Al-Baqara 2:87

Al-Baqara · from ayah 87

2:87

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْكِتٰبَ وَقَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ ؗ— وَاٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ؕ— اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤی اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ ۚ— فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ ؗ— وَفَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ ۟وَ لَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ وَقَفَّيۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهٖ بِالرُّسُلِ‌ وَاٰتَيۡنَا عِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ الۡبَيِّنٰتِ وَاَيَّدۡنٰهُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ‌ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَهۡوٰٓى اَنۡفُسُكُمُ اسۡتَكۡبَرۡتُمۡ‌ۚ فَفَرِيۡقًا كَذَّبۡتُمۡ وَفَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی اور ان کے پیچھے یکے بعد دیگرے پیغمبر بھیجتے رہے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلے نشانات بخشے اور روح القدس (یعنی جبرئیل) سے ان کو مدد دی۔تو جب کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئے، جن کو تمہارا جی نہیں چاہتا تھا، تو تم سرکش ہو جاتے رہے، اور ایک گروہ (انبیاء) کو تو جھٹلاتے رہے اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We did certainly give Moses the Torah and followed up after him with messengers. And We gave Jesus, the son of Mary, clear proofs and supported him with the Pure Spirit. But is it [not] that every time a messenger came to you, [O Children of Israel], with what your souls did not desire, you were arrogant? And a party [of messengers] you denied and another party you killed.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 11 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:87

ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی، اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے، آخر کار عیسیٰؑ ابن مریمؑ کو روشن نشانیاں دے کر بھیجا اور روح پاک سے اس کی مدد کی پھر یہ تمہارا کیا ڈھنگ ہے کہ جب بھی کوئی رسول تمہاری خواہشات نفس کے خلاف کوئی چیز لے کر تمہارے پاس آیا، تو تم نے اس کے مقابلے میں سرکشی ہی کی، کسی کو جھٹلایا اور کسی کو قتل کر ڈالا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی اور ان کے پیچھے یکے بعد دیگرے پیغمبر بھیجتے رہے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلے نشانات بخشے اور روح القدس (یعنی جبرئیل) سے ان کو مدد دی۔تو جب کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئے، جن کو تمہارا جی نہیں چاہتا تھا، تو تم سرکش ہو جاتے رہے، اور ایک گروہ (انبیاء) کو تو جھٹلاتے رہے اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے (حضرت) موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے پیچھے اور رسول بھیجے اور ہم نے (حضرت) عیسیٰ ابن مریم کو روشن دلیلیں دیں اور روح القدس سے ان کی تائید کروائی۔ لیکن جب کبھی تمہارے پاس رسول وه چیز ﻻئے جو تمہاری طبیعتوں کے خلاف تھی، تم نے جھٹ سے تکبر کیا، پس بعض کو تو جھٹلادیا اور بعض کو قتل بھی کرڈاﻻ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، اور اس کے بعد پے درپے رسول بھیجے۔ اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے ان کی تائید کی۔ پھر یہ آخر کیا معاملہ ہے کہ جب کبھی کوئی رسول تمہارے پاس کوئی ایسی بات لے کر آیا جو تمہاری نفسانی خواہشات کو پسند نہیں تھی تو تم اکڑ گئے ؟ چنانچہ بعض (انبیاء) کو تم نے جھٹلایا، اور بعض کو قتل کرتے رہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بے شک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو کھیلی نشانیاں عطا فرمائیں اور پاک روح سے اس کی مدد کی تو کیا جب تمہارے پاس کوئی رسول وہ لے کر آئے جو تمہارے نفس کی خواہش نہیں تکبر کرتے ہو تو ان (انبیاء) میں ایک گروہ کو تم جھٹلاتے ہو اور ایک گروہ کو شہید کرتے ہو -

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب (تورات) عطا کی اور ان کے بعد ہم نے پے در پے (بہت سے) پیغمبر بھیجے، اور ہم نے مریم (علیھا السلام) کے فرزند عیسیٰ ؑ کو (بھی) روشن نشانیاں عطا کیں اور ہم نے پاک روح کے ذریعے ان کی تائید (اور مدد) کی، تو کیا (ہوا) جب بھی کوئی پیغمبر تمہارے پاس وہ (احکام) لایا جنہیں تمہارے نفس پسند نہیں کرتے تھے تو تم (وہیں) اکڑ گئے اور بعضوں کو تم نے جھٹلایا اور بعضوں کو تم قتل کرنے لگے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے بعد پے در پے بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو واضح نشانیاں دیں اور اسے پاک روح کے ساتھ قوت بخشی۔ پھر کیا جب کبھی کوئی رسول تمہارے پاس وہ چیز لے کر آیا جسے تمہارے دل نہ چاہتے تھے، تم نے تکبر کیا تو ایک گروہ کو جھٹلا دیا اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب دی۔ پھر اس کے بعد پے درپے رسول بھیجے اور عیسیٰ ابن مریم کو واضح معجزے عطا کئے اور روح القدس سے ان کی تائید کی۔ پھر جب بھی کوئی رسول کوئی ایسی چیز لایا جو تمہاری خواہش کے خلاف تھی تو تم اکڑ بیٹھے۔ رسولوں کا ایک گروہ ایسا تھا جسے تم نے جھٹلا دیا اور ایک گروہ کو تم نے قتل کر ڈالا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور کے بعد پے در پے رسول بھیجے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی تائید کی تو کیا جب جب آئے گا کوئی رسول تمہارے پاس وہ باتیں لے کر جو تمہاری خواہشوں کے خلاف ہوں گی تو تم تکبر کروگے ؟ سو تم نے ایک گروہ کو جھٹلایا اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم ہی نے موسیٰ کو بھی کتاب (ہدایت) عطا کی، اور ہم ہی نے ان کے بعد پے درپے (مختلف) رسول بھیجے، اور ہم ہی نے عیسیٰ بیٹے مریم کو بھی (حق و صداقت کے) کھلے دلائل دئیے، اور ان کو قوت بخشی روح القدس کے ذریعے، تو پھر (تمہاری یہ کیا روش رہی کہ) جب بھی تمہارے پاس کوئی پیغمبر وہ کچھ لے کر آیا، جو تمہارے نفسوں کو نہیں بھایا تو تم لوگ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے، (اور تم نے سرکشی کی) جس کی بناء پر تم نے (حضرات انبیاء کرام کے) ایک گروہ کو جھٹلایا، اور ایک کے تم نے قتل کا ارتکاب کیا،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب عطا کی۔ اور ان کے پیچھے ہم نے پے درپے پیغمبر بھیجے۔ اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے روشن نشانات عطاکئے۔ اور ہم نے روح القدس (کے ذریعہ سے ان کی تائید کی۔ تو کیا جب کبھی کوئی پیغمبر تمہارے پاس ان (احکام) کے ساتھ آیا جو تمہارے نفس کو نہ بھائے۔ تو تم اکڑنے لگے۔ پھر بعض کو تم نے جھٹلایا۔ اور بعض کو تم قتل ہی کرنے لگے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی (یعنی تورات) اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے۔ اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بڑی واضح نشانیاں دیں اور ہم نے مدد کی ان کی روح القدس کے ساتھ پھر بھلا کیا جب بھی آیا تمہارے پاس کوئی رسول وہ چیز لے کر جو تمہاری خواہشات نفس کے خلاف تھی تو تم نے تکبر کیا) پھر ایک جماعت کو تم نے جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کردیا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، اس کے بعد پے درپے رسول بھیجے آخرکار عیسیٰ ابن مریم کو روشن نشانیاں دے کر بھیجا اور روح پاک سے اس کی مدد کی پھر یہ تمہارا کیا ڈھنگ ہے کہ جب بھی کوئی رسول تمہاری خواہشات نفس کے خلاف کوئی چیز لے کر تمہارے پاس آیا تو تم نے اس کے مقابلہ میں سر کشی ہی کی، کسی کو جھٹلایا اور کسی کو قتل کر ڈالا

