Al-Baqara 2:102

Al-Baqara · from ayah 102

2:102

وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰی مُلْكِ سُلَیْمٰنَ ۚ— وَمَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَلٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ ۗ— وَمَاۤ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَمَارُوْتَ ؕ— وَمَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ؕ— فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهٖ ؕ— وَمَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ؕ— وَیَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَلَا یَنْفَعُهُمْ ؕ— وَلَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ؕ۫— وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ ؕ— لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ۟وَاتَّبَعُوۡا مَا تَتۡلُوا الشَّيٰطِيۡنُ عَلٰى مُلۡكِ سُلَيۡمٰنَ‌‌ۚ وَمَا کَفَرَ سُلَيۡمٰنُ وَلٰـكِنَّ الشَّيٰـطِيۡنَ كَفَرُوۡا يُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ وَمَآ اُنۡزِلَ عَلَى الۡمَلَـکَيۡنِ بِبَابِلَ هَارُوۡتَ وَمَارُوۡتَ‌ؕ وَمَا يُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ حَتّٰى يَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٌ فَلَا تَكۡفُرۡؕ‌ فَيَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُوۡنَ بِهٖ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَ زَوۡجِهٖ‌ؕ وَمَا هُمۡ بِضَآرِّيۡنَ بِهٖ مِنۡ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ‌ؕ وَيَتَعَلَّمُوۡنَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡ‌ؕ وَلَقَدۡ عَلِمُوۡا لَمَنِ اشۡتَرٰٮهُ مَا لَهٗ فِى الۡاٰخِرَةِ مِنۡ خَلَاقٍ‌ؕ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ‌ؕ لَوۡ کَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ

اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا، اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، وہ بری تھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they followed [instead] what the devils had recited during the reign of Solomon. It was not Solomon who disbelieved, but the devils disbelieved, teaching people magic and that which was revealed to the two angels at Babylon, Harut and Marut. But the two angels do not teach anyone unless they say, "We are a trial, so do not disbelieve [by practicing magic]." And [yet] they learn from them that by which they cause separation between a man and his wife. But they do not harm anyone through it except by permission of Allah. And the people learn what harms them and does not benefit them. But the Children of Israel certainly knew that whoever purchased the magic would not have in the Hereafter any share. And wretched is that for which they sold themselves, if they only knew.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 12 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:102

اور لگے اُن چیزوں کی پیروی کرنے، جو شیا طین، سلیمانؑ کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمانؑ نے کبھی کفر نہیں کیا، کفر کے مرتکب تو وہ شیاطین تھے جو لوگوں کو جادو گری کی تعلیم دیتے تھے وہ پیچھے پڑے اُس چیز کے جو بابل میں دو فرشتوں، ہاروت و ماروت پر نازل کی گئی تھی، حالانکہ وہ (فرشتے) جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے، تو پہلے صاف طور پر متنبہ کر دیا کرتے تھے کہ "دیکھ، ہم محض ایک آزمائش ہیں، تو کفر میں مبتلا نہ ہو" پھر بھی یہ لوگ اُن سے وہ چیز سیکھتے تھے، جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں ظاہر تھا کہ اذنِ الٰہی کے بغیر وہ اس ذریعے سے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچا سکتے تھے، مگراس کے باوجود وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود ان کے لیے نفع بخش نہیں، بلکہ نقصان د ہ تھی اور انہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں کتنی بری متاع تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، کاش انہیں معلوم ہوتا!

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا، اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، وہ بری تھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے۔ سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا، وه لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے، اور بابل میں ہاروت ماروت دو فرشتوں پرجو اتارا گیا تھا، وه دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر، پھر لوگ ان سے وه سیکھتے جس سے خاوند وبیوی میں جدائی ڈال دیں اور دراصل وه بغیر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، یہ لوگ وه سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نفع نہ پہنچا سکے، اور وه بالیقین جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور وه بدترین چیز ہے جس کے بدلے وه اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ (بنی اسرائیل) ان (منتروں) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان ؑ کی سلطنت کے زمانے میں شیاطین پڑھا کرتے تھے۔ اور سلیمان ؑ نے کوئی کفر نہیں کیا تھا، البہ شیاطین لوگوں کو جادو کی تعلیم دے کر کفر کا ارتکاب کرتے تھے۔ نیز (یہ بنی اسرائیل) اس چیز کے پیچھے لگ گئے جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت نامی دو فرشتوں پر نازل کی گئی تھی۔ یہ دو فرشتے کسی کو اس وقت تک کوئی تعلیم نہیں دیتے تھے جب تک اس سے یہ نہ کہہ دیں گے کہ : ہم محض آزمائش کے لیے (بھیجے گئے) ہیں، لہذا تم (جادو کے پیچھے لگ کر) کفر اختیار نہ کرنا۔ پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیزیں سیکھتے تھے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی پیدا کردیں۔ (ویسے یہ واضح رہے کہ) وہ اس کے ذریعے کسی کو اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ (مگر) وہ ایسی باتیں سیکھتے تھے جو ان کے لیے نقصان دہ تھیں اور فائدہ مند نہ تھیں۔ اور وہ یہ بھی خوب جانتے تھے کہ جو شخص ان چیزوں کا خریدار بنے گا، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز بہت بری تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچ ڈالیں۔ کاش کہ ان کو (اس بات کا حقیقی) علم ہوتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے سلطنت سلیمان کے زمانہ میں اور سلیمان نے کفر نہ کیا ہاں شیطان کافر ہوئے لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں اور وہ (جادو) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر اترا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں تو اپنا ایمان نہ کھو تو ان سے سیکھتے وہ جس سے جدائی ڈالیں مرد اور اس کی عورت میں اور اس سے ضرر نہیں پہنچا سکتے کسی کو مگر خدا کے حکم سے اور وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان دے گا نفع نہ دے گا اور بیشک ضرور انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور بیشک کیا بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچیں کسی طرح انہیں علم ہوتا-

