Explained with ayahs 97–98
خصومت جبرائیل ؑ موجب کفر و عصیان
امام جعفر طبری ؒ فرماتے ہیں اس پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ جب یہودیوں نے حضرت جبرائیل کو اپنا دشمن اور حضرت میکائیل کو اپنا دوست بتایا تھا اس وقت ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی لیکن بعض کہتے ہیں کہ امر نبوت کے بارے میں جو گفتگو ان کی حضور ﷺ سے ہوئی تھی اس میں انہوں نے یہ کہا تھا۔ بعض کہتے ہیں عمر بن خطاب ؓ سے ان کا جو مناظرہ حضور ﷺ کی نبوت کے بارے میں ہوا تھا اس میں انہوں نے یہ کہا تھا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہودیوں کی ایک جماعت رسول مقبول ﷺ کے پاس آئی اور کہا کہ ہم آپ سے چند سوال کرتے ہیں جن کے صحیح جواب نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اگر آپ سچے نبی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
سورة الْبَقَرَة 100
یہودی صرف نبی ﷺ کو اور آپ پر ایمان لانے والوں ہی کو برا نہ کہتے تھے، بلکہ خدا کے برگزیدہ فرشتے جبریل کو بھی گالیاں دیتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ ہمارا دشمن ہے۔ وہ رحمت کا نہیں، عذاب کا فرشتہ ہے۔
سورة الْبَقَرَة 101
یعنی اس بنا پر تمہاری گالیاں جبریل پر نہیں بلکہ خداوند برتر کی ذات پر پڑتی ہیں۔
سورة الْبَقَرَة 102
مطلب یہ ہے کہ یہ گالیاں تم اسی لیے تو دیتے ہو کہ جبریل یہ قرآن لے کر آیا ہے اور حال یہ ہے کہ یہ قرآن سراسر تورات کی تائید میں ہے۔ لہٰذا تمہاری گالیوں میں تورات بھی حصّے دار ہوئی۔
سورة الْبَقَرَة 103
اِس میں لطیف اشارہ ہے اس مضمون کی طرف کہ نادانو، اصل میں تمہاری…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(بعض یہود کو جو وہ عہد یاد دلایا گیا جو ان سے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کے باب میں توراۃ میں لیا گیا تھا تو انہوں نے خود عہد لینے ہی سے صاف انکار کردیا اس کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ) کیا (اس عہد لینے سے ان کو انکار ہے) اور ان کی تو یہ حالت ہے کہ انہوں نے اپنے مسلم عہدوں کو بھی کبھی پورا نہیں کیا بلکہ جب کبھی بھی ان لوگوں نے (دین کے متعلق) کوئی عہد کیا ہوگا (ضرور) اس کو ان میں سے کسی نہ کسی فریق نے نظر انداز کردیا ہوگا بلکہ ان (تعمیل عہد نہ کرنے والوں) میں زیادہ تو ایسے ہی نکلیں گے جو (سرے سے اس عہد کا) یقین ہی نہیں رکھتے (سو تعمیل نہ کرنا تو فسق تھا ہی یہ یقین نہ کرنا اس سے بڑھ کر…
Read the full tafseer →حضرت جبریل علیہ السلام کی مخالفت سے جس جس کی مخالفت لازم آتی ہے۔ یہ اس کی تفصیل بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس شرارت کی جو سزا ہے اس کا بیان بھی۔ اول درجہ میں تو اس سے خود اللہ تعالیٰ جل شانہ کی مخالفت لازم آتی ہے اس کی وجہ اوپر والی آیت میں بیان ہو چکی ہے کہ جب یہ ایک ایسے کام کی بنا پر جبریل ہی سے خفا ہیں جو جبریل نے خدا کے حکم سے کیا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ خود خدا کے بھی مخالف ہیں۔ پھر اس سے تمام فرشتوں، تمام رسولوں اور جبریل ومیکائیل سب کی مخالفت لازم آتی ہے اس لئے کہ خدا اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں میں کامل ہم آہنگی ہے۔ فرشتے اور انبیاء سارے کام خدا کی مرضی کے مطابق اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
98۔ 1 یہود کہتے تھے کہ میکائیل ہمارا دوست ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ سب میرے مقبول بندے ہیں جو ان کا یا ان میں سے کسی ایک کا بھی دشمن ہے، وہ اللہ کا بھی دشمن ہے حدیث میں ہے، جس نے میرے کسی دوست سے دشمنی رکھی، اس نے میرے ساتھ اعلان جنگ کیا، گویا کہ اللہ کے کسی ایک ولی سے دشمنی سارے اولیاء اللہ سے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی دشمنی ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ اولیاء اللہ کی محبت اور ان کی تعظیم نہایت ضروری اور ان سے بغض وعناد اتنا بڑا جرم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے خلاف اعلان جنگ فرماتا ہے۔ اولیاء اللہ کون ہیں ؟ اس کے لئے ملاحظہ ہو (اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَاۗءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
