انکار کا سبب
جب کبھی یہودیوں اور عرب کے مشرکین کے درمیان لڑائی ہوتی تو یہود کہا کرتے تھے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ کی سچی کتاب لے کر اللہ عزوجل کے ایک عظیم الشان پیغمبر تشریف لانے والے ہیں ہم ان کے ساتھ مل کر تمہیں ایسا قتل و غارت کریں گے کہ تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیا کرتے تھے کہا اے اللہ تو اس نبی کو جلد بھیج جس کی صفتیں ہم توراۃ میں پڑھتی ہیں تاکہ ہم ان پر ایمان لا کر ان کے ساتھ مل کر اپنا بازو مضبوط کر کے تیرے دشمنوں سے انتقام لیں۔ مشرکوں سے کہا کرتے تھے کہ اس نبی کا زمانہ اب بالکل قریب آگیا ہے لیکن جس وقت حضور مبعوث ہوئے تمام نشانیاں آپ میں دیکھ لیں۔ پہچان بھی…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 95
نبی ﷺ کی آمد سے پہلے یہودی بےچینی کے ساتھ اس نبی کے منتظر تھے جس کی بعثت کی پیشین گوئیاں ان کے انبیا نے کی تھیں۔ دُعائیں مانگا کرتے تھے کہ جلدی سے وہ آئے تو کفار کا غلبہ مٹے اور پھر ہمارے عروج کا دور شروع ہو۔ خود اہل مدینہ اس بات کے شا ہد تھے کہ بعشت محمدی ﷺ سے پہلے یہی ان کے ہمسایہ یہودی آنے والے نبی کی اُمّید پر جیا کرتے تھے اور ان کا آئے دن کا تکیہ کلام یہی تھا کہ ”اچھا، اب تو جس جس کا جی چاہے ہم پر ظلم کرلے، جب وہ نبی آئے گا تو ہم ان سب ظالموں کو دیکھ لیں گے۔“ اہل مدینہ یہ باتیں سنے ہوئے تھے، اسی لیے جب انہیں نبی ﷺ کے حالات معلوم ہوئے تو انہوں نے آپس میں کہا کہ دیکھنا،…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور جب ان کو (ایک) ایسی کتاب پہنچی (یعنی قرآن مجید) جو منجانب اللہ ہے (اور) اس (کتاب) کی (بھی) تصدیق کرنے والی ہے (جو پہلے سے) ان کے پاس ہے (یعنی توراۃ) حالانکہ اس کے قبل (خود) بیان کرتے تھے (اور) کفار سے (یعنی مشرکین عرب سے کہ ایک نبی آنے والے ہیں اور ایک کتاب لانے والے ہیں مگر) پھر جب وہ چیز آپہنچی جس کو وہ (خوب جانتے) پہچانتے ہیں تو اس کا (صاف) انکار کر بیٹھے سو (بس) خدا کی مار ہو ایسے منکروں پر (کہ جان بوجھ کر محض تعصب کے سبب انکار کریں)
فائدہقرآن کو جو مصدق توراۃ فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ توراۃ میں بعثت محمدیہ اور نزول قرآن کی جو پیشینگوئیاں تھیں ان سے ان کا صدق ظاہر ہوگیا…
Read the full tafseer →کتاب سے یہاں مراد قرآن مجید ہے جو ان پیشین گوئیوں کی تصدیق کرتا ہوا نازل ہوا تھا جو اس کے بارے میں یہود کے صحیفوں میں وارد تھیں۔ اس پہلو سے قرآن کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا احسان خود یہود پر تھا کہ اس نے ان کے صحیفوں کی بہت سے باتوں کو سچا ثابت کیا۔ اس احسان کا حق تو یہ تھا کہ وہ سب سے آگے بڑھ کر اس کتاب عزیز کو ہاتھوں ہاتھ لیتے۔ لیکن انہوں نے اس کو قبول کرنے کے بجائے ضد اور حسد کے سبب سے اس کی مخالفت کی راہ میں سبقت کی۔ قرآن مجید کو پچھلے صحیفوں کے مصدق کہنے کی حقیقت اسی سورہ کی آیت ۴۱ کی تفسیر میں ہم واضح کر چکے ہیں۔
قرآن اور نبی آخرالزمان ﷺ کی پیشین گوئیاں چونکہ یہود کے صحیفوں میں موجود…
Read the full tafseer →89۔ 1 (یَسْتَفْتِحُوْنَ) کے ایک معنی یہ ہیں غلبہ اور نصرت کی دعا کرتے تھے، یعنی جب یہود مشرکین سے شکست کھا جاتے تو اللہ سے دعا کرتے کہ آخری نبی جلد مبعوث فرما تاکہ اس سے مل کر ہم ان مشرکین پر غلبہ حاصل کریں۔
یعنی استفتاح بمعنی استنصار ہے۔ دوسرے معنی خبر دینے کے ہیں۔ ای یخبرونھم بانہ سیبعث یعنی یہودی کافروں کو خبر دیتے کہ عنقریب نبی کی بعثت ہوگی۔ (فتح القدیر) لیکن بعثت کے بعد علم رکھنے کے باوجود نبوت محمدی پر محض حسد کی وجہ سے ایمان نہیں لائے جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔
Read the full tafseer →61: جب یہودیوں کی بت پرستوں سے جنگ ہوتی یابحث و مباحثہ ہوتا تو وہ یہ دعائیں مانگا کرتے تھے کہ یا اللہ ! آپ نے تورات میں جس آخری نبی کی خبر دی ہے اسے جلدی بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کے ساتھ مل کر بت پرستوں پر فتح حاصل کریں، مگر جب وہ نبی (حضرت محمد ﷺ تشریف لے آئے تو وہ حسد میں مبتلا ہوگئے کہ انہیں بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل میں کیوں بھیجا گیا ؟ چنانچہ یہ جان لینے کے باوجود کہ آنحضرت ﷺ پر وہ ساری علامتیں صادق آتی ہیں جو تورات میں نبی آخرالزماں کی بیان کی گئی ہیں انہوں نے آپ کو ماننے سے سے انکار کردیا۔
