Explained with ayahs 91–92
خود پسند یہودی مورد عتاب
یعنی جب ان سے قرآن پر اور نبی آخر الزمان پر ایمان لانے کو کہا جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں توراۃ انجیل پر ایمان رکھنا کافی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس میں بھی جھوٹے ہیں قرآن تو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور خود ان کی کتابوں میں بھی حضور ﷺ کی تصدیق موجود ہے، جیسے فرمایا آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ) 2۔ البقرۃ :146) یعنی اہل کتاب آپ کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں پس آپ سے انکار کا مطلب توراۃ انجیل سے بھی انکار کے مترادف ہے۔ اس حجت کو قائم کر کے اب دوسری طرح حجت قائم کی جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
سورة الْبَقَرَة 96
اس آیت کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے ”کیسی بری چیز ہے، جس کی خاطر انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا۔“ یعنی فلاح وسعادت اور اپنی نجات کو قربان کردیا۔
سورة الْبَقَرَة 97
یہ لوگ چاہتے تھے کہ آنے والا نبی ان کی قوم میں پیدا ہو۔ مگر جب وہ ایک دوسری قوم میں پیدا ہوا، جسے وہ اپنے مقابلے میں ہیچ سمجھتے تھے، تو وہ اس کے انکار پر آمادہ ہوگئے۔ گویا ان کا مطلب یہ تھا کہ اللہ ان سے پوچھ کر نبی بھیجتا جب اس نے ان سے نہ پوچھا اور اپنے فضل سے خود جسے چاہا، نواز دیا، تو وہ بگڑ بیٹھے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (حضرت) موسیٰ ؑ تم لوگوں کے پاس صاف صاف دلیلیں (توحید و رسالت کی) لائے (مگر) اس پر بھی تم لوگوں نے گوسالہ کو (معبود) بنالیا، موسیٰ ؑ کے (طور پر جانے کے) بعد اور تم (اس تجویز میں) ستم ڈھا رہے تھے،
فائدہبینات سے وہ دلائل مراد ہیں جو اس قصہ سے پہلے جبکہ توراۃ نہ ملی تھی موسیٰ ؑ کے نبی برحق ہونے پر قائم ہوچکی تھیں مثلاً عصاء اور یدبیضاء دریا کا پھٹنا وغیرہ،
رد کی تقریر کا حاصل ظاہر ہے کہ تم دعویٰ تو ایمان کا کرتے ہو اور صریح شرک میں مبتلا ہو جس سے موسیٰ ؑ بلکہ خدا تعالیٰ کی صریح تکذیب بھی لازم آتی ہے گوسالہ کو معبود بنانے کا معاملہ اگرچہ ان یہودیوں کے ساتھ پیش نہیں آیا تھا جو حضور…
Read the full tafseer →یہ یہود کے دعوائے ایمان کی مزید تردید ہے اور اس تردید کا خاص پہلو یہ ہے کہ ان کی ابتدائی تاریخ کے واقعہ گوسالہ پرستی کو یاد دلا کر نہ ان کو سرزنش کی گئی ہے کہ آج تم نے اپنے ایمان اور اپنی دین داری کی حکایت اتنی بڑھا رکھی ہے کہ نہ قرآن کو خاطر میں لانے کے لئے تیار ہو نہ پیغمبر آخرالزمان ﷺ کو، حالانکہ تمہارے اس ایمان کا حال آج تو درکنار شروع سے یہ رہا ہے کہ عین موسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں، ان کے کھلے کھلے معجزات کو دیکھتے ہوئے تم نے اپنے رب کو چھوڑ کر ایک بچھڑے کی عبادت شروع کر دی۔
یہود کے اسی قسم کے فخر پر بعض انبیاء نے بھی ان کو سرزنش کی ہے اور اسی واقعہ گوسالہ پرستی کی طرف تعریض کرتے…
Read the full tafseer →92۔ 1 یہ ان کے انکار اور عناد کی ایک اور دلیل ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ آیات کی وضاحت اور دلیل کی بات لے کر آئے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ معبود اللہ تعالیٰ ہی ہے، لیکن تم نے اسکے باوجود حضرت موسیٰ ؑ کو بھی تنگ کیا اور اللہ واحد کو چھوڑ کر بچھڑے کو معبود بنا لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
62: یعنی ایک غضب کے مستحق تو وہ اپنے کفر کی وجہ سے تھے دوسرا غضب ان پر حسد اور ضد کی وجہ سے ہوا۔
