سلیمان ؑ جادوگر نہیں تھے
یعنی اے محمد ﷺ ہم نے ایسی نشانیاں جو آپ کی نبوت کی صریح دلیل بن سکیں نازل فرما دی ہیں یہودیوں کی مخصوص معلومات کا ذخیرہ ان کی کتاب کی پوشیدہ باتیں ان کی تحریف و تبدیل احکام وغیرہ سب ہم نے اپنی معجزہ نما کتاب قرآن کریم میں بیان فرما دیئے ہیں جنہیں سن کر ہر زندہ ضمیر آپ کی نبوت کی تصدیق کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ یہودیوں کو ان کا حسد و بغض روک دے ورنہ ہر شخص جان سکتا ہے کہ ایک امی شخص سے ایسا پاکیزہ خوبیوں والا حکمتوں والا کلام کہا نہیں جاسکتا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ابن صوریا قطوبنی نے حضور ﷺ سے کہا تھا کہ آپ بطور نبوت کوئی ایسی چیز نہیں لائے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
سورة الْبَقَرَة 100
یہودی صرف نبی ﷺ کو اور آپ پر ایمان لانے والوں ہی کو برا نہ کہتے تھے، بلکہ خدا کے برگزیدہ فرشتے جبریل کو بھی گالیاں دیتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ ہمارا دشمن ہے۔ وہ رحمت کا نہیں، عذاب کا فرشتہ ہے۔
سورة الْبَقَرَة 101
یعنی اس بنا پر تمہاری گالیاں جبریل پر نہیں بلکہ خداوند برتر کی ذات پر پڑتی ہیں۔
سورة الْبَقَرَة 102
مطلب یہ ہے کہ یہ گالیاں تم اسی لیے تو دیتے ہو کہ جبریل یہ قرآن لے کر آیا ہے اور حال یہ ہے کہ یہ قرآن سراسر تورات کی تائید میں ہے۔ لہٰذا تمہاری گالیوں میں تورات بھی حصّے دار ہوئی۔
سورة الْبَقَرَة 103
اِس میں لطیف اشارہ ہے اس مضمون کی طرف کہ نادانو، اصل میں تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
خلاصہ تفسیر
(اس آیت میں ایک خاص عہد شکنی کا ذکر فرماتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لانے میں کلام تھا ارشاد ہوتا ہے) اور جب ان کے پاس ایک (عظیم الشان) پیغمبر آئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو (رسول ہونے کے ساتھ) تصدیق بھی کر رہے ہیں اس کتاب کی جو ان لوگوں کے پاس ہے (یعنی توراۃ کی کیونکہ اس میں آپ کی نبوت کی خبر ہے تو اس حالت میں آپ پر ایمان لانا عین توراۃ پر عمل تھا جس کو وہ بھی کتاب اللہ جانتی ہیں مگر باوجود اس کے بھی) ان اہل کتاب میں کے ایک فریق نے خود اس کتاب اللہ ہی کو اس طرح پس پشت ڈال دیا جیسے ان کو (اس کے مضمون کا یا کتاب اللہ ہونے کا) گویا اصلاً علم ہی نہیں ،
Read the full tafseer →خطاب پیغمبر ﷺ سے ہے۔ آیات بیّنات سے مراد آپ کی نبوت ورسالت کی وہ واضح اور قطعی دلیلیں ہیں جو آپ پر نازل ہوئیں۔ عام اس سے کہ وہ قرآن کے مدلل بیانات کی صورت میں ہیں یا ان کارناموں، علامات، شواہد اور معجزات کی شکل میں جو آپ کے ذریعہ سے ظہور میں آئے۔ فرمایا کہ یہ چیزیں آپ کی نبوت کے ثبوت میں اس قدر واضح ہیں کہ جس کے اندر ذرا بھی معقولیت ہو وہ ان کا انکار نہیں کر سکتا، صرف وہی لوگ ان کا انکار کر سکتے ہیں جو نافرمان اور عہد شکن ہوں۔
فسق کا اصلی مفہوم خدا کی نافرمانی ہے۔ نافرمانی چھوٹی بھی ہوسکتی ہے، بڑی بھی ہوسکتی ہے۔ قرآن مجید میں یہ لفظ بڑی سے بڑی نافرمانیوں کے لئے استعمال ہوا ہے ہمارے نزدیک اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
98۔ 1 یہود کہتے تھے کہ میکائیل ہمارا دوست ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ سب میرے مقبول بندے ہیں جو ان کا یا ان میں سے کسی ایک کا بھی دشمن ہے، وہ اللہ کا بھی دشمن ہے حدیث میں ہے، جس نے میرے کسی دوست سے دشمنی رکھی، اس نے میرے ساتھ اعلان جنگ کیا، گویا کہ اللہ کے کسی ایک ولی سے دشمنی سارے اولیاء اللہ سے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی دشمنی ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ اولیاء اللہ کی محبت اور ان کی تعظیم نہایت ضروری اور ان سے بغض وعناد اتنا بڑا جرم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے خلاف اعلان جنگ فرماتا ہے۔ اولیاء اللہ کون ہیں ؟ اس کے لئے ملاحظہ ہو (اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَاۗءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
