Explained with ayahs 21–24
موسیٰ ؑ کافرار
فرعون اور فرعونیوں کے ارادے جب اس شخص کی زبانی آپ کو معلوم ہوگئے تو آپ وہاں سے تن تنہاچپ چاپ نکل کھڑے ہوئے۔ چونکہ اس سے پہلے کی زندگی کے ایام آپ کے شہزادوں کی طرح گزرے تھے سفر بہت کڑا معلوم ہوا لیکن خوف وہراس کے ساتھ ادھر ادھر دیکھتے سیدھے چلے جارہے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے جارہے تھے کہ اے اللہ ! ان ظالموں سے یعنی فرعون اور فرعونیوں سے نجات دے۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی رہبری کے واسطے ایک فرشتہ بھیجا تھا جو گھوڑے پر آپ کے پاس آیا اور آپ کو راستہ دکھا گیا واللہ اعلم۔ تھوڑی دیر میں آپ جنگلوں اور بیابانوں سے نکل کر مدین کے راستے پر پہنچ گئے تو خوش ہوئے اور فرمانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
سورة القصص 30
یعنی اس دوسرے جھگڑے میں جب قتل کا راز فاش ہوگیا اور اس مصری نے جاکر مخبری کردی تب یہ واقعہ پیش آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِيْرًا لِّلْمُجْرِمِيْنَ ، حضرت موسیٰ ؑ کی اس لغزش کو جب حق تعالیٰ نے معاف فرما دیا تو آپ نے اس نعمت کے شکر میں یہ عرض کیا کہ میں آئندہ کسی مجرم کی مدد نہ کروں گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جس اسرائیلی کی مدد کے لئے یہ اقدام کیا تھا دوسرے واقعہ سے یہ بات ثابت ہوگئی تھی کہ وہ خود ہی جھگڑالو ہے، جھگڑا لڑائی اس کی عادت ہے اس لئے اس کو مجرم قرار دے کر آئندہ کسی ایسے شخص کی مدد نہ کرنے کا عہد فرمایا اور حضرت ابن عباس سے اس جگہ مجرمین کی تفسیر کافرین کے ساتھ منقول ہے اور قتادہ نے بھی تقریباً ایسا ہی فرمایا ہے اس تفسیر کی بنا پر واقعہ…
Read the full tafseer →نخرج منھا خآئفا یترقب قال رب نجنی من القوم الظلمین 21
اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ ڈرتے اور بچتے بچاتے ہوئے مصر سے نکل کھڑے ہوئے اور چونکہ فرعونیوں کی طرف سے تعاقب کا اندیشہ تھا اس وجہ سے انہوں نے یہ دعا فرمائی کہ اے رب مجھے ان ظالموں کے شر سے نجات دے۔
Read the full tafseer →21-1جب حضرت موسیٰ ؑ کے علم میں یہ بات آئی تو وہاں سے نکل کھڑے ہوئے تاکہ فرعون کی گرفت میں نہ آسکیں۔
21-2یعنی فرعون اور اس کے درباریوں سے، جنہوں نے باہم حضرت موسیٰ ؑ کے قتل کا مشورہ کیا تھا، کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ کو کوئی علم نہ تھا کہ کہاں جانا ہے ؟ کیونکہ مصر چھوڑنے کا یہ حادثہ بالکل اچانک پیش آیا، پہلے سے کوئی خیال یا منصوبہ نہیں تھا، چناچہ اللہ نے گھوڑے پر ایک فرشتہ بھیج دیا، جس نے انھیں راستے کی نشان دہی کی واللہ اعلم (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
10: حضرت موسیٰ ؑ نے ہاتھ تو اس مصری کی طرف بڑھایا تھا، تاکہ اسے مارنے سے روکیں ؛ لیکن اسرائیلی نے جب ان کا یہ جملہ سنا کہ تم بڑے شریر آدمی ہو تو وہ یہ سمجھا کہ وہ اس کو مارنے کے لئے ہاتھ بڑھا رہے ہیں، اس لئے اس نے یہ بات کہی۔
Read the full tafseer →فخرج منھا ۔۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (21) ” یہ خبر سنتے ہی ڈرتا اور سہمتا نکل کھڑا ہوا اور اس نے دیا کی کہ ” اے میرے رب ، مجھے ظالموں سے بچا “۔