Read the full tafseer →ان کی جانب سے یہ کافرانہ رویہ اختیار کرنا اس لئے زیادہ قبیح تھا کہ وہ اس کا انکار کررہے تھے ۔ جس کے انتظار میں وہ صدیوں تک بیٹھے ہوئے تھے اور وہ یہ امید لگائے ہوئے تھے کہ اس کے ذریعے وہ تمام کفار پر غلبہ پالیں گے ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اس آنے والے نبی کے ذریعے وہ فتح اور نصرت حاصل کریں گے ۔ اور جب وہ اس کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے تشریف لائے ، جو ان کے پاس تھی تو انہوں نے کفر کی راہ لی ۔
وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ
” اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف…
Read the full tafseer →7 ان کے پاس جو کتاب آئی وہ قرآن ہے اور جو کتاب ان کے پاس پہلے سے تھی وہ تورات ہوئی۔ قرآن کے اترنے سے پہلے جب یہودی کافروں سے مغلوب ہوتے تو خدا سے دعا مانگتے کہ ہم کو نبی آخرالزماں اور جو کتاب ان پر نازل ہوگی ان کے طفیل سے کافروں پر غلبہ عطا فرما۔ جب حضور ﷺ پیدا ہوئے اور سب نشانیاں بھی دیکھ چکے تو منکر ہوگئے اور ملعون ہوئے۔
Read the full tafseer →آیت 89 وَلَمَّا جَآءَ ہُمْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ
مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ لا جو اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود ہے
یہ وضاحت قبل ازیں کی جا چکی ہے کہ قرآن کریم ایک طرف تورات اور انجیل کی تصدیق کرتا ہے اور دوسری طرف وہ تورات اور انجیل کی پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر آیا ہے۔
وَکَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ج
ان کا حال یہ تھا کہ وہ اس کی آمد سے پہلے اللہ کی آخری کتاب اور آخری نبی ﷺ کے حوالے اور واسطے سے اللہ تعالیٰ سے کافروں کے خلاف فتح و نصرت کی دعائیں کیا کرتے تھے۔ یہود کے تین قبائل بنو قینقاع ‘ بنو نضیر اور بنو قریظہ مدینہ میں آکر…
Read the full tafseer →105 آنے والے نبی کے واسطہ سے یہود کا نصرت طلب کرنا :۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل یہی یہود جب عرب قبائل سے، جنہیں یہ لوگ ازراہ حقارت امی اور اجڈ سمجھتے تھے، پٹتے تو اکثر اللہ تعالیٰ سے یوں دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ ! اپنے موعود نبی آخر الزمان کو مبعوث فرما کہ ہم اس کے ساتھ مل کر ان کافروں پر فتح حاصل کریں۔ پھر جب وہ نبی موعود آگیا اور انہوں نے اسے کتاب اللہ (تورات) میں مذکور نشانیوں کے مطابق پوری طرح پہچان بھی لیا تو اس کا انکار کردیا۔ اور حقیقتاً کافر تو یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے اور جن لوگوں کو یہ ان پڑھ اور اجڈ کہا کرتے تھے انہوں نے یہود ہی سے سنی ہوئی باتوں کے مطابق نبی…
Read the full tafseer →308 ۔ (کبیر) (آیت) ” کتب من عند اللہ “ یعنی قرآن۔ (آیت) ” لما معھم “ یعنی توریت۔ قرآن مجید نے اپنی یہ صفت جابجا بیان کی ہے اور اس پر زور دیا ہے کہ بجائے خود صادق ہونے کے ساتھ ساتھ وہ پچھلی آسمانی کتابوں کا مصدق بھی ہے اور ان پچھلی کتابوں میں سب سے زیادہ مشہور توریت ہے۔
309 ۔ (کہ عنقریب آخری نبی نجات دہندہ کا ظہور ہونے والا ہے) (آیت) ” الذین کفروا “ سے مراد اس سیاق میں مشرکین عرب ہیں۔ ایک نومسلم انصاری صحابی ؓ سے روایت ہے کہ زمانہ قبل اسلام میں جب ہم یہود کو شکست دیتے تھے تو وہ کہا کرتے کہ اچھا ٹھیر جاؤ عنقریب ایک نبی ظاہر ہونے والا ہے۔ ہم اس کے ساتھ ہو کر تمہیں قتل کرکے رکھ دیں گے۔ (سیرۃ ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
وَلَمَّا جَآءَھُمْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللہِ ، (الآیۃ) آپ ﷺ کی تشریف آوری سے قبل یہود بڑی بےچینی اور شدت سے اس نبی آخر الزمان کے منتظر تھے، جس کی بعثت کی پیش گوئیاں ان کے انبیاء نے کی تھیں اور ان کے واسطے دعائیں مانگا کرتے تھے، کہ جلدی سے وہ آئے تو کفار کا غلبہ ختم ہوا اور ہمارے عروج کا دور شروع ہو، خود اہل مدینہ اس بات کے شاہد تھے کہ بعثت محمدی ﷺ سے پہلے بھی ان کے ہمسایہ یہودی آنے والے نبی کی امید پر جیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ تم جتنا چاہو ہم کو ستالو عنقریب ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے ہم اس کے ساتھ ہو کر ظالموں سے سب حساب چکا لیں گے، مدینہ کے مشرک یہ باتیں سن چکے تھے، اسی لئے جب نبی ﷺ…