65:: بعض یہودیوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ آپ کہ پاس جبرئیل ؑ وحی لاتے ہیں وہ چونکہ ہمارے لئے بڑے سخت احکام لایا کرتے تھے اس لئے ہم انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں، اگر کوئی اور فرشتہ وحی لارہا ہو تو ہم کچھ غور کرسکتے تھے، یہ آیت اس کے جواب میں نازل ہوئی ہے اور جواب کا حاصل یہ ہے کہ جبرئیل ؑ تو محض پیغام پہنچانے والے ہیں، جو کچھ لاتے ہیں اللہ کے حکم سے لاتے ہیں، لہذا نہ ان سے دشمنی کی کوئی معقول وجہ ہے اور نہ اس کی و جہ سے اللہ کے کلام کو رد کرنے کا کوئی معنی ہے۔
Read the full tafseer →مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلْكَافِرِينَ ” جو اللہ کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرئیل اور میکائیل کے دشمن ہیں ، اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔ “
اس کے بعد روئے سخن نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے ۔ آپ کو تلقین کی جاتی ہے کہ آپ پر جو سچائی اور کھلی نشانیاں نازل ہورہی ہیں ، آپ ان پر جم جائیں ۔ سوائے فساق وفجار کے اور کوئی ان کا منکر نہیں ہوسکتا ۔ اور بنی اسرائیل کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ کبھی اپنے عہد پر قائم نہیں رہتے ۔ چاہے وہ عہد انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا ہو یا انبیائے سابقین کے ساتھ کیا ہو۔ یا وہ عہد انہوں نے نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
2 یہود کہتے تھے کہ " جبرائیل فرشتہ اس نبی کے پاس وحی لاتا ہے اور وہ ہمارا دشمن ہے۔ ہمارے اگلے بڑوں کو اس سے بہت تکلیفیں پہنچیں۔ اگر جبرائیل کے بدلے اور فرشتہ وحی لائے تو ہم محمد ﷺ پر ایمان لائیں "۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرشتے جو کچھ کرتے ہیں اللہ کے حکم سے کرتے ہیں اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتے جو ان کا دشمن ہے اللہ بیشک ان کا دشمن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
جیسا کہ قبل ازیں عرض کیا جا چکا ہے ‘ ٌ محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت یہود کے لیے بہت بڑی آزمائش ثابت ہوئی۔ ان کا خیال تھا کہ آخری نبوت کا وقت قریب ہے اور یہ نبی بھی حسب سابق بنی اسرائیل میں سے مبعوث ہوگا۔ لیکن نبی آخر الزمان ﷺ کی بعثت بنی اسماعیل میں سے ہوگئی۔ یہود جس احساس برتری کا شکار تھے اس کی رو سے وہ بنی اسماعیل کو حقیر سمجھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اُمّی لوگ ہیں ‘ اَن پڑھ ہیں ‘ ان کے پاس نہ کوئی کتاب ہے نہ شریعت ہے اور نہ کوئی قانون اور ضابطہ ہے ‘ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک شخص کو کیسے چن لیا ؟ ان کا خیال تھا کہ یہ سب جبرائیل کی شرارت ہے کہ وہ وحی لے کر محمد عربی ﷺ کے پاس چلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
116 جبریل دشمنی کا جواب :۔ وجہ یہ ہے کہ فرشتے تو اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کام کر ہی نہیں سکتے اور جو فرشتوں کا دشمن ہے وہ دراصل اللہ کا دشمن اور کافر ہے، اور اللہ خود فرشتوں سے دشمنی رکھنے والے کافروں کا دشمن ہے۔
Read the full tafseer →342 ۔ یعنی جو شخص بھی اللہ یا اس کے پیغمبروں یا اس کے فرشتوں، خصوصا جبرئیل ومیکائیل جیسے مقرب فرشتوں سے وہ رشتہ وتعلق قائم رکھتا ہے جو ان کے مرتبہ واجب کے منافی ہے۔ عدو۔ عربی میں بطور مصدر بھی آتا ہے، اور اس معنی میں یہ ضد ہے دوستی و محبت کا، منافاۃ الالتیام (راغب) دوسرا استعمال اس کا بحثییت اسم کے ہے، جیسا کہ یہاں ہے، اور اس معنی میں یہ مقابل ہے دوست کے۔ العدو للشخص ضد الصدیق (روح) اور اس کے مفہوم میں محض عداوت نہیں، بلکہ انکار، نافرمانی، حق ناشناسی، غرض دوستی و محبت کے منافی جو کچھ ہے سب داخل ہے۔ میکال یا میکائل بھی جبرئیل کی طرح ایک فرشتہ مقرب کا نام ہے، مشہور روایتوں میں آیا ہے کہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
” مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِلہِ وَمَلٰئِکَتِہٖ “ (الآیۃ) اللہ تعالیٰ یہود کے جواب میں فرماتے ہیں، یہ سب میرے مقبول بندے ہیں، جو ان کا یا ان میں سے کسی ایک کا دشمن ہے، وہ اللہ کا بھی دشمن ہے، حدیث شریف میں ہے : ” مَنْ عَادی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ بَادَرَنِیْ بِالْحَرْبِ “۔ (صحیح بخاری، کتاب الرقاق)
