Al-Baqara 2:91

Al-Baqara · from ayah 91

2:91

وَاِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَیَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ ۗ— وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ ؕ— قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۟وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اٰمِنُوۡا بِمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ قَالُوۡا نُؤۡمِنُ بِمَآ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا وَيَكۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَهٗ وَهُوَ الۡحَـقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمۡ‌ؕ قُلۡ فَلِمَ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡـــۢبِيَآءَ اللّٰهِ مِنۡ قَبۡلُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے، اس کو مانو۔ تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہو چکی ہے، ہم تو اسی کو مانتے ہیں۔ (یعنی) یہ اس کے سوا کسی اور (کتاب) کو نہیں مانتے، حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے، اس کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم صاحبِ ایمان ہوتے تو الله کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when it is said to them, "Believe in what Allah has revealed," they say, "We believe [only] in what was revealed to us." And they disbelieve in what came after it, while it is the truth confirming that which is with them. Say, "Then why did you kill the prophets of Allah before, if you are [indeed] believers?"

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 11 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:91

جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ، تو وہ کہتے ہیں "ہم تو صرف اُس چیز پر ایمان لاتے ہیں، جو ہمارے ہاں (یعنی نسل اسرائیل) میں اتری ہے" اس دائرے کے باہر جو کچھ آیا ہے، اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں، حالانکہ وہ حق ہے اور اُس تعلیم کی تصدیق و تائید کر رہا ہے جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی اچھا، ان سے کہو: اگر تم اس تعلیم ہی پر ایمان رکھنے والے ہو جو تمہارے ہاں آئی تھی، تو اس سے پہلے اللہ کے اُن پیغمبروں کو (جو خود بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے) کیوں قتل کرتے رہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے، اس کو مانو۔ تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہو چکی ہے، ہم تو اسی کو مانتے ہیں۔ (یعنی) یہ اس کے سوا کسی اور (کتاب) کو نہیں مانتے، حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے، اس کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم صاحبِ ایمان ہوتے تو الله کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب پر ایمان ﻻؤ تو کہہ دیتے ہیں کہ جو ہم پر اتاری گئی اس پر ہمارا ایمان ہے۔ حاﻻنکہ اس کے بعد والی کے ساتھ جو ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے، کفر کرتے ہیں، اچھا ان سے یہ تو دریافت کریں کہ اگر تمہارا ایمان پہلی کتابوں پر ہے تو پھر تم نے اگلے انبیا کو کیوں قتل کیا؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو کلام اتارا ہے اس پر ایمان لے آؤ، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو (صرف) اسی کلام پر ایمان رکھیں گے جو ہم پر نازل کیا گیا، (یعنی تورات) اور وہ اس کے سوا (دوسری آسمانی کتابوں) کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ وہ بھی حق ہیں (اور) جو کتاب ان کے پاس ہے وہ اس کی تصدیق بھی کرتی ہیں۔ (اے پیغمبر) تم ان سے کہو کہ اگر تم واقعی (تورات) پر ایمان رکھتے تھے تو اللہ کے نبیوں کو پہلے زمانے میں کیوں قتل کرتے رہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کے اتارے پر ایمان لاؤ تو کہتے ہیں وہ جو ہم پر اترا اس پر ایمان لاتے ہیں اور باقی سے منکر ہوتے ہیں حالانکہ وہ حق ہے ان کے پاس والے کی تصدیق فرماتا ہوا تم فرماؤ کہ پھر اگلے انبیاء کو کیوں شہید کیا اگر تمہیں اپنی کتاب پر ایمان تھا -

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ان سے کہا جاتا ہے: اس (کتاب) پر ایمان لاؤ جسے اللہ نے (اب) نازل فرمایا ہے، (تو) کہتے ہیں: ہم صرف اس (کتاب) پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی، اور وہ اس کے علاوہ کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ وہ (قرآن بھی) حق ہے (اور) اس (کتاب) کی (بھی) تصدیق کرتا ہے جو ان کے پاس ہے، آپ (ان سے) دریافت فرمائیں کہ پھر تم اس سے پہلے انبیاء کو کیوں قتل کرتے رہے ہو اگر تم (واقعی اپنی ہی کتاب پر) ایمان رکھتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے اس پر ایمان لاؤ جو اللہ نے نازل فرمایا ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل کیا گیا اور جو اس کے علاوہ ہے اسے وہ نہیں مانتے، حالانکہ وہی حق ہے، اس کی تصدیق کرنے والا ہے جو ان کے پاس ہے۔ کہہ دے پھر اس سے پہلے تم اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کیا کرتے تھے، اگر تم مومن تھے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو کتاب (قرآن) اتاری ہے اس پر ایمان لاؤ۔ تو کہتے ہیں۔ ہم تو اسی پر ایمان لاتے ہیں جو ہم پر نازل ہوئی تھی۔ اور جو کچھ اس (تورات) کے علاوہ ہو اسے وہ نہیں مانتے۔ حالانکہ وہ (قرآن) برحق ہے جو اس (تورات) کی بھی تصدیق کرتا ہے جو ان کے پاس ہے۔ (اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان سے پوچھئے کہ اگر تم (اپنی ہی کتاب پر) ایمان لانے والے ہو تو اس سے پیشتر اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کرتے رہے ہو ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز پر ایمان لاؤ جو اللہ نے اتاری ہے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اس چیز پر تو ہم ایمان رکھتے ہی ہیں جو ہم پر اتری ہے اور وہ اس کے علاوہ کا انکار کرتے ہیں حالانکہ وہی حق ہے اور مطابق ہے ان پیشین گوئیوں کے جو ان کے ہاں موجود ہیں۔ ان سے پوچھو پھر تم خدا کے پیغمبروں کو اس سے پہلے کیوں قتل کرتے رہے ہو اگر تم مومن ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ تم اس (کتاب کامل) پر، جسے اللہ نے (اب) نازل فرمایا ہے، تو یہ کہتے ہیں کہ ہم بس اسی پر ایمان لائیں گے جسے (براہ راست) ہم پر اتارا گیا ہے، اور اس کے سوا سب کا وہ انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ سراسر حق ہے، تصدیق کرنے والی کتاب کی، جو کہ ان کے پاس ہے، کہو کہ (اچھا تو) پھر تم اس سے پہلے اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کرتے رہے، اگر تم واقعی ایماندار ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ اس (کلام) پر جو اللہ نے نازل کیا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر تو ایمان رکھتے ہیں جو ہمارے اوپر نازل ہوا ہے۔ اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے اس سے یہ کفر کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ (خود بھی) حق ہے اور اس کی (بھی) تصدیق کرنے والا ہے جو ان کے پاس ہے۔ آپ کہیے کہ اچھا تو تم اس کے قبل انبیاء کو کیوں قتل کرتے رہے ہو اگر تم واقعی ایمان والے تھے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لاؤ اس پر جو اللہ نے نازل فرمایا ہے تو کہتے ہیں ہم ایمان رکھتے ہیں اس پر جو ہم پر نازل ہوا اور وہ کفر کر رہے ہیں اس کا جو اس کے پیچھے ہے حالانکہ وہ حق ہے تصدیق کرتے ہوئے آیا ہے اس کی جو ان کے پاس ہے) (اے نبی ﷺ ! ان سے) کہیے : تو پھر تم کیوں قتل کرتے رہے ہو اللہ کے نبیوں کو اس سے پہلے اگر تم واقعتا ایمان رکھنے والے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو اللہ نے بھیجا ہے اسے مانو تو کہتے ہیں جو ہم پر اترا ہے ہم اسے مانتے ہیں اور اسے نہیں مانتے جو اس کے علاوہ ہے۔ حالانکہ وہ حق ہے اس کی تصدیق کرتا ہے جو ان کے پاس ہے۔ کہہ دو ! پھر اللہ کے پیغمبروں کو پہلے کیوں قتل کرتے رہے ہو اگر تم ایمان رکھتے ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

