Explained with ayahs 84–86
اوس و خزرج اور دیگر قبائل کو دعوت اتحاد
اوس اور خزرج انصار مدینہ کے دو قبیلے تھے اسلام سے پہلے ان دونوں قبیلوں کی آپس میں کبھی بنتی نہ تھی ہمیشہ آپس میں جنگ وجدال رہتا تھا۔ مدینے کے یہودیوں کے بھی تین قبیلے تھے بنی قینقاع بنو نضیر اور بنو قریظہ، بنو قینقاع اور بنی نضیر تو خررج کے طرف دار اور ان کے بھائی بند بنے ہوئے تھے، بنی قریظہ کا بھائی چارہ اوس کے ساتھ تھا۔ جب اوس و خزرج میں جنگ ٹھن جاتی تو یہودیوں کے یہ تینوں گروہ بھی اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے اور ان سے مل کر ان کے دشمن سے لڑتے، دونوں طرف کے یہودی یہودیوں کے ہاتھ مارے بھی جاتے اور موقعہ پا کر ایک دوسرے کے گھروں کو بھی اجاڑ ڈالتے، دیس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
سورة الْبَقَرَة 92
نبی ﷺ کی آمد سے پہلے مدینے کے اطراف کے یہودی قبائل نے اپنے ہمسایہ عرب قبیلوں (اَوْس اور خَزْرَج) سے حلیفانہ تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ جب ایک عرب قبیلہ دوسرے قبیلے سے برسر جنگ ہوتا، تو دونوں کے حلیف یہودی قبیلے بھی اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے اور ایک دوسرے کے مقابلے میں نبرد آزما ہوجاتے تھے۔ یہ فعل صریح طور پر کتاب اللہ کے خلاف تھا اور وہ جانتے بوجھتے کتاب اللہ کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ مگر لڑائی کے بعد جب ایک یہودی قبیلے کے اسیران جنگ دوسرے یہودی قبیلے کے ہاتھ آتے تھے، تو غالب قبیلہ فدیہ لے کر انہیں چھوڑتا اور مغلوب قبیلہ فدیہ دے کر انہیں چھڑاتا تھا، اور اس فدیے کے لیے دین کو…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اور وجہ سزا ان کے لئے یہ ہے کہ) یہ وہ لوگ ہیں کہ انہوں نے (احکام کی مخالفت کرکے) دنیاوی زندگانی (کے مزوں) کو لے لیا ہے بعوض (نجات) آخرت کے (جس کا ذریعہ اطاعت ہے) سو نہ تو (سزا دینے والے کی طرف سے) ان کی سزا میں (کچھ) تخفیف دی جاوے گی اور نہ کوئی (وکیل مختار یا دوست رشتہ دار) ان کی طرفداری (پیروی) کرنے پاوے گا،
Read the full tafseer →یہاں اشتراء کے معنی خریدنے یا بیچنے کے نہیں بلکہ مجرد ترجیح دینے کے ہیں۔ آدمی جب ایک شے کو قیمت دے کر خریدتا ہے تو اس کو قیمت کے بالمقابل ترجیح دیتا ہے۔ لسان العرب نے آیت اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَۃَ سے متعلق ابو اسحاق کا یہ قول نقل کیا ہے کہ“یہاں بیع و شرا مراد نہیں ہے بلکہ محض اس بات کا اظہار مقصود ہے کہ جس طرح ایک مشتری اپنا مال دے کر اپنی مطلوب و مرغوب چیز لیتا ہے اسی طرح ان کفار نے ضلالت کو اپنی ایک مرغوب ومحبوب چیز کی طرح پکڑ لیا ہے۔ اہل عرب ہر اس موقع پر جب ایک چیز چھوڑ کر دوسری چیز اختیار کی جائے کہیں گے اِشۡتَرَاہ اس نے اس چیز کو خریدا یعنی اس کو ترجیح دی۔ قرآن مجید…
Read the full tafseer →86۔ 1 یہ شریعت کے کسی حکم کے مان لینے اور کسی کو نظر انداز کردینے کی سزا بیان کی جا رہی ہے۔ اس کی سزا دنیا میں عزت اور سرفرازی کی جگہ (جو مکمل شریعت پر عمل کرنے کا نتیجہ ہے) ذلت اور رسوائی اور آخرت میں ابدی نعمتوں کی بجائے سخت عذاب ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے ہاں وہ اطاعت قبول ہے جو مکمل ہو بعض باتوں کا مان لینا، یا ان پر عمل کرلینا اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہ آیت ہم مسلمانوں کو بھی دعوت و فکر دے رہی ہے کہ کہیں مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کی وجہ بھی مسلمانوں کا وہی کردار تو نہیں جو مزکورہ آیات میں یہودیوں کا بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
