Al-Qasas 28:19

Al-Qasas · from ayah 19

28:19

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا ۙ— قَالَ یٰمُوْسٰۤی اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْاَمْسِ ۖۗ— اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَمَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ ۟فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ بِالَّذِىۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا ۙ قَالَ يٰمُوۡسٰٓى اَ تُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِىۡ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ ‌ۖ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًا فِى الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ‏

جب موسٰی نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو جو ان دونوں کا دشمن تھا پکڑ لیں تو وہ (یعنی موسٰی کی قوم کا آدمی) بول اُٹھا کہ جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا اسی طرح چاہتے ہو کہ مجھے بھی مار ڈالو۔ تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم وستم کرتے پھرو اور یہ نہیں چاہتے ہو کہ نیکو کاروں میں ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when he wanted to strike the one who was an enemy to both of them, he said, "O Moses, do you intend to kill me as you killed someone yesterday? You only want to be a tyrant in the land and do not want to be of the amenders."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 2 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:19

پھر جب موسیٰؑ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے تو وہ پکار اٹھا "اے موسیٰؑ، کیا آج تو مجھے اُسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کر چکا ہے، تو اس ملک میں جبّار بن کر رہنا چاہتا ہے، اصلاح نہیں کرنا چاہتا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب موسٰی نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو جو ان دونوں کا دشمن تھا پکڑ لیں تو وہ (یعنی موسٰی کی قوم کا آدمی) بول اُٹھا کہ جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا اسی طرح چاہتے ہو کہ مجھے بھی مار ڈالو۔ تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم وستم کرتے پھرو اور یہ نہیں چاہتے ہو کہ نیکو کاروں میں ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر جب اپنے اور اس کے دشمن کو پکڑنا چاہا وه فریادی کہنے لگا کہ موسیٰ ؑ کیا جس طرح تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے مجھے بھی مار ڈالنا چاہتا ہے، تو تو ملک میں ﻇالم وسرکش ہونا ہی چاہتا ہے اور تیرا یہ اراده ہی نہیں کہ ملاپ کرنے والوں میں سے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر جب انہوں نے اس شخص کو پکڑنے کا ارادہ کیا جو ان دونوں کا دشمن تھا تو اس (اسرائیلی) نے کہا : موسیٰ کیا تم مجھے بھی اسی طرح قتل کرنا چاہتے ہو جیسے تم نے کل ایک آدمی کو قتل کردیا تھا ؟ تمہارا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ تم زمین میں اپنی زبردستی جماؤ، اور تم مصلح بننا نہیں چاہتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو جب موسیٰ نے چاہا کہ اس پر گرفت کرے جو ان دونوں کا دشمن ہے وہ بولا اے موسیٰ کیا تم مجھے ویسا ہی قتل کرنا چاہتے ہو جیسا تم نے کل ایک شخص کو قتل کردیا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ زمین میں سخت گیر بنو اور اصلاح کرنا نہیں چاہتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو جب انہوں نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو پکڑیں جو ان دونوں کا دشمن ہے تو وہ بول اٹھا: اے موسٰی! کیا تم مجھے (بھی) قتل کرنا چاہتے ہو جیسا کہ تم نے کل ایک شخص کو قتل کر ڈالا تھا۔ تم صرف یہی چاہتے ہو کہ ملک میں بڑے جابر بن جاؤ اور تم یہ نہیں چاہتے کہ اصلاح کرنے والوں میں سے بنو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جونہی اس نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑے جو ان دونوں کا دشمن تھا، اس نے کہا اے موسیٰ ! کیا تو چاہتا ہے کہ مجھے قتل کر دے، جس طرح تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے، تو نہیں چاہتا مگر یہ کہ زمین میں زبردست بن جائے اور تو نہیں چاہتا کہ اصلاح کرنے والوں میں سے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب موسیٰ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے تو وہ پکار اٹھا : موسیٰ ! کیا تم مجھے بھی مار دالنا چاہتے ہو۔ جسے کل تم نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا ؟ تم تو ملک میں جبار بن کر رہنا چاہتے ہو۔ اصلاح نہیں کرنا چاہتے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس جب اس نے ارادہ کیا کہ پکڑے اس کو جو ان دونوں کا دشمن تھا تو وہ بول اٹھا کہ اے موسیٰ کیا تم آج مجھے قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو قتل کیا ! تم تو اس ملک میں ایک جباربننے کا ارادہ کر رہے ہو، تم اصلاح کرنے والوں میں سے نہیں بننا چاہتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس کے بعد جب موسیٰ نے ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کیا اس شخص پر جو کہ دشمن تھا ان دونوں کا تو وہ فوراً بول اٹھا کہ اے موسیٰ کیا تو مجھے بھی اسی طرح قتل کردینا چاہتا ہے جس طرح کہ تو کل ایک شخص کو قتل کرچکا ہے تو تو اس ملک میں جبار بن کر رہنا چاہتا ہے اور تو یہ نہیں چاہتا کہ تو اصلاح کرنے والوں میں سے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

