برا ہو حسد کا
مطلب یہ ہے کہ ان یہودیوں نے حضور کی تصدیق کے بدلے تکذیب کی اور آپ پر ایمان لانے کے بدلے کفر کیا۔ آپ کی نصرت و امداد کے بدلے مخالفت اور دشمین کی اس وجہ سے اپنے آپ کو جس غضب الٰہی کا سزاوار بنایا وہ بدترین چیز ہے جو بہترین چیز کے بدلے انہوں نے لی اور اس کی وجہ سے سوائے حسد و بغض تکبر وعناد کے اور کچھ نہیں چونکہ حضور ﷺ ان کے قبیلہ میں سے نہ تھے بلکہ آپ عرب میں سے تھے اس لئے یہ منہ موڑ کر بیٹھ گئے حالانکہ اللہ پر کوئی حاکم نہیں وہ رسالت کے حق دار کو خوب جانتا ہے وہ اپنا فضل و کرم اپنے جس بندے کو چاہے عطا فرماتا ہے پس ایک تو توراۃ کے احکام کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے ان پر غضب نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
سورة الْبَقَرَة 96
اس آیت کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے ”کیسی بری چیز ہے، جس کی خاطر انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا۔“ یعنی فلاح وسعادت اور اپنی نجات کو قربان کردیا۔
سورة الْبَقَرَة 97
یہ لوگ چاہتے تھے کہ آنے والا نبی ان کی قوم میں پیدا ہو۔ مگر جب وہ ایک دوسری قوم میں پیدا ہوا، جسے وہ اپنے مقابلے میں ہیچ سمجھتے تھے، تو وہ اس کے انکار پر آمادہ ہوگئے۔ گویا ان کا مطلب یہ تھا کہ اللہ ان سے پوچھ کر نبی بھیجتا جب اس نے ان سے نہ پوچھا اور اپنے فضل سے خود جسے چاہا، نواز دیا، تو وہ بگڑ بیٹھے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
وہ حالت (بہت ہی) بری ہے جس کو اختیار کرکے (وہ بزعم خود) اپنی جانوں کو (عقوبت آخرت سے) چھڑانا چاہتے ہیں (اور وہ حالت) یہ (ہے) کہ کفر (انکار) کرتے ہیں ایسی چیز کا جو حق تعالیٰ نے (ایک سچے پیغمبر پر) نازل فرمائی (یعنی قرآن اور وہ انکار بھی) محض (اس) ضد پر کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جس بندہ پر اس کو منظور ہو (یعنی محمد ﷺ پر کیوں) نازل فرما دے سو (اس حسد بالائے کفر سے) وہ لوگ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے اور (آخرت میں) ان کفر کرنے والوں کو ایسی سزا ہوگی جس میں (تکلیف کے علاوہ) ذلت (بھی) ہے۔
فائدہایک غضب کفر پر دوسرا حسد پر یوں غضب بالائے فرمایا عذاب کے ساتھ مہین کی قید سے بتانا یہ…
Read the full tafseer →یہاں اشتراء کے معنی بیچنے اور مبادلہ کرنے کے ہیں۔ بعینہٖ یہی مضمون اسی سورہ میں دوسری جگہ اس طرح وارد ہے۔
وَلَبِءْسَ مَا شَرَوْا بِہٖ اَنفُسَہُمْ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ (بقرہ: ۱۰۲)
کیا ہی بری ہے وہ چیز جس کے عوض میں انہوں نے اپنی جان کو بیچا۔
عام طور پر اہل لغت اس لفظ کا اضداد میں شمار کرتے ہیں۔ اس کے اضداد میں سے ہونے کی امام راغب نے بڑی معقول توجیہ کی ہے۔ وہ کہتے ہیں۔
فاما اذا کان بیع سلعۃ بسلعۃ صح ان یتصوّر کل واحدٍ منھما مشتریا وبائعا ومن ھذا الوجہ صار لفظ البیع والشراء یستعمل کل واحد منھما فی موضع الاخر-
لیکن جب شے کا مبادلہ شے سے ہو تو فریقین میں سے ہر ایک کو مشتری اور ہر ایک کو…
Read the full tafseer →90۔ 1 غضب پر غضب کا مطلب ہے بہت زیادہ غضب کیونکہ بار بار وہ غضب والا کام کرتے رہے جیسا کہ تفصیل گزری اور اب محض حسد کی وجہ سے قرآن اور حضرت محمد ﷺ کا انکار کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
62: یعنی ایک غضب کے مستحق تو وہ اپنے کفر کی وجہ سے تھے دوسرا غضب ان پر حسد اور ضد کی وجہ سے ہوا۔
Read the full tafseer →بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ أَنْ يَكْفُرُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ بَغْيًا أَنْ يُنَزِّلَ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُهِينٌ
” کیا بری ہے وہ قیمت جس سے یہ اپنے نفس فروخت کرتے ہیں کہ جو ہدایت اللہ نے نازل کی ہے ، اس کو قبول کرنے سے صرف اس ضد کی بناپر انکار کررہے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل (وحی و رسالت) سے اپنے جس بندے کو خود چاہا نواز دیا ! لہٰذا اب یہ غضب بلائے غضب کے مستحق ہوگئے ہیں اور ایسے کافروں کے لئے سخت ذلت آمیز سزا مقرر ہے۔ “
