Al-Qasas 28:20

Al-Qasas · from ayah 20

28:20

وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰی ؗ— قَالَ یٰمُوْسٰۤی اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ ۟وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى قَالَ يٰمُوۡسٰٓى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ لِيَـقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ اِنِّىۡ لَـكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ

اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا (اور) بولا کہ موسٰی (شہر کے) رئیس تمہارے بارے میں صلاحیں کرتے ہیں کہ تم کو مار ڈالیں سو تم یہاں سے نکل جاؤ۔ میں تمہارا خیر خواہ ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And a man came from the farthest end of the city, running. He said, "O Moses, indeed the eminent ones are conferring over you [intending] to kill you, so leave [the city]; indeed, I am to you of the sincere advisors."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 2 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:20

اس کے بعد ایک آدمی شہر کے پرلے سِرے سے دَوڑتا ہوا آیا اور بولا "موسیٰؑ، سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں، یہاں سے نکل جا، میں تیرا خیر خواہ ہوں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا (اور) بولا کہ موسٰی (شہر کے) رئیس تمہارے بارے میں صلاحیں کرتے ہیں کہ تم کو مار ڈالیں سو تم یہاں سے نکل جاؤ۔ میں تمہارا خیر خواہ ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا اے موسیٰ! یہاں کے سردار تیرے قتل کا مشوره کر رہے ہیں، پس تو بہت جلد چلا جا مجھے اپنا خیر خواه مان

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اس کے بعد یہ ہوا کہ) شہر کے بالکل دور دراز علاقے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا کہ : موسیٰ ! سردار لوگ تمہارے بارے میں مشورے کر رہے ہیں کہ تمہیں قتل کر ڈالیں، اس لیے تم یہاں سے نکل جاؤ، یقین رکھو میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑ تا آیا، کہا اے موسیٰ! بیشک دربار والے آپ کے قتل کا مشورہ کررہے ہیں تو نکل جایے میں آپ کا خیر خواہ ہوں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور شہر کے آخری کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اس نے کہا: اے موسٰی! (قومِ فرعون کے) سردار آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ وہ آپ کو قتل کردیں سو آپ (یہاں سے) نکل جائیں بیشک میں آپ کے خیر خواہوں میں سے ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ایک آدمی شہر کے سب سے دور کنارے سے دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا اے موسیٰ ! بیشک سردار تیرے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ تجھے قتل کردیں، پس نکل جا، یقینا میں تیرے لیے خیرخواہوں سے ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (اس واقعہ کے بعد) ایک شخص شہر کے پرلے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا : موسیٰ ! اہل دربار تیرے متعلق مشورہ کر رہے ہیں کہ تمہیں قتل کر ڈالیں لہذا یہاں سے نکل جاؤ۔ میں یقینا تمہارا خیرخواہ ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور شہر کے پر لے سرے سے ایک شخص بھاگا ہوا آیا۔ اس نے بتایا کہ اے موسیٰ اعیان حکوتم تمہارے قتل کے مشورے کر رہے ہیں تو یہاں سے نکل جائو، میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ایک شخص جو موسیٰ کا خیر خواہ تھا شہر کے پرلے کنارے سے دوڑتا ہوا موسیٰ کے پاس آیا اور کہا اے موسیٰ دربار والے آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ آپ کو قتل کردیں پس آپ جس قدر جلد ممکن ہو سکے یہاں سے نکل جائیں میں یقینی طور پر آپ کا بڑا خیر خواہ ہوں

— مولانا اسحاق مدنی

اور ایک شخص شہر کے کنارہ سے۔ دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا اے موسیٰ ؑ اہل دربار آپ کے متعلق مشورہ کررہے ہیں کہ آپ کو قتل کردیں۔ سو آپ چلے جائیے میں آپ کا بڑا خیر خواہ ہوں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ایک شخص آیا شہر کے آخری کنارے سے دوڑتا ہوا اس نے کہا : اے موسیٰ ؑ ٰ ! اعیان حکومت تمہارے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ تمہیں قتل کردیں تو تم یہاں سے نکل جاؤ میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا اور بولا ”موسیٰ شہر کے رئیس تمہارے بارے میں صلاحیں کرتے ہیں کہ تم کو مار ڈالیں سو تم یہاں سے نکل جاؤ۔ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then a man came running from the farther end of the city and said: "O Moses, the nobles are deliberating about you that they may put you to death. So do be gone. I am one of your well-wishers."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And there came a man running from the farthest part of the city. He said, :The chiefs are counseling each other about you, so that they kill you. So, leave (the city). I am one of your well-wishers.

— Muhammad Taqi Usmani

And there came a man running from the farthest part of the city. He said, :The chiefs are counseling each other about you, so that they kill you. So, leave (the city). I am one of your well-wishers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And there came a man running, from the farthest end of the city. He said: "O Musa! Verily, the chiefs are taking counsel together about you, to kill you, so escape. Truly, I am one of the good advisers to you."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And a man came from the uttermost part of the city, running. He said: O Moses! Lo! the chiefs take counsel against thee to slay thee; therefor escape. Lo! I am of those who give thee good advice.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And a man came from the farthest end of the city, running. He said, "O Moses, indeed the eminent ones are conferring over you [intending] to kill you, so leave [the city]; indeed, I am to you of the sincere advisors."

