Explained with ayahs 10–13
جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ؟
موسیٰ ؑ کی و الدہ نے جب ان کو صندوقچہ میں ڈال کر دریا میں بہادیا تو بہت پریشان ہوئیں اور سوائے اللہ کے سچے رسول اور اپنے لخت جگر حضرت موسیٰ کے آپ کو کسی اور چیز کا خیال ہی نہ رہا۔ صبر وسکون جاتارہا دل میں بجز حضرت موسیٰ کی یاد کے اور کوئی خیال ہی نہیں آتا تھا۔ اگر اللہ کی طرف سے ان کی دلجمعی نہ کردی جاتی تو وہ تو بےصبری میں راز فاش کردیتیں لوگوں سے کہہ دیتیں کہ اس طرح میرا بچہ ضائع ہوگیا۔ لیکن اللہ نے اس کا دل ٹھہرا دیا ڈھارس دی اور تسکین دے دی کہ تیرا بچہ تجھے ضرور ملے گا۔ والدہ موسیٰ نے اپنی بڑی بچی سے جو ذرا سمجھ دار تھیں فرمایا کہ بیٹی تم اس صندوق پر نظر جماکر…
Read the full tafseer →سورة القصص 16
بائیبل اور تلمود سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کا نام " موسیٰ " فرعون کے گھر میں رکھا گیا تھا۔ یہ عبرانی زبان کا نہیں بلکہ قبطی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں " میں نے اسے پانی سے نکالا " قدیم مصری زبان سے بھی حضرت موسیٰ کے نام کی یہ تخریج صحیح ثابت ہوتی ہے۔ اس زبان میں " مو " پانی کو کہتے تھے اور " اوشے " کا مطلب تھا " بچایا ہوا "۔
سورة القصص 17
اور اللہ کی اس حکیمانہ تدبیر کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ حضرت موسیٰ فی الواقع فرعون کے شاہزادے نہ بن سکے بلکہ اپنے ہی ماں باپ اور بہن بھائیوں میں پرورش پاکر انہیں اپنی اصلیت اچھی طرح معلوم ہوگئی۔ اپنی خاندانی روایات سے اپنے آبائی مذہب سے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى، وحی کا لفظ اس جگہ لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے، وحی نبوت مراد نہیں اس کی تحقیق سورة طہ میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ کا اپنی ماں کے آغوش میں ا صل نکتہ :
اس تدبیر سے خدائے کار ساز و کرم نے حضرت موسیٰ کو دریا سے نکلوایا اور پھر ان کو ان کی ماں کی گود میں پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کا غم دور ہوجائے۔
ولتعلم ان وعد اللہ حق ولکن اکثر ھم لایعلمون یہ اس وعدے کے ایفاء کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر اوپر آیت 7 میں گزرا کہ تم بچے کو بےخوف و خطر دریا میں ڈال دینا، ہم اس کی حفاظت کریں گے اور اس کو پھر تم سے ملائیں گے۔ فرمایا کہ اس طرح ہم نے اس کو دکھا دیا کہ ہم جو وعدہ کرتے ہیں خواہ اس کا ایفا بظاہر کتنا ہی مستبعد کیوں نہ نظر آئے لیکن ہم اس کو پورا کر کے رہتے ہیں اور ہماری تدبیر کبھی ناکام نہیں…
Read the full tafseer →13-1جب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی والدہ کا دودھ پی لیا، تو فرعون نے والدہ موسیٰ سے محل میں رہنے کی استداعا کی تاکہ بچے کو صحیح پرورش اور نہگداشت ہو سکے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ میں اپنے خاوند اور بچوں کو چھوڑ کر یہاں نہیں رہ سکتی۔ بالآخر یہ طے پایا کہ بچے کو وہ اپنے ساتھ ہی گھر میں لے جائیں اور وہیں اس کی پرورش کریں اور اس کی اجرت انھیں شاہی خزانے سے دی جائے گی، سبحان اللہ ! اللہ کی قدرت کے کیا کہنے، دودھ اپنے بچے کو پلائیں اور تنخواہ فرعون سے وصول کریں، رب نے موسیٰ ؑ کو واپس لوٹانے کا وعدہ کس احسن طریقے سے پورا فرمایا۔ ایک مرسل روایت میں ہے۔ اس کاریگر کی مثال جو اپنی بنائی ہوئی چیز میں ثواب اور خیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