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ (یہود تو) اس چیز (یعنی جادو) کے پیچھے (بھی) لگ گئے تھے جو سلیمان ؑ کے عہدِ حکومت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے حالانکہ سلیمان ؑ نے (کوئی) کفر نہیں کیا بلکہ کفر تو شیطانوں نے کیا جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور اس (جادو کے علم) کے پیچھے (بھی) لگ گئے جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت (نامی) دو فرشتوں پر اتارا گیا تھا، وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے تھے یہاں تک کہ کہہ دیتے کہ ہم تو محض آزمائش (کے لئے) ہیں سو تم (اس پر اعتقاد رکھ کر) کافر نہ بنو، اس کے باوجود وہ (یہودی) ان دونوں سے ایسا (منتر) سیکھتے تھے جس کے ذریعے شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے، حالانکہ وہ اس کے ذریعے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اللہ ہی کے حکم سے اور یہ لوگ وہی چیزیں سیکھتے ہیں جو ان کے لئے ضرر رساں ہیں اور انہیں نفع نہیں پہنچاتیں اور انہیں (یہ بھی) یقینا معلوم تھا کہ جو کوئی اس (کفر یا جادو ٹونے) کا خریدار بنا اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں (ہوگا)، اور وہ بہت ہی بری چیز ہے جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی جانوں (کی حقیقی بہتری یعنی اُخروی فلاح) کو بیچ ڈالا، کاش! وہ اس (سودے کی حقیقت) کو جانتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ اس چیز کے پیچھے لگ گئے جو شیاطین سلیمان کے عہد حکومت میں پڑھتے تھے اور سلیمان نے کفر نہیں کیا اور لیکن شیطانوں نے کفر کیا کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور (وہ اس چیز کے پیچھے لگ گئے) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اتاری گئی، حالانکہ وہ دونوں کسی ایک کو نہیں سکھاتے تھے، یہاں تک کہ کہتے ہم تو محض ایک آزمائش ہیں، سو تو کفر نہ کر۔ پھر وہ ان دونوں سے وہ چیز سیکھتے جس کے ساتھ وہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے اور وہ اس کے ساتھ ہرگز کسی کو نقصان پہنچانے والے نہ تھے مگر اللہ کے اذن کے ساتھ۔ اور وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انھیں نقصان پہنچاتی اور انھیں فائدہ نہ دیتی تھی۔ حالانکہ بلاشبہ یقینا وہ جان چکے تھے کہ جس نے اسے خریدا آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور بیشک بری ہے وہ چیز جس کے بدلے انھوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈالا۔ کاش ! وہ جانتے ہوتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ یہود (تورات کے بجائے) ان جنتروں منتروں کے پیچھے لگ گئے۔ جو سیدنا سلیمان کے دور حکومت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے۔ سیدنا سلیمان نے ایسا کفر کبھی نہیں کیا بلکہ کفر تو وہ شیطان لوگ کرتے تھے جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ نیز یہ یہود اس چیز کے بھی پیچھے لگ گئے جو بابل میں ہاروت اور ماروت دو فرشتوں پر اتاری گئی تھی۔ یہ فرشتے کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو تمہارے لیے آزمائش ہیں سو تو کافر نہ بن۔ پھر بھی یہ لوگ ان سے ایسی باتیں سیکھتے جن سے وہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال سکیں۔ حالانکہ وہ اللہ کے حکم کے بغیر کسی کو بھی نقصان نہ پہنچا سکتے تھے۔ اور باتیں بھی ایسی سیکھتے جو انہیں دکھ ہی دیں، فائدہ نہ دیں۔ اور وہ یہ بات بھی خوب جانتے تھے کہ جو ایسی باتوں کا خریدار بنا، اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں کتنی بری چیز تھی جسے انہوں نے اپنی جانوں کے عوض خریدا۔ کاش وہ اس بات کو جانتے ہوتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان چیزوں کے پیچھے پڑگئے جو سلیمان کے عہد حکومت میں شیاطین پڑھتے پڑھاتے تھے۔ حالانکہ سلیمان نے کوئی کفر نہیں کیا بلکہ شیطانوں ہی نے کفر کیا۔ یہی لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور اس چیز میں پڑگئے جو بابل میں دونوں فرشتوں۔ ہاروت اور ماروت پر اتاری گئی تھی حالانکہ یہ کسی کو سکھاتے نہیں تھے جب تک اس کو خبردار نہ کردیں کہ ہم آزمائش کے لیے ہیں تو تم کفر میں نہ پڑجانا۔ پس یہ لوگ ان سے وہ علم سیکھتے جس سے میاں اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال سکیں۔ حالانکہ یہ اس کے ذریعہ سے خدا کی مشیت کے بغیر کسی کو نقصان پہنچانے والے نہیں بن سکتے تھے اور یہ وہ چیز سیکھتے تھے جو ان کو نقصان پہنچائے حالانکہ ان کو پتہ تھا کہ جس نے اس چیز کو اختیار کیا آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ کیا ہی بری ہے وہ چیز جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی جانوں کو بیچا اے کاش وہ اس کو سمجھتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (حق سے منہ موڑ کر) یہ لوگ پیچھے لگ گئے ان چیزوں کے جو کہ شیطان سکھاتے (پڑھاتے) تھے لوگوں کو سلیمان کی بادشاہی کے نام پر، اور سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا مگر یہ شیطان ہی تھے جو کفر کرتے، اور سکھاتے تھے لوگوں کو جادوگری، نیز (یہ پیچھے ہو لئے اس کے) جو کچھ کہ اتارا گیا بابل میں ہاروت ماروت (نامی) دو فرشتوں پر، حالانکہ وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک کہ (صاف طور پر اس سے) یہ نہ کہہ دیتے کہ (دیکھو بھئی) ہم تو محض ایک آزمائش ہیں، پس تم کہیں کفر میں نہ پڑجانا، پھر بھی وہ لوگ ان دونوں سے وہ کچھ سیکھتے، جس کے ذریعے وہ تفریق کرتے میاں بیوی کے درمیان، حالانکہ اس (جادوگری) کے ذریعے وہ کسی کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے تھے، مگر اللہ کی اجازت (اور اسکی مشیت) سے اور یہ لوگ وہ کچھ سیکھتے جو خود ان کو نقصان پہنچانے کا باعث تو تھا (دنیا و آخرت میں) مگر ان کو نفع نہیں دے سکتا، حالانکہ خود ان کو بھی یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ جس نے بھی اس کو خریدا، اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اور بڑی ہی بری ہے وہ چیز جس کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کا سودا کیا، کاش کہ یہ لوگ جان لیتے (حق اور حقیقت کو)

— مولانا اسحاق مدنی

اور (یہ لوگ) پیچھے لگ لئے۔ اس (علم) کے جو سلیمان کی بادشاہت میں شیطان پڑھا کرتے تھے۔ اور سلیمان ؑ نے (تو کبھی) کفر نہیں کیا۔ البتہ شیطان (ہی) کفر کیا کرتے تھے۔ لوگوں کو سحر کی تعلیم دیتے۔ اور (وہ پیچھے لگ لیے) ۔ اس (علم) کے بھی جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت وماروت پر اتارا گیا تھا۔ اور وہ دونوں کسی کو بھی (اس فن کی باتیں) نہیں بتاتے تھے۔ جب تک یہ نہ کہہ دیتے۔ کہ تم تو بس ایک (ذریعہ) امتحان ہیں۔ سو تم (کہیں) کفر نہ اختیار کرلینا۔ مگر (لوگ) ان دونوں سے وہ (سحر) سیکھ ہی لیتے۔ جس سے وہ جدائی ڈال دیتے درمیان مرد اور اس کی زوجہ کے۔ حالانکہ وہ (فی الواقع) کسی کو بھی اس کے ذریعہ سے نقصان نہ پہنچا سکتے مگر ہاں ارادہ الہی سے۔ اور یہ وہ چیز سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچا سکتی ہے اور انہیں نفع نہیں پہنچا سکتی۔ اور (یہ بھی) یہ خوب جانتے ہیں کہ جس نے اسے اختیار کرلیا اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور بہت ہی بری وہ چیز ہے جس کے عوض میں انہوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈالا ہے۔۔ کاش وہ (اتنا ہی) جانتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے پیروی کی اس علم کی جو شیاطین پڑھا کرتے تھے سلیمان ؑ کی بادشاہت کے وقت وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور (وہ اس علم کے پیچھے پڑے) جو نازل کیا گیا دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر بابل میں اور وہ نہیں سکھاتے تھے کسی کو بھی یہاں تک کہ وہ کہہ دیتے تھے کہ دیکھو ہم تو آزمائش کے لیے بھیجے گئے ہیں پس تم کفر مت کرو) پھر وہ سیکھتے تھے ان دونوں سے وہ شے جن کے ذریعے سے آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈالتے تھے اور نہیں تھے وہ ضرر پہنچانے والے اس کے ذریعے کسی کو بھی اللہ کے اذن کے بغیر اور وہ سیکھتے تھے وہ چیزیں جو خود ان کو بھی ضرر پہنچانے والی تھیں اور انہیں نفع نہیں پہنچاتی تھیں۔ حالانکہ وہ خوب جان چکے تھے کہ جو بھی اس چیز کا خریدار بنا (یعنی جادو سیکھا) اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور بہت ہی بری تھی وہ چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو فروخت کردیا کاش انہیں علم ہوتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہ ان چیزوں کی پیروی کرنے لگے جو شیاطین سلیمان ؑ کی سلطنت کا نام لے کر کیا کرتے تھے حالانکہ سلیمان ؑ نے کبھی کفر نہیں کیا کفر تو ان شیاطین نے کیا جو لوگوں کو جادو گری کی تعلیم دیا کرتے تھے وہ پیچھے پڑے اس چیز کے جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر نازل کی گئی تھی، حالانکہ وہ جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تو پہلے صاف بتا دیا کرتے تھے کہ ”ہم صرف ایک آزمائش ہیں، تو کفر میں مبتلا نہ ہو“۔ پھر بھی یہ لوگ ان سے یہ چیز سیکھتے تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ ظاہر تھا کہ اذن الٰہی کے بغیر وہ اس ذریعے سے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچا سکتے تھے، مگر اس کے باوجود وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود ان کے لئے نفع بخش نہیں، بلکہ نقصان دہ تھی اور انہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا، اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ کتنی بری متاع تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، کاش انہیں معلوم ہوتا

