خلف کے معنی
یہودیوں کا ایک قول یہ بھی تھا کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں یعنی یہ علم سے بھرپور ہیں اب ہمیں نئے علم کی کوئی ضرورت نہیں اس لئے جواب ملا کہ غلاف نہیں بلکہ لعنت الہیہ کی مہر لگ گئی ہے ایمان نصیب ہی نہیں ہوتا خلف کو خلف بھی پڑھا گیا ہے یعنی یہ علم کے برتن ہیں اور جگہ قرآن کریم میں ہے آیت (وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ وَفِيْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّمِنْۢ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ) 41۔ فصلت :5) یعنی جس چیز کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو اس چیز سے ہمارے دل پردے اور آڑ میں اور ہمارے دلوں کے درمیان پردہ ہے آڑ ہے ان پر مہر لگی…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 94
یعنی ہم اپنے عقیدہ و خیال میں اتنے پختہ ہیں کہ تم خواہ کچھ کہو، ہمارے دلوں پر تمہاری بات کا اثر نہ ہوگا۔ یہ وہی بات ہے جو تمام ایسے ہٹ دھرم لوگ کہا کرتے ہیں جن کے دل و دماغ پر جاہلانہ تعصّب کا تسلّط ہوتا ہے۔ وہ اسے عقیدے کی مضبوطی کا نام دے کر ایک خوبی شمار کرتے ہیں، حالانکہ اس سے بڑھ کر آدمی کے لیے کوئی عیب نہیں ہے کہ وہ اپنے موروثی عقائد و افکار پر جم جانے کا فیصلہ کرلے، خواہ ان کا غلط ہونا کیسے ہی قوی دلائل سے ثابت کردیا جائے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور وہ (یہودی طنزیہ طور پر) کہتے ہیں کہ ہمارے قلوب (ایسے) محفوظ ہیں (کہ اس میں مخالف مذہب کا جو اسلام ہے اثر ہی نہیں ہوتا تو مذہب پر ہم خوب پختہ ہیں حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ محفوظی اور پختگی نہیں ہے) بلکہ ان کے کفر کے سبب ان پر خدا کی مار ہے (کہ اسلام جو مذہب حق ہے اس سے نفور اور منسوخ مذہب پر مصر ہیں) سو بہت ہی تھوڑا سا ایمان رکھتے ہیں (اور تھوڑا ایمان مقبول نہیں پس وہ کافر ہی ٹھہرے)
فائدہیہ تھوڑا سا ایمان ان امور کے بابت ہے جو ان کے مذہب اور اسلام میں مشترک ہیں مثلاً خدا کا قائل ہونا قیامت کا قائل ہونا کہ ان امور کے وہ بھی قائل تھے لیکن خود نبوت محمدیہ اور قرآن کے کلام الہی…
Read the full tafseer →یہ قول یہود کی طرف سے بطور ایک عذرلنگ کے بھی ہوسکتا ہے اور بطور اظہار تکبر کے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ باتیں، جو پیغمبر پیش کرتے ہیں، ہمارے دل میں تو کسی طرح اترتی نہیں۔ اگر یہ خدا کی طرف سے ہیں تو خدا کے اختیار میں تو سب کچھ ہے۔ آخر وہ ہمارے دلوں کو ان باتوں کے لئے کھول کیوں نہیں دیتا۔
دوسری صورت میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہمارے دل ودماغ اس قسم کی لایعنی باتوں کے لئے نہیں بنے ہیں اس وجہ سے یہ کسی طرح بھی ہمارے دلوں میں نہیں دھنستی ہیں، اگر ان میں ذرا بھی معقولیت ہو تو معقول باتوں کے قبول کرنے کے معاملہ میں ہم سے بڑھ کر کون ہوسکتا ہے۔
قرآن مجید کے نظائر وشواہد ان دونوں ہی…
Read the full tafseer →88۔ 1 یعنی ہم پر اے محمد ﷺ تیری باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا جس طرح دوسرے مقام پر ہے۔ آیت (وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ) 41:5 ہمارے دل اس دعوت سے پردے میں ہیں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے۔
88۔ 2 دلوں پر حق بات کا اثر نہ کرنا، کوئی فخر کی بات نہیں۔ بلکہ یہ تو ملعون ہونے کی علامت ہے، پس ان کا ایمان بھی تھوڑا ہے (جو عنداللہ نامقبول ہے) یا ان میں ایمان لانے والے کم ہی لوگ ہوں گے۔
Read the full tafseer →60: ان کے اس جملے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی شیخی بگھارتے تھے کہ ہمارے دلوں پر ایک حفاظتی غلاف ہے جس کی وجہ سے کوئی غلط بات ہمارے دلوں میں گھر نہیں کرسکتی اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ وہ مسلمانوں کو اپنے آپ سے مایوس کرنے کے لئے طنزاً یہ کہتے تھے کہ آپ تو بس یہ سمجھ لو کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھا ہوا ہے اور ہمیں اسلام کی دعوت دینے کی فکر میں نہ پڑو۔
