Al-Qasas 28:16

Al-Qasas · from ayah 16

28:16

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ ؕ— اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ۟قَالَ رَبِّ اِنِّىۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِىۡ فَاغۡفِرۡ لِىۡ فَغَفَرَ لَهٗ‌ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ‏

بولے کہ اے پروردگار میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے تو خدا نے اُن کو بخش دیا۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "My Lord, indeed I have wronged myself, so forgive me," and He forgave him. Indeed, He is the Forgiving, the Merciful.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 2 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:16

پھر وہ کہنے لگا "اے میرے رب، مَیں نے اپنے نفس پر بڑا ظلم کر ڈالا، میری مغفرت فرما دے" چنانچہ اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی، وہ غفور رحیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بولے کہ اے پروردگار میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے تو خدا نے اُن کو بخش دیا۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار! میں نے خود اپنے اوپر ﻇلم کیا، تو مجھے معاف فرما دے، اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا، وه بخشش اور بہت مہربانی کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہنے لگے : میرے پروردگار ! میں نے اپنی جان پر ظلم کرلیا، آپ مجھے معاف فرمادیجیے۔ چنانچہ اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ یقینا وہی ہے جو بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

عرض کی، اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر زیادتی کی تو مجھے بخش دے تو رب نے اسے بخش دیا، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(موسٰی علیہ السلام) عرض کرنے لگے: اے میرے رب! بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا سو تو مجھے معاف فرما دے پس اس نے انہیں معاف فرما دیا، بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا اے میرے رب ! یقینا میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا، سو مجھے بخش دے۔ تو اس نے اسے بخش دیا، بیشک وہی تو بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر دعا کی : پروردگار ! بلاشبہ میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔ لہذا مجھے معاف فرما دے۔ چناچہ اللہ نے اسے معاف کردیا۔ بلاشبہ وہ بڑا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے دعا کی، اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم ڈھایا تو مجھے بخش دے تو خدا نے اسے بخش دیا۔ بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر نادم ہو کر آپ نے اپنے رب کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اے میرے رب میں نے تو واقعی ظلم کرلیا اپنی جان پر پس مجھے معاف فرما دے تو اس نے اس کو معاف فرما دیا بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

عرض کیا اے میرے پروردگار مجھ سے قصور ہوگیا۔ سو تو بخش دے پھر (اللہ نے) انہیں بخش دیا بیشک وہ تو ہی ہے بڑا بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

عرض کیا : اے میرے پروردگار ! میں تو اپنی جان پر ظلم کر بیٹھا ہوں پسُ تو مجھے بخش دے تو اللہ نے اسے بخش دیا یقیناً وہی ہے بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بولے کہ ”یارب میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے تو مجھے بخش دے“ تو اللہ نے ان کو بخش دیا ‘ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then he prayed: "My Lord! I have indeed inflicted wrong on myself, so do forgive me," wherefore Allah forgave him for He is Ever Forgiving, Most Merciful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :O my Lord, I have wronged myself, so forgive me. So He forgave him. 6 Indeed He is the most Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :O my Lord, I have wronged myself, so forgive me. So He forgave him. 6 Indeed He is the most Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "My Lord! Verily, I have wronged myself, so forgive me." Then He forgave him. Verily, He is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: My Lord! Lo! I have wronged my soul, so forgive me. Then He forgave him. Lo! He is the Forgiving, the Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "My Lord, indeed I have wronged myself, so forgive me," and He forgave him. Indeed, He is the Forgiving, the Merciful.

— Saheeh International

(Moses) said, "Lord, I have wronged myself. Forgive me!" The Lord forgave him; He is All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

He said: My Lord! surely I have done harm to myself, so do Thou protect me. So He protected him; surely He is the Forgiving, the Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

He said: my Lord! verily I have wronged my soul, so wherefore forgive me. So He forgave him. Verily He! He is the Forgiving, the Owner of Mercy.

— Abdul Majid Daryabadi

He prayed: "O my Lord! I have indeed wronged my soul! Do Thou then forgive me!" So (Allah) forgave him: for He is the Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–17