65:: بعض یہودیوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ آپ کہ پاس جبرئیل ؑ وحی لاتے ہیں وہ چونکہ ہمارے لئے بڑے سخت احکام لایا کرتے تھے اس لئے ہم انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں، اگر کوئی اور فرشتہ وحی لارہا ہو تو ہم کچھ غور کرسکتے تھے، یہ آیت اس کے جواب میں نازل ہوئی ہے اور جواب کا حاصل یہ ہے کہ جبرئیل ؑ تو محض پیغام پہنچانے والے ہیں، جو کچھ لاتے ہیں اللہ کے حکم سے لاتے ہیں، لہذا نہ ان سے دشمنی کی کوئی معقول وجہ ہے اور نہ اس کی و جہ سے اللہ کے کلام کو رد کرنے کا کوئی معنی ہے۔
Read the full tafseer →یہاں اللہ تعالیٰ نے وہ اسباب کھول کر بیان کردئیے ہیں جن کی بناء پر بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی ان واضح آیات کا انکار کررہے تھے جو خود اللہ کی جانب سے نازل ہوئی تھیں ۔ یعنی وہ لوگ فسق وفجور میں مبتلا تھے ۔ ان کی فطرت بگڑی ہوئی تھی کیونکہ فطرت سلیمہ کے لئے تو اس کے سوا کوئی چارہ کا رہی نہ تھا کہ وہ ان آیات پر ایمان لے آئے اگر دل میں کجی نہ ہو تو یہ آیات از خود اپنے آپ کو منواتی ہیں اور یہودیوں نے کفر کا جو رویہ اختیار کیا ہے تو اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ قرآن کریم کی آیات میں دلائل کی کچھ کمی ہے یا وہ تشفی بخش نہیں بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ خود ان کی فطرت بگڑ چکی ہے اور وہ فسق وفجور میں مبتلا ہوچکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
3 یعنی ان کی عادت قدیم ہے کہ جب اللہ یا رسول یا کسی شخص سے کوئی عہد مقرر کرتے ہیں تو انہی میں کی ایک جماعت اس عہد کو پس پشت ڈال دیتی ہے بلکہ بہت یہودی ایسے ہیں جو تورات پر ایمان ہی نہیں رکھتے ایسوں کو عہد شکنی میں کیا باک ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 99 وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ اٰیٰتٍم بَیِّنٰتٍ ج وَمَا یَکْفُرُ بِہَآ اِلاَّ الْفٰسِقُوْنَ ۔
یاد کیجیے سورة البقرۃ کے تیسرے رکوع میں یہ الفاظ آئے تھے : وَمَا یُضِلُّ بِہٖ الاَّ الْفٰسِقِیْنَ اور وہ گمراہ نہیں کرتا اس کے ذریعے سے مگر فاسقوں کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
116 جبریل دشمنی کا جواب :۔ وجہ یہ ہے کہ فرشتے تو اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کام کر ہی نہیں سکتے اور جو فرشتوں کا دشمن ہے وہ دراصل اللہ کا دشمن اور کافر ہے، اور اللہ خود فرشتوں سے دشمنی رکھنے والے کافروں کا دشمن ہے۔
Read the full tafseer →344 ۔ (آپ کی صداقت اور نبوت کے) یعنی ایک تو قرآن خود ایک معجزہ ہے، پھر دوسرے تائیدی شواہد و دلائل، بشارات ومعجزات۔ (آیت) ” ایت بینت “ سے مراد آیات قرآنی بھی ہوسکتی ہیں، جن بینظیر تعلیمات کی حامل ہیں، ان پر نظر کرکے بعض محققین نے یہی اختیار کیا ہے الاظہران المراد ایات الفرقان الذی لایاتی بمثلہ الجن والانس (کبیر) لیکن لفظ ایات ہے عام ووسیع۔ اس لیے دوسرے بزرگوں نے سارے اقوال کو جمع کرکے لکھا ہے کہ اس سے مراد سبھی کچھ ہے قرآن بھی، معجزات بھی، کتب سابقہ پر اطلاع بھی، معجزات سابقہ پر اطلاع بھی، قرآن کا قانونی نظام بھی، وقس علی ہذا۔ اے القران والمعجزات المقرونۃ بالتحدی عما خفی واخفی فی الکتب السابقۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
” مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِلہِ وَمَلٰئِکَتِہٖ “ (الآیۃ) اللہ تعالیٰ یہود کے جواب میں فرماتے ہیں، یہ سب میرے مقبول بندے ہیں، جو ان کا یا ان میں سے کسی ایک کا دشمن ہے، وہ اللہ کا بھی دشمن ہے، حدیث شریف میں ہے : ” مَنْ عَادی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ بَادَرَنِیْ بِالْحَرْبِ “۔ (صحیح بخاری، کتاب الرقاق)
