Explained with ayahs 25–28
حضرت موسیٰ اور شعیب (علیہما السلام) کا معاہدہ
ان دونوں بچیوں کی بکریوں کو جب حضرت موسیٰ ؑ نے پانی پلادیا تو یہ اپنی بکریاں لیکر واپس اپنے گھر گئیں۔ باپ نے دیکھا کہ آج وقت سے پہلے یہ آگئیں ہیں تو دریافت فرمایا کہ آج کیا بات ہے ؟ انہوں نے سچا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ نے اسی وقت ان دونوں میں سے ایک کو بھیجا کہ جاؤ اور ان کو میرے پاس لے آؤ۔ وہ حضرت موسیٰ ؑ کے پاس آئیں اور جس طرح گھر گھر ہست پاک دامن عفیفہ عورتوں کا دستور ہوتا ہے شرم وحیا سے اپنی چادر میں لپٹی ہوئی پردے کے ساتھ چل رہی تھی۔ منہ بھی چادر کے کنارے سے چھپائے ہوئے تھیں پھر اس دانائی اور صداقت کو دیکھئے کہ صرف یہی نہی کہا کہ میرے ابا آپ کو…
Read the full tafseer →سورة القصص 38
یہ بھی ضروری نہیں کہ بیٹی کی بات سنتے ہی باپ نے فورا حضرت موسیٰ سے یہ بات کہہ دی ہو، قیاس چاہتا ہے کہ انہوں نے بیٹی کے مشورے پر غور کرنے کے بعد یہ رائے قائم کی ہوگی کہ آدمی شریف سہی مگر جوان بیٹیوں کے گھر میں ایک جوان، تندرست و توانا آدمی کو یونہی ملازم رکھ چھوڑنا مناسب نہیں ہے۔ جب یہ شریف، تعلیم یافتہ، مہذب اور خاندانی آدمی ہے (جیسا کہ حضرت موسیٰ کا قصہ سن کر انہیں معلوم ہوچکا ہوگا) تو کیوں نہ اسے داماد بنا کر ہی گھر میں رکھا جائے۔ اس رائے پر پہنچنے کے بعد انہوں نے کسی مناسب وقت پر حضرت موسیٰ سے یہ بات کہی ہوگی۔
یہاں پھر بنی اسرائیل کی ایک کرم فرمائی ملاحظہ ہو جو انہوں نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
کوئی ملازمت یا عہدہ سپرد کرنے کے لئے اہم شرطیں دو ہیں
حضرت شعیب ؑ کی صاحبزادی کی زبان پر اللہ تعالیٰ نے بڑی حکمت کی بات جاری فرمائی۔ آج کل سرکاری عہدوں اور ملازمتوں کے لئے کام کی صلاحیت اور ڈگریوں کو تو دیکھا جاتا ہے مگر دیانت و امانت کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ عام دفتروں اور عہدوں کی کارروائی میں پوری کامیابی کے بجائے رشوت خوری، اقرباء پروری وغیرہ کی وجہ سے قانون معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ کاش لوگ اس قرآنی ہدایت کی قدر کریں تو سارا نظام درست ہوجائے۔
قَالَ اِنِّىْٓ اُرِيْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَـتَيَّ هٰتَيْنِ ، یعنی لڑکیوں کے والد حضرت شعیب ؑ نے خود ہی اپنی طرف سے اپنی…
Read the full tafseer →حضرت شعیب کی پیشکش
حضرت شعیب نے حضرت موسیٰ ؑ کے سامنے یہ پیشکش فرمائی کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح اس شرط پر تمہارے ساتھ کر دوں کہ تم آٹھ سال میری خدمت کرو اور اگر تم نے دس سال پورے کردیئے تو یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے میں اس معاملے میں تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا۔ ویسے انشاء اللہ تم مجھے بھلے آدمیوں میں سے پائو گے۔ قرینہ دلیل ہے کہ حضرت شعیب نے یہ پیشکش اشارہ غیبی پر فرمائی ہوگی اور ان کا یہ ارشاد کہ وما ارید ان اشق علیک حضرت موسیٰ ؑ کو معاملہ پر غور کر کے فیصلہ کرنے کے لئے ایک مہلت تھی کہ وہ اس شرط پر اچھی طرح غور کر کے فیصلہ کریں، ان کے دبائو میں آ کر…
Read the full tafseer →27-1ہمارے ملک میں کسی لڑکی والے کی طرف سے نکاح کی خواہش کا اظہار معیوب سمجھا جاتا ہے لیکن شریعت اللہ میں یہ برا نہیں ہے۔ صفات محمودہ کا حامل لڑکا اگر مل جائے تو اسے یا اس کے گھر والوں سے اپنی لڑکی کے لئے رشتے کی بابت بات چیت کرنا برا نہیں ہے۔ بلکہ محمود اور پسندیدہ ہے، عہد رسالت مآب ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی یہی طریقہ تھا۔
27-2اس سے علماء نے اجارے کے جواز پر استدلال کیا ہے یعنی کرائے اور اجرت پر مرد کی خدمات حاصل کرنا جائز ہے
27-3یعنی مزید دو سال کی خدمت میں مشقت اور ایزاء محسوس کریں تو آٹھ سال کے بعد جانے کی اجازت ہوگی۔
27-4نہ جھگڑا کرونگا نہ اذیت پہنچاؤں گا، نہ سختی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