انہوں نے جان بوجھ کر اپنی جان کے بدلے جو کفر خریدا ہے ، وہ انکے لئے…
Read the full tafseer →7 یعنی جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچا وہ کفر اور انکار ہے قرآن کا اور انکار بھی محض ضد اور حسد کے سبب۔
1 ایک غضب تو یہ کہ قرآن بلکہ اس کے ساتھ اپنی کتاب کے بھی منکر ہو کر کافر ہوئے ' دوسرے محض حسد اور ضد سے پیغمبر وقت سے انحراف اور خلاف کیا۔
2 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر عذاب ذلت کے لیے نہیں ہوتا بلکہ مسلمانوں کو جو ان کے معاصی پر عذاب ہوگا گناہوں سے پاک کرنے کے لیے ہوگا نہ بغرض تذلیل ' البتہ کافروں کو بغرض تذلیل عذاب دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 90 بِءْسَمَا اشْتَرَوْا بِہٖٓ اَنْفُسَہُمْ
یعنی دنیا کا حقیر سا فائدہ ‘ یہاں کی حقیر سی منفعتیں ‘ یہاں کی مسندیں اور چودھراہٹیں ان کے پاؤں کی زنجیر بن گئی ہیں اور وہ اپنی فلاح وسعادت اور نجات کی خاطر ان حقیر سی چیزوں کی قربانی دینے کو تیار نہیں ہیں۔
اَنْ یَّکْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ
بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ ج
یہود اس امید میں تھے کہ آخری نبی بھی اسرائیلی ہی ہوگا ‘ اس لیے کہ چودہ سو برس تک نبوت ہمارے پاس رہی ہے ‘ یہ فترۃ کا زمانہ ہے ‘ جسے چھ سو برس گزر گئے ‘ اب آخری نبی آنے والے ہیں۔ ان کو یہ گمان تھا کہ وہ بنی اسرائیل ہی میں…
Read the full tafseer →106 ان یہود کے بغض وعناد کی اصل وجہ یہ تھی کہ نبی آخر الزمان ﷺ ان کی قوم سے کیوں نہیں آیا۔ اور اس قوم میں کیوں پیدا ہوا ہے ؟ جسے یہ ان پڑھ، اجڈ اور اپنے سے حقیر تر سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے کاموں کی حکمتیں خود بہتر سمجھتا ہے اور اپنے بندوں میں سے جسے مناسب سمجھتا ہے رسالت سے نوازتا ہے۔ تم اس کے فضل کے ٹھیکیدار تو نہیں کہ تم سے اللہ پوچھ کر اور جسے تم چاہو اسے رسالت عطا فرمائے۔
107 یہود کے جرائم کی فہرست تو بہت طویل ہے جن میں سرفہرست ایک نبی کی موجودگی میں بچھڑے کی پرستش، انبیاء کا قتل اور دیدہ دانستہ نبی آخر الزمان ﷺ کی رسالت کا انکار ہے اور ایسے جرائم…
Read the full tafseer →312 ۔ یعنی کیسی بری وہ حالت ہے، جسے اختیار کر کے وہ بزعم خود اپنی جانوں کو عقوبت آخرت سے چھڑانا چاہتے ہیں بئس ما باعوا بہ حظ انفسھم اے اختاروا الکفر وبذلوا انفسھم للنار (معالم) اشتراء لغات اضداد میں سے ہے۔ خریدنے اور فروخت کرنے دونوں کے معنی میں آتا ہے۔ یہاں بیچنے کے معنی میں ہے۔ الاشتراء ھھنا بمعنی البیع (معالم) معناہ باعوا (بیضاوی) ،
313 ۔ قرآن نے اس حقیقت کو بار بار صاف کیا ہے کہ یہود کا یہ کفر و انکار کسی اجتہادی غلطی کی بنا پر، فکر ونظر کے کسی دھوکے یا مغالطہ کی بنا پر نہ تھا۔ بلکہ اس غصہ وعناد کا نتیجہ تھا کہ نبوت خاندان اسرائیل سے نکل کر بنی اسمعیل (علیہ السلام) کے ایک فرد کو کیوں مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
وَلَمَّا جَآءَھُمْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللہِ ، (الآیۃ) آپ ﷺ کی تشریف آوری سے قبل یہود بڑی بےچینی اور شدت سے اس نبی آخر الزمان کے منتظر تھے، جس کی بعثت کی پیش گوئیاں ان کے انبیاء نے کی تھیں اور ان کے واسطے دعائیں مانگا کرتے تھے، کہ جلدی سے وہ آئے تو کفار کا غلبہ ختم ہوا اور ہمارے عروج کا دور شروع ہو، خود اہل مدینہ اس بات کے شاہد تھے کہ بعثت محمدی ﷺ سے پہلے بھی ان کے ہمسایہ یہودی آنے والے نبی کی امید پر جیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ تم جتنا چاہو ہم کو ستالو عنقریب ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے ہم اس کے ساتھ ہو کر ظالموں سے سب حساب چکا لیں گے، مدینہ کے مشرک یہ باتیں سن چکے تھے، اسی لئے جب نبی ﷺ…