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ۚ وَمَا يَكْفُرُ بِهَآ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ ( اور ہم نے اتاریں آپ کی طرف کھلی نشانیاں اور نہ انکار کریں گے ان کا مگر وہی جو نافرمان ہیں) الْفَاسِقُوْنَ کے معنی کفر میں بڑھنے اور سرکشی کرنے والے کے ہیں۔ کیونکہ جب کسی معصیت پر فسق کا اطلاق آتا ہے تو اس معصیت کی عظمت پر دلالت کیا کرتا ہے۔ الفاسقون میں الف لام جنس کا ہے۔ عہد کا ہونے کی صورت میں اشارہ یہود کی طرف ہوگا۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مالک بن حنیف یہودی سے ذکر فرمایا کہ دین محمدی کے بارے میں تم سے عہد و پیمان لیا گیا ہے کہ جب وہ دین ظاہر ہو اس کا…
Read the full tafseer →(99) یعنی ہماری طرف سے جبریل امین ؑ آپ ﷺ کے پاس ایسی آیات لے کر آتے ہیں جو اوامرو نواہی کو خوب وضاحت کے ساتھ بیان کرنے والی ہیں اور ان آیات کا انکار کافر یہودی ہی کرتے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”ولقد انزلنا الیک“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے سعید ؒ اور عکرمہ ؒ کے حوالہ سے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابن صوریانے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ﷺ ہمارے پاس کوئی ایسی چیز لے کر نہیں آئے جسے ہم پہچانتے ہوں اور نہ آپ پر کوئی بیان کرنے والی واضح آیت نازل ہوئی ہے۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”ولقد انزلنا الیک ایت بینت (الخ) کو نازل فرمایا اور مالک بن ابی الصف ؒ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →(اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ۚ) یعنی کھلی نشانیاں، جن میں رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا واضح ثبوت موجود ہے، قرآن کریم کے علاوہ آپ ﷺ کے تمام معجزات اس کے تحت آسکتے ہیں۔ (ابن کثیر۔ رازی)
Read the full tafseer →آیت نمبر 99
حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ ابن صوریا کا جواب ہے جب اس نے رسول اللہ ﷺ سے کہا آپ کوئی ایسی چیز نہیں لائے جس کو ہم پہنچانتے ہوں۔ آپ پر کوئی واضح آیت نہیں اتری کہ ہم آپ کی اتباع کریں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی۔ یہ طبری نے ذکر کیا ہے۔ (4)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس (رح) سے روایت کیا کہ ابن صوریا نے (جو یہودیوں کا بڑا عالم تھا) نبی اکرم ﷺ سے کہا یا محمد ! آپ ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لائے کہ ہم اس کو پہچان لیں اور ہم نہیں جانتے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ پر واضح آیات اتاری ہیں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” ولد انزلنا الیک ایت بینت، وما یکفر بھا الا الفسقون “ اور مالک بن ضعیف (رح) نے کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی اور اس وعدہ کا ذکر کیا گیا اور جو محمد ﷺ کے بارے میں ان سے وعدہ لیا گیا تھا (وہ کہنے لگے) اللہ کی قسم محمد ﷺ کے بارے میں ہم سے کوئی وعدہ اور عہد نہیں لیا گیا…
Read the full tafseer →[ وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ : اور بیشک ہم نے اتارا ہے ] [ اِلَيْكَ : آپ کی طرف ] [ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ۚ : کھلی نشانیوں کو ] [ وَمَا يَكْفُرُ : ار انکار نہیں کرتے ] [ بِهَآ : اس کا ] [ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ : مگر نافرمانی کرنے والے ]
اللّغۃ