— محترمہ رفعت اعجاز

And We gave Moses the Book and sent after him a train of Messengers in succession. Then We sent Jesus, son of Mary, with clear Signs and supported him with the Holy Spirit. Then how is it that whenever a Messenger came to you wish that which did not suit your lusts, you grew rebellious against him, and repudiated some and slew others.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed, We gave Musa the Book, and after him We sent messengers, one following the other; and We gave clear signs to lsa,, the son of Maryam (Jesus, the son of Mary) , and supported him with the Holy Spirit. Then, how is it that every time a prophet came to you with what does not meet your desires, you grew arrogant? So, you gave the lie to a group (of the messengers) and killed others.

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed, We gave Musa the Book, and after him We sent messengers, one following the other; and We gave clear signs to lsa,, the son of Maryam (Jesus, the son of Mary) , and supported him with the Holy Spirit. Then, how is it that every time a prophet came to you with what does not meet your desires, you grew arrogant? So, you gave the lie to a group (of the messengers) and killed others.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed, We gave Musa the Book and followed him up with a succession of Messengers. And We gave `Isa, the son of Maryam, clear signs and supported him with Ruh-il-Qudus. Is it that whenever there came to you a Messenger with what you yourselves desired not, you grew arrogant Some you disbelieved and some you killed.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And verily We gave unto Moses the Scripture and We caused a train of messengers to follow after him, and We gave unto Jesus, son of Mary, clear proofs (of Allah's sovereignty), and We supported him with the Holy spirit. Is it ever so, that, when there cometh unto you a messenger (from Allah) with that which ye yourselves desire not, ye grow arrogant, and some ye disbelieve and some ye slay?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We did certainly give Moses the Torah and followed up after him with messengers. And We gave Jesus, the son of Mary, clear proofs and supported him with the Pure Spirit. But is it [not] that every time a messenger came to you, [O Children of Israel], with what your souls did not desire, you were arrogant? And a party [of messengers] you denied and another party you killed.

— Saheeh International

We gave the Book to Moses and made the Messengers follow in his path. To Jesus, the son of Mary, We gave the miracles and supported him by the Holy Spirit. Why do you arrogantly belie some Messengers and murder others whenever they have brought you messages that you dislike?

— Muhammad Sarwar

And most certainly We gave Musa the Book and We sent apostles after him one after another; and We gave Isa, the son of Marium, clear arguments and strengthened him with the holy spirit, What! whenever then an apostle came to you with that which your souls did not desire, you were insolent so you called some liars and some you slew.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We vouchsafed unto Musa the Book and We followed him up by the apostles after him, and unto 'lsa, son of Maryam, We vouchsafed evidences and aided him with the Holy Spirit. Then so often as there came unto you an apostle with that which your souls desired not, ye waxed stiff necked; and some ye belied and some ye slew?

— Abdul Majid Daryabadi

We gave Moses the Book and followed him up with a succession of messengers; We gave Jesus the son of Mary Clear (Signs) and strengthened him with the holy spirit. Is it that whenever there comes to you a messenger with what ye yourselves desire not, ye are puffed up with pride?- Some ye called impostors, and others ye slay!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:87

