Explained with ayahs 14–17
گھونسے سے موت
حضرت موسیٰ کے لڑکپن کا ذکر کیا اب ان کی جوانی کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ اللہ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا۔ یعنی نبوت دی۔ نیک لوگ ایسا ہی بدلہ پاتے ہیں، پھر اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کے مصر چھوڑنے کا باعث بنا اور جس کے بعد اللہ کی رحمت نے ان کار خ کیا یہ مصر چھوڑ کر مدین کی طرف چل دئیے۔ آپ ایک مرتبہ شہر میں آتے ہیں یا تو مغرب کے بعد یا ظہر کے وقت کہ لوگ کھانے پینے میں یا سونے میں مشغول ہیں راستوں پر آمد ورفت نہیں تھی تو دیکھتے ہیں کہ دو شخص لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ ایک اسرائیلی ہے دوسرا قبطی ہے۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ سے قبطی کی شکایت کی اور اس کا زور ظلم بیان کیا جس پر…
Read the full tafseer →سورة القصص 20
ہوسکتا ہے کہ وہ صبح سویرے کا وقت ہو، یا گرمی میں یا دوپہر کا، یا سردیوں میں رات کا۔ بہرحال مراد یہ ہے کہ جب سڑکیں سنسان تھیں اور شہر میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔
" شہر میں داخل ہوا " ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دار السلطنت کے شاہی محلات عام آبادی سے باہر واقع تھے، حضرت موسیٰ ؑ چونکہ چاہی محل میں رہتے تھے اس لیے " شہر میں نکلے " کہنے کے بجائے " شہر میں داخل ہوئے " فرمایا گیا ہے۔
سورة القصص 21
اصل میں لفظ " وکر " استعمال ہوا ہے جس کے معنی تھپڑ مارنے کے بھی ہیں اور گھونسا مارن کے بھی۔ ہم نے اس خیال سے کہ تھپڑ سے موت واقع ہوجانا گھونسے کی بہ نسبت بعید تر ہے اس کا ترجمہ گھونسا مارنا کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
خلاصہ تفسیر
اور جب (پرورش پاکر) اپنی بھری جوانی (کی عمر) کو پہنچے اور (قوت جسمانیہ و عقلیہ سے) درست ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا فرمایا (یعنی نبوت سے پہلے ہی فہم سلیم و عقل مستقیم جس سے حسن و قبح میں امتیاز کرسکیں عنایت فرمائی) اور ہم نیکو کاروں کو یوں ہی صلہ دیا کرتے ہیں (یعنی عمل صالح سے فیضان علمی میں ترقی ہوتی ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ فرعون کے مشرب کو موسیٰ ؑ نے کبھی اختیار نہ کیا تھا بلکہ اس سے نفور رہے) اور (اسی زمانہ کا ایک واقعہ یہ ہوا کہ ایک بار) موسیٰ ؑ شہر میں (یعنی مصر میں کذا فی الروح عن ابن اسحاق کہیں باہر سے) ایسے وقت پہنچے کہ وہاں کے (اکثر) باشندے بیخبر (پڑے سو رہے) تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
آیت (16-15)
مدینۃ سے مراد
چونکہ محض غلاموں اور خدمت گاروں کی تھی اس وجہ سے ان کی بستی اصل شہر سے الگ بسائی گئی تھی۔ وہ صرف مزدوروں اور خدمت گاروں کی طرح کام کے اقوات میں شہر میں جایا کرتے تھے۔
صالح جوانی میدان عمل میں
حضرت موسیٰ ؑ جوان ہوئے اور ان کے اندر وہ قتوت و مروت اور رحیتر و غیرت پیدا ہوئی جو صالح جوانی اور علم و معرفت کا خاصہ ہے تو وہ وقتاً فوقتاً شہر میں اپنے مظولم بھائیوں کا حال دیکھنے کے لئے جانے لگے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی حمیت و حمایت کے سبب سے قبطیوں کی نظروں میں کھٹکنے لگی تھے اس وجہ سے انہیں یہ کام لوگوں کی نگاہوں سے بچ بچا کے ایسے اقوات میں کرنا پڑتا جن میں لوگ آرام…
Read the full tafseer →15-1اس سے بعض نے مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت اور بعض نے نصف النہار مراد لیا۔ جبکہ لوگ آرام کر رہے ہوتے ہیں۔
15-2یعنی فرعون کی قوم قبط میں سے تھا۔
15-3اسے شیطانی فعل اس لئے قرار دیا کہ قتل ایک نہایت سنگین جرم ہے اور حضرت موسیٰ ؑ کا مقصد اسے ہرگز قتل کرنا نہیں تھا۔
15-4جس کی انسان سے دشمنی بھی واضح ہے اور انسان کو گمراہ کرنے کے لئے وہ جو جو جتن کرتا ہے وہ بھی مخفی نہیں۔
Read the full tafseer →5: یعنی اکثر لوگ دوپہر کے وقت بیخبر سوئے ہوئے تھے