4: فرعون کی اہلیہ نے جب بچے کو پالنے کا ارادہ کرلیا تو ان کو دودھ پلانے والی کی تلاش شروع ہوئی، لیکن حضرت موسیٰ ؑ کسی بھی عورت کا دودھ منہ میں نہیں لیتے تھے۔ حضرت آسیہ نے اپنی کنیزیں بھیجیں کہ وہ کوئی ایسی عورت تلاش کریں جس کا دودھ یہ قبول کرلیں۔ ادھر حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ بچے کو دریا میں ڈالنے کے بعد بےچین تھیں۔ انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی بہن کو دیکھنے کے لیے بھیجا کہ بچہ کا انجام کیا ہوا ؟ یہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے اسی جگہ پہنچ گئیں، جہاں فرعون کی کنیزیں پریشانی کے عالم میں دودھ پلانے والی عورتوں کو تلاش کر رہی تھیں۔ ان کو موقع مل گیا، اور انہوں نے اپنی والدہ کو یہ خدمت سونپنے کی تجویز پیش کی، اور…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے ان مناظر کے بعد اب سیاق کلام کے اندر کئی سالوں کا وقفہ ہے۔ قصے کا اگلا حصہ آپ کے شباب کے زمانے سے متعلق ہے۔ جب حضرت موسیٰ کو دودھ پلانے کے لیے ان کی ماں کے حوالے کردیا گیا تو اس کے بعد کیا حالات پیش آئے ، اس کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔ قصر فرعون کے اندر آپ کے شب و روز کیسے رہے اور یہ کہ زمانہ رضاعت کے اختتام کے بعد اپنی ماں کے ساتھ اس کا رابطہ کیسے تھا۔ یہ کہ بلوغ اور شباب کے بعد قصر شاہی میں آپ کا مقام و مرتبہ کیا تھا۔ آپ کا عقیدہ کیا تھا۔ بہرحال وہ فرعون اور اس کے کاہنوں کے درمیان باری تعالیٰ کی نگرانی میں تیار ہو رہے تھے تاکہ وہ اپنا فریضہ ادا کریں۔ اس…
Read the full tafseer →1 یعنی (اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ) 28 ۔ القصص :7) میں جو دو وعدے کیے تھے ایک تو آنکھوں سے دیکھ لیا کس حیرت انگیز طریقہ سے پورا ہو کر رہا۔ اور دوسرے کو اسی پر قیاس کرنے کا موقع ملا کہ بلاشبہ وہ بھی اپنے وقت پر پورا ہو کر رہے گا۔
2 یعنی وعدہ اللہ کا پہنچ کر رہتا ہے۔ ہاں بیچ میں بڑے بڑے پھیر پڑجاتے ہیں۔ اس میں بہت لوگ بےیقین ہونے لگتے ہیں (موضح)
Read the full tafseer →وَلَا تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ ”
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم تمہارے بیٹے کو تمہارے پاس واپس لے آئیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ اس حوالے سے اسے اطمینان دلانا چاہتا تھا کہ اس نے وہ وعدہ سچ کر دکھایا ہے۔
Read the full tafseer →19 ام موسیٰ کو وہاں محل میں رہ کر بچہ کی پرورش کے لئے کہا گیا تو اس نے یہ عذر پیش کردیا کہ گھر کی دیکھ بھال بھی اس کے ذمہ ہے۔ لہذا یہ یہاں رہ کر یہ خدمت سرانجام نہیں دے سکتی۔ البتہ یہ کرسکتی ہوں کہ اس بچے کو اپنے ہمراہ لے جاؤں اور اس کی پرورش کروں۔ چناچہ آل فرعون نے ام موسیٰ کا یہ عذر قبول کرلیا وہ بچہ کو اپنے گھر لے آئی۔ اس طرح حضرت موسیٰ صرف آغوش مادری میں ہی نہ پہنچے بلکہ اپنے گھر میں ہی واپس آگئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ام موسیٰ سے جو وعدہ کیا تھا۔ وہ بھی پورا ہوا اور شاہی خزانہ سے جو ماں کو معاوضہ ملتا رہا وہ اللہ تعالیٰ کا زائد انعام تھا۔
20 یعنی اللہ کے کئے ہوئے وعدے بہرحال پورے ہو کے…
Read the full tafseer →14۔ (مشاہدہ ومعائنہ کے مرتبہ میں) (آیت) ” فرددنہ “۔ یعنی واپس پہنچا دیا، اپنے وعدہ کے مطابق۔ (آیت) ” تقرعینھا “۔ یعنی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اپنی اولاد کو دیکھ کر۔ اور یہ جو بعض روایات میں آیا ہے کہ والدہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس ارضاع کی اجرت بھی لی تھی تو اپنے کو اجنبی اور انجان ظاہر کرنے کے بعد بھی بالکل قرین قیاس یہی ہے۔ رہا اس پر یہ فقہی شبہ کہ واجب پر تو اجرت جائز ہی نہیں۔ سو اس کے متعدد جوابات ممکن ہیں۔ اول تو یہ کیا ضرور ہے کہ فقہ اسرائیلی میں بھی یہ جزئیہ موجود ہو۔ اور پھر حربی کا مال اس کی رضا مندی سے لینا، خواہ کسی طریق سے بھی ہو، ہماری شریعت میں بھی جائز ہے۔ ان کے علاوہ یہاں ضرورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