پھر جب (موسی ؑ نے) اس پر ہاتھ بڑھا یا جو ان دونوں کا مخالف تھا۔ تو وہ (اسرائیلی) بول اٹھا کہ اے موسیٰ ؑ کیا اب مجھے قتل کرنا چاہتے ہو جیساکل ایک آدمی کو قتل کرچکے ہو بس تم دنیا میں اپنا زور بٹھانا چاہتے ہو اور (صلح و) اصلاح نہیں چاہتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر جب اس نے پکڑنا چاہا اس کو جو ان دونوں کا دشمن تھا وہ چیخ اٹھا : اے موسیٰ ؑ ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مارڈالا تھا تم صرف یہ چاہتے ہو کہ تم اس ملک میں بڑے جابر بن جاؤ اور تم نہیں چاہتے کہ تم اصلاح کرنے والوں میں سے بنو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب موسیٰ نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو جو دونوں کا دشمن تھا پکڑ لیں تو وہ یعنی موسیٰ کی قوم کا آدمی بول اٹھا ”کہ جس طرح تو نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا ‘ اسی طرح چاہتے ہو کہ مجھے بھی مار ڈالو۔ تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو اور یہ نہیں چاہتے کہ نیکوکاروں میں ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And when Moses decided to lay his violent hands on the man belonging to the enemy, he cried out: "Moses, do you intend to kill me as you killed a person yesterday?" You simply want to live in the land as a tyrant, and do not wish to set things right."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thereafter when he intended to grasp at the one who was an enemy to both of them, he (i.e. the Israelite) said, :O Musa, do you want to kill me as you have killed a person yesterday? Your intention is only to become a tyrant in the land, and you do not intend to be one of the peace-makers.

— Muhammad Taqi Usmani

Thereafter when he intended to grasp at the one who was an enemy to both of them, he (i.e. the Israelite) said, :O Musa, do you want to kill me as you have killed a person yesterday? Your intention is only to become a tyrant in the land, and you do not intend to be one of the peace-makers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then when he decided to seize the man who was an enemy to both of them, the man said: "O Musa! Is it your intention to kill me as you killed a man yesterday Your aim is nothing but to become a tyrant in the land, and not to be one of those who do right."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when he would have fallen upon the man who was an enemy unto them both, he said: O Moses! Wouldst thou kill me as thou didst kill a person yesterday. Thou wouldst be nothing but a tyrant in the land, thou wouldst not be of the reformers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when he wanted to strike the one who was an enemy to both of them, he said, "O Moses, do you intend to kill me as you killed someone yesterday? You only want to be a tyrant in the land and do not want to be of the amenders."

— Saheeh International

When Moses was about to attack their enemy, he said, "Moses, do you want to kill me as you slew a soul the other day? Do you want to become a tyrant in the land, not a reformer?"

— Muhammad Sarwar

So when he desired to seize him who was an enemy to them both, he said: O Musa! do you intend to kill me as you killed a person yesterday? You desire nothing but that you should be a tyrant in the land, and you do not desire to be of those who act aright.

— Muhammad Habib Shakir

And when he sought to seize him who was an enemy unto them both, he said: O Musa wouldst thou slay me as thou didst slay a person yesterday? Thou seekest only to be a tyrant in the land, and thou seekest not to be of the reconcilers.

— Abdul Majid Daryabadi

Then, when he decided to lay hold of the man who was an enemy to both of them, that man said: "O Moses! Is it thy intention to slay me as thou slewest a man yesterday? Thy intention is none other than to become a powerful violent man in the land, and not to be one who sets things right!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–19

جسے بچایا اسی نے راز کھولا موسیٰ کے گھونسے سے قبطی مرگیا تھا اس لئے آپ کی طبیعیت پر گھبراہٹ تھی۔ شہر میں ڈرتے دبکتے آئے کہ دیکھیں کیا باتیں ہو رہی ہیں ؟ کہیں راز کھل تو نہیں گیا۔ دیکھتے ہیں کہ کل والا اسرائیلی آج ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے۔ آپ کو دیکھتے ہی کل کی طرح آج بھی فریاد اور دہائی دینے لگا۔ آپ نے فرمایا تم بڑے فتنہ آدمی ہو۔ یہ سنتے ہی وہ گھبرا گیا۔ جب حضرت موسیٰ نے اس ظالم قبطی کو روکنے کے لئے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو یہ شخص اپنے کمینہ پن اور بزدلی سے سمجھ بیٹھا کہ آپ نے مجھے برا کہا ہے اور مجھے پکڑنا چاہتے ہیں اپنی جان بچانے کے لئے شور مچانا شروع کردیا کہ موسیٰ کیا جیسے تو نے کل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القصص 28 بائیبل کا بیان یہاں قرآن کے بیان سے مختلف ہے۔ بائیبل کہتی ہے کہ دوسرے دن کا جھگڑا دو اسرائیلیوں کے درمیان تھا۔ لیکن قرآن کہتا ہے کہ یہ جھگڑا بھی اسرائیلی اور مصری کے درمیان ہی تھا، قرین قیاس بھی یہی دوسرا بیان معلوم ہوتا ہے، کیونکہ پہلے دن کے قتل کا راز فاش ہونے کی جو صورت آگے بیان ہو رہی ہے وہ اسی طرح رونما ہوسکتی تھی کہ مصری قوم کے ایک شخص کو اس واقعہ کی خبر ہوجاتی۔ ایک اسرائیلی کے علم میں اس کے آجانے سے یہ امکان کم تھا کہ اپنی کے پشیبان شہزادے کے اتنے بڑے قصور کی اطلاع پاتے ہی وہ جاکر فرعونی حکومت میں اس کی مخبری کردیتا۔ سورة القصص 29 یہ پکارنے والا وہی اسرائیلی تھا جس کی مدد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–21

قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِيْرًا لِّلْمُجْرِمِيْنَ ، حضرت موسیٰ ؑ کی اس لغزش کو جب حق تعالیٰ نے معاف فرما دیا تو آپ نے اس نعمت کے شکر میں یہ عرض کیا کہ میں آئندہ کسی مجرم کی مدد نہ کروں گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جس اسرائیلی کی مدد کے لئے یہ اقدام کیا تھا دوسرے واقعہ سے یہ بات ثابت ہوگئی تھی کہ وہ خود ہی جھگڑالو ہے، جھگڑا لڑائی اس کی عادت ہے اس لئے اس کو مجرم قرار دے کر آئندہ کسی ایسے شخص کی مدد نہ کرنے کا عہد فرمایا اور حضرت ابن عباس سے اس جگہ مجرمین کی تفسیر کافرین کے ساتھ منقول ہے اور قتادہ نے بھی تقریباً ایسا ہی فرمایا ہے اس تفسیر کی بنا پر واقعہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ایک اسلوب کی وضاحت ان سے پہلے یہاں کوئی مناسب موقع فعل محذوف ہے۔ یعنی جب معاملہ یوں ہوا یا جب بات یہاں تک پہنچی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے پہلے زبانی افہام و تفہیم سے فریقین کو ہموار کرنے کی کوشش کی لیکن جب اس سے کام نہ چلا بلکہ قبطی نے کچھ اکڑ دکھائی تو آپ نے اس کو پکڑ کر علیحدہ کرنا چاہا اس قبطی کو یہاں عدو قوماً سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ اور اسرائیلی دونوں کا دشمن اس کی وجہ واضح ہے کہ اسرائیلی کا تو وہ بالفعل دشمن تھا ہی اور حضرت موسیٰ کے ساتھ اس کی دشمنی قومی اعتبار سے بھی تھی اور اس پہلو سے بھی کہ وہ اپنی اصلاحی سرگرمیوں کے سبب سے تمام قبطیوں کی نظروں میں کانٹے کی طرح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19-1یعنی حضرت موسیٰ ؑ نے چاہا کہ قطبی کو پکڑ لیں، کیونکہ وہی حضرت موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کا دشمن تھا، تاکہ لڑائی زیادہ نہ بڑھے۔ 19-2فریادی (اسرائیلی) سمجھا کہ موسیٰ ؑ شاید اسے پکڑنے لگے ہیں تو وہ بول اٹھا کہ اے موسٰی، جس سے قبطی کے علم میں یہ بات آگئی کہ کل جو قتل ہوا تھا، اس کا قاتل موسیٰ ؑ ہے، اس نے جا کر فرعون کو بتلا دیا جس پر فرعون نے اس کے بدلے میں موسیٰ ؑ کو قتل کرنے کا عزم کرلیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–21

10: حضرت موسیٰ ؑ نے ہاتھ تو اس مصری کی طرف بڑھایا تھا، تاکہ اسے مارنے سے روکیں ؛ لیکن اسرائیلی نے جب ان کا یہ جملہ سنا کہ تم بڑے شریر آدمی ہو تو وہ یہ سمجھا کہ وہ اس کو مارنے کے لئے ہاتھ بڑھا رہے ہیں، اس لئے اس نے یہ بات کہی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 18–19

فاصبح فی المدینۃ ۔۔۔۔۔۔ ان تکون من المصلحین (18- 19) پہلے معرکے میں تو قبطی کا کام تمام ہوگیا تھا ، اس فعل پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت ندامت ہوئی۔ آپ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے اس غلطی پر استغفار کیا اور آپ کو معاف کردیا گیا۔ اور آپ نے اب عہد کرلیا کہ آپ کبھی بھی مجرمین کے معین و مددگار نہ ہوں گے۔ وہ دن تو گزر گیا لیکن آپ اس شہر میں ڈرے سہمے پھر رہے تھے شاید یہ راز کھل نہ گیا ہو۔ آپ ہر وقت راز کے انکشاف اور شرمندگی اور سزا سے خائف تھے۔ لفظ یترقب میں یہ تمام مفہوم موجود ہیں۔ آپ کی ہیئت سے بھی ظاہر تھا کہ آپ کسی پریشان میں گھوم رہے ہیں۔ سہمے ہوئے ، ہر لمحہ اور ہر لحظہ کسی خطرناک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 ہاتھ ڈالنا چاہا اس ظالم پر بول اٹھا مظلوم جانا کہ زبان سے مجھ پر غصہ کیا ہے، ہاتھ بھی مجھ پر چلائیں گے۔ وہ کل کا خون چھپا رہا تھا کہ کس نے کیا، آج اس کی زبان سے مشہور ہوا۔ (موضح) 2 یعنی زور زبردستی سے قتل کرنا ہی آتا ہے، یہ نہیں کہ سمجھا بجھا کر فریقین میں صلح کروا دے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19 فَلَمَّآ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بالَّذِیْ ہُوَ عَدُوٌّ لَّہُمَالا ” حضرت موسیٰ علیہ السلام آگے تو بڑھے تھے اس قبطی کو پکڑنے کے لیے تاکہ اسے اپنے اسرائیلی بھائی کو مارنے سے روک سکیں ‘ لیکن چونکہ آپ علیہ السلام کے غصے کا رخ اسرائیلی کی طرف تھا اور اس کو سختی سے ڈانٹتے ہوئے آپ علیہ السلام نے اِنَّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ کہا تھا ‘ اس لیے وہ سمجھا کہ آپ علیہ السلام اس کی پٹائی کرنا چاہتے ہیں ‘ چناچہ : قَالَ یٰمُوْسٰٓی اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ کَمَا قَتَلْتَ نَفْسًام بالْاَمْسِق ” گویا اس نے اپنی حماقت سے بھانڈا ہی پھوڑ دیا کہ کل والا قتل موسیٰ علیہ السلام نے کیا تھا۔ وَمَا تُرِیْدُ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