6: حضرت موسیٰ ؑ کا مقصد تو صرف یہ تھا کہ اسرائیلی شخص کو اس کے ظلم سے بچائیں، اسے قتل کرنا مقصود نہیں تھا، لیکن وہ ایک ہی مکے سے مرگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ودخل المدینہ علی حین ۔۔۔۔۔۔۔۔ ظھیرا للمجرمین (15- 17)
” وہ شہر میں داخل ہوا “ اور شہر سے مراد دار الخلافہ ہے ، جس طرح کہ اس وقت وہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کہاں سے آئے اور شہر میں داخل ہوئے۔ کیا یہ عین الشمس کے قصر شاہی سے نکل کر آئے یا یہ کہ انہوں نے شاہی محل اور دارالحکومت کو چھوڑ دیا تھا اور کسی اور جگہ رہائش اختیار کرلی تھی اور وہ شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غافل تھے یعنی دوپہر کا وقت تھا یا لوگوں کے آرام کا وقت تھا۔ جب وہ شہر میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں۔
فوجد فیھا رجلین ۔۔۔۔۔۔۔ من عدوہ (28: 15) ” وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دوسرا اس کی دشمن…
Read the full tafseer →4 یعنی حضرت موسیٰ جوان ہو کر ایک روز شہر میں پہنچے جس وقت لوگ غافل پڑے سو رہے تھے شاید رات کا وقت ہوگا یا دوپہر ہوگی۔
Read the full tafseer →آیت 15 وَدَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ عَلٰی حِیْنِ غَفْلَۃٍ مِّنْ اَہْلِہَا ”
حضرت موسیٰ علیہ السلام شاہی محل میں رہتے تھے اور عام طور پر شاہی محلات عام شہری آبادی سے الگ علاقے میں ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ علیہ السلام کے شہر میں آنے کا یہاں خصوصی انداز میں ذکر ہوا ہے۔ عَلٰی حِیْنِ غَفْلَۃٍ کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو آپ علیہ السلام علی الصبح شہر میں آئے ہوں گے جب لوگ ابھی نیند سے بیدار نہیں ہوئے تھے یا پھر وہ دوپہر کو قیلولے کا وقت تھا۔
ہٰذَا مِنْ شِیْعَتِہٖ وَہٰذَا مِنْ عَدُوِّہٖ ج ”
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے وہاں شہر میں ایک اسرائیلی اور ایک قبطی کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھا۔
قَالَ ہٰذَا مِنْ…
Read the full tafseer →22 اس آیت یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاہی محلات شہر یا عام لوگوں کی رہائشی آبادی سے کچھ دور تھے۔ جیسا کہ عام دستور ہے کہ بڑے بڑے لوگ عام آدمیوں میں گھل مل کر رہنا پسند نہیں کرتے بلکہ شہر سے باہر کھلی فضا میں اپنی رہائش گاہیں، بنگلے، کوٹھیاں اور محل بنواتے ہیں۔
23 یعنی جب لوگ سو رہے تھے اور راستے اور سڑکیں سنسان اور بےآباد معلوم ہوتی تھیں۔ ایسا وقت عموماً علی الصبح ہوا کرتا ہے سورج کے طلوع ہونے سے بہت پہلے یا گرمیوں میں دوپہر کے بعد جب اکثر لوگ آرام کررہے ہوتے ہیں۔
24 موسیٰ جب ایسے شہر میں داخل ہوئے تو دیکھا دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ان میں ایک قبطی ہے یعنی مصر کا قدیمی باشندہ یا حکمران جماعت سے…
Read the full tafseer →18۔ یعنی ایک اسرائیلی (سبطی) تھا اور ایک مصری (قبطی) (آیت) ” المدینۃ “ شہر سے مراد مصر کا قدیم شہر ممفس ہے اور توریت میں یہ نام موف کرکے آتا ہے اور ہمارے ہاں کی قدیم روایات میں منف کرکے۔ موجودہ دارالسلطنت شہر قاہرہ سے کوئی 12 میل جنوب میں واقع تھا۔ اور اپنے زمانہ کا بڑا نام آور شہر تھا۔ اب موقع مطراینہ اسی جگہ پر ہے۔ ملاحظہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” حین غفلۃ من اھلھا “۔ یعنی لوگ بیخبر پڑے سو رہے تھے۔ وقت غالبا دوپہر کا تھا۔
19۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پایا کہ مصری ظالم تھا اور اسرائیلی مظلوم آپ نے گھونسا محض رفع ظلم کے لیے تادیبا مارا۔ اور یہ محض اتفاق تھا کہ اس سے وہ مصری مرگیا۔ توریت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
آیت نمبر 14 تا 21