— محترمہ رفعت اعجاز

(Instead of this,) they began to follow that (magic) to which the devils falsely attributed (the greatness of) the kingdom of Solomon. In fact Solomon was never involved in any practice of disbelief, but the satans, who taught magic to the people were themselves guilty of disbelief. They were after that thing which was sent to Harut and Marut, the two angels at Babylon. Whenever these two angels taught black art to anyone, they would always give a clear warning beforehand, saying, "We are merely a trial for you; so you should not commit blasphemy. But in spite of this warning, those people used to learn from the angels the art which caused division between husband and wife. Although it was obvious that they could not do any harm to anyone by means of this magic without Allah's permission, yet they learnt that art which could not be profitable even for them but was actually harmful. Moreover, they knew it full well that anyone, who purchased that art, would have no share in the Hereafter. What a vile commodity it was for which they sold off their souls, if they had but known it!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They followed what the devils used to recite in the reign of Sulaiman (Solomon) ; and it was not Sulaiman who became an infidel, but the devils did become infidels, teaching people magic, and what had been sent down to the two angels, Harut and Marut, in Babylon. And these two did not teach anyone without first having said (to him) , :We are but a trial, so do not go infidel. Then, they used to learn from them that with which they could cause separation between a man and his wife. But they were not to bring harm through it to anyone without the will of Allah.They used to learn what harmed them and did no good to them; and they certainly knew that he who buys it has no share in the Hereafter. And, indeed, vile is the thing for which they sold themselves away. If only they knew!

— Muhammad Taqi Usmani

They followed what the devils used to recite in the reign of Sulaiman (Solomon) ; and it was not Sulaiman who became an infidel, but the devils did become infidels, teaching people magic, and what had been sent down to the two angels, Harut and Marut, in Babylon. And these two did not teach anyone without first having said (to him) , :We are but a trial, so do not go infidel. Then, they used to learn from them that with which they could cause separation between a man and his wife. But they were not to bring harm through it to anyone without the will of Allah.They used to learn what harmed them and did no good to them; and they certainly knew that he who buys it has no share in the Hereafter. And, indeed, vile is the thing for which they sold themselves away. If only they knew!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They followed what the Shayatin (devils) gave out (falsely of the magic) in the lifetime of Sulayman (Solomon). Sulayman did not disbelieve, but the Shayatin (devils) disbelieved, teaching men magic and such things that came down at Babylon to the two angels, Harut and Marut, but neither of these two (angels) taught anyone (such things) till they had said, "We are for trial, so disbelieve not (by learning this magic from us)." And from these (angels) people learn that by which they cause separation between man and his wife, but they could not thus harm anyone except by Allah's leave. And they learn that which harms them and profits them not. And indeed they knew that the buyers of it (magic) would have no share in the Hereafter. And how bad indeed was that for which they sold their own selves, if they but knew.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And follow that which the devils falsely related against the kingdom of Solomon. Solomon disbelieved not; but the devils disbelieved, teaching mankind magic and that which was revealed to the two angels in Babel, Harut and Marut. Nor did they (the two angels) teach it to anyone till they had said: We are only a temptation, therefore disbelieve not (in the guidance of Allah). And from these two (angles) people learn that by which they cause division between man and wife; but they injure thereby no-one save by Allah's leave. And they learn that which harmeth them and profiteth them not. And surely they do know that he who trafficketh therein will have no (happy) portion in the Hereafter; and surely evil is the price for which they sell their souls, if they but knew.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they followed [instead] what the devils had recited during the reign of Solomon. It was not Solomon who disbelieved, but the devils disbelieved, teaching people magic and that which was revealed to the two angels at Babylon, Harut and Marut. But the two angels do not teach anyone unless they say, "We are a trial, so do not disbelieve [by practicing magic]." And [yet] they learn from them that by which they cause separation between a man and his wife. But they do not harm anyone through it except by permission of Allah. And the people learn what harms them and does not benefit them. But the Children of Israel certainly knew that whoever purchased the magic would not have in the Hereafter any share. And wretched is that for which they sold themselves, if they only knew.

— Saheeh International

They followed the incantations that the devils used against the kingdom of Solomon. Solomon did not hide the truth but the devils did. They taught magic to the people and whatever was revealed to the two angels, Harut and Marut, in Babylon. The two angels did not teach anything to anyone without saying, "Our case is a temptation for the people, so do not hide the truth." People learned something from the two angels that could cause discord between a man and his wife. However, they could harm no one except by the permission of God. In fact, the (people) learned things that would harm them and render them no benefit. They knew very well that one who engaged in witchcraft would have no reward in the life hereafter. Would that they had known that they had sold their souls for that which is vile!

— Muhammad Sarwar

And they followed what the Shaitans chanted of sorcery in the reign of Sulaiman, and Sulaiman was not an unbeliever, but the Shaitans disbelieved, they taught men sorcery and that was sent down to the two angels at Babel, Harut and Marut, yet these two taught no man until they had said, "Surely we are only a trial, therefore do not be a disbeliever." Even then men learned from these two, magic by which they might cause a separation between a man and his wife; and they cannot hurt with it any one except with Allah's permission, and they learned what harmed them and did not profit them, and certainly they know that he who bought it should have no share of good in the hereafter and evil was the price for which they sold their souls; had they but known this.

— Muhammad Habib Shakir

And they follow that which the Satans recited in the reign of Sulaiman; and Sulaiman blasphemed not, but the Satans blasphemed.; teaching people magic; and they follow that also which was sent down unto the two angels in Babil, Harut, and Marut. Unto none the twain taught it until they had said: We are but a temptation, so blaspheme not; but they learned from the twain that wherewith they might separate man from his wife; and they could harm none thereby save by Allah's will. And they have learnt that which harmeth them, and profiteth them not; and assuredly they know that whosoever purchaseth it, his is no portion in the Hereafter. And surely vile is the price for which they have bartered themselves, if they but knew!

— Abdul Majid Daryabadi

They followed what the evil ones gave out (falsely) against the power of Solomon: the blasphemers Were, not Solomon, but the evil ones, teaching men Magic, and such things as came down at babylon to the angels Harut and Marut. But neither of these taught anyone (Such things) without saying: "We are only for trial; so do not blaspheme." They learned from them the means to sow discord between man and wife. But they could not thus harm anyone except by Allah's permission. And they learned what harmed them, not what profited them. And they knew that the buyers of (magic) would have no share in the happiness of the Hereafter. And vile was the price for which they did sell their souls, if they but knew!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:102

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 101–103

جادو اور شعر کبھی شیاطین کا نام لے کر شیطانی کام سے بھی لوگ کرتے ہیں کبھی دواؤں وغیرہ کے ذریعہ سے بھی جادو کیا جاتا ہے حضور ﷺ کے اس فرمان کے مطابق کہ بعض بیان جادو ہیں دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ بطور تعریف کے آپ نے فرمایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ بطور مذمت کے یہ ارشاد ہوا ہو کہ وہ اپنی غلط بات اس طرح بیان کرتا ہے کہ سچ معلوم ہوتی ہے جیسے ایک اور حدیث میں ہے کہ کبھی میرے پاس تم مقدمہ لے کر آتے ہو تو ایک اپنی چرب زبانی سے اپنے غلط دعویٰ کو صحیح ثابت کردیتا ہے وزیر ابو المظفر یحییٰ بن محمد بن ہبیر رحمتہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب " الاشراف علی مذاہب الاشراف " میں سحر کے باپ میں کہا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 102–103