Read the full tafseer →مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبْرِيْلَ وَمِيْكٰىلَ ( کہ جو دشمن ہے اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور رسولوں کا اور جبرئیل اور میکائیل کا) منجملہ اور فرشتوں کے خاص جبرئیل اور میکائیل کا ذکر بطور تخصیص بعد تعمیم اس لیے فرمایا کہ تاکہ ان دونوں کی فضیلت کا اظہار ہو گویا یہ فرشتوں میں داخل ہی نہیں۔ علو مرتبہ کی وجہ سے ان کی جنس ہی اور ہے۔ نیز کلام بھی ان ہی دونوں میں تھا۔ اس لیے خصوصیت کے ساتھ ان کا ذکر علیحدہ کردیا پھر یہ بھی ظاہر کرنا تھا کہ ایک کی عداوت ہو یا سب کی کفر اور اللہ کی دشمنی میں یکساں ہے۔ حفص، یعقوب اور ابو عمرو نے میکائیل کو بغیر ہمزہ اور بغیر یا کے…
Read the full tafseer →(98) جو آدمی بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں اور جبریل ؑ و میکائل ؑ کا دشمن ہو تو ایسے یہودیوں کا اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور جبرائیل ؑ اور میکائیل ؑ اور تمام ایمان والے بھی دشمن ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
یہودی رسول اللہ ﷺ کی عداوت میں یہاں تک چلے گئے کہ انھوں نے جبریل ؑ کو بھی اپنا دشمن قرار دے دیا، کیونکہ وہی آپ پر وحی لے کر آئے تھے۔ جب کہ ان کے خیال میں انھیں بنی اسرائیل کے کسی شخص پر وحی لے کر آنا چاہیے تھا۔ اس کے لیے انھوں نے ایک بہانا بنایا، چناچہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے : ”اے ابا القاسم ! ہم آپ سے چند سوال کرتے ہیں، اگر آپ نے ان کے جواب دے دیے تو ہم پہچان جائیں گے کہ آپ واقعی نبی ہیں اور آپ کے پیروکار بن جائیں گے۔“ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ آپ نے ان سے عہد لیا جیسا کہ اسرائیل ؑ نے اپنے بیٹوں سے لیا تھا، آپ ﷺ نے ان سے یہاں تک کہا کہ اللہ اس پر جو…
Read the full tafseer →آیت نمبر 98
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من کان عدوا للہ یہ شرط ہے اور اس کا جواب فان اللہ عدوٌ للکفرین ہے۔ یہ جبریل کے دشمنوں کے لئے وعید اور مذمت ہے اور یہ اعلان ہے کہ بعض کی عداوت اللہ تعالیٰ کی عداوت کا تقاضا کرتی ہے اور بندے کا اللہ تعالیٰ سے عداوت رکھنا معصیت ہے، اس کی اطاعت سے اجتناب ہے اور اس کے اولیاء سے دشمنی ہے اور اللہ تعالیٰ کا بندے کے لئے دشمنی رکھنا، اسے عذاب، اور اس پر عداوت کے اثر کا اظہار کرنا ہے (2) ۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل اور حضرت میکائیل کا خصوصی ذکر کیوں فرمایا اگرچہ ملائکہ کا ذکر ان کو بھی شامل تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے شرف کی وجہ سے خصوصی ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
یہود کے چار سوالات
(1) مام طیالسی نے، الفریابی، احمد، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو نعیم اور بیہقی دونوں نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہود کی ایک جماعت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور کہا کہ اے ابو القاسم ہمیں چند باتوں کے بارے میں بتائیے ہم ان کے بارے میں آپ سے سوال کریں گے۔ جن کے بارے میں نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ آپ نے فرمایا مجھ سے پوچھ لو جو تم ثاہتے ہو لیکن مجھ کو اللہ کا ذمہ دے دو اور جو یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے ذمہ لیا تھا کہ اگر میں تم کو وہ باتیں بتادوں اور تم ان کو پہچان لو تو تم میری تابعداری کروگے انہوں نتے کہا ٹھیک ہے ہم عہد کرتے ہیں۔ کہنے…
Read the full tafseer →[ مَنْ كَانَ : جو ہے ] [ عَدُوًّا : دشمن ] [ لِّلّٰهِ : اللہ کا ] [ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ : اور اس کے فرشتوں کا ] [ وَرُسُلِهٖ : اور اس کے رسولوں کا ] [ وَجِبْرِيْلَ : اور جبریل کا ] [ وَمِيْكٰىلَ : اور میکائیل کا ] [ فَاِنَّ اللّٰهَ : تو بیشک اللہ ] [ عَدُوٌّ: دشمن ہے ] [ لِّلْكٰفِرِيْنَ : انکار کرنے والوں کا ]
