Al-Qasas 28:17

Al-Qasas · from ayah 17

28:17

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ ۟قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَىَّ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ‏

کہنے لگے کہ اے پروردگار تو نے جو مجھ پر مہربانی فرمائی ہے میں (آئندہ) کبھی گنہگاروں کا مددگار نہ بنوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "My Lord, for the favor You bestowed upon me, I will never be an assistant to the criminals."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 2 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:17

موسیٰؑ نے عہد کیا کہ "“اے میرے رب، یہ احسان جو تو نے مجھ پر کیا ہے اِس کے بعد اب میں کبھی مجرموں کا مدد گار نہ بنوں گا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہنے لگے کہ اے پروردگار تو نے جو مجھ پر مہربانی فرمائی ہے میں (آئندہ) کبھی گنہگاروں کا مددگار نہ بنوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہنے لگے اے میرے رب! جیسے تو نے مجھ پر یہ کرم فرمایا میں بھی اب ہرگز کسی گنہگار کا مددگار نہ بنوں گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

موسیٰ نے کہا : میرے پروردگار ! آپ نے مجھ پر انعام کیا ہے تو میں آئندہ کبھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

عرض کی اے میرے رب جیسا تو نے مجھ پر احسان کیا تو اب ہرگز میں مجرموں کا مددگار نہ ہوں گا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(مزید) عرض کرنے لگے: اے میرے رب! اس سبب سے کہ تو نے مجھ پر (اپنی مغفرت کے ذریعہ) احسان فرمایا ہے اب میں ہرگز مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا اے میرے رب ! اس وجہ سے کہ تو نے مجھ پر انعام کیا، تو میں کبھی بھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر یہ عہد کیا کہ : پروردگار ! تو نے جو مجھ پر انعام کیا ہے تو میں کبھی مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا، اے ربچ چونکہ تو نے مجھ پر فضل فرمایا تو میں عہد کرتا ہوں کہ میں مجرموں کا مددگار کبھی نہیں بنوں گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

موسیٰ نے مزید عرض کیا کہ اے میرے رب ! جیسا کہ آپ نے مجھ پر احسان فرمایا میں کبھی بھی مددگار اور پشت پناہ نہیں بنوں گا ظالموں کے لئے

— مولانا اسحاق مدنی

(موسی ؑ نے) عرض کی اے میرے پروردگار تو نے مجھ پر (بڑے بڑے) انعامات کئے ہیں سو میں بھی مجرموں کی مدد نہ کروں گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس نے کہا : پروردگار ! بسبب اس احسان کے جو تو نے مجھ پر کیا ہے (میں عہد کرتا ہوں کہ) اب میں کبھی مددگار نہیں بنوں گا مجرموں کا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بولے ”اے رب العزت ! تو نے جو مجھ پر مہربانی فرمائی ہے میں آئندہ کبھی گنہگاروں کا مددگار نہ بنوں گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thereupon Moses vowed: "My Lord, because of the favour that You have done me I shall never support the guilty."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Musa) said, :O my Lord! As You have favored me, I will never be a supporter of the sinners.

— Muhammad Taqi Usmani

He (Musa) said, :O my Lord! As You have favored me, I will never be a supporter of the sinners.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "My Lord! For that with which You have favored me, I will nevermore be a helper of the criminals!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: My Lord! Forasmuch as Thou hast favoured me, I will nevermore be a supporter of the guilty.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "My Lord, for the favor You bestowed upon me, I will never be an assistant to the criminals."

— Saheeh International

He said, "Lord, in appreciation for Your favor to me I shall never support the criminals".

— Muhammad Sarwar

He said: My Lord! because Thou hast bestowed a favor on me, I shall never be a backer of the guilty.

— Muhammad Habib Shakir

He said: my Lord! whereas Thou hast favoured me, I shall nevermore be a supporter of the culprits.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "O my Lord! For that Thou hast bestowed Thy Grace on me, never shall I be a help to those who sin!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–17