سورة الْبَقَرَة 104 شیاطین سے مراد شیاطینِ جِنّ اور شیاطین انس دونوں ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی یہاں مراد ہیں۔ جب بنی اسرائیل پر اخلاقی و مادّی انحطاط کا دور آیا اور غلامی، جہالت، نَکبَت و افلاس اور ذِلَّت و پستی نے ان کے اندر کوئی بلند حوصلگی و اُولوا العزمی نہ چھوڑی، تو ان کی توجہّات جادُو ٹونے اور طلسمات و ”عملیات“ اور تعویذ گنڈوں کی طرف مبذول ہونے لگیں۔ وہ تو ایسی تدبیریں ڈھونڈنے لگے، جن سے کسی مشَقّت اور جدّوجہد کے بغیر محض پھونکوں اور منتروں کے زور پر سارے کام بن جایا کریں۔ اس وقت شیاطین نے ان کو بہکانا شروع کیا کہ سلیمان ؑ کی عظیم الشان سلطنت اور ان کی حیرت انگیز طاقتیں تو سب کچھ چند نقوش…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 102–103

خلاصہ تفسیر اور (یہودی ایسے بےعقل ہیں کہ) انہوں نے (کتاب اللہ کا تو اتباع نہ کیا اور) ایسی چیز کا (یعنی سحر وجادو کا) اتباع (اختیار) کیا جس کا چرچا کیا کرتے تھے شیاطین (یعنی خبیث جن) حضرت سلیمان ؑ کے (عہد) سلطنت میں اور (بعضے بیوقوف جو حضرت سلیمان ؑ پر گمان سحر رکھتے ہیں بالکل ہی لغو بات ہے کیونکہ سحر تو اعتقادا یا عملا کفر ہے اور) حضرت سلیمان ؑ نے (نعوذ باللہ کبھی) کفر نہیں کیا (ہاں) شیاطین (یعنی خبیث جن بیشک) کفر (کی باتیں اور کام یعنی سحر) کیا کرتے تھے اور حالت یہ تھی کہ (خود تو کرتے ہی اور) آدمیوں کی بھی (اس) سحر کی تعلیم کیا کرتے تھے (سو وہی سحر متوارث چلا آرہا ہے اس کا اتباع یہ یہودی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اللہ کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک کر جس چیز کو انہوں نے سینہ سے لگایا یہ اس کا بیان ہے۔ قرآن مجید شیاطین سے متعدد جگہ جنوں اور انسانوں دونوں گروہوں کے مفسدین اور اشرار مراد لیے گئے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہاں بھی دونوں ہی کے اشرار مراد ہیں۔ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ سے مقصود حضرت سلیمان ؑ کی بادشاہی کا زمانہ ہے۔ عربی زبان کے عام قاعدہ کے مطابق یہاں ایک مضاف محذوف ہے۔ یعنی علی عہد ملک سلیمان۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان ظالموں نے کتاب الٰہی کو تو پیٹھ پیچھے ڈال دیا اور سحر و شعبدہ اور علم نجوم وغیرہ جیسے علوم سفلیہ کو جو سلیمان ؑ کے عہد حکومت میں جنوں اور ان کی پیروی کرنے والے انسانوں کے باہمی اشتراک سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 102–103

12۔ 1 یعنی ان یہودیوں نے اللہ کی کتاب اور اس کے عہد کی کوئی پرواہ نہیں کی، البتہ شیطان کے پیچھے لگ کر نہ صرف جادو ٹونے پر عمل کرتے رہے، بلکہ یہ دعوی کیا کہ حضرت سلیمان ؑ (نعوذ باللہ) اللہ کے پیغمبر نہیں تھے بلکہ ایک جادوگر تھے اور جادو کے زور سے ہی حکومت کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا حضرت سلیمان ؑ جادو کا عمل نہیں کرتے تھے، کیونکہ جادو سحر تو کفر ہے، اس کفر کا ارتکاب حضرت سلیمان ؑ کیوں کر کرسکتے تھے ؟ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کے زمانے میں جادو گری کا سلسلہ بہت عام ہوگیا تھا، حضرت سلیمان ؑ نے اس کے سد باب کے لئے جادو کی کتابیں لے کر اپنی کرسی یا تخت کے نیچے دفن کردیں۔ حضرت سلیمان کی وفات کے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 102–103

66: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی ایک اور بدعملی کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ کہ جادو ٹونے کے پیچھے لگنا ناجائز تھا، بالخصوص اگر جادو میں شرکیہ کلمات منتر کے طور پر پڑھے جائیں تو ایسا جادو کفر کے مرادف ہے، حضرت سلیمان ؑ کے زمانے میں کچھ شیاطین نے، جن میں انسان اور جنات دونوں شامل ہوسکتے ہیں، بعض یہودیوں کو یہ پٹی پڑھائی کہ حضرت سلیمان ؑ کی سلطنت کا سارا راز جادو میں مضمر ہے اور اگر جادو سیکھ لوگے تو تمہیں بھی حیرت انگیز اقتدار نصیب ہوگا، چنانچہ یہ لوگ جادو سیکھنے اور اس پر عمل کرنے میں لگ گئے ؛ حالانکہ جادو پر عمل کرنا نہ صرف ناجائز تھا ؛ بلکہ اس کی بعض قسمیں کفر تک پہنچتی تھیں،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انہوں نے اللہ کی اس کتاب کو تو چھوڑ دیا جو خود اس ہدایت کی تصدیق بھی کررہی تھی ۔ جو ان کے پاس تھی اور ان باتوں کی پیروی شروع کردی ۔ جو شیاطین حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دور کی طرف منسوب کرتے تھے ۔ یہ شیاطین حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف غلط باتیں منسوب کیا کرتے تھے ۔ یعنی یہ کہ وہ ایک عظیم جادوگر تھے اور انہوں نے جن جن چیزوں کو مسخر کررکھا تھا وہ انہوں نے اس کالے علم کے ذریعے مسخر کررکھی تھیں ۔ قرآن کریم ان کے اس زعم باطل کی تردید کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ حضرت سلیمان جادوگر نہ تھے ۔ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ ” سلیمان نے کفر نہیں کیا “ قرآن کریم گویا جادوگری کو کفر سمجھتا ہے ۔ اس لئے حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی ان احمقوں نے کتاب الٰہی تو پس پشت ڈالی اور شیطانوں سے جادو سیکھا اور اس کی متابعت کرنے لگے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 102–103

آیت 102 وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰی مُلْکِ سُلَیْمٰنَ ج اللہ تعالیٰ نے ّ جنات کو حضرت سلیمان علیہ السلام کے تابع کردیا تھا۔ اس وقت چونکہ ان کا انسانوں کے ساتھ زیادہ میل جول رہتا تھا ‘ لہٰذا یہ انسانوں کو جادو وغیرہ سکھاتے رہتے تھے۔ وَمَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَلٰکِنَّ الشَّیٰطِیْنَ کَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاس السِّحْرَ ق۔ جادو کفر ہے ‘ لیکن آپ کو آج بھی نقش سلیمانی کی اصطلاح سننے کو ملے گی۔ اس طرح بعض مسلمان بھی ان چیزوں کو حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف منسوب کر رہے ہیں اور وہ ظلم اب بھی جاری ہے۔ وَمَآ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ ہَارُوْتَ وَمَارُوْتَ ط۔ بابل…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

118 اس آیت میں یہود کے ایک اور مکروہ کردار کو واضح کیا گیا ہے۔ یہود پر جب اخلاقی اور مادی انحطاط کا دور آیا تو انہوں نے تورات اور اس کے احکام کو پس پشت ڈال دیا اور جادو ٹونے، طلسمات، عملیات اور تعویذ گنڈوں کے پیچھے پڑگئے اور ایسی تدبیریں ڈھونڈھنے لگے جن سے مشقت اور جدوجہد کے بغیر محض پھونکوں اور منتروں سے سارے کام بن جایا کریں۔ چناچہ وہ جادو وغیرہ سیکھنے سکھانے میں مشغول ہوگئے۔ یہ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے عہد حکومت کی بات ہے۔ انہیں جب یہود کے اس رجحان کا علم ہوا تو انہوں نے ایسے ساحروں سے ان کی سب کتابیں چھین کر داخل دفتر کردیں۔ یہود کا سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر جادو کا الزام :۔ اب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

