Explained with ayahs 14–17
گھونسے سے موت
حضرت موسیٰ کے لڑکپن کا ذکر کیا اب ان کی جوانی کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ اللہ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا۔ یعنی نبوت دی۔ نیک لوگ ایسا ہی بدلہ پاتے ہیں، پھر اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کے مصر چھوڑنے کا باعث بنا اور جس کے بعد اللہ کی رحمت نے ان کار خ کیا یہ مصر چھوڑ کر مدین کی طرف چل دئیے۔ آپ ایک مرتبہ شہر میں آتے ہیں یا تو مغرب کے بعد یا ظہر کے وقت کہ لوگ کھانے پینے میں یا سونے میں مشغول ہیں راستوں پر آمد ورفت نہیں تھی تو دیکھتے ہیں کہ دو شخص لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ ایک اسرائیلی ہے دوسرا قبطی ہے۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ سے قبطی کی شکایت کی اور اس کا زور ظلم بیان کیا جس پر…
Read the full tafseer →سورة القصص 18
یعنی جب ان کا جسمانی و ذہنی نشوونما مکمل ہوگیا، یودی روایات میں اس وقت حضرت موسیٰ کی مختلف عمریں بتائی گئی ہیں۔ کسی نے 18 سال لکھی ہے، کسی نے 20 سال، اور کسی نے 40 سال۔ بائیبل کے نئے عہد نامے میں 40 سال عمر بتائی گئی ہے۔ (اعمال 7۔ 23) لیکن قرآن کسی عمر کی تصریح نہیں کرتا۔ جس مقصد کے لیے قصہ بیان کیا جارہا ہے اس کے لیے بس اتنا ہی جان لینا کافی ہے کہ آگے جس واقعہ کا ذکر ہورہا ہے وہ اس زمانے کا ہے جب حضرت موسیٰ پورے شباب کو پہنچ چکے تھے۔
سورة القصص 19
حکم سے مراد حکمت، دانائی، فہم و فراست اور قوت فیصلہ۔ اور علم سے مراد دینی اور دنیوی علوم دونوں ہیں۔ کیونکہ اپنے والدین کے ساتھ ربط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
خلاصہ تفسیر
اور جب (پرورش پاکر) اپنی بھری جوانی (کی عمر) کو پہنچے اور (قوت جسمانیہ و عقلیہ سے) درست ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا فرمایا (یعنی نبوت سے پہلے ہی فہم سلیم و عقل مستقیم جس سے حسن و قبح میں امتیاز کرسکیں عنایت فرمائی) اور ہم نیکو کاروں کو یوں ہی صلہ دیا کرتے ہیں (یعنی عمل صالح سے فیضان علمی میں ترقی ہوتی ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ فرعون کے مشرب کو موسیٰ ؑ نے کبھی اختیار نہ کیا تھا بلکہ اس سے نفور رہے) اور (اسی زمانہ کا ایک واقعہ یہ ہوا کہ ایک بار) موسیٰ ؑ شہر میں (یعنی مصر میں کذا فی الروح عن ابن اسحاق کہیں باہر سے) ایسے وقت پہنچے کہ وہاں کے (اکثر) باشندے بیخبر (پڑے سو رہے) تھے…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ کی جوانی کا اصلی جمال
بلغ اشدہ سے جوانی کو پہنچنا مراد ہے اور اس کے ساتھ لفظ استوآء عقلی و مزاجی اعتدال و توازن کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ یعنی جب حضرت موسیٰ ؑ جسمانی اعتبار سے جوانی کو اور عقلی و مراجی اعتبار سے اعتدال و توازن کی عمر کو پہنچے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جوانی بجائے خود کو کوئی بڑی وقیع چیز نہیں ہے اگر اس کے ساتھ عقلی و مزاجی اعتدال کا جمال نہ ہو۔
مقلم سے مراد قوت فیصلہ اور علم سے مراد خدا کی معرفت ہے۔ اس حکم و علم کے مختلف مدارج میں اس کا اعلیٰ درجہ وہ ہے جو حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو حاصل ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن میں بعینیہ یہی الفاظ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے علم…
Read the full tafseer →14-1حکم اور علم سے مراد نبوت ہے تو اس مقام تک کس طرح پہنچے، اس کی تفصیل اگلی آیات میں ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس سے مراد نبوت نہیں بلکہ عقل اور دانش اور وہ علوم ہیں جو انہوں نے اپنے آبائی اور خاندانی ما حول میں رہ کر سیکھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