گھونسے سے موت حضرت موسیٰ کے لڑکپن کا ذکر کیا اب ان کی جوانی کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ اللہ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا۔ یعنی نبوت دی۔ نیک لوگ ایسا ہی بدلہ پاتے ہیں، پھر اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کے مصر چھوڑنے کا باعث بنا اور جس کے بعد اللہ کی رحمت نے ان کار خ کیا یہ مصر چھوڑ کر مدین کی طرف چل دئیے۔ آپ ایک مرتبہ شہر میں آتے ہیں یا تو مغرب کے بعد یا ظہر کے وقت کہ لوگ کھانے پینے میں یا سونے میں مشغول ہیں راستوں پر آمد ورفت نہیں تھی تو دیکھتے ہیں کہ دو شخص لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ ایک اسرائیلی ہے دوسرا قبطی ہے۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ سے قبطی کی شکایت کی اور اس کا زور ظلم بیان کیا جس پر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القصص 23 مغفرت کے معنی درگزر کرنے اور معاف کردینے کے بھی ہیں، اور ستر پوشی کرنے کے بھی، حضرت موسیٰ کی دعا کا مطلب یہ تھا کہ میرے اس گناہ کو (جسے تو جانتا ہے کہ میں نے عمدا نہیں کیا ہے) معاف بھی فرمادے اور اس کا پردہ بھی ڈھانک دے تاکہ دشمنوں کو اس کا پتہ نہ چلے۔ سورة القصص 24 اس کے بھی دو مطلب ہیں، اور دونوں یہاں مراد ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ قصور معاف معاف بھی فرما دیا اور حضرت موسیٰ کا پردہ بھی ڈھانک دیا، یعنی قبطی قوم کے کسی فرد اور قبطی حکومت کے کسی آدمی کا اس وقت ان کے آس پاس کہیں گزر نہ ہوا کہ وہ قتل کے اس واقعہ کو دیکھ لیتا۔ اس طرح حضرت موسیٰ کو خاموشی کے ساتھ موقع واردات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

قَالَ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ فَغَفَرَ لَهٗ ، اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ اس قبطی کافر کا قتل جو حضرت موسیٰ ؑ سے بلا ارادہ صادر ہوگیا تھا موسیٰ ؑ نے اس کو بھی اپنے منصب نبوت و رسالت اور پیغمبرانہ عظمت شان کے لحاظ سے اپنا گناہ قرار دے کر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔ یہاں پہلا سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ قبطی کافر شرعی اصطلاح کے لحاظ سے ایک حربی کافر تھا جس کا قتل عمداً بھی مباح اور جائز تھا کیونکہ نہ یہ کسی اسلامی حکومت کا ذمی تھا نہ موسیٰ ؑ سے اس کا کوئی معاہدہ تھا پھر موسیٰ ؑ نے اس کو عمل شیطان اور گناہ کیوں قرار دیا۔ جواب یہ ہے کہ معاہدہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 15–16

آیت (16-15) مدینۃ سے مراد چونکہ محض غلاموں اور خدمت گاروں کی تھی اس وجہ سے ان کی بستی اصل شہر سے الگ بسائی گئی تھی۔ وہ صرف مزدوروں اور خدمت گاروں کی طرح کام کے اقوات میں شہر میں جایا کرتے تھے۔ صالح جوانی میدان عمل میں حضرت موسیٰ ؑ جوان ہوئے اور ان کے اندر وہ قتوت و مروت اور رحیتر و غیرت پیدا ہوئی جو صالح جوانی اور علم و معرفت کا خاصہ ہے تو وہ وقتاً فوقتاً شہر میں اپنے مظولم بھائیوں کا حال دیکھنے کے لئے جانے لگے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی حمیت و حمایت کے سبب سے قبطیوں کی نظروں میں کھٹکنے لگی تھے اس وجہ سے انہیں یہ کام لوگوں کی نگاہوں سے بچ بچا کے ایسے اقوات میں کرنا پڑتا جن میں لوگ آرام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16-1یہ اتفاقیہ قتل اگرچہ کبیرہ گناہ نہیں تھا، کیونکہ کبیرہ گناہوں سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کی حفاطت فرماتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایسا گناہ نظر آتا تھا جس کے لئے بہت بخشش انہوں نے ضروری سمجھی۔ دوسرے، انھیں خطرہ تھا کہ فرعون کو اس کی اطلاع ملی تو اس کے بدلے انھیں قتل نہ کر دے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

7: چونکہ حضرت موسیٰ ؑ نے جان بوجھ کر اسے قتل نہیں کیا تھا بلکہ وہ بلا ارادہ مارا گیا، اس لئے اصل میں تو حضرت موسیٰ ؑ معذور تھے ؛ لیکن بہر حال کسی کا قتل ہوجانا ایک سنگین معاملہ ہے اور ایک ہونے والے پیغمبر کے شایان شان نہیں، اس لئے وہ شرمندہ بھی ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے معافی بھی مانگی، اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس جگہ مسلمان اور غیر مسلم آپس میں امن کے ساتھ رہ رہے ہوں، خواہ وہاں حکومت غیر مسلموں ہی کی ہو، وہاں مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی غیر مسلم کو قتل کرے یا اس کی جان ومال کو کسی اور طرح نقصان پہنچائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–17

