جادو کے جواز اور عدم جواز کی بحث
سنن میں حدیث ہے کہ جس نے گرہ لگائی اور اس میں پھونکا، اس نے جادو کیا لہذا رازی کا یہ کہنا کہ محققین کا قول یہی ہے یہ بھی ٹھیک نہیں آخر ان محققین کے ایسے اقوال کہاں ہیں ؟ ائمہ اسلام میں سے کس نے ایسا کہا ہے ؟ پھر آیت (ھل یستوی الذین) آیت کو پیش کرنا بھی نری جرات ہے کیونکہ آیت میں علم سے مراد دینی علم ہے اسی آیت میں شرعی علم والے علماء کی فضیلت بیان ہوئی ہے، پھر ان کا یہ کہنا کہ اسی علم سے کہ اسی سے معجزے کا علم تقابلی حاصل ہوتا ہے یہ تو بالکل واہی محض غلط اور فاسد ہے اس لئے کہ ہمارے رسول ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ قرآن پاک ہے جو باطل سے سراسر محفوظ ہے لیکن اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
سورة الْبَقَرَة 100
یہودی صرف نبی ﷺ کو اور آپ پر ایمان لانے والوں ہی کو برا نہ کہتے تھے، بلکہ خدا کے برگزیدہ فرشتے جبریل کو بھی گالیاں دیتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ ہمارا دشمن ہے۔ وہ رحمت کا نہیں، عذاب کا فرشتہ ہے۔
سورة الْبَقَرَة 101
یعنی اس بنا پر تمہاری گالیاں جبریل پر نہیں بلکہ خداوند برتر کی ذات پر پڑتی ہیں۔
سورة الْبَقَرَة 102
مطلب یہ ہے کہ یہ گالیاں تم اسی لیے تو دیتے ہو کہ جبریل یہ قرآن لے کر آیا ہے اور حال یہ ہے کہ یہ قرآن سراسر تورات کی تائید میں ہے۔ لہٰذا تمہاری گالیوں میں تورات بھی حصّے دار ہوئی۔
سورة الْبَقَرَة 103
اِس میں لطیف اشارہ ہے اس مضمون کی طرف کہ نادانو، اصل میں تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
خلاصہ تفسیر
(اس آیت میں ایک خاص عہد شکنی کا ذکر فرماتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لانے میں کلام تھا ارشاد ہوتا ہے) اور جب ان کے پاس ایک (عظیم الشان) پیغمبر آئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو (رسول ہونے کے ساتھ) تصدیق بھی کر رہے ہیں اس کتاب کی جو ان لوگوں کے پاس ہے (یعنی توراۃ کی کیونکہ اس میں آپ کی نبوت کی خبر ہے تو اس حالت میں آپ پر ایمان لانا عین توراۃ پر عمل تھا جس کو وہ بھی کتاب اللہ جانتی ہیں مگر باوجود اس کے بھی) ان اہل کتاب میں کے ایک فریق نے خود اس کتاب اللہ ہی کو اس طرح پس پشت ڈال دیا جیسے ان کو (اس کے مضمون کا یا کتاب اللہ ہونے کا) گویا اصلاً علم ہی نہیں ،
Read the full tafseer →یہ اسلوب کلام اظہار تعجب اور اظہار حسرت کا ہے۔ اوپر یہود کی عہد شکنیوں کا ذکر کرتے ہوئے بات یہاں تک پہنچی تھی کہ یہی عہد شکنی کی روش انہوں نے اس عہد کے معاملہ میں بھی اختیار کی ہے جو آخری کتاب اور آخری رسول سے متعلق ان سے لیا گیا تھا۔ پھر بانداز تعجب واظہار حسرت فرمایا کہ کیا ان کی یہی روش ہمیشہ باقی رہے گی کہ جب کبھی یہ خدا سے کوئی عہد باندھیں گے تو وقت آنے پر یہ اس کو توڑ تاڑ کے رکھ دیں گے۔ صرف تھوڑے سے لوگ اس پر قائم رہ سکیں گے۔ پھر اصل حقیقت کو بالکل بے نقاب کر دینے کے بعد فرمایا کہ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يُؤْمِنُوۡنَ یعنی ان کی اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو سرے سے ایمان ہی سے عاری ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
98۔ 1 یہود کہتے تھے کہ میکائیل ہمارا دوست ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ سب میرے مقبول بندے ہیں جو ان کا یا ان میں سے کسی ایک کا بھی دشمن ہے، وہ اللہ کا بھی دشمن ہے حدیث میں ہے، جس نے میرے کسی دوست سے دشمنی رکھی، اس نے میرے ساتھ اعلان جنگ کیا، گویا کہ اللہ کے کسی ایک ولی سے دشمنی سارے اولیاء اللہ سے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی دشمنی ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ اولیاء اللہ کی محبت اور ان کی تعظیم نہایت ضروری اور ان سے بغض وعناد اتنا بڑا جرم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے خلاف اعلان جنگ فرماتا ہے۔ اولیاء اللہ کون ہیں ؟ اس کے لئے ملاحظہ ہو (اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَاۗءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