آیت نمبر 1 تا 13
ترجمہ : طٓسمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے یہ آیات مبین کی آیات ہیں آیات الکتاب میں اضافت بمعنی من اور مبین سے حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی آیات ہیں ہم آپ کے سامنے موسیٰ و فرعون کا صحیح واقعہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں (یعنی) مومنین کے لئے اس لئے کہ وہی اس قصہ سے استفادہ کرتے ہیں یقیناً فرعون نے سرزمین مصر میں سرکشی کر رکھی تھی اور مصر کے باشندوں کو اپنی خدمت کے لئے فرقوں میں تقسیم کر رکھا تھا ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا اور وہ بنی اسرائیل تھے ان کے نومود لڑکوں کو قتل کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا…
Read the full tafseer →فردونہ الی امہ . پس ہم نے موسیٰ کو ان کی ماں کی طرف لوٹا دیا۔
اس سے پہلے کا کلام محذوف ہے (رفتار عبارت سے سمجھ میں آجاتا ہے اس لئے ذکر کرنے کی ضرورت نہ تھی) پور اکلام اس طرح تھا کہ لوگوں نے حضرت موسیٰ کی بہن سے کہا : بتا وہ کون عورت ہے ؟ موسیٰ کی بہن نے اپنی ماں کا پتہ بتایا۔ لوتوں نے کہا : اپنی ماں کو بلا لا۔ وہ جا کر ماں کو لے آئی۔ لوگوں نے موسیٰ کی ماں کی گود میں بچہ کو رکھ دیا۔ ماں نے دودھ پیا تو بچہ نے پی لیا۔ لوگوں نے بچہ کو موسیٰ کی ماں کے سپرد کردیا اس طرح ہم موسیٰ کو ماں کے پاس واپس لے آئے۔
کی تقرعینھا . تاکہ (موسیٰ کی واپسی سے) ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہو۔
ولا تحزن . اور وہ (موسیٰ کے فراق…
Read the full tafseer →(13) چناچہ ان لوگوں نے ایسے گھرانے کا پتا پوچھا انہوں نے اپنی ماں کا پتا بتا دیا غرض کہ اس طرح ہم نے موسیٰ ؑ کو ان کی والدہ کے پاس پہنچا دیا تاکہ حضرت موسیٰ ؑ کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور حضرت موسیٰ ؑ کے غم میں نہ رہیں اور جان لیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہوتا ہے کہ اپنے وعدہ کے مطابق حضرت موسیٰ ؑ کو پھر ان کے پاس پہنچا دیا مگر خاص طور پر یہ مصری اس چیز کو نہیں سمجھتے اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →فَرَدَدْنٰهُ اِلٰٓى اُمِّهٖ : یعنی ہم نے موسیٰ ؑ کی ماں سے جو وعدہ کیا تھا کہ اسے تمہارے پاس واپس لائیں گے، اتنی دیر ہی میں پورا کردیا جتنی دیر کوئی بچہ ماں کے دودھ کے بغیر گزار سکتا ہے۔
كَيْ تَــقَرَّ عَيْنُهَا : ”قَرَّ یَقِرُّ (ض، ع) قُرَّۃً وَ قُرُوْرًا“ ”آنکھ کا ٹھنڈا ہونا۔“ تاکہ اس کی آنکھ جو بیٹے کی جدائی میں سکون سے ناآشنا تھی، آنسو بہا بہا کر اور بیدار رہ کر سرخ اور گرم ہوچکی تھی، بیٹے کے واپس ملنے، اسے دودھ پلانے اور اپنے پاس رکھنے سے ٹھنڈی اور پرسکون ہوجائے اور آرام کی نیند سو جائے اور غم زدہ نہ رہے۔
نکتہ : اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کے اعضا کا درجہ حرارت مختلف رکھا ہے، اس کی جلد کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
واصبح قوادام موسیٰ فرغاً حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری، عکرمہ، قتادہ، ضحاک، ابو عمران جونی اور ابو عبیدہ نے فرغاً کا معنی یہ کیا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کا دل آپ کے ذکر کے سوا دنیا کی ہر شے کے ذکر سے خالی تھا۔ حضرت حسن بصری نے یہ بھی کہا نیز اب ن اسحاق اور ابن زید نے کہ، وہ وحی سے خالی تھی کیونکہ ان کی طرف وحی کی گئی جب اسے حکم دیا گیا کہ وہ اس بچے کو پانی میں پھینک دے وہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ السلام کی ماں سے کیا وہ یہ وعدہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو واپس اس کی طرف لوٹائے گا اور اسے رسولوں میں سے بنائے گا۔ شیطان نے اسے کہا، اے موسیٰ کی ماں !…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