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

خود پرست اسرائیلی بنی اسرائیل کے عناد وتکبر اور ان کی خواہش پرستی کا بیان ہو رہا ہے کہ توراۃ میں تحریف و تبدل کیا حضرت موسیٰ کے بعد انہی کی شریعت آنے والے انبیاء کی بھی مخالفت کی چناچہ فرمایا آیت (اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ) 5۔ المائدہ :44) یعنی ہم نے توراۃ نازل فرمائی جس میں ہدایت اور نور تھا جس پر انبیاء بھی خود بھی عمل کرتے اور یہودیوں کو بھی ان کے علماء اور درویش ان پر عمل کرنے کا حکم کرتے تھے غرض پے درپے یکے بعد دیگرے انبیاء کرام بنی اسرائیل میں آتے رہے یہاں تک کہ یہ سلسلہ عیسیٰ ؑ پر ختم ہوا انہیں انجیل ملی جس میں بعض احکام توراۃ کے خلاف بھی تھے اسی لئے انہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 93 ”روح پاک“ سے مراد علم وحی بھی ہے، اور جبریل بھی جو وحی کا علم لاتے تھے اور خود حضرت مسیح ؑ کی اپنی پاکیزہ روح بھی، جس کو اللہ نے قدسی صفات بنایا تھا۔ ”روشن نشانیوں“ سے مراد وہ کھلی کھلی علامات ہیں، جنہیں دیکھ کر ہر صداقت پسند طالب حق انسان یہ جان سکتا تھا کہ مسیح ؑ اللہ کے نبی ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (اے بنی اسرائیل تمہاری ہدایت کے لئے ہمیشہ سے بڑے بڑے سامان کئے سب سے اول) موسیٰ ؑ کو کتاب (توراۃ) دی اور (پھر) ان کے بعد (درمیان میں) یکے بعد دیگرے (برابر مختلف) پیغمبروں کو بھیجتے رہے اور (پھر اس خاندان کے سلسلہ کے اخیر میں) ہم نے (حضرت) عیسیٰ بن مریم کو (نبوت کے) واضح دلائل (انجیل اور معجزات) عطا فرمائے اور ہم نے ان کو روح القدس (جبرئیل علیہ السلام) سے جو تائید دی (سو الگ جو بجائے خود ایک دلیل واضح تھی تو) کیا (تعجب کی بات نہیں کہ اس پر بھی تم سرکشی کرتے رہے اور) جب کبھی بھی کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسے احکام لائے جن کو تمہارا دل نہ چاہتا تھا (جب ہی) تم نے (ان پیغمبروں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اوپر والے عہد کی برابر یاد دہانی کراتے رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو انتظام فرمایا یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے“بَیِّنٰت”کے ساتھ بھیجا۔“بَیِّنٰت”سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیے گئے اور جو اس قدر واضح تھے کہ ان کے خدا کی طرف سے ہونے میں کوئی ہٹ دھرم ہی شک کر سکتا تھا لیکن یہود نے ان کھلے کھلے معجزات کو بھی تائید ربانی اور فیض روح القدس کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے نعوذ باللہ شیطانی تصرف کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ معجزے شیطانوں اور بھوتوں کے سردار بعلزبول کی مدد سے دکھاتے تھے۔ قرآن مجید نے یہود کے اسی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

87۔ 1 آیت (وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهٖ بالرُّسُلِ) 2۔ بقرہ :87) کے معنی ہیں موسیٰ ؑ کے بعد مسلسل پیغمبر آتے رہے حتٰی کہ بنی اسرائیل میں انبیاء کا سلسلہ حضرت عیسیٰ ؑ پر ختم ہوگیا (بَیِّنَاتِ) سے معجزات مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ ؑ کو دئیے گئے تھے جیسے مردوں کو زندہ کرنا، کوڑھی اور اندھے کو صحت یاب کرنا وغیرہ جن کا ذکر (وَرَسُوْلًا اِلٰى بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ڏ اَنِّىْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۙ اَنِّىْٓ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَهَيْــــَٔــةِ الطَّيْرِ فَاَنْفُخُ فِيْهِ فَيَكُوْنُ طَيْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ وَاُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْىِ الْمَوْتٰى…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

59: ”روح القدس“ کے لفظی معنی ہیں مقدس روح اور قرآن کریم میں یہ لقب حضرت جبرئیل ؑ کے لئے استعمال کیا گیا ہے (دیکھئے سورة نحل 102:16) حضرت عیسیٰ ؑ کو جب جبرئیل ؑ کی یہ تائید حاصل تھی کہ وہ ان دشمنوں سے ان کی حفاظت کے لئے ان کے ساتھ رہتے تھے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 86–87

اس کے بعد مسلمانوں کو خصوصاً اور تمام انسانیت کو عموماً خطاب کیا جاتا ہے ۔ اور بتایا جاتا ہے کہ ان یہودیوں کی حقیقت کیا ہے اور ان کے ان اعمال کا انجام کیا ہے ؟ جو وہ کررہے ہیں ۔ أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالآخِرَةِ فَلا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ ” یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت بیچ کر دنیا خرید لی ہے ۔ لہٰذا نہ ان کی سزا میں کوئی تخفیف ہوگی اور نہ انہیں کوئی مدد پہنچ سکے گی۔ “ سوال یہ ہے کہ انہوں نے آخرت بیچ کر دنیا کس طرح خرید لی ؟ وہ یوں کہ وہ اللہ کا عہد توڑنے پر محض اس لئے آمادہ ہوئے کہ وہ اپنے دنیاوی مفادات کی خاطر مشرکین کے ساتھ کئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 مردوں کا زندہ کرنا۔ اکمہ و ابرص وغیرہ مریضوں کا صحت یاب ہونا۔ غیب کی خبریں بتانا یہ حضرت عیسیٰ کے کھلے معجزے ہیں اور روح القدس کہتے ہیں حضرت جبرائیل کو جو ہر وقت ان کے ساتھ رہتے تھے یا اسم اعظم کہ جس کی برکت سے مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ 4 جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کو جھوٹا کہا۔ 5 جیسا کہ حضرت زکریا اور یحییٰ (علیہما السلام) کو قتل کیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 87 وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَقَفَّیْنَا مِنْم بَعْدِہٖ بالرُّسُلِز ایک بات نوٹ کر لیجیے کہ یہاں لفظ الرُّسُل انبیاء کے معنی میں آیا ہے۔ نبی اور رسول میں کچھ فرق ہے ‘ اسے اختصار کے ساتھ سمجھ لیجیے۔ قرآن مجید کی اصطلاحات کے تین جوڑے ایسے ہیں کہ وہ تینوں مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوجاتے ہیں اور اپنا علیحدہ علیحدہ مفہوم بھی رکھتے ہیں۔ ان کے ضمن میں علماء کرام نے یہ اصول وضع کیا ہے کہ اِذَا اجْتَمَعَا تَفَرَّقَا وَاِذَا تَفَرَّقَا اجْتَمَعَا یعنی جب ایک جوڑے کے دونوں لفظ اکٹھے استعمال ہوں گے تو دونوں کا مفہوم مختلف ہوگا ‘ اور جب یہ دونوں الگ الگ استعمال ہوں گے تو ایک معنی میں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