29 سبطی کو اس طرح ملامت کرنے کے بعد موسیٰ نے ارادہ کیا کہ قبطی کو پکڑ کر اس سبطی کو اس سے نجات دلائیں۔ مگر سبطی یہ سمجھا کہ موسیٰ نے چونکہ آج مجھے ہی ملامت کی ہے۔ لہذا مجھی پر ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں۔ لہذا وہ فوراً بک اٹھا اور کہنے لگا کہ موسیٰ کیا تم مجھے اسی طرح موت کے گھاٹ اتارنا چاہتے ہو جس طرح کل تم نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان جھگڑے کی صورت میں کسی نہ کسی کو مار ڈالنا ہی جانتے ہو۔ ان کا مقدمہ سن کر ان میں صلح یا سمجھوتہ کرانا نہیں جانتے۔ قبطی نے جب سبطی کے منہ سے یہ بات سنی تو اس نے لڑائی جھگڑا تو وہیں چھوڑا اور ایک دم بھاگ کر فرعون اور اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

25۔ (کہ اس کو ظلم و زیادتی سے روک دیں) مراد فرعونی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اس اسرائیلی فریادی دونوں کا مخالف تھا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کاملین جس طرح دشمن پر سیاست کرتے ہیں دوست پر بھی کرتے ہیں، جیسا جس کے حال کا مقتضا ہوا۔ چناچہ یہاں آپ نے قول سے سیاست سبطی کی فرمائی اور ارادہ بطش سے قبطی کی۔ غرض ان میں عدل کامل ہوتا ہے۔ عصبیت قومی نہیں ہوتی۔ 26۔ وہ اسرائیلی جس پر ابھی ڈانٹ پڑچکی تھی قدرۃ یہ سمجھا کہ اب کہ وار مجھ پر ہوگا۔ یہ سمجھ کر چلا اٹھا۔ بس اسی سے شہر میں خبر پھوٹ گئی۔ توریت میں ہے :” وہ بولا کہ کس نے تجھے ہم پر حاکم یا منصف مقرر کیا ہے آیا تو چاہتا ہے کہ جس طرح تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–21

آیت نمبر 14 تا 21 ترجمہ : اور موسیٰ اپنی بھرپور جوانی کو پہنچ گئے اور وہ تیس یا تینتیس سال ہیں اسور توانا اور تندرست ہوگئے یعنی چالیس سال کے ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا یعنی نبی بنائے جانے سے پہلے ہی ان کو حکمت اور دین کی سمجھ عطا کی اور ہم اسی طرح جیسا کہ موسیٰ کو جزاء دی اپنے اوپر احسان کرنے والوں کو جزاء دیتے ہیں اور موسیٰ شہر میں یعنی فرعون کے شہر میں جس کا نام مُنُفُ تھا ایک مدت غائب رہنے کے بعد ایسے وقت میں داخل ہوئے کہ شہر کے لوگ قیلولہ کے وقت غافل تھے یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا یہ ایک تو اس کی برادری کا یعنی اسرائیلی تھا اور دوسرا اس کے دشمن کی برادری کا یعنی قطبی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما ان اراد ان یبطش بالذی ھو عدو لھما قال یموسٰی اتری ان تقتلنی کما قتلت نفسا بالامس ان ترید الا ان تکون جبارًا فی الارض وما ترید ان تکون من المصلحین . سو جب موسیٰ نے اس شخص کی طرف ہاتھ بڑھانے کا ارادہ کیا جو دونوں کا مخالف تھا تو اسرائیلی بول اٹھا : کیا (دنیا میں) اپنا زور بٹھانا چاہتے ہو اور صلح کرانا نہیں چاہتے ؟ یہ ترجمہ حضرت مولانا تھانوی (رح) کے ترجمہ کے موافق ہے۔ ھُوَ عَدُوٌّ لَّھُمَا یعنی قبطی جو حضرت موسیٰ اور دوسرے اسرائیلی کا دشمن بایں معنی تھا کہ ان کے مذہب سے اس کا مذہب جدا تا یا یوں کہا جائے کہ تمام قبطی بنی اسرائیل کے دشمن تھے۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ کا ہاتھ بڑھتا دیکھ کر خیال…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(19) سو جب حضرت موسیٰ ؑ نے قبطی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اسرائیلی کو شبہ ہوا کہ شاید آج مجھ سے مواخذہ کریں گے گھبرا کر کہنے لگا اے موسیٰ ؑ کیا آج مجھ کو قتل کرنا چاہتے ہو جیسا کہ کل ایک قبطی کو قتل کرچکے ہو معلوم ہوتا ہے کہ سر زمین مصر میں تم اپنا زور بٹھانا چاہتے ہو امر بالعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے صلح کرانا نہیں چاہتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 18–19

فَاَصْبَحَ فِي الْمَدِيْنَةِ خَاۗىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ۔۔ : موسیٰ ؑ کے ہاتھوں قبطی قتل ہوگیا تھا، اس لیے انھوں نے شہر میں اس حال میں صبح کی کہ کل کے واقعہ سے خوف زدہ تھے اور انتظار کر رہے تھے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اور کب کوئی انھیں گرفتار کرنے کے لیے آتا ہے۔ اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ وہی اسرائیلی جس نے کل ان سے ایک قبطی سے بچانے کے لیے مدد مانگی تھی، وہ ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے۔ جب موسیٰ ؑ وہاں سے گزرے تو اس نے چیخ چیخ کر انھیں مدد کے لیے پکارنا شروع کردیا۔ موسیٰ ؑ کل کے واقعہ سے آزردہ تھے، اسے کہنے لگے، یقیناً تو کھلا گمراہ شخص ہے، یعنی ہر روز کسی نہ کسی سے لڑتا جھگڑتا رہتا ہے، کل ایک شخص…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 18–19

