Explained with ayahs 84–86
اوس و خزرج اور دیگر قبائل کو دعوت اتحاد
اوس اور خزرج انصار مدینہ کے دو قبیلے تھے اسلام سے پہلے ان دونوں قبیلوں کی آپس میں کبھی بنتی نہ تھی ہمیشہ آپس میں جنگ وجدال رہتا تھا۔ مدینے کے یہودیوں کے بھی تین قبیلے تھے بنی قینقاع بنو نضیر اور بنو قریظہ، بنو قینقاع اور بنی نضیر تو خررج کے طرف دار اور ان کے بھائی بند بنے ہوئے تھے، بنی قریظہ کا بھائی چارہ اوس کے ساتھ تھا۔ جب اوس و خزرج میں جنگ ٹھن جاتی تو یہودیوں کے یہ تینوں گروہ بھی اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے اور ان سے مل کر ان کے دشمن سے لڑتے، دونوں طرف کے یہودی یہودیوں کے ہاتھ مارے بھی جاتے اور موقعہ پا کر ایک دوسرے کے گھروں کو بھی اجاڑ ڈالتے، دیس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
سورة الْبَقَرَة 92
نبی ﷺ کی آمد سے پہلے مدینے کے اطراف کے یہودی قبائل نے اپنے ہمسایہ عرب قبیلوں (اَوْس اور خَزْرَج) سے حلیفانہ تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ جب ایک عرب قبیلہ دوسرے قبیلے سے برسر جنگ ہوتا، تو دونوں کے حلیف یہودی قبیلے بھی اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے اور ایک دوسرے کے مقابلے میں نبرد آزما ہوجاتے تھے۔ یہ فعل صریح طور پر کتاب اللہ کے خلاف تھا اور وہ جانتے بوجھتے کتاب اللہ کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ مگر لڑائی کے بعد جب ایک یہودی قبیلے کے اسیران جنگ دوسرے یہودی قبیلے کے ہاتھ آتے تھے، تو غالب قبیلہ فدیہ لے کر انہیں چھوڑتا اور مغلوب قبیلہ فدیہ دے کر انہیں چھڑاتا تھا، اور اس فدیے کے لیے دین کو…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
تتمہ میثاق میں جو حکم ان کو دیا گیا ہے اس کے متعلق عہد شکنی کا بیان اس آیت میں فرمایا ہے پھر (اس اقرار صریح کے بعد) تم (جیسے ہو) یہ (آنکھوں کے سامنے) موجود (ہی) ہو کہ باہم قتل و قتال بھی کرتے ہو اور ایک دوسرے کو ترک وطن بھی کراتے ہو، (اس طور پر کہ) ان اپنوں کے مقابلہ میں (ان کی مخالف قوموں کی) امداد کرتے ہو، گناہ اور ظلم کے ساتھ (سو ان دونوں حکموں کو تو یوں غارت کیا) اور (ایک تیسرا حکم جو سہل سا سمجھا اس پر عمل کرنے کو خوب تیار رہتے ہو کہ) اگر ان لوگوں میں سے کوئی گرفتار ہو کر تم تک پہنچ جاتا تو ایسوں کو کچھ خرچ کرا کر رہا کرا دیتے ہو حالانکہ یہ بات (بھی معلوم) ہے کہ تم کو ان کا…
Read the full tafseer →یعنی جس عہد کو تم نے اس اہتمام کے ساتھ باندھا اب تم ہی لوگ ہو کہ اس کو اس سرگرمی کے ساتھ توڑ رہے ہو۔ اس توڑنے کی شکل یہاں قرآن مجید نے یہ بیان کی ہے کہ تم اپنے بھائیوں کے خلاف ان کے دشمنوں سے ساز باز کرتے ہو اور پھر ان کے مددگار بن کر اپنے بھائیوں کو ان کی بستیوں سے جلاوطن کراتے ہو۔ اس طرح ان کو ذلیل وخوار کرا لینے کے بعد جب وہ دشمنوں کے ہاتھوں قیدی ہو کر تمہارے پاس آتے ہیں تو تم اپنی ملت پروری اور قوم پرستی کا مظاہرہ کرنے کے لئے ان کو فدیہ دے کر چھڑاتے بھی ہو کہ یہ تورات کا حکم ہے، حالانکہ تورات میں جس طرح فدیہ دے کر چھڑانے کا حکم ہے، اسی طرح یہ ممانعت بھی موجود ہے کہ اپنے بھائیوں کو ان کی…
Read the full tafseer →85۔ 1 نبی کریم ﷺ کے زمانے میں انصار (جو اسلام سے قبل مشرک تھے) کے دو قبیلے تھے اوس اور خزرج، ان کی آپس میں آئے دن جنگ رہتی تھی۔ اس طرح یہود مدینہ کے تین قبیلہ تھے، بنو قینقاع، بنو نفیر اور بنو قریظ۔ یہ بھی آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ بنو قریظہ اوس کے حلیف (ساتھی) اور بنو قینقاع اور بنو نفیر، بنو خزرج کے حلیف تھے۔ جنگ میں یہ اپنے اپنے حلیفوں (ساتھیوں کی مدد کرتے اور اپنے ہی مذہب یہودیوں کو قتل کرتے، ان کے گھروں کو لوٹتے اور انہیں جلا وطن کردیتے حالانکہ تورات کے مطابق ایسا کرنا ان کے لئے حرام تھا۔ لیکن پھر انہی یہودیوں کو جب وہ مغلوب ہونے کی وجہ سے قیدی بن جاتے تو فدیہ دے کر چھڑاتے کہتے کہ ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