18: اس وقت تو حضرت شعیب ؑ نے دونوں میں سے کسی ایک صاحبزادی کی تعیین نہیں کی، لیکن جب باقاعدہ نکاح ہوا تو متعین کر کے معروف طریقے کے مطابق ہوا۔ اور اجرت پر کام کرنے سے مراد بکریاں چرانا تھا۔ بہت سے فقہاء اور مفسرین نے یہ قرار دیا ہے کہ بکریاں چرانے کو حضرت شعیب ؑ نے اپنی صاحبزادی کا مہر مقرر کیا تھا، لیکن اس پر اول تو یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ آیا بیوی کا کوئی کام کرنا مہر بن سکتا ہے یا نہیں ؟ اس میں فقہاء کا اختلاف ہے، دوسرے یہاں تو بیوی کا نہیں، بلکہ بیوی کے والد کا کام کرنے کا معاہدہ ہوا تھا جو حضرات اس معاہدے کو مہر قرار دیتے ہیں اگرچہ انہوں نے اس اشکال کا بھی جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ لیکن…
Read the full tafseer →قال انی ارید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انشاء اللہ من الصلحین (27)
یوں نہایت ہی سادگی اور بےتکلفی سے اس شخص نے اپنی دو بیٹیوں میں ایک حضرت موسیٰ کے عقد میں دینے کے لیے خود پیش کش کردی۔ شاید یہ وہی لڑکی تھی جس نے تجویز دی تھی اور اس کے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے قلوب کا میلان ایک دوسرے کی طرف تھا۔ اس شخص نے بےتکلفی سے اور براہ راست پیش کش صراحت کے ساتھ کردی۔ کیونکہ یہ پیش کش عقد کے لیے تھی۔ لہٰذا اس میں حجاب محسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ یہ پیش کش اس لیے تھی کہ ایک نیا خاندان وجود میں آجائے۔ اس شخص نے تکلف اور کنایہ و اشارہ میں بات کرنے کا تکلف نہیں کیا۔ ایسے تکلفات اور بناوٹیں ان معاشروں میں ہوتی…
Read the full tafseer →4 شاید یہ ہی خدمت لڑکی کا مہر تھا۔ ہمارے حنفیہ کے ہاں اب بھی اگر بالغہ راضی ہو تو اس طرح کی خدمت اقارب مہر ٹھہر سکتا ہے (کذا نقلہ الشیخ الانور اطال اللہ بقاءہ) یہاں صرف نکاح کی ابتدائی گفتگو مذکور ہے۔ ظاہر ہے حضرت شعیب نے نکاح کرتے وقت ایک لڑکی کی تعیین اور اس کی رضامندی حاصل کرلی ہوگی۔
5 یعنی کم ازکم آٹھ برس میری خدمت میں رہنا ضروری ہوگا۔ اگر دو سال اور زائد رہے تو تمہارا تبرع ہے۔
6 یعنی کوئی سخت خدمت تم سے نہ لوں گا، تم کو میرے پاس رہ کر انشاء اللہ خود تجربہ ہوجائے گا کہ میں بری طبیعت کا آدمی نہیں۔ بلکہ خدا کے فضل سے نیک بخت ہوں، میری صحبت میں تم گھبراؤ گے نہیں، بلکہ مناسبت طبع کی وجہ سے…
Read the full tafseer →آیت 27 قَالَ اِنِّیْٓ اُرِیْدُ اَنْ اُنْکِحَکَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ ہٰتَیْنِ ”
چنانچہ شیخ مدین اپنی بیٹی کے مشورے کی روشنی میں جو ارادہ کرچکے تھے اس بارے میں انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اعتماد میں لینا چاہا کہ وہ اپنی ایک بیٹی ان کے نکاح میں دینا چاہتے ہیں۔
عَلٰٓی اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ ج ”
ممکن ہے اس وقت اس علاقے میں نکاح کے بدلے لڑکے سے معاوضہ لینے کا رواج ہو۔ بہر حال شیخ مدین نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اگر وہ آٹھ سال تک ان کی خدمت کریں ‘ ان کی بھیڑ بکریاں چرائیں اور گھر کے دوسرے کام کاج کریں تو اس کے بدلے میں وہ اپنی ایک بیٹی ان کے نکاح میں دے دیں گے۔
فَاِنْ…
Read the full tafseer →37 باپ نے بھی لڑکیوں کی اس رائے سے اتفاق کرلیا۔ مگر اب مشکل یہ تھی کہ گھر میں اتنی آسودگی تو تھی نہیں کہ موسیٰ کو کچھ ماہوار تنخواہ پر ملازم رکھا جاسکتا۔ اور اس سے بھی بڑی مشکل یہ تھی کہ گھر میں ایک نوجوان کو کیسے ملازم رکھا جاسکتا ہے جبکہ گھر میں دو نوجوان لڑکیاں بھی موجود ہوں۔ لڑکیوں سے باہمی مشورہ کے بعد ایک دن موسیٰ سے پوچھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ میں ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح آپ سے کردوں اور آپ نکاح کے بعد میرے ہی پاس رہ کر گھر کا سارا کام کاج سنبھال لیں۔ اور نکاح کے بعد کم از کم آٹھ سال تو ضرور میرے پاس رہیں۔ اور اگر یہ مدت آٹھ سال سے بڑھا کر دس سال کردیں تو آپ کی مہربانی ہوگی۔…