Read the full tafseer →بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖٓ اَنْفُسَھُمْ ( بری ہے وہ شے جس کے بدلے خریدا انہوں نے اپنی جانوں کو) مطلب یہ ہے کہ جس شئے کے عوض انہوں نے اپنے نفس کے اخروی نصیب اور حصے کو بیچ ڈالا وہ بہت بری ہے اور یا یہ معنی ہوں کہ جس شئے کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو اپنے گمان فاسد میں خرید لیا ہے یعنی چھڑایا ہے وہ بہت بری ہے۔
اَنْ يَّكْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ( کہ انکار کرنے لگے ایک کلام کا جو اتارا اللہ نے) یہ بئس کا مخصوص بالذم ہے۔
بَغْيًا (اس حسد میں) یَکْفُروا کا مفعول لہ ہے ا شتَرَوا کا نہیں کیونکہ اشتروا اور بغیا کے درمیان میں فاصلہ ہے۔ بغی کے معنی ہیں طلب اور فساد چناچہ بغی، یبغی، بغیاً اس وقت…
Read the full tafseer →(90) جس چیز کا بدلہ میں ان لوگوں نے اپنی جانوں کو فروخت کردیا ہے کہ حسد کی وجہ سے کتاب اور رسول اللہ ﷺ کا انکار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حضرت جبریل امین ؑ کے واسطے سے نبوت اور کتاب حضور اکرم ﷺ پر اتار دی ہے یہ لوگ لعنت پہ لعنت کے حق دار ہیں اور ان کے لیے بہت ہی کڑا قسم کا عذاب ہے ،
Read the full tafseer →یعنی انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو پہچان لینے کے باوجود کہ یہ وہی نجات دلانے والا ہے جس کے آنے کی وہ دعائیں کرتے تھے، آپ کا انکار کیا، تو اس کی وجہ صرف ان کی یہ ضد، نسلی تعصب اور حسد تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری نبی ان میں کیوں نہیں بھیجا اور اپنے فضل سے ایک ان پڑھ قوم عرب کو کیوں نوازا۔ یہ نہ سوچا کہ اللہ اپنے فضل کا خود مالک ہے، وہ جسے چاہے نواز دے۔ ان کے اس حسد کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ غضب پر غضب لے کر پلٹے۔ پہلے جرائم، جن کا گزشتہ آیات میں ذکر ہے، ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے غضب کا باعث تھا، مثلاً بچھڑے کی عبادت، تورات میں تحریف، رسولوں کا قتل، عیسیٰ ؑ کی تکذیب وغیرہ، اب آخر الزمان نبی کو…
Read the full tafseer →آیت نمبر 90
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بئسما اشتروا۔ بئس عرب کلام میں مذمت کے لئے جسے نعم مدح کے لئے ہے ان میں سے ہر ایک کی چار لغات ہیں : بئس بئس بئس بئس، نعم نعم نعم نعم۔ سیبویہ کا مذہب یہ ہے کہ ما، بئس کا فاعل ہے اور یہ اسمائے اجناس اور نکرات پر داخل ہوتا ہے اسی طرح نعم ہے تو کہتا ہے : نعم الرجل زیدٌ، نعم رجلاً زیدٌ جب اس کے ساتھ اسم بغیر الف، لام کے ہو تو اسے ہمیشہ نصب دی جاتی ہے جب اس پر الف لام ہو تو ہمیشہ مرفوع ہوتا ہے رجلاً پر نصب تمییز کی بنا پر ہے اور نعم میں ضمیر تفسیر کی شرط پر مضمر ہے اور زید دو اعتبار سے مرفوع ہے۔ ایک مبتدا محذوف کی خبر کے اعتبار سے گویا پوچھا گیا ممدوح کون ہے تو…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اشتروا بہ “ الآیہ سے مراد یہود ہیں۔ جنہوں نے کتاب کا جو اللہ تعالیٰ نے اتاری اور محمد ﷺ کا انکار کیا زیادتی کرتے ہوئے اور عربوں کے ساتھ حسد کرتے ہوئے۔ لفظ آیت ” فباء و بغضب علی غضب “ یعنی اللہ نے ان پر دو مرتبہ غصہ فرمایا ایک مرتبہ انجیل اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے انکار کی وجہ سے اور دوسری مرتبہ قرآن اور محمد ﷺ کا انکار کرنے کی وجہ سے۔
(2) امام الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” بئسما اشتروا بہ انفسھم “ الآیہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا…
Read the full tafseer →[ بِئْسَمَا اشْتَرَوْا : کتنا برا ہے وہ انہوں نے جو خریدا ] [ بِهٖٓ: جس کے بدلے ] [ اَنْفُسَھُمْ : اپنے نفس کو ] [ اَنْ يَّكْفُرُوْا : کہ وہ لوگ انکار کرتے ہیں ] [ بِمَآ : اس کا جسے ] [ اَنْزَلَ اللّٰهُ : اللہ نے اتارا ] [ بَغْيًا : سرکشی کرتے ہوئے ] [ اَنْ يُّنَزِّلَ اللّٰهُ : کہ اللہ اتارتا ہے ] [ مِنْ فَضْلِهٖ : اپنے فضل میں سے ] [ عَلٰي مَنْ : جس پر ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ مِنْ عِبَادِهٖ ۚ: اپنے بندوں میں سے ] [ فَبَاۗءُوْ : پس وہ لوگ لوٹے ] [ بِغَضَبٍ عَلٰي غَضَبٍ ۭ: غضب پر غضب کے ساتھ ] [ وَلِلْكٰفِرِيْنَ : اور کافروں کے لیے ] [ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ: ایک ذلیل کرنے والا عذاب ]