گھونسے سے موت حضرت موسیٰ کے لڑکپن کا ذکر کیا اب ان کی جوانی کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ اللہ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا۔ یعنی نبوت دی۔ نیک لوگ ایسا ہی بدلہ پاتے ہیں، پھر اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کے مصر چھوڑنے کا باعث بنا اور جس کے بعد اللہ کی رحمت نے ان کار خ کیا یہ مصر چھوڑ کر مدین کی طرف چل دئیے۔ آپ ایک مرتبہ شہر میں آتے ہیں یا تو مغرب کے بعد یا ظہر کے وقت کہ لوگ کھانے پینے میں یا سونے میں مشغول ہیں راستوں پر آمد ورفت نہیں تھی تو دیکھتے ہیں کہ دو شخص لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ ایک اسرائیلی ہے دوسرا قبطی ہے۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ سے قبطی کی شکایت کی اور اس کا زور ظلم بیان کیا جس پر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القصص 25 یعنی یہ احسان کہ میرا فعل چھپا رہ گیا اور دشمن قوم کے کسی فرد نے مجھ کو نہیں دیکھا، اور مجھے بچ نکلنے کا موقع مل گیا۔ سورة القصص 26 حضرت موسیٰ کا یہ عہد بہت وسیع الفاظ میں ہے۔ اس سے مراد صرف یہی نہیں ہے کہ میں کسی مجرم فرد کا مددگار نہیں بنوں گا، بلکہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ میری امداد و اعانت کبھی ان لوگوں کے ساتھ نہ ہوگی، جو دنیا میں ظلم و ستم کرتے ہیں۔ ابن جریر اور متعدد دوسرے مفسرین نے اس کا یہ مطلب بالکل ٹھیک لیا ہے کہ اسی روز حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کی حکومت سے قطع تعلق کرلینے کا عہد کرلیا، کیونکہ وہ ایک ظالم حکومت تھی اور اس نے خدا کی زمین پر ایک مجرمانہ نظام قائم کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–21

قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِيْرًا لِّلْمُجْرِمِيْنَ ، حضرت موسیٰ ؑ کی اس لغزش کو جب حق تعالیٰ نے معاف فرما دیا تو آپ نے اس نعمت کے شکر میں یہ عرض کیا کہ میں آئندہ کسی مجرم کی مدد نہ کروں گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جس اسرائیلی کی مدد کے لئے یہ اقدام کیا تھا دوسرے واقعہ سے یہ بات ثابت ہوگئی تھی کہ وہ خود ہی جھگڑالو ہے، جھگڑا لڑائی اس کی عادت ہے اس لئے اس کو مجرم قرار دے کر آئندہ کسی ایسے شخص کی مدد نہ کرنے کا عہد فرمایا اور حضرت ابن عباس سے اس جگہ مجرمین کی تفسیر کافرین کے ساتھ منقول ہے اور قتادہ نے بھی تقریباً ایسا ہی فرمایا ہے اس تفسیر کی بنا پر واقعہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آئندہ کے لئے احتیاط نعمت، صالحین کے لئے شکر گزاری میں اضافہ کرتی ہے اس وجہ سے جب اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ فضل فرمایا کہ ان کو معافی دے دی تو آئندہ کے لئے انہوں نے یہ عہد فرمایا کہ اب میں کبھی مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا۔ ”مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا“ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ آپ نے اسرائیلی کی حمایت اس کو محرم سمجھتے ہوئے کی اب نے تو جو کچھ کیا اس کو مظلوم سمجھتے ہوئے کیا، اس کی فریاد کیا اور وقت کے حالات کی بنا پر ان کو گمان یہی ہوا کہ قطبی ظالم اور اسرائیلی مقلوم ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان کے معافی مانگنے پر یہ نہیں فرمایا کہ تم بےقصور ہو، قبطی ظالم آدمی تھا، بلکہ ان کو ایک غلطی کا مرتکب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

17-1یعنی جو کافر اور تیرے حکموں کا مخالف ہوگا، تو نے مجھ پر جو انعام کیا ہے، اس کے سبب میں اس کا مددگار نہیں ہوں گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

8: اب تک حضرت موسیٰ ؑ فرعون کے ساتھ رہ رہے تھے اور اس کے ساتھ آتے جاتے تھے، اس واقعہ نے ان کے دل میں ایک انقلاب پیدا کردیا اور انہیں یہ محسوس ہوا کہ یہ سارا جھگڑا در حقیقت فرعون کے جابرانہ طرز حکومت کا نتیجہ ہے، جس کی وجہ سے مصریوں کو اسرائیلیوں پر ظلم ڈھانے کی جرأت ہوئی ہے، اس لئے اس واقعے کے بعد انہوں نے تہیہ کرلیا کہ آئندہ میں فرعون اور اس کے اہل کاروں سے مکمل علیحدگی اختیار کرلوں گا تاکہ اس کی بالواسطہ بھی کسی بھی قسم کی مدد کا ارتکاب نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–17

