Explained with ayahs 18–19
جسے بچایا اسی نے راز کھولا
موسیٰ کے گھونسے سے قبطی مرگیا تھا اس لئے آپ کی طبیعیت پر گھبراہٹ تھی۔ شہر میں ڈرتے دبکتے آئے کہ دیکھیں کیا باتیں ہو رہی ہیں ؟ کہیں راز کھل تو نہیں گیا۔ دیکھتے ہیں کہ کل والا اسرائیلی آج ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے۔ آپ کو دیکھتے ہی کل کی طرح آج بھی فریاد اور دہائی دینے لگا۔ آپ نے فرمایا تم بڑے فتنہ آدمی ہو۔ یہ سنتے ہی وہ گھبرا گیا۔ جب حضرت موسیٰ نے اس ظالم قبطی کو روکنے کے لئے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو یہ شخص اپنے کمینہ پن اور بزدلی سے سمجھ بیٹھا کہ آپ نے مجھے برا کہا ہے اور مجھے پکڑنا چاہتے ہیں اپنی جان بچانے کے لئے شور مچانا شروع کردیا کہ موسیٰ کیا جیسے تو نے کل…
Read the full tafseer →سورة القصص 27
یعنی تو جھگڑالو آدمی معلوم ہوتا ہے۔ روز تیرا کسی نہ کسی سے جھگڑا ہوتا رہتا ہے۔ کل ایک شخص سے بھڑ گیا تھا، آج ایک دوسرے شخص سے جا بھڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِيْرًا لِّلْمُجْرِمِيْنَ ، حضرت موسیٰ ؑ کی اس لغزش کو جب حق تعالیٰ نے معاف فرما دیا تو آپ نے اس نعمت کے شکر میں یہ عرض کیا کہ میں آئندہ کسی مجرم کی مدد نہ کروں گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جس اسرائیلی کی مدد کے لئے یہ اقدام کیا تھا دوسرے واقعہ سے یہ بات ثابت ہوگئی تھی کہ وہ خود ہی جھگڑالو ہے، جھگڑا لڑائی اس کی عادت ہے اس لئے اس کو مجرم قرار دے کر آئندہ کسی ایسے شخص کی مدد نہ کرنے کا عہد فرمایا اور حضرت ابن عباس سے اس جگہ مجرمین کی تفسیر کافرین کے ساتھ منقول ہے اور قتادہ نے بھی تقریباً ایسا ہی فرمایا ہے اس تفسیر کی بنا پر واقعہ…
Read the full tafseer →دوسرے روز حضرت موسیٰ ڈرتے اور ٹوہ لیتے ہوئے پھر شہر میں داخل ہوئے۔ شہر میں جاتے ہوئے احتیاط تو، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، پہلے بھی وہ کرتے تھے لیکن اب اس واقعہ کے سبب سے اور بھی طرح طرح کے اندیشے رہے ہوں گے کہ معلوم نہیں اس کا ردعمل ان کے اور ان کی قوم کے خلاف کیا ہوتا ہے، زبانوں پر کیا چرچے ہیں اور انکے بارے میں کیا چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں ! اتنے میں دیکھا کہ وہی اسرائیل جو کل ان سے طالب مدد ہوا تھا آج پھر فریاد کر رہا ہے لیکن حضرت موسیٰ ؑ نے اس کو جھڑک دیا کہ تم خود ایک کھلے ہوئے شریر آدمی معلوم ہوتے ہو۔ اس کے کھلے ہوئے شریر آدمی ہونے کی ایک کھلی ہوئی دلیل تو یہی تھی کہ کل بھی وہ ایک شخص سے…
Read the full tafseer →18-1خائفا کے معنی ڈرتے ہوئے، ادھر ادھر جھانکتے اور اپنے بارے میں اندیشوں میں مبتلا۔
18-2یعنی حضرت موسیٰ ؑ نے اس کو ڈانٹا کہ تو کل بھی لڑتا ہوا پایا گیا تھا اور آج پھر تو کسی سے دست بہ گریبان ہے، تو صریح بےراہ، یعنی جھگڑالو ہے۔
Read the full tafseer →9: یعنی لڑائی بھڑائی تمہارا روز کا وطیرہ معلوم ہوتا ہے کہ کل کسی اور سے لڑے تھے اور آج اس شخص سے لڑ رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
فاصبح فی المدینۃ ۔۔۔۔۔۔ ان تکون من المصلحین (18- 19)
پہلے معرکے میں تو قبطی کا کام تمام ہوگیا تھا ، اس فعل پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت ندامت ہوئی۔ آپ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے اس غلطی پر استغفار کیا اور آپ کو معاف کردیا گیا۔ اور آپ نے اب عہد کرلیا کہ آپ کبھی بھی مجرمین کے معین و مددگار نہ ہوں گے۔
