Explained with ayahs 101–103
جادو اور شعر
کبھی شیاطین کا نام لے کر شیطانی کام سے بھی لوگ کرتے ہیں کبھی دواؤں وغیرہ کے ذریعہ سے بھی جادو کیا جاتا ہے حضور ﷺ کے اس فرمان کے مطابق کہ بعض بیان جادو ہیں دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ بطور تعریف کے آپ نے فرمایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ بطور مذمت کے یہ ارشاد ہوا ہو کہ وہ اپنی غلط بات اس طرح بیان کرتا ہے کہ سچ معلوم ہوتی ہے جیسے ایک اور حدیث میں ہے کہ کبھی میرے پاس تم مقدمہ لے کر آتے ہو تو ایک اپنی چرب زبانی سے اپنے غلط دعویٰ کو صحیح ثابت کردیتا ہے وزیر ابو المظفر یحییٰ بن محمد بن ہبیر رحمتہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب " الاشراف علی مذاہب الاشراف " میں سحر کے باپ میں کہا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
سورة الْبَقَرَة 100
یہودی صرف نبی ﷺ کو اور آپ پر ایمان لانے والوں ہی کو برا نہ کہتے تھے، بلکہ خدا کے برگزیدہ فرشتے جبریل کو بھی گالیاں دیتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ ہمارا دشمن ہے۔ وہ رحمت کا نہیں، عذاب کا فرشتہ ہے۔
سورة الْبَقَرَة 101
یعنی اس بنا پر تمہاری گالیاں جبریل پر نہیں بلکہ خداوند برتر کی ذات پر پڑتی ہیں۔
سورة الْبَقَرَة 102
مطلب یہ ہے کہ یہ گالیاں تم اسی لیے تو دیتے ہو کہ جبریل یہ قرآن لے کر آیا ہے اور حال یہ ہے کہ یہ قرآن سراسر تورات کی تائید میں ہے۔ لہٰذا تمہاری گالیوں میں تورات بھی حصّے دار ہوئی۔
سورة الْبَقَرَة 103
اِس میں لطیف اشارہ ہے اس مضمون کی طرف کہ نادانو، اصل میں تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
خلاصہ تفسیر
(اس آیت میں ایک خاص عہد شکنی کا ذکر فرماتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لانے میں کلام تھا ارشاد ہوتا ہے) اور جب ان کے پاس ایک (عظیم الشان) پیغمبر آئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو (رسول ہونے کے ساتھ) تصدیق بھی کر رہے ہیں اس کتاب کی جو ان لوگوں کے پاس ہے (یعنی توراۃ کی کیونکہ اس میں آپ کی نبوت کی خبر ہے تو اس حالت میں آپ پر ایمان لانا عین توراۃ پر عمل تھا جس کو وہ بھی کتاب اللہ جانتی ہیں مگر باوجود اس کے بھی) ان اہل کتاب میں کے ایک فریق نے خود اس کتاب اللہ ہی کو اس طرح پس پشت ڈال دیا جیسے ان کو (اس کے مضمون کا یا کتاب اللہ ہونے کا) گویا اصلاً علم ہی نہیں ،
Read the full tafseer →اوپر والی آیت میں یہود کی عہد شکنی کی جس روش کا ذکر ہوا ہے اس آیت میں اسی کی واقعاتی شہادت پیش کر دی گئی ہے کہ دیکھو جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول آیا جو ان پیشین گوئیوں کے بالکل مطابق ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود ہیں تو ان کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو اس طرح پیٹھ پیچھے پھینک دیا گویا اس سے کبھی آشنا ہی نہیں ہیں۔
“رسول”سے مراد نبی ﷺ ہیں۔ لفظ اگرچہ نکرہ کی صورت میں استعمال ہوا ہے لیکن بعد کی صفات اور سیاق وسباق سے مراد متعین ہو جاتی ہے۔ نیز اس سے رسول کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔
“کتاب اللہ”سے مراد تورات بھی ہو سکتی ہے اور قرآن بھی۔ تورات مراد لینے کی صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ ان اہل…
Read the full tafseer →11۔ 1 اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرما رہا ہے کہ ہم نے آپ ﷺ کو بہت سی آیات بیّنات عطا کی ہیں، جن کو دیکھ کر یہود کو بھی ایمان لے آنا چاہیے تھا۔ علاوہ ازیں خود ان کی کتاب تورات میں بھی آپ ﷺ کے اوصاف کا ذکر اور آپ ﷺ پر ایمان لانے کا عہد موجود ہے، لیکن انہوں نے پہلے بھی کسی عہد کی کب پرواہ کی ہے جو اس عہد کی وہ کریں گے ؟ عہد شکنی ان کے گروہ کی ہمیشہ عادت رہی ہے۔ حتٰی کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو بھی اس طرح پس پشت ڈال دیا، جیسے وہ اسے جانتے ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