Read the full tafseer →38۔ (اور اس نوکری کا بدل وہی نکاح ہے) یعنی آٹھ سال کی خدمت اس نکاح کا مہر قرار پایا۔ کسی مدت معینہ تک مویشیوں کی چرائی کا مہر مقرر ہوجانا فقہ اسلامی ظاہر ہے۔ اور اگر باپ کی تھیں تو بالغہ کی رضا سے ایسا معاملہ اس شریعت میں بھی جائز ہے “۔ (تھانوی (رح )
39۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمہاری خوشی ہو تو تم دس برس رہ جانا، اس میں میری طرف سے کوئی جبر یا اصرار نہیں۔ میں تو کام کی تعداد، وقت کی پابندی وغیرہ ہر معا ملہ میں تمہاری سہولت کو مد نظر رکھوں گا۔ مرشدی تھانوی (رح) نے فرمایا کہ نوکری یا مزدوری یا دوسرے اسباب معاش منافی توکل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
آیت نمبر 22 تا 28
ترجمہ : اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے یعنی مدین کی طرف رخ کیا، مدین شعیب (علیہ السلام) کی بستی تھی جو مصر سے آٹھ دن کی مسافت پر واقع تھی، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کے نام سے یہ بستی موسوم تھی، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین کے راستہ سے واقف نہیں تھے تو کہنے لگے مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھے راستے کی رہنمائی فرمائے گا، یعنی سیدھے راستہ یعنی مدین کے متوسط راستہ کی رہنمائی کرے گا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ایک فرشتہ کو بھج دیا جس کے ہاتھ میں نیزہ تھا، تو وہ فرشتہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کی…
Read the full tafseer →قال انی ارید ان انکحک احدی ابنتی ھتین . شعیب نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں لڑکیوں
میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں۔
شعیب جیائی نے کہا کہ ان لڑکیوں کے نام صفورہ اور لَیّا تھے۔ ابن اسحاق نے صفورہ اور شرقا لکھا ہے۔ بعض نے کہا : بڑی صفراء اور چھوٹی صفیراء تھی۔ وہب بن منبہ نے کہا کہ بڑی لڑکی کا موسیٰ سے نکاح کرایا تھا۔ اکثر اہل علم نے کہا : چھوتی سے نکاح کرلیا تھا جس کا نام صفورہ تھا ‘ یہی لڑکی موسیٰ کو بلانے گئی تھی۔ بزار اور طبرانی نے حضرت انس کی روایت سے بھی یہی نقل کیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابوذر کی مرفوع روایت ہے یعنی رسول اللہ نے فرمایا : اگر تم سے دریافت کیا جائے کہ موسیٰ…
Read the full tafseer →(27) فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ سے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ ان دونوں لڑکیوں میں میں سے ایک کی تمہارے ساتھ شادی کر دوں، اس شرط پر کہ تم آٹھ سال تک میری بکریاں چراؤ پھر اگر تم دس سال پورے کر دو تو یہ تمہاری طرف سے احسان ہے اور میں اس دس سال کے پورا کرنے میں تمہیں مجبور کرنا نہیں چاہتا تم مجھے انشاء اللہ خوش معاملہ پاؤ گے۔
Read the full tafseer →قَالَ اِنِّىْٓ اُرِيْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَـتَيَّ هٰتَيْنِ۔۔ : باپ نے بیٹی کی رائے سے اتفاق کرلیا، مگر جوان بیٹیوں کی موجودگی میں ایک غیر محرم مرد کو گھر میں رکھنا مناسب نہیں تھا، اس لیے اس مرد دانا نے فیصلہ کیا کہ ایک بیٹی کا اس صالح جوان کے ساتھ نکاح کر کے اسے مزدور کے طور پر گھر میں رکھ لے۔ چناچہ اس نے موسیٰ ؑ سے کہا : (اِنِّیْ اُرِیْدُ) ”یقیناً میں ارادہ رکھتا ہوں۔“ اہل علم فرماتے ہیں، اس بزرگ نے ”إِنَّ“ کے ساتھ تاکید اس لیے کی کہ عام طور پر لوگ کسی اجنبی جوان کو جو مالی لحاظ سے بھی فقیر ہو، رشتہ دینے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اس لیے اس نے کہا، یقیناً میں ارادہ رکھتا ہوں کہ اپنی ان دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