وہ دن تو گزر گیا لیکن آپ اس شہر میں ڈرے سہمے پھر رہے تھے شاید یہ راز کھل نہ گیا ہو۔ آپ ہر وقت راز کے انکشاف اور شرمندگی اور سزا سے خائف تھے۔ لفظ یترقب میں یہ تمام مفہوم موجود ہیں۔ آپ کی ہیئت سے بھی ظاہر تھا کہ آپ کسی پریشان میں گھوم رہے ہیں۔ سہمے ہوئے ، ہر لمحہ اور ہر لحظہ کسی خطرناک…
Read the full tafseer →7 یعنی انتظار کرتے اور راہ دیکھتے تھے کہ مقتول کے وارث فرعون کے پاس فریاد لے گئے ہوں گے دیکھئے کس پر جرم ثابت ہو اور مجھ سے کیا سلوک کریں۔
8 یعنی اسی اسرائیلی کی لڑائی آج کسی اور سے ہو رہی تھی۔
9 یعنی روز ظالموں سے الجھتا ہے اور مجھ کو لڑواتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 18 فَاَصْبَحَ فِی الْْمَدِیْنَۃِ خَآءِفًا یَّتَرَقَّبُ ”
ظاہر ہے قتل کے بعد شہر میں ہر طرف قاتل کو ڈھونڈنے کی دھوم مچی ہوگی۔ ہر طرح سے تفتیش و تحقیق ہو رہی ہوگی۔ چناچہ آپ علیہ السلام خوفزدہ بھی تھے کہ کہیں راز نہ کھل جائے اور محتاط و متجسسّ بھی۔
فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَہٗ بالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُہٗ ط ”
وہی شخص آج پھر کسی سے الجھا ہوا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر اس نے پھر آپ علیہ السلام کو مدد کے لیے پکارنا شروع کردیا۔
قَالَ لَہٗ مُوْسٰٓی اِنَّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ ”
کہ کل بھی ایک قبطی سے تمہاری لڑائی ہو رہی تھی اور آج پھر تم نے کسی سے جھگڑا مول لے رکھا ہے۔ لگتا ہے تمہاری…
Read the full tafseer →28 موسیٰ دوسرے دن ڈرتے ڈرتے پھر شہر میں داخل ہوئے۔ آپ دراصل اس ٹوہ میں تھے کہ کسی کو کل کے واقعہ کی خبر تو نہیں ہوگئی۔ اسی خطرہ کے تحت آپ پوری طرح چوکنے ہو کر شہر کی طرف آئے تھے کہ اگر کسی کو خبر ہوگئی تو میں گرفتار ہی نہ کرلیا جاؤں۔ شہر میں داخل ہو کر آپ نے یہ منظر دیکھا کہ جس سبطی کی حمایت میں آپ نے پہلے دن ایک قبطی کا خون کر ڈالا تھا۔ وہی سبطی آج پھر ایک قبطی سے الجھ رہا ہے۔ اس نے آج پھر موسیٰ کو اپنی مدد کے لئے پکارا۔ موسیٰ کو کل کے واقعہ پر بہت رنج تھا۔ فوراً سبطی سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ تم تو کوئی بدمعاش آدمی معلوم ہوتے ہو۔ جو ہر روز کسی نہ کسی سے الجھتے رہتے ہو۔
Read the full tafseer →23۔ (اور اس وقت کسی اور سے الجھ رہا تھا) (آیت) ” یترقب “۔ یعنی آپ کو برابر یہ دھڑکا لگا ہوا تھا کہ کہیں مصری پولیس گرفتار کرنے نہ آرہی ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس وقت تک نبی نہیں ہوئے تھے لیکن اگر ہوتے بھی تو طبعی خوف واندیشہ کسی بھی مرتبہ کمال کے منافی نہیں۔ (آیت) ” خآئفایترقب “۔ فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ جو لوگ مطلقا غیر اللہ کے خوف کو ناجائز بتاتے ہیں۔ یہ آیت ان کے خیال کی بالکل تردید کررہی ہے۔ فیہ دلیل علی انہ لاباس بالخوف من دون اللہ بخلاف مایقولہ بعض الناس انہ لایسوغ الخوف من دون اللہ (مدارک)
24۔ (کہ روز ہی لوگوں سے الجھتا رہتا ہے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کل کی بات یاد آگئی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
آیت نمبر 14 تا 21
ترجمہ : اور موسیٰ اپنی بھرپور جوانی کو پہنچ گئے اور وہ تیس یا تینتیس سال ہیں اسور توانا اور تندرست ہوگئے یعنی چالیس سال کے ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا یعنی نبی بنائے جانے سے پہلے ہی ان کو حکمت اور دین کی سمجھ عطا کی اور ہم اسی طرح جیسا کہ موسیٰ کو جزاء دی اپنے اوپر احسان کرنے والوں کو جزاء دیتے ہیں اور موسیٰ شہر میں یعنی فرعون کے شہر میں جس کا نام مُنُفُ تھا ایک مدت غائب رہنے کے بعد ایسے وقت میں داخل ہوئے کہ شہر کے لوگ قیلولہ کے وقت غافل تھے یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا یہ ایک تو اس کی برادری کا یعنی اسرائیلی تھا اور دوسرا اس کے دشمن کی برادری کا یعنی قطبی…