65:: بعض یہودیوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ آپ کہ پاس جبرئیل ؑ وحی لاتے ہیں وہ چونکہ ہمارے لئے بڑے سخت احکام لایا کرتے تھے اس لئے ہم انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں، اگر کوئی اور فرشتہ وحی لارہا ہو تو ہم کچھ غور کرسکتے تھے، یہ آیت اس کے جواب میں نازل ہوئی ہے اور جواب کا حاصل یہ ہے کہ جبرئیل ؑ تو محض پیغام پہنچانے والے ہیں، جو کچھ لاتے ہیں اللہ کے حکم سے لاتے ہیں، لہذا نہ ان سے دشمنی کی کوئی معقول وجہ ہے اور نہ اس کی و جہ سے اللہ کے کلام کو رد کرنے کا کوئی معنی ہے۔
Read the full tafseer →أَوَكُلَّمَا عَاهَدُوا عَهْدًا نَبَذَهُ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لا يُؤْمِنُونَ ” کیا ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوتا رہا کہ جب انہوں نے کوئی عہد کیا تو ان میں سے ایک نہ ایک گروہ نے اسے ضرورہی بالائے طاق رکھ دیا بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو سچے دل سے ایمان نہیں لاتے ۔ “
انہوں نے کوہ طور کے نیچے اللہ کے ساتھ پختہ پیمان باندھا اور بعد میں اس کی خلاف ورزی کی ۔ نبی ﷺ سے قبل آنے والے پیغمبروں کے ساتھ انہوں نے جو عہد کئے ان کی خلاف ورزی کی اور نبی ﷺ نے مدینہ طیبہ تشریف لانے کے بعد یہودیوں کے ساتھ جو معاہدہ کیا اسے بھی انہوں نے پس پشت ڈال دیاحالان کہ اس معاہدے میں ان کے ساتھ شرائط طے کی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
3 یعنی ان کی عادت قدیم ہے کہ جب اللہ یا رسول یا کسی شخص سے کوئی عہد مقرر کرتے ہیں تو انہی میں کی ایک جماعت اس عہد کو پس پشت ڈال دیتی ہے بلکہ بہت یہودی ایسے ہیں جو تورات پر ایمان ہی نہیں رکھتے ایسوں کو عہد شکنی میں کیا باک ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 100 اَوَکُلَّمَا عٰہَدُوْا عَہْدًا
اللہ سے کوئی میثاق کیا یا اللہ کے رسولوں سے کوئی عہد کیا۔
نَّبَذَہٗ فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ ط بَلْ اَکْثَرُہُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔
ان کی اکثریت ایمان و یقین کی دولت سے تہی دامن ہے۔
یہی حال آج امت مسلمہ کا ہے کہ مسلمان تو سب ہیں ‘ لیکن ایمان حقیقی ‘ ایمان قلبی یعنی یقین والا ایمان کتنے لوگوں کو حاصل ہے ؟ ع ڈھونڈ اب ان کو چراغ رخ زیبا لے کر !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
116 جبریل دشمنی کا جواب :۔ وجہ یہ ہے کہ فرشتے تو اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کام کر ہی نہیں سکتے اور جو فرشتوں کا دشمن ہے وہ دراصل اللہ کا دشمن اور کافر ہے، اور اللہ خود فرشتوں سے دشمنی رکھنے والے کافروں کا دشمن ہے۔
Read the full tafseer →346 ۔ (خدایا اس کے کسی نبی کی اطاعت کا) ذکر انہیں عصیان پیشہ یہود کا چل رہا ہے ؛۔
347 ۔ بنی اسرائیل کی تاریخ، غداری، عہد شکنی، نافرمانی، سرکشی کی ایک مسلسل تاریخ ہے۔ توریت کے صفحے، انجیل کے ورق، قدیم مؤرخین یہود جو زیفس وغیرہ کے دفتر سب اسی سرگزشت سے لبرلیز ہیں اور یہاں اشارہ ان کی اسی قومی خصوصیت کی جانب ہے۔
348 ۔ (اپنے کسی عہد و پیمان اطاعت کا) یعنی ایفائے عہد تو الگ رہا ان میں سے بہت سے اسی کے قائل نہیں ملتے کہ کبھی اطاعت کا عہد تو الگ رہا ان میں سے بہت سے اسی کے قائل نہیں ملتے کہ کبھی اطاعت کا عہد و پیمان کیا بھی تھا۔ گویا ایمان (آیت) ” لایؤمنون “ میں اپنے اصطلاحی معنی میں نہیں لفظی معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