— Saheeh International

A man came running from the farthest part of the city saying, "Moses, people are planning to kill you. I sincerely advise you to leave the city.

— Muhammad Sarwar

And a man came running from the remotest part of the city. He said: O Musa! surely the chiefs are consulting together to slay you, therefore depart (at once); surely I am of those who wish well to you.

— Muhammad Habib Shakir

And there came a man from the farthest part of the city, running; he said: O Musa! the chiefs are taking counsel together concerning thee, that they might slay thee; wherefore go forth thou, verily I am unto thee of the admonishers.

— Abdul Majid Daryabadi

And there came a man, running, from the furthest end of the City. He said: "O Moses! the Chiefs are taking counsel together about thee, to slay thee: so get thee away, for I do give thee sincere advice."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

گمنام ہمدر اس آنے والے کو رجل کہا گیا۔ عربی میں رجل کہتے ہیں قدموں کو۔ اس نے جب دیکھا کہ سپاہ حضرت موسیٰ کے تعاقب میں جارہی ہے تو یہ اپنے پاؤں پر تیزی سے دوڑا اور ایک قریب کے راستے سے نکل کر جھٹ سے آپ کو اطلاع دے دی کہ یہاں کے امیر امراء آپ کے قتل کے ارادے کرچکے ہیں آپ شہر چھوڑ دیجئے۔ میں آپ کا بہی خواہ ہوں میری مان لیجئے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 20–21

سورة القصص 30 یعنی اس دوسرے جھگڑے میں جب قتل کا راز فاش ہوگیا اور اس مصری نے جاکر مخبری کردی تب یہ واقعہ پیش آیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–21

قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِيْرًا لِّلْمُجْرِمِيْنَ ، حضرت موسیٰ ؑ کی اس لغزش کو جب حق تعالیٰ نے معاف فرما دیا تو آپ نے اس نعمت کے شکر میں یہ عرض کیا کہ میں آئندہ کسی مجرم کی مدد نہ کروں گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جس اسرائیلی کی مدد کے لئے یہ اقدام کیا تھا دوسرے واقعہ سے یہ بات ثابت ہوگئی تھی کہ وہ خود ہی جھگڑالو ہے، جھگڑا لڑائی اس کی عادت ہے اس لئے اس کو مجرم قرار دے کر آئندہ کسی ایسے شخص کی مدد نہ کرنے کا عہد فرمایا اور حضرت ابن عباس سے اس جگہ مجرمین کی تفسیر کافرین کے ساتھ منقول ہے اور قتادہ نے بھی تقریباً ایسا ہی فرمایا ہے اس تفسیر کی بنا پر واقعہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مرد مومن کا کردار حضرت موسیٰ ؑ کی ذات تو، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، پہلے ہی سے فرعونیوں کی نظر میں کھٹک رہی تھی لیکن جب یہ واقعہ پیش آگیا اور ایک اسرائیلی ہی کی زبان سے وہ افشا بھی ہوگیا تو قدرتی طور پر فرعونیوں کی آتش غضب پوری طرح ان کے خلافبھڑک اٹھی اور وہ ان کے قتل کے منصوبے بنانے لگے۔ وجآء رجل من اقصا المدینۃ یسعی اصل شہر جو حکومت اور اعیان حکومت کا مرکز تھا، وہ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، بنی اسرائیل کی بستی سے پرے تھا اس وجہ سے اس کو اقصا المدینۃ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ فرمایا کہ وہاں سے ایک شخص یہ معلوم کر کے اعیان حکومت حضرت موسیٰ کے قتل کے مشورے کر رہے ہیں، بھاگا ہوا حضرت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

20-1یہ آدمی کون تھا ؟ بعض کے نزدیک یہ فرعون کی قوم کا تھا جو در پردہ حضرت موسیٰ ؑ کا خیر خواہ تھا۔ اور ظاہر ہے سرداروں کے مشورے کی خبر ایسے ہی آدمی کے ذریعے آنا زیادہ قرین قیاس ہے۔ بعض کے نزدیک یہ موسیٰ ؑ کا قریبی رشتے دار اور اسرائیلی تھا۔ اوراقصائے شہر سے مراد منف ہے جہاں فرعون کا محل اور دارالحکومت تھا اور یہ شہر کے آخری کنارے پر تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–21