When it is said to them, "Believe in that which Allah has sent down," they say, "We believe only in that which has been sent to us", and reject everything else, though it is the Truth and confirms what is with them. Well, ask them, "If you sincerely believed in what was sent down to you, why did you kill the Messengers of Allah (who were sent to you from amongst yourselves)?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When it is said to them, :Believe in what Allah has revealed, they say, :We believe in what has been revealed to us — and they deny what is beyond it, whereas that is the truth which confirms what is with them. Say, :Why then have you been slaying the prophets of Allah earlier, if you were believers?

— Muhammad Taqi Usmani

When it is said to them, :Believe in what Allah has revealed, they say, :We believe in what has been revealed to us — and they deny what is beyond it, whereas that is the truth which confirms what is with them. Say, :Why then have you been slaying the prophets of Allah earlier, if you were believers?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when it is said to them (the Jews), "Believe in what Allah has sent down," they say, "We believe in what was sent down to us." And they disbelieve in that which came after it, while it is the truth confirming what is with them. Say (O Muhammad to them): "Why then have you killed the Prophets of Allah aforetime, if you indeed have been believers"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when it is said unto them: Believe in that which Allah hath revealed, they say: We believe in that which was revealed unto us. And they disbelieve in that which cometh after it, though it is the truth confirming that which they possess. Say (unto them, O Muhammad): Why then slew ye the prophets of Allah aforetime, if ye are (indeed) believers?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when it is said to them, "Believe in what Allah has revealed," they say, "We believe [only] in what was revealed to us." And they disbelieve in what came after it, while it is the truth confirming that which is with them. Say, "Then why did you kill the prophets of Allah before, if you are [indeed] believers?"

— Saheeh International

When they are told to believe n God's revelations, they reply, "We believe only in what God has revealed to us," but they disbelieve His other true revelations, even though these revelations confirms their own (original) Scripture. (Muhammad) ask them, "Why did you murder God's Prophets if you were true believers?"

— Muhammad Sarwar

And when it is said to them, Believe in what Allah has revealed, they say: We believe in that which was revealed to us; and they deny what is besides that, while it is the truth verifying that which they have. Say: Why then did you kill Allah's Prophets before if you were indeed believers?

— Muhammad Habib Shakir

And when it said unto them believe in that which Allah hath sent down now, they say: we believe in that which hath been sent down unto Us. And they disbelieve in that which is besides that while it is the truth, confirming that which is with them. Say thou: wherefore then slew ye Allah's prophets afore, a if ye have been believers?

— Abdul Majid Daryabadi

When it is said to them, "Believe in what Allah Hath sent down, "they say, "We believe in what was sent down to us:" yet they reject all besides, even if it be Truth confirming what is with them. Say: "Why then have ye slain the prophets of Allah in times gone by, if ye did indeed believe?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:91

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 91–92

خود پسند یہودی مورد عتاب یعنی جب ان سے قرآن پر اور نبی آخر الزمان پر ایمان لانے کو کہا جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں توراۃ انجیل پر ایمان رکھنا کافی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس میں بھی جھوٹے ہیں قرآن تو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور خود ان کی کتابوں میں بھی حضور ﷺ کی تصدیق موجود ہے، جیسے فرمایا آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ) 2۔ البقرۃ :146) یعنی اہل کتاب آپ کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں پس آپ سے انکار کا مطلب توراۃ انجیل سے بھی انکار کے مترادف ہے۔ اس حجت کو قائم کر کے اب دوسری طرح حجت قائم کی جاتی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 90–93