2:60:1 (4) مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَ مَلٰئِکَتِہٖ وَ رُسُلُہٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْکٰلَ
یہ بھی مکمل جملہ نہیں بلکہ اس میں صرف بیان شرط ہے ‘ جواب شرط اس سے اگلے جملے میں ہے۔
مفردات کا الگ الگ ترجمہ مع گزشتہ حوالہ (برائے ضرورت مند) درج ذیل ہے :
A ” مَنْ “ (جو کوئی بھی ‘ جو) یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
یہودیوں کا کفریہ قول کہ جبرائیل ہمارا دشمن ہے
یہودیوں کو جب معلوم ہوا کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر جبرائیل (علیہ السلام) وحی لاتے ہیں تو کہنے لگے کہ جبریل تو ہمارا دشمن ہے کیونکہ وہ سخت احکام لاتا ہے۔ اور ہم اس کتاب کو نہیں مانتے جو جبریل کے ذریعہ نازل ہوئی ہے اور وہ عذاب بھی لاتا رہا ہے لہٰذا اگر میکائیل وحی لانے والے ہوتے تو ہم محمد رسول اللہ ﷺ کا اتباع کرلیتے کیونکہ وہ رحمت اور بارش لانے والے ہیں۔ ایک مرتبہ یہودی حضور ﷺ سے باتیں پوچھ رہے تھے انہوں نے وعدہ کرلیا تھا کہ آپ نے یہ باتیں بتادیں تو ہم آپ کا اتباع کرلیں گے جب آپ ان کا جواب دیتے گئے تو ہر بات مانتے گئے آخر میں جب یہ ذکر آیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
شناعت بستم (20)
قال تعالیٰ قل من کان عدوا لجبریل فانہ نزلہ۔۔۔ الی۔۔ فان اللہ عدو للکفرین
ان آیات میں یہود کے نہ ایمان لانے کے لیے ایک خاص بہانہ کو ذکر کر کے اس کا رد فرماتے ہیں۔ وہ یہ کہ ہم قرآن پر اس لیے ایمان نہیں لاتے کہ اس کو جبریل لیکر آتے ہیں اور وہ ہمارے دشمن ہیں وہی ہم پر ہمیشہ اللہ کا عذاب لیکر آتے ہیں اس لیے ہم ان کی بات نہیں مانیں گے۔ البتہ میکائیل ہمارے دوت ہیں جو رحمت اور بارش کے فرشتہ ہیں وہ اگر وحی لیکر آتے تو ہم مان لیتے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محمد ﷺ اگر یہودی یہ کہیں کہ ہم قرآن کو اس لیے نہیں مانتے کہ وہ جبریل کے واسطہ سے نازل ہوا ہے اور جبریل ہمارے دشمن ہیں۔ اور…
Read the full tafseer →189 پچھلی آیت میں تو دلائل سے عداوتِ جبریل کی غیر معقولیت بیان کی تھی اب اس آیت میں جبریل اور دوسرے فرشتوں سے عداوت رکھنے والوں کا انجام بیان کیا ہے اس لیے یہ عداوت سے اسم ہے اور عداوت محبت اور دوستی کی ضد ہے اور اس سے مراد ہر وہ فعل ہے جو دوستی اور محبت کے منافی ہو۔ تمام فرشتوں کے ذکر کے بعد جبریل اور دوسرے فرشتوں سے عداوت رکھنے والوں کا انجام بیان کیا ہے اس لیے یہ عداوت جبریل کی غیر معقولیت کی پانچویں دلیل۔ عدوٌ عداوت سے اسم ہے اور عداوت محبت اور دوستی کی ضد ہے اور اس سے مراد ہر وہ فعل ہے جو دوستی اور محبت کے منافی ہو۔ تمام فرشتوں کے ذکر کے بعد جبریل اور میکال کی تخصیص باقی فرشتوں پر ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
شان نزول : یہودیوں کی خرابیوں کا تذکرہ تسلسل کے ساتھ چل رہا ہے۔ آیات زیر درس کے شان نزول کے متعلق مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 349 ، تفسیر طبری ج 1 ص 431 ، ابن کثیر ج 1 ص 129) کہ حضرت نبی (علیہ السلام) کی ہجرت مدینہ کے وقت مدینہ کے گردو نواح میں بہت سے یہودی آباد تھے۔ یہودی علماء میں سے صرف ایک عالم حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ ایمان لائے باقی سب محروم ہی رہے ان میں سے ابن صوریا یک چشم تھا ۔ وہ بعض دوسرے یہودیوں کے ہمراہ حضور نبی کریم ﷺ کا امتحان لینے کے لیے آیا۔ اور آپ سے مختلف سوال کیے۔ اس نے کہا آخری نبی کے خواب سے متعلق ہماری کتابوں میں بعض نشانیاں موجود ہیں۔ آپ اپنے…
Read the full tafseer →مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلہِ وَمَلٰۗىِٕكَتِہٖ وَرُسُلِہٖ وَجِبْرِيْلَ وَمِيْكٰىلَ فَاِنَّ اللہَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِيْنَ 98
عدو
العَدُوُّ : التّجاوز ومنافاة الالتئام، فتارة يعتبر بالقلب، فيقال له : العَدَاوَةُ والمُعَادَاةُ ، وتارة بالمشي، فيقال له : العَدْوُ ، وتارة في الإخلال بالعدالة في المعاملة، فيقال له : العُدْوَانُ والعَدْوُ. قال تعالی: فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] ، وتارة بأجزاء المقرّ ، فيقال له : العَدْوَاءُ. يقال : مکان ذو عَدْوَاءَ أي : غير متلائم الأجزاء . فمن المُعَادَاةِ يقال :