Read the full tafseer →یہاں آکر قرآن کریم کا انداز بیان عنیف وشدید ہوجاتا ہے اور بعض مقامات پر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا بجلی گررہی ہے یا آگ برس رہی ہے ۔ قرآن کریم ، کود ان کے اقوال اور ان کے تاریخی افعال میں ان کے سامنے رکھ کر ، انہیں اس طرح آڑے ہاتھوں لیتا ہے کہ بیچارے بالکل لاجواب ہوجاتے ہیں ۔ ان کے پاس کوئی حجت نہیں رہتی ۔ نہ ہی وہ کوئی معذرت پیش کرسکتے ہیں ۔ درحقیقت تو وہ ازروئے استکبار سچائی قبول کرنے سے اعراض کرتے تھے ۔ ان کے دلوں میں اسلام کے خلاف بغض بھرا ہوا تھا ، وہ مسلمانوں کو حقیر سمجھ کر ان سے دوری اختیار کئے ہوئے تھے ، انہیں یہ بات بےحد پسند تھی کہ ان کے علاوہ کوئی بھی یہ مقام بلند پائے اور ان کے…
Read the full tafseer →6 یہود اپنی تعریف میں کہتے تھے کہ " ہمارے دل غلاف کے اندر محفوظ ہیں ' بجز اپنے دین کے کسی کی بات ہم کو اثر نہیں کرتی۔ ہم کسی کی چاپلوسی ' سحر بیانی یا کرشمے اور دھوکے کی وجہ سے ہرگز اس کی متابعت نہیں کرسکتے۔ حق تعالیٰ نے فرمایا " وہ بالکل جھوٹے ہیں بلکہ ان کے کفر کے باعث اللہ نے ان کو ملعون اور اپنی رحمت سے دور کردیا ہے۔ اس لیے کسی طرح دین حق کو نہیں مانتے اور بہت کم دولت ایمان سے مشرف ہوتے ہیں "۔
Read the full tafseer →آیت 88 وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ط
ان کے اس جواب کو آیت 75 کے ساتھ ملایئے جو ہم پڑھ آئے ہیں۔ وہاں الفاظ آئے ہیں : اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَکُمْ تو اے مسلمانو ! کیا تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری بات مان لیں گے ؟ بعض مسلمانوں کی اس خواہش کے جواب میں یہود کا یہ قول نقل ہوا ہے کہ ہمارے دل تو غلافوں میں محفوظ ہیں ‘ تمہاری بات ہم پر اثر نہیں کرسکتی۔ اس طرح کے الفاظ آپ کو آج بھی سننے کو مل جائیں گے کہ ہمارے دل بڑے محفوظ ہیں ‘ بڑے مضبوط اور مستحکم ہیں ‘ تمہاری بات ان میں گھر کر ہی نہیں سکتی۔
بَلْ لَّعَنَہُمُ اللّٰہُ بِکُفْرِہِمْ
یہ ان کے اس قول پر تبصرہ ہے کہ ہمارے دل محفوظ ہیں اور…
Read the full tafseer →103 یہود کا قول کہ ہمارے دل غلاف میں ہیں :۔ انسان کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنی بری صفات کو بھی خوبصورت بنا کر دکھانے کی کوشش کرتا ہے اور حقیقت کا اعتراف کرلینا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ الا ماشاء اللہ یہی حالت یہودیوں کی تھی۔ وہ دین اسلام کو برحق سمجھ لینے کے باوجود اسے قبول تو اس لیے نہیں کرتے تھے کہ اس طرح ان کا مذہبی تفوق و اقتدار خطرہ میں پڑجاتا تھا بلکہ چھن جاتا تھا مگر بظاہر اسے یوں پیش کرتے تھے کہ ہمارے عقائد اتنے مضبوط ہیں کہ وہ کوئی نیا عقیدہ قبول نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دجل و فریب کی قلعی کھولتے ہوئے فرمایا : بات یوں نہیں بلکہ یہ اپنے کفر اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ملعون بن…
Read the full tafseer →305 ۔ (اور دعوت اسلام ہمارے اوپر کچھ اثر نہیں کرسکتی۔” یہود فخریہ اور علانیہ کہتے تھے کہ یہ ” نئے پیغمبر “ کچھ بھی کر ڈالیں، ہم ان کے کہے میں نہیں آنے کے۔ ” غلف “ ممکن ہے کہ جمع غلاف کی ہو۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ ہمارے قلوب گنجینہ علوم ہیں۔ معارف موسوی سے لبریز ہیں۔ ہمیں ضرورت کسی نئی تعلیم کے قبول کرنے کی نہیں۔ ھی جمع غلاف (راغب) اے ھی اوعیۃ للعلم تنبیھا انا لا نحتاج ان نتعلم منک فلنا غنیۃ بما عندنا (راغب) یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اغلف کی جمع ہو۔ اور اغلف کہتے ہیں غیر مختون کو، اس کو جس کا ختنہ نہ ہوا ہو۔ قیل ھو جمع اغلف (راغب) مستعارا عن الاغلف الذی لم یختن (کشاف) قیل واصلہ ذوالقلفۃ الذی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
آیات نمبر 87 تا 90