352 ۔ ذکر اسرائیلیوں کا چل رہا ہے۔ اور وہی یہاں مراد ہیں، خصوصا یہود عرب۔ 353 ۔ یعنی بجائے اس کے کہ وحی الہی کا اتباع کرتے اور رسول برحق کی تصدیق کرتے، یہ یہود تو ایک اور ہی علم کے پیچھے لگ گئے اور وہ علم بھی کس کا ؟ شیطان کا۔ قرآن مجید وقت کی اہم ترین قوم یہود کے پترے تو کھول ہی رہا ہے۔ اب اس نے ان کی فرد جرم میں ایک اس عنوان کا بھی اضافہ کیا کہ یہ لوگ وحی الہی کی اتباع کے بجائے ایک دوسرے ہی سفلی علم میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور اس ضمن میں قرآن مجید بعض اور اہم تاریخی اور دینی حقیقتوں کو زبردست روشنی میں لے آیا ہے۔ اس علم سے مراد فن سحر ہے۔ فنون سحر وکہانت میں یہود کی مہارت تاریخ میں مسلم چلی آرہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 102–103

آیت نمبر 102 تا 103 ترجمہ : اور پیچھے لگ گئے (یہود) (اِتَّبَعُوْا) کا عطف نَبذَ ، پر ہے اس (سحر) کے کہ جس کو شیاطین سلیمان (علیہ السلام) کے عہد سلطنت میں پڑھا کرتے تھے، جب سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت ختم ہوگئی تو سحر (کی کتابوں) کو شیاطین نے سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی کے نیچے دفن کردیا تھا، یا اس کے پیچھے پڑگئے جس کو شیاطین چوری سے سن لیا کرتے تھے اور اس میں (اپنی طرف سے) جھوٹ ملا کر کاہنوں کو بتادیا کرتے تھے اور وہ اس کو مدون کرلیا کرتے تھے، اور اس بات کی شہرت ہوگئی، نیز مشہور ہوگیا کہ جنات غیب جانتے ہیں تو سلیمان (علیہ السلام) نے (جادو کی) کتابوں کو جمع کرکے دفن کردیا، چناچہ جب سلیمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَاتَّبَعُوْا ( اور پیچھے پڑگئے) یعنی یہود نے جادو کے علم پر عمل کیا اسکو سیکھا اور آپس میں ایک دوسرے کو تعلیم دی واتََّبَعُوْا کا نَبَذَ پر عطف ہے حاصل یہ ہے کہ کتاب اللہ کو تو پس پشت ڈال دیا اور سحر و شعبدہ کی کتابوں کے پیچھے پڑگئے۔ میں کہتا ہوں کہ نَبَذَ پر عطف کرنا اس کا بظاہر صحیح نہیں کیونکہ نَبَذَ مقید ایک شرط ( رسول کے آنے) کے ساتھ ہے اور واتَّبَعُوْا ....... کا اس شرط سے تعلق سمجھ میں نہیں آتا اس لیے واتََّبَعُوا کا عطف جملہ شرطیہ وَلَمَّا جَاءَ ھُمْ پر ہونا مناسب ہے۔ مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُ ( جو پڑھتے تھے شیطان) تَتْلُوْاگر چہ صیغہ مضارع کا ہے لیکن حال ماضیہ کی حکایت کے طور پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(102) شیطانوں نے حضرت سلیمان ؑ کی حکومت و ریاست ختم کرنے کے لیے جو چالیس روز تک جادو منتر کیا تھا، اس پر ان لوگوں نے عمل کیا، حضرت سلیمان ؑ نے کسی قسم کا کوئی جادومنتر نہیں لکھا تھا، شیاطین تھا (ابوالعالیہ کے قول کے مطابق اور صحیح قول یہ ہے) کہ یہ شیاطین اس جادو کی بھی تعلیم دیتے تھے جو ان دونوں فرشتوں کو بطور الہام کے آتا تھا، یہ دونوں فرشتے کسی کو جادو نہیں سکھاتے تھے یہاں تک کہ پہلے اس سے کہہ نہ دیتے تھے کہ ہم اس چیز سے لوگوں کی آزمایش کرتے ہیں تاکہ ہم پر عذاب خداوندی کی سختی نہ ہو لہٰذا تو اسے نہ سیکھ اور نہ اس پر عمل کر، مگر یہ لوگ بغیر ان کی تعلیم کے ایسی چیز حاصل کرتے تھے جس کے ذریعے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری پر یہودیوں نے جاننے پہچاننے کے باوجود حسد اور عناد کی بنا پر آپ کی پیروی سے انکار کردیا۔ میدان میں وہ آپ کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے، کیونکہ حق پر ہونے کا عقیدہ و عمل ہی قوت کی بنیاد ہوتا ہے، جس سے ان کے ہاتھ خالی تھے۔ چناچہ وہ ہر اس قوم کی طرح جو عقیدے اور عمل کی قوت سے خالی ہوتی ہے، جادو ٹونے اور عملیات کے پیچھے پڑگئے اور ایسی تدبیریں ڈھونڈنے لگے جن سے کسی مشقت اور جدو جہد کے بغیر سارے کام بن جایا کریں۔ جب اور بس نہ چلا تو انھوں نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کردیا۔ یہ جادو کرنے والا لبید بن اعصم یہودی تھا، جس نے رسول اللہ ﷺ کی کنگھی اور اس سے نکلنے والے بالوں پر، جو اس نے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 102 اس میں چوبیس مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واتبعوا ما تتلوا الشیطین علی ملک سلیمن۔ یہ اس گروہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے جنہوں نے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا اور اس کے بدلے میں جادو کی اتباع کی، وہ یہود تھے۔ سدی نے کہا : یہود نے حضرت محمد ﷺ سے تورات کے ساتھ معارضہ کیا تو تو رات اور قرآن عقائد ونظریات میں متفق نکلے تو انہوں نے تورات کو چھوڑ دیا اور آصف کی کتاب اور ہاروت وماروت کے جادو کو لے لیا۔ محمد بن اسحاق نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت سلیمان کا رسولوں میں ذکر کیا تو ان کے کسی عالم نے کہا : محمد کہتا ہے کہ ابن داؤد نبی تھا اللہ کی قسم ! وہ تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

ہاروت و ماروت کا تذکرہ (1) سفیان بن عبید، سعید بن منصور، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شیاطین آسمان سے چوری چھپے باتیں سنتے ہیں جب ان میں سے کوئی سچی بات کو سن لیتا تو اس میں ہزار جھوٹ کو ملا دیتا تھا لوگوں کے دلوں میں یہ جھوٹ رچ بس گئے اور انہوں نے ان جھوٹی باتوں کے کئی رجسٹر بنا لئے اللہ تعالیٰ نے سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) کو اس بات پر مطلع فرمایا انہوں نے ساری کتابوں کو لے کر کرسی کے نیچے دفن کردیا جب سلیمان (علیہ السلام) وفات پاگئے تو شیطان راستے میں کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا کیا میں تم کو سلیمان (علیہ السلام) کا وہ خزانہ نہ بتاؤں کہ اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاتَّبَعُوْا : اور وہ لوگ پیچھے پڑے ] [ مَا : اس کے جو ] [ تَتْلُوا : پڑھتے تھے ] [ الشَّيٰطِيْنُ : شیاطین ] [ عَلٰي مُلْكِ سُلَيْمٰنَ ۚ : سلیمان کے ملک میں ] [ وَمَا كَفَرَ : اور کفر نہیں کیا ] [ سُلَيْمٰنُ : سلیمان نے ] [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن (بلکہ)] [ الشَّيٰطِيْنَ : شیاطین نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ہے ] [ يُعَلِّمُوْنَ : وہ سکھاتے تھے ] [ النَّاسَ : لوگوں کو ] [ السِّحْرَ ۤ: جادو ] [ وَمَآ : اور اس کے (پیچھے پڑے) جو ] [ اُنْزِلَ : اتارا گیا ] [ عَلَي الْمَلَكَيْنِ : دو فرشتوں پر ] [ بِبَابِلَ : بابل میں ] [ ھَارُوْتَ وَمَارُوْتَ ۭ : ہاروت اور ماروت پر ] [ وَمَا يُعَلِّمٰنِ : اور وہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 102–103

