوں کو جاؤ کیونکہ موسیٰ کو اصل شاہراہ تو معلوم نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(22) اور موسیٰ ؑ مدین کی طرف چل پڑے تو خیال ہوا کہ راستہ تو معلوم نہیں تو خود ہی کہنے لگے امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے مدین کی طرف سیدھا پہنچا دے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاۗءَ مَدْيَنَ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کی دعا قبول فرمائی اور انھیں اس راستے پر ڈال دیا جو مدین کی طرف جاتا تھا۔ مدین خلیج عقبہ کے مغربی ساحل پر ”مقنا“ سے چند میل بجانب شمال واقع تھا، آج کل اسے ”اَلْبِدَعْ“ کہتے ہیں۔ اس زمانے میں مدین فرعون کی سلطنت سے باہر تھا۔ مصر کی حکومت پورے جزیرہ نمائے سینا پر نہیں تھی، بلکہ صرف اس کے مغربی اور جنوبی علاقے تک محدود تھی۔ خلیج عقبہ کے مشرقی اور مغربی ساحل، جن پر بنی مدیان آباد تھے، وہ مصری اقتدار سے آزاد تھے، اس لیے موسیٰ ؑ نے مصر سے نکلتے ہی مدین کا رخ کیا، کیونکہ قریب ترین آزاد اور آباد علاقہ وہی تھا، لیکن وہاں جانے کے لیے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–22

وجآء رجل اکثر مفسرین کی رائے ہے اس آدمی سے مراد حز قیل بن صبورا ہے جو آل فرعون کا مومن تھا۔ وہ فرعون کا چچا زاد تھا، ثعلبی نے یہ ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ طالتو تھا، یہ سہلی نے ذکر کیا ہے۔ مہوی نے قتدہ سے یہ قول نقل کیا ہے : وہ شمعون تھا جو آل فرعون کا مومن تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ شمعان تھا۔ دار قطنی نے کہا : شن کے ساتھ شمعان معروف نہیں مگر وہ ٓل فرعون کا مومن تھا۔ یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا حکم دیا اس آدمی کو خبر پہنچی تو اس نے کہا، یموسی ان الملایاتمرون بک تیرے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں اس قبطی کے بدلے میں جس کو تو نے گزشتہ کل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولما توجہ تلقاء مدین کے بارے میں روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے چار راستے آئے وہ نہیں جانتے تھے کہ کس راستے پر چلیں تو عرض کیا عسی ربی ان یہدینی سواء السبیل یعنی عنقریب میرا رب مجھ کو سیدھا راستہ دکھائے گا پھر مدین کا راستہ لیا۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ سے آیت تلقاء مدین کے بارے میں روایت کیا کہ مدین ایک چشمہ ہے جس پر شعیب (علیہ السلام) رہتے تھے۔ 3۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قال عسی ربی ان یہدینی سواء السبیل یعنی عنقریب میرا رب مجھ کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلَمَّا : اور جب ] تَوَجَّهَ تِلْقَاۗءَ مَدْيَنَ : آپ نے مدین کا رخ کیا ] [ قَالَ : آپ نے کہا ] [ عَسٰى: امید ہے ] [ رَبِّيْٓ: میرا رب ] [ اَنْ يَّهْدِيَنِيْ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ : مجھے سیدھے راستے پر ڈال دے گا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 16–22

موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین پہنچنا وہاں دو لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلانا پھر ان میں سے ایک لڑکی سے شادی ہونا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب ایک شخص نے رائے دی کہ دربار والے تمہارے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں تم یہاں سے نکل جاؤ تو وہ سرزمین مصر سے روانہ ہوگئے اور مدین کی طرف چل دیئے جو ملک شام کا ایک شہر ہے۔ یہ علاقہ فرعونی حکومت میں شامل نہیں تھا۔ اور وہ زمانہ پاسپورٹ اور ویزے کا بھی نہیں تھا جو شخص جس ملک میں اور جس شہر میں چاہتا جاسکتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین کا رخ کیا وہاں کبھی تشریف نہیں لے گئے تھے راستہ معلوم نہیں تھا اللہ تعالیٰ سے خیر کی امید باندھ کر نکل کھڑے ہوئے اور یوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–28

موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین کی جانب سفر قال اللہ تعالیٰ ولما توجہ تلقاء مدین۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علی ما نقول وکیل۔ (ربط) گزشتہ آیت میں اس بات کا ذکر تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک خیر خواہ نے یہ مشورہ دیا کہ آپ فورا مصر سے نکل جائیے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی۔ رب نجنی من القوم الظالمین۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول کی اور ظالموں سے نجات کا ایک ذریعہ بنایا چناچہ وہ مصر سے نکل کھڑے ہوئے راہ سے واقف نہ تھے توکلا علی اللہ ایک سمت پر چل پڑے اور جب بالقاء غیبی شہر مدین کی طرف متوجہ ہوئے اور قضاء وقدر نے وجہ (منہ) کو مدین کی طرف کردیا اور ” مدین “ ایک شہر کا نام ہے جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

22:۔ مدین حضرت شعیب (علیہ السلام) کا شہر تھا۔ یہ شہر فرعون کی سلطنت سے باہر تھا اور مصر سے قریب بھی تھا اس لیے مدین کا رخ کیا۔ و مدین قریۃ شعیب (علیہ السلام) سمیت بمدین بن ابراہیم ولم تکن فی سلطان فرعون و بینہا و بین مصر مسیرۃ ثمانیۃ ایام (مدارک ج 3 ص 176) ۔ راستہ چونکہ صحیح معلوم نہ تھا اس لیے محض اندازے سے ایک راستہ پکڑ لیا اور خدا کے بھروسے پر چل دئیے کہ وہ اپنی مہربانی سے سیدھی راہ پر ڈال دے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 22–25

ربط آیات جب موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک قبطی آدمی قتل ہوگیا اور قتل کا الزام بھی آپ پر لگا تو فرعون کے درباریوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس شخص کو سزائے موت دینی چاہئے۔ چناچہ آپ کی گرفتاری کا حکم دے دیا گیا ۔ اسی اثناء میں موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک خیر خواہ نے آپ کو اطلاع دے دی کہ فرعون نے آپ کی گرفتاری اور قتل کا حکم دے دیا ہے لہٰذا آپ بلا تاخیر یہاں سے نکل جائیں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) فوراً وہاں سے چل دیے ، آپ کو پریشانی بھی لا حق تھی کہ پتہ نہیں اب کیا صورت حال پیش آئے گی اور ضمن میں آپ پیچھے مڑ مڑ کر بھی دیکھتے تھے۔ اندریں حالات آپ نے یہ دعا بھی کی ، پروردگار ! تجنی من القوم الظلمین…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَمَّا تَوَجَّہَ تِلْقَاۗءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّيْٓ اَنْ يَّہْدِيَنِيْ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ۝ 22 لقی اللِّقَاءُ : مقابلة الشیء ومصادفته معا، وقد يعبّر به عن کلّ واحد منهما، يقال : لَقِيَهُ يَلْقَاهُ لِقَاءً ولُقِيّاً ولُقْيَةً ، ويقال ذلک في الإدراک بالحسّ ، وبالبصر، وبالبصیرة . قال : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] ، وقال : لَقَدْ لَقِينا مِنْ سَفَرِنا هذا نَصَباً [ الكهف/ 62] . ومُلَاقَاةُ اللہ عز وجل عبارة عن القیامة، وعن المصیر إليه . قال تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] ( ل ق ی ) لقیہ ( س) یلقاہ لقاء کے معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 22–24