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی اور ان کے بعد پے در پے یکے بعد دیگرے رسول بھیجے اور عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو واضح معجزات عطا کئے مثلاً مردوں کو زندہ کرنا اور مادر زاد اندھوں کو بینا کرنا اور مبروص (کوڑھی) کو اچھا کرنا اور پاکیزہ روح (یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ ہم نے ان کی تائید کی (روح القدس) میں اضافت موصوف الی الصفت ہے، ای الروح المقدسۃ (قدس کہا) ان کے (نافرمانی سے) پاک ہونے کی وجہ سے (ان کی تائید بایں طور کی) کہ جہاں وہ جاتے تو حضرت جبرائیل بھی ساتھ رہتے، پھر بھی یہ لوگ راہ راست پر نہیں آئے، (لیکن) کیا یہ بات نہیں کہ جب بھی تمہارے پاس کوئی رسول…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ( اور کہتے ہیں ہمارے دل غلافوں میں ہیں) غلف جمع اغلف کی ہے اغلف وہ قلب ہے جس پر خلقی پر دہ پڑا ہوا ہو کہ اس کی وجہ سے نہ حق بات کو سنے اور نہ سمجھے اور دوسری جگہ اسی کی نظیر یہ آیت ہے وَ قَالُوْ قُلُوْبُنَا فِی اَکِنَّۃٍاور کہا کفار نے کہ ہمارے دل پر دوں میں ہیں) مجاہد اور قتادہ نے اسی طرح فرمایا ہے اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ غلف کی اصل غُلُفٌ ضمہ لام سے تھی پھر لام کی تخفیف کے لیے ساکن کردیا اور اعرج اور ابن عباس ؓ کی قرأت سے اس کی تائید ہوتی ہے کیونکہ ان دونوں حضرات نے غلف کو ضمہ لام سے پڑھا ہے۔ اس تقدیر پر غلف جمع غلام کی ہے اور معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ ہمارے…
Read the full tafseer →(88) اور اے محمد ﷺ ! یہ جماعت یہود آپ ﷺ کے علم اور فرمان کے متعلق یہ کہتی ہے کہ ہمارے دل ہر ایک علم کے نئے برتن ہیں اور ہمارے دل آپ ﷺ کے علم اور فرمان کو محفوظ نہیں کرسکتے، ان کے کفر کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دلوں پر مہر کردی ہے، ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لاتے ہیں، ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ نہ تھوڑی چیز پر ایمان لاتے ہیں اور نہ زیادہ پر۔
Read the full tafseer →غُلْفٌ ۭ یہ ”أَغْلَفُ“ کی جمع ہے، جیسے ”اَحْمَرُ“ کی جمع ”حُمْرٌ“ ہے، یعنی جو چیز غلاف (پردے) میں ہو، جیسے : ”رَجُلٌ اَغْلَفُ“ ”وہ آدمی جس کا ختنہ نہ ہوا ہو۔“ اور ”سَیْفٌ اَغْلَفُ“ وہ تلوار جو غلاف میں ہو۔ یہود کہا کرتے تھے کہ ہمارے دل غلاف میں محفوظ ہیں، ان پر تمہاری باتوں کا کچھ اثر نہیں ہوتا، فرمایا : (وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ) [ حٰم السجدۃ : 5] ”اور انھوں نے کہا ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے۔“ بعض علمائے تفسیر نے ”غُلْفٌ“ کے یہ معنی کیے ہیں کہ ہمارے دل علم و حکمت سے پر ہیں، کسی دوسرے علم کی ان میں گنجائش نہیں ہے۔ اس…
Read the full tafseer →آیت نمبر 88
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقالوا یعنی یہود قلوبنا غلف، غلفٌ لام کے سکون کے ساتھ ہے اس کی جمع اغلف ہے یعنی ہمارے دلوں پر پردے ہیں۔ یہ اس قول کی مثل ہے : قلوبنا فی اکنۃٍ مما تدعونا الیہ۔ (ہمارے دل غلافوں میں (لپٹے ہوئے) ہیں اس بات سے جس کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں) ۔ مجاہد نے کہا غلفٌ یعنی ان پر پردہ ہے (2) ۔ عکرمہ نے کہا : یعنی ان پر مہر لگی ہوئی ہے۔ اہل لغت نے حکایت کیا ہے : غلفت السیف، میں نے تلوار کے لئے غلاف بنایا۔ فقلبٌ اغلف یعنی ایسا دل جو فہم وتمیز سے پوشیدہ ہے۔ حضرت ابن عباس، اعرج اور ابن محیصن نے غلف لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اس کا معنی ہے ہمارے دل…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ دل کو پلٹ جانے کی وجہ سے قلب کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مختلف کیفیات میں بدلتا رہتا ہے۔
(2) امام طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ دل آپ اس طرح پڑھا کرتے تھے لفظ آیت ” وقالوا قلوبنا غلف “ تشدید کے ساتھ یہودی کہتے تھے کہ تم کس طرح ہم کو سکھاتے ہو ہمارے دل حکمت کے لیے غلاف نہیں یعنی حکمت کے لیے برتن ہیں۔
(3) ابن جریر ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقالوا قلوبنا غلف “ یعنی ہمارے دل علم سے بھرے ہوئے ہیں اس لیے ہمیں محمد ﷺ کے علم کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ اس کے علاوہ کسی اور علم کی۔
(4) عبد بن حمید…