اَوَکُلَّمَا عٰھُدُوْا عَھَدًا نَّبَذَہٗ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ ، یعنی ان کی پرانی عادت ہے کہ : جب اللہ یا رسول یا کسی شخص سے کوئی عہد معاہدہ یا قول وقرار کرتے ہیں، تو ان میں کی ایک جماعت اس عہد کو پس پشت ڈال دیتی ہے، بلکہ بہت سے یہودی ایسے بھی ہیں جو تورات پر بھی ایمان نہیں رکھتے۔
Read the full tafseer →اَوَكُلَّمَا عٰھَدُوْا عَهْدًا ( کیا جب کبھی کوئی عہد کرتے ہیں) اَوَ کُلَّمَا میں ہمزہ استفہام کا انکار کے لیے ہے اور و ایک کلام مقدر پر عطف کرنے کے واسطے ہے۔ تقدیر عبارت کی اس طرح ہے اَکْفَرُوا بالْاٰیٰت وَ کُلَّمَا عَاھَدُوْا .....( کیا آیات کا یہ لوگ انکار کرتے ہیں اور جب کبھی عہد کرتے ہیں .....) اَوَ کُلَّمَا عَاھَدُوا میں ضمیر فاعل سے یہود مراد ہیں اور وہ عہد جو یہود نے کیا تھا یہ تھا کہ اگر محمد ﷺ تشریف لائے تو ہم ان پر ایمان لے آئیں گے۔
چنانچہ ابو رجاء عطاردی کی قرأت اَوَ کُلَّمَا عُوْھِدُوْا ( جب کبھی عہد لیے گئے) بھی یہی بتلا رہی ہے کہ عہد سے مراد یہی ہے کہ نبی آخر الزماں پر ایمان لے…
Read the full tafseer →(100) جس وقت یہودیوں کے سرداروں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ معاہدہ کیا، تو سب ہی نے اس کو پس پشت ڈال دیا۔
Read the full tafseer →یہاں سے یہود کی ایک اور قبیح عادت کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ یہودیوں سے نبی آخر الزماں کی مدد کرنے اور اس پر ایمان لانے کا بھی عہد لیا گیا تھا، مگر وہ اس عہد سے پھرگئے اور کہنے لگے، ہم سے اس قسم کا کوئی عہد نہیں لیا گیا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ عہد شکنی تو ان لوگوں کا پرانا شیوہ ہے۔ جب بھی ان سے کوئی عہد لیا گیا ان میں سے ایک گروہ نے اسے پس پشت ڈال دیا، بلکہ ان میں سے بہت سے لوگ تو تورات پر سرے سے ایمان ہی نہیں رکھتے۔ ایسے لوگ اگر اب عہد شکنی کرتے ہیں تو تعجب کی کیا بات ہے۔ (رازی)
Read the full tafseer →آیت نمبر 100
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : او کلما عھدوا عھدًا یہاں واو عطف کے لئے ہے اس پر الف استفہام داخل ہوا ہے، جیسے فاء پر داخل ہوتا ہے جیسے أفعکم الجاھلیۃ۔ أفانت تسمع الصم۔ افتتخذونہ وذریتہ، اور جس طرح ثم پر داخل ہوتا ہے۔ اثم اذا ما وقع۔ یہ سیبویہ کا قول ہے۔ اخفش نے کہا : یہ واو زائدہ ہے، کسائی کا مذہب یہ ہے کہ یہ او تھا تسہیل کے لئے واو کو حرکت دی گئی۔ ایک قوم نے او واو ساکن کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہ بل کے معنی میں ہوگا، جیسے کوئی کہتا ہے : لا ضرینک پھر جواب دینے والا کہتا ہے : او یکفی اللہ۔ ابن عطیہ نے کہا ( 1): یہ تمام تکلف ہے۔ صحیح سیبویہ کا قول ہے کلما ظرف کی بنا پر منصوب ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس (رح) سے روایت کیا کہ ابن صوریا نے (جو یہودیوں کا بڑا عالم تھا) نبی اکرم ﷺ سے کہا یا محمد ! آپ ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لائے کہ ہم اس کو پہچان لیں اور ہم نہیں جانتے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ پر واضح آیات اتاری ہیں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” ولد انزلنا الیک ایت بینت، وما یکفر بھا الا الفسقون “ اور مالک بن ضعیف (رح) نے کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی اور اس وعدہ کا ذکر کیا گیا اور جو محمد ﷺ کے بارے میں ان سے وعدہ لیا گیا تھا (وہ کہنے لگے) اللہ کی قسم محمد ﷺ کے بارے میں ہم سے کوئی وعدہ اور عہد نہیں لیا گیا…
Read the full tafseer →[ اَوَ : اور کیا (ایسا نہیں ہے کہ ) ] [ كُلَّمَ : جب کبھی ] [ ا عٰھَدُوْا : ان لوگوں نے معاہدہ کیا ] [ عَهْدًا : جیسا عہد کرنے کا حق ہے ] [ نَّبَذَهٗ : تو پھینکا اس کو ] [ فَرِيْقٌ: ایک فریق نے ] [ مِّنْھُمْ ۭ : ان میں سے ] [ بَلْ : بلکہ ] [ اَكْثَرُھُمْ : ان کے اکثر ] [ لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں لاتے ]