ترکیب : علی استحیاء حال ماسقیت، مصدریۃ ان تاجرنی فی موضع الحال و ثمانی ظرف۔ فمن عندک یجوزان یکون خبر مبتداء محذوف اے فالا تمام الرعاء اجمع راع تذودان تمنعان اغنامھما عن الماء۔ الزیاد منع۔ تفسیر : یہ ہے کہ ہرچند اسرائیلی مجرم نہ تھا زیادتی مصری کی تھی مگر مشہور ہے ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی، بہرحال بازاروں میں لڑنا لپا ڈ کی ہونا صالحین کی سیرت نہیں ان کو جو کوئی برا بھلا بھی کہتا ہے تو صبر ہی کرجاتے ہیں، آمادئہ جنگ نہیں ہوتے، اس لیے اس اسرائیلی کو اگلے روز آپ نے انک لغوی مبین کہا، اس لحاظ سے حضرت ( علیہ السلام) نے اس کو بھی مجرم ہی قرار دیا اور قصد کیا کہ آیندہ سے ایسے جھگڑوں میں نہ پڑوں گا،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَمَّا تَوَجَّہَ تِلْقَـآئَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰی رَبِّیْٓ اَنْ یَّھْدِیَـنِیْ سَوَآئَ السَّبِیْلِ ۔ (القصص : 22) (اور جب موسیٰ نے مدین کا رخ کیا تو آپ نے دعا کی امید ہے کہ میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری رہنمائی فرمائے گا۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین کو قصد جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر کے اعیانِ حکومت کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ آپ کے قتل کی سازش تیار کررہے ہیں اور اب مصر کی سرزمین آپ کے لیے تنگ ہوتی جارہی ہے تو آپ نے فوری طور پر مصر چھوڑ دینے کا ارادہ کیا۔ بائیبل بھی قرآن کریم کے اس بیان سے متفق ہے کہ آپ ( علیہ السلام) نے مصر سے نکل کر مدین کا رخ کیا تھا۔ لیکن تلمود کا بیان اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ملک مدین کی طرف ہجرت اور راستے کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر میں پیدائش پائی اور ان کی تربیت بھی مصر شہر میں ہوئی تھی۔ ملک مصر سے باہر موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ پہلا سفر تھا وہ بھی انتہائی غم اور پریشانی کے عالم میں اچانک پیش آیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہیں جانتے تھے کہ مدین کی طرف کون سا راستہ جاتا ہے۔ معلوم نہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادۃً مدین کا سفر اختیار کیا یا اللہ تعالیٰ نے انھیں القاء فرمایا کیونکہ ابھی تک موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا نہیں کی گئی تھی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

22: وَلَمَّا تَوَجَّہَ تِلْقَآئَ مَدْیَنَ (جب وہ مدین کی جانب چل دیئے) ۔ تلقاء۔ (جانب) ۔ التوجہ۔ (کسی چیز کی طرف پورے متوجہ ہونا) ۔ مدین۔ یہ شعیب (علیہ السلام) کا شہر ہے۔ اس کا نام مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کے نام پر رکھا گیا۔ یہ علاقہ سلطنت فرعون میں نہ تھا۔ اس کا مصر سے آٹھ دن رات کا پیدل سفر تھا۔ قول ابن عباس ؓ : موسیٰ (علیہ السلام) نکلے مگر ان کو راستہ کا علم نہیں تھا۔ فقط اپنے رب پر حسن ظن تھا۔ قَالَ عَسٰی رَبِّیْ اَنْ یَّہْدِیَنِیْ سَوَآئَ السَّبِیْلِ (کہا امید ہے کہ میرا رب میری راہنمائی سیدھے راستہ کی طرف فرما دے گا) ۔ سواء : وسط اور بڑے راستہ کو کہا جاتا ہے پس ایک فرشتہ آیا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