حضرت موسیٰ سہر سے ڈرے ہوئے اور سہمے ہوئے نکل کھڑے ہوئے ، یکہ و تنہا ، ڈر رہے ہیں اور اللہ پر اعتماد کے سوا ان کے پاس کوئی سازوسامان نہیں ہے۔ ان کی توجہ صرف اللہ کی طرف ہے۔ صرف اللہ کی مدد اور ہدایت کے وہ طلب گار ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
4 حضرت موسیٰ مصر سے نکل کھڑے ہوئے، راہ سے واقف نہ تھے۔ اللہ سے درخواست کی کہ سیدھی راہ پر چلائے۔ اس نے " مدین " کی سیدھی سڑک پر ڈال دیا۔ جہاں پہنچا کر انھیں امن واطمینان کے ساتھ متاہل بنانا تھا۔ صرف یہ ہی نہیں، بلکہ بہت دور تک کی سیدھی راہ پر لے چلنا تھا۔
Read the full tafseer →آیت 21 فَخَرَجَ مِنْہَا خَآءِفًا یَّتَرَقَّبُز ”
لفظ یَتَرَقَّبُ قبل ازیں آیت 18 میں بھی آچکا ہے۔ اس سے مراد کسی شخص کی ایسی کیفیت ہے جس میں وہ کسی بھی طرف سے ممکنہ خطرے کی وجہ سے فکر مند بھی ہو اور انتہائی محتاط اور چوکنا بھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بھی اس وقت ایسی ہی کیفیت تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
31 مدین یہاں سے آٹھ دن کی مسافت پر تھا اور فرعون کی حدود سلطنت سے باہر تھا۔ آپ نے اس مخلص ساتھی سے یہ اطلاع پاتے ہی مدین کا رخ کیا اور بچتے بچاتے خوب چوکنے ہو کر وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ ! مجھے ان ظالموں کی دستبردار سے بچا لے اور ایسی راہ پر ڈال دے جو سیدھا مدین کو جاتا ہو اور میں ان ظالموں سے بچ کر وہاں پہنچ سکوں۔
Read the full tafseer →29۔ توریت میں ہے :۔” تب موسیٰ (علیہ السلام) ڈرا اور کہا کہ یقیناً یہ بھید فاش ہوا “۔ (خروج۔ 2: 14) کاملین یہاں تک کہ انبیاء کے لیے بھی یہ ہرگز ضروری نہیں کہ امور طبعیہ میں وہ عام انسانوں سے الگ ہوں۔ (آیت) ” فخرج منھا ظاہر ہے کہ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے مملکت مصر میں کہیں بھی ٹھہرنا خطرہ سے خالی نہ تھا۔ جائے امن اب آپ کے لیے حدود مصر سے باہر ہی ہوسکتی تھی۔ (آیت) ” منھا “۔ یعنی اس شہر سے۔ اے من المدینۃ (بیضاوی)
30۔ (اور امن کی جگہ پہنچا دیجئے) انبیاء اپنا تعلق ہر حال میں اللہ سے جوڑے رکھتے ہیں۔ ہجرت اس ملک سے خود کر رہے ہیں۔ لیکن دعا حق تعالیٰ سے کرتے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
آیت نمبر 14 تا 21
ترجمہ : اور موسیٰ اپنی بھرپور جوانی کو پہنچ گئے اور وہ تیس یا تینتیس سال ہیں اسور توانا اور تندرست ہوگئے یعنی چالیس سال کے ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا یعنی نبی بنائے جانے سے پہلے ہی ان کو حکمت اور دین کی سمجھ عطا کی اور ہم اسی طرح جیسا کہ موسیٰ کو جزاء دی اپنے اوپر احسان کرنے والوں کو جزاء دیتے ہیں اور موسیٰ شہر میں یعنی فرعون کے شہر میں جس کا نام مُنُفُ تھا ایک مدت غائب رہنے کے بعد ایسے وقت میں داخل ہوئے کہ شہر کے لوگ قیلولہ کے وقت غافل تھے یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا یہ ایک تو اس کی برادری کا یعنی اسرائیلی تھا اور دوسرا اس کے دشمن کی برادری کا یعنی قطبی…
Read the full tafseer →فخرج منھا خآبفًا یترقب . (یہ بات سنتے ہی) موسیٰ نکل کھڑے ہوئے ڈرتے ڈرتے ٹوہ لگاتے (کہ پیچھے