فاصبح فی المدینۃ حآئفاً سورة طہ اور دوسری سورتوں میں یہ بحث گزر چکی ہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام خوف کیا کرتے تھے۔ یہ ان لوگوں کا رد ہے جو اس کے خلاف قول کرتے ہیں خوف نہ تو معرفت کے خلاف ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے توکل کے خلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نفس کے قتل کی وجہ سے خوفزدہ نہ ہوتے کہ اس پر آپ کا مواخذہ کیا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اپنی قوم سے خوف تھا کہ کہیں وہ آپ کو فرعون کے سپرد ہی نہ کر دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ سے خوف تھا۔ یترقب سعید بن جبیر نے کہا : خوف کی وجہ سے مڑ کر پیچھے دیکھتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تلاش کا انتظار کرتے تھے اور اس امر کا انتظار…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 18–19

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاصبح فی المدینۃ خائفا سے مراد ہے کہ انہوں نے پکڑے جانے کے خوف سے صبح کی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت یترقب سے مراد ہے دائیں باءٰں دیکھتے ہوئے 3۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت یترقب یعنی گھبرائے ہوئے 4۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت فاذا الذی استنصرہ بالامس یستصرخہ کے بارے میں روایت کیا کہ وہی آدمی مدد کے لیے پکارنے لگا جس نے ان سے کل مدد مانگی تھی 5۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ اسی آدمی نے پکارا جس نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَلَمَّآ اَنْ [ پھر جیسے ہی ] اَرَادَ [ انھوں (علیہ السلام) نے ارادا کیا ] اَنْ [ کہ ] يَّبْطِشَ [ وہ پکڑیں ] بِالَّذِيْ [ اس کو جو کہ ] هُوَ [ وہ ہی ] عَدُوٌّ [ دشمن ہے ] لَّهُمَا ۙ [ ان دونوں کا ] قَالَ [ اس نے کہا ] يٰمُوْسٰٓى [ اے موسیٰ (علیہ السلام) ] اَتُرِيْدُ [ کیا تو ارادہ کرتا ہے ] اَنْ تَــقْتُلَنِيْ [ کہ تو قتل کرے مجھ کو ] كَمَا [ جیسے کہ ] قَتَلْتَ [ تو نے قتل کیا ] نَفْسًۢا [ ایک جان کو ] بِالْاَمْسِ ڰ [ گزشتہ کل ] اِنْ تُرِيْدُ [ تو ارادہ نہیں کرتا ] اِلَّآ اَنْ [ مگر یہ کہ ] تَكُوْنَ [ تو ہوجائے ] جَبَّارًا [ جبر کرنے والا ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَمَا تُرِيْدُ [ اور تو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 16–22

موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین پہنچنا وہاں دو لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلانا پھر ان میں سے ایک لڑکی سے شادی ہونا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب ایک شخص نے رائے دی کہ دربار والے تمہارے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں تم یہاں سے نکل جاؤ تو وہ سرزمین مصر سے روانہ ہوگئے اور مدین کی طرف چل دیئے جو ملک شام کا ایک شہر ہے۔ یہ علاقہ فرعونی حکومت میں شامل نہیں تھا۔ اور وہ زمانہ پاسپورٹ اور ویزے کا بھی نہیں تھا جو شخص جس ملک میں اور جس شہر میں چاہتا جاسکتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین کا رخ کیا وہاں کبھی تشریف نہیں لے گئے تھے راستہ معلوم نہیں تھا اللہ تعالیٰ سے خیر کی امید باندھ کر نکل کھڑے ہوئے اور یوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–21

تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–20

20:۔ اسرائیلی کی گفتگو سے قبطی کے قتل کا معمہ حل ہوگیا اور یہ خبر فورًا فرعون تک پہنچ گئی۔ فروعن اور اس کے مشیروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ فرعون کے رشتہ داروں میں ایک نیک دل انسان (جو بعد میں موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا اور قرآن میں جسے مومن آل فرعون کہا گیا ہے) شمعون یا حزقیل کو اس کی اطلاع ہوگئی وہ دوڑتا ہوا موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا اور دربار فرعون کے فیصلے سے انہیں آگاہ کیا اور مشورہ دیا کہ وہ فورًا اس شہر سے ہجرت کر جائیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–21

ربط آیات جب موسیٰ (علیہ السلام) عالم شباب کو پہنچے تو اللہ نے انہیں حکمت اور سمجھ عطا فرمائی آپ بری باتوں پر تنقید اور ظالموں کی مدد کرتے تھے ۔ اس دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ آپ دارالحکومت سے بارہ میل کے فاصلہ پر واقع شہر منصف میں ایسے وقت میں داخل ہوئے جب لوگ آرام کر رہے تھے ۔ آپ نے دیکھا کہ ایک قبطی اور اسرائیلی آپس میں جھگڑ رہے ہیں ۔ حسب معمول قبطی آدمی اسرائیلی پر زیادتی کر رہا تھا ، لہٰذا اسرائیلی نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد کی درخواست کی ۔ آپ نے اسے چھڑانے کی کوشش کی مگر قبطی ایسا کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ اس پر آپ نے قبطی کو ایک گھونسہ رسید کیا جسے وہ برداشت نہ کرسکا اور ہلاک…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّآ اَنْ اَرَادَ اَنْ يَّبْطِشَ بِالَّذِيْ ہُوَ عَدُوٌّ لَّہُمَا۝ 0ۙ قَالَ يٰمُوْسٰٓى اَتُرِيْدُ اَنْ تَــقْتُلَنِيْ كَـمَا قَتَلْتَ نَفْسًاۢ بِالْاَمْسِ۝ 0ۤۖ اِنْ تُرِيْدُ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِي الْاَرْضِ وَمَا تُرِيْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِيْنَ۝ 19 رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–21