اس قطعہ میں بھی بالکل نئے (بلحاظِ مادہ) صرف دو ہی لفظ آئے ہیں لہٰذا اسے ہم چھوٹے جملوں کی صورت میں لکھ کر ہر ایک کے مفردات کا صرف ترجمہ (مع گزشتہ حوالہ برائے طالب مزید) لکھتے جائیں گے۔ نئے کلمات کی وضاحت اپنے مقام پر آجائے گی۔ نمبر حوالہ صرف اسی جملے کا دیا جائے گا جس میں کوئی نیا لفظ آئے گا۔
وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ
A ” وَ لَقَدْ “ (اور…
Read the full tafseer →آیات بینات کا انکار فاسقوں ہی کا کام ہے
تفسیر درمنثور میں ص 94 ج 1 حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ ابن صور یا یہودی نے حضرت سرور عالم ﷺ سے کہا کہ اے محمد ! کوئی ایسی چیز آپ نہیں لائے جسے ہم پہچانتے ہوتے اور نہ آپ کے پاس ایسی کوئی کھلی ہوئی دلیل ہے جس کی وجہ سے ہم آپ کا اتباع کرلیں۔ اس کی تردید میں اللہ جل شانہ، نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ہم نے اے محمد ! تمہاری طرف واضح آیات نازل فرمائی ہیں جو آیات بینات ہیں، ان آیات میں یہود کی پوشیدہ باتیں ان کے بھید اور راز بیان کرنا ان کے گزرے ہوئے اسلاف کے حالات بتانا اور ان کی تحریفات کا پتہ دینا یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ جل شانہ، نے حضرت سرور عالم ﷺ پر ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
شناعت بست ویکم (21)
قال تعالیٰ ولقد انزلنا الیکم ایت۔۔۔ الی۔۔۔ لوکانوا یعلمون
اور آپ کی نبوت فقط قرآن پر موقوف نہیں کہ جس کے متعلق یہ بہانہ کردیا کہ قرآن تو جبریل لیکر آئے ہیں جو ہمارے دشمن ہیں بلکہ البتہ تحقیق ہم نے آپ کی نبوت و رسالت کے ثابت کرنے کے لیے نہایت واضح اور روشن دلائل نازل کیے جن میں کسی قسم کا اشتباہ اور التباس نہیں اور نہ ان میں جبریل کا توسط ہے پس اگر قرآن کو دلیل نبوت نہیں سمجھتے کہ جبرئیل سے دشمنی ہے تو ان آیات بینات کا تمہارے پاس کیا جواب ہے جن میں جبریل امین کا واسطہ نہیں اور ان کو خود بھی معلوم ہے مگر عناد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ابن صوریا یہودی…
Read the full tafseer →190 ہم نے آپ کو ایسے واضح دلائل اور ایسی کھلی نشانیاں دی ہیں کہ ان کا انکار صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جنہوں نے ضد وعناد کی وجہ سے فسق وفجور کر اپنا شیوہ بنا رکھا ہے التمردون فی الکف الخارجون عن الحدود (روح ص 335 ج 1) یہ یہودی ضد وعناد اور تمرد وسرکشی میں اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ ایسے واضح دلائل کا بےکھٹک انکار کردیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
شان نزول : یہودیوں کی خرابیوں کا تذکرہ تسلسل کے ساتھ چل رہا ہے۔ آیات زیر درس کے شان نزول کے متعلق مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 349 ، تفسیر طبری ج 1 ص 431 ، ابن کثیر ج 1 ص 129) کہ حضرت نبی (علیہ السلام) کی ہجرت مدینہ کے وقت مدینہ کے گردو نواح میں بہت سے یہودی آباد تھے۔ یہودی علماء میں سے صرف ایک عالم حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ ایمان لائے باقی سب محروم ہی رہے ان میں سے ابن صوریا یک چشم تھا ۔ وہ بعض دوسرے یہودیوں کے ہمراہ حضور نبی کریم ﷺ کا امتحان لینے کے لیے آیا۔ اور آپ سے مختلف سوال کیے۔ اس نے کہا آخری نبی کے خواب سے متعلق ہماری کتابوں میں بعض نشانیاں موجود ہیں۔ آپ اپنے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ اٰيٰتٍؚبَيِّنٰتٍ 0 ۚ وَمَا يَكْفُرُ بِہَآ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ 99
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
ترکیب : قل من کان من شرطیہ اور جواب اس کا فہو عدواللہ وغیرہ محذوف باذن اللہ موضع حال میں ہے ضمیر فاعل نزل سے جو جبرئیل کی طرف پھرتی ہے والتقدیر نزلہ و معہ الاذن اوما ذونالہ مصدقا حال ہے نزلہ کے ہاء سے اور اسی طرح ہدی و بشری۔