بابل میں جادوگروں کا زور اور یہود کا جادو کے پیچھے لگنا جادو گری کا سلسلہ پرانا ہے۔ ہوتا تو سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور ارادہ ہی سے ہے۔ اسباب جو بھی ہوں، جادو بھی ایک سبب ہے جس سے احوال میں کچھ تغیر ہوجاتا ہے اور جس پر جادو کیا جائے اس کو تکلیف پہنچ جاتی ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو ان کی امت کے لوگوں نے کہا (اِنَّمَا اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ) (کہ تم تو انہیں لوگوں میں سے ہو جن پر جادو کردیا گیا ہو) اور یہی بات حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بارے میں ان کی امت کے افراد نے کہی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جادو گروں سے مقابلہ سو مشہور ہی ہے اور یہ جادوگری کا سلسلہ حضرت سلیمان (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 99–103

شناعت بست ویکم (21) قال تعالیٰ ولقد انزلنا الیکم ایت۔۔۔ الی۔۔۔ لوکانوا یعلمون اور آپ کی نبوت فقط قرآن پر موقوف نہیں کہ جس کے متعلق یہ بہانہ کردیا کہ قرآن تو جبریل لیکر آئے ہیں جو ہمارے دشمن ہیں بلکہ البتہ تحقیق ہم نے آپ کی نبوت و رسالت کے ثابت کرنے کے لیے نہایت واضح اور روشن دلائل نازل کیے جن میں کسی قسم کا اشتباہ اور التباس نہیں اور نہ ان میں جبریل کا توسط ہے پس اگر قرآن کو دلیل نبوت نہیں سمجھتے کہ جبرئیل سے دشمنی ہے تو ان آیات بینات کا تمہارے پاس کیا جواب ہے جن میں جبریل امین کا واسطہ نہیں اور ان کو خود بھی معلوم ہے مگر عناد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ابن صوریا یہودی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

193 شیاطین سے سرکش جن اور ابلیس کے چیلے مرد ہیں جو لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ والمتبادر من الشیاطین مردۃ الجن وھو قول الاکثرین (روح ص 337 ج 1) ان یہودیوں نے تورات میں آخری نبی پر ایمان لانے کے حکم ہی کو نہیں ٹھکرا یا بلکہ انہوں نے تو تورات کی دعوت توحید کو بھی پامال کردیا اور اسے چھوڑ کر شیطانی جادو اور ٹوٹکوں کے پیچھے پڑگئے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں شیطانوں نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے گھڑے تھے۔ جب یہودیوں نے قرآن کی دعوت توحید کے مقابلے میں غیر اللہ کی پکار کا جواز ثابت کرنے کے لیے تورات پیش کی تو تورات مسئلہ توحید پر قرآن سے متفق نکلی تو اب یہودی اپنی خفت مٹانے کے لیے جادو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 102–103

شیطان کا اتباع : ان آیات میں بنی اسرائیل کی انتہائی پستی اور ان کے انحطاط کا ذکر ہو رہا ہے گزشتہ آیت میں یہ بات بیان کی گئی تھی کہ بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اس طور پر پس پشت ڈال دیا کہ اس سے بالکل لاتعلق ہوگئے ۔ گویا کہ وہ جانتے ہی نہیں کتاب اللہ کی تلاوت اور اس پر عمل درآمد کی بجائے “ واتبعوا ما تتلوا الشیطین علی ملک سلیمن ” انہوں نے اس چیز کی پیروی کی جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں جنوں اور انسانوں کا اختلاط ہوتا تھا۔ کیونکہ جن بھی آپ کے ماتحت تھے۔ لہٰذا اس دور میں جو کلام یا دیگر چیزیں جن پڑھتے تھے۔ بنی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُ عَلٰي مُلْكِ سُلَيْمٰنَ۝ 0 ۚ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطِيْنَ كَفَرُوْا يُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ۝ 0 ۤ وَمَآ اُنْزِلَ عَلَي الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ ھَارُوْتَ وَمَارُوْتَ۝ 0 ۭ وَمَا يُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى يَقُوْلَآ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلَا تَكْفُرْ۝ 0 ۭ فَيَتَعَلَّمُوْنَ مِنْہُمَا مَا يُفَرِّقُوْنَ بِہٖ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِہٖ۝ 0 ۭ وَمَا ھُمْ بِضَاۗرِّيْنَ بِہٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِـاِذْنِ اللہِ۝ 0 ۭ وَيَتَعَلَّمُوْنَ مَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ۝ 0 ۭ وَلَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىہُ مَا لَہٗ فِي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : واتبعوا عطف ہے اشربوا پر یانبذ پر علیٰ ملک ای علی زمن ملک فحذف المضاف و المعنی فی زمن و لکن مشدد شیاطین اس کا اسم کفروا خبر بعض نے مخفف پڑھا ہے اس تقدیر پر اسم مرفوع ہوگا علیٰ ابتداء یعلمون الخ جملہ موضع نصب میں ہے۔ کس لیے کہ یہ حال ہے ضمیر کفروا سے وما انزل معطوف ہے ماتتلوا پر بعض کہتے ہیں بالسحر پر ان صورتوں میں ما موضع نصب میں ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مانافیہ ہے معطوف ہے ما کفر پر (اس تقدیر پر یہ معنی ہوئے کہ نہ سلیمان کافر ہوئے نہ بابل میں کچھ سحر ہاروت و ماروت پر نازل ہوا جیسا کہ یہود گمان کرتے ہیں) ملکین کو جمہور نے بفتح لام پڑھا ہے اور بعض نے بکسرلام جس کے معنی بادشاہ کے ہیں۔ ببابل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 102–103

وَاتَّبَعُوْامَا تَتْلُوْا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰی مُلْکِ سُلَیْمٰنَ ج وَمَا کَفَرَسُلَیْمٰنُ وَلٰـکِنَّ الشَّیٰطِیْنَ کَفَرُوایُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَق وَمَآ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ ھَارُوْتَ وَمَارُوْتَ ط وَمَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوْلَآ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلَا تَکْفُرْط فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْہُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِہٖ بَیْنَ الْمَرْئِ وَزَوْجِہٖ ط وَمَا ھُمْ بِضَآرِّیْنَ بِہٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّابِاِذْنِ اللّٰہِط وَیَتَعَلَّمُوْنَ مَایَضُرُّھُمْ وَلَایَنْفَعُھُمْط وَلَقَدْعَلِمُوْالَمَنِ اشْتَرٰہُ مَالَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍ قف وَلَبِئْسَ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 102–103

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب اپنے باطل نظریات کو ہی انبیاء کی طرف منسوب نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی بد اعمالیاں بھی انبیاء کے ذمہ لگاتے ہیں جیسے کہ انہوں نے جادو کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ذمہ لگا رکھا ہے۔ آیت کے پہلے حصے کے بارے میں بنی اسرائیل کی روایات کی بنا پر بعض مفسرین نے بڑی بےہودہ باتیں درج کی ہیں جن کا عقل و نقل کے ساتھ دور کا بھی واسطہ دکھائی نہیں دیتا البتہ بنیادی اختلاف اہل علم کا یہ ہے کہ جو لوگ دوسرے ” ما “ کو نافیہ بناتے ہیں ان کے نزدیک معنٰی یہ بنتا ہے کہ ہاروت اور ماروت فرشتے ہونے کی بجائے شیطان تھے۔ جن کے ہاں لفظ ” ما “ موصولہ ہے وہ سمجھتے ہیں کہ جادو فرشتوں پر نازل کیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

102: وَاتَّبَعُوْا مَاتَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ : (اور پیچھے پڑگئے ان چیزوں کے جو پڑھتے تھے شیاطین) یعنی یہودنے کتاب اللہ کو پھینک دیا۔ اور سحرو منتر کی کتابوں کی اتباع کرنے لگے۔ جن کو وہ پڑھا کرتے تھے۔ عہد سلیمانی میں شیاطین کی حرکات : عَلٰی مُلْکِ سُلَیْمٰنَ : (سلطنت سلیمان ( علیہ السلام) میں) سلیمان ( علیہ السلام) کے عہد حکومت میں اور وہ اس طرح کہ شیاطین فرشتوں کی باتیں چوری چھپے سن لیتے پھر اس کے ساتھ اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر ملاتے۔ پھر وہ کاہنوں کے دلوں میں لا ڈالتے۔ کاہنوں نے ان کو کتابوں کی صورت میں مرتب کرلیا تھا۔ جس کو وہ خود پڑھتے اور لوگوں کو سکھاتے تھے۔ یہ چیزیں سلیمان ( علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