ترکیب : اتینہ جواب لما علی حین غفلۃ حال من المدینتہ ویجوزان یکون حالاً من الفاعل ای محتلساً ۔ ھذا من الخ الجملتان فی موضع نصب صفۃ لرجلین بما انعمت الباء للقسم والجواب محذوف دل علیہ فلن اکون ویمکن ان یکون المعنی بحق انعامک علی اعصمنی خائفًا حال من فاعل اصبح یترقب بدل منھا اوتاکید لہا یسعی صفۃ اخزی الرجل او حال والایتمارا التشاور لان کل واحد من المتش اور یں یامرصاحبہ بشی ئٍ او یشیر علیہ بامر۔ تفسیر : الغرض موسیٰ ( علیہ السلام) جب بھرپور جوان ہوگئے تو خدا نے ان کو حکم یعنی دانائی اور حکمت دی اور علم عطاء کیا۔ نیک و صالح اور باخدا اٹھے، لیکن ہنور نبوت نہیں عطا ہوئی تھی۔ بعض کہتے ہیں اشد اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 18–19

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَۃِ خَآئِفًایَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَـنْصَرَہٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُہٗ ط قَالَ لَـہٗ مُوْسٰٓی اِنَّـکَ لَغَوٍیٌّ مُّبِیْنٌ۔ فَلَمَّـآ اَنْ اَرَادَاَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ ھُوَعَدُوٌّلَّہُمَالا قَالَ یٰمُوْسٰٓی اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ کَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا م بِالْاَمْسِصلے ق اِنْ تُرِیْدُ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَمَا تُرِیْدُ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ ۔ (القصص : 18، 19) (پس دوسرے روز حضرت موسیٰ شہر میں داخل ہوئے ڈرتے ہوئے اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتے ہوئے تو اچانک آپ نے دیکھا کہ وہی شخص جس نے کل آپ کو مدد کے لیے پکارا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–21

فہم القرآن ربط کلام : ناعاقبت اندیش اور نام نہاد مظلوم کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو وطن چھوڑنا پڑا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے قتل خطا کی معافی مانگتے ہوئے یہ بھی عرض کی تھی کہ بار الٰہ ! میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میں مجرم کی حمایت نہیں کروں گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جس شخص کی حمایت کی تھی وہ کتنا ناعاقبت اندیش اور بدفطرت تھا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اگلی صبح کل کے واقعہ کی وجہ سے ڈرتے ہوئے گھر سے باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہی شخص آج پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی مدد کے لیے پکار رہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے طیش میں آکر فرمایا تو تو بڑا ظالم اور برا شخص ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 19: فَلَمَّا اَنْ اَرَادَ (جب موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادہ کیا) ۔ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ (اس قبطی کی طرف ہاتھ بڑھائیں ) ۔ ہُوَ عَدُوٌّلَّہُمَا (جو دونوں کا دشمن تھا) ۔ یعنی موسیٰ و اسرائیلی کا کیونکہ وہ ان کے دین پر نہ تھا۔ اور قبطی بنی اسرائیل کے دشمن تھے۔ قَالَ (اس اسرائیلی نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا) ۔ اس کو وہم و خیال ہوا کہ موسیٰ مجھے پکڑنے لگے ہیں نہ کہ قبطی کو اس لئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو انک لغوی مبین فرمایا تھا۔ یٰمُوْسٰٓی اَتُرِیدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ کَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا (اے موسیٰ کیا تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے جیسا کہ تو نے ایک جان کو قتل کیا) نفس سے قبطی مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

19۔ فلمااراد ان یبطش بالذی ھوعدولھما، ، جب حضرت موسیٰ نے اسرائیلی کو کمزوری اور آہ بکا سنا تواپناہاتھ آگے بڑھایا تاکہ اس کی مدد کروں اور فرعونی کو پکڑوں۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ کا ہاتھ بڑھتا دیکھ کر خیال کیا کہ موسیٰ مجھے پکڑناچاہتے ہیں کیونکہ حضرت موسیٰ کا وہ غصہ دیکھ چکے تھے اور آپ کا یہ قول انک لغوی مبین، بھی سن چکا تھا۔ قال یاموسی اترید ان تقتلنی کماقتلت نفسا بالامس ان ترید، آپ ارادہ کرتے ہو ، الاان تکوب جبارافی الارض، شدت غضب کی وجہ سے بڑاقاتل۔ ” وماترید ان تکون من المصلحین، ، جب قطبی نے اسرائیلی کی بات سنی تو اس کو معلوم ہوگیا کہ کل فرعونی کو جس نے قتل کیا تھا وہ یہی تھا وہ بھاگتا ہوا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–26

14 تا 26۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھر پرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم اور سمجھ دونوں عنایت کئے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے نکل کر مدین میں پہنچنے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے ہوئے دیکھا جن میں ایک ان کے گروہ میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے حین غفلۃ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ دوپہر کا وقت تھا اسرائیل نے فریاد کی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–26