تفسیر : منجملہ یہود کے قبائح کے ایک یہ بھی ہے کہ وہ کہتے تھے قرآن بہت ٹھیک ‘ اس میں جو کچھ ہے وہ بھی صحیح، مگر جو اس کو لے کر آتا ہے یعنی جبرئیل ہم کو اس سے عداوت ہے۔ عداوت کی وجہ غالباً یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہود کو بےحد عداوت تھی اور وہ روح القدس سے مؤید تھے۔ حق سبحانہ ان کے ایمان کی بےوقعتی بیان فرماتا ہے کہ انبیاء کو قتل کیا کتب منزلہ جو عہد مؤثق کے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآاِلَیْکَ اٰیٰتٍم بَیِّنٰتٍ ج وَمَا یَکْفُرُ بِھَآ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ ۔ (البقرۃ : 99)
(ہم نے بالیقین آپ پر نہایت واضح دلیلیں اتاری ہیں اس کا انکار صرف فاسق لوگ ہی کرسکتے ہیں)
آیات بینات کی ایک جھلک
گزشتہ دو آیات کو ذہن میں رکھئے تو ایسامعلوم ہوتا ہے کہ یہاں یہ فرمایا جارہا ہے کہ یہودی علما نے اگرچہ جبرائیل کی دشمنی کو ذریعہ بناکر عوام کو آنحضرت اور قرآن سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم ایک ایسی روشن کتاب ہے کہ جس کی عظمتوں کو ان معمولی باتوں سے گہنایا نہیں جاسکتا اور ذات رسالت مآب ﷺ اپنے ساتھ ایسے واضح دلائل لے کر آئے ہیں کہ غور وفکر کرنے والوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ مضمون کا تسلسل جس میں یہودیوں کا کردار پیش کیا جا رہا ہے۔
اے پیغمبر ﷺ ! ہم نے آپ کی طرف واضح ہدایت اور احکامات نازل فرمائے۔ اس کے باوجود یہ لوگ ہدایت کا راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہو رہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ ” اللہ “ کی ہدایات میں کوئی الجھاؤ اور پیچیدگی پائی جاتی ہے ایسا ہرگز نہیں ہماری ہدایات تو بدر منیر کی طرح روشن اور اس کے دلائل ناقابل تردید ہیں۔ ایسی ہدایات اور بیّن دلائل کا انکار تو وہی لوگ کرتے ہیں جنہوں نے دانستہ طور پر نافرمانی کا وطیرہ اپنا لیا ہو۔ ان کی تاریخ یہ ہے کہ جب بھی ان سے عہد لیا گیا تو ان کی اکثریت نے اس عہد کو توڑدیا۔ جب بھی اس…
Read the full tafseer →تفسیر آیت : 99: وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ اٰیٰتٍم بَیِّنٰتٍ وَمَا یَکْفُرُ بِھَآ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ : (یقینا ہم نے اتاردیں آپ کی طرف کھلی نشانیاں اور نہیں انکار کرتے مگر نافرمان) فاسق سے مراد کفر میں آگے بڑھنے والے۔ الف لام جنس کا ہے بہتریہ ہے کہ اس سے اہل کتاب کی طرف اشارہ مراد لیا جائے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ابن صوریا نے آپ کو کہا ہمارے پاس آپ کوئی ایسی چیز نہیں لائے جس کو ہم پہچانتے ہوں۔ اور آپ پر کوئی نشانی نہیں اتری۔ جس کی وجہ سے ہم آپ کی اتباع کریں۔ پس یہ آیت اتری۔ (طبری فی تفسیرہٖ )
Read the full tafseer →99۔ (آیت)” ولقد انزلنا الیک ایات بینات “۔ واضح اور حلال و حرام اور حدود و احکام کی تفصیل کے ساتھ ۔ (آیت)” وما یکفربھا الا الفاسقون “ حکم خداوندی سے نکلنے والے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
(99 ۔ 103) ۔ بعض یہود نے آنحضرت ﷺ سے یہ کہا تھا کہ حضرت موسیٰ کے عصا اور ید بیضا کی طرح آپ کو کوئی صریح اور صاف معجزہ نہیں ملا۔ پھر ہم آپ کو کیونکر اللہ کا رسول جان لیویں۔ اسی گفتگو میں بعض یہود نے یہ بھی کہا تھا کہ تورات میں ایسا کوئی عہد نہیں ہے جس سے ہم لوگوں پر نبی آخر الزمان کی مدد لازم ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور یہود کی پہلی بات کا جواب تو یہ دیا کہ ان لوگوں کی وہ باتیں جو سوا ان کے علماء کے دوسرے کسی کو معلوم نہیں جب کہ نبی آخر الزمان پر قرآن کے ذریعہ سے روزانہ نازل ہوتی ہیں اور نبی آخر الزمان باوجود امی ہونے کے ان باتوں کی ایسی صحیح اطلاع ان لوگوں کو دیتے ہیں…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد ﷺ سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے : (آیت) وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ۚ ” اور ہم نے آپ کی طرف روشن آیات نازل کیں “ ان سے اس کو ہدایت حاصل ہوتی ہے جو ہدایت کا طلبگار ہو اور اس پر حجت قائم ہوتی ہے جو عناد کا مظاہرہ کرے۔ یہ آیات حق پر اپنی دلالت اور وضاحت کے اعتبار سے ایک ایسے بلند مقام اور ایسی حالت پر پہنچی ہوئی ہیں کہ کوئی ان کو قبول کرنے سے انکار نہیں کرسکتے سوائے اس شخص کے جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی، اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل گیا اور اس نے انتہائی درجے کے تکبر سے کام لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–102
ساحر کا حکم
قول باری ہے : واتبعوا ماتتلوا الشیطین علی ملک سلمین، وما کفر سلیمن ولکن الشیطین کفروا ( اور ان چیزوں کی پیروی کرنے جو شیاطین سلیمان کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا۔ کفر کے مرتکب تو شیاطین تھے) تا آخر آیت
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہاں سحر، یعنی جادو کی حققیت پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے کیونکہ بہت سے اہل علم کی نظروں سے بھی یہ بات پوشیدہ ہے، عوام الناس کا تو پوچھنا ہی کیا، اس کے بعد ہم معانی اور احکام کے سلسلے میں مذکورہ بالا آیت کے مقتضاد کو سامنے رکھ کر جادو کا حکم بیان کریں گے۔
اہل لغت کے قول کے مطابق سحر ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
278 پیغمبر پر روشن آیتوں کا نزول : ایسی روشن آیتیں جن سے حق و باطل کا فرق پوری طرح واضح ہوجاتا ہے۔ اور ایسا اور اس حد تک کہ اس میں کسی خفاء و غموض کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ مگر ضد اور ہٹ دھرمی کا تو کوئی علاج نہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَََظِیْْم ۔ کہ ہٹ دھرم لوگ اس کے باوجود حق کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ سو یہ ان کی اپنی کوڑھ مغزی، ہٹ دھرمی اور محرومی کا نتیجہ ہے۔ ورنہ وضوح حق میں کوئی فرق باقی نہیں رہ گیا ۔ والحمدللہ جل و علا ۔ اور حق کی اس طرح تشریح و توضیح کردینا کہ اس کے بارے میں کسی طرح کا کوئی خفا و غموض باقی نہ رہے، صرف اور صرف انہی آیات بینات کی خصوصیت ہے، جو اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
یہود کی عہد شکنی
تشریح : ان آیات میں یہودیوں کی عہد شکنی کا اعادہ کیا گیا ہے۔ یہود کی تاریخ عہد شکنی، نافرمانی، منافقت اور سر کشی سے بھری پڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ کو بیشمار واضح نشانیاں عطا کی ہیں ایسی جو چھپی ہوئی یا دھندلی نہیں، بلکہ نمایاں، کھلی ہوئی اور واضح روشن نشانیاں عطا کی ہیں کہ جن کو دیکھ کر کوئی بھی معقول انسان انکار نہیں کرسکتا، سوائے ان لوگوں کے جو حکم عدولی، نافرمانی اور سر کشی کے عادی ہوں۔ یہ آیات یہود کے اس اعتراض کے جواب میں نازل ہوئیں جو انہوں نے کیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کس قسم کے نبی ہیں کہ ان کے پاس تو کوئی معجزہ ہی نہیں۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–103
آیات 97- 103
اسرارومعارف
جب علمائے بنی اسرائیل عقل ونقل میں عاجز ہوئے تو صورت ایک مباہلہ کی بنی ، جب وہاں بھی ناکام ہوئے تو اب سوائے تسلیم کے چارہ نہ تھا اور راہ وہ اختیار نہ کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا ایک اور عذر لنگ تراشا کہ نبی تو برحق ہیں اور ہم مان بھی ضرور لیتے مگر یہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) مجھ پر وحی لاتے ہیں اور یہ وہ فرشتہ ہے جو بارہا ہم پر بربادی لایا اور ہمارے آبائو اجداد سے سختیاں کیں۔ اگر کوئی اور فرشتہ مثلاً میکائیل ہی وحی لاتا تو ضرور ہم بھی تسلیم کرتے مگر جبرائیل کے ساتھ ہماری بنتی نہیں ہے اس وجہ سے ہم نبوت محمدی ﷺ کا اتباع نہیں کرسکتے۔