4: فرعون کی اہلیہ نے جب بچے کو پالنے کا ارادہ کرلیا تو ان کو دودھ پلانے والی کی تلاش شروع ہوئی، لیکن حضرت موسیٰ ؑ کسی بھی عورت کا دودھ منہ میں نہیں لیتے تھے۔ حضرت آسیہ نے اپنی کنیزیں بھیجیں کہ وہ کوئی ایسی عورت تلاش کریں جس کا دودھ یہ قبول کرلیں۔ ادھر حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ بچے کو دریا میں ڈالنے کے بعد بےچین تھیں۔ انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی بہن کو دیکھنے کے لیے بھیجا کہ بچہ کا انجام کیا ہوا ؟ یہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے اسی جگہ پہنچ گئیں، جہاں فرعون کی کنیزیں پریشانی کے عالم میں دودھ پلانے والی عورتوں کو تلاش کر رہی تھیں۔ ان کو موقع مل گیا، اور انہوں نے اپنی والدہ کو یہ خدمت سونپنے کی تجویز پیش کی، اور…
Read the full tafseer →” بلوغ اشد “ کے معنی ہیں جب آپ کی جسمانی قوتیں مکمل ہوگئیں اور استواء کا مفہوم ہے جسمانی اور عقلی اعتبار سے پختگی تک پہنچنا۔ یہ درجہ بالعموم تیس سال کی عمر میں حاصل ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس عرصے تک حضرت موسیٰ کیا فرعون کے قصر شاہی ہی میں رہے ؟ اور فرعون اور اس کی بیوی کے لے پالک اور محبنی رہے یا یہ ان سے علیحدہ ہوگئے اور انہوں نے قصر شاہی کو چھوڑ دیا۔ اس لیے کہ شاہی محلات کے گندے اور سڑے ہوئے ماحول میں کسی ایسے شخص کا رہنا ممکن ہی نہیں جس کی روح پاک و صاف ہو اور جس سے مستقبل میں نبوت کا کام لیا جانا ہے۔ خصوصاً جبکہ ان کی ماں نے ان کو یہ بات بتا دی ہوگی کہ ان کی شناخت کیا ہے۔ ان کی قوم کیا ہے…
Read the full tafseer →3 یعنی موسیٰ (علیہ السلام) جب اپنی بھرپور جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو بہت حکمت کی باتیں سجھائیں اور خصوصی علم و فہم عطا فرمایا کیونکہ بچپن ہی سے وہ نیک کردار تھے۔ ایسے ہونہار کو ہم اسی طرح نوازا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 14 وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَاسْتَوٰٓی اٰتَیْنٰہُ حُکْمًا وَّعِلْمًا ط ”
یعنی جب آپ علیہ السلام کے ظاہری اور باطنی قویٰ پورے اعتدال کے ساتھ استوار ہوگئے اور آپ علیہ السلام پختگی کی عمر کو پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام کو خصوصی علم و حکمت سے نوازا گیا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے نبوت مراد ہے ‘ مگر عمومی رائے یہی ہے کہ نبوت آپ علیہ السلام کو بعد میں ملی۔
Read the full tafseer →21 بچپن میں آپ کو خالص دیندارانہ ماحول میسر آگیا۔ لہذا آپ حضرت یعقوب اور یوسف کی تعلیم سے واقف ہوگئے۔ آپ کے والدین کا گھرانہ ایک شریف اور دیندار گھرانہ تھا اور بچہ جو عادات و خضائل اس عمر میں سیکھتا ہے وہی تمام زندگی اس میں نمایاں رہتی ہیں۔ اس کے بعد آپ شاہی خاندان کے فرد بنے تو مصر میں متداول جدید علوم سے بہرہ ور ہوئے اور اصول جہاں بانی اور حکمرانی بھی از خود اخذ کرتے رہے کیونکہ آپ میں خداداد ذہانت موجود تھی۔ اس مقام پر صحت اور علم سے مراد نبوت نہیں کیونکہ نبوت تو آپ کو بہت مدت بعد عطا ہوئی تھی۔
Read the full tafseer →16۔ یعنی فہم سلیم وعقل مستقیم بطور مقدمہ نبوت کے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ابھی تک نبی نہ تھے، لیکن آثار نبوت سب بیدار ہوچکے تھے۔ (آیت) ” استوی “۔ یعنی قوائے جسمانی وعقلی پورے بلوغ کو پہنچ لیے۔