Read the full tafseer →وَلَمَّا جَاۗءَھُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ ( اور جب پہنچی ان کے پاس خدا کی طرف سے کتاب جو سچا بتاتی ہے اس کتاب کو جو ان کے پاس ہے) کتاب سے مراد قرآن شریف ہے لِمَا مَعَھُم میں ما سے مراد تو رات ہے اور لما کا جواب محذوف ہے اور دوسرے لما کا جواب اس پر دلالت کرتا ہے۔
وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ ( اور وہ پہلے سے) یعنی نبی ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے۔
يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ( کافروں پر فتح بھی مانگا کرتے تھے) یعنی رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل کتاب کی یہ حالت تھی کہ مشرکین عرب کے مقابلہ میں حضور کے وسیلے اور برکت سے مدد طلب کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ…
Read the full tafseer →(89) جب ان لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب آئی ہے جو اس کتاب کے جو کہ ان کے پاس ہے توحید اور رسول اکرم ﷺ کے اوصاف اور اوصاف اور آپ ﷺ کی صفت اور بعض شرعی امور میں موافقت کرتی ہے تو اس کا انکار کرتے ہیں حالانکہ رسول اکرم ﷺ کی بعثت اور قرآن حکیم کے نازل ہونے سے پہلے رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کے ذریعے اپنے دشمن قبیلوں اسد، غطفان ومزنیہ وجہینہ کے خلاف مدد طلب کیا کرتے تھے اور جس وقت رسول اکرم ﷺ آئے اور یہ لوگ آپ کے صفت واصاف سے سے بخوبی واقف تھے تو انہوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا ان یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کا غصہ اور ناراضگی ہے۔
شان نزول : (آیت) ’ وکانوا من قبل یستفتحون (الخ)
اس آیت کے…
Read the full tafseer →يَسْتَفْتِحُوْنَ) فتح و نصرت طلب کرتے تھے، یعنی نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے جب یہودی عرب کے مشرکین سے مغلوب ہوتے تو وہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! نبی آخر الزمان جلد ظاہر ہوں، تاکہ ہم ان کے ساتھ مل کر ان کافروں پر غلبہ حاصل کریں۔ (طبری) ”يَسْتَفْتِحُوْنَ“ کا دوسرا معنی ہے : ”یَفْتَحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا“ (فَتَحَ عَلَیْہِ) کا معنی ہے خبر دینا اور سین اور تاء مبالغہ کے لیے ہے، یعنی کافروں کو خوب کھول کر بتاتے تھے۔ (زمخشری)
عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہود، رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کے ساتھ مل کر اوس اور خزرج پر فتح و غلبہ کی دعا کیا کرتے تھے، جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو عرب میں سے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 89
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولما جاء ھم یعنی یہود۔ (کتاب) یعنی قرآن۔ من عند اللہ مصدقٌ یہ کتاب کی صفت ہے اور غیر قرآن میں اس کو حال کے اعتبار سے منصوب پڑھنا بھی جائز ہے جس طرح حضرت ابی کے مصحف میں نصب کے ساتھ ہے (3) لما معھم۔ یعنی تورات، انجیل، یعنی قرآن انہیں بتاتا ہے جو انجیل اور تورات میں ہے وکانوا من قبل یستفتحون یعنی وہ مدد طلب کرتے ہیں الاستفتاح کا معنی مدد طلب ہے۔ استفتحت، میں نے مدد طلب کی۔
حدیث پاک میں ہے : نبی کریم ﷺ محتاج، کمزور مہاجرین کے وسیلہ سے مدد طلب کرتے تھے یعنی ان کی دعاؤں اور نمازوں کے وسیلہ سے مدد طلب کرتے تھے (4) ۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فعسی اللہ ان…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولما جاء ھم کتب من عند اللہ “ یعنی وہ قرآن جب ان کے پاس آیا لفظ آیت ” مصدق لما معھم “ (یعنی تورات اور انجیل کی بھی تصدیق کرنے والا جو ان کے پاس ہے)
واما قولہ تعالیٰ : وکانوا من قبل یسفتحون :
(2) امام ابن اسحاق ابن جریر، ابن المنذر، ابراہیم اور بیہقی نے دلائل میں عاصم بن عمر بن قتادہ انصاری سے روایت کیا ہے کہ مجھ سے ہمارے شیوخ نے بیان کیا کہ عربوں میں سے کوئی آدمی رسول اللہ ﷺ کی شان کو ہم سے زیادہ جاننے والا نہیں تھا۔ ہمارے ساتھ یہود رہتے تھے۔ اور وہ اہل کتاب تھے اور ہم بت پرست تھے اور جب ہم ان کو کوئی ناپسندیدہ چیز…