Read the full tafseer →(اَنْ یَّکْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بَغْیًا) میں یہ بتایا کہ انہوں نے اپنی جانوں کو دوزخ کا مستحق اس لیے بنایا کہ ان کو اللہ تعالیٰ کے اختیار فرمانے سے عناد ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے نبوت اور رسالت عطا کرے اور جس بندے پر چاہے اپنی کتاب اتارے اسے پورا پورا اختیار ہے اس میں کسی کو اعتراض کرنے کا اور یہ ضد کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں کو کیوں نبی بنایا اور فلاں کو نہیں بنایا ؟
یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے منکر ہو کر کافر ہوئے پھر اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرکے کافر ہوئے۔ اور اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ اور اللہ کی کتاب قرآن مجید کے منکر ہو کر کفر ہی کفر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
شناعت چہار دہم (14)
قال تعالیٰ وقالوا قلوبنا غلف۔۔۔ الی۔۔۔ فقلیلا ما یؤمنون
اور ان کے غرور اور تکبر کا یہ عالم ہے کہ خدا کے پیغمبروں سے بطور فخریہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف میں محفوظ ہیں سوائے اپنے دین کے کسی نئی بات کا اثر ہمارے دلوں تک نہیں پہنچتا یعنی ہہم اپنے دین پر نہایت پختہ اور مضبوط ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ وجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے انکار اور تکذیب کی وجہ سے ان پر لعنت فرمائی ہے اور اپنی رحمت اور عنایت سے دور ڈال دیا ہے اس لیے حق بات ان پر اثر نہیں کرتی اور ان کے دل حق اور نصیحت کو قبول نہیں کرتے۔ اور حق سے متنفر اور بیزار ہیں یہ غلاف نہیں بلکہ اللہ کی لعنت کی نشانی اور…
Read the full tafseer →177 یہاں اشترائ کے معنے بیچنے کے ہیں یعنی جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانیں بیچ دی ہیں اور جس کام کے لیے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے وہ بہت برا ہے۔ یہ نوع خامس کا تتمہ ہے۔ اَنْ يَّكْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ۔ یہ بئس کا مخصوص بالذم ہے یعنی جس برے کام کے لیے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ آیات بینات کا کفر و انکار ہے اور مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ۔ جس کا کا کِتَاب مصدق کے الفاظ میں پہلے ذکر ہوچکا ہے۔ والمراد بما انزل اللہ کتب مصدق (روح ص 321 ج 1) بَغْيًا اَنْ يُّنَزِّلَ اللّٰهُ ۔ بَغْيًا، اَنْ يَّكْفُرُوْا۔ کا مفعول لہ ہے اور ان کے کفر و انکار کی علت بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
کتاب اور رسول : اس سے پہلے بنی اسرائیل کے مختلف عہدوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ جن کی پابندی کرنے سے یہ قوم قاصر رہی۔ اب بعض دوسرے انعامات کا تذکرہ ہو رہا ہے جو بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے کیے اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہے ہیں کہ منجملہ ان انعامات کے ایک یہ بھی تھا کہ “ ولقد اتینا موسیٰ الکتب ” یعنی بیشک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب توراۃ عطا فرمائی ۔ تاکہ بنی اسرائیل اس کے ذریعے ہدایت اور راہنمائی حاصل کرسکیں۔ اور پھر یہ کہ صرف کتاب پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ کتاب میں مذکور احکام کی یاد دہانی کے لیے “ وقفینا من بعدہ بالرسول ” اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد پے در پے رسول بھیجے جو توراۃ کی تعلیم کی…
Read the full tafseer →بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِہٖٓ اَنْفُسَھُمْ اَنْ يَّكْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ بَغْيًا اَنْ يُّنَزِّلَ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖ 0 ۚ فَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰي غَضَبٍ 0 ۭ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ مُّہِيْنٌ 90