Read the full tafseer →بات یہ نہیں کیونکہ حضرت موسیٰ تمہارے پہلے نبی تھے اور تمہارے عظیم نجات دہندہ تھے ۔ وہ تمہارے پاس جو ہدایت لے آئے تھے تم نے اس کا بھی انکار کیا تھا وَلَقَدْ جَاءَكُمْ مُوسَى بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَنْتُمْ ظَالِمُونَ ” تمہارے پاس موسیٰ کیسی کیسی روشن نشانیوں کے ساتھ آئے ، پھر بھی تم اتنے ظالم تھے کہ ان کے پیٹھ موڑتے ہیں بچھڑے کو معبود بنایا تھا ۔ کیا یہ تمہارے ایمان اور وحی الٰہی کا مقتضاء تھا کیا اس طرز عمل کے ہوتے ہوئے تم یہ دعویٰ کرسکتے ہو کہ تم ان ہدایات اور نشانیوں پر ایمان لاچکے ہو جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس لائے تھے ؟ “
Read the full tafseer →5 یعنی حضرت موسیٰ کہ جن کی شریعت پر قائم ہو اور ان کی شریعت کی وجہ سے اور شرائع حقہ کا انکار کرتے ہو خود انہوں نے کھلے کھلے معجزے تم کو دکھائے (جیسے عصا ' ید بیضا اور دریا کا پھاڑنا وغیرہ) مگر جب چند دن کے لیے کوہ طور پر گئے تو اتنے ہی میں بچھڑے کو تم نے خدا بنا لیا۔ حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے درجہ نبوت پر قائم زندہ موجود تھے تو اس وقت تمہارا حضرت موسیٰ اور ان کی شریعت پر ایمان کہاں جاتا رہا تھا اور رسول آخر الزماں کے بغض و حسد میں آج شریعت موسوی کو ایسا پکڑ رکھا ہے کہ خدا کا حکم بھی نہیں سنتے ' بیشک تم ظالم تمہارے باپ دادا ظالم یہ حال تو بنی اسرائیل کا حضرت موسیٰ کے ساتھ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
آیت 91 وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَیَکْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَ ہٗ ق۔
چنانچہ انہوں نے پہلے انجیل کا کفر کیا اور حضرت مسیح علیہ السلام کو نہیں مانا ‘ اور اب انہوں نے محمد ﷺ کا کفر کیا ہے اور قرآن کو نہیں مانا۔
وَہُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَہُمْ ط قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْبِیَآء اللّٰہِ مِنْ قَبْلُ ؟
اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
اگر تم ایسے ہی حق پرست ہو اور جو کچھ تم پر نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان رکھنے والے ہو تو تم ان پیغمبروں کو کیوں قتل کرتے رہے ہو جو خود بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے ؟ تم نے زکریا علیہ السلام…
Read the full tafseer →109 یہ واضح معجزات صرف عصائے موسیٰ اور یدبیضا ہی نہ تھے۔ بلکہ بیشمار دوسرے معجزات بھی تھے جیسے سمندر کا پھٹ جانا، اور فرعون کی غرقابی۔ چٹان سے بارہ چشموں کا پھوٹ نکلنا، جنگل میں من وسلویٰ کا نزول وغیرہ وغیرہ۔ اتنے واضح معجزات دیکھنے کے بعد بھی تم اللہ کی الوہیت پر ایمان نہ لائے اور موسیٰ کی غیر حاضری میں تمہیں تھوڑا سا موقعہ ملا تو فوراً پھر سے بچھڑے کی پرستش شروع کردی۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوسکتا ہے ؟
Read the full tafseer →321 ۔ (اور ان کھلے ہوئے نشانوں کا اثر طبعی طور پر یہ ہونا چاہیے تھا کہ تم خدا کی طاعت اور نبی کی اطاعت میں دل سے لگ جاتے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کھلے ہوئے نشانات اور معجزات جو فرعون کے مقابلہ میں تھے، عصا، ید بیضا وغیرہ، وہ تو مشہور ہی ہیں لیکن (آیت) ” جآء کم “ سے اشارہ یہ نکلتا ہے کہ کچھ معجزات موسوی خود بنی اسرائیل کے لیے بھی تھے۔
322 ۔ (پرستش کے لیے) یہ ہے تمہارے دعوی توحید کی حقیقت ! گوسالہ پرستی پر حاشیے (رکوع 6) کے ذیل میں گزرچکے۔ ثم “ یہاں محض تاخرزمانی کے لیے نہیں، بلکہ یہ بھی ظاہر کرنے کے لیے ہے کہ تم کیسی پستی میں اتر گئے۔ اور یہ کہ تم نے یہ اس وقت کیا جب تمہارے پاس دلائل و…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ جَآءَ کُمْ مُّوْسٰی بِالْبِیّنٰتِ ، (الآیۃ) یہ ان کے انکار وعناد کی دلیل کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واضح معجزات اور دلائل قاطعہ اس بات پر لے کر آئے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں، اور یہ کہ معبود صرف اللہ ہی ہے، لیکن اس کے باوجود تم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تنگ کیا اور الہٰ واحد کو چھوڑ کر بچھڑے کو معبود بنا لیا۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ جَاۗءَكُمْ ( اور اچکے تمہارے پاس) ابو عمرو و حمزہ و کسائی اور ہشام نے قَدْ جَاءَ کُم میں جہاں کہیں ہو قد کی دال کو جیم میں ادغام کرکے پڑھا ہے اور اسی طرح لَقَدْ ذَرَأَنَا میں دال اور ذال میں اور لَقَد زَیَّنَّا میں دال اور زاد میں اور قد سمع میں دال اور سین میں اور قد شغفھا میں دال اور شین میں اور فقدد ضل میں دال اور ضاد میں فَقَد ظَلَمَمیں دال اور ظاء میں ادغام کرکے پڑھا ہے اور طاء مہملہ قرآن شریف میں جس جگہ بعد دال کے واقع ہوئی ہے اس میں ادغام ضروری ہے اور ہشام کے سوا اور قراء نے لَقَدْ صَرَّفْنَا کی دال کو صاد میں ادغام کیا ہے اور ابن ذکوان نے چار موقعوں میں حمزہ کسائی اور ہشام کا…
Read the full tafseer →(92) حضرت موسیٰ ؑ امر و نہی اور دلائل کے ساتھ آئے مگر تم لوگوں نے ان کے ”کوہ طور“ پر جانے کے بعد بچھڑے کی پوجا شروع کردی اور تم بالیقین کافر تھے۔
Read the full tafseer →یہ ایک اور وجہ سے ان کے تورات پر ایمان کے دعوے کا رد ہے کہ تم نے موسیٰ ؑ سے کیا سلوک کیا جو اپنی نبوت کی واضح نشانیاں اور ناقابل تردید دلائل لے کر تمہارے پاس آئے، جیسے عصا، ید بیضاء، طوفان، ٹڈی، جوئیں، مینڈک، خون، سمندر کا پھٹنا، من وسلویٰ ، پتھر سے بارہ چشموں کا نکلنا، بادل کا سایہ وغیرہ، پھر ان نشانیوں کے آنے کے بعد تم نے بچھڑا بنا کر پوجنا شروع کردیا، تو کیا یہ تورات پر ایمان تھا ؟
(مِنْۢ بَعْدِهٖ) اس سے مراد موسیٰ ؑ کے ”طور“ پر جانے کے بعد بھی ہوسکتا ہے اور موسیٰ ؑ کے نشانیاں لانے کے بعد بھی۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 92
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد جآء کم موسیٰ بالبینت اس میں لام، لام قسم ہے اور البینات سے مراد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد اتینا موسیٰ تسع ایتٍ بینتٍ (الاسراء :101) ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو واضح نشانیاں عطا فرمائیں۔ وہ یہ تھیں۔ عصا، سخت قحط سالی، ید بیضا، خون، طوفان، مکڑی، جوئیں، مینڈک اور دریا کا پھٹنا۔
بعض نے فرمایا البینات سے مراد تورات اور اس میں موجود ولالات ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم اتخذتم العجل اس میں توبیخ ہے، اور ثم تقریع میں واو سے زیادہ بلیغ ہے یعنی آیات میں غور وفکر کے بعد اور ان کے آنے کے بعد تم نے بچھڑے کو معبود بنایا۔ یہ آیت دلیل ہے کہ انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
(1) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویکفرون بما ورآء ہ “ یعنی جو کچھ اس تورات کے بعد ہے ان سب کا انکار کرتے ہیں۔
(2) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویکفرون بما ورآء ہ “ وہ قرآن کا انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ جَاۗءَكُمْ : اور آچکے تمہارے پاس ] [ مُّوْسٰى : موسیٰ ] [ بِالْبَيِّنٰتِ : واضح نشانیوں کے ساتھ ] [ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ : پھر تم لوگوں نے بنایا ] [ الْعِجْلَ : بچھڑے کو الہ ] [ مِنْۢ بَعْدِهٖ : ان کے بعد ] [ وَاَنْتُمْ : اور تم لوگ ] [ ظٰلِمُوْنَ : ہو ہی ظلم کرنے والے ]
اللغۃ