65:: بعض یہودیوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ آپ کہ پاس جبرئیل ؑ وحی لاتے ہیں وہ چونکہ ہمارے لئے بڑے سخت احکام لایا کرتے تھے اس لئے ہم انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں، اگر کوئی اور فرشتہ وحی لارہا ہو تو ہم کچھ غور کرسکتے تھے، یہ آیت اس کے جواب میں نازل ہوئی ہے اور جواب کا حاصل یہ ہے کہ جبرئیل ؑ تو محض پیغام پہنچانے والے ہیں، جو کچھ لاتے ہیں اللہ کے حکم سے لاتے ہیں، لہذا نہ ان سے دشمنی کی کوئی معقول وجہ ہے اور نہ اس کی و جہ سے اللہ کے کلام کو رد کرنے کا کوئی معنی ہے۔
Read the full tafseer →یہ ہے صفت ایک شریف ، راستباز اور اصول پرست جماعت کی ۔ اس سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوجاتی ہے کہ بدکردار یہودیوں کے اخلاق اور راستباز مسلمانوں کے اخلاق کے درمیان کیا فرق ہوتا ہے ۔
وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ (101)
” اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول اس کتاب کی تصدیق وتائید کرتا ہوا آیا جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اس طرح پس پشت ڈالا کہ وہ گویا وہ کچھ جانتے ہی نہیں۔ “
یہ وعدہ خلافی کی…
Read the full tafseer →4 رسول سے مراد حضـرت محمد ﷺ اور مامعھم سے تورات اور کتاب اللہ سے بھی تورات مراد ہے۔ یعنی جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے حالانکہ وہ تورات وغیرہ کتب کے مصدق تھے تو یہود کی ایک جماعت نے خود تورات کو پس پشت ایسا ڈال دیا کہ گویا جانتے ہی نہیں کہ یہ کیا کتاب ہے اور اس میں کیا کیا حکم ہیں سو ان کو جب اپنی ہی کتاب پر ایمان نہیں تو ان سے آگے کو کیا امید کی جائے۔
Read the full tafseer →آیت 101 وَلَمَّا جَآءَ ‘ ہُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ ق کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَآءَ ظُہُوْرِہِمْ کَاَنَّہُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔
علماء یہود نے نبی آخر الزمان ﷺ کی آمد کی پیشین گوئیاں چھپانے کی خاطر خود تورات کو پس پشت ڈال دیا اور بالکل انجانے سے ہو کر رہ گئے۔ ان کے عوام پوچھتے ہوں گے کہ کیا یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر تم کیا کرتے تھے ؟ لیکن یہ جواب میں کہتے کہ یقین سے نہیں کہہ سکتے ‘ ابھی تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو ! انہوں نے ایسا رویہ اپنا لیا جیسے انہیں کچھ علم نہیں ہے۔
اب ایک اور حقیقت نوٹ کیجیے۔ جب کسی مسلمان امت…
Read the full tafseer →117 یہود کا آیات کو پس پشت ڈال دینا :۔ یہاں دوبارہ یہود کے اس کردار پر گرفت کی گئی ہے کہ تورات میں مذکور نشانیوں کے مطابق یہود نے نبی آخر الزمان ﷺ کو پوری طرح پہچان تو لیا۔ مگر ایمان لانے سے انکار کرنے کے بعد انہوں نے اس کتاب کے ان حصوں کو یوں فراموش کردیا جیسے وہ انہیں کبھی جانتے ہی نہ تھے۔
Read the full tafseer →349 یعنی کتاب توریت کی۔ یہود کو بتایا یہی جارہا ہے کہ نئے نبی جو آئے ہیں یہ تمہاری کتاب اور اس کے دین کو مٹانے کے لیے نہیں، یہ تو عین اسے تازگی بخشنے، اسے حیات تازہ دینے کے لیے آئے ہیں۔ (آیت) ” رسول “ یہ کس پیغمبر کے آنے کا ذکر ہے ؟ جائز ہے کہ (آیت) ” رسول “ کو مطلق رسول کے معنی میں لیا جائے، اور مراد اس سے کوئی بھی پیغمبر سمجھا جائے، یہ معنی بھی یہود کی عام عادت تکذیب انبیاء ورسل کے لحاظ سے صحیح ہیں۔ لیکن ترجیح اس پہلو کو ہے کہ یہاں مراد رسول موعود، نبی آخرالزمان ﷺ ہیں۔ اور (آیت) ” رسول “ کا صیغہ نکرہ میں ہونا اس کے منافی نہیں۔ صیغہ نکرہ جس طرح تعمیم کے لیے آتا ہے، عظمت و تکریم کے لیے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
اَوَکُلَّمَا عٰھُدُوْا عَھَدًا نَّبَذَہٗ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ ، یعنی ان کی پرانی عادت ہے کہ : جب اللہ یا رسول یا کسی شخص سے کوئی عہد معاہدہ یا قول وقرار کرتے ہیں، تو ان میں کی ایک جماعت اس عہد کو پس پشت ڈال دیتی ہے، بلکہ بہت سے یہودی ایسے بھی ہیں جو تورات پر بھی ایمان نہیں رکھتے۔