58 : اس کا پس منظر یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں یہودیوں کے دو قبیلے آباد تھے، بنو قریظہ اور بنو نضیر، دوسری طرف بت پرستوں کے بھی دو قبیلے تھے اوس اور خزرج، قریظہ کی دوستی اوس قبیلے سے تھی، اور بنو نضیر کی خزرج سے، جب اوس و خزرج میں لڑائی ہوئی تو قریظہ اوس کا ساتھ دیتے اور بنو نضیر خزرج کا، نتیجہ یہ کہ یہودیوں کے دونوں قبیلے بالواسطہ ایک دوسرے کے مدمقابل آجاتے اور ان لڑائیوں میں جہاں اوس اور خزرج کے آدمی مارے جاتے وہاں قریظہ اور نضیر کے یہودی بھی قتل ہوتے یا اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوتے، اس طرح اگرچہ بنو قریظہ اور بنو نضیر دونوں قبیلے یہودی تھے مگر وہ ایک دوسرے کے دشمنوں کی امداد کرکے آپس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
اس کے بعد مسلمانوں کو خصوصاً اور تمام انسانیت کو عموماً خطاب کیا جاتا ہے ۔ اور بتایا جاتا ہے کہ ان یہودیوں کی حقیقت کیا ہے اور ان کے ان اعمال کا انجام کیا ہے ؟ جو وہ کررہے ہیں ۔
أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالآخِرَةِ فَلا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ ” یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت بیچ کر دنیا خرید لی ہے ۔ لہٰذا نہ ان کی سزا میں کوئی تخفیف ہوگی اور نہ انہیں کوئی مدد پہنچ سکے گی۔ “
سوال یہ ہے کہ انہوں نے آخرت بیچ کر دنیا کس طرح خرید لی ؟ وہ یوں کہ وہ اللہ کا عہد توڑنے پر محض اس لئے آمادہ ہوئے کہ وہ اپنے دنیاوی مفادات کی خاطر مشرکین کے ساتھ کئے…
Read the full tafseer →2 یعنی مفاد دنیاوی کو آخرت کے مقابلہ میں قبول کیا اس لیے کہ جن لوگوں سے عہد کیا تھا اس کو دنیا کے خیال سے نبھایا اور اللہ کے جو احکام تھے ان کی پرواہ نہ کی تو پھر اللہ کے ہاں ایسوں کی کون سفارش یا حمایت کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
آیت 85 ثُمَّ اَنْتُمْ ہٰٓؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَکُمْ وَتُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْکُمْ مِّنْ دِیَارِہِمْ ز تَظٰہَرُوْنَ عَلَیْہِمْ بالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ط وَاِنْ یَّاْتُوْکُمْ اُسٰرٰی تُفٰدُوْہُمْ وَہُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْکُمْ اِخْرَاجُہُمْ ط
اب دیکھئے اس واقعہ سے جو اخلاقی سبق moral lesson دیا جا رہا ہے وہ ابدی ہے۔ اور جہاں بھی یہ طرز عمل اختیار کیا جائے گا تاویل عام کے اعتبار سے یہ آیت اس پر منطبق ہوگی۔
اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ج ’
فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلاَّ خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ…
Read the full tafseer →99 یعنی یہود مسلمانوں سے جو کچھ بھی بد عہدیاں کرتے رہے، سب چند روزہ دنیوی مفادات کی خاطر کرتے رہے اور آخرت کے عذاب کا کچھ خیال نہ کیا۔ نیز اس آیت سے ان لوگوں کا یہ مذہب غلط ثابت ہوتا ہے کہ آخرت میں جہنم کا عذاب اس قدر ہلکا ہوجائے گا کہ دوزخیوں کو کچھ تکلیف نہ رہے گی۔ کیونکہ وہ اس کے عادی بن جائیں گے۔
Read the full tafseer →294 ۔ حالانکہ آخرت کا سودا بھی بہت ارزاں تھا۔ ایمان وطاعت سے اسے بہ آسانی خرید سکتے تھے) یہود کی مذہبی کتابوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں فکراخروی باقی ہی نہیں رہ گئی تھی، ان کے مقدس مذہبی نوشتوں تک کی تعلیمات کا خلاصہ صرف یہ رہ گیا تھا کہ مذہب کی راہ پر چلو تاکہ دنیوی فلاح حاصل ہو، قوم کو آزادی ملے، اور تم ایک اقبال مند قوم بن جاؤ۔ آخرت کی جزا وسزا، جس سے قرآن مجید بھرا پڑا ہے، اس سے حد یہ ہے کہ توریت تک تقریبا خالی ہے۔
295 ۔ (آخرت میں) شدید ترین عذاب الہی ابھی اوپر ہی والی آیت میں آچکا ہے۔ اب تاکیدا ارشاد ہورہا ہے کہ اس بےپناہ عذاب سے رہائی پانے کا کیا ذکر ہے، تخفیف تک کی صورت اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
آیت نمبر 85 تا 86