100 بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہونے والے انبیاء :۔ ان میں سے جن انبیاء و رسل کا نام قرآن میں آیا ہے وہ یہ ہیں۔ (بہ ترتیب زمانی) ہارون، ذی الکفل، الیاس الیسع، داؤد، سلیمان، لقمان، (اختلافی) عزیر، یونس، زکریا۔ یحییٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) جنہیں سریانی زبان میں یسوع کہتے ہیں۔ 101 معجزات سیدنا عیسیٰ :۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ کوڑھی اور اندھے کو فقط ہاتھ لگا کر تندرست کردیتے تھے۔ مٹی کا پرندہ بنا کر اس میں پھونک مارتے تو وہ اڑنے لگتا تھا اور آپ لوگوں کو یہ بھی بتا دیتے تھے کہ وہ کیا کچھ کھا کر آئے ہیں اور کیا کچھ گھر میں چھوڑ کر آئے ہیں اور ان تمام کاموں میں روح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

:297 ۔ (اور ایک مستقل دستور شریعت سے قوم اسرائیل کو بہ طور انعام خاص مشرف وممتاز کیا) (آیت) ” الکتب سے مراد وہی توریت ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کون تھے کس زمانہ میں تھے، یہ سب ذکر پہلے حاشیوں میں آچکا ہے۔ 298 ۔ (تمہاری ہی نسل اسرائیل میں) اسرائیلیوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بھی انبیاء کا متواتر اور بہ کثرت آتے رہنا تاریخ کا ایک مشہور ومسلم واقعہ ہے۔ حضرت یوشع نبی، حضرت داؤد نبی، حضرت زکریا نبی، حضرت یحی (علیہ السلام) نبی کے نام سے اردوخواں طبقہ بھی واقف ہے۔ متعدد انبیاء کے صحیفے کیسے ہی محرف سہی ،” عہد نامہ عتیق “ کے موجودہ مجموعہ میں شامل ہیں۔ 299 ۔ (ان کی پیغمبری وصداقت کے)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 87–88

آیات نمبر 87 تا 90 ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی اور ان کے بعد پے در پے یکے بعد دیگرے رسول بھیجے اور عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو واضح معجزات عطا کئے مثلاً مردوں کو زندہ کرنا اور مادر زاد اندھوں کو بینا کرنا اور مبروص (کوڑھی) کو اچھا کرنا اور پاکیزہ روح (یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ ہم نے ان کی تائید کی (روح القدس) میں اضافت موصوف الی الصفت ہے، ای الروح المقدسۃ (قدس کہا) ان کے (نافرمانی سے) پاک ہونے کی وجہ سے (ان کی تائید بایں طور کی) کہ جہاں وہ جاتے تو حضرت جبرائیل بھی ساتھ رہتے، پھر بھی یہ لوگ راہ راست پر نہیں آئے، (لیکن) کیا یہ بات نہیں کہ جب بھی تمہارے پاس کوئی رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَقَفَّيْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بالرُّسُلِ ۡ ( اور ہم نے دی موسیٰ ( علیہ السلام) کو کتاب (تورات) اور پے در پے بھیجے اس کے پیچھے رسول) یعنی ہم نے بعد موسیٰ ( علیہ السلام) کے کتنے ہی رسول پے در پے بھیجے اس سے معلوم ہوا کہ من بعدہ (بعد اس کے) تاکید کے لیے بڑھایا گیا ہے کیونکہ قفینا میں خود پیچھے لانے کے معنی پائے جاتے ہیں۔ موسیٰ کے بعد یوشع، شموئیل شمعون، داؤد، سلیمان، ایوب، شعیا، ارمیا، عزیر، حزقیل، الیسع، یونس، زکریا، یحییٰ ، اور الیاس وغیرہم (علیہم السلام) پیغمبر ہوئے ہیں۔ وَاٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ ( اور دئیے ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(87) اور ہم نے موسیٰ ؑ کو توریت دی اور ان کے بعد مسلسل رسولوں کو بھیجا اور عیسیٰ بن مریم (علیہا السلام) کو امر و نہی عجائب و علامات عطا کیے اور جبریل امین ؑ کے ذریعے سے ان کو طاقت دی۔ اے یہودیوں کی جماعت ! کیوں تمہارے دل اور تمہارا دین موافقت نہیں کرتا اور تم رسول پر ایمان لانے سے اعراض کرتے ہو ایک جماعت نے رسول اکرم ﷺ اور حضرت عیسیٰ ؑ کو جھٹلادیا اور تم ہی میں سے بعض لوگوں نے حضرت یحییٰ ؑ اور حضرت زکریا ؑ کو قتل کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یعنی موسیٰ ؑ کے بعد آنے والے جن انبیاء و رسل کا نام قرآن مجید میں آیا ہے وہ ہارون، ذوالکفل، الیاس، الیسع، داؤد، سلیمان، عزیر، یونس، زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ ؑ ہیں، حدیث میں یوشع بن نون ؑ کا ذکر بھی آیا ہے۔ لقمان ؑ کے نبی ہونے میں اختلاف ہے۔ بہت سے رسولوں کا تذکرہ قرآن میں نہیں کیا گیا، دیکھیے سورة مؤمن (78)۔ (الْبَيِّنٰت) اس سے مراد معجزے ہیں، جو عیسیٰ ؑ کو دیے گئے، جیسے مردوں کو زندہ کرنا، مٹی سے پرندے کی شکل بنا کر اس میں روح پھونکنے سے پرندہ بن جانا، اندھے اور برص کے مریض کو تندرست کرنا وغیرہ، جن کا ذکر سورة آل عمران (49) اور مائدہ (110) میں آیا ہے۔ (بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۭ) اس سے مراد جبریل ؑ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 87 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لقد اتینا موسیٰ الکتب، کتاب سے مراد تورات ہے قفینا ہم نے پیچھے بھیجا۔ التقفیۃ پیچھا کرنا، پیچھے بٹھانا۔ یہ اتماع القفا سے ماخوذ ہے، القفا گردن کے پیچھے حصہ کو کہتے ہیں۔ تو کہتا ہے : استقفیتہ، جب تو کسی کے پیچھے آئے۔ اسی سے قافیۃ الشعر ہے کیونکہ وہ سارے کلام میں پڑھا جاتا ہے، القافیۃ کا معنی گدی ہے۔ اسی سے حدیث پاک ہے : یعقد الشیطان علی قافیۃ رأس احدکم (1) ۔ شیطان تم میں سے کسی کے سر کی گدی پر گرہ لگاتا ہے۔ القفی، القفارۃ دودھ وغیرہ جو اس شخص کے لئے ذخیرہ کیا جاتا ہے جس کا تو اکرام چاہتا ہے۔ قفوت الرجل یعنی میں نے فجور کے ساتھ اسے تہمت لگائی۔ فلان قفوتی۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن ابی حاتم نے ابو مالک سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ ” وقفینا “ سے مراد ہے ہم نے ان کے پیچھے بھیجے۔ (2) امام ابن عساکر نے جو یبر سے ضحاک کے سلسلہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولقد اتینا موسیٰ الکتب “ سے مراد ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات اکٹھی ایک ہی مرتبہ مفصل اور محکم عطا فرمائی۔ ” وقفینا من بعدہ بالرسل “ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یکے بعد دیگرے یہ رسول بھیجے۔ اشمویل بن بابل، مشتانیل، شعیابن امصیا، جزقیل، ارمیا بن حلقیا، اور وہ خضر (علیہم السلام) ہیں اور داؤد بن ایشا اور وہ ابو سلیمان ہیں اور مسیح عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) ان رسولوں کو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلَقَدْ اٰتَيْنَا : اور بیشک ہم نے دیا ] [ مُوْسَى الْكِتٰبَ : موسیٰ کو کتاب (یعنی تورات ] وَقَفَّيْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ : اور ہم نے بھیجا ان کے بعد ] [ بِالرُّسُلِ ۡ: رسولوں کو ] [ وَاٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ : اور ہم نے دیا عیسیٰ بن مریم کو ] [ الْبَيِّنٰتِ : روشن دلیلیں یعنی معجزات ] [ وَاَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۭ: اور ہم نے تقویت دی ان کو پاکیزگی کی روح یعنی جبرایل سے ] [ اَفَكُلَّمَا : تو کیا (ایسا نہیں ہوا کہ ( جب بھی ] [ جَاۗءَكُمْ : آیا تمہارے پاس ] [ رَسُوْلٌۢ : کوئی رسول ] [ بِمَا لَا تَهْوٰٓى: اس کے ساتھ جو نہیں چاہتے ] [ اَنْفُسُكُمُ : تمہارے جی ] [ اسْتَكْبَرْتُمْ :…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