رجلٌ عَدُوٌّ ، وقومٌ عَدُوٌّ. قال تعالی: بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
ترکیب : قل من کان من شرطیہ اور جواب اس کا فہو عدواللہ وغیرہ محذوف باذن اللہ موضع حال میں ہے ضمیر فاعل نزل سے جو جبرئیل کی طرف پھرتی ہے والتقدیر نزلہ و معہ الاذن اوما ذونالہ مصدقا حال ہے نزلہ کے ہاء سے اور اسی طرح ہدی و بشری۔
تفسیر : منجملہ یہود کے قبائح کے ایک یہ بھی ہے کہ وہ کہتے تھے قرآن بہت ٹھیک ‘ اس میں جو کچھ ہے وہ بھی صحیح، مگر جو اس کو لے کر آتا ہے یعنی جبرئیل ہم کو اس سے عداوت ہے۔ عداوت کی وجہ غالباً یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہود کو بےحد عداوت تھی اور وہ روح القدس سے مؤید تھے۔ حق سبحانہ ان کے ایمان کی بےوقعتی بیان فرماتا ہے کہ انبیاء کو قتل کیا کتب منزلہ جو عہد مؤثق کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّـہٗ نَزَّلَـہٗ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقَا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وِرُسُلِہٖ وَِجِبْرِیْلَ وَمِیْکٰلَ فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیْنَ ۔
(آپ کہہ دیجئے ! جو کوئی جبرئیل کا مخالف ہے تو وہ جان لے کہ جبریل نے اس کلام کو آپ کے دل پر اللہ کے حکم سے اتارا ہے، مطابق ان پیشین گوئیوں کے جو اس کے پہلے سے موجود ہیں اور ہدایت ہے اور ایمان والوں کے لیے خوشخبری ہے۔ جو کوئی مخالف ہو اللہ کا، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں اور جبرائیل اور میکائیل کا تو ایسے کافروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کے دیگر حیلوں کے ساتھ یہ حیلہ اور بہانہ بھی تھا کہ جبریل ہمارے ذاتی دشمن ہیں جس کی وجہ سے ہم رسول اللہ ﷺ کو تسلیم کرنے کے لیے اپنے آپ کو آمادہ نہیں پاتے۔ یہاں اس بات کا جواب دیا گیا ہے۔
بیّن حقائق اور ٹھوس دلائل کا مسلسل انکار کرنے کی وجہ سے یہود اس قدر بد حواس ہوچکے تھے کہ وہ نبی ﷺ سے پوچھتے ہیں اچھا یہ بتائیں کہ آپ پر کون سا فرشتہ وحی لاتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام) جو ملائکہ کا سردار، امانت دار اور اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ پسندیدہ اور مقرب فرشتہ ہے۔ یہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات لایا اور اسی نے ہی اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت عیسیٰ…
Read the full tafseer →98: مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَمَلَاپکَتِہٖ وَرُسُلِہٖ وَجِبْرِیْلَ وَمِیْکٰـلَ : (جو دشمن ہے اللہ تعالیٰ کا اور اس کے فرشتوں اور رسولوں کا اور جبرائیل اور میکائیل کا۔ )
وجوہ قراءت :
نمبر 1: بصری اور حفص نے مِیْکال۔ نمبر 2: مدنی نے میکائل اختلاس ہمزہ کے ساتھ۔
نمبر 3: بقیہ قراء نے میکائیل ہمزہ اور مد مشبعہ کو کسرہ دے کر۔
وجہ تخصیص : خصوصاً دو فرشتوں کو افضل ہونے کی وجہ سے نام کے ساتھ ذکر کردیا۔ گویا کہ وہ اور جنس سے ہیں۔ اس لیے کہ وصف میں تغایریہ ذات کے تغایر کے قائم مقام شمار ہوتا ہے۔
فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّلِّلْکٰفِرِیْنَ : (بےشک اللہ تعالیٰ کافروں کا دشمن ہے) یہاں ضمیر کی بجائے اسم ظاہر…
Read the full tafseer →(تفسیر) 98۔:
(آیت)” من کان عدو اللہ وملائکتہ ورسلہ و جبریل ومیکال “ جبرئیل ومیکائل (علیہما السلام) کو تمام فرشتوں میں سے خاص طور پر ذکر کیا حالانکہ یہ دونوں فرشتے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” وملائکتہ “ میں داخل ہیں ، یہ محض فضیلت اور خاصل کرنے کے لیے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” فیھما فاکھۃ ونخل ورمان “ کھجور اور انار کو علیحدہ ذکر کیا حالانکہ یہ دونوں ” فاکھۃ “ کے اندر داخل ہیں یہ بھی فضیلت کے لیے ہے اور دونوں میں واؤ بمعنی او ہے یعنی جو ان میں سے کسی ایک کا دشمن ہے پس وہ سب کا دشمن ہے ۔
اس لیے کہ ایک کا کافر سب کے ساتھ کفر کرنے والا ہے (آیت)” فان اللہ عدود للکافرین “۔ حضرت عکرمہ ؓ فرماتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