ترجمہ : اور موسیٰ اپنی بھرپور جوانی کو پہنچ گئے اور وہ تیس یا تینتیس سال ہیں اسور توانا اور تندرست ہوگئے یعنی چالیس سال کے ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا یعنی نبی بنائے جانے سے پہلے ہی ان کو حکمت اور دین کی سمجھ عطا کی اور ہم اسی طرح جیسا کہ موسیٰ کو جزاء دی اپنے اوپر احسان کرنے والوں کو جزاء دیتے ہیں اور موسیٰ شہر میں یعنی فرعون کے شہر میں جس کا نام مُنُفُ تھا ایک مدت غائب رہنے کے بعد ایسے وقت میں داخل ہوئے کہ شہر کے لوگ قیلولہ کے وقت غافل تھے یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا یہ ایک تو اس کی برادری کا یعنی اسرائیلی تھا اور دوسرا اس کے دشمن کی برادری کا یعنی قطبی…
Read the full tafseer →ودخل المدینۃ علی حین غفلۃ من اھلھا . اور موسیٰ شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب کہ شہر والے بیخبر (پڑے سو رہے) تھے۔ سدی نے کہا : شہر سے مراد ہے مدین کا شہر جو حدود مصر میں تھا۔ مقاتل نے کہا : خانین کا قصبہ مراد ہے جو مصر سے دو فرسخ پر تھا۔ بعض نے کہا : شہر مدینۃ الشمس مراد ہے۔ محلی نے کہا : شہر منف مراد ہے ‘ ایک مدت کے بعد حضرت موسیٰ منفگئے تھے۔ حِیْنَ غَفْلَۃٍ سے مراد ہے دوپہر کا وقت جب کہ لوگ قیلولہ میں تھے۔ محمد بن کعب قرظی نے کہا : مغرب و عشاء کا درمیانی وقت مراد ہے۔ واقعہ یہ تھا کہ حضرت موسیٰ کو فرعون کا بیٹا کہا جاتا تھا ‘ آپ کی سواری فرعون کی سواری کی طرح ہوتی تھی اور لباس بھی فرعون کا ہی…
Read the full tafseer →(15) اور موسیٰ ؑ شہر میں ایسے وقت پہنچے کہ وہاں کے اکثر باشندے بیخبر تھے قیلولہ کا وقت تھا یا مغرب کے بعد کا تو انہوں نے وہاں ایک اسرائیلی اور ایک قبطی کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھا ایک تو حضرت موسیٰ ؑ کی برادری یعنی بنی اسرائیل میں سے تھا اور دوسرا مخالفین میں سے یعنی قبطی تھا۔
حضرت موسیٰ ؑ کی برادری میں سے جو تھا اس نے حضرت موسیٰ ؑ کو دیکھ کر اس مخالف کے مقابلہ میں مدد چاہی حضرت موسیٰ ؑ نے اس کو گھونسا مارا تو وہ ہلاک ہوگیا کہنے لگے کہ یہ شیطانی حرکت ہوگئی بیشک شیطان بھی انسان کا کھلا دشمن ہے۔
Read the full tafseer →وَدَخَلَ الْمَدِيْنَةَ عَلٰي حِيْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا : ”شہر میں داخل ہوا“ سے معلوم ہوا کہ شاہی محلاّت عام آبادی سے باہر واقع تھے، جہاں سے وہ شہر میں داخل ہوئے۔ ”غَفْلَةٍ“ میں تنوین کی وجہ سے ”کسی قدر غفلت“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ ایک دفعہ وہ شہر میں ایسے وقت میں آئے جو کسی قدر غفلت کا وقت تھا۔ یہ صبح سویرے یا عشاء کے بعد یا دوپہر کے وقت میں سے کوئی وقت بھی ہوسکتا ہے، مگر غالب یہی ہے کہ وہ دوپہر کا وقت تھا جب سڑکیں سنسان ہوتی ہیں، لوگ گرمی کی وجہ سے گھروں میں آرام کر رہے ہوتے ہیں۔ چناچہ ابن ابی حاتم نے اپنی صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کا قول ذکر فرمایا ہے : ”نِصْفُ النَّھَارِ“ ”(یعنی یہ)…
Read the full tafseer →ودخل المدینۃ علی حین غفلۃ من اھلھا ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس حق کو پہچان لیا جو ان کے دین میں تھا تو قوم فرعون جس حالت پر تھی اس پر عیب لگایا یہ بات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عام ہوگئی انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ڈرایا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں ڈرایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے شہر میں چوری چھپے اور ڈرتے ہوئے داخل ہوئے تھے۔ سدی نے کہا : اس قصہ کے وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کے ساتھ تعلق تھا حضرت موسیٰ موسیٰ (علیہ السلام) اس کی سواریوں پر سوار ہوتے یہاں تک کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کا بیٹا سمجھا جاتا۔ ایک روز…
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کا شہر میں داخل ہونا