10: حضرت موسیٰ ؑ نے ہاتھ تو اس مصری کی طرف بڑھایا تھا، تاکہ اسے مارنے سے روکیں ؛ لیکن اسرائیلی نے جب ان کا یہ جملہ سنا کہ تم بڑے شریر آدمی ہو تو وہ یہ سمجھا کہ وہ اس کو مارنے کے لئے ہاتھ بڑھا رہے ہیں، اس لئے اس نے یہ بات کہی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وجآء رجل من اقصا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لک من النصحین (20) ” اس کے بعد ایک آدمی شہر کے پرلے سرے سے دوڑتا ہوا آیا اور بولا ” اے موسیٰ ، سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں ، یہاں سے نکل جا ، میں تیرا خیر خواہ ہوں “۔ فرعون کے سرداروں ، اس کے حاشیہ نشینوں اور حکومتی افسروں اور اس کے خاص الخاص لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ قتل میں موسیٰ کا ہاتھ ہے۔ اس لیے انہوں نے محسوس کرلیا کہ موسیٰ کی صورت میں خطرہ مجسم ہوکر آلگا ہے۔ کیونکہ یہ ایک ایسا کام ہے جس کی نوعیت انقلابی اور خطرناک ہے۔ یہ بغاوت کا آغاز ہے۔ اور اس کے محرکات میں بنی اسرائیل کا جذبہ انتقام ہے۔ لہٰذا یہ ایک نہایت خطرناک رجحان ہے اور اس کے انسداد کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی خون کی خبر فرعون کو پہنچ گئی۔ وہاں مشورے ہوئے کہ غیر قوم کے آدمی کا یہ حوصلہ ہوگیا ہے کہ شاہی قوم کے افراد اور سرکاری ملازموں کو قتل کر ڈالے۔ سپاہی دوڑائے گئے کہ موسیٰ کو گرفتار کر کے لائیں۔ شاید مل جاتے تو قتل کرتے، اسی مجمع میں سے ایک نیک طینت کے دل میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی خیر خواہی ڈال دی۔ وہ جلدی کر کے مختصر راستہ سے بھاگا ہوا آیا۔ اور حضرت موسیٰ کو واقعہ کی اطلاع کر کے مشورہ دیا کہ تم فوراً شہر سے نکل جاؤ۔ حضرت شاہ صاحب ' لکھتے ہیں کہ یہ سنایا ہمارے پیغمبر کو کہ لوگ ان کی جان لینے کی فکر کریں گے اور وہ بھی وطن سے نکلیں گے۔ چناچہ کافر سب اکٹھے ہوئے تھے کہ ان پر مل کر چوٹ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 20 وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَۃِ یَسْعٰیز ” یعنی اس دوسرے جھگڑے میں جب قتل کا راز فاش ہوگیا تو اس قبطی نے جا کر مخبری کی ہوگی۔ تب یہ واقعہ پیش آیا ہوگا۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ فرعون اور دوسرے امرائے سلطنت کے محلات شہر کی عام آبادی سے دور تھے۔ چناچہ ایک شخص وہاں سے دوڑتا ہوا آیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام تک یہ خبر پہنچائی۔ قَالَ یٰمُوْسٰٓی اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِکَ لِیَقْتُلُوْکَ ” یعنی آپ علیہ السلام کے ہاتھوں قبطی کے مارے جانے کی خبر ارباب اقتدار تک پہنچ جانے کے بعد ایوان حکومت میں آپ علیہ السلام کے قتل کی قرار داد پیش ہوچکی تھی اور آپ علیہ السلام کے قتل کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

30 فرعون کے درباریوں کو اب اس امر میں کچھ شبہ نہ رہا تھا کہ موسیٰ شاہی خاندان کا فرد ہونے کے باوجود بنی اسرائیل کا ساتھ دیتے ہیں۔ لہذا انہوں نے باہمی مشورے کے بعد یہی طے کیا کہ موسیٰ کو قتل کردیا جائے۔ درباریوں میں سے ہی ایک آدمی حضرت موسیٰ کا دل سے خیر خواہ تھا۔ وہ فوراً وہاں سے اٹھا اور دوڑتا ہوا موسیٰ کے پاس پہنچا اور کہا : جتنی جلدی ہو سکے اس شہر سے نکل جاؤ کیونکہ تمہارے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں اور میں صرف اس خیال سے بھاگ کر یہاں پہنچا ہوں کہ تمہیں بروقت صحیح صورت حال سے مطلع کردوں۔ لہذا دیر نہ کرو اور فوراً یہاں سے کہیں دور چلے جاؤ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

27۔ یعنی بڑے فاصلہ پر اس مقام سے جہاں شاہی کمیٹیاں منعقد ہوتی رہتی تھیں۔ (آیت) ” رجل “ یہ شخص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مومن مخلص تھا۔ 28۔ یعنی سرکاری کمیٹی میں گفتگو اس موضوع پر ہورہی ہے کہ آپ کو اس مصری نے یہ سنا تو چاہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرے۔ “ (خروج۔ 2: 15)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–21