اَوَکُلَّمَا عٰہَدُوْا عَہْدًا نَّبَذَہٗ فَرِیْقٌ مِّنْہُم
اس میں ” عاھَدوا “ اور ” نبذ “ نئے لفظ ہیں۔
A ” اَوَ “ (اور کیا ؟ کیا ؟ کیا یہ ہے کہ۔ آیا ؟ ) بیان ہوچکا ہے کہ جب ” و “ یا ”“ کے ساتھ حرف استفہام (ا) لگے تو وہ ان سے پہلے آتا ہے یعنی ” اَوَ “ یا ” اَفَ “ کہتے ہیں اور اگر دوسرا…
Read the full tafseer →یہودیوں کی ایک جماعت ہر عہد کی خلاف ورزی کرتی رہی ہے :
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضرت سرور عالم ﷺ نے یہودیوں کو تذکیر فرمائی اور جو ان سے میثاق اور قول وقرار لیا گیا تھا وہ ان کو یاد دلایا اور خاتم النّبیین ﷺ کے بارے میں جو ان سے عہد لیا گیا تھا اس کی یاد دہانی فرمائی تو وہ صاف منکر ہوگئے۔ ان میں ایک آدمی مالک بن سیف تھا اس نے کہا کہ اللہ کی قسم محمد (e) کے بارے میں ہم سے کوئی عہد نہیں لیا گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی (اَو کُلَّمَا عٰھَدُوا عَھْدًا) (الایۃ) یعنی یہ لوگ اس عہد سے منکر ہو رہے ہیں۔ اور حال ان کا یہ رہا ہے کہ جب کبھی انہوں نے کوئی عہد کیا تو ان میں سے ایک جماعت نے اس کو پھینک دیا ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
شناعت بست ویکم (21)
قال تعالیٰ ولقد انزلنا الیکم ایت۔۔۔ الی۔۔۔ لوکانوا یعلمون
اور آپ کی نبوت فقط قرآن پر موقوف نہیں کہ جس کے متعلق یہ بہانہ کردیا کہ قرآن تو جبریل لیکر آئے ہیں جو ہمارے دشمن ہیں بلکہ البتہ تحقیق ہم نے آپ کی نبوت و رسالت کے ثابت کرنے کے لیے نہایت واضح اور روشن دلائل نازل کیے جن میں کسی قسم کا اشتباہ اور التباس نہیں اور نہ ان میں جبریل کا توسط ہے پس اگر قرآن کو دلیل نبوت نہیں سمجھتے کہ جبرئیل سے دشمنی ہے تو ان آیات بینات کا تمہارے پاس کیا جواب ہے جن میں جبریل امین کا واسطہ نہیں اور ان کو خود بھی معلوم ہے مگر عناد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ابن صوریا یہودی…
Read the full tafseer →191 ان کے طغیان وعصیان کا یہ حال ہے کہ انہوں نے جب کبھی کوئی عہد کیا اسے پورا نہ کیا بلکہ ان میں ہمیشہ ایک بہت بڑی جماعت عہد شکنی پر کمر بستہ رہی۔ گویا عہد شکنی، غداری اور نافرمانی ان کی عادت قدیمہ اور قومی خصوصیت ہے۔ بَلْ اَكْثَرُھُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ ۔ بلکہ ان کی اکثریت کا تو اپنی کتاب پر بھی مخلصانہ ایمان نہیں تھا صرف منافقانہ طور پر زبانی اقرار تھا لیکن ان کا عمل اس کے خلاف تھا۔ (کبیر ص 634 ج 1) تو جن کے خبث باطن کا یہ حال ہو کہ اپنی کتاب اور اپنے رسول کو بھی نہ مانیں بھلا وہ دوسری قوم کے نبی اور اس کی کتاب کو کیوں ماننے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
شان نزول : یہودیوں کی خرابیوں کا تذکرہ تسلسل کے ساتھ چل رہا ہے۔ آیات زیر درس کے شان نزول کے متعلق مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 349 ، تفسیر طبری ج 1 ص 431 ، ابن کثیر ج 1 ص 129) کہ حضرت نبی (علیہ السلام) کی ہجرت مدینہ کے وقت مدینہ کے گردو نواح میں بہت سے یہودی آباد تھے۔ یہودی علماء میں سے صرف ایک عالم حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ ایمان لائے باقی سب محروم ہی رہے ان میں سے ابن صوریا یک چشم تھا ۔ وہ بعض دوسرے یہودیوں کے ہمراہ حضور نبی کریم ﷺ کا امتحان لینے کے لیے آیا۔ اور آپ سے مختلف سوال کیے۔ اس نے کہا آخری نبی کے خواب سے متعلق ہماری کتابوں میں بعض نشانیاں موجود ہیں۔ آپ اپنے…
Read the full tafseer →اَوَكُلَّمَا عٰھَدُوْا عَہْدًا نَّبَذَہٗ فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ 0 ۭ بَلْ اَكْثَرُھُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ 100
عهد
العَهْدُ : حفظ الشیء ومراعاته حالا بعد حال، وسمّي الموثق الذي يلزم مراعاته عَهْداً.