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ فرعون اپنی سواری پر سوار ہوا اور اس کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) نہیں تھے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) آئے تو ان سے کہا گیا کہ فرعون سوار ہو کر چلا گیا تو موسیٰ بھی سوار ہو کر اس کے پیچھے چل دئیے انہوں نے ایک زمین میں قیلولہ کرنے کی جگہ کو پایا جس کو منف کہا جاتا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نصف النہار کے وقت وہاں داخل ہوئے جبکہ بازار بند ہوچکے تھے اور اس کے راستوں میں کوئی بھی نہ سنسان پڑے ہوئے تھے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آیت ودخل المدینۃ علی حین غفلۃ من اہلہا، یعنی وہ شہر میں داخل ہوئے جب اس نے…
Read the full tafseer →وَدَخَلَ [ اور وہ داخل ہوئے ] الْمَدِيْنَةَ [ شہر میں ] عَلٰي حِيْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا [ اس (شہر) کے لوگوں کی غفلت کے وقت پر ] فَوَجَدَ [ تو انھوں نے پایا ] فِيْهَا [ اس میں ] رَجُلَيْنِ [ دو مردوں کو ] يَـقْتَتِلٰنِ ڭ [ باہم لڑتے ہوئے ] هٰذَا [ یہ ] مِنْ شِيْعَتِهٖ [ ان (علیہ السلام) کے فرقے سے تھا ] وَهٰذَا [ اور یہ (دوسرا) مِنْ عَدُوِّه ٖ ۚ [ ان کے دشمن میں سے تھا ] فَاسْتَغَاثَهُ [ تو مدد کے لئے پکار ان (علیہ السلام) کو ] الَّذِيْ [ اس نے جو ] مِنْ شِيْعَتِهٖ [ ان کے فرقے سے تھا ] عَلَي الَّذِيْ [ اس کے خلاف جو ] مِنْ عَدُوِّهٖ ۙ [ ان کے دشمن میں سے تھا ] فَوَكَزَهٗ [ تو مکا مارا…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بار گاہ خداوندی میں مزید عرض کیا کہ اے میرے رب مجھ پر آپ کے بڑے بڑے انعامات ہیں۔ ان کا تقاضا یہ ہے کہ میں مجرمین کا مددگار نہ بنوں لہٰذا میں کبھی ان کی مدد نہ کروں گا جو گناہ کرنے والے اور گناہ کروانے والے ہوتے ہیں۔ دونوں قسم کے مجرموں سے دور رہنے اور ان کا معاون نہ بننے کا بار گاہ خداوندی میں عہد کیا شیطان چونکہ گناہ کراتا ہے لہٰذا اس بیزاری کے عموم میں وہ بھی آگیا اس میں یہ بات بھی داخل ہوگئی ہے کہ شیطان کے کہنے پر عمل نہ کروں گا کیونکہ اس کی بات ماننے میں اس کی مدد ہوتی ہے اور یہ عہد بھی ہوگیا کہ ہمیشہ احتیاط سے کام لوں گا۔
آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ جس طرح ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–21
تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون
قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں…
Read the full tafseer →16:۔ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) شہر میں ایسے وقت میں داخل ہوئے جبکہ سب لوگ دوپہر کے وقت باہر کے حالات سے بیخبر اپنے گھروں میں قیلولہ کر رہے تھے۔ آپ نے کیا دیکھا کہ دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں ان میں سے ایک تو ان کے اپنے قبیلے یعنی بنی اسرائیل کا ہے اور دوسرا ان کی دشمن قوم قبط کا ہے۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ والسلام کو دیکھتے ہی قبطی کے مقابلے میں انہیں مدد کے لیے پکارا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے تو قبطی کو زبانی سمجھایا کہ وہ اسرائیلی کو چھوڑ دے لیکن وہ الٹا گستاخی سے پیش آیا اس پر انہوں نے آگے بڑھ کر اس کے ایک گھونسہ رسید کیا۔ اس سے ان کا ارادہ ظالم کے ظلم سے مظلوم کو بچانے کا تھا۔ قتل کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
ربط آیات
اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی قبل از نبوت زندگی کے حالات بیان فرمائے ہیں اور آپ پر کیے گئے بعض انعامات کا ذکر کیا ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ہی نامساعد حالات میں ہوئی جب کہ فرعون اسرائیلیوں کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کروا دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی فرمائی کہ فرعون کے دشمن موسیٰ (علیہ السلام) کی کسی کے گھر میں شاہانہ طریقہ پر پرورش فرمائی۔ پہلے اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی برآمدگی کے بعد آپ کی رضاعت کا واقعہ بیان کیا ہے کہ کس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے آپ کا پیچھا کیا اور پھر رضاعت کے لیے اپنی ماں کا پتہ بتایا ۔ اس طرح موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →وَدَخَلَ الْمَدِيْنَۃَ عَلٰي حِيْنِ غَفْلَۃٍ مِّنْ اَہْلِہَا فَوَجَدَ فِيْہَا رَجُلَيْنِ يَـقْتَتِلٰنِۡ ہٰذَا مِنْ شِيْعَتِہٖ وَہٰذَا مِنْ عَدُوِّہٖ 0ۚ فَاسْتَغَاثَہُ الَّذِيْ مِنْ شِيْعَتِہٖ عَلَي الَّذِيْ مِنْ عَدُوِّہٖ ۙ فَوَكَزَہٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَيْہِ 0ۤۡ قَالَ ہٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ 0ۭ اِنَّہٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيْنٌ 15