ودخل المدینہ علی حین ۔۔۔۔۔۔۔۔ ظھیرا للمجرمین (15- 17) ” وہ شہر میں داخل ہوا “ اور شہر سے مراد دار الخلافہ ہے ، جس طرح کہ اس وقت وہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کہاں سے آئے اور شہر میں داخل ہوئے۔ کیا یہ عین الشمس کے قصر شاہی سے نکل کر آئے یا یہ کہ انہوں نے شاہی محل اور دارالحکومت کو چھوڑ دیا تھا اور کسی اور جگہ رہائش اختیار کرلی تھی اور وہ شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غافل تھے یعنی دوپہر کا وقت تھا یا لوگوں کے آرام کا وقت تھا۔ جب وہ شہر میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں۔ فوجد فیھا رجلین ۔۔۔۔۔۔۔ من عدوہ (28: 15) ” وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دوسرا اس کی دشمن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی آپ نے جیسے اپنے فضل سے مجھ کو عزت، راحت، قوت عطا فرمائی اور میری تقصیرات کو معاف کیا اس کا شکر یہ ہے کہ میں آئندہ کبھی مجرموں کا مددگار نہ ہوں گا۔ شاید اس فریادی (اسرائیلی) کی بھی کچھ تقصیر معلوم ہوئی ہوگی، مجرم اسے کہا ہو۔ یا مجرمین سے کفار اور ظالم لوگ مراد ہوں۔ یعنی تیری دی ہوئی قوتوں کو آئندہ بھی کبھی ان کی حمایت و اعانت میں خرچ نہ کروں گا۔ یا مجرمین سے شیاطین مراد ہوں یعنی شیاطین کے مشن میں ان کا مددگار کبھی نہ بنوں گا کہ وہ وسوسہ اندازی کر کے مجھ سے ایسا کام کرا دیں جس پر بعد کو پچھتانا پڑے۔ یا اسرائیلی کو مجرم اس حیثیت سے کہا کہ وہ وقوع جرم کا سبب بنا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 16–17

آیت 17 قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَکُوْنَ ظَہِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ ” یعنی چونکہ تو نے مجھے معاف فرما کر مجھ پر احسان فرمایا ہے ‘ لہٰذا میں عہد کرتا ہوں کہ میں آئندہ کبھی بھی کسی غلط کار شخص کا حمایتی نہیں بنوں گا۔ [ مفسرین نے لکھا ہے کہ اسی روز حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی حکومت سے قطع تعلق کرلینے کا فیصلہ کرلیا ‘ کیونکہ وہ ایک ظالم حکومت تھی اور اس نے اللہ کی زمین پر ایک مجرمانہ نظام قائم کر رکھا تھا۔ اضافہ از مرتب ]

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

27 موسیٰ پر اللہ تعالیٰ کا انعام یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی خطا پر پردہ ڈال دیا۔ کہ حکومتی اہلکاروں میں سے کسی کو بھی یہ پتا نہ چل سکا۔ کہ اس مقتول قبطی کا قاتل کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ کے اس انعام کے شکریہ کے طور پر موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ آئندہ وہ کسی مجرم کی حمایت یا مدد نہیں کریں گے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ موسیٰ نے پہلے کون سے مجرم کی حمایت کی تھی جو اب اللہ سے ایسا عہد کررہے ہیں۔ اس کا جواب بعض لوگوں نے یہ دیا ہے کہ موسیٰ کی اس سے مراد وہ سبطی تھا جو آپ سے یہ جرم کروانے کا باعث بنا تھا۔ ممکن ہے اس کا بھی کچھ قصور ہو۔ لیکن آپ نے بلاتحقیق اس سبطی کی حمایت میں قبطی کو گھونسا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

22۔ یہاں مجرمین سے مراد وہ ہیں جو دوسروں سے گناہ کا کام کرانا چاہیں کیونکہ گناہ کسی سے کرانا یہ بھی جرم ہے بس اس میں شیطان بھی داخل ہوگیا کہ وہ گناہ کراتا ہے اور گناہ کرنے والا اس کی مدد کرتا ہے خواہ عمدا یا خطا “ (تھانوی (رح) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس مغفرت ومغفوریت کا حال بطریق الہام معلوم ہوگیا تھا۔ جیسا کہ ہر ولی اللہ کو مکشوف ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–21