زیر مطالعہ پورے قطعہ میں (جو دو آیات پر مشتمل ہے) لغوی تشریح کے لیے ایک بھی نیا لفظ نہیں ہے۔ تمام کلمات بلا واسطہ (یعنی اپنی موجودہ ہی شکل میں) جو اس قطعہ میں آتی ہے) یا بالواسطہ (یعنی مادہ و اشتقاق کی اصل کے لحاظ سے) پہلے گزر چکے ہیں۔ تاہم چونکہ ہمارا ایک کام یا مقصد موجودہ اردو تراجم کا تقابلی مطالعہ (لغوی و…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَلَقَدْ جَآءَ کُمْ مُّوسٰی بالْبَیِّنَاتِ ) (الایۃ) یعنی تمہارے پاس موسیٰ (علیہ السلام) بھی کھلی ہوئی اور واضح دلیلیں لے کر آئے جو تم نے خود دیکھیں جس سے ان کا رسول اللہ ہونا واضح ہوگیا اور انہوں نے پوری طرح توحید کی دعوت دی اور تم کو جم کر لا الہ الا اللہ کی تبلیغ کی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے لیکن جب وہ کوہ طور پر توریت شریف لینے چلے گئے تو تم لوگوں نے ان کے بعد بچھڑے کو معبود بنا لیا اور تمہارا یہ غیر اللہ کی پرستش کرنا سراسر ظلم صریح تھا، راہ حق کے خلاف چلنا دلائل واضحہ اور آیات بینات سامنے ہوتے ہوئے منکر ہوجانا سراسر ظلم ہے جو تمہاری پرانی عادت ہے…
Read the full tafseer →شناعت ہفدہم (17)
قال تعالیٰ ولقد جاء کم موسیٰ بالبینت۔۔۔ الی۔۔۔ وانتم ظلمون
اور انبیاء کے قتل کا واقعہ تو موسیٰ (علیہ السلام) کے بہت بعد کا ہے خود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں اس سے بڑھ کر کفر کرچکے ہو وہ یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس توحید و رسالت کی نہایت واضح اور روشن دلیلیں لیکر آئے جو اس بات پر صاف طور پر دلالت کرتی تھیں کہ عبادت اور بندگی اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہے اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں پھر بھی تم نے ان کے جانے کے بعد ہی ایک گو سالہ بےعقل کو اپنا معبود بنا لیا اور جب خدا ہی ایک بےعقل حیوان ٹھہرا تو اہل عقل سمجھ سکتے ہیں کہ بےعقل حیوان کے بندے کس درجہ بےعقل اور…
Read the full tafseer →180 یہ یہودیوں کے کذب دعویٰ کی چوتھی دلیل ہے یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس توحید باری کے واضح دلائل لیکر آئے کہ اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں اور اس کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں۔ الا ظھر ان یراد بالدلائل الدالۃ علی الوحدانیۃ فانہ ادخل فی التفریع بما بعد (روح ص 325) ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۔ بَعْدِہ کی ضمیر کا مرجع جملہ ماقبل کا مضمون ہے۔ ای بعد مجی موسیٰ (علیہ السلام) بھا (روح ص 325 ج 1) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی توحید کے دلائل واضحہ کے ساتھ آمد کے بعد تم نے گوسالہ کو معبود اور کارساز بنا لیا۔ اور اس کی نذریں اور منتیں دینا شروع کردیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–96
گزشتہ سے پیوستہ : یہودیوں کی قباحتیں اور ان کی سزائیں بیان ہو رہی ہیں۔ اس سے پہلی آیات میں یہودیوں کی برائیوں اور ان کے کفر پر اصرار کا ذکر تھا۔ یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ خاتم النبین ﷺ کی آمد سے پہلے یہودی ان کے منتظر تھے۔ کہ جب وہ نبی آخر الزمان آئے گا تو اس کا ساتھ دیں گے۔ یہودی لوگ آپ کی برکت سے مشرکین پر غلبہ حاصل کرنے کی تمنا بھی کرتے تھے۔ اور اس کے لیے دعائیں بھی کرتے تھے۔ مگر جب وہ رسول آگیا جس کا انتظار تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب بھی آگئی اور ان لوگوں نے پہچان بھی لیا تو پھر انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ کے دوہرے غضب میں مبتلا ہوئے۔
دعوت ایمان : ان آیات میں بھی یہودیوں کی ہٹ دھرمی کا…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ جَاۗءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَيِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِـجْلَ مِنْۢ بَعْدِہٖ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ 92
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