Read the full tafseer →فاصبح فی المدینۃ خآئفا یترقب . پھر موسیٰ کو اسی شہر میں صبح ہوئی خوف اور وحشت کی حالت میں۔
اَلْمَدِیْنَۃِ یعنی اس شہر میں جس میں قبطی کو قتل کیا تھا۔ یَتَرَقَّبُ مقتول کے وارثوں کی طرف سے انتقام کا اندیشہ کر رہے تھے یا اپنے رب کی طرف سے مدد کے منتظر تھے۔
فاذا الذی استنصرہ بالامس یستصرخہ قال لہ موسیٰ انک لغوی مبین . تو دیکھتے کیا
ہیں کہ جس شخص نے موسیٰ سے کل مدد مانگی تھی ‘ وہی موسیٰ کو چیخ کر پکار رہا ہے۔ موسیٰ نے اس سے کہا : حقیقت میں تو ہی کھلا ہوا کج رفتا رہے۔
یَسْتَصْرِخُہٗ ان سے فریاد کر رہا ہے (مدد مانگ رہا ہے) یہ صُرَاخٌ سے مشتق ہے ( صُرَاخ کا معنی ہے چیخنا ‘ فریاد کرنا) حضرت ابن عباس…
Read the full tafseer →(18) پھر حضرت موسیٰ ؑ کو اس قتل کے خوف اور وحشت کی حالت میں صبح ہوگئی انہیں ڈر تھا کہ کب پکڑا جاؤں دیکھتے کیا ہیں کہ وہی اسرائیلی جس نے گزشتہ روز ان سے قبطی کے مقابلہ میں مدد چاہی تھی آج پھر دوسرے قبطی کے خلاف مدد کے لیے پکار رہا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اس سے فرمایا تو بڑا بد راہ سے روزانہ لڑتا پھرتا ہے اور روکنا چاہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
فَاَصْبَحَ فِي الْمَدِيْنَةِ خَاۗىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ۔۔ : موسیٰ ؑ کے ہاتھوں قبطی قتل ہوگیا تھا، اس لیے انھوں نے شہر میں اس حال میں صبح کی کہ کل کے واقعہ سے خوف زدہ تھے اور انتظار کر رہے تھے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اور کب کوئی انھیں گرفتار کرنے کے لیے آتا ہے۔ اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ وہی اسرائیلی جس نے کل ان سے ایک قبطی سے بچانے کے لیے مدد مانگی تھی، وہ ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے۔ جب موسیٰ ؑ وہاں سے گزرے تو اس نے چیخ چیخ کر انھیں مدد کے لیے پکارنا شروع کردیا۔ موسیٰ ؑ کل کے واقعہ سے آزردہ تھے، اسے کہنے لگے، یقیناً تو کھلا گمراہ شخص ہے، یعنی ہر روز کسی نہ کسی سے لڑتا جھگڑتا
رہتا ہے، کل ایک شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
فاصبح فی المدینۃ حآئفاً سورة طہ اور دوسری سورتوں میں یہ بحث گزر چکی ہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام خوف کیا کرتے تھے۔ یہ ان لوگوں کا رد ہے جو اس کے خلاف قول کرتے ہیں خوف نہ تو معرفت کے خلاف ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے توکل کے خلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نفس کے قتل کی وجہ سے خوفزدہ نہ ہوتے کہ اس پر آپ کا مواخذہ کیا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اپنی قوم سے خوف تھا کہ کہیں وہ آپ کو فرعون کے سپرد ہی نہ کر دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ سے خوف تھا۔ یترقب سعید بن جبیر نے کہا : خوف کی وجہ سے مڑ کر پیچھے دیکھتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تلاش کا انتظار کرتے تھے اور اس امر کا انتظار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاصبح فی المدینۃ خائفا سے مراد ہے کہ انہوں نے پکڑے جانے کے خوف سے صبح کی۔
2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت یترقب سے مراد ہے دائیں باءٰں دیکھتے ہوئے
3۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت یترقب یعنی گھبرائے ہوئے
4۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت فاذا الذی استنصرہ بالامس یستصرخہ کے بارے میں روایت کیا کہ وہی آدمی مدد کے لیے پکارنے لگا جس نے ان سے کل مدد مانگی تھی
5۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ اسی آدمی نے پکارا جس نے…
Read the full tafseer →فَاَصْبَحَ [ پھر وہ (علیہ السلام) صبح کو ہوئے (یعنی گئے)] فِي الْمَدِيْنَةِ [ اس شہر میں ] خَاۗىِٕفًا [ ڈرنے والے ہوتے ہوئے ] يَّتَرَقَّبُ [ چوکنا ہوتے ہوئے ] فَاِذَا [ پھر جب ہی ] الَّذِي [ جس نے ] اسْتَـنْصَرَهٗ [ مدد مانگی تھی ان سے ][ بِالْاَمْسِ [ گزشتہ کل ] يَسْتَــصْرِخُهٗ ۭ [ وہ فریاد کرتا ہے ان (علیہ السلام) سے ] قَالَ [ کہا ] لَهٗ [ اس سے ] مُوْسٰٓى [ موسیٰ (علیہ السلام) نے ] اِنَّكَ [ بیشک تو ] لَغَوِيٌّ مُّبِيْنٌ [ یقینا ایک کھلا گمراہ ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین پہنچنا وہاں دو لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلانا پھر ان میں سے ایک لڑکی سے شادی ہونا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب ایک شخص نے رائے دی کہ دربار والے تمہارے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں تم یہاں سے نکل جاؤ تو وہ سرزمین مصر سے روانہ ہوگئے اور مدین کی طرف چل دیئے جو ملک شام کا ایک شہر ہے۔ یہ علاقہ فرعونی حکومت میں شامل نہیں تھا۔ اور وہ زمانہ پاسپورٹ اور ویزے کا بھی نہیں تھا جو شخص جس ملک میں اور جس شہر میں چاہتا جاسکتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین کا رخ کیا وہاں کبھی تشریف نہیں لے گئے تھے راستہ معلوم نہیں تھا اللہ تعالیٰ سے خیر کی امید باندھ کر نکل کھڑے ہوئے اور یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–21
تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون
قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں…
Read the full tafseer →19:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے رات اسی امید و بیم اور کشمکش میں گذار دی کہ دیکھیں فرد جرم کس پر عائد ہوتی ہے۔ اگلے روز جب وہ گھر سے باہر نکلے تو دیکھا کہ وہی اسرائیلی آج ایک دوسرے قبطی سے گتھم گتھا ہے۔ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر آج پھر مدد کے لیے پکارا موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر آج پھر مدد کے لیے پکارا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تو بڑا بیہودہ آدمی ہے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ تیرا روزانہ کام ہی یہی ہے۔ فلما ان اراد الخ، اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) جب قبطی کو پکڑ کر پیچھے ہٹانے کے ارادے سے آگے بڑھے تو اسرائیلی سمجھا کہ وہ مجھے پکڑنے لگے ہیں کیونکہ انہوں نے اسے ملامت کی تھی اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ربط آیات
جب موسیٰ (علیہ السلام) عالم شباب کو پہنچے تو اللہ نے انہیں حکمت اور سمجھ عطا فرمائی آپ بری باتوں پر تنقید اور ظالموں کی مدد کرتے تھے ۔ اس دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ آپ دارالحکومت سے بارہ میل کے فاصلہ پر واقع شہر منصف میں ایسے وقت میں داخل ہوئے جب لوگ آرام کر رہے تھے ۔ آپ نے دیکھا کہ ایک قبطی اور اسرائیلی آپس میں جھگڑ رہے ہیں ۔ حسب معمول قبطی آدمی اسرائیلی پر زیادتی کر رہا تھا ، لہٰذا اسرائیلی نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد کی درخواست کی ۔ آپ نے اسے چھڑانے کی کوشش کی مگر قبطی ایسا کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ اس پر آپ نے قبطی کو ایک گھونسہ رسید کیا جسے وہ برداشت نہ کرسکا اور ہلاک…