یہ ساری بات انہوں نے جہلاء کو…
Read the full tafseer →ف 4 کھلی آیتیں یعنی واضح نشانیاں جن میں آنحضرت کی نبوت کا بین ثبوت موجود ہے۔ اما رازی لکھتے ہیں کہ قرآن پاک کے علاوہ آنحضرت ﷺ کے جملہ معجزات اس کے تحت آسکتے ہیں۔ (ابن کثیر۔ رازی )
Read the full tafseer →(2:99) ولقد۔ واؤ عاطفہ ۔ لام تاکید کا۔ اور قد ماضی پر داخل ہوکر تحقیق کا معنی دیتا ہے۔
ما یکفربھا۔ میں ما نافیہ ہے اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ایات کی طرف راجع ہے۔
الفاسقون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ فسق و فسوق مصدر۔ فسق فلان کے معنی ہیں کسی شخص کا دائرہ شریعت سے نکل جانا ۔ اور یہ فسق الرطب کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی گدری کھجور کے اپنے جھلکے سے باہر نکل آنا کے ہیں۔ عام طور پر فاسق کا لفظ اس شخص کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو احکام شریعت کا التزام اور اقرار کرنے کے بعد تمام یا بعض احکام کی خلاف ورزی کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–103
لغات القرآن : آیت نمبر 97 تا 103
عدو (دشمن) ۔ قلب (دل) ۔ بشری (خوش خبری) ۔ عھدوا (انہوں نے وعدہ کیا) ۔ نبذ (پھینک دیا) ۔ اوتوالکتب (کتاب دی گئی (اہل کتاب) ۔ ظھور (ظہر، پیٹھ) ۔ کانھم (گویا کہ وہ سب) ۔ تبعوا (انہوں نے پیروی کی، پیچھے لگے) ۔ ملک (سلطنت، حکومت) ۔ السحر (جادو) ۔ بابل (ایک شہر کا نام ) ۔ ما یعلمان (وہ دونوں نہیں سکھاتے تھے ) ۔ فتنۃ (آزمائش) ۔ یفرقون (جدائی ڈالتے ہیں) ۔ المرء (مرد) ۔ زوج (بیوی) ۔ بضارین (نقصان پہنچانے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 97 تا 103
انسان جب بغض و حسد، ضد اور فرقہ پرستی کے جنون میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پھر وہ سامنے کی معمولی سی بات کو بھی سمجھنے کی اہلیت کھو بیٹھتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
شان نزول : بعضے یہود نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا اور ید بیضا کی طرح آپ کو کوئی صریح اور صاف معجزہ نہیں ملا پھر ہم آپ کو کیونکر اللہ کا رسول جان لیں ۔ دوسرے توریت میں ایسا کوئی عہد نہیں ہے جس سے ہم لوگوں پر نبی آخر الزماں کی مدد لازم ہو ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور یہود کی پہلی بات کا جواب یہ دیا کہ ان لوگوں کی وہ باتیں جو سوا ان کے علماء کے دوسرے کسی کو معلوم نہٰں جبکہ نبی آخرالزماں پر قرآن کے ذریعے سے روزانہ نازل ہوتی ہیں ، اور نبی آخر الزماں باوجود امی ہونے کے ان باتوں کی ایسی صحیح اطلاع ان لوگوں کو دیتے ہیں جن کو یہ لوگ اپنی آسمانی کتاب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
[66] ایک مقرب فرشتے کا نام جن کے ذمہ مخلوق کی رزق رسانی اور بارش کا انتظام ہے۔ تورات میں ان کا ذکر
بڑے تعظیمی لہجہ میں موجود ہے۔ یہود ان کو اپنا قومی محافظ سمجھتے تھے۔
[67] تورات میں جبرائیل کے ہاتھوں عذاب کا نازل ہونا بھی مذکور تھا اسی وجہ سے یہودی جبرائیل سے خوش نہ تھے اور ان کو گالیاں دیتے تھے اور کیونکہ تمام فرشتے اللہ کے لشکر ہیں اس لئے جو ایک کا دشمن ہوا وہ دوسرے کا بھی۔
Read the full tafseer →(ف 3) قرآن حکیم کے متعدد نام قرآن میں مذکور ہیں ، ان میں سے آیات بینات بھی ہے یعنی واضح اور روشن آیات جو لوگ اللہ کی اس کتاب کے ساتھ لگاؤ رکھتے ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ اس کے دلائل اس کا طرز بیان ، اس کا پیغام سب واضح ہیں اور روشن ، یہ حقائق ومعارف کا وہ سمندر بےساحل ہے کہ جس کی ہر موج صد ہزار موتی اپنے وامان گہر بار میں لئے ہوئے ہے ، ہمہ آفادہ اور ہمہ خوبی اگر کوئی کتاب ہو سکتی ہے تو وہ یہ قرآن حکیم ہے ، اس کے وضوح پر درخشندہ مثال یہ ہے کہ اس طویل عرصے کے بعد بھی یہ ویسی ہی سمجھی جاسکتی ہے ، جیسے قرون اولی میں نفس تعلیم میں کوئی تحریف نہیں ، حالانکہ انجیل دو سو سال کے بعد بالکل بدل گئی اور وید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