آیت نمبر 14 تا 21 ترجمہ : اور موسیٰ اپنی بھرپور جوانی کو پہنچ گئے اور وہ تیس یا تینتیس سال ہیں اسور توانا اور تندرست ہوگئے یعنی چالیس سال کے ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا یعنی نبی بنائے جانے سے پہلے ہی ان کو حکمت اور دین کی سمجھ عطا کی اور ہم اسی طرح جیسا کہ موسیٰ کو جزاء دی اپنے اوپر احسان کرنے والوں کو جزاء دیتے ہیں اور موسیٰ شہر میں یعنی فرعون کے شہر میں جس کا نام مُنُفُ تھا ایک مدت غائب رہنے کے بعد ایسے وقت میں داخل ہوئے کہ شہر کے لوگ قیلولہ کے وقت غافل تھے یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا یہ ایک تو اس کی برادری کا یعنی اسرائیلی تھا اور دوسرا اس کے دشمن کی برادری کا یعنی قطبی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال رب بما انعمت علی فلن اکون ظھیرًا للمجرمین . اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھ پر (بڑے بڑے) انعام فرمائے ہیں تو میں بھی آئندہ مجرموں کا مددگار کبھی نہ ہوں گا۔ حضرت مفسر نے فرمایا : بمَِا اَنْعَمْتَ میں ب قسمیہ ہے اور جواب قسم اس کے بعد والا کلام ہے اور فَلَنْ اَکلُوْنَ کا عطف محذوف کلام پر ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا کہ موسیٰ نے کہا : اے میرے رب ! میں قسم کھاتا ہوں ان انعامات کی جو تو نے مجھ کو عطا فرمائے ہیں ‘ میں نے توبہ کی۔ یاب کا تعلق فعل محذوف سے ہے اس صورت میں مطلب اس طرح ہوا : اے میرے رب ! مجھے لغزشوں سے محفوظ رکھ بحق ان انعامات کے جو میرے حال پر تو نے مبذول فرمائے ہیں۔ لِلْمُجْرِمِیْنَ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(17) اور آئندہ کے لیے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار آپ نے جو مجھ پر معرفت توحید اور مغفرت کے انعامات فرمائے ہیں تو آپ کبھی بھی ان مشرکین یعنی فرعون اور اس کی قوم کی مدد کا مجھے موقع نہ دیجیے کہ میں مجرموں کی مدد کروں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ۔۔ : ”بما“ میں باء سببیت کے لیے ہے، یعنی اے میرے رب ! تو نے جو مجھ پر انعام کیا کہ مجھے ہر قسم کی نعمت سے نوازا اور میرے فعل پر پردہ ڈال دیا، اس وجہ سے میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔ ممکن ہے موسیٰ ؑ کی مراد مجرم سے وہ اسرائیلی ہو جس کی انھوں نے مدد کی تھی، کیونکہ وہ جرم کا سبب بنا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ موسیٰ ؑ نے ”مجرمین“ سے فرعون اور اس کی قوم کے لوگ مراد لیے ہوں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نافرمان اور مجرم تھے اور ان کے اللہ تعالیٰ کے حضور عہد کرنے کا مطلب یہ ہو کہ تو نے جو مجھے نعمت و عزت اور راحت و قوت عطا فرمائی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قال رب بمآ انعمت علی فلن اکون ظھیراً للمجرمین اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : قال رب بمآ انعمت علی جو معرفت، حکمت اور توحید کی صورت میں تو نے مجھ پر انعام کیا ہے فلن اکون ظھیراً للمجرمین میں کافروں کا مددگار نہیں۔ قشیری نے کہا : بما انعمت علی من المغفرۃ نہیں کہا، کیونکہ یہ وحی سے قبل کا واقعہ ہے۔ اس وقت آپ یہ نہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے قتل کے عمل کو معاف کردیا ہے۔ ماوردی نے کہا : بمآ انعمت علی اس میں دو وجوہ ہیں (1) مغفرت، مہدوی اور ثعلبی نے اسی طرح ذکر کیا ہے مہدوی نے کہا، بما انعمت علی من المغفرۃ تو نے مغفرت کی صورت میں جو مجھ پر انعام کیا اور مجھے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت اکون ظہیر اللمجرمین یعنی میں کبھی بھی مجرم لوگوں کی مدد کرنے والا نہیں بنوں گا۔ 2۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قال رب انی ظلمت نفسی سے مراد ہے کہ میں ہرگز کبھی بھی مجرموں کی مدد کرنے والا نہیں بنوں گا۔ اگر میں نے اس کے فجور پر کسی ظالم کی مدد کی تو میں مجرم لوگوں کی مدد کرنے والا بن جاؤں گا۔ ظالم کی مدد کرنا جائز نہیں 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عبداللہ بن الولید الرصافی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے اپنے بھائی کے بارے میں سوال کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] رَبِّ [ اے میرے رب ] بِمَآ [ اس سبب سے جو ] اَنْعَمْتَ [ تو نے انعام کیا ] عَلَيَّ [ مجھ پر ] فَلَنْ اَكُوْنَ [ تو میں ہرگز نہیں ہوں گا ] ظَهِيْرًا [ مددگار ] لِّلْمُجْرِمِيْنَ [ مجرموں کے لئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 16–22

موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین پہنچنا وہاں دو لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلانا پھر ان میں سے ایک لڑکی سے شادی ہونا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب ایک شخص نے رائے دی کہ دربار والے تمہارے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں تم یہاں سے نکل جاؤ تو وہ سرزمین مصر سے روانہ ہوگئے اور مدین کی طرف چل دیئے جو ملک شام کا ایک شہر ہے۔ یہ علاقہ فرعونی حکومت میں شامل نہیں تھا۔ اور وہ زمانہ پاسپورٹ اور ویزے کا بھی نہیں تھا جو شخص جس ملک میں اور جس شہر میں چاہتا جاسکتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین کا رخ کیا وہاں کبھی تشریف نہیں لے گئے تھے راستہ معلوم نہیں تھا اللہ تعالیٰ سے خیر کی امید باندھ کر نکل کھڑے ہوئے اور یوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–21

تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–17

18:۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں، بما انعمت علی کے بعد فلا تھنی محذوف ہے یعنی مجھے رسوا نہ کرنا۔ یا بما میں باء قسمیہ ہے اور جواب قسم محذوف ہے اور فلن اکون الخ جواب پر معطوف ہے ای اقسم بانعامک علی لا متنعن عن مثل ھذا الفعل الخ (روح ج 20 ص 55) ۔ اور انعام سے یا تو فرعون کے شر سے محفوظ رہنا مراد ہے یا مذکورہ لغزش پر مغفرت کیونکہ الہام یا رویائے صادقہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا تھا کہ اللہ نے ان کی لغزش معاف فرما دی ہے (ایضا) ۔ اس پر امر خامس یعنی فلا تکونن ظھیرا للکفرین متفرع ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–17

ربط آیات اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی قبل از نبوت زندگی کے حالات بیان فرمائے ہیں اور آپ پر کیے گئے بعض انعامات کا ذکر کیا ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ہی نامساعد حالات میں ہوئی جب کہ فرعون اسرائیلیوں کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کروا دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی فرمائی کہ فرعون کے دشمن موسیٰ (علیہ السلام) کی کسی کے گھر میں شاہانہ طریقہ پر پرورش فرمائی۔ پہلے اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی برآمدگی کے بعد آپ کی رضاعت کا واقعہ بیان کیا ہے کہ کس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے آپ کا پیچھا کیا اور پھر رضاعت کے لیے اپنی ماں کا پتہ بتایا ۔ اس طرح موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَہِيْرًا لِّلْمُجْرِمِيْنَ۝ 17 نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–21

ترکیب : اتینہ جواب لما علی حین غفلۃ حال من المدینتہ ویجوزان یکون حالاً من الفاعل ای محتلساً ۔ ھذا من الخ الجملتان فی موضع نصب صفۃ لرجلین بما انعمت الباء للقسم والجواب محذوف دل علیہ فلن اکون ویمکن ان یکون المعنی بحق انعامک علی اعصمنی خائفًا حال من فاعل اصبح یترقب بدل منھا اوتاکید لہا یسعی صفۃ اخزی الرجل او حال والایتمارا التشاور لان کل واحد من المتش اور یں یامرصاحبہ بشی ئٍ او یشیر علیہ بامر۔ تفسیر : الغرض موسیٰ ( علیہ السلام) جب بھرپور جوان ہوگئے تو خدا نے ان کو حکم یعنی دانائی اور حکمت دی اور علم عطاء کیا۔ نیک و صالح اور باخدا اٹھے، لیکن ہنور نبوت نہیں عطا ہوئی تھی۔ بعض کہتے ہیں اشد اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَکُوْنَ ظَہِیْرًالِّـلْمُجْرِمِیْنَ ۔ (القصص : 17) (حضرت موسیٰ نے کہا اے میرے رب اس احسان کے بعد جو تو نے مجھ پر کیا ہے میں کبھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔ ) آئندہ کے لیے احتیاط کا عہد سیاقِ کلام کو دیکھتے ہوئے اس کا جو سادہ سا مفہوم سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ گزشتہ آیت میں ایک قبطی کے مارے جانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ غیرارادی طور پر مجھ سے جو فعل سرزد ہوا ہے اس میں اگرچہ میری نیت شامل نہ تھی لیکن ہوسکتا ہے کہ ایسے واقعہ پر جیسا ردعمل میری طرف سے ہوا اس میں توازن نہ رہا ہو۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) نے اپنے آپ کو اس کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–17