(97 ۔ 98): جب سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر تورات کے چند احکام کے منسوخ ہونے کی وحی حضرت جبرئیل لائے اور ہر وقت مدد کے طور پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ رہنے لگے اس وقت سے یہود لوگ حضرت جبرئیل کو اپنا دشمن جانتے تھے اب آنحضرت ﷺ جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں تشریف لائے تو یہود نے چند باتیں آپ سے پوچھیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ آپ پر وحی کون سا فرشتہ لاتا ہے اس کا جواب آپ نے دیا کہ جس طرح اور انبیاء پر حضرت جبرئیل وحی لاتے رہے اسی طرح مجھ پر بھی وہی وحی لاتے ہیں۔ یہ سن کر یہود نے کہا کہ حضرت جبرئیل کو ہم لوگ پہلے سے اپنا دشمن جانتے ہیں۔ اس لئے ہم اسلام قبول نہیں کرسکتے۔ اگر اور کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
یعنی ان یہود سے کہہ دیجئے جن کا گمان ہے کہ ان کو آپ پر ایمان لانے سے صرف اس چیز نے روکا ہے کہ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) آپ کے دوست اور مددگار ہیں۔ اگر جبرئیل ( علیہ السلام) تمہارا تناقض، تمہاری ضد اور اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہارا تکبر ہے۔ کیونکہ جبرئیل ( علیہ السلام) ہی وہ فرشتہ ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے قلب پر قرآن اتارا اور جبرئیل ( علیہ السلام) ہی آپ سے پہلے دیگر انبیائے کرام پر نازل ہوتا رہا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس نے جبرئیل ( علیہ السلام) کو حکم دیا اور اسے وحی کے ساتھ بھیجا۔ وہ تو محض ایک پیامبر ہے۔
بایں ہمہ جبرئیل ( علیہ السلام) اس کتاب کو لے کر نازل ہوئے جو کتب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–102
ساحر کا حکم
قول باری ہے : واتبعوا ماتتلوا الشیطین علی ملک سلمین، وما کفر سلیمن ولکن الشیطین کفروا ( اور ان چیزوں کی پیروی کرنے جو شیاطین سلیمان کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا۔ کفر کے مرتکب تو شیاطین تھے) تا آخر آیت
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہاں سحر، یعنی جادو کی حققیت پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے کیونکہ بہت سے اہل علم کی نظروں سے بھی یہ بات پوشیدہ ہے، عوام الناس کا تو پوچھنا ہی کیا، اس کے بعد ہم معانی اور احکام کے سلسلے میں مذکورہ بالا آیت کے مقتضاد کو سامنے رکھ کر جادو کا حکم بیان کریں گے۔
اہل لغت کے قول کے مطابق سحر ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو بہت…
Read the full tafseer →277 جبرائیل و میکائیل سے دشمنی خود اپنی ہی تباہی کا سامان ۔ والعیاذ باللہ : کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے معصوم اور نوری فرشتوں سے عداوت رکھنے اور اس ہدایت و ارشاد سے منہ موڑنے کا لازمی نتیجہ یہی ہے۔ اور ایسی حماقت کا ارتکاب وہی کرسکتا ہے جس کی مت مار دی گئی ہو، اور اس کے نصیب پھوٹ چکے ہوں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَََظِیْْم ۔ ورنہ ان نوری فرشتوں سے جن کا کام ہی ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں مشغول رہنا ہے اور جو ذاتیات کے تمام شوائب و علائق سے پاک اور بری ہوتے ہیں۔ اور جو ہر وقت اپنے خالق ومالک کے اوامرو ارشادات کی تعمیل و بجاآوری کیلئے تیار و مستعد رہتے ہیں اور جن سے خلق خدا کو فائدہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
حضرت جبرائیل سے دشمنی
تشریح : ان آیات مبارکہ میں یہودیوں کی ایک اور دشمنی کا ذکر کیا گیا ہے، جو وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ اور بڑے بڑے فرشتوں کے ساتھ رکھتے تھے۔ مثلاً وہ کہتے تھے کہ جبرائیل ہمارا قومی دشمن ہے بقول ان کے جس قدر عذاب یہود کے آباؤ اجداد پر آچکے تھے ان کی خبر جبرائیل ہی لایا کرتے تھے۔ حالانکہ جبرائیل امین تو مقرب ترین فرشتوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کا کام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحی (پیغام) اس کے پیغمبروں تک پہنچائیں۔ یہودیوں کا کہنا تھا کہ جبرائیل ہمارے بھید کی باتیں، سازشیں اور تدبیریں نبی ﷺ کو بتا دیتے تھے۔ لہٰذا جبرائیل اور تمام فرشتے ہمارے دشمن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–103
آیات 97- 103
اسرارومعارف