ودخل المدینہ علی حین ۔۔۔۔۔۔۔۔ ظھیرا للمجرمین (15- 17) ” وہ شہر میں داخل ہوا “ اور شہر سے مراد دار الخلافہ ہے ، جس طرح کہ اس وقت وہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کہاں سے آئے اور شہر میں داخل ہوئے۔ کیا یہ عین الشمس کے قصر شاہی سے نکل کر آئے یا یہ کہ انہوں نے شاہی محل اور دارالحکومت کو چھوڑ دیا تھا اور کسی اور جگہ رہائش اختیار کرلی تھی اور وہ شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غافل تھے یعنی دوپہر کا وقت تھا یا لوگوں کے آرام کا وقت تھا۔ جب وہ شہر میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں۔ فوجد فیھا رجلین ۔۔۔۔۔۔۔ من عدوہ (28: 15) ” وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دوسرا اس کی دشمن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب جوان ہوئے، فرعون کی قوم سے بسبب ان کے ظلم و کفر کے بیزار رہتے اور بنی اسرائیل ان کے ساتھ لگے رہتے تھے، ان کی والدہ کا گھر شہر سے باہر تھا۔ حضرت موسیٰ کبھی وہاں جاتے کبھی فرعون کے گھر آتے۔ فرعون کی قوم (قبط) ان کی دشمن تھی کہ غیر قوم کا شخص ہے ایسا نہ ہو کہ زور پکڑ جائے۔ ایک روز دیکھا کہ دو شخص آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ایک اسرائیلی دو قبطی۔ اسرائیلی نے موسیٰ کو دیکھ کر فریاد کی کہ مجھے اس قبطی کے ظلم سے چھڑاؤ۔ کہتے ہیں قبطی فرعون کے مطبخ کا آدمی تھا۔ موسیٰ پہلے ہی قبطیوں کے ظلم و ستم کو جانتے تھے۔ اس وقت آنکھ سے اس کی زیادتی دیکھ کر رگ حمیت پھڑک اٹھی۔ ممکن ہے سمجھانے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 16–17

آیت 17 قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَکُوْنَ ظَہِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ ” یعنی چونکہ تو نے مجھے معاف فرما کر مجھ پر احسان فرمایا ہے ‘ لہٰذا میں عہد کرتا ہوں کہ میں آئندہ کبھی بھی کسی غلط کار شخص کا حمایتی نہیں بنوں گا۔ [ مفسرین نے لکھا ہے کہ اسی روز حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی حکومت سے قطع تعلق کرلینے کا فیصلہ کرلیا ‘ کیونکہ وہ ایک ظالم حکومت تھی اور اس نے اللہ کی زمین پر ایک مجرمانہ نظام قائم کر رکھا تھا۔ اضافہ از مرتب ]

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

26 معلوم ایسا ہوتا ہے کہ مقتول کوئی بڈھا اور کمزور سا انسان ہوگا اور پہلے ہی مرنے کے قریب ہوگا۔ اوپر سے موسیٰ جیسے طاقتور انسان کے ایک ہی مکا سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ ورنہ عام حالات میں کسی طاقتور کے مکہ سے بھی کم از کم موت واقع نہیں ہوئی۔ اور سبطی سے تو وہ اس شہ پر لڑ رہا تھا کہ وہ حکمران قوم کا فرد تھا۔ اب موسیٰ کے ہاتھوں جو اس کی موت واقع ہوگئی تو یہ بہرحال قتل کا جرم تو تھا اگر نادانستہ طور پر ایسا ہوا تھا اس قتل خطا کے جرم کی موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ جرم معاف فرما دیا۔ اس آیت میں غَفَرَ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور غَفَرَ کا معنی معاف کرنا بھی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

21۔ (اور جو نتیجہ میں نہیں چاہتا تھا وہ نکل آیا) (آیت) ” ظلمت نفسی “۔ حضرت کا اپنی زبان سے یہ ادا کرنا ہرگز اثبات جرم کے مرادف نہیں۔ یہ تو کاملین کی عام عادت ہی ہوتی ہے کہ اپنی خفیف سی بےاحتیاطی کو بھی گویا خطا ولغزش کا ایک پہاڑ بنا کر پیش کرتے ہیں انما عدہ من عمل الشیطان وسماہ ظلما واستغفر منہ علی عادتھم فی استعظام محقرات فرطت منھم (بیضاوی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تو محض رفع ظلم چاہا تھا، قتل بلاقصد واقع ہوگیا۔ آپ کو بعد تامل معلوم ہوا کہ رفع ظلم دوسرے طریق سے بھی ممکن تھا جو قصد کے وقت سمجھ میں نہ آیا بس اس لیے آپ نے استغفار فرمایا، اس سے چند مسئلے ثابت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–21