Read the full tafseer →[ وَقَالُوْا : اور انہوں نے کہا ] [ قُلُوْبُنَا : ہمارے دل ] [ غُلْفٌ ۭغلاف میں بند ہیں ] [ بَلْ : (ہرگز نہیں) بلکہ ] لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ : اللہ نے رحمت سے دور کیا ان کو ] [ بِكُفْرِھِمْ : ان کے کفر کے سبب سے ] [ فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ : تو وہ لوگ تھوڑا سا ایمان لاتے ہیں ]
Read the full tafseer →یہودیوں کا کہنا کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں، اور اس کی تردید
یہودی اسلام کو قبول نہیں کرتے تھے اور خاتم النبیین ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تھے آپ کی سچائی کی علامات اور معجزات دیکھ کر بھی منحرف تھے اور اس گمراہی کو اپنے لیے کمال اور باعث فخر سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم ایمان لانے والے نہیں ہیں ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں اور پردے پڑے ہوئے ہیں کسی کی بات ہمارے دلوں میں اثر نہیں کرسکتی اور اپنے دین کے علاوہ ہم کوئی دوسرا دین قبول نہیں کرسکتے، اللہ تعالیٰ شانہ، نے ان کی تردید فرمائی۔ کہ یہ بات کو سنتے اور سمجھتے ہیں اور حق بھی جانتے ہیں لیکن حق سے ان کو تنفر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ملعون قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
شناعت چہار دہم (14)
قال تعالیٰ وقالوا قلوبنا غلف۔۔۔ الی۔۔۔ فقلیلا ما یؤمنون
اور ان کے غرور اور تکبر کا یہ عالم ہے کہ خدا کے پیغمبروں سے بطور فخریہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف میں محفوظ ہیں سوائے اپنے دین کے کسی نئی بات کا اثر ہمارے دلوں تک نہیں پہنچتا یعنی ہہم اپنے دین پر نہایت پختہ اور مضبوط ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ وجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے انکار اور تکذیب کی وجہ سے ان پر لعنت فرمائی ہے اور اپنی رحمت اور عنایت سے دور ڈال دیا ہے اس لیے حق بات ان پر اثر نہیں کرتی اور ان کے دل حق اور نصیحت کو قبول نہیں کرتے۔ اور حق سے متنفر اور بیزار ہیں یہ غلاف نہیں بلکہ اللہ کی لعنت کی نشانی اور…
Read the full tafseer →174 یہ نوع رابع کا تتمہ ہے اور موجودہ یہودیوں کا مقولہ ہے۔ غلف اغلف کی جمع اور اغلف اسے کہتے ہیں جس پر غلاف چڑھا ہوا ہو۔ مطلب یہ کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے تمہاری دعوت اور وعظ وتبلیغ کا اثر ان تک نہیں پہنچ سکتا۔ حضرت ابن عباس کی قرائت میں یہ لفظ غلف ہے جو غلاف کی جمع ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ہمارے دل تو پہلے ہی سے علم و حکمت سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہمیں محمد ﷺ اور قرآن کے علوم کی ضرورت نہیں۔ قال ابن عباس ای قلوبنا ممتلئۃ علما لا تحتاج الی محمد ﷺ ولا غیرہ (قرطبی ص 25 ج 1) بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِھِمْ ۔ بَل اضراب کے لیے ہے یعنی ایمان سے ان کی نفرت کی وجہ وہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
کتاب اور رسول : اس سے پہلے بنی اسرائیل کے مختلف عہدوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ جن کی پابندی کرنے سے یہ قوم قاصر رہی۔ اب بعض دوسرے انعامات کا تذکرہ ہو رہا ہے جو بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے کیے اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہے ہیں کہ منجملہ ان انعامات کے ایک یہ بھی تھا کہ “ ولقد اتینا موسیٰ الکتب ” یعنی بیشک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب توراۃ عطا فرمائی ۔ تاکہ بنی اسرائیل اس کے ذریعے ہدایت اور راہنمائی حاصل کرسکیں۔ اور پھر یہ کہ صرف کتاب پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ کتاب میں مذکور احکام کی یاد دہانی کے لیے “ وقفینا من بعدہ بالرسول ” اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد پے در پے رسول بھیجے جو توراۃ کی تعلیم کی…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ 0 ۭ بَلْ لَّعَنَہُمُ اللہُ بِكُفْرِھِمْ فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ 88
قلب
قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] .