ترکیب : بئس فعل ذم نکرہ موصوفہ اشترو ابہ انفسہم جملہ اس کی صفت یہ سب اسم بئس ان یکفرو الخ بتاویل مصدر خبر مبتدا محذوف جملہ مخصوص بالذم (یہاں اور بھی احتمالات ہیں) بغیًا مفعول لہ ہے یکفرو اکان ینزل الخ ای لان ینزل الخ یہ جملہ بغیًا کا مفعول لہ ہے یعنی ان کی ضد اس لیے ہے کہ خدا اپنے فضل سے جس پر چاہتا ہے کیوں نازل کرتا ہے بنی اسرائیل کا مقید کیوں نہیں رہتا۔ اذاقیل الخ شرط قالوا الخ جواب شرط و یکفرون الخ جملہ حال ہے اس ضمیر سے جو قالوا میں ہے ورائہ ضمیر ما کی طرف رجوع ہے وراء کی ہمزہ ی سے بدل گئی ہے لانہ یقال تورات اور ابن جنی کے نزدیک ہمزہ اصلی ہے وراء اصل میں مصدر ہے ظرف بنایا گیا مصدقا حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَیَکْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآئَ ہٗ ق وَھُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مََعَھُمْ ط قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْبِیَآئَ اللّٰہِ مِنْ قَبْلُ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ ۔ وَلَقَدْ جَآئَ کُمْ مُّوْسٰی بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْم بَعْدِہٖ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ ۔ (البقرۃ : 91 تا 92)
(اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز پر ایمان لائو جو اللہ نے اتاری ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر تو ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل کیا گیا ہے اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے اس سے کفر کرتے ہیں حالانکہ وہ حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب اپنے گھناؤنے کردار اور بغض کو چھپانے کے لیے یہ بہانہ بناتے ہیں کہ ہم اسی بات کو مانیں گے جو ہم پر نازل ہوئی اس کا جواب یہ دیا گیا کہ پھر تم نے پہلے انبیاء کو کیوں قتل کیا تھا ؟
یہودیوں کو جب بھی دعوت دی گئی کہ اس کتاب پر ایمان لاؤ جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمائی ہے تو انہوں نے مذہبی عصبیت اور خود ساختہ علمی مقام کی بنا پر اعلان کیا کہ ہم تورات کے سوا ہر چیز کا انکار کرتے رہیں گے۔ بیشک اس میں ہماری تائید ہی کیوں نہ پائی جاتی ہو۔ اس انکار پر ان سے پوچھا جا رہا ہے اگر تم تورات پر فی الحقیقت ایمان رکھتے ہو تو تمہیں ان سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ کیونکہ…
Read the full tafseer →92: وَلَقَدْ جَآئَ کُمْ مُّوْسٰی بِالْبَیِّنٰتِ : (تحقیق آچکے تمہارے پاس موسیٰ ( علیہ السلام) دلائل کے ساتھ) بینات سے نو آیات مراد ہیں۔
قراءت : دال کو جیم میں ہمیشہ ادغام کردیا جاتا ہے۔ جہاں بھی آئے یہ ابو عمرو، حمزہ اور علی کا قول ہے لقد جاء میں اسی طرح ہے۔
ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ : (پھر تم نے بنا لیابچھڑا) یعنی معبود
مِنْم بَعْدِہٖ : (ان کے بعد) موسیٰ ( علیہ السلام) کے طور کی طرف جانے کے بعد
وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ : (اور تم ظالم تھے) نحو : یہ حال ہے یعنی تم نے بچھڑے کی عبادت کی اس حال میں کہ تم عبادت کو اس کے مقام سے ہٹانے والے تھے۔ یا یہ جملہ معترضہ ہے یعنی تم ایسی قوم ہو کہ تمہاری…
Read the full tafseer →92۔ (آیت)” ولقد جاء کم موسیٰ بالبینات “ واضح دلالئیں اور روشن وظاہر معجزات “۔ (آیت)” ثم اتخذتم العجل من بعدہ “ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پہاڑ کی طرف چلے جانے کے بعد (آیت)” وانتم ظالمون “ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
(91 ۔ 93) ۔ اس آیت میں یہود نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہمارا ایمان حضرت موسیٰ اور تورات پر ایسا مضبوط ہے کہ غیر دین کے انکار پر ہم مجبور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کے اس دعوے کو کئی طرح جھٹلایا۔ ایک تو یہ کہ جب قرآن میں تورات کی تصدیق موجود ہے تو جس کا ایمان تورات پر مضبوط ہوگا وہ قرآن کا منکر نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ قرآن کا انکار اس صورت میں تورات کے سچے ہونے کا گویا انکار ہے۔ دوسرے یہ کہ جس کا ایمان تورات پر مضبوط تھا اس نے ان انبیاء کو کیوں شہید کیا جو تورات کے احکام کی مضبوطی کے لئے آئے تھے۔ تیسرے یہ کہ جس کا ایمان موسیٰ (علیہ السلام) پر مضبوط تھا تو اس نے بچھڑے کی پوجا کیوں کی۔ کیا موسیٰ نے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