یہودی بعض نبیوں کی صرف تکذیب کرتے تھے اور بعض کو قتل کردیتے تھے اس آیت شریف میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی (یعنی توریت شریف) اور ان کے بعد بھی رسول بھیجتے رہے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلے کھلے معجزات دیے جو ان کی نبوت اور رسالت پر واضح دلائل تھے۔ مردوں کو زندہ کرنا۔ مٹی سے پرندہ کی صورت بنا کر اس میں پھونک دینا جس سے پرندہ ہو کر اڑ جانا، مادر زاد اندھے اور برص والے کو اچھا کردینا اور غیب کی باتیں بتادینا، اور روح القدس یعنی حضرت جبریل (علیہ السلام) کے ذریعے ان کی تائید کرنا۔ یہ سب امور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی نبوت اور رسالت کے لیے واضح دلائل تھے۔ سورة آل عمران میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

شناعت سیز دہم (13) قال تعالیٰ ۔ ولقد اتینا موسیٰ الکتب۔۔ الی۔۔۔ وفریقا تقتلون اور البتہ تحقیق ہم نے بنی اسرائیل کی ہدایت اور اصلاح کا بڑا اہتمام کیا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک روشن کتاب یعنی توریت عطاء کی اور پھر ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بنی اسرائیل کی اصلاح اور تربیت کے لیے مسلسل یکے بعد دیگرے پیگمبروں کو بھیجا کہ اللہ کے عہدوں کو یاد دلاتے رہیں اور شریعت موسویہ کی پیروی اور اس پر استقامت کی تلقین کرتے رہیں اور پھر خاندان بنی اسرائیل کے اخیر میں عیسیٰ بن مریم کو نبوت و رسالت کے واضح اور روشن دلائل دیکر بھیجا اور خاص طور سے روح القدس یعنی جبرائیل امین سے ان کو قوت دی جو ہر وقت ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

170 تمہاری ہدایت اور رہنمائی کے لیے حضرت موسیٰ کو شریعت کا ایک دستور دیا جس میں اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنے اور شرک سے بچنے کا حکم دیا گیا۔ اور اس کے علاوہ اور بہت سے احکام دئیے گئے۔ الکتب سے تورات مراد ہے۔ وَقَفَّيْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی زندگی میں تمہیں تورات پر عمل کرنے کی تلقین کرتے رہے۔ ان کی وفات کے بعد بھی انبیا ورسل کا سلسلہ جاری رکھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک ہزاروں کی تعداد میں پیغمبر بھیجے وکانوا الی زمن عیسیٰ (علیہ السلام) اربعۃ الاف (روح ص 316 ج 1) بعض نے اس سے بھی زیادہ لکھے ہیں مثلاً حضرات یوشع، شمعون، داود، سلیمان، عزیر، حزقیل،…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 87–90