قال : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] ، أي : أوفوا بحفظ الأيمان، قال : لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124]
( ع ھ د ) العھد
( ض ) کے معنی ہیں کسی چیز کی پیہم نگہہ داشت اور خبر گیری کرنا اس بنا پر اس پختہ وعدہ کو بھی عھد کہاجاتا ہے جس کی نگہداشت ضروری ہو ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] اور عہد کو پورا کرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
ترکیب : او وائو عطف کے لیے اور ہمزہ استفہام انکاری کے لیے ہے اور یہ عطف کلام مقدم کے لیے ہے یعنی افکلما جاء کم بعض کہتے ہیں واو زائدہ ہے بعض کہتے ہیں یہ او ہے واو کو متحرک کردیا۔ عہدا مفعول مطلق من غیر لفظ مذکور اور ممکن ہے کہ مفعول بہ ہو نبذہ الخ جملہ جواب کلما اسی طرح لما جاء جملہ شرط مصدق صفت رسول نبذ فعل فریق الخ فاعل کتب اللہ مفعول وراء ظرف یہ سب جملہ جواب شرط کانہم الخ موضع حال میں ہے۔
تفسیر : یعنی یہ عذر کہ اس قرآن کو جبرئیل لائے ہیں اس لیے ہم اس پر ایمان نہیں لاتے، بےہودہ عذر ہے کس لیے کہ فی نفسہ اس کی آیات واضح اور روشن ہیں ان میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جس کو عقل سلیم نہ مانے۔ پس اس…
Read the full tafseer →اَوَکُلَّمَا عٰھَدُوْا عَھْدًا نَّبَذَہٗ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ ط بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ ۔
(کیا ان کی یہی روش قائم رہے گی کہ جب جب کوئی عہد کریں گے تو ان کا ایک گروہ اس کو اٹھا پھینکے گا بلکہ ان میں سے اکثر ایمان سے عاجز ہیں) (البقرۃ : 100)
ایک خیر جو بجائے خود حقانیت کی دلیل ہے
قرآن کریم نے مختلف مقامات پر ان عہدوں اور مواثیق کا ذکر کیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے لیے ہیں اور ان موا ثیق میں بطور خاص اس میثاق کا ذکر ہے جو ان سے آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے آپ کی نصرت اور آپ کی اتباع کرنے کے حوالے سے لیا گیا تھا۔ پھر ان عہد شکنیوں کی گذشتہ آیات میں ایک تفصیل بیان کی گئی ہے اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ مضمون کا تسلسل جس میں یہودیوں کا کردار پیش کیا جا رہا ہے۔
اے پیغمبر ﷺ ! ہم نے آپ کی طرف واضح ہدایت اور احکامات نازل فرمائے۔ اس کے باوجود یہ لوگ ہدایت کا راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہو رہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ ” اللہ “ کی ہدایات میں کوئی الجھاؤ اور پیچیدگی پائی جاتی ہے ایسا ہرگز نہیں ہماری ہدایات تو بدر منیر کی طرح روشن اور اس کے دلائل ناقابل تردید ہیں۔ ایسی ہدایات اور بیّن دلائل کا انکار تو وہی لوگ کرتے ہیں جنہوں نے دانستہ طور پر نافرمانی کا وطیرہ اپنا لیا ہو۔ ان کی تاریخ یہ ہے کہ جب بھی ان سے عہد لیا گیا تو ان کی اکثریت نے اس عہد کو توڑدیا۔ جب بھی اس…
Read the full tafseer →100: اَوَکُلَّمَا : (کیا جب کبھی) اَوَ اس میں وَائو محذوف پر عطف کے لیے آیا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ أکفروا بالاٰیٰت البینات وکلما۔ کیا انہوں نے واضح آیات کا انکار کیا اور جب بھی۔
عٰھَدُوْاعَھْدًا نَّبَذَہٗ : (وہ کوئی عہد کرتے ہیں توڑ دیا) اس عہد کو نبذ کا معنی اس کو توڑ دیا۔ اور اس کا انکار کردیا۔
فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ : (ایک گروہ نے ان میں سے) فرمایا کیونکہ ان میں سے بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے نہیں توڑا۔
بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ : (بلکہ اکثریت ان کی تو ایمان ہی نہیں رکھتی) یعنی تورات کے ساتھ۔ پس وہ دین میں کسی چیز پر نہیں اس لیے وعدہ توڑنے کو گناہ نہیں سمجھتے۔ اور نہ اس کی پرواہ کرتے…
Read the full tafseer →100۔ (آیت)” اوکلما “ واؤ عطف پر الف استفہام داخل ہوئی ۔
(آیت)” وعاھدوا عھدا “ یعنی یہود نے معاہدہ کیا اگر (نبی آخر الزمان) حضرت محمد ﷺ تشریف لائے تو ہم ان کے ساتھ ضرور ایمان لائیں گے ، پس جب ان کی طرف حضور ﷺ تشریف لائے تو حضور ﷺ کے ساتھ انہوں نے کفر کیا حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں جب حضور ﷺ نے ان کو وہ عہد یاد دلایا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا اور ان کو حضور ﷺ کے بارے میں تاکید کی تھی کہ آپ ﷺ پر ایمان لائیں گے تو مالک بن صیف نے کہا ” واللہ ماعھد الینا عھدا فی محمد “ کہ خدا کی قسم اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کے بارے میں کسی قسم کی تاکید نہیں کی پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