ترجمہ : پھر جیسے تم ہو، سامنے ہو، کہ اپنے ہی بھائی بندوں کو قتل کرتے ہو یعنی آپس ہی میں خون خرابہ کرتے ہو اور اپنے ہی میں سے ایک فریق کو ان کے گھروں سے نکالتے ہو اور ان کے خلاف (غیروں) کی ظلم و زیادتی کے ساتھ مدد کرتے ہو (تَظَاھَرُوْنَ ) میں تاء کا ظَاء میں اصل میں ادغام ہے اور ایک قراءت میں تخفیف کے ساتھ ہے تاء کو حذف کرکے (تَظَاھَرُوْن) معنی میں تَتَعَاونونَ کے ہے اور اگر وہ گرفتار ہو کر تمہارے پاس آتے ہیں اور ایک قراءت میں اسریٰ ہے تو تم ان کو فدیہ دے کر چھڑا لیتے ہو اور ایک قراءت میں، تُفْدُوْھُمْ ، ہے یعنی تم ان کو قید سے مال وغیرہ دے کر رہائی دلاتے ہو، (یعنی قیدی کا…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا بالْاٰخِرَةِ ۡ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ ( یہی لوگ ہیں جنہوں نے مول لے لی ہے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے سو نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ ان کو مدد پہنچے گی) یعنی وہ اللہ کے عذاب سے محفوظ نہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →(86) ایسے لوگ جنہوں نے دنیا کو آخرت کے مقابلہ پر اور کفر کو ایمان کے بدلے اختیار کرلیا ہے، ان سے عذاب میں کسی قسم کی کوئی تخفیف نہیں کی جائے گی اور نہ ان سے عذاب کو بالکل ختم کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
ایک دوسرے کا خون نہیں بہاؤ گے اور ایک دوسرے کو ان کے گھروں سے نہیں نکالو گے“ کے بجائے فرمایا کہ ”تم اپنے خون نہیں بہاؤ گے اور نہ اپنے آپ کو اپنے گھروں سے نکالو گے“ کیونکہ امت مسلمہ کے افراد ایک جسم کی طرح ہیں، کسی بھی مسلم کا خون بہانا اپنا خون بہانا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَثَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِیْ تَوَادِّہِمْ وَ تَرَاحُمِہِمْ وَ تَعَاطُفِہِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَکَی مِنْہٗ عُضْوٌ تَدَاعٰی لَہٗ سَاءِرُ الْجَسَدِ بالسَّہَرِ وَالْحُمّٰی) ”تمام مومن اپنی باہمی دوستی، ایک دوسرے پر رحم اور ایک دوسرے پر شفقت میں ایک جسم کی مانند ہیں، جب اس کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے تو اس کی خاطر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
آیت نمبر 85
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم انتم ھؤلاء، انتم مبتدا ہے اس کو اعراب نہیں دیا جاتا کیونکہ یہ ضمیر ہے۔ انتم میں تا کو ضمہ دیا جاتا ہے، کیونکہ واحد مذکر مخاطب کے صیغہ میں تا مفتوح ہوتی ہے واحد مونث مخاطب میں تا مکسور ہوتی ہے۔ پس جب تو تثنیہ یا جمع کا صیغہ بنائے گا تو صرف ضمہ باقی ہے۔ ھؤلاء قتبی نے کہا : اس کی تقدیر یا ھؤلاء ہے۔ نحاس نے کہا : یہ سیبویہ کے قول کے مطابق خطاب ہے، اور ھذا اقبل جائز نہیں ہے۔ زجاج نے کہا : ھؤلاء بمعنی الذین ہے، تقتلون یہ صلہ میں داخل ہے یعنی ثم انتم الذین تقتلون۔ بعض نے فرمایا : ھؤلاء مبتدا ہے اور انتم خبر مقدم ہے اور تقتلون، ھؤلاء سے حال ہے۔ بعض نے فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
(1) امام عبد بن حمید نے عاصم سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ ” لا تسفکون دماء کم “ تا پر نصب، اور فا پر کسرہ اور کاف پر رفع کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(2) عبد بن حمید نے طلحہ بن مصرف سے روایت کیا ہے کہ ” تسفکون “ میں فا پر رفع کے ساتھ پڑھتے تھے۔
(3) ابن جریر نے ابو العالیہ سے لفظ آیت ” واذ اخذنا میثاقکم لا تسفکون دماء کم “ الآیہ کا یہ مطلب بیان کیا ہے ہم نے ان سے عہد لیا کہ تم ایک دوسرے کو قتل نہ کرو گے لفظ آیت ” ولا یخرجون انفسکم من دیارکم “ یعنی بعض تمہارا بعض کو گھر سے نہ نکالے گا۔ پھر تم نے اس وعدہ کا اقرار کیا اور تم خود ہی گواہی بھی دیتے ہو۔
(4) امام ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت…
Read the full tafseer →[ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ : یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ] [ اشْتَرَوُا : خریدا ] [ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا : دنیوی زندگی کو ] [ بِالْاٰخِرَةِ : آخرت کے بدلے ] [ ۡ فَلَا يُخَفَّفُ : تو کم نہیں کیا جائے گا ] [ عَنْهُمُ الْعَذَابُ : عذاب کو ] [ وَلَا ھُمْ : اور نہ ہی وہ لوگ ] [ يُنْصَرُوْنَ : مدد دئیے جائیں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
(اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ) ” کیا تم کتاب کے بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض پر ایمان نہیں رکھتے۔ “
کیا توریت شریف میں قیدی کے چھڑانے ہی کا حکم ہے اور کیا آپس کا قتل و قتال اور ایک دوسرے کو جلا وطن کرنا توریت شریف میں ممنوع نہیں ہے ؟ یعنی قتل و قتال کی ممانعت پر تو عمل نہ کیا اور قیدی کو چھڑانے کے لیے پیسے خرچ کرنے کو تیار ہوگئے۔ حالانکہ اس کا قیدی ہونا قتل و قتال کی بنیاد پر ہے۔ نہ قتل و قتال کرتے نہ یہ قیدی ہو کر آتا۔ لہٰذا معاملہ شریعت موسوی کا نہ رہا بلکہ اپنی طبیعت کا رہا۔ جس حکم کو چاہا مانا اور جس حکم کو چاہا نہ مانا، جس حکم کو مانا اسے ایمان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
شناعت دواز دہم (12)
قال تعالیٰ ۔ واذ اخذنا میثاقکم لا تسفکون دماء کم۔۔۔ الی۔۔۔ ولاھم ینصرون
(ربط): علاوہ ازیں تمہاری دوسری عہد شکنیوں کا بھی مقتضی یہی ہے کہ تم کو چند روز عذاب نہیں بلکہ دائمی عذاب دیا جائے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس وقت کو جب کہ ہم نے تم سے اس امر کا پختہ عہد لیا کہ آپس میں خونریزی نہ کرو گے اور نہ ایک دوسرے کو گھروں سے نکالو گے۔ اپنے ہم مذہبوں کو قتل کرنا اور ان کو جلاوطن کرنا درحقیقت اپنے ہی کو قتل کرنا اور جلا وطن کرنا ہے۔ اسی وجہ سے بجائے اقاربکم واھل ملتکم کے انفسکم۔ کا لفظ استعمال فرمایا اور پھر تم نے اس کا اقرار بھی کرلیا کہ یہ عہد اور پیمان ہم کو منظور اقبول ہے…
Read the full tafseer →169 ان لوگوں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی حالانکہ آخرت حاصل کرنیکا پورا پورا سامان ان کے پاس موجود تھا۔ خدا کی کتاب تورات ان کے پاس موجود تھی مگر انہوں نے اس پر عمل کر کے سامانِ آخرت تیار کرنیے کے بجائے اسے دنیا حاصل کرنیکا ذریعہ بنایا۔ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ ۔ ان کے عذاب میں قطعاً کوئی تخفیف نہیں ہوگی نہ دنیوی سزا میں نہ اخروی میں وَلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ ۔ فعل مجہول لا کر اور فاعل کا ذکر نہ کر کے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ مذکورہ عذاب سے بچانے کے لیے انہیں کسی طرف سے کسی قسم کی مدد نہیں پہنچے گی نہ دولت دنیا کے ذریعے انہیں عذاب سے چھڑا جاسکے گا، نہ ان کے اسلاف کی وجاہت اور بزرگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
گزشتہ سے پیوستہ : بنی اسرائیل کی عہد شکنیوں کا ذکر آرہا ہے۔ اس سے بیشتر اس عہد کا بیان ہوچکا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اجتماعی حقوق اور انسانی حقوق سے متعلق بنی اسرائیل سے بذریعہ توراۃ لیا تھا۔ مگر انہوں نے اس عہد کو پورا بھی نہ کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ پھر چند آدمیوں کے سوا تم سب اس عہد سے پھرگئے۔ اور تم اعراض کرنے والے ہی ہو۔
خون ناحق اور جلاوطنی : خون ناحق اور جلاوطنی بڑے گناہوں میں سے ہیں۔ ان دو برائیوں سے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے توراۃ میں عہد لیا تھا کہ ان گناہوں کا ارتکاب نہیں کریں گے۔ مگر یہ قوم اس عہد پر بھی قائم نہ رہی۔ ارشاد ہوتا ہے “ واذا اخذنا میثاقکم ” جب ہم…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا بِالْاٰخِرَۃِ 0 ۡفَلَا يُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ 86 ۧ
شری
الشِّرَاءُ والبیع يتلازمان، فَالْمُشْتَرِي دافع الثّمن، وآخذ المثمن، والبائع دافع المثمن، وآخذ الثّمن . هذا إذا کانت المبایعة والْمُشَارَاةُ بناضّ وسلعة، فأمّا إذا کانت بيع سلعة بسلعة صحّ أن يتصور کلّ واحد منهما مُشْتَرِياً وبائعا، ومن هذا الوجه صار لفظ البیع والشّراء يستعمل کلّ واحد منهما في موضع الآخر . وشَرَيْتُ بمعنی بعت أكثر، وابتعت بمعنی اشْتَرَيْتُ أكثر، قال اللہ تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] ، أي : باعوه،
( ش ر ی ) شراء