سے کوئی تلاش کرنے والا نہ آ رہا ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ سے مدد کی امید کرتے ہوئے اور دشمنوں سے ڈرتے ہوئے نکل چلے) ۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء اللہ کے سوا مخلوق سے بھی ڈرتے ہیں حالانکہ لاَ یَخْشَوْنَ اَحَدًا الاَّ اللّٰہِ قرآن کی نص قطعی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انی جان کا خوف فطری چیز ہے اور فطری خوف منافی نبوت نہیں۔ انبیاء جو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے اوامرو نواہی کے اظہار و اشاعت میں ذاتی ضرر پہنچنے سے وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ‘ ان کو کسی کی سوائے اللہ…
Read the full tafseer →(21) یہ سن کر حضرت موسیٰ ؑ خوف اور وحشت کی حالت میں اس شہر سے نکل پڑے کہ معلوم نہیں فرعونی کب مجھ کو پکڑ لیں اور کہنے لگے اے میرے پروردگار مجھ کو ان مصریوں سے بچائیے۔
Read the full tafseer →فَخَـــرَجَ مِنْهَا خَاۗىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ۡ۔۔ :”يَّتَرَقَّبُ ۡ“ ”رَقَبَۃٌ“ سے ہے، گردن پھیرکر ادھر ادھر دیکھنا، انتظار کرنا۔ موسیٰ ؑ کے علم میں یہ بات آئی تو فوراً اکیلے ہی اس شہر سے نکل کھڑے ہوئے۔ اس سے پہلے انھیں ایسا کوئی سابقہ پیش نہیں آیا تھا، بلکہ وہ شہزادے کی حیثیت سے نہایت خوش حالی کے ساتھ راحت و آرام کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ اب شہر سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے دشمن کی گرفت سے بچتے ہوئے نکلے، اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے میرے رب ! جس طرح تو نے میری معجزانہ طریقے سے پرورش فرمائی مجھے ان ظالم لوگوں سے نجات عطا فرما۔ ظالم اس لیے فرمایا کہ پہلے بیشمار مظالم کے علاوہ ان کا تازہ ترین ظلم یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
وجآء رجل اکثر مفسرین کی رائے ہے اس آدمی سے مراد حز قیل بن صبورا ہے جو آل فرعون کا مومن تھا۔ وہ فرعون کا چچا زاد تھا، ثعلبی نے یہ ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ طالتو تھا، یہ سہلی نے ذکر کیا ہے۔ مہوی نے قتدہ سے یہ قول نقل کیا ہے : وہ شمعون تھا جو آل فرعون کا مومن تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ شمعان تھا۔ دار قطنی نے کہا : شن کے ساتھ شمعان معروف نہیں مگر وہ ٓل فرعون کا مومن تھا۔ یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا حکم دیا اس آدمی کو خبر پہنچی تو اس نے کہا، یموسی ان الملایاتمرون بک تیرے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں اس قبطی کے بدلے میں جس کو تو نے گزشتہ کل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
1۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجاء رجل من اقصا المدینۃ یسع سے مراد ہے فرعون والوں میں سے ایک مومن آدمی۔
2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے شعیب الجبائی (رح) سے روایت کیا کہ وہ جس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا آیت ان الملأ یاتمرون بک، یعنی فرعون کے درباری آپ کو قتل کرنے کا مشورہ کر رہے ہیں اس کا نام شمعون تھا۔
قبطی نے راز فاش کردیا ؛
4۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ قبطی گیا اور اس نے راز فاش کردیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے آدمی کو قتل کیا ہے تو فرعون نے ان کو طلب کیا اور کہا اس کو پکڑ لو کیونکہ اس نے ہماری قو کے ایک فرد کو قتل کیا ہے اور ان لوگوں نے کہا…