58 : اس کا پس منظر یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں یہودیوں کے دو قبیلے آباد تھے، بنو قریظہ اور بنو نضیر، دوسری طرف بت پرستوں کے بھی دو قبیلے تھے اوس اور خزرج، قریظہ کی دوستی اوس قبیلے سے تھی، اور بنو نضیر کی خزرج سے، جب اوس و خزرج میں لڑائی ہوئی تو قریظہ اوس کا ساتھ دیتے اور بنو نضیر خزرج کا، نتیجہ یہ کہ یہودیوں کے دونوں قبیلے بالواسطہ ایک دوسرے کے مدمقابل آجاتے اور ان لڑائیوں میں جہاں اوس اور خزرج کے آدمی مارے جاتے وہاں قریظہ اور نضیر کے یہودی بھی قتل ہوتے یا اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوتے، اس طرح اگرچہ بنو قریظہ اور بنو نضیر دونوں قبیلے یہودی تھے مگر وہ ایک دوسرے کے دشمنوں کی امداد کرکے آپس میں…
Read the full tafseer →ثُمَّ أَنْتُمْ هَؤُلاءِ تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِنْكُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ تَظَاهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالإثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُسَارَى تُفَادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ
” مگر آج وہی تم ہو کہ اپنے بھائی بندوں کو قتل کرتے ہو ۔ اپنی برادری کے کچھ لوگوں کو بےخانماں کردیتے ہو۔ ظلم و زیادتی کرنے کے ساتھ ان کے خلاف جتھا بندیاں کرتے ہو ، اور جب لڑائی میں پکڑے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں تو ان کی رہائی کے لئے فدیہ کا لین دین کرتے ہو ۔ حالانکہ ان کو ان کے گھروں سے نکالنا ہی سرے سے تم پر…
Read the full tafseer →4 مدینہ میں دو فریق یہودیوں کے تھے ایک بنی قریظہ دوسرے بنی نضیر۔ یہ دونوں آپس میں لڑا کرتے تھے اور مشرکوں کے بھی مدینہ میں دو فرقے تھے ایک " اوس " دوسرے " خزرج " یہ دونوں بھی آپس میں دشمن تھے۔ بنی قریظہ تو اوس کے موافق ہوئے اور بنی نضیر نے خزرج سے دوستی کی تھی۔ لڑائی میں ہر کوئی اپنے موافقوں اور دوستوں کی حمایت کرتا جب ایک کو دوسرے پر غلبہ ہوتا تو کمزوروں کو جلا وطن کرتے ان کے گھر ڈھاتے اور اگر کوئی قید ہو کر پکڑا آتا تو سب رل مل کر مال جمع کر کے اس کا بدلہ دے کر قید سے اس کو چھڑاتے جیسا کہ آئندہ آیت میں آتا ہے۔
5 یعنی اپنی قوم غیر کے ہاتھ میں پھنستی تو چھڑانے کو مستعد اور خود ان کے ستانے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
آیت 85 ثُمَّ اَنْتُمْ ہٰٓؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَکُمْ وَتُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْکُمْ مِّنْ دِیَارِہِمْ ز تَظٰہَرُوْنَ عَلَیْہِمْ بالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ط وَاِنْ یَّاْتُوْکُمْ اُسٰرٰی تُفٰدُوْہُمْ وَہُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْکُمْ اِخْرَاجُہُمْ ط
اب دیکھئے اس واقعہ سے جو اخلاقی سبق moral lesson دیا جا رہا ہے وہ ابدی ہے۔ اور جہاں بھی یہ طرز عمل اختیار کیا جائے گا تاویل عام کے اعتبار سے یہ آیت اس پر منطبق ہوگی۔
اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ج ’
فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلاَّ خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ…
Read the full tafseer →97 مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی آمد سے بیشتر مشرکین مدینہ کے دو مشہور قبائل اوس اور خزرج مدینہ میں آباد تھے اور یہ آپس میں ہمیشہ لڑتے رہتے تھے اور یہود مدینہ کے دو قبائل بنو قریظہ اور بنو نضیر ان عرب قبائل کے حلیف بن کر ان کو باہم لڑاتے رہنے کا کردار ادا کیا کرتے تھے۔ بنو قریظہ تو قبیلہ اوس کے حلیف تھے اور بنو نضیر قبیلہ خزرج کے۔ یہود گو تعداد میں کم تھے مگر یہ مالدار قوم تھی اور اوس و خزرج کو لڑا کر اپنا سیاسی تفوق بھی برقرار رکھتے تھے اور اسلحہ بھی بیچتے تھے۔ جس کے یہ تاجر تھے۔ ان یہود کی بالکل وہی مثال سمجھئے جو آج سے کچھ مدت پیشتر روس اور امریکہ کی تھی۔ یہ دونوں طاقتیں اسلام کی دشمن تھیں اور…
Read the full tafseer →287 ۔ یہود کے جو قبیلے عہد نبوی میں، مدینہ اور جوار مدینہ میں آباد تھے، ان کی ایک عادت یہ بھی تھی کہ باہم خانہ جنگیوں میں مصروف رہا کرتے تھے، مشرکین مدینہ دو بڑی ٹکڑیوں میں، آج کل کی ” مہذب “ فرنگی قوموں کی طرح بٹے ہوئے تھے۔ ایک اتحاد اوس کا تھا دوسرا خزرج کا۔ اسرائیلیوں کے بھی بڑے قبیلے بنی نضیر اور بنی قریظہ یہی کیا کرتے کہ ان میں سے ایک مشرکوں کے ایک جتھے کے ساتھ ہوجاتا اور دوسرا مشرکوں کی دوسری پارٹی کے ساتھ اور پھر جنگ جب شروع ہوجاتی تو ؔ ظاہر ہے کہ وہ سب ہی کچھ ہوتا جو جنگ میں ہوا کرتا ہے۔ جلا وطنی اسرائیلی کا قتل اسرائیلی کے ہاتھ سے، وغیرہا۔ ؛ یہاں عہد نبوی کے معاصر اسرائیلیوں کے یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