اور بیع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
ترکیب : وعطف کے لیے کہ جو ایک جملہ کا دوسرے جملہ پر چلا آتا ہے۔ اخذنا فعل بافاعل میثاقکم مفعول لا تفسکون الخ بدل ہے میثاق سے انتم مبتداء ھؤلاء علیٰ حذف مضاف خبر ای مثل ھؤلائِ اور تقتلون اور تخرجون حال ہیں اور عامل ان میں معنی تشبیہ۔ تظاھرون الخ جملہ موضع نسب میں ہے۔ اس لیے کہ یہ حال ہے فاعل تخرجون سے۔ تظاھرون اصل میں تتظاہرون تھا ایک ت حذف ہوگئی اور بعضت ثانی کو ط سے بدل کر ظ کو ظ میں ادغام کرکے مشدد پڑھتے ہیں۔ عدوان مصدر ہے بروزن کفران بمعنی ظلم۔ اسارٰی جمع اسیر ہے۔ فاعل یا تو سے اور بعض نے اس کو اسریٰ بھی پڑھا ہے۔ تفادوھم جواب شرط ہے وھو ضمیر شان مبتدا محرم خبر اخراجہم مرفوع بسبب محرم کے…
Read the full tafseer →اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُالْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَۃِ ز فَلَایُخَفَّفُ عَنْھُمُ الْعَذَابُ وَلَاھُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔ (البقرۃ : 86)
(یہی لوگ ہیں جنھوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی ہے۔ تو نہ تو ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے)
بنی اسرائیل کا اصل مرض
اس آیت کریمہ میں بنی اسرائیل کی حقیقی بیماری کا ذکر فرمایا گیا ہے اور ان کی وہ دکھتی رگ پکڑی ہے جس میں خرابی کے باعث ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی مسموم ہو کر رہ گئی ہے۔
اشتراء کا مفہوم
یہاں اِشْتَرَوْاکا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی ” خریدنے یا بیچنے “ کے ہیں۔ لیکن جب خریدنے یا بیچنے کی حقیقت پر غور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : یہود و نصاریٰ کی یہ عہد شکنیاں اس لیے تھیں کہ انہوں نے آخرت کو فراموش کر کے دنیا کو مقدم کرلیا تھا۔ دنیا کے لیے وہ تمام اخلاقی اور دینی حدیں پھاندنے کے لیے تیار رہتے تھے۔
کفار اور مشرکین کے بارے میں قرآن مجید بار بار اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ ان لوگوں پر نہ عذاب ہلکا ہوگا اور نہ ہی انہیں جہنم سے نجات ملے گی۔ جس شخص کے بارے میں عذاب ہلکا ہونے کا امکان ہے وہ جناب ابو طالب ہیں۔ ان کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے اس امید کا اظہار کیا ہے۔
(عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ؓ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ﷺ وَذُکِرَ عِنْدَہُ عَمُّہُ فَقَالَ لَعَلَّہُ تَنْفَعُہُ شَفَاعَتِی یَوْمَ…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 86:
اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَۃِ :
(یہی لوگ ہیں جنہوں نے مول لے لی ہے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے) یعنی انہوں نے اس کو آخرت پر ترجیح دی۔ جیسا کہ خریدار بعض اشیاء کو چنتا ہے۔
فَلاَ یُخَفَّفُ عَنْھُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَ :
(پس ان سے کم نہ کیا جائے گا عذاب اور نہ ان کی مدد کی جائے گی) عذاب دور کرنے میں ان کی کوئی مدد نہ کرے گا۔
Read the full tafseer →(تفسیر) 86۔:
(آیت)” اولئک الذین اشتروا “ انہوں نے بدلا ” الحیاۃ الدنیا بالاخرۃ فلا یخفف “ ہلکا (نہ ہوگا) (آیت)” عنھم العذاب ولا ھم ینصرون “ اللہ عزوجل کے عذاب سے روکے نہ جائیں گے ۔
Read the full tafseer →اس آیت میں یہود اپنے اعمال کے سبب سے جس ٹوٹے میں پڑگئے اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان لوگوں نے اپنی عاقبت ہاتھ سے دور کردینا حاصل کی جو چند روز ہے۔ لیکن اس بد اعمالی کے سبب سے عقبیٰ میں ان لوگوں پر ایسا عذاب ہوگا جس کی سختی میں کبھی کچھ کمی نہ ہو۔ اور وہاں ان کا کوئی مددگار بھی پیدا نہ ہوگا۔ صحیحین میں نعمان بن بشیر سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سب دوزخیوں سے کم عذاب جس شخص پر ہوگا اس کو آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گے جس سے اس کا بھیجا کھول جائے گا 1۔ پھر جن لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کو سخت عذاب ہوگا اور ان کے عذاب میں کبھی کبھی کچھ تحفیف نہ ہوگی۔ ان کا کیا حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