Read the full tafseer →فَخَـــرَجَ [ تو رہ نکلے ] مِنْهَا [ اس سے ] خَاۗىِٕفًا [ ڈرنے والا ہوتے ہوئے ] يَّتَرَقَّبُ ۡ [ چوکنا ہوتے ہوئے ] قَالَ [ انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] رَبِّ [ اے میرے رب ] نَجِّــنِيْ [ تو نجات دے مجھ کو ] مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والی قوم سے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین پہنچنا وہاں دو لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلانا پھر ان میں سے ایک لڑکی سے شادی ہونا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب ایک شخص نے رائے دی کہ دربار والے تمہارے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں تم یہاں سے نکل جاؤ تو وہ سرزمین مصر سے روانہ ہوگئے اور مدین کی طرف چل دیئے جو ملک شام کا ایک شہر ہے۔ یہ علاقہ فرعونی حکومت میں شامل نہیں تھا۔ اور وہ زمانہ پاسپورٹ اور ویزے کا بھی نہیں تھا جو شخص جس ملک میں اور جس شہر میں چاہتا جاسکتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین کا رخ کیا وہاں کبھی تشریف نہیں لے گئے تھے راستہ معلوم نہیں تھا اللہ تعالیٰ سے خیر کی امید باندھ کر نکل کھڑے ہوئے اور یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–21
تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون
قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں…
Read the full tafseer →21:۔ موسیٰ (علیہ السلام) بلا توقت شہر سے نکل کھڑے ہوئے مگر یہ خوف بھی دامنگیر ہے کہ کہیں فرعون کے آدمی ان کو گرفتار نہ کرلیں یا قتل نہ کر ڈالیں اس کے ساتھ ہی اللہ کی طرف متوجہ ہو کر التجا کرتے ہیں کہ میرے پروردگار مجھے ظالموں سے بچانا کیونکہ اس کے سوا کوئی ملجا و ماوی نہیں یعنی ینتظر الطلب ھل یلحقہ فیاخذہ ثم لجا الی اللہ تعالیٰ لعلمہ انہ لا ملجا الا الیہ (خازن ج 5 ص 140) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ربط آیات
جب موسیٰ (علیہ السلام) عالم شباب کو پہنچے تو اللہ نے انہیں حکمت اور سمجھ عطا فرمائی آپ بری باتوں پر تنقید اور ظالموں کی مدد کرتے تھے ۔ اس دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ آپ دارالحکومت سے بارہ میل کے فاصلہ پر واقع شہر منصف میں ایسے وقت میں داخل ہوئے جب لوگ آرام کر رہے تھے ۔ آپ نے دیکھا کہ ایک قبطی اور اسرائیلی آپس میں جھگڑ رہے ہیں ۔ حسب معمول قبطی آدمی اسرائیلی پر زیادتی کر رہا تھا ، لہٰذا اسرائیلی نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد کی درخواست کی ۔ آپ نے اسے چھڑانے کی کوشش کی مگر قبطی ایسا کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ اس پر آپ نے قبطی کو ایک گھونسہ رسید کیا جسے وہ برداشت نہ کرسکا اور ہلاک…
Read the full tafseer →فَخَـــرَجَ مِنْہَا خَاۗىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ 0ۡقَالَ رَبِّ نَجِّــنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِـمِيْنَ 21ۧ
خوف
الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57]
( خ و) الخوف ( س )
کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