آیت نمبر 85 تا 86
ترجمہ : پھر جیسے تم ہو، سامنے ہو، کہ اپنے ہی بھائی بندوں کو قتل کرتے ہو یعنی آپس ہی میں خون خرابہ کرتے ہو اور اپنے ہی میں سے ایک فریق کو ان کے گھروں سے نکالتے ہو اور ان کے خلاف (غیروں) کی ظلم و زیادتی کے ساتھ مدد کرتے ہو (تَظَاھَرُوْنَ ) میں تاء کا ظَاء میں اصل میں ادغام ہے اور ایک قراءت میں تخفیف کے ساتھ ہے تاء کو حذف کرکے (تَظَاھَرُوْن) معنی میں تَتَعَاونونَ کے ہے اور اگر وہ گرفتار ہو کر تمہارے پاس آتے ہیں اور ایک قراءت میں اسریٰ ہے تو تم ان کو فدیہ دے کر چھڑا لیتے ہو اور ایک قراءت میں، تُفْدُوْھُمْ ، ہے یعنی تم ان کو قید سے مال وغیرہ دے کر رہائی دلاتے ہو، (یعنی قیدی کا…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَنْتُمْ ھٰٓؤُلَاۗءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُوْنَ فَرِيْـقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِيَارِھِمْ ( پھر وہی تم ہو کہ خون کرتے ہو آپس میں اور نکال دیتے ہو اپنے ایک فرقہ کو ان کے وطن سے) یہاں ثم بعد زمانی کے لیے نہیں بلکہ بعد عہد کے لیے ہے عہد کے توڑ دینے کے استبعاد کو ظاہر کرنے کے لیے آیا ہے ( جیسے کہتے ہیں کہ میاں ہم نے کہا تم نے پھر بھی نہ مانا) انتم مبتدا ہے اور ھٰوُلَاء خبر ہے اور معنی یہ ہیں پھر تم وہی بد عہد ہو۔ جیسے کہا کرتے ہیں کہ کیا تم وہی شخص ہو جس نے ایسا کیا۔ صفت کے بدلنے کو بمنزلہ ذات کے بدلنے کے ٹھیر کر ایسے کلام کا استعمال کیا کرتے ہیں اور جملہ تقتلون انفسکم یا تو حال…
Read the full tafseer →(85) مگر اے قبول کرنے والو ! اس کے بعد پھر تم لوگوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور ایک دوسرے کو گھروں سے نکالا، ایک دوسرے کی ظلم و زیادتی کرنے پر مدد کرتے ہو اور جس وقت تمہارا ہم مذہب تمہارے پاس قید ہو کر آتا ہے تو دشمن کو فدیہ دے کر چھڑالیتے، حالانکہ ان کو نکالنا اور قتل کرنا دونوں چیزیں تم پر حرام کردی گئی تھیں تو کیا تم کتاب کے بعد احکام پر ایمان لاتے ہو کہ اپنے قیدیوں کا اپنے دشمنوں کو فدیہ دے کر چھڑا لیتے ہو اور اپنے ساتھیوں کے قیدیوں کو چھوڑ دیتے ہو، اس کا فدیہ نہیں ادا کرتے، اور ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ کتابی احکام میں سے جن احکام کو تمہارا نفس چاہے ہیں ان کو کرتے ہو اور جو تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
ایک دوسرے کا خون نہیں بہاؤ گے اور ایک دوسرے کو ان کے گھروں سے نہیں نکالو گے“ کے بجائے فرمایا کہ ”تم اپنے خون نہیں بہاؤ گے اور نہ اپنے آپ کو اپنے گھروں سے نکالو گے“ کیونکہ امت مسلمہ کے افراد ایک جسم کی طرح ہیں، کسی بھی مسلم کا خون بہانا اپنا خون بہانا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَثَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِیْ تَوَادِّہِمْ وَ تَرَاحُمِہِمْ وَ تَعَاطُفِہِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَکَی مِنْہٗ عُضْوٌ تَدَاعٰی لَہٗ سَاءِرُ الْجَسَدِ بالسَّہَرِ وَالْحُمّٰی) ”تمام مومن اپنی باہمی دوستی، ایک دوسرے پر رحم اور ایک دوسرے پر شفقت میں ایک جسم کی مانند ہیں، جب اس کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے تو اس کی خاطر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
آیت نمبر 85
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم انتم ھؤلاء، انتم مبتدا ہے اس کو اعراب نہیں دیا جاتا کیونکہ یہ ضمیر ہے۔ انتم میں تا کو ضمہ دیا جاتا ہے، کیونکہ واحد مذکر مخاطب کے صیغہ میں تا مفتوح ہوتی ہے واحد مونث مخاطب میں تا مکسور ہوتی ہے۔ پس جب تو تثنیہ یا جمع کا صیغہ بنائے گا تو صرف ضمہ باقی ہے۔ ھؤلاء قتبی نے کہا : اس کی تقدیر یا ھؤلاء ہے۔ نحاس نے کہا : یہ سیبویہ کے قول کے مطابق خطاب ہے، اور ھذا اقبل جائز نہیں ہے۔ زجاج نے کہا : ھؤلاء بمعنی الذین ہے، تقتلون یہ صلہ میں داخل ہے یعنی ثم انتم الذین تقتلون۔ بعض نے فرمایا : ھؤلاء مبتدا ہے اور انتم خبر مقدم ہے اور تقتلون، ھؤلاء سے حال ہے۔ بعض نے فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