آیت نمبر 14 تا 21 ترجمہ : اور موسیٰ اپنی بھرپور جوانی کو پہنچ گئے اور وہ تیس یا تینتیس سال ہیں اسور توانا اور تندرست ہوگئے یعنی چالیس سال کے ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا یعنی نبی بنائے جانے سے پہلے ہی ان کو حکمت اور دین کی سمجھ عطا کی اور ہم اسی طرح جیسا کہ موسیٰ کو جزاء دی اپنے اوپر احسان کرنے والوں کو جزاء دیتے ہیں اور موسیٰ شہر میں یعنی فرعون کے شہر میں جس کا نام مُنُفُ تھا ایک مدت غائب رہنے کے بعد ایسے وقت میں داخل ہوئے کہ شہر کے لوگ قیلولہ کے وقت غافل تھے یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا یہ ایک تو اس کی برادری کا یعنی اسرائیلی تھا اور دوسرا اس کے دشمن کی برادری کا یعنی قطبی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وجآ رجل من اقصا المدینۃ یسعٰی . اور شہر کے آخری حصہ کا رہنے والا دوڑتا ہوا (حضرت موسیٰ کے پاس) آیا۔ اکثر اہل تفسیر نے اس کا نام حزئیل بتایا ہے مُؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ (قبطیوں میں سے ایک مرد مؤمن) اسی کو کہا گیا ہے۔ بعض نے اس کا نام شمعون اور بعض نے سمعا بیان کیا ہے۔ قال یموسیٰ ان المہال یاتمرون بک لیقتلوک فاخرج انی لک من النصحین . اور اس نے کہا : موسیٰ (فرعون کے) درباری آپ کو قتل کرنے کا مشورہ کر رہے ہیں آپ فوراً یہاں سے (باہر) نکل جائیے۔ میں قطعی آپ کے خیرخواہوں میں سے ہوں (اس لئے دوڑا ہوا اطلاع دینے آیا ہوں) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(20) آخر حضرت موسیٰ ؑ کے قتل کی تجویز قرار پائی وہاں حضرت موسیٰ ؑ کے خیرخواہ تھے جو حزقیل نامی شہر کے اس کنارے سے دوڑتے ہوئے آئے اور عرض کیا اے موسیٰ ؑ مقتول کے وارثوں نے آپ کے قتل کرنے پر اتفاق کرلیا ہے سو آپ اس شہر سے فورا چلے جائیے میں آپ کی خیر خواہی کر رہا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَجَاۗءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ يَسْعٰى۔۔ : ادھر فرعون کے آدمی موسیٰ ؑ کو گرفتار کرنے کے لیے روانہ ہوئے، ادھر مجلس میں موجود ایک شخص فوراً شہر کے سب سے دور کنارے سے گلیوں بازاروں کے قریب ترین راستے سے دوڑتا ہوا آیا اور موسیٰ ؑ سے کہنے لگا، موسیٰ ! سردار تمہیں قتل کرنے کا مشورہ کر رہے ہیں، اس لیے فوراً یہاں سے نکل جاؤ، میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔ 3 سورة یٰس میں ہے : (وَجَاۗءَ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ رَجُلٌ يَسْعٰى) [ یٰس : 20 ] جب کہ یہاں ہے : (وَجَاۗءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ يَسْعٰى) مفسرین نے فرمایا، ہر مقام پر وہ لفظ پہلے لایا جاتا ہے جو وہاں اہم ہوتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–22

وجآء رجل اکثر مفسرین کی رائے ہے اس آدمی سے مراد حز قیل بن صبورا ہے جو آل فرعون کا مومن تھا۔ وہ فرعون کا چچا زاد تھا، ثعلبی نے یہ ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ طالتو تھا، یہ سہلی نے ذکر کیا ہے۔ مہوی نے قتدہ سے یہ قول نقل کیا ہے : وہ شمعون تھا جو آل فرعون کا مومن تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ شمعان تھا۔ دار قطنی نے کہا : شن کے ساتھ شمعان معروف نہیں مگر وہ ٓل فرعون کا مومن تھا۔ یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا حکم دیا اس آدمی کو خبر پہنچی تو اس نے کہا، یموسی ان الملایاتمرون بک تیرے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں اس قبطی کے بدلے میں جس کو تو نے گزشتہ کل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–21

1۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجاء رجل من اقصا المدینۃ یسع سے مراد ہے فرعون والوں میں سے ایک مومن آدمی۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے شعیب الجبائی (رح) سے روایت کیا کہ وہ جس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا آیت ان الملأ یاتمرون بک، یعنی فرعون کے درباری آپ کو قتل کرنے کا مشورہ کر رہے ہیں اس کا نام شمعون تھا۔ قبطی نے راز فاش کردیا ؛ 4۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ قبطی گیا اور اس نے راز فاش کردیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے آدمی کو قتل کیا ہے تو فرعون نے ان کو طلب کیا اور کہا اس کو پکڑ لو کیونکہ اس نے ہماری قو کے ایک فرد کو قتل کیا ہے اور ان لوگوں نے کہا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَجَاۗءَ [ اور آیا ] رَجُلٌ [ ایک شخص ] مِّنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ [ شہر کے زیادہ دور سے ] يَسْعٰى ۡ [ دوڑتا ہوا ] قَالَ [ اس نے کہا ] يٰمُوْسٰٓى [ اے موسیٰ (علیہ السلام) ] اِنَّ الْمَلَاَ [ بیشک سردار لوگ ] يَاْتَمِرُوْنَ [ مشورہ کرتے ہیں ] بِكَ [ آپ (علیہ السلام) کے بارے میں ] لِيَقْتُلُوْكَ [ کہ وہ قتل کریں آپ (علیہ السلام) کو ] فَاخْرُجْ [ پس آپ (علیہ السلام) نکل جائیں ] اِنِّىْ [ بیشک میں ] لَكَ [ آپ (علیہ السلام) کے لئے ] مِنَ النّٰصِحِيْنَ [ خیر خواہی کرنے والوں میں سے ہوں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 16–22

موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین پہنچنا وہاں دو لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلانا پھر ان میں سے ایک لڑکی سے شادی ہونا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب ایک شخص نے رائے دی کہ دربار والے تمہارے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں تم یہاں سے نکل جاؤ تو وہ سرزمین مصر سے روانہ ہوگئے اور مدین کی طرف چل دیئے جو ملک شام کا ایک شہر ہے۔ یہ علاقہ فرعونی حکومت میں شامل نہیں تھا۔ اور وہ زمانہ پاسپورٹ اور ویزے کا بھی نہیں تھا جو شخص جس ملک میں اور جس شہر میں چاہتا جاسکتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین کا رخ کیا وہاں کبھی تشریف نہیں لے گئے تھے راستہ معلوم نہیں تھا اللہ تعالیٰ سے خیر کی امید باندھ کر نکل کھڑے ہوئے اور یوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–21

تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–20

20:۔ اسرائیلی کی گفتگو سے قبطی کے قتل کا معمہ حل ہوگیا اور یہ خبر فورًا فرعون تک پہنچ گئی۔ فروعن اور اس کے مشیروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ فرعون کے رشتہ داروں میں ایک نیک دل انسان (جو بعد میں موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا اور قرآن میں جسے مومن آل فرعون کہا گیا ہے) شمعون یا حزقیل کو اس کی اطلاع ہوگئی وہ دوڑتا ہوا موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا اور دربار فرعون کے فیصلے سے انہیں آگاہ کیا اور مشورہ دیا کہ وہ فورًا اس شہر سے ہجرت کر جائیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–21

ربط آیات جب موسیٰ (علیہ السلام) عالم شباب کو پہنچے تو اللہ نے انہیں حکمت اور سمجھ عطا فرمائی آپ بری باتوں پر تنقید اور ظالموں کی مدد کرتے تھے ۔ اس دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ آپ دارالحکومت سے بارہ میل کے فاصلہ پر واقع شہر منصف میں ایسے وقت میں داخل ہوئے جب لوگ آرام کر رہے تھے ۔ آپ نے دیکھا کہ ایک قبطی اور اسرائیلی آپس میں جھگڑ رہے ہیں ۔ حسب معمول قبطی آدمی اسرائیلی پر زیادتی کر رہا تھا ، لہٰذا اسرائیلی نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد کی درخواست کی ۔ آپ نے اسے چھڑانے کی کوشش کی مگر قبطی ایسا کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ اس پر آپ نے قبطی کو ایک گھونسہ رسید کیا جسے وہ برداشت نہ کرسکا اور ہلاک…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَجَاۗءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَۃِ يَسْعٰى۝ 0ۡقَالَ يٰمُوْسٰٓى اِنَّ الْمَلَاَ يَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِيَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّىْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيْنَ۝ 20 جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–21

ترکیب : اتینہ جواب لما علی حین غفلۃ حال من المدینتہ ویجوزان یکون حالاً من الفاعل ای محتلساً ۔ ھذا من الخ الجملتان فی موضع نصب صفۃ لرجلین بما انعمت الباء للقسم والجواب محذوف دل علیہ فلن اکون ویمکن ان یکون المعنی بحق انعامک علی اعصمنی خائفًا حال من فاعل اصبح یترقب بدل منھا اوتاکید لہا یسعی صفۃ اخزی الرجل او حال والایتمارا التشاور لان کل واحد من المتش اور یں یامرصاحبہ بشی ئٍ او یشیر علیہ بامر۔ تفسیر : الغرض موسیٰ ( علیہ السلام) جب بھرپور جوان ہوگئے تو خدا نے ان کو حکم یعنی دانائی اور حکمت دی اور علم عطاء کیا۔ نیک و صالح اور باخدا اٹھے، لیکن ہنور نبوت نہیں عطا ہوئی تھی۔ بعض کہتے ہیں اشد اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَجَآئَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَاالْمَدِیْنَۃِ یَسْعٰیز قَالَ یٰـمُوْسٰٓی اِنَّ الْمَلَاَیَاْ تَمِرُوْنَ بِکَ لِیَقْتُلُوْکَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَـکَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ ۔ (القصص : 20) (اور شہر کے پرلے سرے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا، اے موسیٰ ! عیانِ حکومت تمہارے قتل کے مشورے کررہے ہیں یہاں سے نکل جاؤ، میں تمہارے خیرخواہوں میں سے ہوں۔ ) ایک صالح آدمی کی خیر خواہی معلوم ہوتا ہے کہ قبطی کے قتل کی خبرشہر میں تیزی سے پھیل گئی اور قوم کے وہ اشراف جو پہلے سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بدگمان تھے اور آپ ( علیہ السلام) کے خلاف ادھار کھائے بیٹھے تھے انھیں دیگر عمائدینِ حکومت کو آپ کیخلاف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–21