ترکیب : اتینہ جواب لما علی حین غفلۃ حال من المدینتہ ویجوزان یکون حالاً من الفاعل ای محتلساً ۔ ھذا من الخ الجملتان فی موضع نصب صفۃ لرجلین بما انعمت الباء للقسم والجواب محذوف دل علیہ فلن اکون ویمکن ان یکون المعنی بحق انعامک علی اعصمنی خائفًا حال من فاعل اصبح یترقب بدل منھا اوتاکید لہا یسعی صفۃ اخزی الرجل او حال والایتمارا التشاور لان کل واحد من المتش اور یں یامرصاحبہ بشی ئٍ او یشیر علیہ بامر۔
تفسیر : الغرض موسیٰ ( علیہ السلام) جب بھرپور جوان ہوگئے تو خدا نے ان کو حکم یعنی دانائی اور حکمت دی اور علم عطاء کیا۔ نیک و صالح اور باخدا اٹھے، لیکن ہنور نبوت نہیں عطا ہوئی تھی۔ بعض کہتے ہیں اشد اور…
Read the full tafseer →فَخَرَجَ مِنْھَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (القصص : 21)
(یہ خبر سنتے ہی) حضرت موسیٰ وہاں سے ڈرتے اور ٹوہ لیتے نکل کھڑے ہوئے اور آپ نے دعا کی کہ اے میرے رب ! مجھے ظالموں کی قوم سے بچا۔ )
خطرے سے نکلتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ خطرہ سر پر آپہنچا ہے اور اس ریاست کے ظالمانہ نظام میں انصاف حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ عافیت کا ایک ہی راستہ ہے کہ اس سرزمین سے نکلنے کی کوشش کی جائے۔ چناچہ آپ اس طرح مصر سے نکلے کہ دل اندیشوں سے معمور تھا اور نہایت پھونک پھونک کے قدم رکھ رہے تھے۔ کیونکہ یہ سرزمین اور اس کے رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
فہم القرآن
ربط کلام : ناعاقبت اندیش اور نام نہاد مظلوم کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو وطن چھوڑنا پڑا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے قتل خطا کی معافی مانگتے ہوئے یہ بھی عرض کی تھی کہ بار الٰہ ! میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میں مجرم کی حمایت نہیں کروں گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جس شخص کی حمایت کی تھی وہ کتنا ناعاقبت اندیش اور بدفطرت تھا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اگلی صبح کل کے واقعہ کی وجہ سے ڈرتے ہوئے گھر سے باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہی شخص آج پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی مدد کے لیے پکار رہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے طیش میں آکر فرمایا تو تو بڑا ظالم اور برا شخص ہے۔…
Read the full tafseer →21: فَخَرَجَ (پس موسیٰ (علیہ السلام) نکلے) ۔ مِنْہَا (اس شہر سے) خَأپفًا یَتَرَقَّبُ (ڈرتے ڈرتے ٹوہ لگاتے) کہ راستے میں کوئی تعرض کرنے والا نہ ہو یا کہیں ان کو قتل کرنے والا نہ آملے۔ اللہ کی مدد کی امید کرتے اور دشمنوں سے ڈرتے ہوئے نکل پڑے۔ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (کہا اے میرے رب تو مجھے ظالم قوم سے نجات عنایت فرما) ۔ یعنی قوم فرعون سے۔
Read the full tafseer →21۔ فخرج منھا، موسیٰ نے کہا ، خائفا یترقب، ، ٹوہ لگاتے ہوئے نکلے کہ کوئی ان ک پیچھے تو نہیں آرہا، قال رب نجنی من القوم الظالمین۔ اس سے مراد کافر ہیں قصہ میں آتا ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ کی طلب میں ہر راستے پر سپاہی بھیج دیے اور کہا کہ تمام راستوں پر چلے جاؤ کیونکہ موسیٰ کسی راستے سے واقف نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–26