(1) امام عبد بن حمید نے عاصم سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ ” لا تسفکون دماء کم “ تا پر نصب، اور فا پر کسرہ اور کاف پر رفع کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(2) عبد بن حمید نے طلحہ بن مصرف سے روایت کیا ہے کہ ” تسفکون “ میں فا پر رفع کے ساتھ پڑھتے تھے۔
(3) ابن جریر نے ابو العالیہ سے لفظ آیت ” واذ اخذنا میثاقکم لا تسفکون دماء کم “ الآیہ کا یہ مطلب بیان کیا ہے ہم نے ان سے عہد لیا کہ تم ایک دوسرے کو قتل نہ کرو گے لفظ آیت ” ولا یخرجون انفسکم من دیارکم “ یعنی بعض تمہارا بعض کو گھر سے نہ نکالے گا۔ پھر تم نے اس وعدہ کا اقرار کیا اور تم خود ہی گواہی بھی دیتے ہو۔
(4) امام ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت…
Read the full tafseer →[ ثُمَّ اَنْتُمْ : پھر تم ] [ ھٰٓؤُلَاۗءِ : وہ لوگ ہو ] [ تَقْتُلُوْنَ : کہ قتل کرتے ہو ] [ اَنْفُسَكُمْ : اپنوں کو ] [ وَتُخْرِجُوْنَ : اور تم نکالتے ہو ] [ فَرِيْـقًا مِّنْكُمْ : ایک فریق کو اپنوں میں سے ] [ مِّنْ دِيَارِھِمْ ۡ : ان کے گھروں سے ] [ تَظٰھَرُوْنَ : باہم مل کر چڑھائی کرتے ہو ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ بِالْاِثْمِ : گناہ سے ] [ وَالْعُدْوَانِ ۭ: اور دشمنی سے ] [ وَاِنْ يَّاْتُوْكُمْ : اور اگر وہ لوگ آتے ہیں تمہارے پاس ] [ اُسٰرٰى: قیدی ہو کر ] [ تُفٰدُوْھُمْ : تو تم لوگ بدلہ دے کر چھڑاتے ہو ان کو ] [ وَھُوَ : اور بات یہ ہے کہ ] [ مُحَرَّمٌ: حرام کیا گیا ہے ] [ عَلَيْكُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
(اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ) ” کیا تم کتاب کے بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض پر ایمان نہیں رکھتے۔ “
کیا توریت شریف میں قیدی کے چھڑانے ہی کا حکم ہے اور کیا آپس کا قتل و قتال اور ایک دوسرے کو جلا وطن کرنا توریت شریف میں ممنوع نہیں ہے ؟ یعنی قتل و قتال کی ممانعت پر تو عمل نہ کیا اور قیدی کو چھڑانے کے لیے پیسے خرچ کرنے کو تیار ہوگئے۔ حالانکہ اس کا قیدی ہونا قتل و قتال کی بنیاد پر ہے۔ نہ قتل و قتال کرتے نہ یہ قیدی ہو کر آتا۔ لہٰذا معاملہ شریعت موسوی کا نہ رہا بلکہ اپنی طبیعت کا رہا۔ جس حکم کو چاہا مانا اور جس حکم کو چاہا نہ مانا، جس حکم کو مانا اسے ایمان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
شناعت دواز دہم (12)
قال تعالیٰ ۔ واذ اخذنا میثاقکم لا تسفکون دماء کم۔۔۔ الی۔۔۔ ولاھم ینصرون
(ربط): علاوہ ازیں تمہاری دوسری عہد شکنیوں کا بھی مقتضی یہی ہے کہ تم کو چند روز عذاب نہیں بلکہ دائمی عذاب دیا جائے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس وقت کو جب کہ ہم نے تم سے اس امر کا پختہ عہد لیا کہ آپس میں خونریزی نہ کرو گے اور نہ ایک دوسرے کو گھروں سے نکالو گے۔ اپنے ہم مذہبوں کو قتل کرنا اور ان کو جلاوطن کرنا درحقیقت اپنے ہی کو قتل کرنا اور جلا وطن کرنا ہے۔ اسی وجہ سے بجائے اقاربکم واھل ملتکم کے انفسکم۔ کا لفظ استعمال فرمایا اور پھر تم نے اس کا اقرار بھی کرلیا کہ یہ عہد اور پیمان ہم کو منظور اقبول ہے…
Read the full tafseer →162 یہاں سے اسرائیلیوں کی عہد شکنی کا بیان ہے۔ یعنی تمہیں خانہ جنگی سے منع کیا تھا مگر تم پختہ اقرار کے باوجود باز نہ رہے اور اپنے بھائی بندوں کو قتل کرنا شروع کردیا۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مدینہ کے دو مشہور قبیلے اوس اور خزرج صدیوں سے ایک دوسرے کے دشمن چلے آرہے تھے۔ مدینہ میں اور اس کے گردونواح کی بستیوں میں یہودی بھی ایک اقلیت کی حیثیت سے آباد تھے اور ان کے دو قبیلے بنی قریظہ اور بنی نضیر مشہور تھے۔ اقلیت کو ہمیشہ دوسروں کے سہارے جینا پڑتا ہے اس لیے بنی قریظہ نے قبیلہ اوس سے معاہدہ کرلیا اور بنی نضیر قبیلہ خزرج کے حلیف بن گئے۔ اوس اور خزرج کے درمیان آئے دن خونریز لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
گزشتہ سے پیوستہ : بنی اسرائیل کی عہد شکنیوں کا ذکر آرہا ہے۔ اس سے بیشتر اس عہد کا بیان ہوچکا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اجتماعی حقوق اور انسانی حقوق سے متعلق بنی اسرائیل سے بذریعہ توراۃ لیا تھا۔ مگر انہوں نے اس عہد کو پورا بھی نہ کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ پھر چند آدمیوں کے سوا تم سب اس عہد سے پھرگئے۔ اور تم اعراض کرنے والے ہی ہو۔