اس میں تئیس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ ولما ورمآء مدین حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چلتے رہے یہاں تک کہ مدین کے چشمہ پر پہنچے۔ وردمآء سے مراد ہے اس تک پہنچ گئے اس کا یہ مطلب نہیں اس میں داخل ہوگئے ورود کا لفظ بعض اوقات مورد میں داخل ہونے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، بعض اوقات اطلاع پانے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور کبھی پہنچنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اگرچہ اس میں داخل نہ ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے چشمہ پروارد ہونے سے مردا تک پہنچنا ہے۔ اس معنی میں زہیر کا قول ہے :
فلما وردن الماء زرقا جمامہ وضعن عصی الحاضر المتخیم
جب وہ اس چشمہ پروارد ہوئیں جس کا لبالب پانی آسمان کے رنگ جیسا نظر آ رہا تھا۔
یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
1۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھوکے ہونے کی حالت میں ڈرتے ہوئے نکلے ان کے پاس کانے پینے کی کوئی چیز نہ تھی یہاں تک کہ مدین کے چشمہ پر پہنچے اور اس پر لوگوں کی ایک جماعت جانوروں کو پانی پلا رہی تھی۔ اور دو عورتیں اپنی بکریوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں موسیٰ نے ان سے پوچھا کیا مسئلہ ہے آیت قالتا لا نسقی حتی یصدر الرعاء وابونا شیخ کبیر، دونوں عورتوں نے کہا ہم اپنے جانوروں کو اس وقت تک پانی نہیں بلاتیں جب تک چرواہے پانی پلا کر نکال کر نہ لے جائیں اور ہمارے والد بڑے بوڑھے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا کیا تمہارے قریب بھی پانی ہے انہوں نے کہا…
Read the full tafseer →قَالَ [ اس نے (والد) کہا ] اِنِّىْٓ [ بیشک میں ] اُرِيْدُ [ ارادہ کرتا ہوں ] اَنْ اُنْكِحَكَ [ کہ میں آپ (علیہ السلام) کے نکاح میں دوں ] اِحْدَى ابْنَـتَيَّ هٰتَيْنِ [ اپنی ان دو بیٹیوں کی ایک کو ] عَلٰٓي اَنْ [ اس پر کہ ] تَاْجُرَنِيْ [ آپ (علیہ السلام) مزدوری کریں میری ] ثَمٰـنِيَ حِجَجٍ ۚ [ آٹھ سال ] فَاِنْ [ پھر اگر ] اَتْمَمْتَ [ آپ (علیہ السلام) پورا کریں ] عَشْرًا [ دس (سال) فَمِنْ عِنْدِكَ ۚ [ تو وہ آپ (علیہ السلام) کی طرف سے ہے ] وَمَآ اُرِيْدُ [ اور میں نہیں چاہتا ] اَنْ اَشُقَّ [ کہ میں سختی کروں ] عَلَيْكَ ۭ [ آپ (علیہ السلام) پر ] سَتَجِدُنِيْٓ [ آپ (علیہ السلام) پائیں گے مجھ کو…
Read the full tafseer →فائدہ خامسہ : شیخ مدین نے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ میں تم سے اپنی ان دو لڑکیوں میں سے ایک لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب لڑکی نکاح کے قابل ہوجائے اور اس کے مناسب حال رشتہ مل جائے تو اس میں دیر نہ لگائے۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے علی ! تین چیزیں ایسی ہیں جس میں دیر نہ لگائی جائے۔
(1) نماز (جب اس کا وقت ہوجائے)
(2) جنازہ (اس کی نماز اور تدفین) جب حاضر ہوجائے۔
(3) بےشوہر والی عورت (جب تو) اس کے لیے کفو پالے۔ (رواہ الترمذی بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح ص 61)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے پاس کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین کی جانب سفر
قال اللہ تعالیٰ ولما توجہ تلقاء مدین۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علی ما نقول وکیل۔
(ربط) گزشتہ آیت میں اس بات کا ذکر تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک خیر خواہ نے یہ مشورہ دیا کہ آپ فورا مصر سے نکل جائیے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی۔ رب نجنی من القوم الظالمین۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول کی اور ظالموں سے نجات کا ایک ذریعہ بنایا چناچہ وہ مصر سے نکل کھڑے ہوئے راہ سے واقف نہ تھے توکلا علی اللہ ایک سمت پر چل پڑے اور جب بالقاء غیبی شہر مدین کی طرف متوجہ ہوئے اور قضاء وقدر نے وجہ (منہ) کو مدین کی طرف کردیا اور ” مدین “ ایک شہر کا نام ہے جو…