( ق ل ب ) قلب
الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔
غلف
قوله تعالی: قُلُوبُنا غُلْفٌ [ البقرة/ 88] ، قيل : هو جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
ترکیب : قالوا فعل ھم ضمیر فاعل قلوبنا مبتداء غلف بضم لام جمع غلاف اور لام کا سکون بھی ہوسکتا ہے کیونکہ مضموم کو ساکن بعض مواقع میں عرب کردیتے ہیں (جیسا کہ کُتَبْ اور کُتُبْ ) خبر جملہ مقولہ ہے۔ بل اضراب کے لیے۔ بکفرھم کی ب لعن سے متعلق ہے فقلیلاً منسوب ہے، اس لیے کہ صفت ہے مصدر محذوف کی اور ما زائدہ ہے۔ ایایمانا قلیلا یؤمنون لما حرف شرط جاء فعل ھم مفعول کتب موصوف من عند اللہ مصدق صفت دوم اور بعض نے مصدقاً بھی پڑھا ہے۔ اس تقدیر پر یہ حال ہے پس یہ مجموعہ فاعل جواب شرط انکروہ محذوف ہے وکانوا فعل ضمیر فاعل من قبل متعلق ہے فعل سے۔ یستفتحون الخ جملہ خبر کانوا یہ سب جملہ حال ہے ضمیر ھم سے یا جملہ…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ط بَلْ لَّعَنَھَُمُ اللّٰہُ بِکُفْرِ ھِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ ۔
(اور وہ یہ کہا کرتے تھے کہ ہمارے دل تو بند ہیں، (نہیں) بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب سے ان پر لعنت کردی ہے تو شاذونادر ہی وہ ایمان لائیں گے) (البقرۃ : 88)
قُلُوْبُنَا غُلْفٌ کا مفہوم
جس آدمی یا جس قوم میں شرافت اور انسانیت کی معمولی رمق بھی ہو وہ کبھی پیغمبرانہ دعوت کے جواب میں یہ رویہ اختیار نہیں کرتا جو ان کا معمول بن گیا تھا۔ وہ کبھی تو مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہتے کہ تم جو بات کہتے ہو، ہوسکتا ہے وہ صحیح ہو، لیکن ہم کیا کریں وہ ہمارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہونے پاتی، دل و دماغ تو اللہ کے قبضے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل سے عہد لینے کے بعد اس کی یاد دہانی کے لیے مسلسل انبیاء مبعوث کیے گئے مگر یہ لوگ تکبر اور ظلم میں آگے ہی بڑھتے گئے۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے پختہ عہد سے انحراف، قومی جرائم اور اجتماعی ذلت کا احساس دلا کر بنی اسرائیل کو یاد کروایا گیا ہے کہ اپنی تاریخ کا ریکارڈ ذہن میں لاؤ۔ جب ہم نے تمہاری رہنمائی کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عنایت کی اور ان کے بعد اس عہد کی یاد دہانی اور ایفا کے لیے متواتر انبیائے کرام مبعوث فرمائے۔ یہاں تک کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) ایسے معجزات کے ساتھ مبعوث ہوئے کہ جن کے سامنے حاذق اطبا، معروف دانشور اور بڑے بڑے اہل علم طفل مکتب…
Read the full tafseer →غلف کی تفسیر :
وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ : ( اور کہا ہمارے دل غلافوں میں ہیں) غلْف جمع اغلاف ہے وہ دل ایسے انداز سے پیدا کیے گئے ہیں کہ جن کو کئی پردوں نے ڈھانپ رکھا ہے۔ جو محمد ﷺ لے کر آئے۔ وہ ان تک نہیں پہنچتا ہے۔ اور نہ اس کو وہ سمجھتے ہیں یہ لفظ اغلف سے استعارہ کے طور پر استعمال ہوا ہے اغلف بےختنہ کو کہتے ہیں۔
بَلْ لَّعَنَھُمُ اللّٰہُ بِکُفْرِھِمْ : (بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی ان کے کفر کے سبب) اللہ تعالیٰ نے تردید فرمائی کہ ان کے دل اس طرح نہیں بنے جس طرح وہ کہتے ہیں۔ بلکہ وہ تو فطرت پر پیدا کیے گئے۔ اور ان میں حق کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھی گئی۔ بیشک ان کو تو ان کے کفر وزیغ…
Read the full tafseer →88۔ (آیت)” وقالوا “ یعنی یہود نے کہا (آیت)” قلوبنا غلف “ غلف جمع اغلف کی ہے اور وہ ہے جس پر پردہ ہو اس کا معنی ہے ان دلوں پر پردہ ہے ۔
پس نہ وہ سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں جو کچھ اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں ، حضرت مجاہد (رح) ، حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت)” وقالوا قلوبنا فی اکنۃ “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے ” غلف “ لام کی پیش کے ساتھ پڑھا اور یہ اعرج کی قرات ہے اور یہ غلاف کی جمع ہے ، ان کی اس کہنے سے مراد یہ تھی کہ ہمارے دل ہر علم کا برتن ہیں لہذا ہم تیرے علم کے محتاج نہیں ہیں ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور عطاء (رح) نے یہی فرمایا ۔