فہم القرآن ربط کلام : ناعاقبت اندیش اور نام نہاد مظلوم کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو وطن چھوڑنا پڑا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے قتل خطا کی معافی مانگتے ہوئے یہ بھی عرض کی تھی کہ بار الٰہ ! میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میں مجرم کی حمایت نہیں کروں گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جس شخص کی حمایت کی تھی وہ کتنا ناعاقبت اندیش اور بدفطرت تھا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اگلی صبح کل کے واقعہ کی وجہ سے ڈرتے ہوئے گھر سے باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہی شخص آج پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی مدد کے لیے پکار رہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے طیش میں آکر فرمایا تو تو بڑا ظالم اور برا شخص ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

20 : وَجَآئَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَی الْمَدِیْنَۃِ (اور ایک آدمی شہر کے آخری کنارے سے آیا) ۔ یہ آل فرعون کا مومن ہی تھا۔ یہ فرعون کا چچا زاد تھا۔ یَسْعٰی (دوڑتا ہوا) ۔ نحو : یہ رجل کی صفت ہے۔ نمبر 2۔ رجل سے حال ہے کیونکہ اس کی صفت من اقصی المدینۃ سے کی گئی ہے۔ قَالَ مُوْسٰٓی اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِکَ لِیَقْتُلُوْکَ (کہا اے موسیٰ بلاشبہ سردار تمہارے متعلق مشورہ کر رہے ہیں تاکہ تمہیں قتل کردیں) ۔ وہ ایک دوسرے کو تیرے قتل کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ نمبر 2۔ وہ تیرے متعلق باہمی مشورہ کر رہے ہیں۔ الائتمار۔ (مشورہ کرنا) ۔ کہا جاتا ہے الرجلان یتأمران و یأتمران۔ وہ دو مشورہ کرتے ہیں۔ کیونکہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

20۔ وجاء رجل، موسیٰ کی جماعت سے ، من اقصی المدینہ، شہر کے آخری حصہ کا رہنے والااکثر اہل تفسیر نے اس کا حزقیل بتایا ہے۔ بعض نے کہا کہ اس کا نام شمعون تھا۔ بعض نے کہا اس کا نام سمعان تھا، یسعی، وہ چلنے مین تیری کے ساتھ آیا اور اس نے قریب والاراستہ اختیار کیا۔ یہاں تک کہ وہ ان سے پہلے موسیٰ کے پاس پہنچ گیا اور ان کو خبر دی کہ اور کہا کہ آپ فورا یہاں سے نکل جائیں اور کوئی راستہ اختیار کرلیں۔ ” قال یاموسی ان الملاء یاتمرون بک، ، کہ فرعون کے درباری آپ کو قتل کرنے کا مشورہ کررہے ہیں۔ لیقتلوک، زجاج کا قول ہے کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کرنے کا حکم دے رہیں ہیں۔ فاخرج، شہر سے نکل جائیے۔ انی لک من…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–26

14 تا 26۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھر پرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم اور سمجھ دونوں عنایت کئے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے نکل کر مدین میں پہنچنے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے ہوئے دیکھا جن میں ایک ان کے گروہ میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے حین غفلۃ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ دوپہر کا وقت تھا اسرائیل نے فریاد کی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–26

نبی سے کوئی جرم سرزد ہو تو خدا سے معافی مانگتا ہے قول باری ہے : (فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ۔ موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا) نیز قول باری ہے (وقتلت نفسا۔ تونے ایک آدمی کو قتل کردیا تھا) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتادیا کہ انہوں نے گھونسا مار کر اس شخص کو قتل کردیا تھا پھر اپنے اس فعل پر جن الفاظ میں ندامت کا اظہار کیا تھا اس کا ذکر قرآن میں اس طرح ہوا ہے : (رب انی ظلمت نفسی۔ اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے نفس پر ظلم کرلیا) ۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ تھپڑ مار کر کسی کی جان لے لینا قتل عمد ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) علی الاطلاق یہ نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–20

25 فرعونی دربار میں حضرت موسیٰ کے قتل کے مشورے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ شہر کے اس کنارے سے ایک شخص حضرت موسیٰ کے پاس دوڑتا ہوا آیا اور آکر ان سے کہا کہ موسیٰ دربار والے آپ کو قتل کردینے کا مشورہ کر رہے ہیں۔ لہذا آپ جس قدر جلد ممکن ہو سکے یہاں سے نکل جائیں۔ میں آپ کا پکا سچا خیر خواہ ہوں۔ روایات کے مطابق یہ آل فرعون کا وہی مومن شخص تھا جس نے اپنے ایمان کو چھپا رکھا تھا اور جس کا قصہ آگے خود قرآن پاک کی سورة المومن میں آ رہا ہے۔ سو اس شخص نے دوڑتے ہوئے اور بیچ کی گلیوں کے شارٹ راستے سے گزر کر آ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات بتائی۔ تاکہ آپ (علیہ السلام) اپنی جان کے بچانے کی فکر کرسکیں۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–21