Read the full tafseer →وَلَمَّا جَاۗءَھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ( اور جب آیا ان کے پاس خدا کی طرف سے رسول) رسول سے مراد عیسیٰ اور محمد ﷺ ہیں۔
مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ نَبَذَ فَرِيْقٌ مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ ڎ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِھِمْ ( جو ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا ہے تو جس فرقہ کو کتاب دی گئی تھی اس نے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا) مَا سے مراد تورات ہے پیٹھ کے پیچھے پھینکنے سے حقیقی معنی مراد نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ کتاب اللہ پر عمل نہ کیا اگر عمل کرتے تو ہر نبی پر ایمان لانا پڑتا کیونکہ اس کا مقتضی تو یہی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کے اعراض کرنے اور احکام مندرجہ تورات ( یعنی بعد…
Read the full tafseer →(101) اور جس وقت ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایسا رسول آتا ہے جو ان صفات واوصاف کا مالک ہوتا ہے جن ان کی کتاب میں تذکرہ ہے تو یہ اہل کتاب توریت کو اپنے پس پشت ڈال دیتے ہیں اور توریت میں حضور اکرم ﷺ کی جو صفات اور آپ کے اوصاف کا ذکر ہے، ان پر ایمان نہیں لاتے اور نہ کسی کے سامنے ان کو بیان کرتے ہیں۔ ان جاہل یہودیوں نے تمام انبیاکرام کی کتابوں کو پس پشت ڈال دیا ہے۔
Read the full tafseer →3 یعنی رسول اللہ ﷺ میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جو تورات اور دوسری آسمانی کتب ”لِّمَا مَعَھُمْ“ میں نبی آخر الزمان کے مذکور تھے۔ اس اعتبار سے آپ ﷺ تورات اور ان کے پاس موجود دوسری آسمانی کتب ”لِّمَا مَعَھُمْ“ کے پوری طرح مصداق تھے، مگر یہود کی بدنصیبی کہ جب آپ ان کے پاس آئے تو انھوں نے آپ ﷺ کو جھٹلا کر تورات کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا، گویا انھیں اپنی کتاب کا بھی پتا نہیں۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →آیت نمبر 101
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولما جاء ھم رسولٌ من عند اللہ مصدقٌ لما معھم یہ رسول کی نعت ہے اور حال کی بنا پر اسے منصوب پڑھنا جائز ہے نبذ فریقٌ یہ لما کا جواب ہے من الذین اوتوا الکتب کتب اللہ کتاب اللہ، نبذ کی وجہ سے منصوب ہے، مراد تورات ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ کا انکار اور آپ کو جھٹلانا، یہ کتاب اللہ (تورات) کو پھینکنا ہے۔ سدی نے کہا : انہوں نے تورات کو چھوڑ دیا اور آصف کی کتاب اور ہاروت وماروت کے جادو کو لے لیا (1) ۔ بعض علماء نے فرمایا : کتب اللہ سے قرآن مراد لینا بھی جائز ہے۔ شعبی نے کہا : قرآن ان کے ہاتھوں میں تھا اسے پڑھتے تھے لیکن اس پر عمل انہوں نے ترک کردیا۔ سفیان بن عینیہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس (رح) سے روایت کیا کہ ابن صوریا نے (جو یہودیوں کا بڑا عالم تھا) نبی اکرم ﷺ سے کہا یا محمد ! آپ ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لائے کہ ہم اس کو پہچان لیں اور ہم نہیں جانتے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ پر واضح آیات اتاری ہیں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” ولد انزلنا الیک ایت بینت، وما یکفر بھا الا الفسقون “ اور مالک بن ضعیف (رح) نے کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی اور اس وعدہ کا ذکر کیا گیا اور جو محمد ﷺ کے بارے میں ان سے وعدہ لیا گیا تھا (وہ کہنے لگے) اللہ کی قسم محمد ﷺ کے بارے میں ہم سے کوئی وعدہ اور عہد نہیں لیا گیا…