1۔ الفریابی وابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن عباس ؓ نے فرمایا آیت وحرمنا علیہ المراضع من قبل یعنی کوئی دودھ پلانے والی نہ لائی جاتی جسے آپ قبول کرتے۔
2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر مجاہد رحمۃ اللہ علہ سے روایت کیا کہ آیت وحرمنا علیہ المراضع من قبل یعنی کسی عورت کی چھاتی کو آپ نے قبول نہیں کیا یہاں تک کہ وہ اپنی ماں کی طرف لوٹ آئے۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ جب اس کی بہن نے کہا آیت ہل ادلکم علی اہل بیت یکفلونہ لکم وہم لہ نصحون کیا میں تم کو ایسے گھرانے کا بتاؤں جو تماہرے لیے اس بچے کی پرورش کریں اور اس کی خیر خواہی کرتے رہیں تو لوگوں نے کہا کہ تو اس…
Read the full tafseer →فَرَدَدْنٰهُ [ تو ہم نے واپس کیا ان (علیہ السلام) کو ] اِلٰٓى اُمِّهٖ [ ان کی والدہ کی طرف ] كَيْ [ تاکہ ] تَــقَرَّ [ ٹھنڈی ہو ] عَيْنُهَا [ ان کی آنکھ ] وَلَا تَحْزَنَ [ اور وہ غمگین نہ ہوں ] وَلِتَعْلَمَ [ اور تاکہ وہ جان لیں ] اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ [ کہ اللہ کا وعدہ ] حَقٌّ [ حق ہے ] وَّلٰكِنَّ [ اور لیکن ] اَكْثَرَهُمْ [ ان کے اکثر ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ جانتے نہیں ہیں
] نوٹ۔ ا : وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ یہ اصل نکتہ کی بات ارشاد ہوئی ہے کہ اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے اور اس کی تد بیر کبھی نا کام نہیں ہوتی ۔ اکثر لوگ خدا کے وعدوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
(فَرَدَدْنٰہُ الآی اُمِّہٖ ) (الآیۃ) سو ہم نے موسیٰ کو ان کی والدہ کی طرف لوٹا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور بچہ کی جدائی سے غمگین نہ ہوں اور تاکہ اس بات کا اور زیادہ یقین کرلیں کہ اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کس کس طرح اپنے بندوں کے ساتھ رحم کا معاملہ فرماتا ہے۔ اور کس کس طرح ظالموں کو ان کی تدبیروں میں نا کام بناتا ہے۔
فائدہ : یہاں بعض مفسرین نے یہ سوال اٹھایا کہ اپنی اولاد کی پرورش کرنا تو فرض ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اپنے بچہ کی پرورش کرنے اور دودھ پلانے پر اجرت کیسے قبول فرمائی ؟ لیکن قرآن مجید میں اجرت لینے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–21
تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون
قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں…
Read the full tafseer →14:۔ فاء فصیحہ ہے یعنی انہوں نے اس کی بات مان لی اور وہ ان کے کہنے پر اپنی والدہ کو ان کے پاس لے آئی جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی والدہ کی خوشبو سونگھی تو فورًا اس کا دودھ پینا شروع کردیا چناچہ فرعون نے بچے کی پرورش اسی کے حوالے کردی۔ اس طرح ہم نے موسیٰ کو اس کی والدہ کے پاس واپس کردیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور اس کی جدائی کا اسے غم نہ ہو نیز اسے یقین ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ربط آیات
موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد جب آپ کی والدہ نے خطرہ محسوس کیا کہ فرعون کے آدمی اس کو پکڑ کر ذبح کر ڈالیں گے تو الہامی ہدایات کے مطابق اس نے بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دیا ۔ یہ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے قریب سے گزرا تو فرعون کے گھر والوں نے اسے نکلوا لیا ، محل میں لا کر جب صندوق کھولا گیا تو اس سے خوبصورت بچہ برآمد ہوا ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ نام بھی اسی مناسبت سے کہ آپ پانی سے برآمد ہوئے موکا معنی پانی اور سی لڑکی کو کہتے ہیں ، گویا لکڑی کے صندوق سے برآمد شدہ۔
موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے
موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اگرچہ…
Read the full tafseer →فَرَدَدْنٰہُ اِلٰٓى اُمِّہٖ كَيْ تَــقَرَّ عَيْنُہَا وَلَا تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 13ۧ
رد
الرَّدُّ : صرف الشیء بذاته، أو بحالة من أحواله، يقال : رَدَدْتُهُ فَارْتَدَّ ، قال تعالی: وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147]
( رد د ) الرد ( ن )
اس کے معنی کسی چیز کو لوٹا دینے کے ہیں خواہ ذات شے کہ لوٹا یا جائے یا اس کی حالتوں میں سے کسی حالت کو محاورہ ہے ۔ رددتہ فارتد میں نے اسے لوٹا یا پس وہ لوٹ آیا ۔ قرآن میں ہے :۔
وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( مگر بکے ) لوگوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
ترکیب : ان ارضعیہ اگر ان مصدر یہ ہے تو یہ اوحینا کا مفعول اور اگر بمعنی ای تفسیر کے لیے تو یہ اوحینا کی تفسیر ہوگی، لیکون والعلام للصیروۃ لا للغرض فارغًا ای خالیا من الصبر و الخوف او مما سواہ یہ اصبح کی خبر فواد ام موسیٰ اسم، ان کا دت ان مخففہ ہے، ثقیلہ سے واسمہا محذوف ای انہا وقیل بمعنی ماجواب لولا محذوف دلَّ علیہ ان کا دت لتکون لام متعلقہ ربطنا عن جنب من مکان بعید اختلاساً ہو فی موضع الحال من الفاعل فی بصرت والمراضع جمع مرضعۃ و یمکن ان یکون جمع مرضع بمعنی مصدر۔
تفسیر : واوحینا یہاں سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ موسیٰ کی ماں کو ہم نے وحی کی یعنی اس کے دل میں القاء کیا…
Read the full tafseer →فَرَدَدْنٰـہُ اِلٰٓی اُمِّہٖ کَیْ تَقَرَّعَیْنُھَا وَلاَ تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ وَّلٰـکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (القصص : 13)
(پس ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو، اور تاکہ وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق اور سچ ہوتا ہے مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کی آغوش میں واپسی اور اس کی حکمتیں
اس سے پہلے ہم پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ موسیٰ کو دریا میں ڈال دیں اور حوصلہ رکھیں، ہم اسے آپ کی آغوش میں لوٹا کے لائیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دائیوں کا دودھ پینے سے انکار۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی والدہ کے سوا دوسری عورتوں کا دودھ نہ پیا۔ جس کا سبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر دوسری دائیوں کا دودھ پینا حرام کردیا تھا۔ دودھ پلانے والی عورتوں نے بہت جتن کیے لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کسی عورت کی چھاتی کو منہ لگانے کے لیے تیار نہ ہوئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے ساتھ الہام کے ذریعے وعدہ کیا تھا کہ اے اُمّ موسیٰ ! غم کرنے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ تیرے لخت جگر کو نہ صرف تیرے پاس لائے گا بلکہ وقت آنے پر اسے الرّسول بنایا جائے گا۔
رب…
Read the full tafseer →13: فَرَدَدْنٰہُ اِلٰٓی اُمِّہٖ کَیْ تَقَرَّ عَیْنُہَا (پس ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی ماں کی طرف لوٹایا تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو) ۔ اس کے ساتھ ٹھہرنے سے۔ وَلَا تَحْزَنَ (اور وہ اس کی جدائی سے غم زدہ نہ ہو) ۔ وَلِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ (اور تاکہ وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے) ۔ یعنی تاکہ اس کو مشاہدہ سے علم ہوجائے جیسا اطلاع سے علم ہوا۔