17۔ یعنی عمل صالح سے فیضان علمی میں ترقی ہوتی رہتی ہے۔ (آیت) ” نجزی “ سے معلوم ہوتا ہے کہ حکم سے مراد یہاں نبوت نہیں۔ کیونکہ نبوت جزاء اعمال و احسان نہیں، محض خدائے رحمن کا فضل خاص ہے (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
آیت نمبر 14 تا 21
ترجمہ : اور موسیٰ اپنی بھرپور جوانی کو پہنچ گئے اور وہ تیس یا تینتیس سال ہیں اسور توانا اور تندرست ہوگئے یعنی چالیس سال کے ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا یعنی نبی بنائے جانے سے پہلے ہی ان کو حکمت اور دین کی سمجھ عطا کی اور ہم اسی طرح جیسا کہ موسیٰ کو جزاء دی اپنے اوپر احسان کرنے والوں کو جزاء دیتے ہیں اور موسیٰ شہر میں یعنی فرعون کے شہر میں جس کا نام مُنُفُ تھا ایک مدت غائب رہنے کے بعد ایسے وقت میں داخل ہوئے کہ شہر کے لوگ قیلولہ کے وقت غافل تھے یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا یہ ایک تو اس کی برادری کا یعنی اسرائیلی تھا اور دوسرا اس کے دشمن کی برادری کا یعنی قطبی…
Read the full tafseer →ولما بلغ اشدہ واستوی اتینہ حکما وعلما . اور جب موسیٰ اپنی بھرپور طاقت (یعنی کامل جوانی) کو پہنچ
گئے اور (قوت عقلیہ کے لحاظ سے) درست ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت و علم عطا کیا۔
اَشُدَّ ‘ شِدَّتَکی جمع ہے جیسے انعم ‘ نِعمَت کی۔ شدت کا معنی ہے قوت ‘ اَشُدَّکو پہنچنے کا یہ مطلب ہے کہ ایسی طاقت (جوانی) کو پہنچ گئے جو نمو کی آخری حد تھی۔ کلبی نے کہا : اَشُد کی عمر 18 سے 30 سال تک ہے۔ مجاہد وغیرہ کے نزدیک 33 سال کی عمر اَشُد کی عمر ہے۔
اِسْتَوٰی یعنی ان کی عقل ٹھیک ہوگئی۔ مراد یہ ہے کہ چالیس سال کی عمر ہوگئی۔ کذا روی سعید بن جبیر عن ابن عباس۔ بعض کے نزدیک اِسْتَوٰی کا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنی جوانی کی…
Read the full tafseer →(14) جب حضرت موسیٰ ؑ اٹھارہ سال سے گزر کر چالیس سال کو پہنچے ہم نے ان کو حکمت اور نبوت عطا فرمائی اور اسی طرح ہم انبیاء کرام کو فہم ونبوت دیا کرتے ہیں یا یہ کہ صالحین کو علم و حکمت دیا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَاسْتَوٰٓى : یہاں ایک لمبی بات حذف کردی گئی ہے کہ موسیٰ ؑ کے رضاعت کے ایام اپنی والدہ کے پاس گزرے، جس سے انھیں اپنے والدین، بھائی بہن اور خاندان سے شناسائی ہوگئی اور آئندہ بھی اس تعلق کی وجہ سے میل جول جاری رہا، جس سے وہ اپنے آبائے کرام ابراہیم، اسحاق اور یعقوب ؑ اور ان کے دین سے واقف ہوگئے اور بنی اسرائیل کی زبوں حالت پر براہ راست مطلع رہنے لگے۔ رضاعت کے بعد شاہی محل میں منتقل ہونے کے ساتھ ان کی پرورش اور تربیت ایک شہزادے کی حیثیت سے ہوئی، انھیں اس وقت کے تمام علوم و فنون، لکھنے پڑھنے اور جہانبانی کے طریقے سکھائے گئے، جنگ میں درکار عام تربیت اور سپہ سالاری کے لیے…
Read the full tafseer →ولما بلغ اشدہ واستوی اتینہ حکماً و علماً سورة الانعام میں اشد کے بارے میں کلام گزر چکی ہے، ربیعہ اور مالک کا قول ہے : جو اس بارے میں قول کیا گیا ہے بلوغت اس میں اولیٰ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : حتی اذا بلغوا النکاح (النسائ : 6) یہ اشد کا آغاز ہے اور اس کی انتہائی عمر چونتیس سال ہے۔ یہ سفیان ثوری کا قول ہے۔ استری حضرت ابن عباس نے کہا : وہ چالیس سال کی عمر کو پہنچے۔ حکم سے مراد نبوت سے قبل حکمت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے دین میں فقہ ہے۔ اس کی وضاحت سورة بقرہ وغیرہ میں گزر چکی ہے۔ سدی کے قول کے مطابق علم سے مراد فہم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد نبوت ہے۔ مجاہد نے کہا : مرادففقہ ہے۔…