Read the full tafseer →[ وَلَمَّا : اور جب ] [ جَاۗءَھُمْ : آیا ان کے پاس ] [ رَسُوْلٌ: ایک رسول ] [ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ : اللہ کے پاس سے ] [ مُصَدِّقٌ: تصدیق کرنے والا ] [ لِّمَا : اس کی جو ] [ مَعَھُمْ : ان کے ساتھ ہے ] [ نَبَذَ : تو پھینکا ] [ فَرِيْقٌ: ایک فریق نے ] [ مِّنَ الَّذِيْنَ : ان میں سے جن کو ] [ اُوْتُوا : دی گئی ] [ الْكِتٰبَ ڎ : کتاب ] [ كِتٰبَ اللّٰهِ : اللہ کی کتاب کو ] [ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِھِمْ : اپنی پیٹھوں کے پیچھے ] [ كَاَنَّھُمْ : جیسے کہ وہ لوگ ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : جانتے نہیں ہیں ]
[ وَلَمَّا جَآئَ ہُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ ]
اس عبارت کے تمام کلمات پہلے…
Read the full tafseer →اہل کتاب نے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا
اس آیت شریفہ میں یہودیوں کی اس بات کا ذکر ہے کہ جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم المرتبہ رسول آیا یعنی حضرت محمد مصطفیٰ خاتم النبیین ﷺ اور اس رسول نے اس کتاب کی تصدیق بھی کی جسے یہود مانتے تھے اور اس کو اللہ کی کتاب جانتے تھے (یعنی توریت شریف) تو ان لوگوں نے دونوں کتابوں میں مطابقت ہوتے ہوئے اللہ کی کتاب توریت شریف کو پس پشت ڈال دیا۔ قرآن کو تو قبول کیا ہی نہیں اور توریت شریف کے بھی منحرف ہوگئے اور اس میں جو نبی اکرم ﷺ کی صفات بیان کی گئی تھیں۔ ان کے اظہار کے بجائے ان کو پوشیدہ کرلیا اور اس سے منکر اور منحرف ہوئے کہ گویا وہ جانتے ہی نہیں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
شناعت بست ویکم (21)
قال تعالیٰ ولقد انزلنا الیکم ایت۔۔۔ الی۔۔۔ لوکانوا یعلمون
اور آپ کی نبوت فقط قرآن پر موقوف نہیں کہ جس کے متعلق یہ بہانہ کردیا کہ قرآن تو جبریل لیکر آئے ہیں جو ہمارے دشمن ہیں بلکہ البتہ تحقیق ہم نے آپ کی نبوت و رسالت کے ثابت کرنے کے لیے نہایت واضح اور روشن دلائل نازل کیے جن میں کسی قسم کا اشتباہ اور التباس نہیں اور نہ ان میں جبریل کا توسط ہے پس اگر قرآن کو دلیل نبوت نہیں سمجھتے کہ جبرئیل سے دشمنی ہے تو ان آیات بینات کا تمہارے پاس کیا جواب ہے جن میں جبریل امین کا واسطہ نہیں اور ان کو خود بھی معلوم ہے مگر عناد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ابن صوریا یہودی…
Read the full tafseer →دوسرے شبہ کا جواب :۔ 192 رسول سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں۔ جب ان اسرائیلیوں کے پاس خدا کا پیغمبر ایسا پیغام لے کر آیا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات کی تصدیق کرتا ہے اور جو دعوت توحید اور اصول دین انہوں نے بیان کیے ہیں ان کی تائید و توثیق کرتا ہے۔ صدق مافیھا من قواعد التوحید و اصول الدین واخبار الامم والمواعظ والحکم (روح ص 336 ج 1) نَبَذَ فَرِيْقٌ مِّنَ الَّذِيْنَ ۔ یہ لَمَّا کا جواب ہے اور الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ ۔ سے مراد یہی یہودی ہیں اور كِتٰبَ اللّٰهِ ۔ سے تورات مراد ہے اور نَبَذَ کا مفعول ہے یعنی جب اللہ کا سچا پیغمبر تورات کی تصدیق کرتا ہوا ان کے پاس آیا تو ان تورات پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
شان نزول : یہودیوں کی خرابیوں کا تذکرہ تسلسل کے ساتھ چل رہا ہے۔ آیات زیر درس کے شان نزول کے متعلق مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 349 ، تفسیر طبری ج 1 ص 431 ، ابن کثیر ج 1 ص 129) کہ حضرت نبی (علیہ السلام) کی ہجرت مدینہ کے وقت مدینہ کے گردو نواح میں بہت سے یہودی آباد تھے۔ یہودی علماء میں سے صرف ایک عالم حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ ایمان لائے باقی سب محروم ہی رہے ان میں سے ابن صوریا یک چشم تھا ۔ وہ بعض دوسرے یہودیوں کے ہمراہ حضور نبی کریم ﷺ کا امتحان لینے کے لیے آیا۔ اور آپ سے مختلف سوال کیے۔ اس نے کہا آخری نبی کے خواب سے متعلق ہماری کتابوں میں بعض نشانیاں موجود ہیں۔ آپ اپنے…
Read the full tafseer →وَلَمَّا جَاۗءَھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ نَبَذَ فَرِيْـقٌ مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ 0 ۤۙ كِتٰبَ اللہِ وَرَاۗءَ ظُہُوْرِھِمْ كَاَنَّھُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 101 ۡ