جب علمائے بنی اسرائیل عقل ونقل میں عاجز ہوئے تو صورت ایک مباہلہ کی بنی ، جب وہاں بھی ناکام ہوئے تو اب سوائے تسلیم کے چارہ نہ تھا اور راہ وہ اختیار نہ کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا ایک اور عذر لنگ تراشا کہ نبی تو برحق ہیں اور ہم مان بھی ضرور لیتے مگر یہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) مجھ پر وحی لاتے ہیں اور یہ وہ فرشتہ ہے جو بارہا ہم پر بربادی لایا اور ہمارے آبائو اجداد سے سختیاں کیں۔ اگر کوئی اور فرشتہ مثلاً میکائیل ہی وحی لاتا تو ضرور ہم بھی تسلیم کرتے مگر جبرائیل کے ساتھ ہماری بنتی نہیں ہے اس وجہ سے ہم نبوت محمدی ﷺ کا اتباع نہیں کرسکتے۔
یہ ساری بات انہوں نے جہلاء کو…
Read the full tafseer →ف 3 یہود جو ن کہ میکا ئیل (علیہ السلام) کو اپنا دوست کہتے تھے اس لیے اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان کا جبر یل کے ساتھ ذکر فرایا کہ ایک سے دشمنی بعینہ دوسرے سے دشمنی ہے بلکہ خود اللہ تعالیٰ سے دشمنی ہے کیونکہ یہ مقرب فرشتے اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔ ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : من عادی لی ولیا فقد بارزنینی بالعرب (بخاری) کہ جس نے میرے دوست سے دشمنی رکھی وہ گویا مجھ سے لڑنے نکلا یہی وجہ ہے کہ جبریل سے عداوت پر اللہ تعالیٰ نے غصہ کا اظہار فرمایا ہے۔ (ابن کثیر )
Read the full tafseer →(2:98) من شرطیہ ہے جواب شرط محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے ۔ من کان عدو وا ۔۔ ومیکل فھو کانو مجزی باشد العذاب۔ جو کوئی مخالف (یا دشمن) ہو اللہ کا یا اس کے فرشتوں کا یا اس کے پیغمبروں کا یا جبرائیل یا میکائیل کا تو وہ کافر ہے اور مستوجب عذاب شدید ہے۔
عربی میں واؤ صرف عطف ہی کے لئے نہیں آتا۔ بلکہ بمعنی او (یا) بھی مستعمل ہے، یہاں اسی معنی میں آیا ہے ۔ یعنی ان میں سے جو سکی ایک کا دشمن ہے وہ سب کا دشمن ہے۔
عدوا۔ عدو۔ مصدر بھی ہے اور اس صورت میں یہ خد ہے دوستی اور محبت کا ۔ عدو اسم بھی ہے اس صورت میں یہ مقابل ہے دوست کا۔ یہاں مؤخر الذکر صورت میں استعمال ہے عدوا بوجہ خبر کان کے منصوب ہے۔
فان اللہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–103
لغات القرآن : آیت نمبر 97 تا 103
عدو (دشمن) ۔ قلب (دل) ۔ بشری (خوش خبری) ۔ عھدوا (انہوں نے وعدہ کیا) ۔ نبذ (پھینک دیا) ۔ اوتوالکتب (کتاب دی گئی (اہل کتاب) ۔ ظھور (ظہر، پیٹھ) ۔ کانھم (گویا کہ وہ سب) ۔ تبعوا (انہوں نے پیروی کی، پیچھے لگے) ۔ ملک (سلطنت، حکومت) ۔ السحر (جادو) ۔ بابل (ایک شہر کا نام ) ۔ ما یعلمان (وہ دونوں نہیں سکھاتے تھے ) ۔ فتنۃ (آزمائش) ۔ یفرقون (جدائی ڈالتے ہیں) ۔ المرء (مرد) ۔ زوج (بیوی) ۔ بضارین (نقصان پہنچانے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 97 تا 103
انسان جب بغض و حسد، ضد اور فرقہ پرستی کے جنون میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پھر وہ سامنے کی معمولی سی بات کو بھی سمجھنے کی اہلیت کھو بیٹھتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
جبکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر توریت کے چند احکام کے منسوخ ہونے کی وحی حضرت جبرئیل (علیہ السلام) لائے اور ہر وقت مدد کے طور پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ رہنے لگے ۔ اس وقت سے یہود لوگ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو اپنا دشمن جانتے تھے ۔ آنحضرت ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو یہود نے چند باتیں دریافت کیں ، ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ پر کون سافرشتہ وحی لاتا ہے ۔ حضور نے جواب دیا کہ جس طرح اور انبیاء کرام پر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) وحی لاتے رہے مجھ پر بھی وہی لاتے ہیں ، اس پر یہود نے کہا کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ہم لوگ پہلے سے دشمن جانتے ہیں اس لئے اسلام قبول نہیں کرسکتے ۔ اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
[66] ایک مقرب فرشتے کا نام جن کے ذمہ مخلوق کی رزق رسانی اور بارش کا انتظام ہے۔ تورات میں ان کا ذکر
بڑے تعظیمی لہجہ میں موجود ہے۔ یہود ان کو اپنا قومی محافظ سمجھتے تھے۔