14 تا 26۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھر پرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم اور سمجھ دونوں عنایت کئے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے نکل کر مدین میں پہنچنے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے ہوئے دیکھا جن میں ایک ان کے گروہ میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے حین غفلۃ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ دوپہر کا وقت تھا اسرائیل نے فریاد کی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
نبی سے کوئی جرم سرزد ہو تو خدا سے معافی مانگتا ہے
قول باری ہے : (فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ۔ موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا) نیز قول باری ہے (وقتلت نفسا۔ تونے ایک آدمی کو قتل کردیا تھا) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتادیا کہ انہوں نے گھونسا مار کر اس شخص کو قتل کردیا تھا پھر اپنے اس فعل پر جن الفاظ میں ندامت کا اظہار کیا تھا اس کا ذکر قرآن میں اس طرح ہوا ہے : (رب انی ظلمت نفسی۔ اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے نفس پر ظلم کرلیا) ۔
بعض حضرات کا قول ہے کہ تھپڑ مار کر کسی کی جان لے لینا قتل عمد ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) علی الاطلاق یہ نہ…
Read the full tafseer →26 حضرت موسیٰ کی اپنے رب کے حضور نجات کی دعا و درخواست : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر حضرت موسیٰ ڈرتے ہوئے وہاں سے نکل پڑے اور اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ اے میرے رب مجھے بچا لے ظالم لوگوں سے۔ سو یہ ہوتی ہے اللہ والوں کی شان۔ اور یہی ہے توکل کی حقیقت کہ اسباب اپنی طرف سے پورے اختیار کئے جائیں مگر بھروسہ اسباب پر نہیں مسبب الاسباب پر ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان ظالموں کی گرفت سے بچنے کے لئے وہاں سے نکل تو پڑے مگر آپ (علیہ السلام) کا بھروسہ اپنی تدبیر پر نہیں اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد پر ہے۔ اور فوراً عاجزانہ طور پر اس کے حضور دست بدعا ہوجاتے ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ حضرات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
ظلم کے خلاف جہاد ہجرت اور مدین میں قیام
تشریح : جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوئے تو بڑے خوبصورت پڑھے لکھے باشعور ‘ پاکیزہ ‘ نیک ‘ نرم دل ‘ متقی اور پرہیزگار جوان تھے۔ ملک میں چاروں طرف پھیلا ہوا ظلم و ستم ان کو کسی صورت بھی اچھا نہ لگتا تھا۔ کیونکہ اس وقت کے حاکم اور وزراء کی پالیسی یہ تھی کہ رعایا کی بجائے اپنے تاج و تخت کی زیادہ فکر کی جائے تو اس کے لیے ان کو یہ پالیسی زیادہ پسند تھی کہ رعایا کو آپس میں کسی نہ کسی طرح لڑائے رکھو تاکہ وہ حکمرانوں کی زیادتیوں کی طرف نہ متوجہ ہوں اور نہ ہی احتجاج کریں بس آپس میں ہی لڑتے مرتے رہیں۔ اس لیے ملک میں امن وامان نام کی کوئی چیز نہ تھی اور خاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
آیات 14 تا 21
اسرارو معارف
جب موسیٰ (علیہ السلام) جوانی کو پہنچے تو وہ بہت سمجھدار اور باعلم تھے ہم نے انہیں علم و احکمت کہ فطرت سلیمہ قبل از بعثت نبی کو نصیب ہوتی ہے عطا فرمائی۔ اور نیکی کے کرنے والے مخلص لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا جاتا ہے۔