خون ناحق اور جلاوطنی : خون ناحق اور جلاوطنی بڑے گناہوں میں سے ہیں۔ ان دو برائیوں سے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے توراۃ میں عہد لیا تھا کہ ان گناہوں کا ارتکاب نہیں کریں گے۔ مگر یہ قوم اس عہد پر بھی قائم نہ رہی۔ ارشاد ہوتا ہے “ واذا اخذنا میثاقکم ” جب ہم…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَنْتُمْ ھٰٓؤُلَاۗءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُوْنَ فَرِيْـقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِيَارِھِمْ 0 ۡتَظٰھَرُوْنَ عَلَيْہِمْ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ 0 ۭ وَاِنْ يَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْھُمْ وَھُوَمُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ اِخْرَاجُہُمْ 0 ۭ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ 0 ۚ فَمَا جَزَاۗءُ مَنْ يَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا 0 ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ يُرَدُّوْنَ اِلٰٓى اَشَدِّ الْعَذَابِ 0 ۭ وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ 85
«أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء
«أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
ترکیب : وعطف کے لیے کہ جو ایک جملہ کا دوسرے جملہ پر چلا آتا ہے۔ اخذنا فعل بافاعل میثاقکم مفعول لا تفسکون الخ بدل ہے میثاق سے انتم مبتداء ھؤلاء علیٰ حذف مضاف خبر ای مثل ھؤلائِ اور تقتلون اور تخرجون حال ہیں اور عامل ان میں معنی تشبیہ۔ تظاھرون الخ جملہ موضع نسب میں ہے۔ اس لیے کہ یہ حال ہے فاعل تخرجون سے۔ تظاھرون اصل میں تتظاہرون تھا ایک ت حذف ہوگئی اور بعضت ثانی کو ط سے بدل کر ظ کو ظ میں ادغام کرکے مشدد پڑھتے ہیں۔ عدوان مصدر ہے بروزن کفران بمعنی ظلم۔ اسارٰی جمع اسیر ہے۔ فاعل یا تو سے اور بعض نے اس کو اسریٰ بھی پڑھا ہے۔ تفادوھم جواب شرط ہے وھو ضمیر شان مبتدا محرم خبر اخراجہم مرفوع بسبب محرم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
وَاِذْاَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ لاَتَسْفِکُوْنَ دِمَآئَ کُمْ وَلَاتُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَاَنْتُمْ تَشْھَدُوْنَ ۔ ثُمَّ اَنْتُمْ ھٰٓؤُلَآئِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَکُمْ وَتُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْکُمْ مِّنْ دِیَارِھِمْز تَظٰھَرُوْنَ عَلَیْھِمْ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِط وَاِنْ یَّاْتُوْکُمْ اُسٰرٰی تُفٰدُوْھُمْ وَھُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْکُمْ اِخْرَاجُھُمْط اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍج فَمَاجَزَآئُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلَّاخِزْیٌ فِیْ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل نے نہ صرف اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو توڑا بلکہ اس حد تک عہد شکن ثابت ہوئے کہ انہوں نے باہمی تعلقات کو توڑتے ہوئے اپنوں میں سے کمزور لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا۔
اس بات پر یہودیوں کو سمجھایا گیا ہے کہ مظلوموں کی حالت زار تمہاری سیاست اور مذموم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے جبکہ تورات میں تمہیں اس بات سے منع کیا اور تم سے عہد لیا گیا تھا کہ اپنوں کو قتل کرنا اور کمزوروں کو ان کے گھروں سے نکالنا سنگین اخلاقی اور معاشرتی جرم ہے۔ یہاں بار بار مخاطب کی ضمیر لا کر انہیں شرم دلائی جارہی ہے کہ یہ تمہارے ہی ہم نسب اور ہم وطن ہیں۔ جن میں سے کچھ کو تم قتل کردیتے…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَنْتُمْ ھٰؤُلآئِ : (پھر تم وہی ہو) یہ ان کی طرف قتل وجلاوطنی دشمنی میں حد سے نکلنے کی نسبت سے کہا گیا۔ کہ میثاق لیے جانے اور اقرار و شہادت کے بعد یہ بات تم سے بہت ہی بعید ہے۔
نحو : انتم، مبتداء اور ھولاء بمعنی الذین ہے۔
تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَکُمْ : (قتل کرتے ہو ایک دوسرے کو) یہ ھٰؤلاء کا صلہ ہے۔ اور یہ صلہ موصول مل کر خبر ہے
وَتُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْکُمْ مِّنْ دِیَارِہِمْ : (اور نکالتے ہو ایک جماعت کو ان کے گھروں سے) اللہ تعالیٰ کے میثاق کا لحاظ وپ اس کیے بغیر۔
تَظٰھَرُوْنَ عَلَیْھِمْ : (ایک دوسرے کی مدد کرتے ہو ان کے مقابلے میں)