جب یہود کو حکم دیا گیا کہ وہ اس کتاب پر ایمان لائیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے یعنی قرآن کریم پر تو انہوں نے تکبر اور سرکشی سے کہا : (قالوا نومن بمآ انزل علینا ویکفرون بما ورآۂ ) یعنی وہ (تورات کے سوا) تمام کتابوں کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ ان پر فرض تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ تمام کتابوں پر علی الاطلاق ایمان لائیں خواہ یہ کتابیں بنی اسرائیل کے نبیوں پر نازل کی گئی ہوں یا ان کے علاوہ کسی اور نبی پر، اور یہی وہ ایمان ہے جو فائدہ مند ہے۔ یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان جو تمام انبیاء کرام ( علیہ السلام) پر نازل کی گئی ہیں۔
رہا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی نازل کردہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–94
قول باری ہے : قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ عند اللہ خالصۃ من دون الناس قسموا الموت ان کنتم صدقین (ان سے کہو کہ اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لئے مخصوص ہے تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو) روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ” اگر یہود موت کی تمنا کرتے تو سب مرجاتے اور جہنم کے اندر اپنے اپنے ٹھکانے دیکھ لیتے اور اگر اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ مباہلہ کرنے والے اپنے گھروں سے نکل آتے تو واپس جا کر نہ تو وہ اپنے اہل و عیال کو پاتے اور نہ ہی کوئی مال ملتا۔ “ حضرت ابن عباس نے فرمایا :” اگر یہ لوگ موت کی تمنا کرتے تو انہیں موت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
258 یہود کا ذکر بحیثیت ایک ظالم قوم : کہ خدائے وحدہ لاشریک اور اس کی توحید و بندگی سے منہ موڑ کر تم بچھڑے کے اور وہ بھی ایک مصنوعی اور بےحقیقت بچھڑے کے آگے جھک گئے، اس کو اپنا معبود بنا لیا، اور اس کی پوجا کرکے تم نے اپنی تذلیل و رسوائی اور عذاب مہین میں مبتلا ہونے کا سامان کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ واضح رہے کہ گوسالہ پرستی کے اس جرم کا ارتکاب اگرچہ ان یہودیوں نے نہیں کیا تھا، جن سے خطاب کیا جارہا ہے بلکہ ان کے ان بڑوں نے کیا تھا جو ان سے صدیاں پہلے گزر چکے تھے، لیکن یہ لوگ چونکہ انہی کی اولاد و اَحفاد ہونے کے علاوہ ان کے کیے کرائے پر خوش تھے اور یہ انہی کے طور طریقوں پر تھے، اور ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
یہود کا انکار
تشریح : جب آنحضرت ﷺ نے یہودیوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تو انہوں نے یہ کہہ کر دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا کہ ہمارے پاس تو پہلے سے آسمانی کتاب تورات موجود ہے۔ ہمیں مزید کسی کتاب اللہ کی ہرگز ضرورت نہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ دعویٰ ان کا بالکل غلط ہے۔ کیونکہ انہوں نے تو اپنی کتاب پر بھی عمل نہیں کیا یہ تو صرف دعوت ایمان سے انکار کا ایک بہانہ ہے۔ کیونکہ یہ نہ تو احکام الٰہی کی پیروی کرتے ہیں اور نہ ہی راہ راست اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے نبیوں کو جھٹلایا، بلکہ بعض کو تو قتل بھی کردیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو تنبیہ کرتا ہے کہ تم راہ راست سے بھٹک چکے ہو۔ اپنی بہتری اور نجات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–96
آیات 87- 96
اسرار و معارف