Read the full tafseer →وَلَمَّا جَاۗءَھُمْ : اور جب آئی ان کے پاس ] [ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ: اللہ کے پاس سے ایک تصدیق کرنے والی کتاب ] [ لِّمَا مَعَھُمْ ۙ: اس کی جو ان کے ساتھ ہے ] [ وَكَانُوْا : اس حال میں کہ وہ لوگ ] [ مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [ يَسْتَفْتِحُوْنَ : فتح مانگا کرتے تھے ] [ عَلَي الَّذِيْنَ : ان پر جنہوں نے ] [ كَفَرُوْا ښ: کفر کیا ] [ فَلَمَّا جَاۗءَھُمْ : تو جب آیا ان کے پاس ] [ مَّا عَرَفُوْا : وہ جس کو انہوں نے پہچانا ] [ كَفَرُوْا بِهٖ ۡ: تو انہوں نے انکار کیا اس کا ] [ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ : تو اللہ کی رحمت سے دوری ہے ] [ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ : انکار کرنے والوں پر ]
Read the full tafseer →یہودیوں نے جانتے بوجھتے ہوئے عناد اور ضد کی وجہ سے اسلام قبول نہیں کیا
پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مدینہ منورہ میں یہودی اس لیے آکر آباد ہوگئے تھے کہ نبی آخر الزمان ﷺ کی بعثت ہوگی تو ہم ان کا اتباع کریں گے۔ یہ لوگ اپنے کو موحد سمجھتے تھے اور یہ خیال کرتے تھے کہ ہم دین سماوی کے حامل ہیں، اوس اور خزرج کے قبیلے بھی یمن سے آکر مدینہ منورہ میں آباد ہوئے تھے۔ یہ لوگ بت پرست مشرک تھے۔ یہودیوں سے ان لوگوں کی جنگ ہوتی رہتی تھی اور یہودی ان سے کہا کرتے تھے کہ نبی آخر الزمان ﷺ تشریف لائیں گے ان کی بعثت کا زمانہ قریب آچکا ہے ہم ان پر ایمان لا کر ان کے ساتھ ہو کر تم سے جہاد کریں گے اور اس وقت تمہارا ناس کھو دیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
شناعت چہار دہم (14)
قال تعالیٰ وقالوا قلوبنا غلف۔۔۔ الی۔۔۔ فقلیلا ما یؤمنون
اور ان کے غرور اور تکبر کا یہ عالم ہے کہ خدا کے پیغمبروں سے بطور فخریہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف میں محفوظ ہیں سوائے اپنے دین کے کسی نئی بات کا اثر ہمارے دلوں تک نہیں پہنچتا یعنی ہہم اپنے دین پر نہایت پختہ اور مضبوط ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ وجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے انکار اور تکذیب کی وجہ سے ان پر لعنت فرمائی ہے اور اپنی رحمت اور عنایت سے دور ڈال دیا ہے اس لیے حق بات ان پر اثر نہیں کرتی اور ان کے دل حق اور نصیحت کو قبول نہیں کرتے۔ اور حق سے متنفر اور بیزار ہیں یہ غلاف نہیں بلکہ اللہ کی لعنت کی نشانی اور…
Read the full tafseer →175 کتاب سے مراد قرآن ہے اور تنوین اظہار عظمت کے لیے ہے ھوا القرآن وتنکیرہ للتفخیم (ابو السعود ص 617 ج 1) مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ ۔ مَا مَعَھُمْ سے مراد تورات ہے۔ یعنی قرآن مسئلہ توحید میں، تردید شرک میں، نبوت میں اور دیگر کئی احکام میں تورات کی تائید وتصدیق کرتا ہے۔ قرآن کی صداقت کی ایک دلیل تو یہ ہوئی وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ ۔ یہاں یستفتحون بمعنی یفتحون ہے کیونکہ باب استفعال کی خصوصیت موافقت مجرم دے ہے جیسے استقر بھی بمعنی قر ہے اور فتح کے معنی بتانے اور خبر دینے کے بھی آتے ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے من قولھم فتح علیہ اذا علمہ ووقفہ کما فی قولہ تعالی۔ اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
کتاب اور رسول : اس سے پہلے بنی اسرائیل کے مختلف عہدوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ جن کی پابندی کرنے سے یہ قوم قاصر رہی۔ اب بعض دوسرے انعامات کا تذکرہ ہو رہا ہے جو بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے کیے اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہے ہیں کہ منجملہ ان انعامات کے ایک یہ بھی تھا کہ “ ولقد اتینا موسیٰ الکتب ” یعنی بیشک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب توراۃ عطا فرمائی ۔ تاکہ بنی اسرائیل اس کے ذریعے ہدایت اور راہنمائی حاصل کرسکیں۔ اور پھر یہ کہ صرف کتاب پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ کتاب میں مذکور احکام کی یاد دہانی کے لیے “ وقفینا من بعدہ بالرسول ” اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد پے در پے رسول بھیجے جو توراۃ کی تعلیم کی…