قراءت : کوفی کے ہاں تخفیف کے ساتھ ہے دیگر قراءت…
Read the full tafseer →(تفسیر) 85۔:
(آیت)” ثم انتم ھؤلائ “۔ یعنی یا ھؤلاء ، اور ھؤلاء “ نتبیہ کے لیے ہے، (آیت)” تقتلون انفسکم “ یعنی تمہارا بعض ، بعض کو قتل کرتا ہے ، (آیت)” وتخرجون فریقا منکم من دیارھم تظاھرون علیھم “ ظاء کی شد کے ساتھ یعنی ” تظاھرون “ اصل میں ” تتظاھرون “ تھا ، ک تاء کو ظاء میں ادغام کردیا گیا ، عاصم (رح) حمزہ (رح) کسائی (رح) نے ” تظاھرون “ کو تخفیف کے ساتھ یعنی بغیر شد کے پڑھا ہے تو انہوں نے تفاعل کی تاء کو حذف کیا اور تاء خطاب کو باقی رکھا ، مثل قول اللہ تعالیٰ کے ” ولا تعاونو “ (بہرحال دونوں یعنی تخفیف وتشدید) صورتوں میں معنی ” تتعاونو “ ہوگا یعنی تم مدد کرتے ہو اور ظہیر کا معنی عون ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
(84 ۔ 85): مدینہ میں اوس و خزرج دو بڑے قبیلے رہتے تھے۔ اسلام سے پہلے ان دونوں قبیلوں میں سخت عداوت تھی اور مدینہ کے اطراف میں یہود کے تین قبیلے بنی قنیقاع بنی نضیر اور بنی قریظہ رہتے تھے۔ بنی قنیقاع اور بنی نضیر کی عرب کے خزرج قبیلہ سے دوستی تھی اور بنی قریظہ کی اوس قبیلہ سے۔ جب یہ دونوں قبیلے عرب کے آپس میں لڑتے تو یہود بھی اپنے اپنے دوست قبیلہ کے ساتھ ہو کر لڑتے اور ایک طرف کے یہودیوں کے ہاتھ سے دوسری طرف کے یہودی مارے جاتے اور اگر ایک طرف کے یہود دوسری طرف گرفتار ہوجاتے تو تورات کے حکم کے موافق چھوڑوائی کی رقم دے کر اپنے قیدیوں کو ضرور یہود چھڑا لیتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہود کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
آیت کریمہ میں مذکور فعل ان لوگوں کا تھا جو نزول وحی کے زمانے میں مدینہ میں موجود تھے اور یہ اس طرح کہ اوس اور خزرج، جو انصار کے نام سے مشہور ہیں، رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل مشرک تھے اور جاہلیت کی عادت کے مطابق باہم دست و گریباں رہتے تھے، اسی اثناء میں یہود کے تین قبیلوں، بنو قریظہ بنو نضیر اور بنو قینقاع نے مدینہ میں آ کر وہاں رہنا شروع کردیا۔ ان میں سے ہر قبیلے نے مدینہ کے کسی قبیلے کے ساتھ (دفاعی) معاہدہ کرلیا۔ جب کبھی اوس اور خزرج کی آپس میں لڑائی ہوتی تو یہودی قبیلہ اس کے مخالفین کے خلاف مدد کرتا جن کی مدد دوسرا یہودی قبیلہ کر رہا ہوتا۔ یوں یہودی ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے۔ بسا اوقات یہ…
Read the full tafseer →قول باری ہے : وان یاتوکم اسری تفادوھم وھو محرم علیکم اخراجہم افتومنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض (اور جب وہ لڑائی میں پکڑے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں تو ا ن کی رہائی کے لئے فدیہ کا لین دین کرتے ہو، حالانکہ انہیں گھروں سے نکالنا ہی سرے سے تم پر حرام تھ، تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو ؟ )
یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ لڑائی میں قید ہوجانے پر یہودیوں کا فدیہ دے کر انہیں چھڑا لینا ان پر واجب تھا اور ان میں سے ایک گروہ کو ان کے گھروں سے نکالنا ان پر حرام تھا۔ جب ان میں سے بعض لوگوں اپنے دشمنوں کو گرفتار کرلیتے تو ان پر ان کی رہائی کے لئے فدیہ دینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
238 دوسروں پر زیادتی خود اپنے اوپر زیادتی ہے : یعنی اپنی قوم کے لوگوں کو، اور اپنے ہم مذہب بھائیوں کو، ان کے گھروں سے نہیں نکالنا مگر اس کو یہاں پر تعبیر " اَنْفُسَکُمْ " کے الفاظ سے فرمایا گیا ہے کہ تم خود اپنے آپ کو اپنے گھروں سے نہیں نکالنا، سو اس میں بڑی بلاغت اور معنویت ہے، کہ اس سے یہ عظیم الشان درس ملتا ہے کہ اپنے بھائیوں کو ان کے گھروں سے نکالنا گویا خود اپنے آپ ہی کو نکالنا ہے۔ ایک تو اس لئے کہ تمہارے بھائی تم ہی میں سے ہیں " بَعْضُکُمْ مِنْ بَعْضٍ " کہ تم سب آپس میں ایک ہی جسم کی حیثیت رکھتے ہو۔ تو ان کو نکالنا گویا خود اپنے آپ کو نکالنا ہے، اور دوسرے اس لئے کہ اس طرح جب گھروں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
بنی اسرائیل کی عہد شکنی اور نافرمانی