نحو : ولا تحزن کا عطف تَقَرَّ پر ہے اور ان کی ماں کے لئے وہ دینار حلال ہوگیا جس کو وہ ہر روز لیتی تھیں جیسا کہ سدی نے فرمایا کیونکہ وہ حربی کا مال تھا نہ یہ کہ وہ ان کے دودھ پلانے کی اجرت تھی۔
وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا…
Read the full tafseer →تفسیر۔
13۔ فرددناہ الی امہ کی تقرعینھا، ، موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھیں۔ ولاتحزن تاکہ تو اس پر غمزدہ نہ ہو۔ ولتعلم ان وعداللہ حق، حضرت موسیٰ کو واپس لوٹانے کا وعدہ حق ہے۔ ولکن اکثرھم لایعلمون ، اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ کیا تھا کہ وہ ضرور اس کو آپ کی طرف لوٹائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
10 تا 13۔ اگرچہ بعضے مفسروں نے اس آیت کے معنے یہ کئے ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی ماں کا دل ہر طرح کے غم سے خالی تھا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں پہلے ہی یہ اطمینان الہام کے ذریعہ سے پیدا کردیا تھا کہ ان کا لڑکا دریا میں ڈال دینے سے ضائع نہ ہوگا اور صحیح سلامت پھر ان کے پاس آجائے گا لیکن یہ معنے قرآن شریف کے مطلب کے مخالف ہیں اسی واسطے حافظ ابو جعفرابن جریر نے اس معنے کو ضعیف ٹھہرایا ہے کیوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود یہ فرمایا ہے کہ حضرت موسیٰ کی ماں نے بےقراری کے سبب سے حضرت موسیٰ کی بہن کو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا حال دریافت کرنے کو بھیجا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →15 جہالت و بےعلمی خرابیوں اور محرومیوں کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اکثر لوگ جانتے نہیں "۔ یعنی وہ جانتے نہیں حق اور حقیقت کو۔ اور وہ جانتے نہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی حکمت کی شانوں کو کہ وہ تو بس ظاہر اور مادی پہلوؤں ہی کو دیکھتے پرکھتے ہیں۔ اور وہ اپنے محدود پیمانوں ہی سے دیکھنے اور سوچنے کے عادی ہوتے ہیں اور بس۔ اکثر لوگ اپنی بلادت و سفاہت اور مظاہر پرستی کی بنا پر حق اور حقیقت کو جانتے نہیں۔ اس لیے وہ اپنے خالق ومالک کی ایسی عنایات سے محروم رہتے ہیں۔ وہ خدائی وعدوں کو اور اس طرح کی غیبی باتوں کو محض ہوائی باتیں اور خیالی اور فرضی چیزیں سمجھنے لگتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اور پرورش
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ قرآن پاک میں بار بار آیا ہے۔ سورة کہف میں خضر (علیہ السلام) کے ساتھ آیا ہے پھر سورة طہٰ میں سورة نمل میں اور اب سورة قصص میں کچھ کچھ حصہ ضرورت کے مطابق آیا ہے۔ یہاں تدبیر الٰہی کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ فرعون نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام اسرائیلی نوزائیدہ بچوں کو قتل کردینے کا حکم دے رکھا تھا۔ مگر اللہ کی تدبیر کے سامنے وہ اندھا ہوگیا اور اسی خاص اسرائیلی بچے کو خود پرورش کیا جو اس کا اصل دشمن تھا۔ اور اللہ نے اپنی حکمت اور تدبیر سے اس بچے کو اس کی ماں کے سپرد بھی کروا دیا بلکہ ماں کو دودھ پلانے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
سورة القصص
آیات 1 تا 13
اسرار و معارف
طسم۔ وہ آیات ایسی کتاب کی ہیں جو حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے۔ اور یہاں آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعی اور اس کی حقیقت کا بیان سنایا جائے ا کہ مومنین کو اس سے مزید عبرت حاصل ہو۔ قرآن اگرچہ مخاطب تو ساری انسانیت کو کرتا ہے مگر اس سے فائدہ وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جنہیں ایمان نصیب ہوتا ہے۔
بے شک فرعون اپنی سرزمین میں بہت طاقتور شاہنشاہ تھا اور اس نے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔
لفظ شیعہ :