دخل
الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58]
( دخ ل ) الدخول
( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
ترکیب : اتینہ جواب لما علی حین غفلۃ حال من المدینتہ ویجوزان یکون حالاً من الفاعل ای محتلساً ۔ ھذا من الخ الجملتان فی موضع نصب صفۃ لرجلین بما انعمت الباء للقسم والجواب محذوف دل علیہ فلن اکون ویمکن ان یکون المعنی بحق انعامک علی اعصمنی خائفًا حال من فاعل اصبح یترقب بدل منھا اوتاکید لہا یسعی صفۃ اخزی الرجل او حال والایتمارا التشاور لان کل واحد من المتش اور یں یامرصاحبہ بشی ئٍ او یشیر علیہ بامر۔
تفسیر : الغرض موسیٰ ( علیہ السلام) جب بھرپور جوان ہوگئے تو خدا نے ان کو حکم یعنی دانائی اور حکمت دی اور علم عطاء کیا۔ نیک و صالح اور باخدا اٹھے، لیکن ہنور نبوت نہیں عطا ہوئی تھی۔ بعض کہتے ہیں اشد اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
وَدَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ عَلٰی حِیْنِ غَفْلَۃٍ مِّنْ اَھْلِھَا فَوَجَدَفِیْھَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ ق ز ھٰذَا مِنْ شِیْعَتِہٖ وَھٰذَا مِنْ عَدُوِّہٖ ج فَاسْتَغَاثَہُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِہٖ عَلَی الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّہٖ لا فَوَکَزَہٗ مُوْسٰی فَقَضٰی عَلَیْہِ ق ز قَالَ ھٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ ط اِنَّـہٗ عَدُوٌّمُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ۔ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَغَفَرَلَـہٗ ط اِنَّـہٗ ھُوَالْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ ۔
(القصص : 15، 16)
(اور (ایک روز) وہ شہر میں داخل ہوئے جبکہ اہل شہر غفلت میں تھے تو آپ نے اس میں دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے پایا، ایک ان کے اپنے گروہ میں سے تھا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہجرت کا سبب۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک طرف اپنی والدہ ماجدہ کی مبارک گود میں پرورش پائی اور دوسری طرف فرعون کے ہاں رہ کر امور سلطنت سے آگاہی حاصل کی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو صرف بنی اسرائیل کا سیاسی رہنما ہی نہیں بنایا تھا بلکہ انھیں نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس لیے انھیں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس بھیجا تاکہ ان کی تربیت میں رہ کر پیغمبرانہ آداب سیکھ جائیں کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جس ماحول میں پرورش پائی تھی اس میں تواضع اور انکساری کی بجائے جلال کا پہلو غالب تھا، پیغمبرانہ آداب سیکھنے کا یہ معنٰی ہرگز نہیں…
Read the full tafseer →15: وَدَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ وہ (مصر کے) شہر میں داخل ہوئے۔ عَلٰی حِیْنِ غَفْلَۃٍ مِّنْ اَہْلِہَا (جبکہ شہر والے بیخبر تھے) ۔ : یہ فاعل سے حال ہے۔ یعنی چھپ کر مغرب و عشاء کے درمیان یا قیلولہ کے وقت جبکہ نصف النہار کا وقت تھا۔ ایک قول یہ ہے۔ جب آپ جوان ہوئے اور عقل پختہ ہوئی تو حق کی بات کہنے لگے اور غلط باتوں پر نکیر کرنے لگے۔ فرعونیوں نے ان کو ڈرایا۔ پس آپ شہر میں مخفی طور پر داخل ہوئے۔ فَوَجَدَ فِیْہَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ ہٰذَا مِنْ شِیْعَتِہٖ (پس اس میں دو آدمی پائے جو باہمی لڑ رہے تھے ایک ان کے گروہ کا تھا) ۔ ان میں سے تھا جو بنی اسرائیل میں سے دین میں آپ کے ساتھ چلنے والے تھے۔ ایک قول…