Read the full tafseer →فَاَصْبَحَ فِي الْمَدِيْنَۃِ خَاۗىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِي اسْتَـنْصَرَہٗ بِالْاَمْسِ يَسْتَصْرِخُہٗ 0ۭ قَالَ لَہٗ مُوْسٰٓى اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيْنٌ 18
خوف
الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57]
( خ و) الخوف ( س )
کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
ترکیب : اتینہ جواب لما علی حین غفلۃ حال من المدینتہ ویجوزان یکون حالاً من الفاعل ای محتلساً ۔ ھذا من الخ الجملتان فی موضع نصب صفۃ لرجلین بما انعمت الباء للقسم والجواب محذوف دل علیہ فلن اکون ویمکن ان یکون المعنی بحق انعامک علی اعصمنی خائفًا حال من فاعل اصبح یترقب بدل منھا اوتاکید لہا یسعی صفۃ اخزی الرجل او حال والایتمارا التشاور لان کل واحد من المتش اور یں یامرصاحبہ بشی ئٍ او یشیر علیہ بامر۔
تفسیر : الغرض موسیٰ ( علیہ السلام) جب بھرپور جوان ہوگئے تو خدا نے ان کو حکم یعنی دانائی اور حکمت دی اور علم عطاء کیا۔ نیک و صالح اور باخدا اٹھے، لیکن ہنور نبوت نہیں عطا ہوئی تھی۔ بعض کہتے ہیں اشد اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَۃِ خَآئِفًایَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَـنْصَرَہٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُہٗ ط قَالَ لَـہٗ مُوْسٰٓی اِنَّـکَ لَغَوٍیٌّ مُّبِیْنٌ۔ فَلَمَّـآ اَنْ اَرَادَاَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ ھُوَعَدُوٌّلَّہُمَالا قَالَ یٰمُوْسٰٓی اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ کَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا م بِالْاَمْسِصلے ق اِنْ تُرِیْدُ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَمَا تُرِیْدُ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ ۔
(القصص : 18، 19)
(پس دوسرے روز حضرت موسیٰ شہر میں داخل ہوئے ڈرتے ہوئے اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتے ہوئے تو اچانک آپ نے دیکھا کہ وہی شخص جس نے کل آپ کو مدد کے لیے پکارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
فہم القرآن
ربط کلام : ناعاقبت اندیش اور نام نہاد مظلوم کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو وطن چھوڑنا پڑا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے قتل خطا کی معافی مانگتے ہوئے یہ بھی عرض کی تھی کہ بار الٰہ ! میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میں مجرم کی حمایت نہیں کروں گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جس شخص کی حمایت کی تھی وہ کتنا ناعاقبت اندیش اور بدفطرت تھا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اگلی صبح کل کے واقعہ کی وجہ سے ڈرتے ہوئے گھر سے باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہی شخص آج پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی مدد کے لیے پکار رہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے طیش میں آکر فرمایا تو تو بڑا ظالم اور برا شخص ہے۔…
Read the full tafseer →18: فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَۃِ خَآپفًا (آپ نے شہر میں خوف کی حالت میں صبح کی) ۔ اپنے متعلق قتل قبطی کے سلسلہ میں خوف زدہ تھے کہ ان کو پکڑ لیا جائے۔ یَتَرَقَّبُ (انتظار کرتے) ۔ نحو : یہ حال ہے۔ ناپسند چیز کی توقع کرتے اور وہ اندیشہ انتقام تھا۔ یا نمبر 2۔ اطلاع قتل نمبر 3۔ جو کچھ اس کے بارے میں کہا جا رہا تھا۔
قول ابن عطاء m :