نبی سے کوئی جرم سرزد ہو تو خدا سے معافی مانگتا ہے قول باری ہے : (فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ۔ موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا) نیز قول باری ہے (وقتلت نفسا۔ تونے ایک آدمی کو قتل کردیا تھا) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتادیا کہ انہوں نے گھونسا مار کر اس شخص کو قتل کردیا تھا پھر اپنے اس فعل پر جن الفاظ میں ندامت کا اظہار کیا تھا اس کا ذکر قرآن میں اس طرح ہوا ہے : (رب انی ظلمت نفسی۔ اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے نفس پر ظلم کرلیا) ۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ تھپڑ مار کر کسی کی جان لے لینا قتل عمد ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) علی الاطلاق یہ نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–20

25 فرعونی دربار میں حضرت موسیٰ کے قتل کے مشورے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ شہر کے اس کنارے سے ایک شخص حضرت موسیٰ کے پاس دوڑتا ہوا آیا اور آکر ان سے کہا کہ موسیٰ دربار والے آپ کو قتل کردینے کا مشورہ کر رہے ہیں۔ لہذا آپ جس قدر جلد ممکن ہو سکے یہاں سے نکل جائیں۔ میں آپ کا پکا سچا خیر خواہ ہوں۔ روایات کے مطابق یہ آل فرعون کا وہی مومن شخص تھا جس نے اپنے ایمان کو چھپا رکھا تھا اور جس کا قصہ آگے خود قرآن پاک کی سورة المومن میں آ رہا ہے۔ سو اس شخص نے دوڑتے ہوئے اور بیچ کی گلیوں کے شارٹ راستے سے گزر کر آ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات بتائی۔ تاکہ آپ (علیہ السلام) اپنی جان کے بچانے کی فکر کرسکیں۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–21

ظلم کے خلاف جہاد ہجرت اور مدین میں قیام تشریح : جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوئے تو بڑے خوبصورت پڑھے لکھے باشعور ‘ پاکیزہ ‘ نیک ‘ نرم دل ‘ متقی اور پرہیزگار جوان تھے۔ ملک میں چاروں طرف پھیلا ہوا ظلم و ستم ان کو کسی صورت بھی اچھا نہ لگتا تھا۔ کیونکہ اس وقت کے حاکم اور وزراء کی پالیسی یہ تھی کہ رعایا کی بجائے اپنے تاج و تخت کی زیادہ فکر کی جائے تو اس کے لیے ان کو یہ پالیسی زیادہ پسند تھی کہ رعایا کو آپس میں کسی نہ کسی طرح لڑائے رکھو تاکہ وہ حکمرانوں کی زیادتیوں کی طرف نہ متوجہ ہوں اور نہ ہی احتجاج کریں بس آپس میں ہی لڑتے مرتے رہیں۔ اس لیے ملک میں امن وامان نام کی کوئی چیز نہ تھی اور خاص…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 14–21

آیات 14 تا 21 اسرارو معارف جب موسیٰ (علیہ السلام) جوانی کو پہنچے تو وہ بہت سمجھدار اور باعلم تھے ہم نے انہیں علم و احکمت کہ فطرت سلیمہ قبل از بعثت نبی کو نصیب ہوتی ہے عطا فرمائی۔ اور نیکی کے کرنے والے مخلص لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا جاتا ہے۔ نیکی سے دنیا کے امور کو سمجھنے کی استعداد بھی زیادہ ہوجاتی ہے : یہ ثابت ہوا کہ خلوص کے ساتھ نیک اعمال کرنے سے دنیا کے معاملات کو بہتر سمجھنے کی صلاحیت عطا ہوتی ہے ہمارے ہاں جو نیک لوگوں کے زیادہ بھولے ہونے کی بات ہے تو غالبا یہاں نیکی صرف عبادت کو سمجھ لیا گیا ہے جبکہ نیکی سے مراد عبادت اور پوری عملی زندگی میں بھرپور حصہ لینا ہے۔ اللہ کرے ہمارے عبادت گزار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ ” تو وہ کہنے لگا “ میں ” وہ “ سے مراد جمہور مفسرین (رح) نے اسرائیلی لیا ہے کیونکہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے قبطی کو پکڑنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو وہ سمجھا کہ شاید مجھ ہی کو پکڑ کر مارنا چاہتے ہیں۔ اس پر اس نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے یہ الفاظ کہے۔ جن مفسرین (رح) نے یہ مطلب لیا ہے اہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس وقت تک اس اسرائیلی اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے سوا کسی شخص کو معلوم نہ تھا کہ کل جو قبطی قتل ہوا ہے اس کا قاتل کون ہے اور قاتل کی تلاش ہو رہی تھی۔ اب جب کہ اس دوسرے قبطی نے اسرائیلی کی زبان سے یہ الفاظ سنے تو اس نے جا کر فرعون کو اطلاع کردی مگر سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:19) فلما ان اراد ان یبطش بالذی۔ اس میں پہلا ان زائدہ ہے اور لما کی تاکید کے لئے آیا ہے ۔ دوسرا ان مصدریہ ہے اور اسی کی وجہ سے مضارع منصوب ہے بطش مصدر۔ (باب ضرب) سختی اور قوت کے ساتھ پکڑنا۔ ان بثش ربک لشدید (85:12) بیشک تمہارے پروردگار کی گرفت بڑی سخت ہے۔ ترجمہ :۔ پس جب اس (حضرت موسیٰ ) نے پکڑنے کا ارادہ کیا۔ عدو لہما۔ دونوں کا دشمن ۔ یعنی قبطی کیونکہ وہ ان دونوں کے مذہب پر نہ تھا۔ اور قبطی اسرائیلیوں کے سب سے بڑھ کر دشمن تھے قال یموسی۔ قال میں ضمیر فاعل اس اسرائیلی کی طرف راجع ہے جو کل کی طرح آج بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو امداد کے لئے پکار رہا تھا۔ بعض کے نزدیک اس کا مرجع القبطی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 18–21