ف 2 اور بلاشبہ ہم نے آپ کی جانب بہت سے دلائل واضح نازل فرمائے ہیں اور ایسے دلائل وبراہین کا کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا مگر وہی شخص جو نافرمانی اور عدول حکمی کا عادی ہو اور کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے کہ جب کبھی بھی ان لوگوں نے کوئی عہد کیا تو ان ہی میں سے ایک جماعت نے اس عہد کو توڑ پھینکا بلکہ ان میں اکثر تو ایسے ہیں کہ وہ اس عہد کا یقین ہی نہیں رکھتے اور جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ رسول تشریف لائے جو اس کتاب کی جوان کے پاس ہے تصدیق بھی فرماتے ہیں تو ان ہی اہل کتاب میں سے ایک فریق نے اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی توریت کو اس پس پشت ڈال دیا کہ گویا ان کو بالکل اس کتاب کے احکام کا علم ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
ف 3۔ بعض یہود نے حضور ﷺ سے یہ سن کر جبرائیل (علیہ السلام) وحی لاتے ہیں کہا کہ ان سے تو ہماری عداوت ہے احکام شاقہ اور واقعات ہائلہ ان ہی کے ہاتھوں آیا کہتے ہیں میکائیل خوب ہیں کہ بارش اور رزق ان سے متعلق ہے اگر وہ وحی لایا کرتے تو ہم مان لیتے اس آیت میں اسی کا رد ہے۔
Read the full tafseer →سچائی کی روشنی کو جھٹلانے والا کفر کا اندھا ہی ہو سکتا ہے :
188: مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم ایک ایسی سچائی ہے جس کی سچائی سے زیادہ روشن سورج کی روشنی بھی نہیں ہو سکتی اس لیے کہ اس نے جو بیان دیا ہے بغیر دلیل کے نہیں دیا۔ اس طرح اس کا وجود با جود دلیل و روشنی کے سوا کچھ نہیں۔ جس طرح سورج کے لئے کسی خارجی دلیل کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کا وجود خود ہی اس کی دلیل ہے بالکل اس طرح قرآن کریم کی مثال ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو خود اندھا ہو اس کو سورج کی روشنی کب نظر آئے گی ؟ جس طرح سورج کا انکار کرنے والا وہی ہو سکتا جو اندھا ہو ، اس طرح قرآن کریم کی روشنی سے بھی وہی انکار کرسکتا ہے جس کو کفر نے اندھا…
Read the full tafseer →In denying the Holy Prophet ﷺ ، the Jews used to say that no clear evidence or sign of his prophethood had been revealed to him such as they could recognize and accept. In reply to this the Holy Qur'an says that Allah has revealed a number of very clear signs and evidences of his prophethood which even they know and understand very well. So, their denial is not based on a lack of recognition or knowledge, but on their habitual disobedience, for, as a general rule, no one denies such evidence except those who are willful and stubborn in their disobedience.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
100. The Jews not only reviled the Prophet (peace be on him) and his followers but also God's chosen angel, Gabriel, denouncing him as their enemy, and branding him as the angel of curse rather than of blessing.
101. Since Gabriel communicated the revealed messages with God's approval the abuses of the Jews which were apparently aimed at Gabriei should be considered as directed at God.
102. They abused Gabriel because he had brought the Qur'an from God, and since the Qur'an on the whole confirms the Torah this too became a co-sharer in those abuses.
103. Here there is a subtle suggestion that…
Read the full tafseer →