اپنے نفس کے متعلق خطرہ تھا اپنے رب کی مدد کے منتظر تھے۔
نحو : اس میں دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی سے ڈرنے میں حرج نہیں۔ بخلاف ان لوگوں کے جو اس کو درست قرار نہیں دیتے۔ فَاِذَا الَّذِی (اچانک وہ شخص جس نے) ۔ نحو : اذا مفاجات کے لئے ہے اور اس کا مابعد مبتدأ ہے۔…
Read the full tafseer →18۔ فاصبح فی المدینہ، ، اس شہر میں جس شہر میں قبطی کو قتل کیا۔ خائفا، ، قبطی کو قتل کرنے کی وجہ سے وہ خوف زدہ تھے۔ یترقب ، وہ مقتول کے وارثوں کی طرف سے انتقام کا اندیشہ کررہے تھے۔ ترقب کہتے ہیں کہ ناپسندیدہ کام کی انتظار کرنا۔ کلبی کا بیان ہے کہ وہ منتظر تھے کہ ان کو کس وقت گرفتار کیا جائے گا۔
” فاذالذی استصرہ بالامس یستصرخہ، اور اگلی صبح کے بعد وہی شخص فریاد کررہا ہے مدد مانگ رہا ہے ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ لوگ فرعون کے پاس آئے اور کہا کہ بنی اسرائیل نے ہمارا ایک آدمی مارڈالا، ہمیں حق دلوائیے، فرعون نے کہا کہ قاتل کو تلاش کیا جائے اور گواہوں کو پیش کیا جائے۔ بغیر شہادت کے تو فیصلہ نہیں کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–26
14 تا 26۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھر پرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم اور سمجھ دونوں عنایت کئے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے نکل کر مدین میں پہنچنے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے ہوئے دیکھا جن میں ایک ان کے گروہ میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے حین غفلۃ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ دوپہر کا وقت تھا اسرائیل نے فریاد کی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
نبی سے کوئی جرم سرزد ہو تو خدا سے معافی مانگتا ہے
قول باری ہے : (فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ۔ موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا) نیز قول باری ہے (وقتلت نفسا۔ تونے ایک آدمی کو قتل کردیا تھا) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتادیا کہ انہوں نے گھونسا مار کر اس شخص کو قتل کردیا تھا پھر اپنے اس فعل پر جن الفاظ میں ندامت کا اظہار کیا تھا اس کا ذکر قرآن میں اس طرح ہوا ہے : (رب انی ظلمت نفسی۔ اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے نفس پر ظلم کرلیا) ۔
بعض حضرات کا قول ہے کہ تھپڑ مار کر کسی کی جان لے لینا قتل عمد ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) علی الاطلاق یہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
25 فرعونی دربار میں حضرت موسیٰ کے قتل کے مشورے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ شہر کے اس کنارے سے ایک شخص حضرت موسیٰ کے پاس دوڑتا ہوا آیا اور آکر ان سے کہا کہ موسیٰ دربار والے آپ کو قتل کردینے کا مشورہ کر رہے ہیں۔ لہذا آپ جس قدر جلد ممکن ہو سکے یہاں سے نکل جائیں۔ میں آپ کا پکا سچا خیر خواہ ہوں۔ روایات کے مطابق یہ آل فرعون کا وہی مومن شخص تھا جس نے اپنے ایمان کو چھپا رکھا تھا اور جس کا قصہ آگے خود قرآن پاک کی سورة المومن میں آ رہا ہے۔ سو اس شخص نے دوڑتے ہوئے اور بیچ کی گلیوں کے شارٹ راستے سے گزر کر آ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات بتائی۔ تاکہ آپ (علیہ السلام) اپنی جان کے بچانے کی فکر کرسکیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
ظلم کے خلاف جہاد ہجرت اور مدین میں قیام