(99 ۔ 103) ۔ بعض یہود نے آنحضرت ﷺ سے یہ کہا تھا کہ حضرت موسیٰ کے عصا اور ید بیضا کی طرح آپ کو کوئی صریح اور صاف معجزہ نہیں ملا۔ پھر ہم آپ کو کیونکر اللہ کا رسول جان لیویں۔ اسی گفتگو میں بعض یہود نے یہ بھی کہا تھا کہ تورات میں ایسا کوئی عہد نہیں ہے جس سے ہم لوگوں پر نبی آخر الزمان کی مدد لازم ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور یہود کی پہلی بات کا جواب تو یہ دیا کہ ان لوگوں کی وہ باتیں جو سوا ان کے علماء کے دوسرے کسی کو معلوم نہیں جب کہ نبی آخر الزمان پر قرآن کے ذریعہ سے روزانہ نازل ہوتی ہیں اور نبی آخر الزمان باوجود امی ہونے کے ان باتوں کی ایسی صحیح اطلاع ان لوگوں کو دیتے ہیں…
Read the full tafseer →یہ ان کے کثرت معاہدات اور پھر ان معاہدات کے ایفاء پر ان کے عدم صبر پر اظہار تعجب ہے۔ فرمایا : (کلما) ” جب بھی “ (کلما) تکرار کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی جب کبھی وہ عہد کرتے ہیں تو وفا نہیں کرتے۔ اس کا کیا سبب ہے ؟
اس کا سبب یہ ہے کہ ان میں سے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔ ان کا ایمان نہ لانا ہی وہ سبب ہے جو ان کے نقض عہد کا موجب ہے۔ اگر ان کے ایمان میں کوئی صداقت ہوتی تو ان کی مثال ان لوگوں کی سی ہوتی جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’ آیت) من المومنین رجال صدقوا ما عاھد اللہ علیہ (الاحزاب 23) ” اور اہل ایمان میں سے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں کہ جو عہد انہوں نے اللہ سے کیا تھا اسے سچ کر دکھایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–102
ساحر کا حکم
قول باری ہے : واتبعوا ماتتلوا الشیطین علی ملک سلمین، وما کفر سلیمن ولکن الشیطین کفروا ( اور ان چیزوں کی پیروی کرنے جو شیاطین سلیمان کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا۔ کفر کے مرتکب تو شیاطین تھے) تا آخر آیت
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہاں سحر، یعنی جادو کی حققیت پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے کیونکہ بہت سے اہل علم کی نظروں سے بھی یہ بات پوشیدہ ہے، عوام الناس کا تو پوچھنا ہی کیا، اس کے بعد ہم معانی اور احکام کے سلسلے میں مذکورہ بالا آیت کے مقتضاد کو سامنے رکھ کر جادو کا حکم بیان کریں گے۔
اہل لغت کے قول کے مطابق سحر ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
278 پیغمبر پر روشن آیتوں کا نزول : ایسی روشن آیتیں جن سے حق و باطل کا فرق پوری طرح واضح ہوجاتا ہے۔ اور ایسا اور اس حد تک کہ اس میں کسی خفاء و غموض کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ مگر ضد اور ہٹ دھرمی کا تو کوئی علاج نہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَََظِیْْم ۔ کہ ہٹ دھرم لوگ اس کے باوجود حق کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ سو یہ ان کی اپنی کوڑھ مغزی، ہٹ دھرمی اور محرومی کا نتیجہ ہے۔ ورنہ وضوح حق میں کوئی فرق باقی نہیں رہ گیا ۔ والحمدللہ جل و علا ۔ اور حق کی اس طرح تشریح و توضیح کردینا کہ اس کے بارے میں کسی طرح کا کوئی خفا و غموض باقی نہ رہے، صرف اور صرف انہی آیات بینات کی خصوصیت ہے، جو اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
یہود کی عہد شکنی
تشریح : ان آیات میں یہودیوں کی عہد شکنی کا اعادہ کیا گیا ہے۔ یہود کی تاریخ عہد شکنی، نافرمانی، منافقت اور سر کشی سے بھری پڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ کو بیشمار واضح نشانیاں عطا کی ہیں ایسی جو چھپی ہوئی یا دھندلی نہیں، بلکہ نمایاں، کھلی ہوئی اور واضح روشن نشانیاں عطا کی ہیں کہ جن کو دیکھ کر کوئی بھی معقول انسان انکار نہیں کرسکتا، سوائے ان لوگوں کے جو حکم عدولی، نافرمانی اور سر کشی کے عادی ہوں۔ یہ آیات یہود کے اس اعتراض کے جواب میں نازل ہوئیں جو انہوں نے کیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کس قسم کے نبی ہیں کہ ان کے پاس تو کوئی معجزہ ہی نہیں۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–103