کلبی (رح) کہتے…
Read the full tafseer →سورة حم السجدہ میں یہود کے اس قول کی طرح اہل مکہ کا قول اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے { وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْ اَکِنَّۃٍ مِمَّا تَدْعُوْنَنَا اِلَیْہِ وَ ِفْی آذَانِنَا وَقْرٌ وَّمِنْ بَیْنِنَا وَبَیْنِکَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عَامِلُوْنَ } ( 41: 5) جس کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد تم اپنے دین پر رہو ہم اپنے دین پر رہیں گے کیونکہ غیر دین کی بات نہ ہمارے دل سمجھ سکتے ہی نہ ہمارے کان سن سکتے ہیں۔ نہ ہم میں اور غیر دین میں جو پردہ حائل ہے وہ اٹھ سکتا ہے۔ حاصل مطلب ان دونوں قولوں کا یہ ہے کہ غیر دین کی بات ہم پر کسی طرح اثر نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے قول کا تو یہ جواب دیا کہ یہ لوگ…
Read the full tafseer →اے رسول ﷺ جب آپ ان کو ایمان کی دعوت دیتے ہیں تو یہ لوگ معذرت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ (ہمارے دل غلاف میں لپٹے ہوئے ہیں۔ ) یعنی ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اس لئے ہم تمہاری بات کو سمجھ نہیں سکتے۔ گویا یہ ان کے گمان کے مطابق عدم علم کا عذر ہے اور یہ ان کا جھوٹ ہے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (بل لعنھم اللہ بکفرھم) یعنی وہ اپنے کفر کے سبب سے ملعون اور دھتکارے ہوئے ہیں۔ اس لئے ان میں سے بہت ہی قلیل لوگ ایمان لائیں گے، یا اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کا ایمان بہت ہی قلیل ہے اور ان کا کفر بہت زیادہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–94
قول باری ہے : قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ عند اللہ خالصۃ من دون الناس قسموا الموت ان کنتم صدقین (ان سے کہو کہ اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لئے مخصوص ہے تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو) روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ” اگر یہود موت کی تمنا کرتے تو سب مرجاتے اور جہنم کے اندر اپنے اپنے ٹھکانے دیکھ لیتے اور اگر اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ مباہلہ کرنے والے اپنے گھروں سے نکل آتے تو واپس جا کر نہ تو وہ اپنے اہل و عیال کو پاتے اور نہ ہی کوئی مال ملتا۔ “ حضرت ابن عباس نے فرمایا :” اگر یہ لوگ موت کی تمنا کرتے تو انہیں موت کا…
Read the full tafseer →248 یہود کے عجب و استکبار کا ایک نمونہ : سو یہ ان کے اسی مذکورہ بالا استکبار کا ایک نمونہ اور ثبوت ہے، جس کی بناء پر انہوں نے کلمہء حق کے لئے اپنے دلوں کے دروازے بند کردیئے تھے اور " غلف " یا تو جمع ہے " اغلف " کی، جیسے " حمر " جمع ہے " احمر " کی اور " صفر " جمع ہے " اصفر " کی، اور " اغلف " ایسی شے کو کہتے ہیں، جو کسی پردہ اور غلاف میں ڈھکی اور چھپی ہوئی ہو۔ مطلب ان کے کہنے کا یہ تھا کہ ہمارے دل پردوں میں بند اور محفوظ ہیں۔ آپ کی بات ان تک نہیں پہنچ سکتی، جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِی اَکِنَّۃٍ مِّمَّا تَدْعُوْنََا اِلَیْہِِ } ۔ (حٰمٓ السجدۃ :5) اور یا "…
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کا تعصب
تشریح : جب اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو واضح طور پر غلط ثابت کردیا اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا، ناراضگی کا حکم صادر کردیا، تو یہود نے یہ عذر پیش کرنا شروع کردیا کہ ہمارے دل تو غلاف میں محفوظ ہوچکے ہیں اور سوائے اپنے دین کے کوئی چیز ہمارے دل پر اثر نہیں کرسکتی، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے صاف اعلان کردیا کہ یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں۔ غلاف کی کوئی بات نہیں، بلکہ ان کے مسلسل کفر و نافرمانی کے باعث اللہ نے ان پر لعنت بھیج دی ہے، اپنی رحمت سے اللہ نے ان کو محروم کردیا ہے، اسی لئے یہ نہ سچے دین کو مان سکتے ہیں اور نہ ہی آخری نبی ﷺ پر ایمان لاسکتے ہیں۔ ہاں البتہ کچھ تھوڑے سے لوگ ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–96
آیات 87- 96
اسرار و معارف