Read the full tafseer →وَلَمَّا جَاۗءَھُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ 0 ۙ وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا 0 ۚ ۖ فَلَمَّا جَاۗءَھُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِہٖ 0 ۡفَلَعْنَۃُ اللہِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ 89
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
ترکیب : قالوا فعل ھم ضمیر فاعل قلوبنا مبتداء غلف بضم لام جمع غلاف اور لام کا سکون بھی ہوسکتا ہے کیونکہ مضموم کو ساکن بعض مواقع میں عرب کردیتے ہیں (جیسا کہ کُتَبْ اور کُتُبْ ) خبر جملہ مقولہ ہے۔ بل اضراب کے لیے۔ بکفرھم کی ب لعن سے متعلق ہے فقلیلاً منسوب ہے، اس لیے کہ صفت ہے مصدر محذوف کی اور ما زائدہ ہے۔ ایایمانا قلیلا یؤمنون لما حرف شرط جاء فعل ھم مفعول کتب موصوف من عند اللہ مصدق صفت دوم اور بعض نے مصدقاً بھی پڑھا ہے۔ اس تقدیر پر یہ حال ہے پس یہ مجموعہ فاعل جواب شرط انکروہ محذوف ہے وکانوا فعل ضمیر فاعل من قبل متعلق ہے فعل سے۔ یستفتحون الخ جملہ خبر کانوا یہ سب جملہ حال ہے ضمیر ھم سے یا جملہ…
Read the full tafseer →وَلَمَّاجَآئَ ھُمْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ لا وََکَانُوْامِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ج فَلَمَّاجَآئَ ھُمْ مَّا عَرَفُوْاکَفَرُوْا بِہٖ ز فَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ۔
(اور جب آئی ان کے پاس ایک کتاب اللہ کے پاس سے مطابق ان پیشگوئیوں کے جو ان کے ہاں موجود ہیں اور وہ پہلے سے کافروں کے مقابلے میں فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ تو جب آئی ان کے پاس وہ چیز جس کو وہ جانے پہچانے ہوئے تھے تو انھوں نے اس کا انکار کردیا ایسے منکروں پر اللہ کی پھٹکا رہے) (البقرۃ : 89)
اس آیت کریمہ کے مطالب پر غور کیجئے تو اندازہ ہوگا کہ جب کوئی قوم اپنی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اہل کتاب ہمیشہ سے حق پہچاننے کے باوجود اس کے انکاری رہے ہیں اسی کا سبب ہے کہ ان پر اللہ کی پھٹکار برستی ہے۔
یہود اہل ثروت ہونے اور سماجی اثر و رسوخ رکھنے کے باوجود عرب میں سیاسی اقتدار سے محروم تھے۔ اس وجہ سے وہ عیسائیوں، مشرکوں اور دوسرے مذاہب والوں کے ساتھ بحث و تکرار کرتے ہوئے کہا کرتے کہ عنقریب نبی آخر الزماں ﷺ تشریف لانے والے ہیں ہم اس کی رہنمائی اور قیادت میں تم سب پر غلبہ پائیں گے۔ اس کے لیے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ اٹھا کر نہایت آہ وزاری سے دعائیں کیا کرتے تھے اور لوگوں کے سامنے حلف دیتے کہ ہمارے پاس آخری نبی تشریف لائے تو ہم اس کی نصرت و…
Read the full tafseer →وَلَمَّا جَآئَ ھُمْ : (جب پہنچی ان کے پاس) ھُمْ سے یہود مراد ہیں۔
کِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ : (کتاب اللہ کی طرف سے) کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔
مُصَدِّقٌ لِّمَامَعَھُمْ : (جو تصدیق کرتی ہے اس چیز کی جو ان کے پاس ہے) معھم سے مراد ان کی کتاب جو اس کے مخالف نہیں۔
وَکَانُوْا مِنْ قَبْلُ : (وہ اس سے پہلے) ۔ یعنی قرآن (سے پہلے)
معنی استفتاح :
یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا : (فتح مانگتے تھے کافروں پر) مشرکین سے لڑائی کے وقت اس طرح دعاء نصرت مانگتے تھے۔ اللّٰھم انصرنا بالنّبیّ المبعوث فی آخرالزمان الذی نجد نعتہ فی التوراۃ۔ اے اللہ تو ہماری مدد فرما۔ اس آخر الزمان نبی کے مبعوث ہونے کی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 89۔:
(آیت)” ولما جاء ھم کتاب من عند اللہ “ کتاب سے مراد قرآن کریم۔ ہے (آیت)” مصدق لما معھم “ یعنی تورات ” وکانوا “ ‘ یعنی یہود (تھے) (من قبل) حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے ۔” یستفتحون “ نصرت طلب کرتے (آیت)” علی الذین کفروا “ مشرکین عرب پر اور یہ اس طرح جب کوئی بات ان کو غم میں ڈالتی یا دشمن ان پر چڑھ دوڑتا تو وہ کہتے یا اللہ ! ہماری اس نبی آخر الزمان ﷺ میں بھیجے ہوئے کی برکت سے نصرت فرما جس کا بیان ہم تورات میں پاتے ہیں پس ان کی نصرت کی جاتی تھی اور مشرک دشمنوں کو کہتے تھے کہ اس نبی کی تشریف آوری کا وقت قریب آچکا ہے جو ہماری باتوں کی تصدیق لے کر آئیں گے ، تو ہم ان کے ساتھ مل کر تمہیں ایسا…