بِئْسَ
و «بِئْسَ» كلمة تستعمل في جمیع المذام،
كما أنّ نعم تستعمل في جمیع الممادح، ويرفعان ما فيه الألف واللام، أو مضافا إلى ما فيه الألف واللام، نحو : بئس الرجل زيد، وبئس غلام الرجل زيد . وينصبان النکرة نحو : بئس رجلا، ولَبِئْسَ ما کانوا يَفْعَلُونَ [ المائدة/ 79] ، أي : شيئا يفعلونه،
( ب ء س) البؤس والباس
بئس ۔ فعل ذم ہے اور ہر قسم کی مذمت کے لئے استعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
ترکیب : بئس فعل ذم نکرہ موصوفہ اشترو ابہ انفسہم جملہ اس کی صفت یہ سب اسم بئس ان یکفرو الخ بتاویل مصدر خبر مبتدا محذوف جملہ مخصوص بالذم (یہاں اور بھی احتمالات ہیں) بغیًا مفعول لہ ہے یکفرو اکان ینزل الخ ای لان ینزل الخ یہ جملہ بغیًا کا مفعول لہ ہے یعنی ان کی ضد اس لیے ہے کہ خدا اپنے فضل سے جس پر چاہتا ہے کیوں نازل کرتا ہے بنی اسرائیل کا مقید کیوں نہیں رہتا۔ اذاقیل الخ شرط قالوا الخ جواب شرط و یکفرون الخ جملہ حال ہے اس ضمیر سے جو قالوا میں ہے ورائہ ضمیر ما کی طرف رجوع ہے وراء کی ہمزہ ی سے بدل گئی ہے لانہ یقال تورات اور ابن جنی کے نزدیک ہمزہ اصلی ہے وراء اصل میں مصدر ہے ظرف بنایا گیا مصدقا حال…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِہٖٓ اَنْفُسَھُمْ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖج فَبَآئُ وْ بِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍط وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ۔
(کیا ہی بری ہے وہ چیز جس سے انھوں نے اپنی جانوں کا مبادلہ کیا کہ وہ انکار کررہے ہیں اس چیز کا جو اللہ نے اتاری ہے محض اس سرکشی کی بنا پر کہ اللہ نازل کرے اپنا فضل جس پر چاہے اپنے بندوں میں سے، پس وہ اللہ کا غضب درغضب لے کر لوٹے اور منکروں کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب ہے)
(البقرۃ : 90)
آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان نہ لانے کا جو سب سے بڑا سبب یہود…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : یہود کے گھناؤنے کردار کے پیچھے دنیا کے مفاد کے ساتھ حسدو بغض بھی شامل ہے جس کی بنا پر نبی آخر الزماں ﷺ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہوئے۔
” بغیًا “ کا معنٰی ہے کسی کام یا بات پر خواہ مخواہ اڑ جانا۔ یہ لفظ حقیقت کے برعکس کام کرنے کے لیے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ یہود نے رسول کریم ﷺ کی اطاعت و حمایت کرنے کی بجائے اس بنا پر تمرّد اور انکار کا راستہ اختیار کیا کہ نبی تو ہم میں سے ہونا چاہیے تھا۔ کیونکہ نبوت صرف بنی اسرائیل کا استحقاق ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ نبوت کسی خاندان یا قوم اور علاقے کا استحقاق نہیں یہ تو سراسر اللہ تعالیٰ کا اپنا انتخاب اور فضل ہے۔ وہ اپنے…
Read the full tafseer →بِئْسَمَا : (بری ہے وہ چیز) نحو : ما نکرہ موصوفہ ہے اور بئس کے فاعل کی تفسیر کر رہا ہے۔
قراءت : ابو عمرو اس کو بِیْسَمَا غیر مہموز پڑھتے ہیں تمام باب میں۔ مطلب یہ ہے بہت بری ہے وہ چیز۔
اشْتَرَوْابِہٖٓ اَنْفُسَھُمْ : (جس کے بدلے بیچا انہوں نے اپنی جانوں کو) یعنی فروخت کردیا یہ بئس کا مخصوص بالذم ہے۔
اَنْ یَّکْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ : (کہ انکار کرنے لگے اس کلام کا جو اللہ تعالیٰ نے اتارا) انزل اللہ سے مراد قرآن مجید ہے۔
بَغْیًا : (ضد کی وجہ سے) یہ مفعول ہے یعنی حسد اور اس چیز کی طلب میں جو انکے مناسب نہیں۔ یہ اشتروا کی علت ہے بیچنے کا سبب تھا۔
ان کا معنی :
اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ : (کہ…