لغات القرآن : آیت نمبر 18 تا 21 : یترقب (انتظار کرتا ہے۔ دیکھتا بھالتا ہے) استنصر (اس نے مدد مانگی) ‘ الامس (گذشۃ کل) ‘ یستصرخ (فریاد کرتا ہے۔ چلاتا ہے) ‘ غوی (گم راہ) یبطش (وہ پکڑتا ہے) جبار (زبردستی کرنے والا) ‘ اقصا ( دور) ‘ یا تمرون (وہ مشورہ کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 18 تا 21 : ظالم و جابر قوموں کا انداز ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ اگر ہزاروں آدمی بھی ان کے ظلم وستم کا شکار ہوکر مرجائیں ‘ قتل ‘ ہوجائیں اور تباہ و برباد ہوجائیں تو ان کے نزدیک کوئی خاص بات نہیں ہوتی لیکن اگر ان ظالموں کا ایک آدمی بھی مارا جائے تو اس کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے جیسے ساری انسانیت کا خون ہوگیا ہے۔ چناچہ فرعون جو اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–24

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سفر۔ (ف 1) جب فرعونی ظالم پر حضرت موسیٰ نے ہاتھ ڈالنا چاہا تو اسرائیلی نے جانا کہ مجھے مارنا چاہتے ہو کیونکہ مجھ ہی پر خفا ہوئے ہیں اور اپنے بچانے کے واسطے کہنے لگا کہ حضرت موسیٰ تم چاہتے ہو کہ جس طرح تم نے کل ایک آدمی کو مارڈالا اسی طرح مجھ کو بھی آج مارڈالو گے، اس سے پیشتر پہلے روز کا معاملہ سوائے موسیٰ اور اس اسرائیلی کے کوئی اور نہیں جانتا تھا فرعونی یہ سب سنا تو اس نے دوڑ کر فرعون سے جاکرکہا کہ کل کے روز جو تمہارا آدمی مارا گیا ہے اس کو حضرت موسیٰ نے قتل کیا ہے فرعون بہت غصہ ہوا اور موسیٰ کے مارنے کا ارادہ کیا کئی پیادے مقرر کیے کہ حضرت موسیٰ کو تلاش کرکے لاؤ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–19

[10] یعنی فرعونی۔ [11] فرعونی نے یہ بات سنی اور جاکر مخبری کردی کہ کل کے مقتول کا قاتل موسیٰ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

حل لغات جبارا ۔ ظالم اس لفظ کا انتساب جب اللہ کی طرف ہو ۔ تو اس کے معنے ضروریات کو پورا کرنے والے کے ہوتے ہیں

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

19۔ پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس فرعونی کو پکڑنے کا ارادہ کیا جو موسیٰ (علیہ السلام) اور اس اسرائیلی دونوں کا مخالف اور دشمن تھا وہ اسرائیلی یہ سمجھ کر کہ مجھ کو پکڑنا چاہتے ہیں کہنے لگا اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا جس طرح تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا تھا آج مجھ کو قتل کرنا چاہتا ہے تم تو بس یہی چاہتے ہو کہ عواقب اور انجام کا خیال کئے بغیر ملک میں ماردھاڑ اور زبردستی کرتے پھرو اور تم باہمی صلح و صفائی اور میل ملاپ کرانے والے لوگوں میں سے نہیں ہونا چاہتے ۔ یعنی جب موسیٰ (علیہ السلام) کو اس اسرائیلی نے پکارا تو اول موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو یہ کہہ کر ڈانٹا کہ انک لغوی مبین پھر اس کے بعد…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) کا ارادہ تو مظلوم ساتھی کی مدد ہی کا تھا لیکن مظلوم انکے حق میں ظالم بن گیا : 19۔ قرآن کریم نے خاموشی کے ساتھ اس واقعہ کو نقل کردیا ہے اور اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اس لئے کہ واقعہ خود اپنی حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے بول رہا ہے ، پیچھے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل پر فرعون کے ظلم کی انتہا کی دو باتیں قرآن کریم نے ذکر کی ہیں وہ بھی محض اس لئے کہ ان باتوں کو دنیا کا کوئی انسان بھی خواہ وہ کسی ملت و مذہب سے تعلق رکھتا ہو ایسا نہیں ہوگا جو اس کی ان دونوں باتوں کو کھلا ظلم نہ قرار دے ، بنی اسرائیل کی نرینہ اولاد کو ذبح کرنا اور عورتوں کو زندہ رکھ کر ان سے اپنی نفسانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–22

Commentary وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاءَ مَدْيَنَ (And when he set out towards Madyan - 28:22). Madyan (مَدْيَنَ ) is the name of a city in Sham (a large territory now consisting of Syria, Jordan, Lebanon and Palestine) which was named after Madyan, the son of Ibrahim (علیہ السلام) . This area was outside the empire of the Pharaoh. It was eight days journey from Egypt. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) was taken over by the natural fright of the pursuing army of the Pharaoh, which was not in conflict either with the prophethood or with trust in Allah, he resolved to leave Egypt. Perhaps he…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

28 Here, the Biblical version is different from the Qur'anic. The Bible says that the fight on the next day was between two Israelites, but according to the Qur'an this fight also was between an Israelite and an Egyptian. This second version seems to be credible, for the manner in which the secret of the murder of the tirst day became known, as is being mentioned below, could be possible only if a member of the Coptic community had come to know of the matter. An Israelite's knowledge of it could not be so treacherous: he could not have gone to inform the Pharaonic government of such a heinous…

Read the full tafseer →