کتاب اور رسول : اس سے پہلے بنی اسرائیل کے مختلف عہدوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ جن کی پابندی کرنے سے یہ قوم قاصر رہی۔ اب بعض دوسرے انعامات کا تذکرہ ہو رہا ہے جو بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے کیے اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہے ہیں کہ منجملہ ان انعامات کے ایک یہ بھی تھا کہ “ ولقد اتینا موسیٰ الکتب ” یعنی بیشک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب توراۃ عطا فرمائی ۔ تاکہ بنی اسرائیل اس کے ذریعے ہدایت اور راہنمائی حاصل کرسکیں۔ اور پھر یہ کہ صرف کتاب پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ کتاب میں مذکور احکام کی یاد دہانی کے لیے “ وقفینا من بعدہ بالرسول ” اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد پے در پے رسول بھیجے جو توراۃ کی تعلیم کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رکوع نمبر 11 وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَقَفَّيْنَا مِنْۢ بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ۝ 0 ۡوَاٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ وَاَيَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ۝ 0 ۭ اَفَكُلَّمَا جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَہْوٰٓى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ۝ 0 ۚ فَفَرِيْقًا كَذَّبْتُمْ۝ 0 ۡوَفَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ۝ 87 ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : آتینا فعل بافاعل موسیٰ مفعول اول۔ الکتاب مفعول ثانی۔ قفینا میں ی واو سے بدل گئی بولتے ہیں قفا یقفو اذا تبعہ چونکہ واو چوتھے مرتبہ میں واقع ہوا ی سے بدل گیا بالرسل بذریعہ ب مفعول قفینا کلما حرف شرط استکبرتم جواب شرط فریقا مفعول مقدم کذبتم۔ اسی طرح تقتلون کا فریقاً مفعول مقدم ہے۔ تفسیر : اب جو کچھ بنی اسرائیل نے رسولوں کے ساتھ سلوک کیا تھا اور کر رہے ہیں اس کا ذکر ان آیات میں اور اگلی آیات میں بیان فرماتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ نہ صرف قوت عملیہ ہی خراب ہوگئی تھی بلکہ قوت نظریہ بھی جاتی رہی تھی اور انسان کی نجات انہی دو قوتوں کی اصلاح پر موقوف ہے۔ پھر ان خرابیوں پر یہ دعویٰ کہ ہم خدا کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَقَفَّیْنَا مِنْم بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ ز وَاٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْ نٰـہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِط اَفَکُلَّمَا جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌم بِمَا لاَ تَھْوٰٓی اَنْفُسُکُمُ اسْتَـکْبَرْتُمْ ج فَفَرِیْقًاکَذَّبْتُمْ ز وَفَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ ۔ (اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے بعد پے درپے رسول بھیجے اور عیسیٰ ابن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی تائید کی تو کیا جب جب آئے گا کوئی رسول تمہارے پاس وہ باتیں لے کر جو تمہاری خواہشوں کے خلاف ہوں گی تو تم تکبر کروگے ؟ سو تم نے ایک گروہ کو جھٹلایا اور ایک گروہ کو قتل کرتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 87–88

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل سے عہد لینے کے بعد اس کی یاد دہانی کے لیے مسلسل انبیاء مبعوث کیے گئے مگر یہ لوگ تکبر اور ظلم میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے پختہ عہد سے انحراف، قومی جرائم اور اجتماعی ذلت کا احساس دلا کر بنی اسرائیل کو یاد کروایا گیا ہے کہ اپنی تاریخ کا ریکارڈ ذہن میں لاؤ۔ جب ہم نے تمہاری رہنمائی کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عنایت کی اور ان کے بعد اس عہد کی یاد دہانی اور ایفا کے لیے متواتر انبیائے کرام مبعوث فرمائے۔ یہاں تک کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) ایسے معجزات کے ساتھ مبعوث ہوئے کہ جن کے سامنے حاذق اطبا، معروف دانشور اور بڑے بڑے اہل علم طفل مکتب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت 87: وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ : (اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو کتاب دی) الکتاب سے مراد تو رات ہے جو اکٹھی اتاری گئی وَقَفَّیْنَا مِنْم بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ : (اور ان کے بعد پے در پے رسول بھیجے) عرب کہتے ہیں قفاہ جب کوئی گردن کے پیچھے سے آئے۔ جیسے ذنبہ یہ ذنب سے ہے۔ اور قفاہ بہ پیچھے چلنا چلانا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کے پیچھے بہت سے رسول بھیجے۔ اور وہ یوشع، اشمویل، شمعون، داؤد، سلیمان، شعیائ، وارمیائ، عزیر، حزقیل، الیاس، الیسع، یونس، زکریا، یحیٰی وغیرھم۔ وَاٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ : (اور عیسیٰ بن مریم کو کھلے معجزات دئیے) مریم کا معنی خادم ہے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

87۔ (آیت)” ولقد اتینا “ ہم نے عطا کیا (موسی الکتاب) تورات (دی) ایک ہی دفعہ ” وقفینا “ اور ہم نے پیچھے (بھیجا) (آیت)” من بعدہ بالرسل “ رسول کو بعد رسول کے (آیت)” واتینا عیسیٰ ابن مریم البینات “ واضح نشانیاں اور یہ (نشانیاں) وہی ہیں جن کا ذکر سورة آل عمران اور مائدہ میں ہوا اور کہا گیا ہے کہ ” بینات “ سے مراد انجیل ہے ” وایدناہ “ انہیں ہم نے قوت بخشی ” بروح القدس “ ابن کثیر (رح) نے ” القدس “ پڑھا ، دال کی سکون کے ساتھ اور دوسروں نے دال کی ضمہ (پیش) کے ساتھ پڑھا اور یہ دونوں لغتیں ہیں جیسے کہ ” رعب “ اور ” رعب “ ہے۔ روح القدس میں انہوں نے اختلاف کیا ، ربیع وغیرہ نے کہا روح سے مراد وہ ہے جس میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے ما بین ایک ہزار نوسو پچیس برس کے زمانہ میں کتاب تو وہی تورات ہی رہی مگر حضرت زکریا ( علیہ السلام) یونس یحییٰ ‘ داؤد ‘ سلیمان (علیہ السلام) اور نبی اللہ تعالیٰ نے تورات کے احکام قائم رکھنے کے لئے متواتر بھیجے۔ اور ان انبیاء نے جب کبھی بنی اسرائیل کو تورات کے احکام کی پابندی پر زیادہ مجبور کیا اور برخلاف کتاب الٰہی کے جو باتیں یہود نے رائج کر رکھی تھیں ان سے ان کو روکا تو انہوں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کر کے بعضوں کو ان میں سے شہید کیا اور بعضوں کے ساتھ سخت مخالفت سے پیش آئے۔ روح القدس کی تفسیر میں صحیح قول یہ ہے کہ روح القدس سے مراد یہاں حضرت جبرئیل ہیں 1 کہ وہ ہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) ولقد اتینا موسیٰ الکتب ” اور تحقیق ہم نے موسیٰ کو کتاب دی “ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسانات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے اپنے کلیم حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو ان میں مبعوث فرمایا، ان کو تورات عطا کی۔ پھر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد ان میں پے در پے انبیاء اور رسول مبعوث فرمائے جو تورات کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور انہیں واضح نشانیاں عطا کیں جن پر انسان ایمان لے آتا ہے۔ (ویادنہ بروح القدس یعنی ” حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو روح القدس کے ذریعے تقویت دی۔ “ اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ روح القدس سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 86–94