نیکی سے دنیا کے امور کو سمجھنے کی استعداد بھی زیادہ ہوجاتی ہے :
یہ ثابت ہوا کہ خلوص کے ساتھ نیک اعمال کرنے سے دنیا کے معاملات کو بہتر سمجھنے کی صلاحیت عطا ہوتی ہے ہمارے ہاں جو نیک لوگوں کے زیادہ بھولے ہونے کی بات ہے تو غالبا یہاں نیکی صرف عبادت کو سمجھ لیا گیا ہے جبکہ نیکی سے مراد عبادت اور پوری عملی زندگی میں بھرپور حصہ لینا ہے۔ اللہ کرے ہمارے عبادت گزار…
Read the full tafseer →11 ۔ جو بےقصور مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ کسی شریعت یا انصاف کے قانون سے ایسی خفیف بےاحتیاطی کی سزا قتل نہیں ہے۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →(28:21) خائفا یترقب۔ ڈرتے ہوئے اور (اپنی گرفتاری کا) کھٹکا و اندیشہ لئے ہوئے (ملاحظہ ہو آیت 18 مذکورہ بالا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
لغات القرآن : آیت نمبر 18 تا 21 :
یترقب (انتظار کرتا ہے۔ دیکھتا بھالتا ہے) استنصر (اس نے مدد مانگی) ‘ الامس (گذشۃ کل) ‘ یستصرخ (فریاد کرتا ہے۔ چلاتا ہے) ‘ غوی (گم راہ) یبطش (وہ پکڑتا ہے) جبار (زبردستی کرنے والا) ‘ اقصا ( دور) ‘ یا تمرون (وہ مشورہ کرتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 18 تا 21 :
ظالم و جابر قوموں کا انداز ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ اگر ہزاروں آدمی بھی ان کے ظلم وستم کا شکار ہوکر مرجائیں ‘ قتل ‘ ہوجائیں اور تباہ و برباد ہوجائیں تو ان کے نزدیک کوئی خاص بات نہیں ہوتی لیکن اگر ان ظالموں کا ایک آدمی بھی مارا جائے تو اس کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے جیسے ساری انسانیت کا خون ہوگیا ہے۔ چناچہ فرعون جو اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سفر۔
(ف 1) جب فرعونی ظالم پر حضرت موسیٰ نے ہاتھ ڈالنا چاہا تو اسرائیلی نے جانا کہ مجھے مارنا چاہتے ہو کیونکہ مجھ ہی پر خفا ہوئے ہیں اور اپنے بچانے کے واسطے کہنے لگا کہ حضرت موسیٰ تم چاہتے ہو کہ جس طرح تم نے کل ایک آدمی کو مارڈالا اسی طرح مجھ کو بھی آج مارڈالو گے، اس سے پیشتر پہلے روز کا معاملہ سوائے موسیٰ اور اس اسرائیلی کے کوئی اور نہیں جانتا تھا فرعونی یہ سب سنا تو اس نے دوڑ کر فرعون سے جاکرکہا کہ کل کے روز جو تمہارا آدمی مارا گیا ہے اس کو حضرت موسیٰ نے قتل کیا ہے فرعون بہت غصہ ہوا اور موسیٰ کے مارنے کا ارادہ کیا کئی پیادے مقرر کیے کہ حضرت موسیٰ کو تلاش کرکے لاؤ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
[12] یعنی اگر ہمارے والد جوان اور توانا ہوتے تو ہمیں نہ آنا پڑتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
ف 1 : جب حضرت موسیٰ ڈھونڈتے اور تلاش کرتے ہوئے مدین پہنچ گئے ۔ تو وہاں ایک پانی کے مقام پر لوگوں کا مجمع دیکھا کہ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں ۔ اور ان سے الگ دو عورتیں چپ چاپ کھڑی ہیں ۔ اور دیکھ رہی ہیں ۔ موسیٰ اپنی مصیبت کو بھول گئے ۔ اور انسانی ہمدردی سے مجبور ہوکر پوچھا ۔ خاتون محترم ! یہاں کیوں کھڑی ہو ؟ انہوں نے کہا ۔ ہم جانوروں کو اس وقت تک کیسے پانی پلاسکتی ہیں ۔ جب تک کہ یہ بھیڑ نہ چھٹ جائے ۔ اور پھر یہ خیال کرکے کہ کہیں یہ اجنبی دل میں ہمارے متعلق کوئی بری رائے قائم نہ کرلے ۔ اور یہ نہ کہے کہ یہ پانی پلانے کے لئے یہاں کیوں آئی ہیں ؟ انہوں نے دفع دخل مقدر کے طور پر کہہ دیا ۔ کہ…