Read the full tafseer →90۔ (آیت)” بئسما اشتروا بہ انفسھم “ بئس اور نعم دونوں فعل ماضی ہیں جن کو مدح اور ذم کیلئے وضع کیا گیا ہے ، باقی افعال کی طرح ان کی گردان نہیں ہوتی ، اس آیت کا معنی ہوگا بہت بری چیز تھی جس کو انہوں نے اپنی ذات کیلئے پسند کیا جبکہ انہوں نے باطل کو حق کے بدلہ لیا اور کہا گیا ہے کہ اس جگہ اشتراء بمعنی بیع ہے اور معنی اس طرح ہوگا کہ برا ہے وہ کچھ جس کے بدلے انہوں نے اپنی ذات کا نصیب (آخرت) بیچ دیا ، یعنی انہوں نے کفر کا اختیار کیا اور اپنی ذات کو آگ کے لیے خرچ کر ڈالا ، (آیت)” ان یکفروا بما انزل اللہ “ یعنی قرآن کریم ” بغیا “ یعنی حسد بغی کا اصل (معنی) فساد ہے کہا جاتا ہے بغی الجرح۔
جب زخم خراب…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ غصہ پر غصہ اس لئے ہوا کہ ایک تو ان یہود لوگوں نے اللہ کی کتاب تورات کی آیتوں کو بدل ڈالا دوسری انجیل کے کتاب الٰہی اور حضرت عیسیٰ السلام کے نبی ہونے کا انکار کیا۔ تیسرے نبی آخر الزمان کو نبی برحق اور قرآن کو کتاب الٰہی جان کر محض اس حسد سے ان کے منکر ہوئے کہ ہماری قوم میں مدت سے نبوت چلی آتی تھی غیر قوم بنی اسماعیل میں یہ نبوت کیوں گئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان باتوں سے انہوں نے اور کسی کا کچھ نہیں بگاڑا۔ خود آپ ہی ذلت کے عذاب میں گرفتار ہوئے۔ ذلت کا عذاب اس لئے فرمایا کہ یہود نے اس تکبر نخوت اور خود پسندی کے سبب سے نبی آخر الزمان کی نبوت کا انکار کیا کہ وہ نخوت کی راہ سے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
مطلب یہ ہے کہ جب افضل المخلوقات اور خاتم النبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذریعے سے ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب آگئی جو ان تعلیمات کی تصدیق کرتی تھی جنہیں تورات نے پیش کیا، جس کا ان کو علم اور یقین تھا۔ علاوہ ازیں جاہلیت کے زمانے میں جب کبھی ان کے اور مشرکین کے درمیان جنگ ہوتی تو یہ دعا کیا کرتے تھے (اے اللہ) اس نبی کے ذریعے سے ہماری مدد فرما اور وہ مشرکین کو ڈرایا کرتے تھے کہ اس نبی کا ظہور ہونے والا ہے۔ وہ اس نبی کے ساتھ مل کر مشرکین کے خلاف جنگ کریں گے۔ جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب اور وہ نبی آگیا جس کو انہوں نے پہچان لیا تو حسد اور سرکشی کی وجہ سے اس کو ماننے سے انکار کردیا (اور انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–94
قول باری ہے : قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ عند اللہ خالصۃ من دون الناس قسموا الموت ان کنتم صدقین (ان سے کہو کہ اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لئے مخصوص ہے تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو) روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ” اگر یہود موت کی تمنا کرتے تو سب مرجاتے اور جہنم کے اندر اپنے اپنے ٹھکانے دیکھ لیتے اور اگر اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ مباہلہ کرنے والے اپنے گھروں سے نکل آتے تو واپس جا کر نہ تو وہ اپنے اہل و عیال کو پاتے اور نہ ہی کوئی مال ملتا۔ “ حضرت ابن عباس نے فرمایا :” اگر یہ لوگ موت کی تمنا کرتے تو انہیں موت کا…
Read the full tafseer →254 لفظ " اشتراء " کا معنیٰ و مفہوم ؟: ۔ لفظ " اشتراء " اگرچہ بیع و شراء کے دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے، مگر یہاں پر یہ لفظ بالا تفاق صرف بیع کے معنی میں ہے، اور خریدو فروخت میں اصل چیز چونکہ وہ سامان ہی ہوتا ہے جس کو انسان ثمن اور قیمت کے بدلے میں خریدتا ہے، اور ثمن و قیمت محض اس کے حصول کا ذریعہ ہوتا ہے، اس لئے جس چیز کو انسان اپنے ارادہ و شوق سے اپناتا ہے، اس کو " مشتریٰ " " خریدی جانے والی چیز " قرار دیا جاتا ہے۔ بلاغت کے اسی اسلوب کے مطابق یہاں پر فرمایا گیا کہ ان بےانصاف، ناشکرے اور بدنصیب لوگوں نے کفر و انکار کو اپنا کر اپنی جانوں کو بیچ دیا اور ان کو عذاب دوزخ کے حوالے کردیا، اور…
Read the full tafseer →ضد اور تعصب کا نتیجہ