Read the full tafseer →آنحضرت ﷺ کے اوصاف تورات میں دیکھ کر یہود لوگ اللہ تعالیٰ سے نبی آخر الزمان کے جلد پیدا ہونے کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ اور جن مشرکوں سے ان کی مخالفت تھی ان سے یہ کہا بھی کرتے تھے کہ بہت جلد نبی آخر الزمان کا زمانہ آنے والا ہے اس وقت ہم ان نبی کے ساتھ ہو کر تم سے دل کھول کر لڑیں گے اور تم کو خوب قتل کریں گے۔ اور آگے آئے گا کہ یہ لوگ نبی آخر الزمان کے اوصاف ان کی کتاب تورات میں صاف صاف تفصیل سے موجود تھے۔ لیکن جب آنحضرت ﷺ پیدا ہوئے اور مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں آئے اور ان یہود نے قرآن کی آیتیں سنیں جن میں تورات کی تصدیق بھی موجود تھی۔ تو فقط اس حسد سے کہ یہ نبی ہم میں سے کیوں نہیں پیدا ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
مطلب یہ ہے کہ جب افضل المخلوقات اور خاتم النبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذریعے سے ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب آگئی جو ان تعلیمات کی تصدیق کرتی تھی جنہیں تورات نے پیش کیا، جس کا ان کو علم اور یقین تھا۔ علاوہ ازیں جاہلیت کے زمانے میں جب کبھی ان کے اور مشرکین کے درمیان جنگ ہوتی تو یہ دعا کیا کرتے تھے (اے اللہ) اس نبی کے ذریعے سے ہماری مدد فرما اور وہ مشرکین کو ڈرایا کرتے تھے کہ اس نبی کا ظہور ہونے والا ہے۔ وہ اس نبی کے ساتھ مل کر مشرکین کے خلاف جنگ کریں گے۔ جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب اور وہ نبی آگیا جس کو انہوں نے پہچان لیا تو حسد اور سرکشی کی وجہ سے اس کو ماننے سے انکار کردیا (اور انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–94
قول باری ہے : قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ عند اللہ خالصۃ من دون الناس قسموا الموت ان کنتم صدقین (ان سے کہو کہ اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لئے مخصوص ہے تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو) روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ” اگر یہود موت کی تمنا کرتے تو سب مرجاتے اور جہنم کے اندر اپنے اپنے ٹھکانے دیکھ لیتے اور اگر اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ مباہلہ کرنے والے اپنے گھروں سے نکل آتے تو واپس جا کر نہ تو وہ اپنے اہل و عیال کو پاتے اور نہ ہی کوئی مال ملتا۔ “ حضرت ابن عباس نے فرمایا :” اگر یہ لوگ موت کی تمنا کرتے تو انہیں موت کا…
Read the full tafseer →251 " یَسْتَفْتِحُوْنَ " کا مطلب اور اس سے مراد ؟ : " یَسْتَفْتِحُوْنَ " " فَتَحَ " سے ماخوذ ہے جس کے معنی کھولنے اور بیان کرنے کے آتے ہیں جیسا کہ اوپر آیت نمبر 76 میں انہی لوگوں کا یہ قول نقل فرمایا گیا ہے { أَتُحَدِّثُوْنَہُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ } ۔ " کیا تم ان [ مسلمانوں ] کو وہ کچھ بتا رہے ہو جو اللہ نے تم پر کھولا ہے " اور اسی بناء پر جب کوئی قاری کوئی آیت بھول جائے اور کوئی اس کو بتائے تو عربی محاورے میں اس کو یوں کہتے ہیں " فَتَحَ عَلٰی الْقَارِیْ اَیْ عَلَّمَہٗ الْاٰیۃ الَّتِیْ یَنْسَاہَا " یعنی فلاں شخص نے قاری صاحب کو فتحہ [ لقمہ ] دیا یعنی وہ آیت اس کو بتادی جس کو وہ…
Read the full tafseer →جان بوجھ کر کفر اختیار کرنا
تشریح : اس آیت میں یہود کے تعصب، ہٹ دھرمی اور جان بوجھ کر کفر پر قائم رہنے کے بارے میں بیان کیا جارہا ہے جب ان کے پاس قرآن مجید آیا جو کہ حضرت موسیٰ کی شریعت کی تصدیق کرتا تھا۔ قرآن مجید بار بار اعلان کرتا ہے کہ قرآن اللہ کی سچی کتاب ہے اور دوسری سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور اس بات کی وضاحت قرآن میں ملتی ہے کہ ان تمام پچھلی کتابوں میں سب سے زیادہ مشہور تورات ہے جو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی تھی۔ آخری نبی ﷺ کے آنے سے پہلے یہودی آپ ﷺ کی آمد کا بڑی بےچینی سے انتظار کرتے تھے اور جب اہل مدینہ سے شکست کھاتے تو کہتے کہ آخری نبی ﷺ ان کے لئے نجات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–96
آیات 87- 96
اسرار و معارف