Read the full tafseer →21۔ غرض موسیٰ (علیہ السلام) ڈرتا سب طرف دیکھتا بھالتا اس شہر سے نکل گیا موسیٰ (علیہ السلام) نے نکلتے وقت دعا کی میرے پروردگار مجھے ان ظالموں لوگوں سے خلاصی دے اور بچا لے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کبھی سفر نہیں کیا تھا آرام کی زندگی چھوڑ کر سفر اختیار کیا برہنہ پانہ کوئی زاد سفر ہمراہ لیا ۔ مدین تقریبا ً آٹھ یوم کی مسافت پر تھا فرعون کی وہاں حکومت نہ تھی اور فرعون کے حیطہ اقتدار سے باہر تھا مدین کی جانب تین راستے جاتے تھے انہوں نے درمیانی پگڈنڈی کو اختیار کیا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ سنایا ہمارے رسول کو کہ یہ بھی وطن سے نکلے جان کے خوف سے کافرسب اکٹھے ہوئے کہ ان پر مل کر چوٹ کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ف 2۔ اور امن کی جگہ پہنچا دیجئے۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) نے خاموشی سے اس شہر کو چھوڑ دیا اور مدین کی راہ لی :
21۔ ہم نے پہلے بھی وضاحت سے تحریر کیا ہے اور اب بھی کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دوست کے مشورہ کے مطابق جب مصر کو چھوڑنے کا پختہ ارادہ کیا تو وہاں سے نکل کر اس طرف کو چلے جس طرف سے مصر کے اندر رہتے ہوئے کسی اللہ کے بندے کا ذکر سنا تھا کہ وہ بہت ہی نیک اور صالح انسان ہے جس کی تفصیل پیچھے سورة الکہف میں گزر چکی ہے اور یہ بھی کہ جب آپ مصر سے نکلے تو ایک آدمی آپ کے ساتھ نکلا آپ نے اپنے ساتھ اس کو لیا وہ یہی اطلاع دینے والا شخص تھا یوشع بن نون یا کوئی دوسرا شخص بہرحال اس سفر میں وہ اکیلے نہیں تھے اور یہ سفر مصر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
Commentary
وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاءَ مَدْيَنَ (And when he set out towards Madyan - 28:22). Madyan (مَدْيَنَ ) is the name of a city in Sham (a large territory now consisting of Syria, Jordan, Lebanon and Palestine) which was named after Madyan, the son of Ibrahim (علیہ السلام) . This area was outside the empire of the Pharaoh. It was eight days journey from Egypt. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) was taken over by the natural fright of the pursuing army of the Pharaoh, which was not in conflict either with the prophethood or with trust in Allah, he resolved to leave Egypt. Perhaps he…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
31 Both the Bible and the Qur'an agree that after leaving Egypt the Prophet Moses had gone to live in Madyan (Midian). But the Talmud tells the absurd story that Moses fled to Ethiopia and became a great favourite with the king there. After the king's death the people made Moses their king and leader and gave him the widow of the king for a wife, but during the 40 years of his reign there he never had intercourse with his negro wife. Then the queen of Ethiopia, who was a wife to Moses in name only, said to the people, "Why should this stranger continue to rule over you '? He has never…
Read the full tafseer →