تشریح : جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوئے تو بڑے خوبصورت پڑھے لکھے باشعور ‘ پاکیزہ ‘ نیک ‘ نرم دل ‘ متقی اور پرہیزگار جوان تھے۔ ملک میں چاروں طرف پھیلا ہوا ظلم و ستم ان کو کسی صورت بھی اچھا نہ لگتا تھا۔ کیونکہ اس وقت کے حاکم اور وزراء کی پالیسی یہ تھی کہ رعایا کی بجائے اپنے تاج و تخت کی زیادہ فکر کی جائے تو اس کے لیے ان کو یہ پالیسی زیادہ پسند تھی کہ رعایا کو آپس میں کسی نہ کسی طرح لڑائے رکھو تاکہ وہ حکمرانوں کی زیادتیوں کی طرف نہ متوجہ ہوں اور نہ ہی احتجاج کریں بس آپس میں ہی لڑتے مرتے رہیں۔ اس لیے ملک میں امن وامان نام کی کوئی چیز نہ تھی اور خاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
آیات 14 تا 21
اسرارو معارف
جب موسیٰ (علیہ السلام) جوانی کو پہنچے تو وہ بہت سمجھدار اور باعلم تھے ہم نے انہیں علم و احکمت کہ فطرت سلیمہ قبل از بعثت نبی کو نصیب ہوتی ہے عطا فرمائی۔ اور نیکی کے کرنے والے مخلص لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا جاتا ہے۔
نیکی سے دنیا کے امور کو سمجھنے کی استعداد بھی زیادہ ہوجاتی ہے :
یہ ثابت ہوا کہ خلوص کے ساتھ نیک اعمال کرنے سے دنیا کے معاملات کو بہتر سمجھنے کی صلاحیت عطا ہوتی ہے ہمارے ہاں جو نیک لوگوں کے زیادہ بھولے ہونے کی بات ہے تو غالبا یہاں نیکی صرف عبادت کو سمجھ لیا گیا ہے جبکہ نیکی سے مراد عبادت اور پوری عملی زندگی میں بھرپور حصہ لینا ہے۔ اللہ کرے ہمارے عبادت گزار…
Read the full tafseer →4 ۔ یعنی ذہن میں یہ خیال رکھتے ہوئے کہ دیکھو کیا ہوتا ہے اور کہاں پکڑ لیا جاتا ہوں ؟ 5 ۔ یعنی اب ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے۔ اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی مدد چاہتا ہے۔ (قرطبی) 6 ۔ جو ہر روز کسی نہ کسی سے لڑتا جھگڑتا رہتا ہے کل ایک شخص سے لڑ رہا تھا اور آج دوسرے سے جھگڑا ہوں لئے کھڑا ہے۔ مطلب یہ تھا کہ کل تیرے سبب سے میں ایک جان کو قتل کرچکا ہوں۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(28:18) فاصبح۔ دخل وہ داخل ہوا۔ پھر اس کو صبح ہوگئی۔ اس نے صحیح کردی۔
خائفا : اصبح کا فاعل سے حال ہے۔ خوف کھاتے ہوئے۔ خائف ، ڈرتے ہوئے، خوف و اندیشہ کی حالت میں۔
یترقب۔ مضارع واحد مذکر غائب ترقب (تفعل) مصدر جس کے معنی ہیں انتظار کرتے ہوئے کسی چیز سے بچنا۔ یعنی اس انتظار میں صبح کردی کہ دیکھیں قتل کے نتیجے میں کیا ہوتا ہے یا خفیہ توہ لگاتے صبح کردی۔ یترقب۔ حال اول خائفا کا بدل ہے یا اس کی تاکید ہے۔
خائفا خبر بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں اصبح فعل ناقص اور ضمیر موسیٰ (علیہ السلام) اس کا اسم ہوگا اور جملہ یترقب خبر بعد خبر یا خائفا کی ضمیر فاعل سے حال ہوگا۔ مطلب یہ کہ قتل کے بعد حالات کیا صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
لغات القرآن : آیت نمبر 18 تا 21 :
یترقب (انتظار کرتا ہے۔ دیکھتا بھالتا ہے) استنصر (اس نے مدد مانگی) ‘ الامس (گذشۃ کل) ‘ یستصرخ (فریاد کرتا ہے۔ چلاتا ہے) ‘ غوی (گم راہ) یبطش (وہ پکڑتا ہے) جبار (زبردستی کرنے والا) ‘ اقصا ( دور) ‘ یا تمرون (وہ مشورہ کرتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 18 تا 21 :
ظالم و جابر قوموں کا انداز ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ اگر ہزاروں آدمی بھی ان کے ظلم وستم کا شکار ہوکر مرجائیں ‘ قتل ‘ ہوجائیں اور تباہ و برباد ہوجائیں تو ان کے نزدیک کوئی خاص بات نہیں ہوتی لیکن اگر ان ظالموں کا ایک آدمی بھی مارا جائے تو اس کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے جیسے ساری انسانیت کا خون ہوگیا ہے۔ چناچہ فرعون جو اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سفر۔