22۔ ولماتوجہ تلقاء مدین، جب حضر ت موسیٰ مدین کی طرف جانے کا ارادہ کیا، زجاج کا قول ہے کہ اس راستے پر چل پڑے جو مدین پر پہنچتا تھا۔ مدین ایک بستی کا نام تھا جو حضرت ابراہیم کے صاحبزادے مدین کے نام پر آباد ہوئی تھی، موسیٰ پیدل نکل پڑے نہ سواری تھی اور نہ کھانے پینے کا سامان تھا مدین مصر سے آٹھ منزل کے فاصلے پر تھا اور فرعون کی حکومت سے خارج تھا۔ مدین کے سفر میں حضرت موسیٰ کا درختوں کے سبز پتے نوش کرنے کا واقعہ۔ قال عسی ربی ان یھدینی سواء السبیل۔ مدین کے راستے کا ارادہ کیا تھا لیکن راستے سے واقف نہیں تھے یہ اسوجہ سے کہا کہ وہ مدین جانے کا راستہ پتا نہیں تھا۔ جب موسیٰ نے یہ الفاظ کہے کہ ایک فرشتہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–26

14 تا 26۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھر پرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم اور سمجھ دونوں عنایت کئے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے نکل کر مدین میں پہنچنے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے ہوئے دیکھا جن میں ایک ان کے گروہ میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے حین غفلۃ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ دوپہر کا وقت تھا اسرائیل نے فریاد کی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–26

نبی سے کوئی جرم سرزد ہو تو خدا سے معافی مانگتا ہے قول باری ہے : (فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ۔ موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا) نیز قول باری ہے (وقتلت نفسا۔ تونے ایک آدمی کو قتل کردیا تھا) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتادیا کہ انہوں نے گھونسا مار کر اس شخص کو قتل کردیا تھا پھر اپنے اس فعل پر جن الفاظ میں ندامت کا اظہار کیا تھا اس کا ذکر قرآن میں اس طرح ہوا ہے : (رب انی ظلمت نفسی۔ اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے نفس پر ظلم کرلیا) ۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ تھپڑ مار کر کسی کی جان لے لینا قتل عمد ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) علی الاطلاق یہ نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 22–25

33 حضرت موسیٰ کیلئے حضرت شعیب کے یہاں سے بلاوا : سو اتنے میں آپ کو حضرت شعیب کی طرف سے بلاوا آگیا جس کو آپ نے فورا قبول کرلیا۔ اس لئے کہ ایک بزرگ ہستی کی طرف سے دعوت موصول ہوئی تھی جس کا قبول کرنا سنت ہے۔ مشہور قول کے مطابق ان بزرگوں سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) ہیں۔ مگر بعض اہل علم کے نزدیک یہ بات بہت بعید ہے۔ کیونکہ حضرت شعیب کا زمانہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت پہلے تھا۔ اس لئے انہوں نے کچھ اور نام لئے ہیں۔ بہرکیف قول مشہور حضرات اہل علم کے نزدیک یہی ہے کہ اس سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس لڑکی کے بلانے پر اس کے والد سے ملنے چلے گئے۔ روایات میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–46

تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–28

آیات 22 تا 28 اسرارومعارف اور جب آپ مصر سے چلے تو آپ کا رخ مدین کی طرف تھا اور دعا کی کہ مجھے رب کریم سے امید ہے کہ درست سمت کی رہنمائی فرمائیں گے اور میں کسی بہتر ٹھکانے پر پہنچ سکوں گا آخر چلتے چلتے آپ مدین کے کنویں پر پہنچ گئے آپ کسی سے واقف نہ تھے دیکھا بہت سے لوگ جمع ہیں اور اپنے مواشی اور ریوڑوں کو پانی پلا رہے ہیں مگر دو نوجوان لڑکیاں الگ سے اپنی بکریاں روکے کھڑی ہیں آپ کو تعجب ہوا تو پوچھ لیا کہ آپ اس طرح ریوڑ کو روک کر کیوں کھڑی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ہم مردوں میں مل کر تو کام نہیں کرسکتیں لہذا انتظار کرتی ہیں جب یہ لوگ اپنے مواشی کو پانی پلا کر چلے جاتے ہیں تو ہم اپنے ریوڑ کو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:22) توجہ۔ ماضی واحد مذکر غائب توجہ (تفعل) مصدر۔ وہ متوجہ ہوا۔ اس نے رخ کیا۔ اس نے (ادھر کو) منہ کیا۔ تلقائ۔ طرف ۔ لقاء سے۔ جس کے معنی ملاقات کرنے کے ہیں۔ اسم ہے بمعنی ملاقات کرنے اور آمنے سامنے ہونے کی جگہ کو تلقاء کہتے ہیں اور اسی اعتبار سے طرف اور جہت کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے واذا صرفت ابصارہم تلقاء اصحب النار (7:47) اور جب ان کی نگاہیں اہل دوزخ کی طرف پھیری جائیں گے ! عسی ربی ان یھدینی۔ عسی افعال مقاریہ میں سے ہے بمعنی قریب ہے ممکن ہے۔ توقع ہے۔ اندیشہ ہے۔ کھٹکا ہے۔ (ہر دو مؤخر الذکر میں بھی قرب زمانہ کا مفہوم بھی موجود ہے) ۔ یہاں بمعنی توقع ہے۔ امید ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 22–25