Read the full tafseer →1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابوا لشیخ والمحاملی فی امالیہ مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولما بلغ اشدہ میں اشدہ سے مراد 33 سال کی عمر اور واستوی سے مراد چالیس سال کی عمر ہے۔
2۔ ابن ابی الدنیا میں فی کتاب المعمرین کلبی عن ابی صالح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولما بلغ اشدہ واستوی میں اشدہ سے مراد اٹھارہ سال کی عمر سے تیس سال کی عمر ہے آیت واستوی سے مراد تیس سال کی عمر سے چالیس سال کی عمر ہے جب وہ چالیس سال کی عمر سے بڑھ جاتا ہے تو وہ نقصان میں پڑجاتا ہے۔
3۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا…
Read the full tafseer →وَلَمَّا [ اور جب ] بَلَغَ [ وہ (موسیٰ (علیہ السلام) ) پہنچے ] اَشُدَّهٗ [ اپنی پختگی کو ] وَاسْتَوٰٓى [ اور (عمر میں) برابر ہوئے ] اٰتَيْنٰهُ [ تو ہم نے دی ان (علیہ السلام) کو ] حُكْمًا وَّعِلْمًا ۭ [ حکمت اور علم ] وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] نَجْزِي [ ہم بدلہ دیتے ہیں ] الْمُحْسِنِيْنَ [ خوب کاروں کو
نوٹ۔ ا : اشدکا مطلب قوت کی انتہا پر پہنچنا ہے ۔ انسان بچپن کے ضعف سے تدریجاً قوت کی طرف بڑھتا ہے ۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کے وجود میں جتنی قوت آسکتی تھی ، وہ پوری ہوجائے اس وقت کو اشد کہا جاتا ہے ۔ اور یہ زمین کے مختلف خطوں اور قوموں کے مزاج کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے ۔ کسی کا اشد کا…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک شخص کا قتل ہوجانا پھر مصر چھوڑ کر مدین چلے جانا
ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے نکل جانے کا اور اس کے لیے ایک قبطی کے قتل کا بہانہ بن جانے کا ذکر ہے اور چونکہ مصر سے نکل کر مدین تشریف لے گئے تھے اور وہاں سے واپس ہو کر راستہ میں نبوت سے سر فراز کردیئے گئے تھے اس لیے قتل قبطی کے قصہ سے پہلے یہ بیان فرما دیا کہ جب وہ اپنی بھری جوانی کو پہنچ گئے اور صحت اور تندرستی کے اعتبار سے خوب اچھی طرح مضبوط اور ٹھیک ہوگئے تو ہم نے انہیں حکمت اور علم عطا فرما دیا اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے فہم سلیم اور عقل مستقیم مراد ہے۔ جو مدین کو جانے سے پہلے انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–21
تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون
قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں…
Read the full tafseer →15:۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) سن نمو کی انتہا کو پہنچ گئے اور ان کی ذہنی اور جسمانی قوتیں حد کمال کو پہنچ گئیں تو ہم نے ان کو عقل اور علم و فہم کی دولت عطا کی یعنی دین کے معاملات میں گہری سمجھ اور حکمت یعنی صحیح قوت فیصلہ سے سرفراز فرمایا ای الفقہ والعقل والعلم فی الدین فعلم موسیٰ و حکم قبل ان یبعث نبیا (معالم ج 5 ص 138) ۔ بعض نے حکم و علم سے نبوت اور علم نبوت مراد لیا ہے لیکن اس صورت میں ترتیب قصہ میں تقدیم و تاخیر ہوگی کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت مدین سے واپسی پر راستے میں ملی اور قتل قبطی اور سفر مدین وغیرہ واقعات نبوت سے پہلے کے ہیں لیکن پہلی صورت میں تقدیم و تاخیر ماننے کی ضرورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
ربط آیات
اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی قبل از نبوت زندگی کے حالات بیان فرمائے ہیں اور آپ پر کیے گئے بعض انعامات کا ذکر کیا ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ہی نامساعد حالات میں ہوئی جب کہ فرعون اسرائیلیوں کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کروا دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی فرمائی کہ فرعون کے دشمن موسیٰ (علیہ السلام) کی کسی کے گھر میں شاہانہ طریقہ پر پرورش فرمائی۔ پہلے اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی برآمدگی کے بعد آپ کی رضاعت کا واقعہ بیان کیا ہے کہ کس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے آپ کا پیچھا کیا اور پھر رضاعت کے لیے اپنی ماں کا پتہ بتایا ۔ اس طرح موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَاسْتَوٰٓى اٰتَيْنٰہُ حُكْمًا وَّعِلْمًا 0ۭ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِـنِيْنَ 14
بلغ
البُلُوغ والبَلَاغ : الانتهاء إلى أقصی المقصد والمنتهى، مکانا کان أو زمانا، أو أمرا من الأمور المقدّرة، وربما يعبّر به عن المشارفة عليه وإن لم ينته إليه، فمن الانتهاء : بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ الأحقاف/ 15]
( ب ل غ ) البلوغ
والبلاغ ( ن ) کے معنی مقصد اور متبٰی کے آخری حد تک پہنچے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ مقصد کوئی مقام ہو یا زمانہ یا اندازہ کئے ہوئے امور میں سے کوئی امر ہو ۔ مگر کبھی محض قریب تک پہنچ جانے پر بھی بولا جاتا ہے گو انتہا تک نہ بھی پہنچا ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
ترکیب : اتینہ جواب لما علی حین غفلۃ حال من المدینتہ ویجوزان یکون حالاً من الفاعل ای محتلساً ۔ ھذا من الخ الجملتان فی موضع نصب صفۃ لرجلین بما انعمت الباء للقسم والجواب محذوف دل علیہ فلن اکون ویمکن ان یکون المعنی بحق انعامک علی اعصمنی خائفًا حال من فاعل اصبح یترقب بدل منھا اوتاکید لہا یسعی صفۃ اخزی الرجل او حال والایتمارا التشاور لان کل واحد من المتش اور یں یامرصاحبہ بشی ئٍ او یشیر علیہ بامر۔
تفسیر : الغرض موسیٰ ( علیہ السلام) جب بھرپور جوان ہوگئے تو خدا نے ان کو حکم یعنی دانائی اور حکمت دی اور علم عطاء کیا۔ نیک و صالح اور باخدا اٹھے، لیکن ہنور نبوت نہیں عطا ہوئی تھی۔ بعض کہتے ہیں اشد اور…
Read the full tafseer →وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَاسْتَوٰٓی اٰ تَیْنٰـہُ حُکْمًا وَّ عِلْمًا ط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔
(القصص : 14)
(جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنے شباب کو پہنچ گئے اور ان کی نشو و نما مکمل ہوگئی تو ہم نے انھیں حکم اور علم عطا فرمایا اور ہم خوبکاروں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جوانی
دودھ پینے کی عمر اور ابتدائی تربیت کا زمانہ اپنی والدہ کے پاس گزارنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے محل میں منتقل کردیئے گئے۔ وہیں لڑکپن اور عنفوانِ شباب کا زمانہ گزرا۔ دینی احساسات ماں کے دودھ کے ساتھ آپ کے اندر منتقل ہوئے اور ابتدائی تربیت میں یہی احساسات اعتقاداتِ صالحہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کے ہاں جوان ہونا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں علم و حکمت عطا کیا جانا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت فرعون کے ہاں پہنچایا۔ جس میں بڑی بڑی تین حکمتیں پنہاں تھیں۔