Read the full tafseer →27:۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جب موسیٰ (علیہ السلام) کی قوت اور دیانت و امانت کا علم ہوگیا تو فرمایا میں چاہتا ہوں اگر تو آٹھ برس میری نوکری کرے تو میں ایک بیٹی تیرے نکاح میں دے دوں۔ اگر تو آٹھ کے بجائے دس سال پورے کردے تو یہ تیری طرف سے احسان و تفضل ہوگا اور کام کاج میں میں تجھ پر سختی کرنے اور زیادہ مشقت ڈالنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتا۔ اور انشاء اللہ تو مجھے اس معاملے میں اچھا پائیگا۔ قال ذلک بینی و بینک الخ، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا یہ میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ ہوگیا کہ مجھے اختیار ہے آٹھ سال پورے کروں یا دس سال اور دس سال پورے کرنے کے سلسلے میں مجھ پر دباؤ نہ ڈالا جاسکے گا اور ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ربط آیات
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات زندگی میں سے رسالت کو اس کے بعد کے واقعات تو سورة الشعراء میں بیان ہوئے ہیں ۔ البتہ ابتدائی زندگی کے بیشتر واقعات یہاں اس سورة میں مذکورہ ہیں ۔ ان واقعات کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آمادہ نسلیں انت سے نصیحت حاصل کریں ۔ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ، ان کی پرورش ، پھر آپ کے ہاتھوں ایک قبطی کا قتل ، فرعونیوں کا موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا مشورہ پھر ایک مومن آدمی کا موسیٰ (علیہ السلام) کو مطلع کرنا اور آپ کا مصر سے نکل کر مدین جانا ، وہاں دو عورتوں کی بکریوں کو پانی پلانا اور پھر لڑکیوں کے باپ کا آپ کو اپنے گھر طلب کرنا ، یہ سب واقعات…
Read the full tafseer →قَالَ اِنِّىْٓ اُرِيْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَـتَيَّ ہٰتَيْنِ عَلٰٓي اَنْ تَاْجُرَنِيْ ثَمٰـنِيَ حِجَجٍ 0 ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ 0 ۚ وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَيْكَ 0 ۭ سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللہُ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ 27
رود
والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17]
( ر و د ) الرود
الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
1 ؎ اسی لفظ کی مناسبت سے اس سورة کو سورة قصص کہتے ہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
قَالَ اِنِّیْٓ اُرِیْدُ اَنْ اُنْکِحَکَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ ھٰتَیْنِ عَلٰٓی اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ ج فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِکَ ج وَمَـآ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْکَ ط سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ قَالَ ذٰلِکَ بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ ط اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلاَ عُدْوَانَ عَلَیَّ ط وَاللّٰہُ عَلٰی مَانَقُوْلُ وَکِیْلٌ۔ (القصص : 27، 28)
(میزبان نے) کہا، میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کردوں، اس شرط پر کہ تم آٹھ سال میری ملازمت کرو، اور اگر تم نے دس سال پورے کردیئے تو تمہاری مرضی ہے، میں تم پر مشقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
فہم القرآن
ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کا شعیب (علیہ السلام) کے گھر جانا اور شعیب (علیہ السلام) کا انہیں گھر داماد بنانا۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) نہایت بوڑھے اور ضعیف ہوچکے تھے جس بناء پر ان کی بچیاں ان کی بھیڑ بکریوں کی نگرانی کرتی تھیں۔ ان کی برادری میں کوئی ایسا حیا دار جوان نہ تھا جس پر اعتماد کیا جاسکے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب مالی لحاظ سے کمزور ہوں جس وجہ سے ملازم رکھنے کی گنجائش نہ ہو۔ جونہی موسیٰ (علیہ السلام) کی صورت میں انھیں ایک جوان میسر آیا جو خود بھی ضرورت مند تھا اس لیے اسے گھریلو ملازم رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →27: قَالَ اِنِّیْ اُرِیْدُ اَنْ اُنْکِحَکَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ ہٰتَیْنِ (شعیب (علیہ السلام) نے کہا میں چاہتا ہوں کہ میں ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تم سے کر دوں) ۔ انکحک کا معنی شادی کرنا ہے۔ اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ان کے علاوہ بیٹیاں بھی تھیں۔ یہ ان کی طرف سے وعدہ ہے۔ یہ عقد نکاح نہیں تھا۔ اگر عقد ہوتا تو اس طرح کہتے ہیں۔ قد انکحتک عَلٰٓی اَنْ تَاْجُرَنِیْ (اس شرط پر کہ تو آٹھ سال میری ملازمت کرلے) ۔ تاجر یہ اجرتہ سے ماخوذ ہے جب کسی کے ہاں مزدوری کی جائے۔ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ (آٹھ سال) ۔ یہ تأجر کا ظرف ہے۔ الحجۃ۔ سال کو کہتے ہیں اس کی جمع حجج ہے۔
مسئلہ : بکریاں چرانے پر شادی…
Read the full tafseer →حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹیوں کے نام کے متعلق مختلف اقوال۔
27۔ قال، ، ان کے پاس حضر ت شعیب نے ارشاد فرمایا، انی ارید ان انکحک احدی ابنتی ھاتین، ، ان دونوں میں سے ایک کا نام صفوراء ہے اور دوسری کا نام لیا، ہے ۔ شعیب جبائی کا قول ہے کہ ابن اسحاق نے صفورہ اور شرقا نام ذکرکیے ہیں۔ بعضنے کہا بڑی صفراء اور چھوٹی صفیراء تھی۔ بعض نے کہا کہ بڑی حضرت موسیٰ کے نکاح مین آئی اور اکثر مفسرین کے نزدیک چھوٹی سے آپ کا نکاح ہوا۔ اور اس کا نام صفوراء تھا، یہ وہ عورت تھی جو حضرت موسیٰ کو گھربلانے کے لیے گئی تھی۔ علی ان تاجرنی ثمانی حجج، یہ کہ آپ آٹھ سال ہماری ملازمت کریں۔ فراء کا قول ہے کہ نکاح کے عوض تم آٹھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
27 28۔ علماء مفسرین نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں بڑا اختلاف کئی باتوں میں کیا ہے پہلی یہ کہ مصر سے جاکر جن بزرگ سے مدین میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ملے وہ بزرگ حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے یا دوسرے کوئی شخص تھے دوسرے یہ کہ ان بزرگ کی چھوٹی لڑکی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نکاح ہوا یا بڑی سے دوسرے یہ کہ ان بزرگ سے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ شرط جو ٹھہری تھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان بزرگ کے پاس کم سے کم آٹھ برس رہ کر ان بزرگ کی بکریاں چرائیں اور اگر ہو سکے تو اور دو برس اپنی طرف سے اور اپنی خوشی سے پورے کریں پھر یہ نہیں معلوم ہوا کہ مدین میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–54
شعراء کی دو اقسام
قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
34 حضرت شعیب کی طرف سے حضرت موسیٰ کو ایک اہم پیشکش : یعنی حضرت شعیب کی طرف سے حضرت موسیٰ کو اپنی بیٹی سے نکاح کی پیشکش۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس لڑکی کے باپ نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ میں اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح آپ سے کردینا چاہتا ہوں۔ اس بات کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت موسیٰ کے پہنچتے ہی یہ سب باتیں ہوگئیں جیسا کہ بادی النظر میں خیال ہوتا ہے۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ قرآن پاک چونکہ کتاب ہدایت ہے اس کا مقصد محض تاریخی واقعات کو نقل کرنا نہیں کہ ان کو تفصیل سے اور تاریخی تسلسل کے ساتھ بیان کرے۔ بلکہ اس کا مقصد تو بندوں کو راہ راست دکھانا ہے۔ اس لئے وہ قصوں میں سے انہی حصوں کو منتخب کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–46
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
آیات 22 تا 28
اسرارومعارف