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی ، ایک لائحہ عمل ، پوری زندگی کا پروگرام اور ایسا جو دنیا وآخرت ہر دو عالم کی کامیابی کا ضامن ہو دیا۔ انسان کی ساری سوچ بچار ، ساری تگ ودو اور انتخاب واسمبلیاں صرف اس لئے ہیں کہ زندگی بسر کرنے کا بہترین طریقہ تلاش کیا جائے مگر ہم نے آسمان نازل فرما کر اللہ کی طرف سے تمہیں ایک مکمل ضابطہ حیات دیا اور ساتھ ایک الوالعزم رسول بھیجا کہ صرف کتاب نافع نہیں جب تک دل پاک ہو کہ اس کی تعلیمات کو قبول نہ کرنے لگ جائیں جو صحبت رسول کا حاصل ہے اور جب یہ استعداد حاصل ہو تب بھی کتاب اللہ کی شرح نبی اور رسول ہی کرسکتا ہے کہ ہمیشہ…
Read the full tafseer →ف 5 نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے یہودی عرب کے مشرکین سے مغلوب ہوئے تو وہ دعا کیا کرتے تھے کہ نبی آخرالزمان جلد ظاہر ہوں تاکہ ہم ان کے ساتھ مل کر ان کافروں پر غلبہ حاصل کریں اس صورت میں یستفحون کے معنی نصرت اور غلبہ حاصل کرنا ہو نگے۔ ابن کثیر) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے معنی خبر دینے کے ہوں یعنی وہ کہا کرتے تھے کہ عنقریب نبی آخرالزمان ظاہر ہوگا اور ہم اس کے ساتھ مل کر تم پر غالب آئیں گے چناچہ عاصم بن عمربن قتادہ انصاری روایت کرتے ہیں ہیں کہ ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے عرب کے قبائل میں ہم سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق کوئی نہ جانتا تھا اس لیے کہ ہم یہودیوں کے ساتھ رہتے تھے اور ہو اہل کتاب تھے اور ہم بت…
Read the full tafseer →(2:89) لما۔ جب (شرطیہ ہے ، نیز ملاحظہ ہو : 2:214)
کتب یعنی قرآن ۔ نکرہ تعظیم کے لئے لایا گیا ہے۔
مصدق۔ اسم فاعل واحد مذکر، تصدیق مصدر (باب تفعیل) تصدیق کرنے والا۔ سچا ماننے والا۔ سچا کہنے والا۔
ما معہم۔ ما موصولہ معہم۔ صلہ (کتاب) جو ان کے پاس تھی۔ یعنی توراۃ۔
ولما جاء ہم کتب من عند اللہ مصدق لما معہم۔ جملہ شرطیہ ہے جواب شرط محذوف ہے۔ ای انکروہ انہوں نے اس سے انکار کردیا۔
وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا۔ یہ جملہ یا ضمیر فاعل کانوا سے حال ہے یا یہ جملہ معترضہ ہے۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا۔ حالانکہ وہ کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے (اس بنی کے وسیلہ سے)
من قبل۔ قبل اسم ظرف ہے۔ ظرف زمانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
لغات القرآن : آیت نمبر 89 تا 93
یستفتحون (وہ فتح مانگتے تھے) ۔ عرفوا (انہوں نے پہچان لیا) ۔ بئسما (وہ برا ہے) ۔ بغی (ضد ) ۔ مھین (ذلیل ورسوا کرنے والا) ۔ وراء (سوا، پیچھے) ۔ العجل (بچھڑا) ۔ رفعنا (ہم نے بلند) ۔ اسمعوا (تم سنو) سمعنا (ہم نے سن لیا) ۔ عصینا (ہم نے نافرمانی کرلی، نہیں مانا) ۔ اشربوا (رچ بس گیا (پلا دیا گیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 89 تا 93
نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور قرآن مجید سے متعلق یہودیوں کی کتابوں میں بہت سے پیشین گوئیاں اور نشانیاں بتا دی گئی تھیں اسی لئے وہ نبی آخر الزماں ﷺ کا بڑی شدت اور بےچینی سے انتظار کر رہے تھے۔ جب کبھی ان کی کفار اور مشرکین سے جنگ ہوتی تو وہ…
Read the full tafseer →یہود لوگ اللہ تعالیٰ سے نبی آخرالزمان ﷺ کے وسیلہ سے دعا کرتے تھے رسول اللہ ﷺ کے اوصاف توریت میں دیکھ کر یہود لوگ اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجات کے لئے حضور ﷺ کے وسیلہ سے دعا کرتے اور کامیاب ہوتے تھے اور اس طرح دعا کیا کرتے تھے : اللھٰم افتح علینا وانصرنا بالبنی الامی، ” یا رب ہمیں نبی امی ﷺ کے وسیلہ سے فتح ونصرت عطافرما “۔ اور جن مشرکوں سے ان کی مخالفت تھی ان سے کہتے تھے کہ بہت جلد نبی آخر الزماں کا زمانہ آنے والا ہے اس وقت ہم اس نبی ﷺ کے ساتھ ہو کر تم سے دل کھول کر لڑیں گے اور تم کو خوب قتل کریں گے ۔ لیکن جب آنحضرت ﷺ پیدا ہوئے تو فقط اس حسد سے کہ یہ نبی ﷺ ہم میں (بنی اسرائیل میں) کیوں نہیں پیدا…
Read the full tafseer →[61] نبی ﷺ سے پہلے یہودی بےچینی کے ساتھ اس نبی کے منتظر تھے جس کی پیشین گوئی تورات میں کی گئی تھی اور مشرکین کے مقابلے میں دعائیں مانگا کرتے تھے کہ جلد وہ نبی آئے تاکہ ہم اس کی تائید سے مشرکین پر غالب ہوں۔