(ف 1) جب فرعونی ظالم پر حضرت موسیٰ نے ہاتھ ڈالنا چاہا تو اسرائیلی نے جانا کہ مجھے مارنا چاہتے ہو کیونکہ مجھ ہی پر خفا ہوئے ہیں اور اپنے بچانے کے واسطے کہنے لگا کہ حضرت موسیٰ تم چاہتے ہو کہ جس طرح تم نے کل ایک آدمی کو مارڈالا اسی طرح مجھ کو بھی آج مارڈالو گے، اس سے پیشتر پہلے روز کا معاملہ سوائے موسیٰ اور اس اسرائیلی کے کوئی اور نہیں جانتا تھا فرعونی یہ سب سنا تو اس نے دوڑ کر فرعون سے جاکرکہا کہ کل کے روز جو تمہارا آدمی مارا گیا ہے اس کو حضرت موسیٰ نے قتل کیا ہے فرعون بہت غصہ ہوا اور موسیٰ کے مارنے کا ارادہ کیا کئی پیادے مقرر کیے کہ حضرت موسیٰ کو تلاش کرکے لاؤ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
[10] یعنی فرعونی۔
[11] فرعونی نے یہ بات سنی اور جاکر مخبری کردی کہ کل کے مقتول کا قاتل موسیٰ ہے۔
Read the full tafseer →حل لغات : استنصرہ ۔ مدد کے لئے چیخنا
Read the full tafseer →18۔ غرض موسیٰ (علیہ السلام) صبح ہی صبح ڈرتا حالات کی ٹوہ لگاتا شہر میں گیا تو اچانک کیا دیکھتا ہے وہی اسرائیلی جس نے کل گزشتہ موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد طلب کی تھی آج موسیٰ (علیہ السلام) کو پھر پکار رہا ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا تو یقینا صریح بےراہ ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے رات پریشانی کی حالت میں گزاری صبح کو ڈرتا اور خوف کھاتا ہوا نکلا کیونکہ کل کا واقعہ سامنے تھا کہ فرعونی حکومت کی اطلاعات کیا ہیں میرا نام کسی کو معلوم ہوا یا نہیں پولیس آتی ہے تو کب ہے اس قسم کا انتظار تھا اسی کی ٹوہ اور کھوج لگانے کو نکلا کہ شہر میں کیا افواہ ہے۔ میری گرفتاری ہوتی ہے تو کب ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ف 2۔ اور امن کی جگہ پہنچا دیجئے۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) دوسرے روز دوبارہ ایسے معاملہ سے دوچار ہوگئے :
18۔ (فاصبح) کے لفظ سے یہ لازم تو نہیں آتا کہ جب وہ اتفاقیہ قتل آپ سے سرزد ہوا اس سے اگلے روز ہی کی وہ صبح تھی بلکہ اس واقعہ کے بعد قریب ہی کسی دن کی صبح بھی مراد لی جاسکتی ہے ، مطلب یہ ہے کہ گزشتہ واقعہ کو ابھی کوئی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ موسیٰ صبح کے وقت دوبارہ جب شہر سے گزرے کہ ابھی گزشتہ واقعہ کا خوف بھی زائل نہیں ہوا تھا بلکہ انتظار ہی میں تھے کہ کسی وقت بھی کچھ ہو سکتا ہے تو آپ نے دیکھا کہ وہی شخص جو گزشتہ دنوں کے اس واقعہ میں کسی کے ساتھ الجھا ہوا تھا آج پھر کسی سے دست و گریبان ہے اور آپ کو دیکھ کر اس نے پھر مدد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
Commentary
وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاءَ مَدْيَنَ (And when he set out towards Madyan - 28:22). Madyan (مَدْيَنَ ) is the name of a city in Sham (a large territory now consisting of Syria, Jordan, Lebanon and Palestine) which was named after Madyan, the son of Ibrahim (علیہ السلام) . This area was outside the empire of the Pharaoh. It was eight days journey from Egypt. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) was taken over by the natural fright of the pursuing army of the Pharaoh, which was not in conflict either with the prophethood or with trust in Allah, he resolved to leave Egypt. Perhaps he…
Read the full tafseer →27 That is, "You seem to be a quarrelsome man:you have daily a new quarrel with one or the other person."
Read the full tafseer →