سورة الْبَقَرَة 96 اس آیت کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے ”کیسی بری چیز ہے، جس کی خاطر انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا۔“ یعنی فلاح وسعادت اور اپنی نجات کو قربان کردیا۔ سورة الْبَقَرَة 97 یہ لوگ چاہتے تھے کہ آنے والا نبی ان کی قوم میں پیدا ہو۔ مگر جب وہ ایک دوسری قوم میں پیدا ہوا، جسے وہ اپنے مقابلے میں ہیچ سمجھتے تھے، تو وہ اس کے انکار پر آمادہ ہوگئے۔ گویا ان کا مطلب یہ تھا کہ اللہ ان سے پوچھ کر نبی بھیجتا جب اس نے ان سے نہ پوچھا اور اپنے فضل سے خود جسے چاہا، نواز دیا، تو وہ بگڑ بیٹھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

لاصہ تفسیر اور جب ان (یہودیوں) سے کہا جاتا ہے کہ تم ایمان لاؤ ان تمام کتابوں پر جو اللہ تعالیٰ نے (متعدد پیغمبروں پر) نازل فرمائی ہیں (اور ان تمام کتابوں میں قرآن بھی ہے) تو (جواب میں) کہتے ہیں کہ ہم (تو صرف) اس (ہی) کتاب پر ایمان لاویں گے جو ہم (لوگوں) پر (بواسطہ حضرت موسیٰ ؑ کے) نازل کی گئی ہے (یعنی توراۃ) اور (باقی) جتنی (کتابیں) اس کے علاوہ ہیں جیسے انجیل اور قرآن ان سب کا وہ انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ توراۃ کے ماسوا کتابیں بھی (فی نفسہ) حق (اور واقعی) ہیں اور (فی نفسہ حق ہونے کے علاوہ) تصدیق کرنے والی بھی ہیں اس کتاب کی جو ان کے پاس ہے (یعنی توراۃ کی) آپ (یہ بھی) کہئے کہ (اچھا تو) پھر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی جب ان کو قرآن پر ایمان لانے کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ بڑے غرور کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ہم اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر اتری ہے۔ اس کے بعد ان کے قول کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے کہ تورات کے بعد وہ کسی چیز پر ایمان لانے کے قائل نہیں ہیں حالانکہ اب تورات کی اپنی پیشین گوئیوں کے مطابق بھی صحیفہ حق وہی ہے جو کو قبول کرنے کی ان کو دعوت دی جارہی ہے نہ کہ تورات۔ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوۡنَ اَنْبِيَآءَ اللَّهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ: یہ واضح کرنے کے بعد کہ قرآن کے نازل ہو جانے کے بعد معتبر ایمان وہی ہے جو قرآن پر ہو نہ کہ صرف تورات پر۔ یہ واضح فرمایا کہ ان یہود کا تورات پر ایمان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

91۔ 1 یعنی تورات پر ہم ایمان رکھتے ہیں یعنی اس کے بعد ہمیں قرآن پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ 91۔ 2 یعنی تمہارا تورات پر دعویٰ ایمان بھی صحیح نہیں ہے۔ اگر تورات پر تمہارا ایمان ہوتا تو انبیاء (علیہم السلام) کو تم قتل نہ کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اب بھی تمہارا انکار محض حسد اور عناد پر مبنی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 90–92

62: یعنی ایک غضب کے مستحق تو وہ اپنے کفر کی وجہ سے تھے دوسرا غضب ان پر حسد اور ضد کی وجہ سے ہوا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءَهُ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَهُمْ ” جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ، تو وہ کہتے ہیں ” ہم تو اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو ہمارے ہاں (بنی اسرائیل میں) اتری ہے ۔ “ اس دائرے کے باہر جو کچھ آیا ہے اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ حق ہے اور اس تعلیم کی تصدیق وتائید کررہا ہے جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ۔ یہ بات وہ اس وقت کہتے تھے ، جب انہیں قرآن پر ایمان لانے اور اسلام کو قبول کرنے کی دعوت دی جاتی تھی ۔ وہ کہتے تھے کہ ” ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 جو اللہ نے بھیجا یعنی انجیل و قرآن اور جو اترا ہم پر یعنی تورات مطلب یہ ہوا کہ " بجز تورات اور کتابوں کا صاف انکار کرتے ہیں اور انجیل و قرآن کو نہیں مانتے " حالانکہ وہ کتابیں بھی سچی اور تورات کی تصدیق کرنے والی ہیں۔ 4 ان سے کہہ دو کہ اگر تم تورات پر ایمان رکھتے ہو تو پھر تم نے انبیاء کو کیوں قتل کیا کیونکہ تورات میں یہ حکم ہے کہ جو نبی تورات کو سچا کہنے والا آئے اس کی نصرت کرنا اور اس پر ضرور ایمان لانا اور قتل بھی ان انبیاء کو کیا جو پہلے گزر چکے ہیں (جیسے حضرت زکریا (علیہ السلام) اور حضرت یحییٰ علیہ السلام) جو احکام تورات پر عمل کرتے تھے اور اسی کی ترویج کے لیے مبعوث ہوئے تھے ان کے مصدق…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 91–92

آیت 91 وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَیَکْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَ ہٗ ق۔ چنانچہ انہوں نے پہلے انجیل کا کفر کیا اور حضرت مسیح علیہ السلام کو نہیں مانا ‘ اور اب انہوں نے محمد ﷺ کا کفر کیا ہے اور قرآن کو نہیں مانا۔ وَہُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَہُمْ ط قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْبِیَآء اللّٰہِ مِنْ قَبْلُ ؟ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ اگر تم ایسے ہی حق پرست ہو اور جو کچھ تم پر نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان رکھنے والے ہو تو تم ان پیغمبروں کو کیوں قتل کرتے رہے ہو جو خود بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے ؟ تم نے زکریا علیہ السلام…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

108 یہود اپنے قول کے مطابق انجیل اور قرآن پر تو اس لیے ایمان نہیں لاتے تھے کہ یہ کتابیں ان کی طرف نازل نہیں ہوئیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر تم تورات پر ایمان لاتے ہو تو تورات میں کہیں یہ لکھا ہوا ہے کہ اگر کوئی ایسا نبی آئے جو تورات کی تصدیق کرتا ہو اور تورات ہی کے مطابق تمہاری رہنمائی کرتا ہو تو تم اسے قتل کرسکتے ہو ؟ اگر یہ بات نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمہارا تورات پر بھی ایمان نہیں۔ لہذا ہر لحاظ سے تم بےایمان اور کافر ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