تشریح : اس آیت میں یہودیوں کے تعصب، ضد، نفس پرستی اور حسد کا ذکر کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ وہ اللہ کے احکام کو بھی تجارتی نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہمیشہ سے ان کا یہ کام رہا ہے کہ وہ احکام الٰہی کی پیروی میں ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے تھے اگر ان کو ذاتی اغراض پوری ہوتی دکھائی نہ دیں تو وہ احکام الٰہی کو یا تو بدل دیتے ہیں یا ان سے بغاوت اختیار کرتے ہیں۔ یہاں بھی یہی کہا گیا ہے کہ ذاتی منفعت اور حسد کی خاطر انہوں نے اپنی جانوں کو یعنی اپنے آپ کو بیچ ڈالا یعنی اپنی فلاح اور نجات کو اپنے غلط رویہ پر قربان کردیا۔ ہوا یہ کہ جب آنے والا بنی ان کے علاوہ دوسری قوم میں پیدا ہوا تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–96
آیات 87- 96
اسرار و معارف
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی ، ایک لائحہ عمل ، پوری زندگی کا پروگرام اور ایسا جو دنیا وآخرت ہر دو عالم کی کامیابی کا ضامن ہو دیا۔ انسان کی ساری سوچ بچار ، ساری تگ ودو اور انتخاب واسمبلیاں صرف اس لئے ہیں کہ زندگی بسر کرنے کا بہترین طریقہ تلاش کیا جائے مگر ہم نے آسمان نازل فرما کر اللہ کی طرف سے تمہیں ایک مکمل ضابطہ حیات دیا اور ساتھ ایک الوالعزم رسول بھیجا کہ صرف کتاب نافع نہیں جب تک دل پاک ہو کہ اس کی تعلیمات کو قبول نہ کرنے لگ جائیں جو صحبت رسول کا حاصل ہے اور جب یہ استعداد حاصل ہو تب بھی کتاب اللہ کی شرح نبی اور رسول ہی کرسکتا ہے کہ ہمیشہ…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی انہوں نے جو قرآن اور محمد ﷺ پر ایمان لانے سے انکار کیا اس کی وجہ ان کا صرف یہ حسد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری ان میں کیوں نہ بھیجا اور اپنے فضل سے ایک ان پڑھ قوم عرب کو کیوں نوازا ؟ ان کے حسد کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اللہ کا وہ ہر غضب مول لیا۔ پہلا غضب اس وجہ سے کہ انہوں نے تورات میں تحریفیں کیں انجیل اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کیا اور دوسرا غضب اس وجہ سے کہ وہ قرآن اور محمد ﷺ پر محض صد اور حسد کی وجہ سے ایمان نہ لائے اسی طرح یہود نے اور بھی بہت سے جرائم کے تھے جن کی وجہ سے ان پر اللہ کا غضب اترا ہے پس غضب علی غضب کے معنی پہلا اور دوسرا غضب نہیں ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں…
Read the full tafseer →بئسما مرکب ہے بئس اور ما سے۔ بئس فعل ذم ہے۔ اس کی گردان نہیں آتی۔ بمعنی برا ہے اصل میں بئس تھا۔ باب سمع سے ۔ عین کلمہ کے اتباع میں اس کے فاء کلمہ کو کسرہ دیا گیا۔ پھر تخفیف کے لئے عین کلمہ کو ساکن کرلیا گیا بئس ہوگیا۔ ما موصولہ ہے بمعنی الذی اور بئس کا فاعل ہے۔ پس بری ہے وہ چیز جس کے لئے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا۔
ان یکفروا بما انزل اللہ : ان مصدریہ ہے۔
بغیا۔ مفعول لہ ہے یکفروا کا۔ معنی بوجہ سرکشی ، زیادتی ، ضد، حسد
ان ینزل اللہ۔۔ من عبادہ ان مصدریہ ہے یہ جملہ بغیا کا مفعول لہ ہے۔ مطلب یہ کہ جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنی جانو ؓ کا سودا چکایا وہ بہت بری ہے۔ اور سودا کیا تھا ؟ یہ کہ انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
لغات القرآن : آیت نمبر 89 تا 93
یستفتحون (وہ فتح مانگتے تھے) ۔ عرفوا (انہوں نے پہچان لیا) ۔ بئسما (وہ برا ہے) ۔ بغی (ضد ) ۔ مھین (ذلیل ورسوا کرنے والا) ۔ وراء (سوا، پیچھے) ۔ العجل (بچھڑا) ۔ رفعنا (ہم نے بلند) ۔ اسمعوا (تم سنو) سمعنا (ہم نے سن لیا) ۔ عصینا (ہم نے نافرمانی کرلی، نہیں مانا) ۔ اشربوا (رچ بس گیا (پلا دیا گیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 89 تا 93
نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور قرآن مجید سے متعلق یہودیوں کی کتابوں میں بہت سے پیشین گوئیاں اور نشانیاں بتا دی گئی تھیں اسی لئے وہ نبی آخر الزماں ﷺ کا بڑی شدت اور بےچینی سے انتظار کر رہے تھے۔ جب کبھی ان کی کفار اور مشرکین سے جنگ ہوتی تو وہ…
Read the full tafseer →یہ بات علم الہی میں قرار پاچکی ہے کہ قیامت کے دن ہر صاحب نخوت آدمی کو اس طرح کا عذاب ہوگا جس میں اس کی ذلت ہو ۔
Read the full tafseer →[62] یعنی وحی و رسالت۔
Read the full tafseer →معیار نبوت :