1۔ لوگوں کو معلوم ہو کہ علم نجوم کی کوئی حیثیت نہیں اور اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی غیب کا علم نہیں جانتا۔ اگر علم نجوم کی کوئی حقیقت ہوتی تو فرعون کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ یہ وہی بچہ ہے جس کے لیے میں ہزاروں بچوں کا قتل عام کروا چکا ہوں۔ ظاہر ہے کہ معلوم ہونے کی صورت میں وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو فوری طور پر قتل کردیتا۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی…
Read the full tafseer →14: وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ (جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) طاقت کی انتہاء کو پہنچے اور تکمیل قوت عقلیہ ہوچکی۔ اشُدٌّ۔ جمع شدۃ کی ہے جیسا نِعْمَۃ و اَنْعُمٌ۔ عند سیبویہ۔ وَاسْتَوٰٓی (اور درست ہوگئے) ۔ اعتدال کو پہنچ گئے اور ان کا عقلی استحکام ہوچکا۔ یہ چالیس سال کی عمر ہے۔ روایت کیا جاتا ہے کہ ہر پیغمبر کو چالیس سال کی انتہاء پر پیغمبر بنایا گیا۔
ٰاتَیْنٰہُ حُکْمًا وَّ عِلْمًا (اور ہم نے ان کو حکم و علم عنایت فرمایا) ۔ حکم سے نبوت اور علم سے سمجھ یا مصالح دارین کا علم عنایت فرمایا۔ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ (اور ہم اخلاص برتنے والوں کو اسی طرح بدلا دیا کرتے ہیں) ۔…
Read the full tafseer →14۔ ولمابلغ اشدہ، ، کلبی کا بیان ہے کہ اشد کہتے ہیں کہ 18 سے 30 سال کی عمر تک مجاہد وغیرہ کا قول ہے کہ اس سے مراد 33 سال کی عمر اشدہ ہے۔ واستوی ، جب ان کی عمر چالیس سال کی ہوگئی۔ یہی سعید بن جبیرابن عباس ؓ عنہماکے حوالے سے نقل کرتے ہیں، بعض حضرات کے نزدیک استوی کا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنی جوانی کی انتہاء کو پہنچ گئے۔ اتیناہ حکما وعلما، اس سے مراد سمجھ ، عقل و دانش اور دین کا علم ہے ، وکذالک نجزی المحسنین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–26
14 تا 26۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھر پرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم اور سمجھ دونوں عنایت کئے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے نکل کر مدین میں پہنچنے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے ہوئے دیکھا جن میں ایک ان کے گروہ میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے حین غفلۃ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ دوپہر کا وقت تھا اسرائیل نے فریاد کی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →16{ اشد } اور { استوی } کا معنیٰ و مطلب ؟ : سو { اشد } جمع ہے " شدۃ " کی بمعنیٰ " قوۃ " جیسا کہ " انعم " جمع ہے " نعمۃ " کی۔ (المراغی، التحریر لابن عاشور (رح) وغیرہ) ۔ یعنی جب موسیٰ اپنی جوانی کی بھرپور قوتوں کو پہنچ گئے اور عقل و فکر کے اعتبار سے کامل و برابر ہوگئے۔ سو " اشد " سے مراد جوانی کی عمر اور اس کے ساتھ " استوی " سے مراد ہے عقلی، فکری اور مزاجی اعتبار سے اعتدال اور توازن کی عمر کو پہنچ جانا۔ کیونکہ صرف جوانی بجائے خود کوئی بڑی چیز نہیں جب تک کہ اس کے ساتھ عقلی، فکری اور مزاجی اعتدال کا جمال شامل نہ ہو۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جب موسیٰ اپنی عمر کے اس حصے کو پہنچے تو آپ کو حکم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
ظلم کے خلاف جہاد ہجرت اور مدین میں قیام
تشریح : جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوئے تو بڑے خوبصورت پڑھے لکھے باشعور ‘ پاکیزہ ‘ نیک ‘ نرم دل ‘ متقی اور پرہیزگار جوان تھے۔ ملک میں چاروں طرف پھیلا ہوا ظلم و ستم ان کو کسی صورت بھی اچھا نہ لگتا تھا۔ کیونکہ اس وقت کے حاکم اور وزراء کی پالیسی یہ تھی کہ رعایا کی بجائے اپنے تاج و تخت کی زیادہ فکر کی جائے تو اس کے لیے ان کو یہ پالیسی زیادہ پسند تھی کہ رعایا کو آپس میں کسی نہ کسی طرح لڑائے رکھو تاکہ وہ حکمرانوں کی زیادتیوں کی طرف نہ متوجہ ہوں اور نہ ہی احتجاج کریں بس آپس میں ہی لڑتے مرتے رہیں۔ اس لیے ملک میں امن وامان نام کی کوئی چیز نہ تھی اور خاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