آیت نمبر 14 تا 21 ترجمہ : اور موسیٰ اپنی بھرپور جوانی کو پہنچ گئے اور وہ تیس یا تینتیس سال ہیں اسور توانا اور تندرست ہوگئے یعنی چالیس سال کے ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا یعنی نبی بنائے جانے سے پہلے ہی ان کو حکمت اور دین کی سمجھ عطا کی اور ہم اسی طرح جیسا کہ موسیٰ کو جزاء دی اپنے اوپر احسان کرنے والوں کو جزاء دیتے ہیں اور موسیٰ شہر میں یعنی فرعون کے شہر میں جس کا نام مُنُفُ تھا ایک مدت غائب رہنے کے بعد ایسے وقت میں داخل ہوئے کہ شہر کے لوگ قیلولہ کے وقت غافل تھے یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا یہ ایک تو اس کی برادری کا یعنی اسرائیلی تھا اور دوسرا اس کے دشمن کی برادری کا یعنی قطبی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال رب انی ظلمت نفسی فاغفر لی فغفر لہ انہ ھو الغفور الرحیم . موسیٰ نے کہا : اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا (کہ تیرے حکم کے بغیر ایک شخص میرے ہاتھ سے مارا گیا) سو میرے اس قصور کو تو معاف فرما دے ‘ اللہ نے موسیٰ کو معاف کردیا۔ بیشک وہ بڑا معاف کرنے والا ‘ نہایت مہربان ہے۔ یعنی اللہ نے اپنا حق معاف کردیا اور قبطی چونکہ معصوم الدم نہ تھا کہ جس کو قتل کرنا موجب قصاص و دیت ہوتا اس لئے وارثوں سے معاف کرانے کی ضرورت ہی نہ تھی ‘ نہ قیامت کے دن مقتول کے عفو کرنے کی ضرورت ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(16) اور اپنی غلطی پر نادم ہو کر عرض کیا اے میرے پروردگار مجھ سے قصور ہوگیا کہ غلطی سے یہ قبطی مرگیا سو آپ میرے اس قصور کو معاف کردیجیے اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا وہ بڑا غفور رحیم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ۔۔ : گو موسیٰ ؑ نے جان بوجھ کر قتل نہیں کیا تھا، مگر پیغمبروں کی شان بڑی ہے، ان کی شان کے لحاظ سے یہ بےاحتیاطی بھی مناسب نہ تھی، اس لیے موسیٰ ؑ نے اسے گناہ سمجھا اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کے طلب گار ہوئے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرما دی، مگر موسیٰ ؑ اس کے بعد بھی نادم رہے اور قیامت کے دن جب لوگ ان کے پاس جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری شفاعت کیجیے تو اپنی ندامت کا اظہار ان الفاظ میں کریں گے : (إِنِّيْ قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُوْمَرْ بِقَتْلِھَا) [ مسلم، الإیمان، باب أدنٰی أھل الجنۃ منزلۃ فیھا : 194 ] ”میں نے ایک شخص قتل کردیا جس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قال رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی فغفرلہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس گھونسے پر شرمندہ ہوئے جس میں ایک جان چلی گئی۔ ان کی شرمندگی نے ان کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اور اپنے گناہ سے بخشش طلب کرنے پر برانیگختہ کیا۔ قتادہ نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پہچان گئے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس مصیبت سے نجات دینے والا ہے اس لئے استغفار کی …لگاتار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس عمل کو ذکر کرتے رہے جب کہ ان کو علم ہوچکا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا ہے، یہاں تک کہ قیامت کے روز وہ کہیں گے : میں نے ایک ایسے نفس کو قتل کیا جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے اپنے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) انی ظلمت نفسی کے بارے روایت کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ کسی نبی کو یہ لائق نہیں کہ وہ کسی جان کو قتل کرے حکم ہونے سے پہلے اور انہوں نے اس قبطی کو قتل کیا حالانکہ ابھی حکم نہیں دیا گیا تھا۔ 2۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قال رب انی ظلمت نفسی کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کے نبی (علیہ السلام) نے پہچان لیا کہ اس سے بچ نکلنے کا راستہ کیا ہے اور انہوں نے نکلنے کے راستے کا ارادہ کیا مگر اپنے گناہ کو اپنے رب کے پاس نہ پایا۔ بعض لوگوں نے کہا کہ مقدور کی وجہ سے گناہ کو نہ پایا گیا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ انھوں علیہ السام نے کہا ] رَبِّ [ اے میرے رب ] اِنِّىْ ظَلَمْتُ [ بیشک میں نے ظلم کیا ] نَفْسِيْ [ اپنے آپ پر ] فَاغْفِرْ لِيْ [ پس تو بخش دے مجھ کو ] فَغَفَرَ لَهٗ ۭ [ تو اس نے بخش دیا ان (علیہ السلام) کو ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] هُوَ الْغَفُوْرُ [ ہی بےانتہا بخشنے والا ہے ] الرَّحِيْمُ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ] نوٹ۔ 2: حکم اور علم کے مختلف مدراج ہیں ۔ اس کا اعلیٰ درجہ وہ ہے جو انبیاء کو حاصل ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں بالکل یہی الفاظ انبیاء کے علم کے لئے استعمال ہوئے ہیں ۔ لیکن یہاں ظاہر ہے کہ وہ علم و حکمت مراد نہیں ہے کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت اس کے بہت بعد میں ملی ہے (تدبر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 16–22

موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین پہنچنا وہاں دو لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلانا پھر ان میں سے ایک لڑکی سے شادی ہونا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب ایک شخص نے رائے دی کہ دربار والے تمہارے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں تم یہاں سے نکل جاؤ تو وہ سرزمین مصر سے روانہ ہوگئے اور مدین کی طرف چل دیئے جو ملک شام کا ایک شہر ہے۔ یہ علاقہ فرعونی حکومت میں شامل نہیں تھا۔ اور وہ زمانہ پاسپورٹ اور ویزے کا بھی نہیں تھا جو شخص جس ملک میں اور جس شہر میں چاہتا جاسکتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین کا رخ کیا وہاں کبھی تشریف نہیں لے گئے تھے راستہ معلوم نہیں تھا اللہ تعالیٰ سے خیر کی امید باندھ کر نکل کھڑے ہوئے اور یوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–21

تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–17

18:۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں، بما انعمت علی کے بعد فلا تھنی محذوف ہے یعنی مجھے رسوا نہ کرنا۔ یا بما میں باء قسمیہ ہے اور جواب قسم محذوف ہے اور فلن اکون الخ جواب پر معطوف ہے ای اقسم بانعامک علی لا متنعن عن مثل ھذا الفعل الخ (روح ج 20 ص 55) ۔ اور انعام سے یا تو فرعون کے شر سے محفوظ رہنا مراد ہے یا مذکورہ لغزش پر مغفرت کیونکہ الہام یا رویائے صادقہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا تھا کہ اللہ نے ان کی لغزش معاف فرما دی ہے (ایضا) ۔ اس پر امر خامس یعنی فلا تکونن ظھیرا للکفرین متفرع ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–17

ربط آیات اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی قبل از نبوت زندگی کے حالات بیان فرمائے ہیں اور آپ پر کیے گئے بعض انعامات کا ذکر کیا ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ہی نامساعد حالات میں ہوئی جب کہ فرعون اسرائیلیوں کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کروا دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی فرمائی کہ فرعون کے دشمن موسیٰ (علیہ السلام) کی کسی کے گھر میں شاہانہ طریقہ پر پرورش فرمائی۔ پہلے اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی برآمدگی کے بعد آپ کی رضاعت کا واقعہ بیان کیا ہے کہ کس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے آپ کا پیچھا کیا اور پھر رضاعت کے لیے اپنی ماں کا پتہ بتایا ۔ اس طرح موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ فَغَفَرَ لَہٗ۝ 0ۭ اِنَّہٗ ہُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۝ 16 ظلم) تاریکی) الظُّلْمَةُ : عدمُ النّور، وجمعها : ظُلُمَاتٌ. قال تعالی: أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍ [ النور/ 40] ، ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] ، وقال تعالی: أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ النمل/ 63] ، وَجَعَلَ الظُّلُماتِ وَالنُّورَ [ الأنعام/ 1] ، ويعبّر بها عن الجهل والشّرک والفسق، كما يعبّر بالنّور عن أضدادها . قال اللہ تعالی: يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [ البقرة/ 257] ، أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–21