102۔ ” واتبعوا “ یعنی یہود ”(آیت)” ماتتلوا الشیطین “ جو کچھ انہوں نے تلاوت کی عرب مستقبل کو ماضی کی جگہ رکھا کرتے ہیں اور ماضی کو مستقبل کی جگہ پر اور کہا گیا ہے ” ماتتلوا “ بمعنی ” ماکانت تتلوا “ یعنی تقراء پڑھتے تھے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ” تتلوا “ بمعنی پیروی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ عمل کرتے ہیں ، حضرت عطا (رح) فرماتے ہیں ” تتلو “ بمعنی ” تحدث وتتکلم بہ “ یعنی بیان کرتے اور اس کے ساتھ بولتے (علی ملک سلیمان) یعنی اس کے ملک میں اور عہد میں آیت کریمہ کا قصہ یوں ہے ، شیاطین نے جادو لکھا اور شعبہد بازیاں ، آسف بن برخیا کی زبان پر لکھیں ، یہ وہ کچھ جو آصف بن برخیا نے سلیمان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 99–103

(99 ۔ 103) ۔ بعض یہود نے آنحضرت ﷺ سے یہ کہا تھا کہ حضرت موسیٰ کے عصا اور ید بیضا کی طرح آپ کو کوئی صریح اور صاف معجزہ نہیں ملا۔ پھر ہم آپ کو کیونکر اللہ کا رسول جان لیویں۔ اسی گفتگو میں بعض یہود نے یہ بھی کہا تھا کہ تورات میں ایسا کوئی عہد نہیں ہے جس سے ہم لوگوں پر نبی آخر الزمان کی مدد لازم ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور یہود کی پہلی بات کا جواب تو یہ دیا کہ ان لوگوں کی وہ باتیں جو سوا ان کے علماء کے دوسرے کسی کو معلوم نہیں جب کہ نبی آخر الزمان پر قرآن کے ذریعہ سے روزانہ نازل ہوتی ہیں اور نبی آخر الزمان باوجود امی ہونے کے ان باتوں کی ایسی صحیح اطلاع ان لوگوں کو دیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 101–103

یعنی جب ان کے پاس رسول کریم ﷺ اس حق کے ساتھ یہ عظیم کتاب لے کر آئے جو ان کے پاس موجود کتاب کے موافق تھا اور وہ یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ وہ اپنی کتاب پر عمل کرتے ہیں۔ تو انہوں نے اس رسول اور اس کتاب کو ماننے سے انکار کردیا جس کو یہ رسول لے کر آئے (آیت) نَبَذَ فَرِيْقٌ مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ ڎ كِتٰبَ اللّٰهِ ” اہل کتاب کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پھینک دیا “ یعنی وہ کتاب جو ان کی طرف نازل کی گئی تھی اس کو بےرغبتی کے ساتھ دور پھینک دیا (ورآء ظھورھم) ” اپنی پیٹھوں کے پیچھے “ روگردانی اور اعراض کے لئے یہ بلیغ ترین محاورہ ہے گویا وہ اپنے اس فعل کے ارتکاب میں سخت جہالت کا مظاہرہ کر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 95–102

ساحر کا حکم قول باری ہے : واتبعوا ماتتلوا الشیطین علی ملک سلمین، وما کفر سلیمن ولکن الشیطین کفروا ( اور ان چیزوں کی پیروی کرنے جو شیاطین سلیمان کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا۔ کفر کے مرتکب تو شیاطین تھے) تا آخر آیت ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہاں سحر، یعنی جادو کی حققیت پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے کیونکہ بہت سے اہل علم کی نظروں سے بھی یہ بات پوشیدہ ہے، عوام الناس کا تو پوچھنا ہی کیا، اس کے بعد ہم معانی اور احکام کے سلسلے میں مذکورہ بالا آیت کے مقتضاد کو سامنے رکھ کر جادو کا حکم بیان کریں گے۔ اہل لغت کے قول کے مطابق سحر ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو بہت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

282 کتاب الہی کو پس پشت ڈالنے کی سزا ۔ والعیاذ باللہ : سو اس کے نتیجے میں یہ لوگ کتاب الہی کو چھوڑ کر جادو ٹونوں کے پیچھے لگ گئے اور اس طرح محرومی در محرومی کا شکار ہوگئے۔ سو یہ یہود کی بدبختی کا ایک نمونہ ہے کہ یہ لوگ کتاب الہٰی کو چھوڑ کر جادو ٹونوں کے پیچھے لگ گئے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ یعنی جادوگری اور طرح طرح کے ٹونے ٹوٹکے۔ سو دیکھو کتنے بدنصیب نکلے یہ لوگ کہ کتاب الہی اور نور وحی سے منہ موڑ کر اس طرح کی خرافات اور کفریات میں لگ گئے۔ افسوس کہ آج کتنے ہی جہالت اور بدعت کے مارے مسلمان ہیں جو اسی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ قرآن و حدیث کی نورانی تعلیمات سے منہ موڑ کر وہ اسی طرح کے خود…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 102–103

یہود کا گھاٹے والا سودا تشریح : جب انسان چاروں طرف سے رسوائی، پستی جہالت، غلامی اور افلاس میں گھر کر مایوس ہوجاتا ہے تو پھر سفلی عملیات کا سہارا لیتا ہے۔ یہی حال بنی اسرائیل کا ہوگیا گو کہ وہ خود اپنی وجہ سے ذلیل و خوار ہوئے، مگر اب انہوں نے نجات کے لئے جادو کا راستہ اپنانا شروع کیا اور اس کا الزام بھی حضرت سلیمان پردے دیا۔ اس آیت میں شیاطین کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ جن جو حضرت سلیمان کے تابع تھے مگر سرکش اور خبیث فطرت والے تھے، کچھ انسان بھی بری عادات والے ان کے ماتحت تھے جو آئے دن حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر تہمتیں لگاتے رہتے تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک مشہور پیغمبر گزرے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 97–103

آیات 97- 103 اسرارومعارف جب علمائے بنی اسرائیل عقل ونقل میں عاجز ہوئے تو صورت ایک مباہلہ کی بنی ، جب وہاں بھی ناکام ہوئے تو اب سوائے تسلیم کے چارہ نہ تھا اور راہ وہ اختیار نہ کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا ایک اور عذر لنگ تراشا کہ نبی تو برحق ہیں اور ہم مان بھی ضرور لیتے مگر یہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) مجھ پر وحی لاتے ہیں اور یہ وہ فرشتہ ہے جو بارہا ہم پر بربادی لایا اور ہمارے آبائو اجداد سے سختیاں کیں۔ اگر کوئی اور فرشتہ مثلاً میکائیل ہی وحی لاتا تو ضرور ہم بھی تسلیم کرتے مگر جبرائیل کے ساتھ ہماری بنتی نہیں ہے اس وجہ سے ہم نبوت محمدی ﷺ کا اتباع نہیں کرسکتے۔ یہ ساری بات انہوں نے جہلاء کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی یہود نے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا اور سحر یعنبی جادو کی اتباع کرنے لگے ہیں یہ قصہ یو ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہد میں شیاطین جادو کی نشر و اشاعت کرتے رہے حتی کہ وہ وعلوم یہود میں رواج پا گئے اور عوام میں مشہور ہوگیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی نہیں تھے بلکہ جادو گر تھے پھر عوام میں مشہور ہوگیا حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ تعا لیے کے نبی نہیں تھے بلکہ جادو گر تھے پھر جب قرآن نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو انبیاء کی صف میں شامل کیا تا یہود نے ان کے جادو گر ہونے طعن دیا۔ اس پر یہ دو آتییں نازل ہوئیں اور انہوں نے بتایا کہ حضرت سلیمان کا دامن ان سے پاک…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

اتبعوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ اتباع (افتعال) مصدر سے ۔ انہوں نے پیروی کی۔ انہوں نے اتباع کیا۔ ما تتلوا الشیطن۔ ما موصولہ۔ تتلوا مضارع واحد مؤنث غائب۔ تلاوۃ (باب نصر) مصدر۔ وہ پڑ تھی ہے۔ وہ (جماعت شیاطین) پڑھتی ہے۔ وہ تلاوت کرتی ہے۔ مضارع بطور حکایت حال ماضی آیا ہے اس لئے ماضی کے معنی دیتا ہے۔ تلاوت کا لفظ آسمانی کتابوں کی اتباع اور پیروی کے لئے مخصوص ہے جو کبھی ان کے پڑھنے اور کبھی ان کے مضامین امر و نہی اور ترغیب و ترہیب کے ذہن نشین کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ تتلو الشیطین صلہ ہے ما موصولہ کا۔ اتبعوا الشیطن اور وہ ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو (حضرت سلیمان کے عہد سلطنت میں) پڑھا کرتے تھے۔ علی ملک…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 97–103

لغات القرآن : آیت نمبر 97 تا 103 عدو (دشمن) ۔ قلب (دل) ۔ بشری (خوش خبری) ۔ عھدوا (انہوں نے وعدہ کیا) ۔ نبذ (پھینک دیا) ۔ اوتوالکتب (کتاب دی گئی (اہل کتاب) ۔ ظھور (ظہر، پیٹھ) ۔ کانھم (گویا کہ وہ سب) ۔ تبعوا (انہوں نے پیروی کی، پیچھے لگے) ۔ ملک (سلطنت، حکومت) ۔ السحر (جادو) ۔ بابل (ایک شہر کا نام ) ۔ ما یعلمان (وہ دونوں نہیں سکھاتے تھے ) ۔ فتنۃ (آزمائش) ۔ یفرقون (جدائی ڈالتے ہیں) ۔ المرء (مرد) ۔ زوج (بیوی) ۔ بضارین (نقصان پہنچانے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 97 تا 103 انسان جب بغض و حسد، ضد اور فرقہ پرستی کے جنون میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پھر وہ سامنے کی معمولی سی بات کو بھی سمجھنے کی اہلیت کھو بیٹھتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 102–103

ہاروت ماروت کا قصہ اور جادو کا حال : جادو کے رواج کو یہ لوگ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے ہیں یہ بات بلکل غلط ہے ۔ یہ جادو تو شیاطین اور ہاروت ماروت کے سبب سے پھیلا ہے۔ جس کا قصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ میں سے بڑے عابد دو فرشتے جن کا نام ہاروت ماروت تھا چھانٹے ، اور انسان کی سی سب خواہشیں ان میں پیدا کر کے کوفہ کی سر زمین پر جو ایک جگہ بابل ہے وہاں ان کو بھیجا، اور وہاں ایک عورت زہرہ نامی پارسن کی الفت میں مبتلا ہو کر اس کے کہنے سے شراب پی گئے ۔ شرا کے نشہ میں زناکے علاوہ شرک اور قتل نفس کا گناہ بھی ان سے سرزد ہوا ، اور ان گناہوں کے سزا میں قیامت تک ان پر طرح طرح کا عذاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 102–103

[69] اسرائیلی سلسلہ کے نامور پیغمبر ایک عظیم اور پرشوکت سلطنت کے بادشاہ۔ [70] عراق کا قدیم نام۔ ملک کے پایہ تخت کا نام بھی یہی تھا۔ [71] ہاروت اور ماروت دو فرشتے تھے جو شہر بابل میں بصورت آدمی رہتے تھے۔ ان کو علم سحر معلوم تھا۔ جو کوئی طالب جاتا کہہ دیتے کہ اس سے ایمان جاتا رہے گا۔ پھر اگر وہ اصرار کرتا تو سکھا دیتے۔ ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو لوگوں کی آزمائش مقصود تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

سحر کفر ہے : (ف 3) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا عہد حکومت نہایت شاندار عہد حکومت تھا جن وانس کی ایک کثیر التعداد فوج ان کے زیر قیادت تھی ، ان کی دانائی اور حکمت زبان زد عوام و خواص تھی ، اس لئے بعض لوگوں کو یہ خیال کرنے کا موقع ملا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جادو جانتے تھے جس سے ہمزاد ان کے قبضے میں تھے ، قرآن حکیم اس خیال کی تغلیط کرتا ہے ، اس لئے کہ تقدیس انبیاء اس کا فرض ہے وہ کہتا ہے سحر کفر ہے اور سلیمان (علیہ السلام) ہرگز کفر کی تعلیم نہیں دے سکتے ، اس کے کفر ہونے کی دو بڑی وجہ ہیں ، ایک تو یہ کہ ساحر کا ایمان اللہ تعالیٰ پر پختہ اور مضبوط نہیں ہوتا ۔ توکل وصبر کے جذبات نہیں رہتے ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 ان یہود نے کتاب الٰہی کے … احکام کو تو پس پشت ڈال دیا اور اس کی بجائے اس چیز کے پیچھے ہو لئے اور اس جادو کے علم کی اتباع اور پیروی اختیار کی جس کو حضرت سلیمان کے عہد سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور لوگوں میں اس علم کا چرچا کیا کرتے تھے اور حضرت سلیمان کی طرف جادو کی نسبت کرتے تھے حالانکہ حضرت سلیمان نے کفر نہیں کیا البتہ ان شیاطین کی یہ حالت تھی کہ وہ خود بھی جادو کرتے تھے اور لوگوں کو بھی جادو سکھایا کرتے تھے اور یہی وہ علم سحر ہے جس کا اتباع یہود کر رہے ہیں۔ نیز ان یہود نے اس سحر کی اتباع اختیار کی جو بابل میں ان دونوں فرشتوں پر ایک خاص حکمت کے ماتحت نازل کیا گیا تھا جن کا نام ہاروت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 102–103

ف 1۔ یہ بیوقوف لوگ جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سحر کی نسبت کرتے ہیں یہود ہیں اس لیے اللہ نے بیچ میں ان کی برات بھی ظاہر فرمادی۔ 2۔ ان آیتوں کے متعلق ایک لمبا چوڑا قصہ زہر کا مشہور ہے جو کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہود کے کتاب اللہ چھوڑنے کی ایک واضح دلیل : 193: یہود کے کتاب اللہ کو وراء ظہور پھینکنے کی ایک دلیل یہ ہے کہ انہوں نے کتاب اللہ یعنی تورات کو چھوڑ کر شیاطین انس کی پیروی شروع کردی تھی۔ مذہبی لوگوں کی عزت و حرمت کا اصل سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ کتاب الٰہی کے محافظ اور اس کی تعلیمات کے ناشر ہوتے ہیں لیکن جس وقت وہ اس فرض جلیل کو ترک کردیتے ہیں تو ان کی عزت بھی جاتی رہتی ہے اور وہ ” خیر البریۃ “ کی بجائے ” شر البریۃ “ بن جاتے ہیں۔ ان کی پہلی کوشش تو یہ ہوتی ہے کہ باوجود اس بدعملی اور بدکرداری کے لوگ ان کا احترام کریں۔ نذریں اور ہدیئے ان کے سامنے پیش ہوں اور عوام الناس انہیں اپنا امام و پیشوا تسلیم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 102–103

In connection with these two verses, some commentators have reported certain Judaic traditions, which have given rise to a number of doubts, especially in the minds of Muslims with a Western orientation. Maulana Ashraf Thanavi has provided very simple and clear solutions to these exegetical problems, and we shall reproduce them here: (1) The Jews were impertinent and senseless enough to attribute magic and sorcery to a prophet -- namely, Sayyidna Sulayman (علیہ السلام) (Solomon). So, in saying that they used to learn the black arts of the devils (Shayatin شیاطین), the Holy Qur'an takes care…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 102–103

104. 'Evil ones' embraces all evil beings, whether they belong to the human species or to the jinn. Here the reference seems to be to both. When moral and material decline set in amon the Israelites, they were overwhelmed with slavery and ignorance, with misery and poverty, and with humiliation and decadence. They were thus drained of all high ambitions and increasingly turned to magic, sorcery, witchcraft, charms and amulets. They began to search for facile means such as spells that would spare them hard work and yet ensure the achievement of their desired ends. At this stage they were…

Read the full tafseer →