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
ترکیب : او وائو عطف کے لیے اور ہمزہ استفہام انکاری کے لیے ہے اور یہ عطف کلام مقدم کے لیے ہے یعنی افکلما جاء کم بعض کہتے ہیں واو زائدہ ہے بعض کہتے ہیں یہ او ہے واو کو متحرک کردیا۔ عہدا مفعول مطلق من غیر لفظ مذکور اور ممکن ہے کہ مفعول بہ ہو نبذہ الخ جملہ جواب کلما اسی طرح لما جاء جملہ شرط مصدق صفت رسول نبذ فعل فریق الخ فاعل کتب اللہ مفعول وراء ظرف یہ سب جملہ جواب شرط کانہم الخ موضع حال میں ہے۔
تفسیر : یعنی یہ عذر کہ اس قرآن کو جبرئیل لائے ہیں اس لیے ہم اس پر ایمان نہیں لاتے، بےہودہ عذر ہے کس لیے کہ فی نفسہ اس کی آیات واضح اور روشن ہیں ان میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جس کو عقل سلیم نہ مانے۔ پس اس…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
وَلَمَّاجَآئَ ھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌمِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْاالْکِتٰبَ لا کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَآئَ ظَھُوْرِھِمْ کَاَنَّھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ ۔ (البقرۃ : 101)
(اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول ان پیشین گوئیوں کے مطابق آیا جو ان کے پاس موجود ہیں تو ان لوگوں نے جن کو کتاب دی گئی تھی، اللہ کی کتاب کو اس طرح پیٹھ پیچھے پھینکا گویا اس سے آشنا ہی نہیں )
رسول سے مراد
اس آیت کریمہ میں رسول سے مراد محمد رسول ﷺ ہیں۔ ان کی ذرا عہد شکنیوں کو ملاحظہ کیجئے کہ تاریخ کے مختلف اوقات میں ان سے آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کا عہدلیا گیا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ مضمون کا تسلسل جس میں یہودیوں کا کردار پیش کیا جا رہا ہے۔
اے پیغمبر ﷺ ! ہم نے آپ کی طرف واضح ہدایت اور احکامات نازل فرمائے۔ اس کے باوجود یہ لوگ ہدایت کا راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہو رہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ ” اللہ “ کی ہدایات میں کوئی الجھاؤ اور پیچیدگی پائی جاتی ہے ایسا ہرگز نہیں ہماری ہدایات تو بدر منیر کی طرح روشن اور اس کے دلائل ناقابل تردید ہیں۔ ایسی ہدایات اور بیّن دلائل کا انکار تو وہی لوگ کرتے ہیں جنہوں نے دانستہ طور پر نافرمانی کا وطیرہ اپنا لیا ہو۔ ان کی تاریخ یہ ہے کہ جب بھی ان سے عہد لیا گیا تو ان کی اکثریت نے اس عہد کو توڑدیا۔ جب بھی اس…
Read the full tafseer →101: وَلَمَّا جَآئَ ھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ : (جب آیا ان کے پاس اللہ کا رسول) یعنی محمد ﷺ ۔
مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ : (جو ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا ہے تو پھینک دیا ایک گروہ نے ان میں سے جن کو کتاب دی گئی) ۔ الکتب سے مراد تورات۔ اوتوا الکتب سے مراد یہود ہیں۔
کتب اللہ سے مراد :
کِتٰبَ اللّٰہِ : (اللہ تعالیٰ کی کتاب کو) نمبر 1: کتاب اللہ سے مراد تورات۔ کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے انکار کی وجہ سے جو کہ تورات کی تصدیق کرنے والے تھے۔ درحقیقت تورات کا انکار کرنے والے اور اس کو چھوڑنے والے شمار ہوتے تھے۔
نمبر 2: یاکتب اللہ سے مراد قرآن…
Read the full tafseer →(تفسیر) 101۔:
(آیت)” ولما جاء ھم رسول من عندا للہ “ نبی کریم ﷺ (آیت)” مصدق لما معھم نبذ فریق من الذین اوتوا الکتاب کتاب اللہ وراء ظھورھم “ ۔ یعنی تورات اور کہا گیا ہے کہ یہاں کتاب اللہ سے مراد قرآن کریم ہے۔ (آیت)” کانھم لایعلمون “ علامہ شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ تورات پڑھتے تھے اور اس کے ساتھ عمل نہیں کرتے تھے ۔
سفیان بن عیینہ (رح) فرماتے ہیں تورات کو انہوں نے ریشم اور دیباج میں لپیٹا اور سونے اور چاندی کے زیورات چڑھائے اور اس پر عمل نہ کیا پس یہ ہے ان کا تورات کو پھینک دینے کا مفہوم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