ترکیب : اتینہ جواب لما علی حین غفلۃ حال من المدینتہ ویجوزان یکون حالاً من الفاعل ای محتلساً ۔ ھذا من الخ الجملتان فی موضع نصب صفۃ لرجلین بما انعمت الباء للقسم والجواب محذوف دل علیہ فلن اکون ویمکن ان یکون المعنی بحق انعامک علی اعصمنی خائفًا حال من فاعل اصبح یترقب بدل منھا اوتاکید لہا یسعی صفۃ اخزی الرجل او حال والایتمارا التشاور لان کل واحد من المتش اور یں یامرصاحبہ بشی ئٍ او یشیر علیہ بامر۔ تفسیر : الغرض موسیٰ ( علیہ السلام) جب بھرپور جوان ہوگئے تو خدا نے ان کو حکم یعنی دانائی اور حکمت دی اور علم عطاء کیا۔ نیک و صالح اور باخدا اٹھے، لیکن ہنور نبوت نہیں عطا ہوئی تھی۔ بعض کہتے ہیں اشد اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–16

وَدَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ عَلٰی حِیْنِ غَفْلَۃٍ مِّنْ اَھْلِھَا فَوَجَدَفِیْھَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ ق ز ھٰذَا مِنْ شِیْعَتِہٖ وَھٰذَا مِنْ عَدُوِّہٖ ج فَاسْتَغَاثَہُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِہٖ عَلَی الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّہٖ لا فَوَکَزَہٗ مُوْسٰی فَقَضٰی عَلَیْہِ ق ز قَالَ ھٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ ط اِنَّـہٗ عَدُوٌّمُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ۔ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَغَفَرَلَـہٗ ط اِنَّـہٗ ھُوَالْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ ۔ (القصص : 15، 16) (اور (ایک روز) وہ شہر میں داخل ہوئے جبکہ اہل شہر غفلت میں تھے تو آپ نے اس میں دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے پایا، ایک ان کے اپنے گروہ میں سے تھا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–17

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قتل خطا پر اپنے رب سے معافی مانگنا۔ باوجود اس کے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے آدمی کو ارادتًاقتل نہیں کیا تھا۔ لیکن پھر بھی قتل آخر قتل تھا جس بناء پر موسیٰ (علیہ السلام) کو انتہائی پریشانی لاحق ہوئی۔ بیشک یہ قتل غیر ارادی طور پر ہوا تھا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ مجھ سے زیادتی ہوئی ہے اس پر انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا کی اور اس بات کا اظہار کیا کہ اے میرے رب ! یہ تیرے کرم کا نتیجہ ہے کہ تو نے نہ صرف بچپن میں میری جان بچائی بلکہ مجھے فرعون کے ہاں رہنے کا موقع عنایت فرمایا۔ میں تیری بارگاہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16: قَالَ رَبِّ (موسیٰ نے کہا اے میرے رب) ۔ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ (بےشک میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا) ایسے فعل سے جو قتل پر منتج ہوا۔ فَاغْفِرْلِیْ (پس تو میری لغزش معاف فرما۔ ) فَغَفَرَلَہٗ (پس اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا) ۔ اس کی لغزش کو۔ اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ (بیشک وہ بخشنے والا ہے) ۔ لغزشوں کا ازالہ کر کے۔ الرَّحِیْمُ (رحیم ہے) شرمندگی کا ازالہ فرما کر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 16۔ قال رب انی ظلمت نفسی ، ، قبطی کو قتل کرنے کی وجہ سے اس کو میراقتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا، فاغفرلی فغرلہ ، ،، الرحیم۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–26

14 تا 26۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھر پرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم اور سمجھ دونوں عنایت کئے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے نکل کر مدین میں پہنچنے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے ہوئے دیکھا جن میں ایک ان کے گروہ میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے حین غفلۃ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ دوپہر کا وقت تھا اسرائیل نے فریاد کی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–26

نبی سے کوئی جرم سرزد ہو تو خدا سے معافی مانگتا ہے قول باری ہے : (فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ۔ موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا) نیز قول باری ہے (وقتلت نفسا۔ تونے ایک آدمی کو قتل کردیا تھا) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتادیا کہ انہوں نے گھونسا مار کر اس شخص کو قتل کردیا تھا پھر اپنے اس فعل پر جن الفاظ میں ندامت کا اظہار کیا تھا اس کا ذکر قرآن میں اس طرح ہوا ہے : (رب انی ظلمت نفسی۔ اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے نفس پر ظلم کرلیا) ۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ تھپڑ مار کر کسی کی جان لے لینا قتل عمد ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) علی الاطلاق یہ نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