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قتل خطا پر اپنے رب سے معافی مانگنا۔ باوجود اس کے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے آدمی کو ارادتًاقتل نہیں کیا تھا۔ لیکن پھر بھی قتل آخر قتل تھا جس بناء پر موسیٰ (علیہ السلام) کو انتہائی پریشانی لاحق ہوئی۔ بیشک یہ قتل غیر ارادی طور پر ہوا تھا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ مجھ سے زیادتی ہوئی ہے اس پر انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا کی اور اس بات کا اظہار کیا کہ اے میرے رب ! یہ تیرے کرم کا نتیجہ ہے کہ تو نے نہ صرف بچپن میں میری جان بچائی بلکہ مجھے فرعون کے ہاں رہنے کا موقع عنایت فرمایا۔ میں تیری بارگاہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

17: قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَکُوْنَ ظَہِیْرًا (کہا اے میرے رب اس لئے کہ آپ نے مجھ پر انعام فرمایا میں ہرگز پشت پناہ نہ بنوں گا) ۔ ظہیر۔ معاون۔ لِلْمُجْرِمِیْنَ (مجرمین کے لئے) ۔ کفار کے لئے بما انعمت علی۔ یہ قسم ہے۔ اس کا جواب محذوف ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ میں تیرے انعام مغفرت کی قسم اٹھاتا ہوں میں توبہ کرتا ہوں پس میں ہرگز کافروں کا پشت پناہ نہ ہوں گا۔ نمبر 2۔ طلب مہربانی ہے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ اے میرے رب تو میری حفاظت فرما اس مغفرت والے انعام کے حق سے جو آپ نے مجھ پر فرمایا۔ اگر آپ نے میری حفاظت فرمائی تو میں ہرگز مجرموں کا معاون نہ بنوں گا۔ مجرمین کی پشت پناہی سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17۔ قال رب بماانعمت علی، مغفرۃ کے ساتھ مجھ پر انعام فرما۔ فلن اکون ظھیرا، ، مددگار، للمجرمین ، ، ابنعباس نے فرمایا المجرمین سے مراد کافر ہیں۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ جس بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ کو مدد کے لیے پکارا تھا وہ کافر تھا، مقاتل کا یہی قول ہے کہ قتادہ نے کہا کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ آئندہ میں کسی مجرم کا مددگارنہ بنوں گا،۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–26

14 تا 26۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھر پرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم اور سمجھ دونوں عنایت کئے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے نکل کر مدین میں پہنچنے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے ہوئے دیکھا جن میں ایک ان کے گروہ میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے حین غفلۃ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ دوپہر کا وقت تھا اسرائیل نے فریاد کی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–26

نبی سے کوئی جرم سرزد ہو تو خدا سے معافی مانگتا ہے قول باری ہے : (فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ۔ موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا) نیز قول باری ہے (وقتلت نفسا۔ تونے ایک آدمی کو قتل کردیا تھا) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتادیا کہ انہوں نے گھونسا مار کر اس شخص کو قتل کردیا تھا پھر اپنے اس فعل پر جن الفاظ میں ندامت کا اظہار کیا تھا اس کا ذکر قرآن میں اس طرح ہوا ہے : (رب انی ظلمت نفسی۔ اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے نفس پر ظلم کرلیا) ۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ تھپڑ مار کر کسی کی جان لے لینا قتل عمد ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) علی الاطلاق یہ نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

23 حضرت موسیٰ کے عہد و پیمان کا ذکر : سو اس سے حضرت موسیٰ کا اپنے رب کے حضور آئندہ کے لیے عہد و پیمان کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ آنجناب نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ اے میرے رب جیسا کہ آپ نے مجھ پر احسان فرمایا میں کبھی ظالموں کے لیے مددگار اور ان کا پشت پناہ نہیں بنوں گا۔ چناچہ تو نے اے میرے مالک ! مجھے پیدائش سے لے کر آج تک طرح طرح کے احسانات سے نوازا۔ جس کی تازہ مثال معافی کا یہ کرم ہے جس سے تو نے اے میرے مالک اب مجھے سرفراز فرمایا ہے۔ بس اس کے شکرئے میں، میں آئندہ کبھی مجرم لوگوں کا پشتیباں اور مددگار نہیں بنوں گا۔ یہ شاید اس لئے فرمایا کہ اس اسرائیلی کا بھی اس میں کچھ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–21