[67] تورات میں جبرائیل کے ہاتھوں عذاب کا نازل ہونا بھی مذکور تھا اسی وجہ سے یہودی جبرائیل سے خوش نہ تھے اور ان کو گالیاں دیتے تھے اور کیونکہ تمام فرشتے اللہ کے لشکر ہیں اس لئے جو ایک کا دشمن ہوا وہ دوسرے کا بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
(ف 2) جہلا نے یہود جبرائیل (علیہ السلام) کے نام سے بہت پریشان ہوتے تھے ، ان کا خیال تھا کہ یہ فرشتہ ہماری بربادی اور بدبختی کا باعث ہوا ہے اس لئے اب اس کے لائے ہوئے پیغام کو ہم کبھی نہ مانیں گے ، یہ ایک ضد اور جاہلانہ خیال تھا ، ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا ، وہ جو کچھ لاتا ہے پیغام خدا کے نظام وحی وتنزیل کا انکار ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
ف 1 اے پیغمبر آپ فرما دیجیے جو شخص بلا وجہ جبرئیل علیہ سے عداوت و دشمنی کرے تو کرے اس دشمنی کی کوئی وجہ تو ہے نہیں جبرئیل کا کام تو یہ ہے کہ اس نے یہ قرآن اے محمد ﷺ آپ کے قلب پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے نازل کیا ہے، اس قرآن کی شان تو یہ ہے کہ یہ ان کتب سماویہ کی تصدیق کرنیوالا ہے جو اس سے پہلے نازل ہوئیں ہیں اور یہ قرآن دین حق کی رہنمائی کرنے والا ہے اور ایمان والوں کو بشارت و خوشخبری سنانے والا ہے۔ اب کوئی شخص خواہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہو خواہ اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کا دشمن ہو خواہ خصوصیت کے ساتھ حضرت جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہو ان سب کی دشمنی ایک حیثیت رکھتی ہے اور اس دشمن کی سزا یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
ف 3۔ بعض یہود نے حضور ﷺ سے یہ سن کر جبرائیل (علیہ السلام) وحی لاتے ہیں کہا کہ ان سے تو ہماری عداوت ہے احکام شاقہ اور واقعات ہائلہ ان ہی کے ہاتھوں آیا کہتے ہیں میکائیل خوب ہیں کہ بارش اور رزق ان سے متعلق ہے اگر وہ وحی لایا کرتے تو ہم مان لیتے اس آیت میں اسی کا رد ہے۔
Read the full tafseer →تصوراتی دنیا میں کھو جانے والے ہمیشہ اپنا ہی نقصان کیا کرتے ہیں :
187: جس طرح قبل ازیں بیان کیا جا چکا ہے کہ ایک سچائی کا انکار گویا ساری سچائیوں کے انکار کے برابر ہے اسی طرح کسی ایک سچائی کا اقرار تب ہی اقرار ہوگا جب ساری سچائیوں کا اقرار کیا جائے نظریاتی طور پر جبرائیل ہو ، میکائیل ہو یا اللہ تعالیٰ کے دوسرے فرشتوں میں سے کوئی فرشتہ یا اللہ تعالیٰ کی لم یلد ولم یولد ذات جو ان تمام طاقتوں اور قوتوں کی خالق حقیقی ہے ۔ جس شخص نے ان میں سے کسی ایک کا انکار کیا تو گویا اس نے سب کا انکار کردیا۔ اس طرح سے یہ بات واضح کردی کہ جبرائیل سے دشمنی کا دعویٰ کرنے والے گویا اللہ کے دشمن ہیں جبرائیل کے دشمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
The perversity of the Jews was very fertile, and gave them ever-new excuses for denying the Holy Prophet ﷺ . When they learnt that it was Archangel Jibra'il (علیہ السلام) (Gabriel ) who brought the Glorious Qur'an to the Holy Prophet ﷺ ، they said that the Archangel (علیہ السلام) was their enemy, as it was through him that rigorous commandments or catastrophic punishments had always descended on them,. and that for this reason they would not accept a Book which had been revealed through his agency. They also added that they could have accepted the Holy Qur'an, if the Archangel Mika'il (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
100. The Jews not only reviled the Prophet (peace be on him) and his followers but also God's chosen angel, Gabriel, denouncing him as their enemy, and branding him as the angel of curse rather than of blessing.
101. Since Gabriel communicated the revealed messages with God's approval the abuses of the Jews which were apparently aimed at Gabriei should be considered as directed at God.
102. They abused Gabriel because he had brought the Qur'an from God, and since the Qur'an on the whole confirms the Torah this too became a co-sharer in those abuses.
103. Here there is a subtle suggestion that…
Read the full tafseer →