یہ پہلے بھی گزر چکا کہ شیعہ کا لفظی تر جمہ گروہ ، پارٹی یا جماعت ہے مگر قرآن کریم نے ہمیشہ گمراہ لوگوں کے ٹولہ پر اس کا اطلاق کیا ہے۔ جیسے اس جگہ کہ…
Read the full tafseer →6 ۔ بیچ میں ذکر چھوڑ دیا گیا کہ اس کے بعد فرعون کے گھر والوں نے حضرت موسیٰ کی بہن سے پچھا کہ ” وہ کون گھر والے ہیں ؟ “ اس نے جواب دیا ” میری ماں “” انہوں نے کہا :” اس کے دودھ کہاں سے آیا ؟ وہ بولی ” میرے بھائی ہارون کا دودھ ہے “ آخر اس کی والدہ کو بلایا گیا اور جونہی انہوں نے بچہ کے منہ سے اپنی چھاتی لگائی بچہ خوش ہو کر دودھ پینے لگا۔ پھر وہ بچے کو اپنے گھر لے آئیں اور وہیں رہ کر ان کی پرورش کرنے لگیں۔ اس طرح حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اپنی ماں کے پاس واپس پہنچ گئے۔ (قرطبی) 7 ۔ جو اس نے فرمایا تھا کہ ہم موسیٰ ( علیہ السلام) اور واپس تیرے پاس بھجوا دینگے۔ حدیث میں ہے :” جو شخص اپنی روزی کمانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(28:12) المواضع۔ اگر یہ مرضع کی جمع ہے تو اس کے معنی ہوں گے دودھ پلانے والی دائیاں َ اس صورت میں یہ اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے اور اگر یہ مرضع کی جمع ہے تو یہ اسم ظرف ہے یا مصدر میمی۔ اور معنی ہوں گے چھاتیاں ۔ دودھ پینے کی جگہ۔ یا دودھ پلانا۔ رضع ورضاع ورضاعۃ (ابواب سمع ، ضرب) بچے کا مال کا دودھ پینا۔ اور باب افعال سے ارضاع دودھ پلانا۔ اور باب استفعال سے استرضاع کسی سے دودھ پلوانا۔
وحرمنا علیہ المراضع من قبل : حرم روک لینا۔ منع کرنا۔ اور ہم نے اس سے قبل ہی اس پر دائیوں کا دودھ روک دیا تھا (یعنی وہ پیتے ہی نہ تھے) ۔
من قبل : ای من قبل ان نردھا الی امہ۔ اسے اپنی ماں کے پاس واپس کرنے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 13 :
اوحینا (ہم نے وحی کی) ارضعیہ ( دودھ پلا) ‘ الیم (دریا۔ سمندر) انا رادوہ (بےشک ہم اس کو لوٹا دیں گے) ‘ التقط ( اس نے اٹھالیا) ‘ خطئین ( خطا کرنے والے) ‘ امرأ ۃ (عورت) قرۃ عین (آنکھوں کی ٹھنڈک) اصبح (ہوگیا) فئواد ( دل) فرغ (بےقرار۔ بےچین) ‘ کا دت (قریب ہے) ‘ ربطنا ( ہم نے باندھ دیا) قصی (پیچھے جا) ‘ جنب (دور۔ اجنبیت) ‘ حرمنا ( ہم نے روک دیا) ‘ المراضع (دودھ پلانے والیاں) ھل ادل (کیا میں بتاؤں ) یکفلون (وہ ذمہ داری لیتے ہیں) ‘ کی تقر ( تاکہ ٹھنڈی رہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 7 تا 13 :
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد ان کی والدہ نے ان کو فرعون کی ان جاسوس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
(ف 2) ان کی بہن نے حضرت موسیٰ کو فرعون کے آدمیوں کے پاس دیکھا اور وہ لوگ بیخبر تھے اور ہم نے سب دودھ پلانے والیوں کا دودھ ان پر حرام پہلے سے کردیا اور اس کی طبیعت میں سب کی طرف سے کر اہٹ ڈال دی کہ کسی کا دودھ نہیں پیتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو اپنا وعدہ پورا کرنا تھا، پس حضرت موسیٰ کی بہن نے جس کا نام مریم تھا کہا، کیا میں تم کو ایسی آیا بتاؤں جو اس کو اپنی سپردگی میں رکھیں، اور اس کو دودھ پلانے کے لیے ضامن ہوجائیں اور وہ اس بچہ کی خیرخواہ ہوئے کہ اس کو آرام سے رکھیں، اور دودھ پلانے کی کوتاہی نہ کریں، انہوں نے کہا وہ کون ہے کہاوہ میری ماں ہے وہ اس بچہ کو دودھ پلانے کی ضامن ہوسکتی ہیں پس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
[7] حکم سے مراد حکمت اور دانائی اور علم سے مراد دینی و دنیوی علوم۔