(99 ۔ 103) ۔ بعض یہود نے آنحضرت ﷺ سے یہ کہا تھا کہ حضرت موسیٰ کے عصا اور ید بیضا کی طرح آپ کو کوئی صریح اور صاف معجزہ نہیں ملا۔ پھر ہم آپ کو کیونکر اللہ کا رسول جان لیویں۔ اسی گفتگو میں بعض یہود نے یہ بھی کہا تھا کہ تورات میں ایسا کوئی عہد نہیں ہے جس سے ہم لوگوں پر نبی آخر الزمان کی مدد لازم ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور یہود کی پہلی بات کا جواب تو یہ دیا کہ ان لوگوں کی وہ باتیں جو سوا ان کے علماء کے دوسرے کسی کو معلوم نہیں جب کہ نبی آخر الزمان پر قرآن کے ذریعہ سے روزانہ نازل ہوتی ہیں اور نبی آخر الزمان باوجود امی ہونے کے ان باتوں کی ایسی صحیح اطلاع ان لوگوں کو دیتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
یعنی جب ان کے پاس رسول کریم ﷺ اس حق کے ساتھ یہ عظیم کتاب لے کر آئے جو ان کے پاس موجود کتاب کے موافق تھا اور وہ یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ وہ اپنی کتاب پر عمل کرتے ہیں۔ تو انہوں نے اس رسول اور اس کتاب کو ماننے سے انکار کردیا جس کو یہ رسول لے کر آئے (آیت) نَبَذَ فَرِيْقٌ مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ ڎ كِتٰبَ اللّٰهِ ” اہل کتاب کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پھینک دیا “ یعنی وہ کتاب جو ان کی طرف نازل کی گئی تھی اس کو بےرغبتی کے ساتھ دور پھینک دیا (ورآء ظھورھم) ” اپنی پیٹھوں کے پیچھے “ روگردانی اور اعراض کے لئے یہ بلیغ ترین محاورہ ہے گویا وہ اپنے اس فعل کے ارتکاب میں سخت جہالت کا مظاہرہ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–102
ساحر کا حکم
قول باری ہے : واتبعوا ماتتلوا الشیطین علی ملک سلمین، وما کفر سلیمن ولکن الشیطین کفروا ( اور ان چیزوں کی پیروی کرنے جو شیاطین سلیمان کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا۔ کفر کے مرتکب تو شیاطین تھے) تا آخر آیت
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہاں سحر، یعنی جادو کی حققیت پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے کیونکہ بہت سے اہل علم کی نظروں سے بھی یہ بات پوشیدہ ہے، عوام الناس کا تو پوچھنا ہی کیا، اس کے بعد ہم معانی اور احکام کے سلسلے میں مذکورہ بالا آیت کے مقتضاد کو سامنے رکھ کر جادو کا حکم بیان کریں گے۔
اہل لغت کے قول کے مطابق سحر ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو بہت…
Read the full tafseer →280 نبی آخر الزماں کی بعثت و تشریف اور یہود کا ردِّعمل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب آگیا ان کے پاس ایک عظیم الشان رسول۔ یعنی نبئ آخر الزماں، امام الانبیاء والمرسلین، خاتم الرسل والنبیین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جن کی شان سب سے بڑی اور جن کی نبوت و رسالت قیامت تک کے سب زمانوں اور جملہ انسانوں کیلئے عام ہے تو انہوں نے اس کا انکار کردیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ صَلَوَات اللّٰہ وَسَلامُہٗ عَلَیْہ وَعَلٰی آلہ وصَحْبِہٖ اِلٰی یَوْم الْعَرْض عَلَی اللّٰہ وَ اللِّقَائِ ۔ سو اس عظیم الشان نعمت اور جلیل احسان خداوندی کا تقاضا یہ تھا کہ یہ لوگ آگے بڑھ کر اس نعمت کو اپناتے، اس کی قدر کرتے، اور اس پیغمبر آخر الزمان پر…
Read the full tafseer →سفلی عملیات کی خرابیاں
تشریح : اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ یہود کے دین کو مٹانے کے لئے نہیں آئے، بلکہ وہ تو تمہارے دین کو نئی زندگی اور تازگی دینے کیلئے آئے ہیں۔ ان کی تعلیم بھی اصلاح انسانیت پر مبنی ہے توحید کا سبق دینا ہے، تمہارے دین کی اصل بنیاد بھی یہی ہے اس لئے اگر تم ان کی بات نہیں مانتے تو گویا تم اپنے دین کو نہیں مانتے۔ ان تمام وضاحتوں کے باوجود یہودیوں نے محمد ﷺ کی بھرپور مخالفت کی اور اس مخالفت میں انہوں نے ان تمام نشانیوں کو جو حضور ﷺ کے بارے میں تورات میں دی گئی تھیں بدل دیا، بلکہ اس کوشش میں تورات کے مضامین کو ہی بدل دیا اور محمد ﷺ سے متعلق تمام بشارتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–103