Read the full tafseer →(ف 1) نزول قرآن سے پہلے یہودی ایک سرخ وسپید ” نبی کے منتظر تھے ، جس کے ہاتھ میں آتشین شریعت ہو ، بحری ممالک جس کی راہ تکیں ، جو فاران کی چوٹیوں پر سے چمکے ، دس ہزار قدوسی جس کے ساتھ ہوں ، مگر جب وہ گورا چٹا نبی صحرائے عرب کی جھلس دینے والی فضا میں ظہور پذیر ہوا ، جس کے ہاتھ میں آتشین شریعت تھی جس کی فتوحات سمندروں تک پہنچیں تو انہوں نے انکار کردیا ، حالانکہ اس سے پہلے وہ مخالفین سے ہمیشہ یہ کہتے کہ جب ہمارا موعود نبی آئے گا تو ہم غالب ہوجائیں گے اور ہماری موجودہ پستی بلندی سے بدل جائے گی ، قرآن حکیم پہلی کتابوں کا مصدق ہے ، وہ تمام صداقتوں کی تائید کرتا ہے ، تمام سچائیاں اس کے نزدیک قابل قبول…
Read the full tafseer →ف 1 اور جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان یہود کے پاس وہ کتاب آئی جو اس کتاب کی تصدیق کرنیوالی ہے جو ان کے پاس ہے یعنی توریت حالانکہ یہ اس قرآن کے نزول سے قبل کفار کے مقابلہ میں فتح طلب کیا کرتے تھے اور خدا تعالیٰ سے نصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے مگر جب وہ چیز جس کو یہ اچھی طرح جانتے اور پہچانتے ہیں آگئی تو اس کا انکار کر بیٹھے اور اس پر ایمان لانے سے منکر ہوگئے لہٰذا ایسے منکروں کو جو جانتے بوجھتے انکار کریں اللہ تعالیٰ کو پھٹکار اور لعنت ہو۔ (تیسیر)
پہلی کتاب سے مراد قرآن اور دوسری کتاب سے مراد توریت ہے تصدیق کا مطلب وہی ہے جو ہم اوپر عرض کرچکے ہیں یعنی قرآن توریت کے منجانب اللہ ہونے کی تصدیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
ف 1۔ اس باب میں ان پر تین حکم واجب تھے اول قتل نہ کرنا دوم اخراج نہ کرنا، سوم اپنی قوم میں سے کسی کو گرفتار وبندی دیکھیں تو روپیہ خرچ کرکے چھڑا دینا۔ سو ان لوگوں نے حکم اول ودوم کو ضائع کردیا تھا اور سوم کا اہتمام کیا کرتے تھے ضن مخالف قوموں کی امداد کا ذکر فرمایا ہے مراد ان قوموں سے اوس اور خزرج ہیں کہ اول بنی قریظہ کی موافقت میں بنی نضیر کے مخالف تھے اور خزرج بنی نضیر کی موافقت میں بنی قریظہ کے مخالف تھے گناہ اور ظلم دو لفظ لانے میں اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس میں دو حق ضائع ہوتے ہیں حق اللہ بھی کہ حکم الہی کی تعمیل نہ کی اور حق العبد بھی کہ دوسرے کو آزار پہنچا۔
Read the full tafseer →قرآن کریم کی تصدیق ان پر لازم آتی تھی لیکن تصدیق کی بجائے انکار کردیا :
175: جو مخرج کتاب مقدس یعنی تورات کا تھا وہی قرآن کریم کا بھی مخرج تھا یہی وجہ تھی قرآن کریم نے آتے ہی تورات کو کتاب ہدایت اور نور قرار دیا۔ کس قدر دیانت و امانت کی بات ہے کہ اس نے بنی اسرائیل کو بار بار چیلنج پر چیلنج کیا کہ اگر تم آج بھی تورات کے مطابق زندگی گزارنا شروع کرلو اور تورات کی تعلیم کو دل سے قبول کرلو تو تم میرا انکار کر ہی نہیں سکتے۔ تمہارا انکار کرنا میرا کیا بگاڑے گا ؟ جو بگڑے گا وہ سب تمہارا ہی بگڑے گا کیونکہ میرا انکار کر کے گویا تم نے اپنی کتاب کا انکار کیا۔ میں کیا ہوں ؟ اپنے سے پہلے کی آئی ہوئی کتابوں…
Read the full tafseer →The Torah تورات had in several places foretold the coming of the Holy Prophet ﷺ . In fact, the Jews themselves used to tell the Arabs that a new prophet and a new Divine Book was soon to come. But when the Holy Qur'an came down from Allah, and even when they had recognized its authenticity, the Jews denied it out of sheer spite.
The verse says that the Holy Qur'an confirms the Torah تورات it means that the Holy Qur'an is a concrete evidence of the truth of the prophecies made in the Torah تورات with regard to the coming of the Holy Prophet ﷺ and of the Holy Qur'an. One who believes in the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
94. They said, in effect, that they were so staunch in their beliefs that their convictions would remain unaffected regardless of what was said. Such a claim is the hallmark of those bigots whose minds are seized by irrational prejudice. Nothing can be a matter of greater shame for human beings than the so-called firmness of conviction which they often boast of. What can be more foolish than adherence to inherited beliefs and convictions when their falseness is established by overwhelmingly strong arguments?
95. Before the advent of the Prophet, the Jews were eagerly awaiting a Prophet whose…
Read the full tafseer →