Read the full tafseer →ف 1: ان آیات میں اس بات کا ذکر ہے ۔ کہ جب فرعون کی بیوی نے دیکھا ۔ کہ بچہ مطلقاً دودھ نہیں پیتا ہے تو اس کو تشویش ہوئی ۔ اور اس سوچ میں بھی کہ کیا کیا جائے ۔ بچہ دودھ نہیں پیتا ہے ۔ کہ اتنے میں اس کی بہن کو جو کسی طریق سے محل میں پہنچ گئی ۔ کچھ کہنے کا موقع ملا اس نے کہا کہ میں تم کو ایسے گھر والے بتائے دیتی ہوں ۔ جو اس بچہ کی عمدگی کے ساتھ پرورش کریں گے ۔ اور بچہ ان کے ساتھ زیادہ خوش وخرم رہے گا ۔ ارشاد ہے ۔ اس طریق سے ہم نے ام موسیٰ کی آنکھوں کی ٹھنڈا کیا ۔ اور تسلی دی ۔ تاکہ اس کو معلوم ہو ۔ کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ فرمایا ۔ مگر افسوس ہے ۔ کہ اکثر لوگ اللہ پر بھروسہ نہیں رکھتے ۔ اور یہ…
Read the full tafseer →13۔ غرض ! ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی والدہ کی طرف واپس کردیا اور اس کو اس کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا تا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی جدائی سے آزر دہ خاطر اور غمگین نہہو اور اس بات کا اور زیادہ یقین کرے کہ بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور برحق ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کا یقین نہیں رکھتے ۔
خلاصہ۔ یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کی گود اور ماں کے گھر میں پرورش پاتے رہے کبھی کبھی لے جا کر فرعون کو دکھا آیا کرتیں اس طرح انا رادوہ الیک کا وعدہ پورا ہوگیا ۔ اب آگے ان کے پیغمبر ہونے کا ذکر آئے گا موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو اللہ تعالیٰ کے وعدے کا یقین ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
ف 4۔ یعنی نبوت سے پہلے ہی فہم سلیم و عقل مستقیم جس سے حسن و قبح میں امتیاز کرسکیں عنایت فرمائی۔
5۔ اس میں اشارہ ہے کہ فرعون کے مشرب کو موسیٰ (علیہ السلام) نے کبھی اختیار نہ کیا تھا بلکہ اس سے نفور رہے۔
Read the full tafseer →بچہ کو ہم نے ماں کی طرف لوٹا دیا اور اس طرح وعدہ الہی کی تکمیل ہوگئی :
13۔ اس پروگرام کے مطابق ہم نے بچہ کو ماں کی گود میں واپس دے دیا اور اس طرح صرف اس کی مامتا ہی کو تسکین نہ ہوئی بلکہ بچے کی طرف سے مکمل طور پر مطمئن ہوگئی اور اس کے سارے خطرات بھی ٹل گئے اور ایک سیدہ آسیہ ؓ اور فرعون دونوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار پایا اور وعدہ الہی سکیم الہی کے مطابق من وعن پورا ہوگیا بلاشبہ بیخبر لوگ حقیقت کو نہیں جانتے اور حقیقت کو حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
Commentary
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَىٰ (And when he reached his maturity and became perfect - 28:14). The literal meaning of 'ashudd (أَشُدَّ ) is to attain the peak of strength or intensity. For instance a person gradually develops from the position of juvenile weakness to the strength of adulthood. A time comes when he has attained full strength and vigour that he could achieve. That point in life is called أَشُدَّ 'ashudd. In different parts of the world and for different people this point in life varies according to climate, character of the land, race etc. Some people attain it…
Read the full tafseer →16 According to the Bible and the Talmud, the child was named "Moses" in Pharaoh's house. It is not a Hebrew but a Coptic word, which means, "I drew him out of the water", for in Coptic mo meant water and oshe rescued.
17 Another good thing that resulted from this wise device by Allah was that the Prophet Moses could not become a real prince in Pharaoh's house, but grew up among his own people and became fully aware of his family and community traditions and his ancestral religion. Thus, instead of growing up as a member of Pharaoh's class and people he arose sentimentally and intellectually…
Read the full tafseer →