Read the full tafseer →15۔ ودخل المدینۃ، حضرت موسیٰ شہر میں داخل ہوئے۔ سدی کا قول ہے کہ شہر سے مراد مدین کا شہر ہے جو حدود مصر میں تھا۔ مقاتل کا بیا ن ہے کہ اس سے حابین کا قصہ مراد ہے۔ جو مصر سے دو فرسخ پر تھا، بعض نے کہا کہ مدینہ الشمس مراد ہے ۔ علی حین غفلۃ من اھلھا، قیلولے کے وقت میں عین دوپہر کے وقت۔ محمد بن کعب قرظی نے کہا کہ مغرب و عشاء کا درمیانی وقت مراد ہے۔ اس وقت شہر میں داخل ہونے کے سبب متلعق آئمہ مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ سدی کا بیان ہے کہ چونکہ موسیٰ کو فرعون کابیٹاکہاجاتا تھا، آپ کی سواری فرعون کی سواری کی طرح ہوتی تھی ، اور لباس بھی شاہانہ، تھا ایک روز فرعون سوار ہوکرنکلا موسیٰ اس وقت موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–26
14 تا 26۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھر پرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم اور سمجھ دونوں عنایت کئے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے نکل کر مدین میں پہنچنے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے ہوئے دیکھا جن میں ایک ان کے گروہ میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے حین غفلۃ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ دوپہر کا وقت تھا اسرائیل نے فریاد کی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
نبی سے کوئی جرم سرزد ہو تو خدا سے معافی مانگتا ہے
قول باری ہے : (فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ۔ موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا) نیز قول باری ہے (وقتلت نفسا۔ تونے ایک آدمی کو قتل کردیا تھا) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتادیا کہ انہوں نے گھونسا مار کر اس شخص کو قتل کردیا تھا پھر اپنے اس فعل پر جن الفاظ میں ندامت کا اظہار کیا تھا اس کا ذکر قرآن میں اس طرح ہوا ہے : (رب انی ظلمت نفسی۔ اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے نفس پر ظلم کرلیا) ۔
بعض حضرات کا قول ہے کہ تھپڑ مار کر کسی کی جان لے لینا قتل عمد ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) علی الاطلاق یہ نہ…
Read the full tafseer →18 غفلت کے وقت سے مراد ؟ : " غفلت کے وقت " سے مراد دوپہر کا وقت ہے جبکہ وہ لوگ قیلولہ کر رہے تھے۔ اور اس مدینہ سے مراد بعض حضرات نے شہر مصر ہی لیا ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) شاہی محل سے شہر مصر میں داخل ہوئے جبکہ بعض دوسروں کے نزدیک اس شہر سے مراد منفس کا شہر ہے جو کہ اس زمانے میں ایک بڑا مشہور مرکز تھا۔ اور تورات میں اس کا نام " موف " کر کے آیا ہے جبکہ ہماری قدیم تفسیری روایات میں اس کو " منصف " کے نام سے ذکر کیا گیا ہے جو موجودہ دارالحکومت قاہرہ سے کوئی بارہ کلومیٹر جنوب کی طرف واقع ہے۔ اور اب اسے " مطرانیہ " کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ راقم آثم نے اپنے ساتھ کام کرنے والے ایک مصری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
ظلم کے خلاف جہاد ہجرت اور مدین میں قیام
تشریح : جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوئے تو بڑے خوبصورت پڑھے لکھے باشعور ‘ پاکیزہ ‘ نیک ‘ نرم دل ‘ متقی اور پرہیزگار جوان تھے۔ ملک میں چاروں طرف پھیلا ہوا ظلم و ستم ان کو کسی صورت بھی اچھا نہ لگتا تھا۔ کیونکہ اس وقت کے حاکم اور وزراء کی پالیسی یہ تھی کہ رعایا کی بجائے اپنے تاج و تخت کی زیادہ فکر کی جائے تو اس کے لیے ان کو یہ پالیسی زیادہ پسند تھی کہ رعایا کو آپس میں کسی نہ کسی طرح لڑائے رکھو تاکہ وہ حکمرانوں کی زیادتیوں کی طرف نہ متوجہ ہوں اور نہ ہی احتجاج کریں بس آپس میں ہی لڑتے مرتے رہیں۔ اس لیے ملک میں امن وامان نام کی کوئی چیز نہ تھی اور خاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
آیات 14 تا 21
اسرارو معارف