316 (اپنے بندہ اور آخری رسول محمد ﷺ پر) ذکر وہی بنی اسرائیل کا چل رہا ہے۔ انہیں نے کہا جاتا تھا کہ آخری کتاب الہی قرآن پر ایمان لاؤ۔ 317 ۔ (اور وہ ہمارے لیے بالکل کافی ہے) (آیت) ” انزل علینا۔ ہمارے اوپر، یعنی ہماری قوم ونسل کے اوپر نازل ہوا ہے۔ یہود کا کہنا یہ تھا کہ ہم کوئی سلسلہ وحی یا مسئلہ رسالت کے منکر تھوڑے ہی ہیں، ہم بھی تو مومن ہی ہیں اور اپنی نسل اسرائیل کے انبیاء کے قائل ہیں۔ 318 ۔ یہ یہود کے قول کا تتمہ ہے۔ قرآن مجید نے یہ اضافہ کردیا کہ یہ لوگ اپنے اسرائیل سلسلہ کے باہر کسی اور نبوت کے قائل نہیں، ایک عرصہ تک الطاف الہی و عنایات خداوندی کے مورد خاص بنے رہنے، اور اسی نسل کے اندر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 91 تا 96 ترجمہ : اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو قرآن وغیرہ (انجیل) اللہ نے نازل کیا ہے، اس پر ایمان لاؤ تو کہہ دیتے ہیں کہ جو ہم پر نازل کیا گیا ہے، یعنی تورات پر ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور واؤ حالیہ ہے جتنی اس کے علاوہ ہے اس کے بعد ہے (اور وہ) قرآن ہے ان کا انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ حق بھی ہے، (جملہ) حالیہ ہے، اور اس (تورات) کی تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس ہے، (مصدقاً ) حال ثانی ہے تاکید کے لئے آپ ان سے دریافت کیجئے کہ اگر تمہارا تورات پر ایمان ہے تو انبیائ سابقین کو تم نے کیوں قتل کیا ؟ حالانکہ تم کو تورات میں ان کے قتل سے منع کیا گیا ہے، خطاب ان (یہود)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَاۗءَهٗ ۤ ( اور جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لے آؤ اس پر جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہ کہتے ہیں ہم تو ایمان لائیں گے اسی پر جو اترا ہے ہم تو (تورات) اور کفر کرتے ہیں اس کے ماسوا کے ساتھ) ( قرآن و انجیل) مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ ( سے قرآن اور تمام کتب سماوی مراد ہیں) وَ یَکْفُرُوْنَ قَالُوا کی ضمیر مستتر ہے حال ہے لفظ وَرَآء اصل میں مصدر ہے ظرف بنا دیا جاتا ہے جب فاعل کی طرف مضاف ہو تو وراء بمعنی ما تیواری بہ ( وہ جانب جس سے پوشیدگی حاصل کی جائے یعنی پشت) ہوتا ہے اور جب مفعول کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(91) اور جب ان یہودیوں سے قرآن حکیم پر ایمان لانے کے متعلق کہا جاتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم توریت پر ایمان لائیں گے اور توریت کے علاوہ اور سب کتابوں کا انکار کریں گے، حالانکہ قرآن کریم میں بھی سچ ہے اور توحید خالص کے متعلق جو کچھ ان کی کتاب (توریت) میں ہے قرآن کے مطابق ہے۔ کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ ! ہمارے باپ دادا مومن تھے، اے محمد ﷺ آپ جوابا فرمادیجئے کہ اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو اس سے پہلے دیگر نبیوں کو کیوں تم قتل کرتے رہے ہو ؟

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اس آیت میں یہود کا رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لانے کا ایک بہانہ اور اس کا رد ذکر فرمایا گیا ہے، وہ یہ کہ جب انھیں قرآن پر ایمان لانے کے لیے کہا جاتا تو وہ کہتے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں جو ہم پر نازل کیا گیا، یعنی ہم تورات کو مانتے ہیں اور اسی کے مکلف ہیں، اس کے سوا ہم کوئی چیز نہیں مانتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اول تو تمہارا قرآن کو نہ ماننا بےمعنی بات ہے، کیونکہ وہ تورات کی تصدیق کرنے والا ہے اور جیسا کہ پچھلی آیت میں ذکر ہے کہ تم پہچان بھی چکے ہو کہ یہ وہی رسول ہے جس کی آمد کا تم شدت سے انتظار کر رہے تھے، پھر اگر تمہارا یہی دعویٰ ہے کہ تم صرف تورات کو مانتے ہو تو تم پہلے انبیاء…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 91 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا قیل لھم امنوا تصدیق کرو بما انزل اللہ یعنی قرآن قالوا نؤمن یعنی ہم تصدیق کرتے ہیں۔ بما انزل علینا یعنی تورات۔ ویکفرون بما ورآءہ یعنی جو تورات کے علاوہ ہے، یہ فراء کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : (2) جو تورات کے بعد ہے۔ یہی قول ابو عبیدہ کا ہے، معنی ایک ہے۔ جوہری نے کہا : وراء بمعنی خلف (پیچھے) ہے کبھی یہ بمعنی قدام (آگے) ہوتا ہے۔ یہ (وراء) اضداد میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وکان ورآءھم ملک (الکہف :79) (یعنی آگے بادشاہ تھا) وراء کی تصغیرو رئیۃ ہے یعنی ھاء کے ساتھ یہ شاذ ہے۔ وراء پر نصب ظرف کی بنا پر ہے۔ اخفش نے کہا : کہا جاتا ہے لقیتہ من وراء۔ غایت کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 91–92