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی ، ایک لائحہ عمل ، پوری زندگی کا پروگرام اور ایسا جو دنیا وآخرت ہر دو عالم کی کامیابی کا ضامن ہو دیا۔ انسان کی ساری سوچ بچار ، ساری تگ ودو اور انتخاب واسمبلیاں صرف اس لئے ہیں کہ زندگی بسر کرنے کا بہترین طریقہ تلاش کیا جائے مگر ہم نے آسمان نازل فرما کر اللہ کی طرف سے تمہیں ایک مکمل ضابطہ حیات دیا اور ساتھ ایک الوالعزم رسول بھیجا کہ صرف کتاب نافع نہیں جب تک دل پاک ہو کہ اس کی تعلیمات کو قبول نہ کرنے لگ جائیں جو صحبت رسول کا حاصل ہے اور جب یہ استعداد حاصل ہو تب بھی کتاب اللہ کی شرح نبی اور رسول ہی کرسکتا ہے کہ ہمیشہ…
Read the full tafseer →ف 3 یہود کہا کرتے ہمارے دلوں پر غلاف ہیں یعنی تمہاری کوئی بات ہم پر اثر نہیں کرتی جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے قلوبنا فی اکند مما تد عونا الیہ یعنی جو دعوت دیتے ہو اس سے ہمارے دل پر دہ میں ہیں) اما احمد جنبل نے مر فو عا ذکر کیا ہے ہے اور حضرت حذیفہ سے موقوفا مردی ہے کہ دل چار قسم کے کے ہیں ان سے ایک دل اغلف ہے یعنی کافر کا دل جس پر مہر لگادی گئی ہے اور ہو حق سے متاثر نہیں ہوتا بعض علمائے تفسیر نے غلف کے یہ معنی کیے ہیں کہ ہمارے دل علم و حکمت سے پر ہیں کسی دوسرے علم کی ان میں گنجائش نہیں ہے۔ اس پر قرآن نے فرمایا ہے کہ حق سے متاثر نہ ہونا فخر کی بات نہیں ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کی لعنت کی علامت ہے…
Read the full tafseer →غلف جمع اغلف واحد۔ اغلف اس چیز کو کہتے ہیں جو غلاف میں بند ہو۔ چناچہ غلفت السیف کے معنی ہیں، میں نے تلوار کو نیام میں بند کردیا۔ مطلب یہ کہ ہمارے دل غلافوں میں بند ہیں اس لئے قرآن مجید کی باتیں ہمارے تک نہیں پہنچ سکتیں۔
بعض کے نزدیک غلف اصل میں غلف تھا۔ لام کے صیغہ کو تخفیفاً ساقط کردیا گیا اور یہ غلاف کی جمع ہے جیسے کتاب کی جمع کتب ہے۔ غلاف کے معنی مخزن ہیں۔ اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ ہمارے دل خود ہی علوم و معارف کے گنجینے اور مخزن ہیں لہٰذا ہمیں دوسروں کے علوم سے استفادہ کی ضرورت نہیں۔
بل حرف اضراب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حقیقت یہ نہیں ہے کہ ان کے دل غلافوں کے اندر بند ہیں ۔ یا وہ علوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
لغات القرآن : آیت نمبر 87 تا 88
اتینا (ہم نے دیا) ۔ قفینا (ایک کے بعد دوسرے کو ہم نے بھیجا) ۔ ایدناہ (ہم نے اس کو قوت دی) ۔ روح القدس (جبرئیل (پیغمبروں پر وحی لانے والا فرشتہ) ۔ افکلما (کیا پھر ایسا نہیں ہوا کہ جب کبھی بھی ) ۔ لا تھوی (پسند نہ تھا، خواہش نہ تھی) ۔ کذبتم (تم نے جھٹلایا) ۔ غلاف (غلاف، (محفوظ رکھنے کی چیز) ۔ لعن (لعنت کی، لعنت کے معنی ہیں اللہ کی رحمت سے دوری) ۔
تشریح : آیت نمبر 87 تا 88
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے نظام کو درست رکھنے کے لئے پاکیزہ نفس پیغمبروں (علیہ السلام) کو انسانوں کی ہدایت کے لئے مسلسل ایک کے بعد ایک ہزاروں کی تعداد میں بھیجا تا کہ بھٹکے ہوئے انسانوں کی…
Read the full tafseer →شان نزول : ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد ﷺ تم اپنے دین پر رہو ہم اپنے دین پر کیونکہ غیر دین کی بات نہ ہمارا دل سمجھ سکتا ہے اور نہ کان سن سکتے ہیں ، نہ ہم میں اور غیر دین میں جو پردہ حائل ہے وہ اٹھ سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے قول کا یہ جواب دیا کہ : یہ لوگ عقبیٰ کے منکر ہیں اس سبب سے ایسی باتیں کرتے ہیں تو ان پر خدا کی لعنت اور پھٹکار ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
[59] روح القدس۔ اسلامی اصطلاح میں مشہور و مقربِ الٰہی فرشتہ جبرائیل (علیہ السلام) کو کہتے ہیں۔
[60] یعنی وحی کے ذریعہ سے جو جبرائیل لاتے تھے۔
Read the full tafseer →(ف 2) صاف صاف اعتراف کہ ہماری دلوں میں نور وہدایت کے لئے کوئی جگہ نہیں ‘ انتہائی بدبختی کی دلیل ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ دل کی تمام خوبیاں ان سے چھین لی گئی ہیں ۔
خدا کی لعنت کے معنی گالی دینا نہیں ، بلکہ اپنی آغوش رحمت سے دور رکھنا ہے اور وہ لوگ جو اپنے لئے زحمت وشقاوت پسند کریں رحمت ومؤدت کو ٹھکرا دیں ، ظاہر ہے کہ خود بخود رؤف ورحیم خدا سے دور ہوجاتے ہیں ۔