لغات القرآن : آیت نمبر 22 تا 25 : توجہ ( متوجہ ہوا۔ اس نے رخ کیا) ‘ تلقاء (طرف۔ سمت) ‘ یسقون ( وہ پانی پلاتے ہیں) ‘ تذودان ( روکے ہوئے) ‘ ماخطبکما ( تم دونوں کا کیا معاملہ ہے) ‘ لانسقی (ہم نہیں پلاتیں) یصدر (واپس لے جاتا ہے۔ لے جاتے ہیں) ‘ الرعائ (راع) چرواہے) ‘ الظل (سایہ) ‘ تمشی (وہ چلتی ہے) تشریح : آیت نمبر 22 تا 25 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کی ظالمانہ کاروائیوں سے بچنے کے لئے ایک انجانی سی منزل کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔ ہر مشکل کے وقت تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اور صالحین کا ایک ہی طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنے اللہ سے دعاکرکے مدد مانگتے ہیں چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بار گاہ رب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–24

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سفر۔ (ف 1) جب فرعونی ظالم پر حضرت موسیٰ نے ہاتھ ڈالنا چاہا تو اسرائیلی نے جانا کہ مجھے مارنا چاہتے ہو کیونکہ مجھ ہی پر خفا ہوئے ہیں اور اپنے بچانے کے واسطے کہنے لگا کہ حضرت موسیٰ تم چاہتے ہو کہ جس طرح تم نے کل ایک آدمی کو مارڈالا اسی طرح مجھ کو بھی آج مارڈالو گے، اس سے پیشتر پہلے روز کا معاملہ سوائے موسیٰ اور اس اسرائیلی کے کوئی اور نہیں جانتا تھا فرعونی یہ سب سنا تو اس نے دوڑ کر فرعون سے جاکرکہا کہ کل کے روز جو تمہارا آدمی مارا گیا ہے اس کو حضرت موسیٰ نے قتل کیا ہے فرعون بہت غصہ ہوا اور موسیٰ کے مارنے کا ارادہ کیا کئی پیادے مقرر کیے کہ حضرت موسیٰ کو تلاش کرکے لاؤ،…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–23

ف 1 : جب حضرت موسیٰ ڈھونڈتے اور تلاش کرتے ہوئے مدین پہنچ گئے ۔ تو وہاں ایک پانی کے مقام پر لوگوں کا مجمع دیکھا کہ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں ۔ اور ان سے الگ دو عورتیں چپ چاپ کھڑی ہیں ۔ اور دیکھ رہی ہیں ۔ موسیٰ اپنی مصیبت کو بھول گئے ۔ اور انسانی ہمدردی سے مجبور ہوکر پوچھا ۔ خاتون محترم ! یہاں کیوں کھڑی ہو ؟ انہوں نے کہا ۔ ہم جانوروں کو اس وقت تک کیسے پانی پلاسکتی ہیں ۔ جب تک کہ یہ بھیڑ نہ چھٹ جائے ۔ اور پھر یہ خیال کرکے کہ کہیں یہ اجنبی دل میں ہمارے متعلق کوئی بری رائے قائم نہ کرلے ۔ اور یہ نہ کہے کہ یہ پانی پلانے کے لئے یہاں کیوں آئی ہیں ؟ انہوں نے دفع دخل مقدر کے طور پر کہہ دیا ۔ کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