(1) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویکفرون بما ورآء ہ “ یعنی جو کچھ اس تورات کے بعد ہے ان سب کا انکار کرتے ہیں۔ (2) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویکفرون بما ورآء ہ “ وہ قرآن کا انکار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِذَا : اور جب کبھی ] [ قِيْلَ لَھُمْ : کہا جاتا ہے ان سے ] [ اٰمِنُوْا : تم لوگ ایمان لاؤ ] [ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ : اس پر جو اتارا اللہ نے ] [ قَالُوْا : تو وہ لوگ کہتے ہیں ] [ نُؤْمِنُ : ہم ایمان لاتے ہیں ] [ بِمَآ اُنْزِلَ : اس پر جو اتارا گیا ] [ عَلَيْنَا : ہم پر ] [ وَيَكْفُرُوْنَ : درآں حالاں کہ ] [ بِمَا : اس کو جو ] [ وَرَاۗءَهٗ ۤ: اس کے بعد ہے ] [ وَھُوَالْحَقُّ : وہ کل کا کل حق ہے ] [ مُصَدِّقًا : تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے ] [ لِّمَا : اس کی جو ] [ مَعَھُمْ ۭ: ان کے ساتھ ہے ] [ قُلْ فَلِمَ : آپ پوچھیے تو پھر کیوں ] تَقْتُلُوْنَ : تم لوگ قتل کیا کرتے تھے ] [ اَنْۢبِيَاۗءَ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

یہودیوں کا یہ کہنا کہ ہم توریت کے علاوہ کسی کتاب کو نہیں مانتے، اور اس پر ان سے سوال اس آیت شریفہ میں یہودیوں کا یہ قول ذکر فرمایا کہ ہم صرف توریت پر ایمان لاتے ہیں اس کے سوا کسی کتاب کو نہیں مانتے، ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (وَھُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَھُمْ ) کہ جو کتاب ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کی ہے وہ اس کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے۔ جس پر وہ ایمان رکھنے کے مدعی ہیں۔ قرآن کو نہ ماننا توریت کے نہ ماننے کو مستلزم ہے۔ علامہ بیضاوی لکھتے ہیں۔ لأنھم لما کفروا بما یوافق التوراۃ فقد کفروابھا۔ توریت شریف میں یہ ہرگز نہیں ہے کہ بنی اسرائیل کے علاوہ کسی قوم میں سے اللہ تعالیٰ نبی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

شناعت شانزدہم (16) واذا قیل لھم امنوا۔۔۔ الی۔۔۔ ان کنتم مومن ین اور دلیل اس امر کی (کہ یہود کا یہ معاملہ آپ کے ساتھ محض حسد کی بناء پر ہے) یہ ہے کہ جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ ہر اس چیز پر جو اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے خواہ کسی پیغمبر پر اس کا نزول ہوا ہو جو چیز بھی خدا نے نازل کی اس پر ایمان لانا واجب ہے خواہ وہ توریت وانجیل ہو یا قرآن کریم ہو۔ وجوب ایمان کی علت حکم خداوندی ہوتا ہے جو تمام کتب الٰہیہ میں مشترک ہے وہ اس کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ ہم تو فقط اس کتاب پر ایمان لائیں گے۔ جو خاص ہم پر ہمارے نبی کے واسطہ سے نازل کی گئی۔ اس قید سے ان کا حسد صاف ظاہر ہے کہ جو کتاب بنی اسرائیل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

178 جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو کتاب اپنے آخری رسول ﷺ پر اتاری ہے اس پر ایمان لاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم بھی تو خدا کی کتاب کو مانتے ہیں۔ ہم کب اس کا انکار کرتے ہیں ؟ مگر صرف اسکو جو ہم پر نازل ہوئی۔ یعنی ہم تو صرف اپنی کتاب تورات کو مانتے ہیں اس کے سوا کسی اور کتاب کو نہیں مانیں گے۔ وَيَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَاۗءَهٗ ۔ یہ قَالُوْا پر معطوف اور قول یہود کے لیے بطور تتمہ لایا گیا ہے وَھُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَھُمْ ۔ یہ یہود کے کذب دعوی کی پہلی اور دوسری دلیل ہے اگر وہ اپنے دعوی میں سچے ہوتے تو قرآن پر ضرور ایمان لاتے۔ کیونکہ قرآن خود تعلیمات حقہ کا حامل اور اصول دین میں پہلی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 91–96

گزشتہ سے پیوستہ : یہودیوں کی قباحتیں اور ان کی سزائیں بیان ہو رہی ہیں۔ اس سے پہلی آیات میں یہودیوں کی برائیوں اور ان کے کفر پر اصرار کا ذکر تھا۔ یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ خاتم النبین ﷺ کی آمد سے پہلے یہودی ان کے منتظر تھے۔ کہ جب وہ نبی آخر الزمان آئے گا تو اس کا ساتھ دیں گے۔ یہودی لوگ آپ کی برکت سے مشرکین پر غلبہ حاصل کرنے کی تمنا بھی کرتے تھے۔ اور اس کے لیے دعائیں بھی کرتے تھے۔ مگر جب وہ رسول آگیا جس کا انتظار تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب بھی آگئی اور ان لوگوں نے پہچان بھی لیا تو پھر انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ کے دوہرے غضب میں مبتلا ہوئے۔ دعوت ایمان : ان آیات میں بھی یہودیوں کی ہٹ دھرمی کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَاۗءَہٗ۝ 0 ۤ وَھُوَالْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَھُمْ۝ 0 ۭ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِيَاۗءَ اللہِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝ 91 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 90–92