اور جب آپ مصر سے چلے تو آپ کا رخ مدین کی طرف تھا اور دعا کی کہ مجھے رب کریم سے امید ہے کہ درست سمت کی رہنمائی فرمائیں گے اور میں کسی بہتر ٹھکانے پر پہنچ سکوں گا آخر چلتے چلتے آپ مدین کے کنویں پر پہنچ گئے آپ کسی سے واقف نہ تھے دیکھا بہت سے لوگ جمع ہیں اور اپنے مواشی اور ریوڑوں کو پانی پلا رہے ہیں مگر دو نوجوان لڑکیاں الگ سے اپنی بکریاں روکے کھڑی ہیں آپ کو تعجب ہوا تو پوچھ لیا کہ آپ اس طرح ریوڑ کو روک کر کیوں کھڑی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ہم مردوں میں مل کر تو کام نہیں کرسکتیں لہذا انتظار کرتی ہیں جب یہ لوگ اپنے مواشی کو پانی پلا کر چلے جاتے ہیں تو ہم اپنے ریوڑ کو…
Read the full tafseer →9 ۔ کہ خواہ مخواہ دس برس پورے کرے یا سخت سخت کام سرانجام دے۔ معلوم ہوا کہ اجارہ کو صداق (مہر) مقرر کیا جاسکتا ہے۔ احادیث سے بھی یہ ثابت ہے۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(28:27) انکحک۔ انکح مضارع واحد متکلم منصوب (بوجہ عمل ان) ۔ انکاح (افعال) مصدر۔ نکاح میں دینا۔ بیاہ دینا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر (کہ) میں تیرے نکاح میں دے دوں۔
احدی : احد کا مؤنث ہے ایک عورت۔
ابنتی۔ میری دو بیٹیاں۔ ی متکلم کی ہے۔ ابنتی اصل میں ابنتین تھا۔ انبۃ کا تثنیہ۔ یاء متکلم کی طرف اضافت کے سبب نون گرگیا۔ یاء کو یاء میں ادغام کیا ابنتی ہوگیا۔
ھا تین : ھا حرف تنبیہ تین اسم اشارہ تثنیہ مؤنث مجروریہ دونوں عورتیں ۔
علی : ای علی شرط (اس شرط) پر۔
تاجرنی۔ تاجر مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر حاضر۔ اجر یاجر (نصر) اجر مصدر۔ مزدوری دینا۔ یا کسی کی مزدوری کرنا۔ ن وقایہ اور ی ضمیر واحد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
لغات القرآن : آیت نمبر 26 تا 28 :
احدی (ایک) یابت (اے میرے ابا جان) ‘ استاجر (اجرت پر رکھ لے) ‘ انکح ( میں نکاح کرتا ہوں) ھتین (یہ دونوں) ثمنی (آٹھ) حجج ( سال۔ برس) اشق (میں مشکل میں ڈالتا ہوں) ایما (جو بھی) الاجلین (اجل) مدتیں ‘ لاعدوان (کوئی جبر یا زبردستی نہ ہو) ‘ وکیل ( گواہ۔ کام بنانے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا 28 :
جب حضرت موسیٰ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے گھر پہنچے تو ان کی مہمان نوازی کی گئی۔ کچھ دنوں کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دونوں بیٹیوں میں سے ایک نے کہا کہ اے ابا جان ! اگر ان کو بکریوں کی دیکھ بھال اور گھر کی حفاظت کے لئے رکھ لیاجائے تو بہتر ہوگا کیونکہ چند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اگر اس شرط پر راضی ہو کہ آٹھ برس یہاں مدین میں رہ کر میری بکریاں چراؤ تو ان دونوں لڑکیوں میں سے اپنی ایک لڑکی کا نکاح میں تمہارے ساتھ کردوں گا اور اس شرط سے بڑھ کر اور دو برس تم یہاں رہو تو یہ تمہارا احسان ہے دو برس کی زیادتی میں تمہارے اوپر کچھ زبردستی نہ کروں گا اور اللہ نے چاہا تو تم مجھ کو حسن واخلاق اور وعدہ کے پورا کرنے میں نیک خصلت پاؤ گے، حضرت موسیٰ نے جواب دیا یہ شرط مجھ کو منظور ہے آٹھ برس تو ضرور میں یہاں رہوں گا اس کے بعد دو برس کی زیادتی میرے اختیار پر چھوڑ دی جائے، حضرت موسیٰ کے اس جواب کے بعد معاہدہ پورا ہوگیا، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
[16] یعنی دس سال۔ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دو مدتوں میں سے وہ مدت پوری کی جو زیادہ کامل اور ان کے خسر کے لئے خوشگوار تھی۔ (یعنی دس سال، بروایت ابن عباس ؓ ۔
[17] موسیٰ (علیہ السلام) اپنے اہل و عیال کو لے کر مصر جانا چاہتے ہوں گے، غالباً انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ دس سال گزر چکے ہیں۔ وہ فرعون مرچکا ہوگا جس کے زمانے میں وہ مصر سے نکلے تھے۔ اب اگر وہاں چلا جاؤں اور اپنے خاندان والوں کے ساتھ وہاں رہوں تو شاید کسی کو میرا پتہ بھی نہ لگے۔
Read the full tafseer →شادی کے سامان