جب موسیٰ (علیہ السلام) جوانی کو پہنچے تو وہ بہت سمجھدار اور باعلم تھے ہم نے انہیں علم و احکمت کہ فطرت سلیمہ قبل از بعثت نبی کو نصیب ہوتی ہے عطا فرمائی۔ اور نیکی کے کرنے والے مخلص لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا جاتا ہے۔
نیکی سے دنیا کے امور کو سمجھنے کی استعداد بھی زیادہ ہوجاتی ہے :
یہ ثابت ہوا کہ خلوص کے ساتھ نیک اعمال کرنے سے دنیا کے معاملات کو بہتر سمجھنے کی صلاحیت عطا ہوتی ہے ہمارے ہاں جو نیک لوگوں کے زیادہ بھولے ہونے کی بات ہے تو غالبا یہاں نیکی صرف عبادت کو سمجھ لیا گیا ہے جبکہ نیکی سے مراد عبادت اور پوری عملی زندگی میں بھرپور حصہ لینا ہے۔ اللہ کرے ہمارے عبادت گزار…
Read the full tafseer →10 ۔ جیسا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ کو ان کے صبر اور نیکی پر دیا۔ 11 ۔ یعنی شہر میں سناٹا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ صبح کا وقت ہو یا گرمیوں کی دوپہر یا سردیوں کی رات کا۔ عموماً مفسرین (رح) نے دوپہر کا وقت لکھا ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ لوگوں سے چھپ کر اور ان کی لاعلمی میں۔ “ کیونکہ اس وقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرعون کی مخالفت شروع کر رکھی تھی اور فرعون کو بھی پتا چل گیا تھا اس لئے شہر میں چھپ کر آئے۔ (قرطبی)
1 ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا ارادہ قتل کا نہ تھا نہ قتل کے لئے گھونسا مارا جاتا ہے اور نہ کوئی شخص محض گھونسے سے مرتا ہے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اسے…
Read the full tafseer →(28:15) علی حین غفلۃ من اہلہا : علی بمعنی فی۔ جیسا کہ آیت واتبعوا ما تتلوا الشیطن علی ملک سلیمن (2:102) میں علی بمعنی فی آیا ہے۔ حین غفلۃ۔ غفلت کا وقت۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ المدینۃ کی طرف راجع ہے لفظی ترجمہ ہوگا۔ وہ شہر میں اس کے باسیوں کی غفلت کے وقت میں داخل ہوا۔
یعنی جب اہل شہر غفلت میں تھے قیلولہ کر رہے تھے یا رات کو سو رہے تھے ۔ گویا بازاروں میں چنداں آمدرورفت نہ تھی۔ بعض کے نزدیک یہ ان کی عید کا دن تھا۔ اور وہ لہو ولعب میں مشغول تھے۔
(28:15) من سیعتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ شیعۃ فرقہ۔ گروہ۔ الشیاع کے معنی منتشر ہونے اور تقویت دینے کے ہیں۔ شاع الخبر خبر پھیل گئی اور قوت پکڑ گئی اور شاع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 17
بلغ (پہنچ گیا) ‘ اشد (قوت۔ جوانی) ‘ استوی (پورا ہوگیا۔ برابر ہوا) ‘ رجلین (رجل) دو مرد ‘ استغاث (اس نے فریاد کی) ‘ وکز ( مکامارا۔ گھونسا مارا) ‘ قضیٰ (پورا ہوگیا) ‘ ظھیر (مدد گار۔ مدد کرنے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 14 تا 17 :
اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی ذرا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ارشاد فرمایا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پچیس تیس سال کے کڑیل جوان یعنی جسمانی ‘ عقلی اور قلبی اعتبار سے متوازن شخصیت بنکر ابھرے تو شاہی محل میں پرورش پانے کیوجہ سے چہرے پر رعب اور گفتگو میں ایک خاص وقار جھلکتا نظر آتا تھا۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک فرعونی کو مارڈالنے کا ذکر۔
(ف 1) جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کانابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھرپرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو قوت جسمانیہ وعقلیہ دونوں عنایت کیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے مصر سے نکل کر مدین میں جانے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے دیکھا جس میں ایک اسرائیلی تھا اور دوسرے ایک فرعونی تھا اسرائیلی نے حضرت موسیٰ سے فریاد کی موسیٰ نے فرعونی کے ایک گھونسا مارا جس سے وہ فرعون مرگیا تو…
Read the full tafseer →[8] غالباً رات کا وقت ہوگا یا گرمی میں دوپہر کا وقت۔