قول باری ہے : قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ عند اللہ خالصۃ من دون الناس قسموا الموت ان کنتم صدقین (ان سے کہو کہ اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لئے مخصوص ہے تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو) روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ” اگر یہود موت کی تمنا کرتے تو سب مرجاتے اور جہنم کے اندر اپنے اپنے ٹھکانے دیکھ لیتے اور اگر اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ مباہلہ کرنے والے اپنے گھروں سے نکل آتے تو واپس جا کر نہ تو وہ اپنے اہل و عیال کو پاتے اور نہ ہی کوئی مال ملتا۔ “ حضرت ابن عباس نے فرمایا :” اگر یہ لوگ موت کی تمنا کرتے تو انہیں موت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 86–87

244 دنیا کی آخرت پر ترجیح بیماریوں کی بیماری ۔ والعیاذ باللہ : سو یہ ہے بیماریوں کی بیماری، اور خرابیوں کی جڑ بنیاد، کہ انسان آخرت کی اپنی حقیقی ابدی اور دائمی زندگی کو بھول کر اور اسے پس پشت ڈال کر اسی دنیائے دوں کیلئے جینے اور اسی کیلئے مرنے لگے۔ یہی حال تھا ابنائے دنیا کا کل بھی، اور یہی حال ہے انکا آج بھی۔ ان کے نزدیک سب کچھ بس یہی دنیائے فانی اور اس کا حطام زائل ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ قرآن حکیم اپنی انقلاب آفریں اور پاکیزہ تعلیمات کے ذریعے جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس خیال باطل پر ضرب لگاتا ہے، کہ لوگو ! اس دھوکے میں نہیں پڑنا، کیونکہ اصل زندگی بہرحال آخرت ہی کی زندگی ہے، جیسا کہ سورة…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

حضرت عیسیٰ کی آمد تشریح : پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی تمام نافرمانیوں، سر کشیوں اور بداعمالیوں کا ذکر کیا ہے۔ اب اس آیت میں ان کی ایمان و یقین کی کمزوریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب بنی اسرائیل کتاب اللہ کو بدلنے لگے اور احکامات الٰہی کی نافرمانی کرنے لگے تو پھر ہم نے حضرت موسیٰ کے بعد اور بھی بہت سے نبی بھیجے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد انبیاء کا سلسلہ جاری رہا۔ جن میں بعض مشہور نبی یہ ہیں۔ حضرت یوشع (علیہ السلام) ، داؤد (علیہ السلام) ، زکریا (علیہ السلام) ، یحییٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے نبیوں میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 87–96

آیات 87- 96 اسرار و معارف حقیقت یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی ، ایک لائحہ عمل ، پوری زندگی کا پروگرام اور ایسا جو دنیا وآخرت ہر دو عالم کی کامیابی کا ضامن ہو دیا۔ انسان کی ساری سوچ بچار ، ساری تگ ودو اور انتخاب واسمبلیاں صرف اس لئے ہیں کہ زندگی بسر کرنے کا بہترین طریقہ تلاش کیا جائے مگر ہم نے آسمان نازل فرما کر اللہ کی طرف سے تمہیں ایک مکمل ضابطہ حیات دیا اور ساتھ ایک الوالعزم رسول بھیجا کہ صرف کتاب نافع نہیں جب تک دل پاک ہو کہ اس کی تعلیمات کو قبول نہ کرنے لگ جائیں جو صحبت رسول کا حاصل ہے اور جب یہ استعداد حاصل ہو تب بھی کتاب اللہ کی شرح نبی اور رسول ہی کرسکتا ہے کہ ہمیشہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 86–87

ف 1 یہاں الکتاب سے توریت مراد ہے جسے یہود نے بدل ڈالا تھا اور قفینا من بعدہ بالر سل کے معنی یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان کے پاس مسلسل پیغمبر آتے رہے جیسے فرمایا : ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا ( المومنون : 44) اور آخر کار بنی اسرائیل کے انبیاء کا یہ سلسلہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ختمج ہوگیا اور بتینا سے معجزات مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے جسے مردوں کو زندہ کرنا مٹی سے پرن بنا کر اس میں روح پھونکنا کوڑی اور اندھے کو صحتیاب کرنا وغیرہ جن کا ذکر سورت آل عمران آیت 49) اور مائدہ (آیت 110) میں آیا ہے قر طبی۔ ابن کثیر) اور روح سے مراد حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:87) الکتب : ای التوراۃ۔ قفینا۔ ماضی جمع متکلم ۔ تقضیۃ (تفعیل) مصدر سے ۔ پیچھے بھیجنا۔ پیچھے کردینا ۔ اس کے مادہ قفا ہے۔ قفا کا معنی گردن اور سر کا پچھلا حصہ (گدی) قفو اور قفو پیچھے چلنا، پیروی کرنا (اس معنی میں مجرد باب نصر سے مستعمل ہے) تقضیۃ (باب تفعیل) دو مفعول چاہتا ہے اور اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوتی ہیں۔ (1) کبھی دونوں مفعول پر حرف جر نہیں ہوتا۔ مثلاً تفیت زیداً عمرواً میں نے زید کو عمرو کے پیچھے بھیجا۔ (2) کبھی مفعول دوم پر ب آتا ہے۔ قرآن مجید میں اسی طرح مستعمل ہے مثلاً آیت ہذا۔ اور ہم نے اس کے پیچھے رسول بھیجے اور ثم قفینا علی اثارہم برسلنا (57:27) پھر ہم نے ان کے قدموں کے نشان پر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 87–88