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی ، ایک لائحہ عمل ، پوری زندگی کا پروگرام اور ایسا جو دنیا وآخرت ہر دو عالم کی کامیابی کا ضامن ہو دیا۔ انسان کی ساری سوچ بچار ، ساری تگ ودو اور انتخاب واسمبلیاں صرف اس لئے ہیں کہ زندگی بسر کرنے کا بہترین طریقہ تلاش کیا جائے مگر ہم نے آسمان نازل فرما کر اللہ کی طرف سے تمہیں ایک مکمل ضابطہ حیات دیا اور ساتھ ایک الوالعزم رسول بھیجا کہ صرف کتاب نافع نہیں جب تک دل پاک ہو کہ اس کی تعلیمات کو قبول نہ کرنے لگ جائیں جو صحبت رسول کا حاصل ہے اور جب یہ استعداد حاصل ہو تب بھی کتاب اللہ کی شرح نبی اور رسول ہی کرسکتا ہے کہ ہمیشہ…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی تمہارا یہ دعوی کہ ہم صرف تورات کو مانتے ہیں ایک دوسری وجہ سے بھی غلط ہے کہ تم نے حضرت موسیٰ سے کیا سلوک کیا جو اپنی نبوت کی واضح نشانیاں اور ناقابل تردید دلیلیں لیے کر تمہارے پاس آئے تھے جیسے طوفان ٹڈی مینڈک، خون عصا۔ من وسلوی اور ابر کا سا دریا کا بھٹ کر در ٹکڑے ہوجا نا اور پتھر سے بارہ چشموں کا جا ری ہونا وغیرہ۔ (ابن کثیر)3 یعنی ان واضح نشانیوں کو دیکھ لینے کے بعد یا حضرت موسیٰ کے طور پر جا نے کے بعد۔ (ابن کثیر۔ فتح البیان)
Read the full tafseer →(2:92) ولقد جاء کم موسی۔ واؤ عاطفہ لام تاکید کا ۔ اور قد تحقیق کا ہے۔ اور بیشک تمہارے پاس (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) آئے۔
بینت۔ روشن دلائل ۔ یہاں مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لے کر اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے۔ مثلاً عصا۔ یدبیضاء انفلاق البحر (سمندر کو پھاڑ کر قوم کو پار کرنا) وغیرہ یہ تو معجزات تھے۔ بالبینت۔ میں باء تعدیہ کے لئے ہے یعنی حضرت موسیٰ لائے۔
اتخزتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ اتخاذ (افتعال) تم نے اختیار کیا (بطور معبود کے)
العجل۔ بچھڑا۔ گئو سالہ۔ گائے کا بچہ۔
من بعدہ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری کے بعد۔۔ یا آپ کے کوہ طور پر جانے کے بعد۔
وانتم ظلمون ۔ جملہ حالیہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
لغات القرآن : آیت نمبر 89 تا 93
یستفتحون (وہ فتح مانگتے تھے) ۔ عرفوا (انہوں نے پہچان لیا) ۔ بئسما (وہ برا ہے) ۔ بغی (ضد ) ۔ مھین (ذلیل ورسوا کرنے والا) ۔ وراء (سوا، پیچھے) ۔ العجل (بچھڑا) ۔ رفعنا (ہم نے بلند) ۔ اسمعوا (تم سنو) سمعنا (ہم نے سن لیا) ۔ عصینا (ہم نے نافرمانی کرلی، نہیں مانا) ۔ اشربوا (رچ بس گیا (پلا دیا گیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 89 تا 93
نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور قرآن مجید سے متعلق یہودیوں کی کتابوں میں بہت سے پیشین گوئیاں اور نشانیاں بتا دی گئی تھیں اسی لئے وہ نبی آخر الزماں ﷺ کا بڑی شدت اور بےچینی سے انتظار کر رہے تھے۔ جب کبھی ان کی کفار اور مشرکین سے جنگ ہوتی تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
شان نزول : اس آیت میں یہود نے یہ دعوٰی کیا تھا کہ ہمارا ایمان مضبوط ہے ، غیر دین کے انکار پر ہم مجبور ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلایا کہ جس کا ایمان توراۃ پر مضبوط تھا اس نے انبیاء کو کیوں شہید کیا، اور بچھڑے کی پوجا کیوں کی ۔ جس وقت پہاڑ سر پر لا کر تورات کے موافق عمل کرنے کا عہد لیا گیا تھا اس وقت تمہارے بڑوں نے چپکے سے وعصینا کہا تھا پھر تمہارا ایمان توراۃ پر کیونکر مضبوط ہو سکتا ہے۔ ترمذی وابن ماجہ میں جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :” ہدایت کے بعد گمراہ وہی قوم ہوتی ہے جو دین میں زبردستی کے جھگڑوں میں پڑجاوے “۔ امت محمدیہ کے علماء کو اس طرح کے جھگڑوں سے پرہیز کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
[64] یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر جانے کے بعد۔