آیات 97- 103
اسرارومعارف
جب علمائے بنی اسرائیل عقل ونقل میں عاجز ہوئے تو صورت ایک مباہلہ کی بنی ، جب وہاں بھی ناکام ہوئے تو اب سوائے تسلیم کے چارہ نہ تھا اور راہ وہ اختیار نہ کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا ایک اور عذر لنگ تراشا کہ نبی تو برحق ہیں اور ہم مان بھی ضرور لیتے مگر یہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) مجھ پر وحی لاتے ہیں اور یہ وہ فرشتہ ہے جو بارہا ہم پر بربادی لایا اور ہمارے آبائو اجداد سے سختیاں کیں۔ اگر کوئی اور فرشتہ مثلاً میکائیل ہی وحی لاتا تو ضرور ہم بھی تسلیم کرتے مگر جبرائیل کے ساتھ ہماری بنتی نہیں ہے اس وجہ سے ہم نبوت محمدی ﷺ کا اتباع نہیں کرسکتے۔
یہ ساری بات انہوں نے جہلاء کو…
Read the full tafseer →ج 6 یعنی تورات اور دیگر آسمانی کتب لما معھم) میں نبی آخرالز مان کے جو اوصاف مذکور تھے وہ سب آنحضرت ﷺ میں موجود تھے۔ اس اعتبار سے آنحضرت تورات اور مامعھم کے مصداق تھے مگر یہود کی بدنصیبی کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی تکذیب کر کے تورات کو پس پشت ڈال دیا۔ گو یا اپنی کتاب کا بھی پتہ نہیں۔ (ابن کثیر )
Read the full tafseer →(2:101) لما جب۔ لما کئی طرح سے استعمال ہوتا ہے۔
(1) بطور حرف شرط۔ اس صورت میں ماضی کے دو و جملوں پر آتا ہے مثلاً آیت ہذا کہ ماضی کے دو جملوں جاء ہم رسول ۔۔ نبذ فریق جو بالترتیب جملہ شرطیہ، جملہ جزائیہ ہیں۔ یا اور جگہ قرآن مجید میں ہے فلما نجکم الی البر اعرضتم (17:67) پھر جب وہ (ڈوبنے سے) بچا کر تم کو خشکی کی طرف لے آیا تم نے منہ پھیرلیا۔ جب کے معنی میں اسم ظرف بھی ہے۔ ای۔ اذ
(2) بطور حرف استثناء بمعنی الا مگر۔ مثلاً ان کل نفس لما علیہا حافظ (86:4) کوئی نفس نہیں مگر اس پر نگران (فرشتہ) مامور ہے
(3) حرف جازم فعل، مضارع پر داخل ہوکر اس کو جزم دیتا ہے اور مضارع کو ماضی منفی مؤکد کردیتا ہے۔
(ا)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–103
لغات القرآن : آیت نمبر 97 تا 103
عدو (دشمن) ۔ قلب (دل) ۔ بشری (خوش خبری) ۔ عھدوا (انہوں نے وعدہ کیا) ۔ نبذ (پھینک دیا) ۔ اوتوالکتب (کتاب دی گئی (اہل کتاب) ۔ ظھور (ظہر، پیٹھ) ۔ کانھم (گویا کہ وہ سب) ۔ تبعوا (انہوں نے پیروی کی، پیچھے لگے) ۔ ملک (سلطنت، حکومت) ۔ السحر (جادو) ۔ بابل (ایک شہر کا نام ) ۔ ما یعلمان (وہ دونوں نہیں سکھاتے تھے ) ۔ فتنۃ (آزمائش) ۔ یفرقون (جدائی ڈالتے ہیں) ۔ المرء (مرد) ۔ زوج (بیوی) ۔ بضارین (نقصان پہنچانے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 97 تا 103
انسان جب بغض و حسد، ضد اور فرقہ پرستی کے جنون میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پھر وہ سامنے کی معمولی سی بات کو بھی سمجھنے کی اہلیت کھو بیٹھتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
شان نزول : بعضے یہود نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا اور ید بیضا کی طرح آپ کو کوئی صریح اور صاف معجزہ نہیں ملا پھر ہم آپ کو کیونکر اللہ کا رسول جان لیں ۔ دوسرے توریت میں ایسا کوئی عہد نہیں ہے جس سے ہم لوگوں پر نبی آخر الزماں کی مدد لازم ہو ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور یہود کی پہلی بات کا جواب یہ دیا کہ ان لوگوں کی وہ باتیں جو سوا ان کے علماء کے دوسرے کسی کو معلوم نہٰں جبکہ نبی آخرالزماں پر قرآن کے ذریعے سے روزانہ نازل ہوتی ہیں ، اور نبی آخر الزماں باوجود امی ہونے کے ان باتوں کی ایسی صحیح اطلاع ان لوگوں کو دیتے ہیں جن کو یہ لوگ اپنی آسمانی کتاب کے…
Read the full tafseer →[68] اللہ کی کتاب سے مراد تورات ہے۔ یہودی قرآن اور صاحب قرآن کی مخالفت کی دھن میں اپنی کتاب تورات تک سے بےپروا ہوگئے تھے جس میں نبی آخرالزماں ﷺ کی بابت پیش گوئیاں، ان کی علامتیں اور ان پر ایمان لانے کی تاکید درج تھی۔