آیت کریمہ میں مذکور فعل ان لوگوں کا تھا جو نزول وحی کے زمانے میں مدینہ میں موجود تھے اور یہ اس طرح کہ اوس اور خزرج، جو انصار کے نام سے مشہور ہیں، رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل مشرک تھے اور جاہلیت کی عادت کے مطابق باہم دست و گریباں رہتے تھے، اسی اثناء میں یہود کے تین قبیلوں، بنو قریظہ بنو نضیر اور بنو قینقاع نے مدینہ میں آ کر وہاں رہنا شروع کردیا۔ ان میں سے ہر قبیلے نے مدینہ کے کسی قبیلے کے ساتھ (دفاعی) معاہدہ کرلیا۔ جب کبھی اوس اور خزرج کی آپس میں لڑائی ہوتی تو یہودی قبیلہ اس کے مخالفین کے خلاف مدد کرتا جن کی مدد دوسرا یہودی قبیلہ کر رہا ہوتا۔ یوں یہودی ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے۔ بسا اوقات یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–94
قول باری ہے : قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ عند اللہ خالصۃ من دون الناس قسموا الموت ان کنتم صدقین (ان سے کہو کہ اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لئے مخصوص ہے تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو) روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ” اگر یہود موت کی تمنا کرتے تو سب مرجاتے اور جہنم کے اندر اپنے اپنے ٹھکانے دیکھ لیتے اور اگر اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ مباہلہ کرنے والے اپنے گھروں سے نکل آتے تو واپس جا کر نہ تو وہ اپنے اہل و عیال کو پاتے اور نہ ہی کوئی مال ملتا۔ “ حضرت ابن عباس نے فرمایا :” اگر یہ لوگ موت کی تمنا کرتے تو انہیں موت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
244 دنیا کی آخرت پر ترجیح بیماریوں کی بیماری ۔ والعیاذ باللہ : سو یہ ہے بیماریوں کی بیماری، اور خرابیوں کی جڑ بنیاد، کہ انسان آخرت کی اپنی حقیقی ابدی اور دائمی زندگی کو بھول کر اور اسے پس پشت ڈال کر اسی دنیائے دوں کیلئے جینے اور اسی کیلئے مرنے لگے۔ یہی حال تھا ابنائے دنیا کا کل بھی، اور یہی حال ہے انکا آج بھی۔ ان کے نزدیک سب کچھ بس یہی دنیائے فانی اور اس کا حطام زائل ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ قرآن حکیم اپنی انقلاب آفریں اور پاکیزہ تعلیمات کے ذریعے جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس خیال باطل پر ضرب لگاتا ہے، کہ لوگو ! اس دھوکے میں نہیں پڑنا، کیونکہ اصل زندگی بہرحال آخرت ہی کی زندگی ہے، جیسا کہ سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
بنی اسرائیل کی عہد شکنی اور نافرمانی
تشریح : اللہ تعالیٰ نے یہودیوں سے دو اور باتوں کا وعدہ بھی لیا تھا۔ ایک یہ کہ وہ آپس میں خونریزی نہ کریں گے جو انہوں نے کی۔ دوسرے یہ کہ وہ اپنی قوم کو ناحق جلا وطن نہ کریں گے۔ اس طرح قوم کا اتحاد ختم ہوجائے گا اور ان کی طاقت نہ رہے گی جس کی وجہ سے مخالفین موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان پر فتح حاصل کرکے ان کو محکوم بنا لیں گے۔ ہوا یہ کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں بنی اسرائیل کے جو دو قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ مدینہ اور اس کے آس پاس آباد تھے۔ وہ ہمیشہ خانہ جنگی میں مصروف رہتے۔ مشرکین مدینہ کے بھی دو قبیلے، اوس اور خزرج وہاں آباد تھے، یہودیوں کا ایک قبیلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
آیات 83- 86
اسرارو معارف
بنی اسرائیل ہی کی حالت بیان کرتے ہوئے مزید ارشاد ہوتا ہے کہ ذرا وہ منظر چشم تصور کے سامنے لائو ، جب ہم نے ان سے عہد لیا تھا کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے دوسرے والدین کے ساتھ سلوک کرو گے اور تیسرے یہ کہ یتیموں اور مساکین کے ساتھ احسان کرو گے اور چوتھے یہ کہ نوع انسانی تمہارے حسن کلام سے مستفید ہوگی اور پانچویں یہ کہ نماز ادا کرو گے اور جو صدقات فر ض ہیں ان کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرو گے۔ مگر سوائے معدودے چند لوگوں کے تم ان باتوں سے پھرگئے۔