حل لغات : ۔
یخفف ، مصدر تخفیف ۔ کم کرنا ۔
وقفینا : فعل ماضی معلوم مصدر تقفیۃ مسلسل یکے بعد دیگرے بھیجنا ۔
البینت : جمع بینۃ ، واضح ظاہر و باہر دلائل وہ نشان جو روشن تر ہوں ۔
تھوی : مصدر ھوی ، خواہش نفس ۔
فریقا : ایک گروہ ، جماعت…
Read the full tafseer →ف 4 اور وہ یہودی کہتے ہیں کہ ہمارے دل بالکل محفوظ ہیں کہ اس میں کوئی دوسری بات داخل ہی نہیں ہوسکتی۔ یہ بات نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہود پر ا ن کے کفر کی وجہ سے لعنت کردی ہے اور ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے سو وہ بہت ہی تھوڑا ایمان رکھتے ہیں (تیسیر)
یہود کا یہ قول یا تو بطور عذر تھا کہ ہم کیا کریں ہمارے دل پر تو پردے پڑے ہوئے ہیں۔ تمہاری باتیں ہمارے دل میں جگہ نہیں کرتیں اور یا وہ دلیل کے طور پر کہتے ہوں کہ مسلمانو ! تمہاری باتیں ہم پر کیا اثر کرسکتی ہیں ہمارے دل تو ہر طرح محفوظ ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ان کا یہ قول بطور تفاخر ہو کہ ہمارے دل تو علوم و حقائق سے لبریز ہیں اور اب ان میں سے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
ف 1۔ اس باب میں ان پر تین حکم واجب تھے اول قتل نہ کرنا دوم اخراج نہ کرنا، سوم اپنی قوم میں سے کسی کو گرفتار وبندی دیکھیں تو روپیہ خرچ کرکے چھڑا دینا۔ سو ان لوگوں نے حکم اول ودوم کو ضائع کردیا تھا اور سوم کا اہتمام کیا کرتے تھے ضن مخالف قوموں کی امداد کا ذکر فرمایا ہے مراد ان قوموں سے اوس اور خزرج ہیں کہ اول بنی قریظہ کی موافقت میں بنی نضیر کے مخالف تھے اور خزرج بنی نضیر کی موافقت میں بنی قریظہ کے مخالف تھے گناہ اور ظلم دو لفظ لانے میں اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس میں دو حق ضائع ہوتے ہیں حق اللہ بھی کہ حکم الہی کی تعمیل نہ کی اور حق العبد بھی کہ دوسرے کو آزار پہنچا۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کی اندھی تقلید :
174: ان لوگوں نے امانت کے ادا کرنے میں ہمیشہ خیانت سے کام لیا ہے ، وہ سر سے لے کرپاؤں تک گندگیوں اور نجاستوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ” غلف “ اغلف کی جمع ہے اس سے مراد وہ چیز لی جاتی ہے جو پردہ کے اندر ہو ، اسی اعتبار سے آیت کے معنی یہ ہوئے کہ وہ لوگ اپنے آپ کو قرآن کریم کی تعلیم سے بےنیاز خیال کرتے ہیں اور غرور وتکبر کی بناء پر اس سے رو گردانی اختیار کرتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیات بینات ان کے قلوب و اذہان پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ : غلف بضم الام غلاف کی جمع ہے۔ یہودی کہتے ہیں کہ ہمارے دل خزینہ دار علم و حکمت ہیں ہم آپ کے سامنے زانوئے…
Read the full tafseer →The Jews used to say sarcastically that their hearts were "veiled", by which they meant that their hearts were so well protected against Islam that it could never touch them. This was their way of congratulating themselves on being staunch in their belief. The Holy Qur'an points out that this is not the firmness of faith, but a damnation, for they deny Islam which now is the true religion, and stick to a religion which has been abrogated. They, consequently, possess only "a little" faith ('Iman ایمان). Since a little faith is not acceptable, they turn out to be infidels.
The little “ faith"…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
94. They said, in effect, that they were so staunch in their beliefs that their convictions would remain unaffected regardless of what was said. Such a claim is the hallmark of those bigots whose minds are seized by irrational prejudice. Nothing can be a matter of greater shame for human beings than the so-called firmness of conviction which they often boast of. What can be more foolish than adherence to inherited beliefs and convictions when their falseness is established by overwhelmingly strong arguments?
95. Before the advent of the Prophet, the Jews were eagerly awaiting a Prophet whose…
Read the full tafseer →