21 حضرت موسیٰ کی اپنے رب کے حضور معافی کی دعا و درخواست : سو قبطی کے موسیٰ کے ہاتھوں اس طرح خلاف ارادہ و توقع ہلاکت پر حضرت موسیٰ کو سخت ندامت ہوئی تو آپ نے اپنے رب کے حضور فورا عرض کیا کہ اے میرے رب بیشک میں نے ظلم کرلیا اپنی جان پر۔ پس تو میری بخشش فرما دے۔ ظلم سے مراد ظاہر ہے کہ یہاں پر گناہ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ حضرت موسیٰ نے اس شخص کو قصداً قتل نہیں کیا تھا مگر حضرات انبیائے کرام جو کہ معصوم ہوتے ہیں اور وہ نبوت سے پہلے بھی ہر قسم کے گناہ سے پاک ہوتے ہیں ان کی شان اتنی عظیم اور ان کی طبیعتیں اس قدر پاکیزہ ہوتی ہیں کہ وہ اپنے حق میں معمولی بات کو بھی بڑا سمجھتے ہیں۔ جبکہ کافر و منکر اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–21

ظلم کے خلاف جہاد ہجرت اور مدین میں قیام تشریح : جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوئے تو بڑے خوبصورت پڑھے لکھے باشعور ‘ پاکیزہ ‘ نیک ‘ نرم دل ‘ متقی اور پرہیزگار جوان تھے۔ ملک میں چاروں طرف پھیلا ہوا ظلم و ستم ان کو کسی صورت بھی اچھا نہ لگتا تھا۔ کیونکہ اس وقت کے حاکم اور وزراء کی پالیسی یہ تھی کہ رعایا کی بجائے اپنے تاج و تخت کی زیادہ فکر کی جائے تو اس کے لیے ان کو یہ پالیسی زیادہ پسند تھی کہ رعایا کو آپس میں کسی نہ کسی طرح لڑائے رکھو تاکہ وہ حکمرانوں کی زیادتیوں کی طرف نہ متوجہ ہوں اور نہ ہی احتجاج کریں بس آپس میں ہی لڑتے مرتے رہیں۔ اس لیے ملک میں امن وامان نام کی کوئی چیز نہ تھی اور خاص…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 14–21

آیات 14 تا 21 اسرارو معارف جب موسیٰ (علیہ السلام) جوانی کو پہنچے تو وہ بہت سمجھدار اور باعلم تھے ہم نے انہیں علم و احکمت کہ فطرت سلیمہ قبل از بعثت نبی کو نصیب ہوتی ہے عطا فرمائی۔ اور نیکی کے کرنے والے مخلص لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا جاتا ہے۔ نیکی سے دنیا کے امور کو سمجھنے کی استعداد بھی زیادہ ہوجاتی ہے : یہ ثابت ہوا کہ خلوص کے ساتھ نیک اعمال کرنے سے دنیا کے معاملات کو بہتر سمجھنے کی صلاحیت عطا ہوتی ہے ہمارے ہاں جو نیک لوگوں کے زیادہ بھولے ہونے کی بات ہے تو غالبا یہاں نیکی صرف عبادت کو سمجھ لیا گیا ہے جبکہ نیکی سے مراد عبادت اور پوری عملی زندگی میں بھرپور حصہ لینا ہے۔ اللہ کرے ہمارے عبادت گزار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

2 ۔ گو عام لوگوں کے حق میں یہ (یعنی نادانستہ قتل) کوئی گناہ نہ تھا مگر پیغمبروں کی شان بڑی ہے۔ ان کی شان کے لحاظ سے یہ بےاحتیاطی بھی مناسب نہ تھی اس لئے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اسے گناہ سمجھا اور اس پر اللہ تعالیٰ کے حضور معافی کے خواستگار ہوئے۔ چناچہ انہیں معافی دے دی گئی مگر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اس کے بعد بھی نادم ہے اور قیامت کے دن اپنی ندامت کا اظہار ان الفاظ میں کریں گے : انی قتلت نفسا لم اومر بقتلھا کہ میرے ہاتھ سے ایک ایسا شخص قتل ہوگیا تھا جس کو قتل کرنے کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:16) ظلمت نفسی۔ میں نے اپنے نفس پر (یعنی اپنے آپ پر) ظلم کیا ہے بمعنی مجھ سے قصور ہوگیا ہے۔ فغفرلہ پس اللہ نے اسے بخش دیا۔ معاف کردیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 14–17

لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 17 بلغ (پہنچ گیا) ‘ اشد (قوت۔ جوانی) ‘ استوی (پورا ہوگیا۔ برابر ہوا) ‘ رجلین (رجل) دو مرد ‘ استغاث (اس نے فریاد کی) ‘ وکز ( مکامارا۔ گھونسا مارا) ‘ قضیٰ (پورا ہوگیا) ‘ ظھیر (مدد گار۔ مدد کرنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 14 تا 17 : اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی ذرا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ارشاد فرمایا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پچیس تیس سال کے کڑیل جوان یعنی جسمانی ‘ عقلی اور قلبی اعتبار سے متوازن شخصیت بنکر ابھرے تو شاہی محل میں پرورش پانے کیوجہ سے چہرے پر رعب اور گفتگو میں ایک خاص وقار جھلکتا نظر آتا تھا۔ وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–17

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک فرعونی کو مارڈالنے کا ذکر۔ (ف 1) جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کانابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھرپرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو قوت جسمانیہ وعقلیہ دونوں عنایت کیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے مصر سے نکل کر مدین میں جانے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے دیکھا جس میں ایک اسرائیلی تھا اور دوسرے ایک فرعونی تھا اسرائیلی نے حضرت موسیٰ سے فریاد کی موسیٰ نے فرعونی کے ایک گھونسا مارا جس سے وہ فرعون مرگیا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 16–17

[9] یعنی معاف کرنے کا احسان۔ غالباً اس معافی کا علم موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ الہام ہوا ہوگا۔ آخر پیغمبر لوگ نبوت سے پہلے ولی تو ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

16۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا اے میرے پروردگار میں نے اپنے اوپر ظلم کیا تو مجھ کو بخش دے اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کردیا اور بخش دیا بلا شبہ وہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ندامت کے ساتھ پچھتاتے ہوئے یہ الفاظ کہے اللہ تعالیٰ کی مغفرت نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دستگیری فرمائی اور واقعہ ہے کہ غلطی بھی سہوا ً ہوئی تھی موسیٰ (علیہ السلام) کی نیت قتل کی نہ تھی اور نہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی کافر کے قتل کی اجازت تھی اور آپ فرعون کی پناہ اور امن میں تھے اس لئے کوئی وجہ قتل کی نہ تھی۔ بخشش کا حال شاید موسیٰ (علیہ السلام) کو الہام سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–17

ف 1۔ یہاں مجرمین سے مراد وہ ہیں جو دوسروں سے گناہ کا کام کرانا چاہیں، کیونکہ گناہ کرانا کسی سے بھی یہ جرم ہے، پس اس میں شیطان بھی داخل ہوگیا، کہ وہ گناہ کراتا ہے اور گناہ کرنے والا اس کی مدد کرتا ہے۔ خواہ عمدا یا خطا، مطلب یہ ہوا کہ میں شیطان کا کہنا کبھی نہ مانوں گا، یعنی مواقع محتملہ خطاء میں احتیاط و تنقیظ سے کام لوں گا، اور اصل مقصود اتنا ہی ہے، مگر شمول حکم کے لئے مجرمین جمع کا صیغہ لایا گیا کہ اوروں کو بھی عام ہوجاوے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی زیادتی کا اعتراف کیا اور اللہ سے حفاظ طلب کی : 16۔ قتل اگرچہ عمدا انہیں کیا گیا تھا تاہم قتل ہی تھا پھر مخالفین کو کیسے باور کرایا جاسکتا ہے کہ یہ اتفاقی ہے کیونکہ ان کو تو کوئی بہانہ چاہئے تھا اور وہ ان کو مل گیا اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے گویا ظالموں کو اپنے اوپر ظلم کرنے کا ایک موقع فراہم کردیا اگرچہ وہ اتفاق تھا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے میری حفاظت فرما سو اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت فرمائی اور بلاشبہ وہ حفاظت کرنے والا ‘ پیار کرنے والا ہے ۔ ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس اتفاقیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–16

قَالَ رَ‌بِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ‌ لِي فَغَفَرَ‌ لَهُ (He said, "0 my Lord, I have wronged myself, so forgive me." So he forgave him - 28:16). The gist of this verse is that Sayyidna Musa (علیہ السلام) regarded the killing of the infidel Qibti as a sin, despite the fact that it had happened without any intention on his part, because it was in conflict with his status of prophethood, and thus below his dignity. So, he begged Allah's pardon for the act, which was duly granted. The first question that arises here is that this Qibti was an infidel combatant (harbi) in the religious…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

23 What the Prophet Moses meant by this prayer was: "O my Lord, forgive this sin of mine, which you know I have not committed wilfully, and also cover and conceal it from the people." 24 This has two meanings and both are implied here: Allah pardoned Moses' error as well as concealed his sin from the people so that neither any Egyptian nor any official of the Egyptian government passed that way at that time that he might witness the incident. So, the Prophet Moses got an opportunity to escape undetected from the place of the occurrence of murder.

Read the full tafseer →