آیات 97- 103
اسرارومعارف
جب علمائے بنی اسرائیل عقل ونقل میں عاجز ہوئے تو صورت ایک مباہلہ کی بنی ، جب وہاں بھی ناکام ہوئے تو اب سوائے تسلیم کے چارہ نہ تھا اور راہ وہ اختیار نہ کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا ایک اور عذر لنگ تراشا کہ نبی تو برحق ہیں اور ہم مان بھی ضرور لیتے مگر یہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) مجھ پر وحی لاتے ہیں اور یہ وہ فرشتہ ہے جو بارہا ہم پر بربادی لایا اور ہمارے آبائو اجداد سے سختیاں کیں۔ اگر کوئی اور فرشتہ مثلاً میکائیل ہی وحی لاتا تو ضرور ہم بھی تسلیم کرتے مگر جبرائیل کے ساتھ ہماری بنتی نہیں ہے اس وجہ سے ہم نبوت محمدی ﷺ کا اتباع نہیں کرسکتے۔
یہ ساری بات انہوں نے جہلاء کو…
Read the full tafseer →ف 5 یہاں سے یہود کی ایک اور عادت کا بیان ہو رہا ہے یہود یوں سے نبی آخرالزمان کی مدد کرنے اور اس پر ایمان لانے کا بھی عہد لیا گیا تھا مگر وہ اس عہد سے پھرگئے اور کہنے لگے ہم سے قسم کا کوئی عہد نہیں لیا گیا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو تسلی دی ہے کہ عہد شکنی تو ان لوگوں کا پرانا شیوہ ہے جب بھی ان سے کوئی عہد لیا گیا ان میں سے ایک گروہ نے اسے پس پشت ڈال دیا بلکہ ان میں بہت سے لوگ تو تورات پر سرے سے ایمان ہی نہیں رکھتے ایسے لوگ اگر اب عہد شکنی کرتے ہیں تو تعجب کی کیا بات ہے۔ (رازی)
Read the full tafseer →(2:100) اوکلام۔ ہمزہ استفہامہ (استفہام انکاری کے لئے) واؤ عاطفہ کلما۔ کل اور ما سے مرکب ہے بمعنی کل وقت جب ۔ جب کبھی۔ جس جس وقت (نیز ملاحظہ ہو 2:87)
عھدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ معاھدۃ (مفاعلۃ) مصدر سے ۔ انہوں نے عہد باندھا۔ انہوں نے عہد کیا۔ اوکلما عھدوا۔ کیا ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوتا رہا کہ جب انہوں نے کوئی عہد کیا۔ (تفہیم القرآن) کیا یوں نہیں کہ جب کبھی انہوں نے وعدہ کیا۔ (ضیاء القرآن) ۔
بنذہ۔ نبذ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ نبذ (باب ضرب) مصدر بمعنی پھینکنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ اس نے اس کا پھینک دیا۔ یا توڑ دیا۔ ضمیر کا مرجع عھد ہے (باب نصر) سے بمعنی نچوڑنا بھی آتا ہے اسی سے نبیذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–103
لغات القرآن : آیت نمبر 97 تا 103
عدو (دشمن) ۔ قلب (دل) ۔ بشری (خوش خبری) ۔ عھدوا (انہوں نے وعدہ کیا) ۔ نبذ (پھینک دیا) ۔ اوتوالکتب (کتاب دی گئی (اہل کتاب) ۔ ظھور (ظہر، پیٹھ) ۔ کانھم (گویا کہ وہ سب) ۔ تبعوا (انہوں نے پیروی کی، پیچھے لگے) ۔ ملک (سلطنت، حکومت) ۔ السحر (جادو) ۔ بابل (ایک شہر کا نام ) ۔ ما یعلمان (وہ دونوں نہیں سکھاتے تھے ) ۔ فتنۃ (آزمائش) ۔ یفرقون (جدائی ڈالتے ہیں) ۔ المرء (مرد) ۔ زوج (بیوی) ۔ بضارین (نقصان پہنچانے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 97 تا 103
انسان جب بغض و حسد، ضد اور فرقہ پرستی کے جنون میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پھر وہ سامنے کی معمولی سی بات کو بھی سمجھنے کی اہلیت کھو بیٹھتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
شان نزول : بعضے یہود نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا اور ید بیضا کی طرح آپ کو کوئی صریح اور صاف معجزہ نہیں ملا پھر ہم آپ کو کیونکر اللہ کا رسول جان لیں ۔ دوسرے توریت میں ایسا کوئی عہد نہیں ہے جس سے ہم لوگوں پر نبی آخر الزماں کی مدد لازم ہو ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور یہود کی پہلی بات کا جواب یہ دیا کہ ان لوگوں کی وہ باتیں جو سوا ان کے علماء کے دوسرے کسی کو معلوم نہٰں جبکہ نبی آخرالزماں پر قرآن کے ذریعے سے روزانہ نازل ہوتی ہیں ، اور نبی آخر الزماں باوجود امی ہونے کے ان باتوں کی ایسی صحیح اطلاع ان لوگوں کو دیتے ہیں جن کو یہ لوگ اپنی آسمانی کتاب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
[66] ایک مقرب فرشتے کا نام جن کے ذمہ مخلوق کی رزق رسانی اور بارش کا انتظام ہے۔ تورات میں ان کا ذکر
بڑے تعظیمی لہجہ میں موجود ہے۔ یہود ان کو اپنا قومی محافظ سمجھتے تھے۔