آیات 14 تا 21
اسرارو معارف
جب موسیٰ (علیہ السلام) جوانی کو پہنچے تو وہ بہت سمجھدار اور باعلم تھے ہم نے انہیں علم و احکمت کہ فطرت سلیمہ قبل از بعثت نبی کو نصیب ہوتی ہے عطا فرمائی۔ اور نیکی کے کرنے والے مخلص لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا جاتا ہے۔
نیکی سے دنیا کے امور کو سمجھنے کی استعداد بھی زیادہ ہوجاتی ہے :
یہ ثابت ہوا کہ خلوص کے ساتھ نیک اعمال کرنے سے دنیا کے معاملات کو بہتر سمجھنے کی صلاحیت عطا ہوتی ہے ہمارے ہاں جو نیک لوگوں کے زیادہ بھولے ہونے کی بات ہے تو غالبا یہاں نیکی صرف عبادت کو سمجھ لیا گیا ہے جبکہ نیکی سے مراد عبادت اور پوری عملی زندگی میں بھرپور حصہ لینا ہے۔ اللہ کرے ہمارے عبادت گزار…
Read the full tafseer →9 ۔ عموماً جوانی کی کم سے کم عمر 18 سال، اور زیادہ سے زیادہ 34 سال شمار ہوتی ہے۔ (شوکانی) مگر قرآن میں چالیس برس مذکور ہیں۔ دیکھئے احقاف :15 ۔
Read the full tafseer →(28:14) اشدہ۔ مضاف، مجاف الیہ۔ اس کا زور جوانی۔ اس کا پورا زور۔ اشد یشد (افعال) شد مادہ۔ عقل یا عمر کی پختگی کو پہنچنا۔ الاشدوا الاشد پورا جوبن۔ پورا زور۔ بلغ فلان اشدہ وہ سن بلوغ کو پہنچا۔ وہ جوانی کی عمر تک پہنچا وہ اپنے شباب کو پہنچا۔ شدید جمع اشداء وشداد وشدود۔ بہادر۔ قوی ۔ مضبوط
استوی۔ نشو و نما میں بہمہ وجوہ مکمل ہوگیا۔ اپنی ہر صفت میں تکمیل و اعتدال کی اس حد تک پہنچ جانا۔ تاکہ مکمل اطمینان و قرار و دل جمعی حاصل ہوجائے۔
حکما۔ حکمت (یعنی نبوت) وعلما (دین و شریعت کا) علم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 17
بلغ (پہنچ گیا) ‘ اشد (قوت۔ جوانی) ‘ استوی (پورا ہوگیا۔ برابر ہوا) ‘ رجلین (رجل) دو مرد ‘ استغاث (اس نے فریاد کی) ‘ وکز ( مکامارا۔ گھونسا مارا) ‘ قضیٰ (پورا ہوگیا) ‘ ظھیر (مدد گار۔ مدد کرنے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 14 تا 17 :
اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی ذرا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ارشاد فرمایا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پچیس تیس سال کے کڑیل جوان یعنی جسمانی ‘ عقلی اور قلبی اعتبار سے متوازن شخصیت بنکر ابھرے تو شاہی محل میں پرورش پانے کیوجہ سے چہرے پر رعب اور گفتگو میں ایک خاص وقار جھلکتا نظر آتا تھا۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک فرعونی کو مارڈالنے کا ذکر۔
(ف 1) جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کانابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھرپرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو قوت جسمانیہ وعقلیہ دونوں عنایت کیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے مصر سے نکل کر مدین میں جانے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے دیکھا جس میں ایک اسرائیلی تھا اور دوسرے ایک فرعونی تھا اسرائیلی نے حضرت موسیٰ سے فریاد کی موسیٰ نے فرعونی کے ایک گھونسا مارا جس سے وہ فرعون مرگیا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
[7] حکم سے مراد حکمت اور دانائی اور علم سے مراد دینی و دنیوی علوم۔