لغات القرآن : آیت نمبر 87 تا 88 اتینا (ہم نے دیا) ۔ قفینا (ایک کے بعد دوسرے کو ہم نے بھیجا) ۔ ایدناہ (ہم نے اس کو قوت دی) ۔ روح القدس (جبرئیل (پیغمبروں پر وحی لانے والا فرشتہ) ۔ افکلما (کیا پھر ایسا نہیں ہوا کہ جب کبھی بھی ) ۔ لا تھوی (پسند نہ تھا، خواہش نہ تھی) ۔ کذبتم (تم نے جھٹلایا) ۔ غلاف (غلاف، (محفوظ رکھنے کی چیز) ۔ لعن (لعنت کی، لعنت کے معنی ہیں اللہ کی رحمت سے دوری) ۔ تشریح : آیت نمبر 87 تا 88 اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے نظام کو درست رکھنے کے لئے پاکیزہ نفس پیغمبروں (علیہ السلام) کو انسانوں کی ہدایت کے لئے مسلسل ایک کے بعد ایک ہزاروں کی تعداد میں بھیجا تا کہ بھٹکے ہوئے انسانوں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

حضرت موسیٰ (علیہما السلام) کے مابین ایک ہزار نو سو پچیس (1925) برس کے زمانہ میں کتاب تو وہی توریت ہی رہی مگر حضرت زکریا ، یونس ، یحییٰ ، داؤد، سلیمان اور دیگر انبیاء (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ نے توریت کے دیگر احکام قائم رکھنے کے لئے متواتر بھیجے ۔ ان انبیاء نے جب کبھی بنی اسرائیل کو توریت کے احکام کی پابندی پر زیادہ مجبور کیا تو انہوں نے ان کے ساتھ بد سلوکی کر کے بعضوں کو ان میں سے شہید کردیا ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 87–88

[59] روح القدس۔ اسلامی اصطلاح میں مشہور و مقربِ الٰہی فرشتہ جبرائیل (علیہ السلام) کو کہتے ہیں۔ [60] یعنی وحی کے ذریعہ سے جو جبرائیل لاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 86–87

انبیاء (علیہم السلام) عوام کے جذبات کی پرواہ نہیں کرتے : (ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت نامی کتاب دی گئی جو الواح کی صورت میں تھی خط مسماری کا ان دنوں رواج تھا ، اس لئے کتابیں عموما پتھروں پر کندہ ہوتیں موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد مسلسل بنی اسرائیل میں انبیاء (علیہم السلام) آئے ، تاکہ اللہ کے پیغام کو پوری وسعت وقوت کے ساتھ بندوں تک پہنچا سکیں ، مگر بنی اسرائیل برابر جہل وجمود کے تاریک گڑھوں میں گرے رہے ، زیادہ سے زیادہ چند ظاہری رسوم ان کا متاع تدین تھا روح اور مفر سے محروم تھے ، اس لئے فسق وفجور کے باوجود اپنے آپ کو اللہ کے مقرب ہی سمجھتے رہے ، بالآخر اللہ تعالیٰ نے مسیح (علیہ السلام) کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 اور اے بنی اسرائیل ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تمہاری ہدایت کی غرض سے توریت کتاب دی پھر ان کی وفات کے بعد بھی ہم نے مختلف انبیاء کا سلسلہ جاری رکھا اور یکے بعد دیگرے لگاتار پیغمبر بھیجتے رہے تاکہ وہ تم کو توریت کی تعلیم دیتے رہیں اور تم کو اس پر عمل کر نیکی ترغیب دیں۔ یہاں تک کہ ہم نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کو واضح دلائل اور معجزات عطا فرمائے اور ان کو روح القدس کے ساتھ تقویت دی اور کیا یہ افسوس ناک اور تعجب خیز واقعہ نہیں ہے کہ جب کبھی بھی تمہارے پاس کوئی رسول ایسے احاکم لیکر آیا جن کو تمہارا دل نہ چاہتا تھا اور وہ تمہاری خواہش کے خلاف ہوتے تھے تب ہی تم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 85–89

ف 1۔ اس باب میں ان پر تین حکم واجب تھے اول قتل نہ کرنا دوم اخراج نہ کرنا، سوم اپنی قوم میں سے کسی کو گرفتار وبندی دیکھیں تو روپیہ خرچ کرکے چھڑا دینا۔ سو ان لوگوں نے حکم اول ودوم کو ضائع کردیا تھا اور سوم کا اہتمام کیا کرتے تھے ضن مخالف قوموں کی امداد کا ذکر فرمایا ہے مراد ان قوموں سے اوس اور خزرج ہیں کہ اول بنی قریظہ کی موافقت میں بنی نضیر کے مخالف تھے اور خزرج بنی نضیر کی موافقت میں بنی قریظہ کے مخالف تھے گناہ اور ظلم دو لفظ لانے میں اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس میں دو حق ضائع ہوتے ہیں حق اللہ بھی کہ حکم الہی کی تعمیل نہ کی اور حق العبد بھی کہ دوسرے کو آزار پہنچا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بنی اسرائیل کو موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کی یاددہانی : 168: موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر پیچھے گزر چکا آپ کا حسب و نسب اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) چند واسطوں سے یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔ ان کے والد کا نام عمران اور والدہ کا نام یوکابد تھا۔ یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا نام اسرائیل تھا اور وہ یوسف (علیہ السلام) کے والد ماجد تھے۔ مشیت ایزدی کے مطابق جب حضرت یوسف (علیہ السلام) تخت مصر تک پہنچ گئے تو انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت یعقوب اور اپنے بھائیوں کو مصر ہی کی قریب ایک نئی بستی آباد کر کے اس میں لا بسایا چونکہ یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے لہٰذا اس طرح بنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Qur'an again reminds the Israelites how Allah in His mercy forgave them their transgressions again and again, and provided them with all the means of guidance. First of all, He gave them a Divine Book, the Torah, through Sayyidna Musa (علیہ السلام) (Moses); then, sent them a number of prophets; and, at the end of this line, sent down Sayyidna Isa (علیہ السلام) (Jesus) along with clear and irrefutable evidences of his prophethood, like the Evangel and miracles, and appointed the Archangel Jibra'il (علیہ السلام) (Gabriel) to give him support. The Archangel Jibra'il (علیہ السلام) has often…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

93. The 'spirit of holiness' signifies the knowledge derived through revelation. It also signifies the angel Gabriel who brought this revelation. It also denotes the holy spirit of Jesus, the spirit which God had endowed with angelic character. The expression 'clear proofs' refers to those signs which are likely to convince a truth-seeking and truth-loving person that Jesus is a Prophet of God.

Read the full tafseer →