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ کی جوانی کا ایک واقعہ
1: موسیٰ (علیہ السلام) کی تربیت جس ماحول میں ہوئی تھی ۔ اس کا تقاضا یہ تھا ۔ کہ وہ بالکل بےخوف اور نڈر ہوئے ہوتے ۔ اور ان میں زبردست جرات اور جسارت ہوتی ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مقصد بھی یہی تھا ۔ کہ موسیٰ فرعون کے گھر میں رہ کر اتنے جسور ہوجائیں ۔ کہ آئندہ چل کر بنی اسرائیل کے صحیح معنوں میں راہنما ثابت ہوں ان آیات میں موسیٰ کے عتفوان شباب کا ایک واقعہ ہے ۔ کہ انہوں نے ایک دن ایک قبطی اور اسرائیلی کو آپس میں لڑتے ہوئے پایا ۔ معلوم ہوتا ہے ۔ اس زمانے میں حضرت موسیٰ فرعون کی تربیت سے آزاد ہوچکے تھے ۔ اسی لئے مصر میں وہ رات کے وقت آئے جب کہ سب لوگ سو…
Read the full tafseer →15۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کہیں باہر سے شہر میں ایسے وقت داخل ہوا کہ جس وقت وہاں کے باشندے بیخبر اور غفلت میں تھے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ شہر میں دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے سے ہاتھا پائی کر رہے ہیں ان دونوں میں سے ایک تو موسیٰ (علیہ السلام) کی جماعت میں سے تھا اور وہ دوسرا اس کا دشمن اور مخالف تھا پس اس شخص نے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی جماعت میں سے تھا اس شخص کے مقابلہ میں اور اس شخص کے خلاف جو موسیٰ (علیہ السلام) کا مخالف اور دشمن تھا موسیٰ (علیہ السلام) سے فریاد کی اور موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد چاہی اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس مخالف کو ایک گھونسا مارا سو اس کا…
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی اتفاق سے وہ مر ہی گیا۔
Read the full tafseer →اس دوران ایک عجیب طریقہ کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک قتل سرزد ہوگیا :
15۔ اب وہ وقت آگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اکثر لوگوں کے آرام کے اوقات میں شرہ کا گشت کرتے اور حالات معلوم کرتے کہ بنی اسرائیل کیا کر رہے ہیں اور آپ کی مخالف جماعت یعنی قبطی لوگ کس حال میں ہیں ۔ اس طرح ایک روز جب آپ شہر کی طرف نکلے تو ایک جگہ پر دو آدمیوں کو الجھتے دیکھا کہ دونوں آپس میں دست و گریبان ہیں ایک اسرائیلی ہے اور دوسرا قبطی ۔ اسرائیلی نے جب آپ کو دیکھا تو مدد کے لئے آواز دی آپ آگے بڑھے کہ قبطی کو دست درازی سے منع کریں جب اس نے بات نہ مانی اور زیادتی سے باز نہ آیا تو آپ نے اس کو ایک مکا رسید کردیا یا پیچھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ (He said, "0 my Lord, I have wronged myself, so forgive me." So he forgave him - 28:16). The gist of this verse is that Sayyidna Musa (علیہ السلام) regarded the killing of the infidel Qibti as a sin, despite the fact that it had happened without any intention on his part, because it was in conflict with his status of prophethood, and thus below his dignity. So, he begged Allah's pardon for the act, which was duly granted.
The first question that arises here is that this Qibti was an infidel combatant (harbi) in the religious…
Read the full tafseer →20 It might be the early morning, or midday in summer, or night in winter, when the roads were deserted and there was all quiet in the city. The words "entered the city" indicate that the royal palaces were situated outside the capital, away from the common population. The words used are "entered the city" and not "came out in the city", because the Prophet Moses lived in the royal palace.
21 The word wakaza in the original means both giving a slap and giving a blow. We have adopted "Moses gave a blow" for the reason that a blow can cause death but not so a slap.
22 One can imagine the state…
Read the full tafseer →