ترکیب : بئس فعل ذم نکرہ موصوفہ اشترو ابہ انفسہم جملہ اس کی صفت یہ سب اسم بئس ان یکفرو الخ بتاویل مصدر خبر مبتدا محذوف جملہ مخصوص بالذم (یہاں اور بھی احتمالات ہیں) بغیًا مفعول لہ ہے یکفرو اکان ینزل الخ ای لان ینزل الخ یہ جملہ بغیًا کا مفعول لہ ہے یعنی ان کی ضد اس لیے ہے کہ خدا اپنے فضل سے جس پر چاہتا ہے کیوں نازل کرتا ہے بنی اسرائیل کا مقید کیوں نہیں رہتا۔ اذاقیل الخ شرط قالوا الخ جواب شرط و یکفرون الخ جملہ حال ہے اس ضمیر سے جو قالوا میں ہے ورائہ ضمیر ما کی طرف رجوع ہے وراء کی ہمزہ ی سے بدل گئی ہے لانہ یقال تورات اور ابن جنی کے نزدیک ہمزہ اصلی ہے وراء اصل میں مصدر ہے ظرف بنایا گیا مصدقا حال…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 91–92

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَیَکْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآئَ ہٗ ق وَھُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مََعَھُمْ ط قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْبِیَآئَ اللّٰہِ مِنْ قَبْلُ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ ۔ وَلَقَدْ جَآئَ کُمْ مُّوْسٰی بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْم بَعْدِہٖ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ ۔ (البقرۃ : 91 تا 92) (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز پر ایمان لائو جو اللہ نے اتاری ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر تو ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل کیا گیا ہے اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے اس سے کفر کرتے ہیں حالانکہ وہ حق…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 91–92

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب اپنے گھناؤنے کردار اور بغض کو چھپانے کے لیے یہ بہانہ بناتے ہیں کہ ہم اسی بات کو مانیں گے جو ہم پر نازل ہوئی اس کا جواب یہ دیا گیا کہ پھر تم نے پہلے انبیاء کو کیوں قتل کیا تھا ؟ یہودیوں کو جب بھی دعوت دی گئی کہ اس کتاب پر ایمان لاؤ جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمائی ہے تو انہوں نے مذہبی عصبیت اور خود ساختہ علمی مقام کی بنا پر اعلان کیا کہ ہم تورات کے سوا ہر چیز کا انکار کرتے رہیں گے۔ بیشک اس میں ہماری تائید ہی کیوں نہ پائی جاتی ہو۔ اس انکار پر ان سے پوچھا جا رہا ہے اگر تم تورات پر فی الحقیقت ایمان رکھتے ہو تو تمہیں ان سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ کیونکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت 91: وَاِذَاقِیْلَ لَھُمْ : (جب ان سے کہا جاتا ہے) یعنی ان یہود کو۔ ٰامِنُوْابِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ : (تم ایمان لے آئو اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اتارا) نمبر 1: اس سے مراد قرآن مجید ہے نمبر 2: ما انزل اللّٰہ سے مراد جو بھی اللہ تعالیٰ نے اتارا۔ اس طرح ہر کتاب کو شامل ہے۔ قَالُوْانُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا : (وہ کہتے ہیں ہم تو ایمان لائیں گے اسی پر جو اتارا ہم پر) یعنی تورات وَیَکْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآئَ ہٗ : (اور وہ کفر کرتے ہیں اس کے ساتھ جو اس کے بعد ہے) یعنی وہ کہتے تو یہ ہیں کہ ہم تورات پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ تورات کے بعد اترنے والی کتاب کا انکار کرتے ہیں۔ مقولہ یہود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 91۔: (آیت)” واذا قیل لھم امنوا بما انزل اللہ “ یعنی قرآن ”(آیت)” قالوا انؤمن بماانزل علینا “ یعنی تورات ہمیں یہی کافی ہے ۔ (آیت)” ویکفرون بما وراء ہ “ یعنی جو تورات کے ماسوی کتب ہیں جیسے اللہ عزوجل کا قول ہے (آیت)” فمن ابتغی وراء ذالک “ یعنی اس کے سوا حضرت ابو عبیدہ ؓ فرماتے ہیں بما وراء ہ کا معنی ہے بما بعدہ (یعنی ہم انکار کرتے ہیں جو تورات کے بعد کتب ہیں انجیل وقرآن) ” وھوالحق “ یعنی قرآن (مصدقا) حال ہونے کے اعتبار سے منصوب ہے۔ ” لمامعھم “ تورات “ سے (قل) ان کو (کہیے) یا محمد ” فلم تقتلون “ یعنی ہم نے قتل کیا (انبیاء اللہ من قبل) اور ” لم “ اس کا اصل ” لما “ ہے ، خبر اور استفہام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 91–93

(91 ۔ 93) ۔ اس آیت میں یہود نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہمارا ایمان حضرت موسیٰ اور تورات پر ایسا مضبوط ہے کہ غیر دین کے انکار پر ہم مجبور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کے اس دعوے کو کئی طرح جھٹلایا۔ ایک تو یہ کہ جب قرآن میں تورات کی تصدیق موجود ہے تو جس کا ایمان تورات پر مضبوط ہوگا وہ قرآن کا منکر نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ قرآن کا انکار اس صورت میں تورات کے سچے ہونے کا گویا انکار ہے۔ دوسرے یہ کہ جس کا ایمان تورات پر مضبوط تھا اس نے ان انبیاء کو کیوں شہید کیا جو تورات کے احکام کی مضبوطی کے لئے آئے تھے۔ تیسرے یہ کہ جس کا ایمان موسیٰ (علیہ السلام) پر مضبوط تھا تو اس نے بچھڑے کی پوجا کیوں کی۔ کیا موسیٰ نے ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 91–93

جب یہود کو حکم دیا گیا کہ وہ اس کتاب پر ایمان لائیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے یعنی قرآن کریم پر تو انہوں نے تکبر اور سرکشی سے کہا : (قالوا نومن بمآ انزل علینا ویکفرون بما ورآۂ ) یعنی وہ (تورات کے سوا) تمام کتابوں کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ ان پر فرض تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ تمام کتابوں پر علی الاطلاق ایمان لائیں خواہ یہ کتابیں بنی اسرائیل کے نبیوں پر نازل کی گئی ہوں یا ان کے علاوہ کسی اور نبی پر، اور یہی وہ ایمان ہے جو فائدہ مند ہے۔ یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان جو تمام انبیاء کرام ( علیہ السلام) پر نازل کی گئی ہیں۔ رہا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی نازل کردہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 86–94