Read the full tafseer →(ف 2) رسول ﷺ کے من عند اللہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس کا پیغام براہ راست مستفادہ ہوتا ہے ، جناب قدس سے (آیت) ” وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی “ اس کی ساری زندگی آئینہ ہوتی ہے ، رضائے الہی کا (آیت) ” وھم بامرہ یعملون “ اور وہ تمام پہلی تعلیمات کا مصدق ہوتا ہے لیکن اہل کتاب کی شومی عقل ملاحظہ ہو کہ باوجود ان سب چیزوں کے دیکھنے کے منکر ہی رہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
ف 2 اور بلاشبہ ہم نے آپ کی جانب بہت سے دلائل واضح نازل فرمائے ہیں اور ایسے دلائل وبراہین کا کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا مگر وہی شخص جو نافرمانی اور عدول حکمی کا عادی ہو اور کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے کہ جب کبھی بھی ان لوگوں نے کوئی عہد کیا تو ان ہی میں سے ایک جماعت نے اس عہد کو توڑ پھینکا بلکہ ان میں اکثر تو ایسے ہیں کہ وہ اس عہد کا یقین ہی نہیں رکھتے اور جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ رسول تشریف لائے جو اس کتاب کی جوان کے پاس ہے تصدیق بھی فرماتے ہیں تو ان ہی اہل کتاب میں سے ایک فریق نے اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی توریت کو اس پس پشت ڈال دیا کہ گویا ان کو بالکل اس کتاب کے احکام کا علم ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
ف 3۔ بعض یہود نے حضور ﷺ سے یہ سن کر جبرائیل (علیہ السلام) وحی لاتے ہیں کہا کہ ان سے تو ہماری عداوت ہے احکام شاقہ اور واقعات ہائلہ ان ہی کے ہاتھوں آیا کہتے ہیں میکائیل خوب ہیں کہ بارش اور رزق ان سے متعلق ہے اگر وہ وحی لایا کرتے تو ہم مان لیتے اس آیت میں اسی کا رد ہے۔
Read the full tafseer →جب ان کے پاس رسول آیا ” رسول “ سے مراد کونسا رسول ہے ؟
191: یہود سے کہا جاتا ہے کہ کتاب پر عمل کرنا تمہارا مقصد نہیں ، تمہاری قومی خصوصیت ہے عہد کرنا اور توڑ دینا۔ تمہارے پاس مختلف اوقات میں تورات کی تصدیق کرنے والے رسول آتے رہے مگر تم نے ان کی کوئی پروا نہ کی۔ اب تم مسلمانوں پر الزام رکھنے کے لئے یہ دریافت کیا کہ وحی لانے والا کون ہے ؟ تمہارا یہ مقصد ہرگز نہ تھا کہ صداقت ظاہر ہونے کے بعد اس کو مان لیں گے۔
قاعدہ یہ ہے کہ جب ایک قوم اپنی تمام دنیاوی عزتوں کو اپنی نالائقی سے کھو بیٹھتی ہے تو اس وقت یہ کہنا شروع کردیتی ہے کہ مذہب کو دنیا سے کوئی تعلق نہیں وہ صرف روحانیت کی تعلیم دیتا ہے اور آخرت…
Read the full tafseer →The previous verse had told us how the breaking of pledges and disobedience had become a regular habit with the Jews. The present verse gives us the latest instance, which is the most relevant to the context.
The Torah had already given the Jews the good tidings of the coming of the Holy Prophet . When he actually came with all signs which the Torah had indicated, thus confirming the Sacred Book of the Jews, a large number of them refused to accept him as a prophet. In doing this, they were, in fact, denying the Torah itself, and behaving as if they know nothing of the prophecy, or even the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
100. The Jews not only reviled the Prophet (peace be on him) and his followers but also God's chosen angel, Gabriel, denouncing him as their enemy, and branding him as the angel of curse rather than of blessing.
101. Since Gabriel communicated the revealed messages with God's approval the abuses of the Jews which were apparently aimed at Gabriei should be considered as directed at God.
102. They abused Gabriel because he had brought the Qur'an from God, and since the Qur'an on the whole confirms the Torah this too became a co-sharer in those abuses.
103. Here there is a subtle suggestion that…
Read the full tafseer →