تشریح : اللہ تعالیٰ نے یہودیوں سے دو اور باتوں کا وعدہ بھی لیا تھا۔ ایک یہ کہ وہ آپس میں خونریزی نہ کریں گے جو انہوں نے کی۔ دوسرے یہ کہ وہ اپنی قوم کو ناحق جلا وطن نہ کریں گے۔ اس طرح قوم کا اتحاد ختم ہوجائے گا اور ان کی طاقت نہ رہے گی جس کی وجہ سے مخالفین موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان پر فتح حاصل کرکے ان کو محکوم بنا لیں گے۔ ہوا یہ کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں بنی اسرائیل کے جو دو قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ مدینہ اور اس کے آس پاس آباد تھے۔ وہ ہمیشہ خانہ جنگی میں مصروف رہتے۔ مشرکین مدینہ کے بھی دو قبیلے، اوس اور خزرج وہاں آباد تھے، یہودیوں کا ایک قبیلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
آیات 83- 86
اسرارو معارف
بنی اسرائیل ہی کی حالت بیان کرتے ہوئے مزید ارشاد ہوتا ہے کہ ذرا وہ منظر چشم تصور کے سامنے لائو ، جب ہم نے ان سے عہد لیا تھا کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے دوسرے والدین کے ساتھ سلوک کرو گے اور تیسرے یہ کہ یتیموں اور مساکین کے ساتھ احسان کرو گے اور چوتھے یہ کہ نوع انسانی تمہارے حسن کلام سے مستفید ہوگی اور پانچویں یہ کہ نماز ادا کرو گے اور جو صدقات فر ض ہیں ان کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرو گے۔ مگر سوائے معدودے چند لوگوں کے تم ان باتوں سے پھرگئے۔
یہود ونصاریٰ دعویٰ تو اللہ ہی کی عبادت کا کرتے تھے مگر عملاً اپنے علماء اور ہبان جو کہتے کر گزرتے…
Read the full tafseer →ف 3 مدینہ منورہ میں یہود کے تین قبیلے تھے بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریضہ۔ مدینہ کے عرب قبیلوں سے ان کے حلیفانہ تعلقات تھے۔ بنو قینقاع اور بنو نضیر قبیلہ خزرج اور بنو قر یظہ قبیلہ اوس کے حلیف تھے خزرج اور اوس کی آپس میں جنگ رہا کرتے تھی۔ جب کبھی ان کے درمیان لڑائی ہوتی تو وہ دنوں کو حلیف یہودی قبیلے بھی اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے یہودی اپنے دشمن کو مارتا اور کبھی دوسرے یہودی کو بھی قتل کر یتا اور اس کا گھر بار لوٹ لیتا۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا یہ فعل توریت میں دیئے ہوئے احکام کو خلاف ہے لیکن لڑائی ختم ہوتی اور مغلوب قبیلے کے کچھ آدمی غالب کی قید میں آجاتے تو وہ خود ہی فدیہ دے کر غالب قبیلہ…
Read the full tafseer →(2:85) ثم۔ یہاں ثم تراخی زمانی کے لئے نہیں بلکہ بعد عہد کے لئے ہے۔ عہد کے توڑ دینے کے استبعاد کو ظاہر کرنے کے لئے آیا ہے۔ ثم انتم ھولائ۔ پھر یہ تمہی ہو کہ (اس میثاق کو توڑ کر) آپس میں خون ریزی کرتے ہو انتم ھولاء تقتلون انفسکم ۔ صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں انتم مبتدا ہے اور ھولاء خبر ہے اور معنی یہ ہیں کہ : پھر تم وہی بد عہد ہو جیسے کہا کرتے ہیں کیا تم وہی شخص ہو جس نے ایسا کیا۔ صفت بدلنے کو بمنزلہ ذات کے بدلنے کے ٹھہرا کر ایسے کلام کا استعمال کیا کا تے ہیں اور جملہ تقتلون انفسکم یا تو حال ہے اور عامل اس میں معنی اشارہ کے ہیں اور یا انتم ھولاء کا بیان ہے اور یا یہ کہا جائے ھولاء بمعنی الذی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
لغات القرآن : آیت نمبر 83 تا 86
لا تعبدون (تم عبادت نہ کرو گے) ۔ احسان (اچھابرتاؤ بہتر معاملہ) ۔ ذی القربیٰ (رشتہ دار) ۔ یتمی (یتیم، بےباپ کے بچے) حسن (اچھی بات، بھلائی کی بات) ۔ تولیتم (تم پلٹ گئے) ۔ معرضون (منہ پھیرنے والے) ۔ لا تسفکون (تم نہ بہاؤ گے ) ۔ دماء کم (اپنوں کے خون) ۔ دیار (گھر) ۔ اقررتم (تم نے اقرار کیا) ۔ تشھدون (تم گواہ ہو) ۔ ھؤلاء (وہی (تم ہو) ۔ تظھرون (تم چڑھائی کرتے ہو، چڑھ کر جاتے ہو) ۔ الاثم (گناہ) ۔ العدوان (زیادتی، ظلم ) ۔ اسری (اسیر) قیدی) ۔ تفادوھم (تم ان کا فدیہ دیتے ہو، بدلہ دیتے ہو) ۔ محرم (حرام کردیا گیا) ۔ افتؤمنون (کیا پھر تم ایمان لائے ہو (ا، کیا، پھر، تومنون،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
شان نزول : توریت میں بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا تھا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کریں ، وطن سے نہ نکالیں اور جو بنی اسرائیل کسی کی قید میں ہو تو اس کو مال دے کر چھڑالیں ۔ اس عہد پر انہوں نے اقرار بھی کیا، اپنے نفس پر شاہد بھی ہوئے لیکن قائم نہ رہے اور اس سے پھرگئے ۔ صورت واقعہ یہ ہے کہ نواح مدینہ میں یہود کے تین قبیلے بنی قینقاع اور بنی نضیر اور بنی قریظہ رہتے تھے ۔ بنی قینقاع اور بنی نظیر کی عرب کے خزرج قبیلہ سے دوستی تھی ، اور بنی قریظہ کی اوس قبیلہ سے ۔ جب دونوں قبیلے آپس میں لڑتے تو یہود بھی اپنے اپنے دوست قبیلے کے ساتھ ہو کر لڑتے اور ایک طرف کے یہود یوں کے ہاتھ سے دوسری طرف کے یہودی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