1: حضرت موسیٰ کی دعا قبول ہوگئی ۔ اور اللہ تعالیٰ نے رحمت کا سامان مہیا کردیا ۔ ایک لڑکی شرماتی اور لجاتی ہوئی ان کے پاس آئی اور کہنے لگی میرے ابا آپ کو بلاتے ہیں ۔ تاکہ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلا کر جو احسان کیا ہے ۔ اس کا معاوضہ آپ کو دیں ۔ معلوم ہوتا ہے ۔ کہ جب یہ بہنیں اپنے جانوروں کو پانی پلا کر پہنچی ہیں ۔ تو انہوں نے حضرت موسیٰ کی ہمدردی کا تذکرہ اپنے والد حضرت شعیب سے کیا ہوگا ۔ اور حضرت شعیب نے اس سنا پر انہیں بلالیا ہوگا ۔
اس واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے ۔ کہ عورتیں اگر حالات وقضا سے مجبور ہوکر کام کاج کریں ۔ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ اور یہ بھی معلوم ہوا ۔ کہ…
Read the full tafseer →27۔ ا ن بزرگ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اپنی ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تیرے ساتھ اس شرط پر کر دوں کہ تو آٹھ سال تک میری ملازمت کرے اور اگر تو دس سال پورے کردے تو یہ تیری طرف سے ہے اور میں تجھ پر کوئی سختی یا مشقت ڈالنا نہیں چاہتا تو مجھ کو انشاء اللہ خوش معاملہ اور بھلے لوگوں میں سے پائے گا۔ نکاح کرنے کا ارادہ کیا اور آٹھ سال کی خدمت اس نکاح کا معاوضہ یعنی مہر مقرر فرمایا دس سال پورا کرنے کو ان کی مرضی پر چھوڑ دیا یعنی کوئی جبر نہیں ۔ سختی نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عام طور سے نوکروں اور ملززموں کے ساتھ سخت برتائو کیا جاتا ہے۔ وہ میرے ہاں نہیں ہوگا اور…
Read the full tafseer →ف 4۔ حاصل یہ کہ آٹھ سال کی خدمت اس نکاح کا مہر ہے۔
5۔ یعنی کام لینے اور وقت کی پابندی وغیرہ تمام امور میں آسانی برتوں گا۔
Read the full tafseer →دونوں لڑکیوں کے باپ کا سوال موسیٰ (علیہ السلام) سے :
27۔ کچھ دن مہمان رکھ لینے کے بعد اور موسیٰ کو انسان فطرت آزمائش کرلینے کے بعد ان لڑکیوں کے ماں باپ کو خیال آیا کہ ایک نوجوان آدمی کا گھر میں رکھ لینا جو خوبرو اور خوش اخلاق بھی ہے فریقین کے لئے مناسب نہیں ہے اس لئے خیال پیدا ہوا کہ اس کا نکاح اگر میں اپنی کسی بچی سے کر دوں جب کہ وہ ایک نیک سیرت اور نیک کردار شخص بھی ہے تو اسی میں بھلائی ہے بلاشبہ آپ نے اپنی بیٹیوں سے بھی واضح طور پر مشورہ کیا اور مشورہ کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) سے بات کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا وہ ایک نہایت ہی بہترین ‘ شستہ اور اعلی درجہ کی عقلمندی اور فکری صلاحیت پر مبنی…
Read the full tafseer →Two important conditions for hiring a person, and assigning a job
Allah Ta` ala made the daughter of Sayyidna Shu'aib (علیہ السلام) say something of great wisdom. In the present set up of employment, great emphasis is laid at the time of interviews on scrutinizing the degrees and experience of a candidate, but no attention is paid to ascertain his integrity and trustworthiness. As a result of this, there is neither efficiency nor honesty of purpose in the offices. On the contrary bribery and nepotism are so common that there seems to be no law in operation. If people could pay heed to this…
Read the full tafseer →38 It is also not necessary that the father should have said this to Moses immediately at the daughter's counsel. One feels that he must have formed this opinion after due consideration. He must have thought: "No doubt he is a noble person, but employing a healthy and strong young man like him as a servant in a house where there are grown up daughters would not be the right thing. When he is a gentle, educated and civilized man of a noble family (as he must have come to know from the story told by Moses), why shouldn't he be kept as a son-in-law in the house?" After reaching such a decision,…
Read the full tafseer →