ظلم کے خلاف جہاد ہجرت اور مدین میں قیام تشریح : جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوئے تو بڑے خوبصورت پڑھے لکھے باشعور ‘ پاکیزہ ‘ نیک ‘ نرم دل ‘ متقی اور پرہیزگار جوان تھے۔ ملک میں چاروں طرف پھیلا ہوا ظلم و ستم ان کو کسی صورت بھی اچھا نہ لگتا تھا۔ کیونکہ اس وقت کے حاکم اور وزراء کی پالیسی یہ تھی کہ رعایا کی بجائے اپنے تاج و تخت کی زیادہ فکر کی جائے تو اس کے لیے ان کو یہ پالیسی زیادہ پسند تھی کہ رعایا کو آپس میں کسی نہ کسی طرح لڑائے رکھو تاکہ وہ حکمرانوں کی زیادتیوں کی طرف نہ متوجہ ہوں اور نہ ہی احتجاج کریں بس آپس میں ہی لڑتے مرتے رہیں۔ اس لیے ملک میں امن وامان نام کی کوئی چیز نہ تھی اور خاص…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 14–21

آیات 14 تا 21 اسرارو معارف جب موسیٰ (علیہ السلام) جوانی کو پہنچے تو وہ بہت سمجھدار اور باعلم تھے ہم نے انہیں علم و احکمت کہ فطرت سلیمہ قبل از بعثت نبی کو نصیب ہوتی ہے عطا فرمائی۔ اور نیکی کے کرنے والے مخلص لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا جاتا ہے۔ نیکی سے دنیا کے امور کو سمجھنے کی استعداد بھی زیادہ ہوجاتی ہے : یہ ثابت ہوا کہ خلوص کے ساتھ نیک اعمال کرنے سے دنیا کے معاملات کو بہتر سمجھنے کی صلاحیت عطا ہوتی ہے ہمارے ہاں جو نیک لوگوں کے زیادہ بھولے ہونے کی بات ہے تو غالبا یہاں نیکی صرف عبادت کو سمجھ لیا گیا ہے جبکہ نیکی سے مراد عبادت اور پوری عملی زندگی میں بھرپور حصہ لینا ہے۔ اللہ کرے ہمارے عبادت گزار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

3 ۔ ممکن ہے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی مراد اس اسرائیلی ہی سے ہو اور اسی کو آپ نے مجرم قرار دیا ہو جس کی آپ نے مدد کی تھی کیونکہ وہ جرم کا سبب بنا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ” مجرمین “ سے فرعون اور اس کی قوم کے لوگ مراد لئے ہوں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نافرمان اور مجرم تھے اور ان کے اللہ تعالیٰ کے حضور عہد کرنے کا مطلب یہ ہو کہ تو نے مجھے جو نعمت عزت اور راحت و قوت عطا فرمائی ہے اسی کا شکریہ ہے کہ اسے ان لوگوں کی حمایت و اعانت میں صرف نہ کروں۔ ان سے اپنا تعلق منقطع کرلوں اور اس ظالم حکومت کا کل پرزہ نہ بنوں۔ ابن جریر (رح) اور بہت سے دوسرے مفسرین (رح) نے حضرت موسیٰ (…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:17) رب : ای یاربی۔ بما انعمت علی۔ میں باء قسم کی ہے ما مصدریہ ہے۔ اور جواب قسم محذوف ہے۔ ای اقسم بانعامک علی لا متنعن عن مثل ھذا الفعل۔ مجھے قسم ہے تیرے انعام کی جو تو مجھ پر کیا ہے کہ میں ایسا فعل ہرگز نہ کروں گا۔ یا میں ایسے فعل سے باز رہوں گا۔ (یہاں انعام سے مراد مغفرت الٰہی ہے کہ خدا نے حضرت موسیٰ کا یہ فعل، یعنی قتل قبطی بخش دیا) ۔ باء سببیہ بھی ہوسکتی ہے اس صورت میں معنی ہوں گے تیرے اس انعام کی وجہ سے جو تو نے مجھ پر کیا ہے اب ہرگز مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا۔ فلن اکوت ظھیرا للمجرمین۔ اس کا عطف جواب قسم (مذکورہ بالا پر) ہے ۔ پس میں ہرگز مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔ لن اکون مضارع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 14–17

لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 17 بلغ (پہنچ گیا) ‘ اشد (قوت۔ جوانی) ‘ استوی (پورا ہوگیا۔ برابر ہوا) ‘ رجلین (رجل) دو مرد ‘ استغاث (اس نے فریاد کی) ‘ وکز ( مکامارا۔ گھونسا مارا) ‘ قضیٰ (پورا ہوگیا) ‘ ظھیر (مدد گار۔ مدد کرنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 14 تا 17 : اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی ذرا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ارشاد فرمایا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پچیس تیس سال کے کڑیل جوان یعنی جسمانی ‘ عقلی اور قلبی اعتبار سے متوازن شخصیت بنکر ابھرے تو شاہی محل میں پرورش پانے کیوجہ سے چہرے پر رعب اور گفتگو میں ایک خاص وقار جھلکتا نظر آتا تھا۔ وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–17