ظلم کے خلاف جہاد ہجرت اور مدین میں قیام تشریح : جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوئے تو بڑے خوبصورت پڑھے لکھے باشعور ‘ پاکیزہ ‘ نیک ‘ نرم دل ‘ متقی اور پرہیزگار جوان تھے۔ ملک میں چاروں طرف پھیلا ہوا ظلم و ستم ان کو کسی صورت بھی اچھا نہ لگتا تھا۔ کیونکہ اس وقت کے حاکم اور وزراء کی پالیسی یہ تھی کہ رعایا کی بجائے اپنے تاج و تخت کی زیادہ فکر کی جائے تو اس کے لیے ان کو یہ پالیسی زیادہ پسند تھی کہ رعایا کو آپس میں کسی نہ کسی طرح لڑائے رکھو تاکہ وہ حکمرانوں کی زیادتیوں کی طرف نہ متوجہ ہوں اور نہ ہی احتجاج کریں بس آپس میں ہی لڑتے مرتے رہیں۔ اس لیے ملک میں امن وامان نام کی کوئی چیز نہ تھی اور خاص…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 14–21

آیات 14 تا 21 اسرارو معارف جب موسیٰ (علیہ السلام) جوانی کو پہنچے تو وہ بہت سمجھدار اور باعلم تھے ہم نے انہیں علم و احکمت کہ فطرت سلیمہ قبل از بعثت نبی کو نصیب ہوتی ہے عطا فرمائی۔ اور نیکی کے کرنے والے مخلص لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا جاتا ہے۔ نیکی سے دنیا کے امور کو سمجھنے کی استعداد بھی زیادہ ہوجاتی ہے : یہ ثابت ہوا کہ خلوص کے ساتھ نیک اعمال کرنے سے دنیا کے معاملات کو بہتر سمجھنے کی صلاحیت عطا ہوتی ہے ہمارے ہاں جو نیک لوگوں کے زیادہ بھولے ہونے کی بات ہے تو غالبا یہاں نیکی صرف عبادت کو سمجھ لیا گیا ہے جبکہ نیکی سے مراد عبادت اور پوری عملی زندگی میں بھرپور حصہ لینا ہے۔ اللہ کرے ہمارے عبادت گزار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

9 ۔ اس شخص کا نام بعض نے حزقیل، بعض نے شمعون، بعض نے طالوت اور بعض نے سمعان بتایا ہے اور وہ فرعون کا عمزاد بھائی اور موسن تھا۔ واللہ اعلم۔ (قرطبی) 10 ۔ یہ سنایا ہمارے رسول ﷺ کو یہ بھی وطن سے نکلیں جان کے خوف سے، کافر سب اکٹھے ہوئے تھے کہ ان پر مل کر چوٹ کریں۔ اسی رات نکلے ہجرت کر۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:20) اقصا المدینۃ : اقصی افعل التفصیل کا صیغہ ہے قصوی مؤنث قصا یقصوا قصو وقصاء (قصی مادہ) دور ہونا۔ یسعی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ سعی مصدر (باب فتح) دوڑتا ہوا۔ السعی تیز چلنے کو کہتے ہیں فلما بلغ معہ السعی (37:102) جب وہ ان کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچا۔ مناسک حج میں سعی صفا اور مروہ کے درمیان چلنے کے لئے مخصوص ہے۔ یسعی رجل کی صفت ہے یا اس کا حال ہے۔ الملا۔ اسم جمع معرف باللام۔ سرداروں کی جماعت۔ یاتمرون بک۔ یا تمرون مضارع جمع مذکر غائب۔ ایتمار (افتعال) مصدر۔ امر مادہ۔ باہم مشورہ کرنا۔ اگر ایتمار کے صلے میں باء مذکور ہو جیسا کہ اس آیت میں ہے تو کسی کے متعلق باہم مشورہ کرنے اور قصد کرنے کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 18–21

لغات القرآن : آیت نمبر 18 تا 21 : یترقب (انتظار کرتا ہے۔ دیکھتا بھالتا ہے) استنصر (اس نے مدد مانگی) ‘ الامس (گذشۃ کل) ‘ یستصرخ (فریاد کرتا ہے۔ چلاتا ہے) ‘ غوی (گم راہ) یبطش (وہ پکڑتا ہے) جبار (زبردستی کرنے والا) ‘ اقصا ( دور) ‘ یا تمرون (وہ مشورہ کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 18 تا 21 : ظالم و جابر قوموں کا انداز ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ اگر ہزاروں آدمی بھی ان کے ظلم وستم کا شکار ہوکر مرجائیں ‘ قتل ‘ ہوجائیں اور تباہ و برباد ہوجائیں تو ان کے نزدیک کوئی خاص بات نہیں ہوتی لیکن اگر ان ظالموں کا ایک آدمی بھی مارا جائے تو اس کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے جیسے ساری انسانیت کا خون ہوگیا ہے۔ چناچہ فرعون جو اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–24