Read the full tafseer →ف 2: یعنی موسیٰ (علیہ السلام) جب جوان ہوئے تو ہم نے انہیں علم بخشا ۔ اور پیغمبرانہ سوجھ بوجھ عنایت فرمائی وکذالک نجزی المحسنین سے غرض یہ ہے کہ جو لوگ نیک اور صالح ہوں ۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ان کے علم اور حکمت میں اضافہ کرتا رہتا ہے ۔
حل لغات اشدہ ۔ قوت ۔ توانائی ۔ جوانی ۔
Read the full tafseer →14۔ اور جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی جوانی کو پہنچا اور شباب کے کمال کو پہنچ گیا تو ہم نے اس کو حکمت و دانش عطا فرمایا اور فہم صحیح اور علم عطا کیا اور ہم نیک روش اختیار کرنیوالوں کو ایساہی صلہ عطا کیا کرتے ہیں ۔ یعنی بھر پور جوانی لفظ اشد کو کہتے ہیں کہ سترہ سال کی عمر سے تیس سال تک ہے اور استوی تیس سے لیکر چالیس سال کی عمر تک کو کہتے ہیں ۔ بہر حال ! جب جوانی آئی اور جسمانی قوی درست اور مستحکم ہوئے تو حضر ت حق تعالیٰ کی طرف سے علم و حکمت عطا ہوئے اور آخر میں فرمایا ہمارا عام قاعدہ یہی ہے کہ نیکو کاروں کو اسی قسم کا صلہ اور بدلا دیا کرتے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
ف 4۔ یعنی نبوت سے پہلے ہی فہم سلیم و عقل مستقیم جس سے حسن و قبح میں امتیاز کرسکیں عنایت فرمائی۔
5۔ اس میں اشارہ ہے کہ فرعون کے مشرب کو موسیٰ (علیہ السلام) نے کبھی اختیار نہ کیا تھا بلکہ اس سے نفور رہے۔
Read the full tafseer →موسیٰ کا بچپن نکل گیا اور اب وہ بلوغت کو پہنچا اور اللہ نے علم و حکمت سے اسے نوازا :
14۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کا بچپن نہایت ناز ونعمت اور آسائش و آرام کے ساتھ گزرا والدین کی گود میں بھی رہا اور شاہی مزاج کے مطابق پرورش بھی پائی اور ہوتے ہوتے وہ اب ماشاء اللہ جوان ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے عقل وفکر بھی وافر عطا کیا تھا اور ماحول بھی بہت بہتر عطا کیا اور شہزادگی میں کا بچپن گزر گیا اور اب وہ ہر لحاظ سے جوان تھا عمر کا لحاظ سے بھی ‘ قوت کے لحاظ سے بھی اور عقل وفکر کے لحاظ سے بھی اور اس طرح وہ خوب کار ہوگیا جس طرح لوگ خوب کار ہوتے ہیں اور اس کی ساری سوئی ہوئی قوتیں بیدار ہونے لگیں اور اب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
Commentary
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَىٰ (And when he reached his maturity and became perfect - 28:14). The literal meaning of 'ashudd (أَشُدَّ ) is to attain the peak of strength or intensity. For instance a person gradually develops from the position of juvenile weakness to the strength of adulthood. A time comes when he has attained full strength and vigour that he could achieve. That point in life is called أَشُدَّ 'ashudd. In different parts of the world and for different people this point in life varies according to climate, character of the land, race etc. Some people attain it…
Read the full tafseer →18 That is, when he had attained his full mental and physical development. In this connection, different ages of the Prophet Moses have been mentioned in the Jewish traditions. Some say he was 18, others have mentioned 20 years and still others 40 years. According to the New Testament, he was 40 years old. (Acts, 7: 23). But the Qur'an does not mention any age. For the purpose of the incident being mentioned in the following verses, it is enough to know that he had attained his full maturity at that time.
19 Hukum implies wisdom, understanding and power of judgement, and 'llm is both…
Read the full tafseer →