[67] تورات میں جبرائیل کے ہاتھوں عذاب کا نازل ہونا بھی مذکور تھا اسی وجہ سے یہودی جبرائیل سے خوش نہ تھے اور ان کو گالیاں دیتے تھے اور کیونکہ تمام فرشتے اللہ کے لشکر ہیں اس لئے جو ایک کا دشمن ہوا وہ دوسرے کا بھی۔
Read the full tafseer →(ف 1) بنی اسرائیل ایک آنے والے نبی کے منتظر تھے اور انہوں نے اس کی اعانت ونصرت کا عہد کر رکھا تھا ، لیکن جب وہ آگیا جس کا انتظار تھا تو منکر ہوگئے ، وجہ یہ تھی کہ ان کے دل دولت ایمان سے محروم تھے ، مال و دولت کے سوا انکی زندگی کا اور کوئی مقصد نہ تھا (آیت) ” اکثرھم “ کہہ کر قرآن نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کچھ لوگ یہودیوں میں ایسے بھی تھے جو نیک سرشت تھے ، یہ حالت اکثریت کی نہ تھی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
ف 2 اور بلاشبہ ہم نے آپ کی جانب بہت سے دلائل واضح نازل فرمائے ہیں اور ایسے دلائل وبراہین کا کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا مگر وہی شخص جو نافرمانی اور عدول حکمی کا عادی ہو اور کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے کہ جب کبھی بھی ان لوگوں نے کوئی عہد کیا تو ان ہی میں سے ایک جماعت نے اس عہد کو توڑ پھینکا بلکہ ان میں اکثر تو ایسے ہیں کہ وہ اس عہد کا یقین ہی نہیں رکھتے اور جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ رسول تشریف لائے جو اس کتاب کی جوان کے پاس ہے تصدیق بھی فرماتے ہیں تو ان ہی اہل کتاب میں سے ایک فریق نے اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی توریت کو اس پس پشت ڈال دیا کہ گویا ان کو بالکل اس کتاب کے احکام کا علم ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
ف 3۔ بعض یہود نے حضور ﷺ سے یہ سن کر جبرائیل (علیہ السلام) وحی لاتے ہیں کہا کہ ان سے تو ہماری عداوت ہے احکام شاقہ اور واقعات ہائلہ ان ہی کے ہاتھوں آیا کہتے ہیں میکائیل خوب ہیں کہ بارش اور رزق ان سے متعلق ہے اگر وہ وحی لایا کرتے تو ہم مان لیتے اس آیت میں اسی کا رد ہے۔
Read the full tafseer →یہود کی اس سرکشی کا بیان کہ ” وہ وعدہ ہی کیا جو ایفا ہوگیا “ :
189: جیسا کے آپ پیچھے پڑھتے چلے آ رہے ہیں کہ بنی اسرائیل کی پوری تاریخ غداری ، عہد شکنی ، نافرمانی اور سر کشی کی ایک مسلسل تاریخ ہے۔ تورات کے صفحے ، انجیل کے اوراق اور قدیم مؤرخین یہود کے دفتر کے دفتر سب اس سرگذشت سے لبریز ہیں اور یہاں اشارہ ان کی اس قومی خصوصیت کی طرف ہے کہ عہد کرنا اور توڑنا ان کو ورثہ میں ملا ہے یہ گویا ان کو کبھی محسوس بھی نہیں ہوتا کہ عہد کرنا اور توڑدینا کوئی جرم کی بات ہے۔ جرم تو وہ ہوتا ہے کہ کم ازکم کرنے والا بھی اس کو جرم سمجھے اور پھر کرے۔ ان کی حالت تو ایسی ہوچکی ہے کہ انہوں نے اس جرم کو کبھی جرم خیال…
Read the full tafseer →Allah had, as the Torah تورات itself reports, made the Jews take the pledge that they would have faith in the Holy Prophet ﷺ when he appeared. On being reminded of it, the Jews flatly denied even having taken such a pledge.
Commenting on this effrontery, the Holy Qur'an says that this is not the only instance of such a conduct on their part, for the Jews have, in fact, never fulfilled even those pledges which they acknowledge, and one group or another from among them has always been breaking the compacts they have entered into, especially with regard to religious matters. It can even be said…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
100. The Jews not only reviled the Prophet (peace be on him) and his followers but also God's chosen angel, Gabriel, denouncing him as their enemy, and branding him as the angel of curse rather than of blessing.
101. Since Gabriel communicated the revealed messages with God's approval the abuses of the Jews which were apparently aimed at Gabriei should be considered as directed at God.
102. They abused Gabriel because he had brought the Qur'an from God, and since the Qur'an on the whole confirms the Torah this too became a co-sharer in those abuses.
103. Here there is a subtle suggestion that…
Read the full tafseer →