قول باری ہے : قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ عند اللہ خالصۃ من دون الناس قسموا الموت ان کنتم صدقین (ان سے کہو کہ اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لئے مخصوص ہے تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو) روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ” اگر یہود موت کی تمنا کرتے تو سب مرجاتے اور جہنم کے اندر اپنے اپنے ٹھکانے دیکھ لیتے اور اگر اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ مباہلہ کرنے والے اپنے گھروں سے نکل آتے تو واپس جا کر نہ تو وہ اپنے اہل و عیال کو پاتے اور نہ ہی کوئی مال ملتا۔ “ حضرت ابن عباس نے فرمایا :” اگر یہ لوگ موت کی تمنا کرتے تو انہیں موت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

256 دعوت حق اور یہود کے انکار کا ذکر وبیان : سو اس سے قرآن حکیم پر ایمان کی دعوت اور ان لوگوں کے انکار کو ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ یعنی جب ان لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ تم ایمان لاؤ اس قرآن حکیم پر، جو کہ خود ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا ہے، اور اس پر ایمان لانا خود ان لوگوں کی اپنی کتاب پر ایمان لانے کا مقتضیٰ ہے، نیز یہ سابقہ تمام کتب سماویہ پر " مُھَیْمِنٌ " اور ان کے علوم و معارف اور مضامین و مطالب کا محافظ و امین اور ضامن و پاسدار ہے جس کا تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ یہ لوگ اس پر سب سے آگے بڑھ کر اور صدق دل سے ایمان لاتے اور اس کی پاکیزہ تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر دارین کی سعادت و سرخروئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 91–92

یہود کا انکار تشریح : جب آنحضرت ﷺ نے یہودیوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تو انہوں نے یہ کہہ کر دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا کہ ہمارے پاس تو پہلے سے آسمانی کتاب تورات موجود ہے۔ ہمیں مزید کسی کتاب اللہ کی ہرگز ضرورت نہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ دعویٰ ان کا بالکل غلط ہے۔ کیونکہ انہوں نے تو اپنی کتاب پر بھی عمل نہیں کیا یہ تو صرف دعوت ایمان سے انکار کا ایک بہانہ ہے۔ کیونکہ یہ نہ تو احکام الٰہی کی پیروی کرتے ہیں اور نہ ہی راہ راست اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے نبیوں کو جھٹلایا، بلکہ بعض کو تو قتل بھی کردیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو تنبیہ کرتا ہے کہ تم راہ راست سے بھٹک چکے ہو۔ اپنی بہتری اور نجات کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 87–96

آیات 87- 96 اسرار و معارف حقیقت یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی ، ایک لائحہ عمل ، پوری زندگی کا پروگرام اور ایسا جو دنیا وآخرت ہر دو عالم کی کامیابی کا ضامن ہو دیا۔ انسان کی ساری سوچ بچار ، ساری تگ ودو اور انتخاب واسمبلیاں صرف اس لئے ہیں کہ زندگی بسر کرنے کا بہترین طریقہ تلاش کیا جائے مگر ہم نے آسمان نازل فرما کر اللہ کی طرف سے تمہیں ایک مکمل ضابطہ حیات دیا اور ساتھ ایک الوالعزم رسول بھیجا کہ صرف کتاب نافع نہیں جب تک دل پاک ہو کہ اس کی تعلیمات کو قبول نہ کرنے لگ جائیں جو صحبت رسول کا حاصل ہے اور جب یہ استعداد حاصل ہو تب بھی کتاب اللہ کی شرح نبی اور رسول ہی کرسکتا ہے کہ ہمیشہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی اول تو تمہارا قرآن کو نہ ماننا نے معنی بات ہے کہ کیونکہ وہ تورات کی تصدیق کرنے والی کتاب ہے پھر اگر تمہارا یہی دعوی ہے کہ تم صرف تورات کو مانتے ہو تم نے پہلے انبیاء کو کیوں قتل کیا حالانکہ تورات میں تمہیں انبیاء کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے اور یہ تما انبیاء تمہیں تورات کی طرف دعوت دینے آئے ہیں معلوم ہوا کہ یہ تکذیب بغض وعناد اور تکبر کی وجہ سے کر رہے ہو۔ (ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:91) اذا قیل لہم ۔۔ انزل اللہ جملہ شرطیہ ہے قالوا ۔۔ علینا جواب شرط ہے۔ اور ویکفرون بما ورآءہ جملہ حالیہ ہے قالوا کی ضمیر مستتر سے وھو الحق مصدقا لما معہم : حال مؤکدہ ہے ما انزل اللہ سے مراد قرآن اور تمام کتب سماویہ ہیں ما انزل علینا سے مراد توراۃ ہے۔ ما وراء ہ۔ میں ما موصولہ ہے اور وراءہ مضاف، مضاف الیہ مل کر صلہ۔ مراد اس سے توارۃ کے علاوہ جو کتب سماویہ ہیں۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب توراۃ کے لئے ہے (جو ان ّیہود) پر نازل ہوئی۔ ورآئ۔ ورآئ۔ مصدر ہے لیکن اس کا معنی ہے آڑ۔ حد فاصل ۔ کسی چیز کا آگے ہونا یا پیچھے ہونا۔ علاوہ ۔ سوا۔ وھو۔ میں ھو ضمیر قرآن پاک کی طرف راجع ہے۔ یا قرآن اور انجیل کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 89–93