یہود ونصاریٰ دعویٰ تو اللہ ہی کی عبادت کا کرتے تھے مگر عملاً اپنے علماء اور ہبان جو کہتے کر گزرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
ف 1 یہاں الکتاب سے توریت مراد ہے جسے یہود نے بدل ڈالا تھا اور قفینا من بعدہ بالر سل کے معنی یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان کے پاس مسلسل پیغمبر آتے رہے جیسے فرمایا : ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا ( المومنون : 44) اور آخر کار بنی اسرائیل کے انبیاء کا یہ سلسلہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ختمج ہوگیا اور بتینا سے معجزات مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے جسے مردوں کو زندہ کرنا مٹی سے پرن بنا کر اس میں روح پھونکنا کوڑی اور اندھے کو صحتیاب کرنا وغیرہ جن کا ذکر سورت آل عمران آیت 49) اور مائدہ (آیت 110) میں آیا ہے قر طبی۔ ابن کثیر) اور روح سے مراد حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں۔…
Read the full tafseer →(2:86) اولئک۔ اسم اشارہ بعید مذکر، اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جن کی کرتوتیں اوپر مذکور ہوئیں۔
اشتروا۔ ماضی جمع مذکر غائب اشتراء (افتعال) مصدر جس کے معنی بیچنا اور خریدنا دونوں ہیں۔ ش ر ی۔ مادہ۔ آیت ہذا میں یہ بمعنی خریدنے کے ہے۔ یعنی جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی۔ اردو میں اکثر اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اور مشتری خریدار کو کہتے ہیں۔ چناچہ مثل ہے، مشتری ہوشیار باش۔ خریدار کو چوکس رہنا چاہیے۔ انہی معنوں میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ ان اللہ اشتری من المؤمنین (9:111) خدا نے مومنوں سے ۔۔ خرید لئے ہیں۔
اور بیچنے کے معنی میں ہے وشروہ بثمن بخس (12:20) اور اس کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
لغات القرآن : آیت نمبر 83 تا 86
لا تعبدون (تم عبادت نہ کرو گے) ۔ احسان (اچھابرتاؤ بہتر معاملہ) ۔ ذی القربیٰ (رشتہ دار) ۔ یتمی (یتیم، بےباپ کے بچے) حسن (اچھی بات، بھلائی کی بات) ۔ تولیتم (تم پلٹ گئے) ۔ معرضون (منہ پھیرنے والے) ۔ لا تسفکون (تم نہ بہاؤ گے ) ۔ دماء کم (اپنوں کے خون) ۔ دیار (گھر) ۔ اقررتم (تم نے اقرار کیا) ۔ تشھدون (تم گواہ ہو) ۔ ھؤلاء (وہی (تم ہو) ۔ تظھرون (تم چڑھائی کرتے ہو، چڑھ کر جاتے ہو) ۔ الاثم (گناہ) ۔ العدوان (زیادتی، ظلم ) ۔ اسری (اسیر) قیدی) ۔ تفادوھم (تم ان کا فدیہ دیتے ہو، بدلہ دیتے ہو) ۔ محرم (حرام کردیا گیا) ۔ افتؤمنون (کیا پھر تم ایمان لائے ہو (ا، کیا، پھر، تومنون،…
Read the full tafseer →اس آیت میں یہود اپنے اعمال کے سبب جس ٹوٹے میں پڑگئے اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ ان لوگوں نے اپنی عاقبت ہاتھ سے دے کر دنیا حاصل کی جو چند روزہ ہے ۔ صحیحین میں حضرت نعمان بن بشر ؓ سے روایت ہے کہ سب دوزخیوں سے کم عذاب جس شخص پر ہوگا اس جو آگ جو تیاں پہنائی جاویں گی۔ جس سے اس کا بھجا کھول جاوے گا ۔ پھر جن لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کو سخت عذاب ہوگا اور ان کے عذاب میں کبھی کچھ تخفیف نہ ہوگی ان کا کیا حال ہوگا ۔ خدا اپنے عذاب سے محفوظ رکھے ۔ (آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
[58] یعنی تمہارے بڑوں سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