22۔ اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین کی سمت اور مدین کی جانب رخ کیا تو کہا امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھے راستہ پرچلائے گا اور مجھے سیدھی راہ پر لے جائیگا ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تو کلا علی اللہ یہ سفر اختیار کیا اللہ تعالیٰ نے ان کی صحیح رہنمائی فرمائی اور ان کو سیدھے راستے لگا دیا اور وہ ایک ایسی پگڈنڈی پڑگئے جو سیدھی مدین کو جاتی تھی ، آٹھ روز تک برابر سفر کرتے رہے گھاس پات کھا کر گزر کرتے اور حضرت حق تعالیٰ سے لو لگائے ہوئے چلے جاتے تھے آٹھ روز کی پیہم سفر کے بعد وہ مدین کے پانی پر پہنچ گئے ادھر فرعون کی پولیس اپنی حدود کے اندر جگہ جگہ دیکھتی پھر ی اور اس کو کہیں پتہ نہ چلا ۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 22–25

ف 1۔ یہ بزرگ شعیب (علیہ السلام) تھے۔ 2۔ موسیٰ (علیہ السلام) ساتھ ہولئے، گو مقصود موسیٰ (علیہ السلام) کا بالیقین حصول عوض نہ تھا، لیکن مقام امن اور کسی رفیق شفیق کے ضرور باقضائے وقت جویاں تھے، اور اگر بھوک کی شدت بھی اس جانے کا ایک جزو علت ہو تو مضائقہ نہیں، اور اس کو اجرت سے کچھ تعلق نہیں، اور ضیافت کی تو استدعا بھی خصوص حاجت کے وقت اور خصوص کریم سے کچھ ذلت نہیں، چہ جائیکہ دوسرے کی استدعا پر ضیافت کا قبول کرلینا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب آپ ساتھی سے رخصت ہوئے تو سیدھا مدین کا رخ کیا : 22۔ مدین کے لوگ بھی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی نسل سے تعلق رکھتے تھے کیونکہ یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے جو بعد میں بنو قطورا کے نام سے معروف ہوئے وہ آباد ہوئے تھے اور انہیں کی نسل سے متعلق تھے ۔ مجمع البحرین والے ساتھی سے جب آپ رخصت ہوئے تو مدین کی طرف رخ کیا کیونکہ یہی ایک ایسا علاقہ تھا جو فرعون کی مملکت سے باہر تھا اور رہائش کے لئے مصر کے مقابہ کا بھی تھا یعنی خوب آباد تھا اور سب سے بڑھ کر یہ مملکت فرعون کے قریب بھی تھا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ خاندان کے اعتبار سے بھی آپ کے لئے بہت مفید تھا لیکن اس مسافر کی حالت بڑی عجیب ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–22

Commentary وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاءَ مَدْيَنَ (And when he set out towards Madyan - 28:22). Madyan (مَدْيَنَ ) is the name of a city in Sham (a large territory now consisting of Syria, Jordan, Lebanon and Palestine) which was named after Madyan, the son of Ibrahim (علیہ السلام) . This area was outside the empire of the Pharaoh. It was eight days journey from Egypt. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) was taken over by the natural fright of the pursuing army of the Pharaoh, which was not in conflict either with the prophethood or with trust in Allah, he resolved to leave Egypt. Perhaps he…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–22

31 Both the Bible and the Qur'an agree that after leaving Egypt the Prophet Moses had gone to live in Madyan (Midian). But the Talmud tells the absurd story that Moses fled to Ethiopia and became a great favourite with the king there. After the king's death the people made Moses their king and leader and gave him the widow of the king for a wife, but during the 40 years of his reign there he never had intercourse with his negro wife. Then the queen of Ethiopia, who was a wife to Moses in name only, said to the people, "Why should this stranger continue to rule over you '? He has never…

Read the full tafseer →