لغات القرآن : آیت نمبر 89 تا 93 یستفتحون (وہ فتح مانگتے تھے) ۔ عرفوا (انہوں نے پہچان لیا) ۔ بئسما (وہ برا ہے) ۔ بغی (ضد ) ۔ مھین (ذلیل ورسوا کرنے والا) ۔ وراء (سوا، پیچھے) ۔ العجل (بچھڑا) ۔ رفعنا (ہم نے بلند) ۔ اسمعوا (تم سنو) سمعنا (ہم نے سن لیا) ۔ عصینا (ہم نے نافرمانی کرلی، نہیں مانا) ۔ اشربوا (رچ بس گیا (پلا دیا گیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 89 تا 93 نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور قرآن مجید سے متعلق یہودیوں کی کتابوں میں بہت سے پیشین گوئیاں اور نشانیاں بتا دی گئی تھیں اسی لئے وہ نبی آخر الزماں ﷺ کا بڑی شدت اور بےچینی سے انتظار کر رہے تھے۔ جب کبھی ان کی کفار اور مشرکین سے جنگ ہوتی تو وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 91–92

شان نزول : اس آیت میں یہود نے یہ دعوٰی کیا تھا کہ ہمارا ایمان مضبوط ہے ، غیر دین کے انکار پر ہم مجبور ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلایا کہ جس کا ایمان توراۃ پر مضبوط تھا اس نے انبیاء کو کیوں شہید کیا، اور بچھڑے کی پوجا کیوں کی ۔ جس وقت پہاڑ سر پر لا کر تورات کے موافق عمل کرنے کا عہد لیا گیا تھا اس وقت تمہارے بڑوں نے چپکے سے وعصینا کہا تھا پھر تمہارا ایمان توراۃ پر کیونکر مضبوط ہو سکتا ہے۔ ترمذی وابن ماجہ میں جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :” ہدایت کے بعد گمراہ وہی قوم ہوتی ہے جو دین میں زبردستی کے جھگڑوں میں پڑجاوے “۔ امت محمدیہ کے علماء کو اس طرح کے جھگڑوں سے پرہیز کرنا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) جب یہودیوں کو قرآن حکیم کی دعوت دی گئی تو انہوں نے توریت کے سوا اور سب چیزوں کے ماننے سے انکار کردیا ، انہوں نے کہا ، ہم تو وہی ماننے کے مکلف ہیں جو ہمارے نبی پر نازل ہوا ہے ، اس پر قرآن حکیم نے دو اعتراض کئے ہیں ایک یہ کہ اگر یہ واقعہ ہے تو تمہاری پہلے انبیاء سے کیوں جنگ رہی ؟ گزشتہ انبیاء کیوں تمہارے ظلم وستم کا نشانہ بنے رہے ؟ وہ تو سب اسرائیلی تھے ، دوسرا یہ کہ توریت وقرآن کے پیغام میں کیا اختلاف ہے قرآن حکیم تو وہی پیغام پیش کرتا ہے جو توراۃ کا موضوع اشاعت تھا پھر انکار کیوں ؟ بات اصل میں یہ ہے کہ تم نے نہ کبھی توراۃ کو مانا ہے اور نہ اب قرآن کو ماننے کے لئے تیار ہو ، ورنہ ان دونوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 91–92

ف 3 اور جب ان یہود سے کہا اجتا ہے کہ تم دوسری کتب سماویہ پر بھی جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہیں ایمان لائو جیسے انجیل اور قرآن تو یہ جواب دیتے ہیں کہ بس ہم تو اس کتاب پر ایمان لائیں گے۔ جو ہماری جانب نازل کی گئی ہے یعنی توریت کو مانیں گے اور اس کے علاوہ دوسری کتابوں کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ وہ دوسری کتب سماویہ بھی حق ہیں اور وہ کتابیں اس کتاب کی تصدیق کرنیوالی ہیں جو ان کے پاس ہے۔ آپ ان سے پوچھئے ۔ اچھا اگر تم توریت پر ایمان رکھتے ہو تو اب سے پہلے خدا کے نبیوں کو کیوں قتل کیا کرتے تھے اور تمہارے ایمان کی یہ تو حلات ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس صاف اور واضح دلائل لے کر تشریف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 90–91

ف 2۔ ایک غضب تو کفر پر تھا ہی دوسرا غضب ان کے حسد پر ہوگیا۔ اور عذاب مھین کی قید سے تخصیص کفار کی ہوگئی کیونکہ مومن عاصی کو عذاب تطہیر عن الذنوب کا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایک سچائی کا انکار سب سچائیوں کا انکار ہے کاش کہ تم سمجھ جاؤ : 178: یعنی جب ان سے قرآن کریم اور نبی خاتم المرسلین ﷺ پر ایمان لانے کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں توراۃ و انجیل پر ایمان رکھنا کفایت کرتا ہے ان سے کہا جارہا ہے کہ تم اس بات میں جھوٹے ہو کیونکہ قرآن کریم تو ان کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور خود ان کی کتابوں یعنی تورات و انجیل میں بھی نبی کریم ﷺ کی تصدیق موجود ہے پھر تم ہی بتاؤ کہ تم نے قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کا انکار کر کے تورات و انجیل کی تصدیق کی ہے یا تکذیب۔ عقل کا تقاضا تو یہی ہے کہ اس طرح سے انہوں نے گویا اپنی ہی کتابوں کی تکذیب کی ہے اور حق کو تسلیم نہ کرنے میں تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Jews flatly refused to believe in any Book of Allah -- like the Evangel or the Holy Qur'an - except in the Torah. This denial is a clear evidence of their infidelity (Kufr کفر). Moreover, they also used to add that they believe in the Torah, for it had been sent down to them. This comes to mean that they denied the other Books just because they had not been sent down to them. Such an argument betrays their envy and malice. The Holy Qur'an refutes their argument in three ways: (1) When the truth and authenticity of the other Books has been established on the basis of irrefutable…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 90–93

96. Another possible rendering of the same verse is: 'And how evil is that for the sake of which they have sold themselves', i.e. for the sake of which they have sacrificed their ultimate happiness and salvation. 97. They had longed for the promised Prophet to arise from among their own people. But when he arose among a diffirent people, a people they despised, they decided to reject him. It was as if they thought God was duty-bound to consult them in appointing Prophets, and since in this case He had failed to do so they felt they had a right to be offended by God's 'arbitrariness'.

Read the full tafseer →