(ف 2) بفی الجرح محاورہ ہے جس کے معنی ہیں ، زخم بگڑ گیا ، بنی اسرائیل کے مرض انکار کو بھی بگڑے ہونے زخم سے تشبیہہ دی ہے یعنی ان کی ذہنیت ناقابل اصلاح ہے اور اچھے سے اچھا مرہم بھی ان کے ناسور کے لئے مفید نہیں ۔
اعتراض یہ تھا ان کا کہ کیوں نبوت کسی اسرائیل کو نہیں ملی ؟ اور اس کے لئے مکہ کے ایک یتیم ونادار انسان کو کیوں منتخب کیا گیا کیا بنی اسرائیل کے گھرانے سے برکت اٹھ گئی ہے یا پھر کوئی اور سرمایہ دار اس کا مستحق نہ تھا ؟ قرآن حکیم نے ان آیات میں اس کا جواب یہ دیا کہ نبوت اللہ کا ایک فضل ہے ، یہ موہبت کبری ہے جو خاص حالات میں خاص اشخاص کو دی جاتی ہے ، اس میں کسب واکتساب کو اور…
Read the full tafseer →ف 2 وہ چیز بہت بری ہے جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو ریدا اور وہ بری چیز یہ ہے کہ انہوں نے محض حسد کی بنا پر اس چیز سے انکار کردیا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے ۔ یعنی قرآن اور اس حسد کی وجہ بھی یہ ہے کہ وہ قرآن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنے بندوں میں سے جس بندے پر چاہا کیوں نازل فرمایا لہٰذا یہ لوگ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے اور ان کافروں کو ایسا عذاب ہوگا جو ان کو سخت ذلیل کرنیوالا ہے۔ (تیسیر)
ہم نے اوپر عرض کیا تھا کہ بیع اور شرا کے ال فاظ کثرت استعمال کیو جہ سے بعض دفعہ جبکہ مقابلہ میں کوئی سکہ نہ ہو ایک دوسرے پر بول دیئے جاتے ہیں۔ اسی بنا پر بعض مفسرین نے یہاں اشترا کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
ف 2۔ ایک غضب تو کفر پر تھا ہی دوسرا غضب ان کے حسد پر ہوگیا۔ اور عذاب مھین کی قید سے تخصیص کفار کی ہوگئی کیونکہ مومن عاصی کو عذاب تطہیر عن الذنوب کا ہوگا۔
Read the full tafseer →انکار کا سبب دراصل ان کی سرکشی تھی :
177: ان کے انکار کا باعث یہ نہیں تھا کہ وہ سچائی کو پہچان نہ سکتے تھے بلکہ انکار کا اصل سبب ان کی سرکشی اور ان میں سے بعض کی توقعات کے خلاف دعویٰ نبوت تھا۔ کیونکہ ان میں سے بعض لوگوں کی توقعات یہ تھیں کہ وہ نبی ان کی قوم میں سے ہوگا ، ان کے غلط عقائد اور بےجا تواہمات کی تائید کرے گا ، اور اس کا مذہب ان کی خواہشات و مالوفات کے مطابق ہوگا۔ مگر جب دیکھا کہ وہ نبی اسمعٰیل کے خاندان میں پیدا ہوا ہے ، ان کے تمام عقائد باطلہ اور نظریات فاسدہ کی مخالفت کرتا ہے تو ان کے بغض و حسد کی کوئی حد نہ رہی۔
گویا باوجود شناخت کرنے کے ان کے انکار کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں…
Read the full tafseer →Prophethood cannot be earned through one's own efforts or one's own merit; it is a special grace which Allah bestows on whomsoever He likes. But the Jews were so envious and malicious that they denied the Holy Prophet ﷺ and the Holy Qur'an out of sheer spite. In doing so, they were questioning the will of Allah Himself. Thus, they earned divine wrath in two ways - firstly, for denying a true prophet; and secondly؛ for their envy and malice.
The Holy Qur'an says that the Jews will have to undergo a punishment which would involve not only pain, but also disgrace and abasement. The latter…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
96. Another possible rendering of the same verse is: 'And how evil is that for the sake of which they have sold themselves', i.e. for the sake of which they have sacrificed their ultimate happiness and salvation.
97. They had longed for the promised Prophet to arise from among their own people. But when he arose among a diffirent people, a people they despised, they decided to reject him. It was as if they thought God was duty-bound to consult them in appointing Prophets, and since in this case He had failed to do so they felt they had a right to be offended by God's 'arbitrariness'.
Read the full tafseer →