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک فرعونی کو مارڈالنے کا ذکر۔ (ف 1) جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کانابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھرپرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو قوت جسمانیہ وعقلیہ دونوں عنایت کیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے مصر سے نکل کر مدین میں جانے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے دیکھا جس میں ایک اسرائیلی تھا اور دوسرے ایک فرعونی تھا اسرائیلی نے حضرت موسیٰ سے فریاد کی موسیٰ نے فرعونی کے ایک گھونسا مارا جس سے وہ فرعون مرگیا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 16–17

[9] یعنی معاف کرنے کا احسان۔ غالباً اس معافی کا علم موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ الہام ہوا ہوگا۔ آخر پیغمبر لوگ نبوت سے پہلے ولی تو ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

17۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی عرض کیا کہ اے میرے پروردگار چونکہ تو نے مجھ پر بڑا فضل فرمایا ہے اور بڑے بڑے احسانات کئے ہیں آئندہ کبھی مجرموں کا مدد گار نہ بنوں گا ۔ مجرموں سے مراد وہ ہیں جو انسانوں کو گناہ پر ابھاریں خواہ وہ شیاطین الانس ہوں یا شیاطین الجن ہوں ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی غلطی پر توجہ بھی کی اور آئندہ کے لئے شیطانی اور طاغوتی قوتوں سے بچنے کا بھی عہد کیا ، توبہ کی تکمیل میں یہ دونوں باتیں ہوا کرتی ہیں ۔ کہتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انشاء اللہ نہ کہا اس لئے دوسرے دن پھر اسی قسم کے قضیے میں مبتلا ہوئے اور یہ بھی مشہور ہے کہ اس فرعونی مقتول کو رات ہی میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–17

ف 1۔ یہاں مجرمین سے مراد وہ ہیں جو دوسروں سے گناہ کا کام کرانا چاہیں، کیونکہ گناہ کرانا کسی سے بھی یہ جرم ہے، پس اس میں شیطان بھی داخل ہوگیا، کہ وہ گناہ کراتا ہے اور گناہ کرنے والا اس کی مدد کرتا ہے۔ خواہ عمدا یا خطا، مطلب یہ ہوا کہ میں شیطان کا کہنا کبھی نہ مانوں گا، یعنی مواقع محتملہ خطاء میں احتیاط و تنقیظ سے کام لوں گا، اور اصل مقصود اتنا ہی ہے، مگر شمول حکم کے لئے مجرمین جمع کا صیغہ لایا گیا کہ اوروں کو بھی عام ہوجاوے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فیصلہ قتل پر آپ نے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور آئندہ محتاط رہنے کا وعدہ بھی : 17۔ زیر نظر آیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ یقینا اس قتل خطا کا معاملہ رفع دفع ہوگیا تھا جو بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم ہی سے ہوا تھا لہذا آپ نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سابقہ انعامات کے ساتھ اس خاص وقتی انعام کا بھی شکریہ ادا کیا اور نہایت تضرع اور عاجزی کے ساتھ آئندہ کبھی ایسی غلطی نہ کرنے کا وعدہ بھی کیا اور وضاحت بھی فرما دی کہ میں زندگی میں کبھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پہلے آپ نے کسی مجرم کی مدد کی تھی بلاشبہ آپ نے پہلے بھی مجرم کی مدد نہیں کی تھی اور اب بھی اپنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

قَالَ رَ‌بِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرً‌ا لِّلْمُجْرِ‌مِينَ (He [ Musa ] said, "0 my Lord, since You have favoured me, I will never be a supporter to the sinners." -28:17). When Allah Ta’ ala pardoned this slip of Sayyidna Musa (علیہ السلام) he said in gratitude to Allah Ta` ala that he would never again help a criminal. The second incident of the quarrel had proved that the Isra'ili in whose defense Musa (علیہ السلام) had involved himself in the brawl was quarrelsome. Therefore, by declaring him a criminal he vowed not to help such a person again. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

25 That is, "The favour of concealing my `act' from my enemies and enabling me to escape unharmed from Egypt. " 26 This pledge of the Prophet Moses is in very comprehensive words. What he meant by this was that he would neither become a helper of an individual nor of those who perpetrated cruelty and tyranny in the world. Ibn Jarir and several other commentators have rightly understood this to mean that on that very day the Prophet Moses pledged to sever his relations with Pharaoh and his government, for it was a tyrannical government, which had set up a wicked system on God's earth. He…

Read the full tafseer →