Read the full tafseer →(ف 2) موسیٰ (علیہ السلام) معجزات ونبوت کے تمام آلات سے مسلح ہو کر آئے لیکن تم نے پھر بھی نہ مانا اور گوسالہ پرستی شروع کردی ، معلوم ہوتا ہے ، مصر میں گائے کی پرستش کا عام رواج تھا ، جیسا کہ آج کی اثری تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے مصر کے قدیم معاہد میں سے اس قسم کی کثیر التعداد تصوریں نکلی ہیں جن سے ان کا ذوق بت پرستی ظاہر ہوتا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
ف 3 اور جب ان یہود سے کہا اجتا ہے کہ تم دوسری کتب سماویہ پر بھی جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہیں ایمان لائو جیسے انجیل اور قرآن تو یہ جواب دیتے ہیں کہ بس ہم تو اس کتاب پر ایمان لائیں گے۔ جو ہماری جانب نازل کی گئی ہے یعنی توریت کو مانیں گے اور اس کے علاوہ دوسری کتابوں کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ وہ دوسری کتب سماویہ بھی حق ہیں اور وہ کتابیں اس کتاب کی تصدیق کرنیوالی ہیں جو ان کے پاس ہے۔ آپ ان سے پوچھئے ۔ اچھا اگر تم توریت پر ایمان رکھتے ہو تو اب سے پہلے خدا کے نبیوں کو کیوں قتل کیا کرتے تھے اور تمہارے ایمان کی یہ تو حلات ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس صاف اور واضح دلائل لے کر تشریف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
ف 1۔ بینات سے مراد وہ دلائل ہیں جو اس قصہ سے پہلے کہ اس وقت تک تورات نہ ملی تھی صدق موسیٰ پر قائم ہوچکی تھیں مثلا عصا اور ید بیضاء اور فلق بحر وغیرذالک۔
Read the full tafseer →کیا موسیٰ (علیہ السلام) بھی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں لائے تھے ؟
179: کہتے ہیں کہ جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچا دینا ضروری ہوتا ہے اب ان سے کہا جاتا ہے کہ کیا موسیٰ (علیہ السلام) بھی تمہارے پاس روشن دلائل لائے تھے یا نہیں ؟ اگر لائے تھے تو تم نے ان کو مان لیا تھا ؟ کیا تم وہ لوگ یعنی انہیں لوگوں کی اولاد نہیں ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) ہی وہ نبی تھے جنہوں نے تم کو فرعون جیسے ظالم حکمران سے نجات دلائی اور وہ ذرا تم سے ہٹے تو تم نے بچھڑا پوجنا شروع کردیا اگر ایمان کے یہی کارنامے ہیں اور ایسی ہی غلط کاریوں اور بیہودہ حرکتوں کا حکم دیتا ہے تو پھر کیا اس سے بدترین کوئی اور ایمان بھی ہوسکتا ہے ؟ ضمیر…
Read the full tafseer →The "clear signs" mentioned in the verse refers to the miracles which- had manifested themselves even before the Torah was given to Sayyidna Musa (Moses علیہ السلام) -- for example, his staff that turned into a .snake, the palm of his hand which shone brightly, the splitting of the sea to make a path for the Israelites, etc. These miracles were meant to affirm the Oneness of Allah and His omnipotence, and to provide an evidence for the prophethood of Sayyidna Musa۔ (علیہ السلام)
In refutation of the Jews, the verse points out that although they lay a claim to 'Iman ایمان (faith), yet have…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
96. Another possible rendering of the same verse is: 'And how evil is that for the sake of which they have sold themselves', i.e. for the sake of which they have sacrificed their ultimate happiness and salvation.
97. They had longed for the promised Prophet to arise from among their own people. But when he arose among a diffirent people, a people they despised, they decided to reject him. It was as if they thought God was duty-bound to consult them in appointing Prophets, and since in this case He had failed to do so they felt they had a right to be offended by God's 'arbitrariness'.
Read the full tafseer →