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سفر۔ (ف 1) جب فرعونی ظالم پر حضرت موسیٰ نے ہاتھ ڈالنا چاہا تو اسرائیلی نے جانا کہ مجھے مارنا چاہتے ہو کیونکہ مجھ ہی پر خفا ہوئے ہیں اور اپنے بچانے کے واسطے کہنے لگا کہ حضرت موسیٰ تم چاہتے ہو کہ جس طرح تم نے کل ایک آدمی کو مارڈالا اسی طرح مجھ کو بھی آج مارڈالو گے، اس سے پیشتر پہلے روز کا معاملہ سوائے موسیٰ اور اس اسرائیلی کے کوئی اور نہیں جانتا تھا فرعونی یہ سب سنا تو اس نے دوڑ کر فرعون سے جاکرکہا کہ کل کے روز جو تمہارا آدمی مارا گیا ہے اس کو حضرت موسیٰ نے قتل کیا ہے فرعون بہت غصہ ہوا اور موسیٰ کے مارنے کا ارادہ کیا کئی پیادے مقرر کیے کہ حضرت موسیٰ کو تلاش کرکے لاؤ،…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

موسیٰ مدین کے کنویں پر 1: موسیٰ (علیہ السلام) کے قبطی کو مارنے کے واقعہ سے مصر میں سنسنی پھیل گئی ۔ اور طبقہ امرا میں ہل چل مچ گئی ۔ ان کو تشویش لاحق ہوئی ۔ کہ کہیں یہی نوجوان بنی اسرائیل کی نجات کا باعث نہ ہو ۔ اس لئے سب نے مل کر مشورہ کیا ۔ کہ اس کو پکڑ کر مار ڈالو ۔ حضرت موسیٰ کے مخلصین میں سے ایک آدمی تھا ۔ وہ دوڑتا ہوا آیا ۔ اور اس نے حقیقت حال سے موسیٰ کو آگاہ کردیا ۔ اس نے کہا ۔ کہ کہیں بھاگ جائیں ۔ آپ کے قتل کے مشو رہے ہورہے ہیں ۔ اب حضرت موسیٰ پریشان ہوئے ۔ اور مدین کی طرف چل کھڑے ہوئے ان کو معلوم تھا کہ وہاں ان کے عزیز و اقارب رہتے ہیں لیکن راستہ معلوم نہیں تھا ۔ ڈرتے ڈرتے مصر سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

20۔ ارشاد ہوا اور ایک شخص شہر کے پرلے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا اس نے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) بلا شبہ اہل دربار آپ کے متعلق مشورہ کر رہے ہیں کہ آپ کو قتل کر ڈالیں پس آپ یہاں سے نکل جائیے اور یقین کیجئے میں آپ کے خیر خواہ ہوں اور بہی خواہوں میں سے ہوں ۔ یعنی وہ شخص موسیٰ (علیہ السلام) تک پہنچ گیا اور اس نے آ کر ان سے کہا فرعون کے درباری آپ کے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں کیونکہ اس فرعون کے خانساماں اور منیجر کے قتل کا پتہ معلوم ہوگیا اور آپ کے مخالفوں کی قوت مضبوط ہوگئی اس لئے میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ آپ شہر سے فوری طور پر نکل جایئے میں آپ کا بھلا چاہنے والوں میں سے ہوں ۔ کہتے ہیں اس نے ہی یہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دور سے ایک آدمی بھاگتا ہوا آیا اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو الگ کرکے بات کرنے لگا : 20۔ گزشتہ قتل کا قضہ ابھی ابھی حال ہوا تھا کہ ایک نیا مقدمہ کھڑا ہو گیا ادھر عبرانی نے اپنی طرف سے شور مچانا شروع کیا اور ادھر قبطی اپنی جگہ یہی سمجھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) میری طرف بڑھا ہے اور چاہتا ہے کہ مجھے بھی قتل کردے اس طرح ایک واقعہ تو معرض وجود میں آ ہی چکا تھا اور یک نہ شد دو شہ ہوتے ، چونکہ ابھی گزشتہ قتل کے متعلق بھی حکومت وقت تو حرکت میں نہیں آئی تھی اس کے بعد جب اس قبطی نے بھی اس بات کی شہادت دی کہ موسیٰ تو آج مجھ پر بھی ٹوٹنے والا تھا تو بات ایک بار دوبارہ حرکت کرنے لگی اور اس طرح فرعون وقت کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–22

Commentary وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاءَ مَدْيَنَ (And when he set out towards Madyan - 28:22). Madyan (مَدْيَنَ ) is the name of a city in Sham (a large territory now consisting of Syria, Jordan, Lebanon and Palestine) which was named after Madyan, the son of Ibrahim (علیہ السلام) . This area was outside the empire of the Pharaoh. It was eight days journey from Egypt. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) was taken over by the natural fright of the pursuing army of the Pharaoh, which was not in conflict either with the prophethood or with trust in Allah, he resolved to leave Egypt. Perhaps he…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

30 This happened when in the second day's fight, the secret of the murder became known and the Egyptian informed the authorities about the case accordingly.

Read the full tafseer →