انبیاء (علیہم السلام) عوام کے جذبات کی پرواہ نہیں کرتے :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت نامی کتاب دی گئی جو الواح کی صورت میں تھی خط مسماری کا ان دنوں رواج تھا ، اس لئے کتابیں عموما پتھروں پر کندہ ہوتیں موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد مسلسل بنی اسرائیل میں انبیاء (علیہم السلام) آئے ، تاکہ اللہ کے پیغام کو پوری وسعت وقوت کے ساتھ بندوں تک پہنچا سکیں ، مگر بنی اسرائیل برابر جہل وجمود کے تاریک گڑھوں میں گرے رہے ، زیادہ سے زیادہ چند ظاہری رسوم ان کا متاع تدین تھا روح اور مفر سے محروم تھے ، اس لئے فسق وفجور کے باوجود اپنے آپ کو اللہ کے مقرب ہی سمجھتے رہے ، بالآخر اللہ تعالیٰ نے مسیح (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →ف 2 یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیوی زندگی کو خرید لیا پھر اب ان پر سے نہ تو کسی وقت عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ کہیں سے ان کو کسی طرح کی مدد پہنچ سکے گی۔ (تیسیر)
خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ بعض احکام کی متابعت کریں اور بعض احاکم کو پس پشت ڈال کر اس سے بےاعتنائی برتیں تو ان کی سزا وہی ہے جو اوپر کی آیت میں تجویز کی گئی اور اس سزا کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کے چند روزہ منافع کو اختیار کر رکھا ہے۔ یہاں بھی وہی بیع و شرا کو بطور استعارہ استعمال کیا ہے جیسا کہ ہم ابتدائے سورت میں عرض کرچکے ہیں کہ اصل تو دو استعدادوں میں سے ایک کو بےکار کردینا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
ف 1۔ اس باب میں ان پر تین حکم واجب تھے اول قتل نہ کرنا دوم اخراج نہ کرنا، سوم اپنی قوم میں سے کسی کو گرفتار وبندی دیکھیں تو روپیہ خرچ کرکے چھڑا دینا۔ سو ان لوگوں نے حکم اول ودوم کو ضائع کردیا تھا اور سوم کا اہتمام کیا کرتے تھے ضن مخالف قوموں کی امداد کا ذکر فرمایا ہے مراد ان قوموں سے اوس اور خزرج ہیں کہ اول بنی قریظہ کی موافقت میں بنی نضیر کے مخالف تھے اور خزرج بنی نضیر کی موافقت میں بنی قریظہ کے مخالف تھے گناہ اور ظلم دو لفظ لانے میں اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس میں دو حق ضائع ہوتے ہیں حق اللہ بھی کہ حکم الہی کی تعمیل نہ کی اور حق العبد بھی کہ دوسرے کو آزار پہنچا۔
Read the full tafseer →دُنیا کی خاطر آخرت کو برباد کیا لیکن دنیا بھی ہاتھ نہ آئی :
167: آخرت کا تصور خالصتاً اسلامی تصور ہے اس لیے کہ اسلام نے بار بار اس کا ذکر کیا ہے اور دونوں کے لیے الگ اصول و قواعد بیان کیے ہیں اور مسلمانوں کو ہدایت کی ہے کہ دنیا کے اندر رہ کر دنیا کے فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ آخرت کو بھی سنوارنا ہے اور دنیا کا کوئی ایسا فائدہ جو آخرت کو برباد کر دے اس کو حاصل کرنے سے باز رہنا ہے اور آخرت کا کوئی فائدہ جو دنیا کا نقصان برداشت کرنے سے حاصل ہوتا ہے خوشی سے دنیا کا نقصان برداشت کرنا ہے یہ تصور جس کو اسلام نے نشو ونما دی ، اس کو قوم بنی اسرائیل نے بالکل بھلا دیا تھا۔ گویا ان کی قومی زندگی میں یہ…
Read the full tafseer →This verse explains why the Jews will have to undergo such a severe punishment. They have been disobeying Allah in order to satisfy their desires and to enjoy worldly pleasures; they have also sacrificed for these things their salvation in the other world. Their sin being so great, Allah will not reduce or mollify their punishment, nor will He allow anyone to intercede on their behalf.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
92. Before the advent of the Prophet (peace be on him) the Jewish tribes who lived on the outskirts of Madina had concluded an alliance with the Arab tribes of Aws and Khazraj. When the Arab tribes fought against one another each Jewish tribe fought on the side of its allies, which led to fratricide and so to a flagrant violation of the Book of God. Moreover, when the war ended the captives were ransomed. This ransom was justified on the basis of scriptural arguments; they extolled the Word of God when it permitted the ransom of prisoners of war, but attached no significance at all to the…
Read the full tafseer →