[58] یعنی تمہارے بڑوں سے۔
Read the full tafseer →ایمان بالبعض وکفر بالبعض :
(ف 1) یہودیوں کا یہ وطیرہ مذہب کے باب میں اس مذہبی اہلیت کا پتہ دیتا ہے جو ان کے دلوں میں مستتر تھی ، غالبا وہ برائے نام یہودی تھے اور کسی نہ کسی طرح مذہبی رکھ رکھاؤ کا خیال تھا ، ورنہ مذہب کے صحیح ذوق سے وہ محض کورے تھے ۔
مدینے میں اوس و خزرج نامی دو قومیں آباد تھیں جن میں آئے دن کوئی نہ کوئی جنگ رہتی ، یہودی بحیثیت حلیف ہونے کے ان کا ساتھ دیتے رہے ، کچھ لوگ اوس کی طرف ہوجاتے اور کچھ خزرج کا ساتھ دیتے ۔ اور اس بےدریغی سے لڑتے کہ گویا یہی اصل فریق متخاصم ہیں اور جب ایک دوسرے کے ہاتھ میں بحیثیت قیدی کے پیش ہوتے تو پھر توریت کے اس حکم کا خیال آتا کہ یہودی یہودیوں کے…
Read the full tafseer →ف 1 پھر اس عہد و پیماں کے بعد تم لوگ اب موجود ہی ہو کہ باہم ایک دوسرے کو قتل بھی کرتے ہو اور اپنوں ہی میں سے کچھ کو ان کے گھروں سے جلا وطن بھی کرتے ہو اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اپنوں کے مقابلہ میں دوسری مخالف قوموں کی گناہ اور ظلم کے ساتھ امداد کرتے ہو اور مخالفوں کے ساتھ بن کر اپنوں سے لڑتے ہو نیز گناہ اور ظلم کی حمایت میں لڑتے ہو پھر لطف یہ کہ اگر ان اپنوں میں سے کوئی گرفتار ہو کر اور قیدی بن کر تمہارے پاس پہونچ جائے تو تم اس کو فدیہ اور کچھ لے دے کر قید سے رہا کراتے ہو حالانکہ ان کا جلا وطن کرنا اور ان کو ان کے گھروں سے نکالنا بھی تم پر توریت کے حکم کے بموجب حرام کیا گیا ہے تو ایک حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
ف 1۔ اس باب میں ان پر تین حکم واجب تھے اول قتل نہ کرنا دوم اخراج نہ کرنا، سوم اپنی قوم میں سے کسی کو گرفتار وبندی دیکھیں تو روپیہ خرچ کرکے چھڑا دینا۔ سو ان لوگوں نے حکم اول ودوم کو ضائع کردیا تھا اور سوم کا اہتمام کیا کرتے تھے ضن مخالف قوموں کی امداد کا ذکر فرمایا ہے مراد ان قوموں سے اوس اور خزرج ہیں کہ اول بنی قریظہ کی موافقت میں بنی نضیر کے مخالف تھے اور خزرج بنی نضیر کی موافقت میں بنی قریظہ کے مخالف تھے گناہ اور ظلم دو لفظ لانے میں اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس میں دو حق ضائع ہوتے ہیں حق اللہ بھی کہ حکم الہی کی تعمیل نہ کی اور حق العبد بھی کہ دوسرے کو آزار پہنچا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
بنی اسرائیل کے عہد و پیمان میں درج ذیل تین باتیں بھی تھیں :
166: علاوہ وہ ان وعدوں کے جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے تین باتیں اور بھی ان باتوں میں شامل تھیں اور بنی اسرائیل نے ان تینوں باتوں کا بھی اقرار کیا تھا مگر ان کو بھی حسب سابق پورا نہ کرسکے۔
ان میں سے ایک عہد یہ تھا کہ خانہ جنگی کر کے باہم خونریزی نہ کرنا کہ اس سے تمہاری اجتماعی قوت کو نقصان پہنچے گا ، اور اس سے حیات قومی فنا ہوگی۔ دوسرا عہد یہ تھا کہ اپنے لوگوں کو ترک و طن پر مجبور نہ کرنا کہ ادھر تو تمہاری جماعت روز بروز کم ہوتی جائے گی اور دوسری طرف وہ جلا وطنی کی مصیبتوں اور تکلیفوں سے تنگ آکر تمہارے دشمنوں سے سازش کرلیں گے اور اس طرح…
Read the full tafseer →This verse recounts how the Israelites broke the pledge they had willingly made. Allah had laid down three special injunctions for the Israelites: (1) They should not kill one another in an internecine war. (2) They should not force their own people into exile. (3) If they found a man from amongst them a prisoner of war, they should pay a ransom, and get him released. The Israelites disregarded the first two injunctions, and acted upon the third alone which they supposed easier to be carried out.
It happened like this. There lived in Madinah two tribes, the Aws اوس and the Khazraj خزرج ، who…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
92. Before the advent of the Prophet (peace be on him) the Jewish tribes who lived on the outskirts of Madina had concluded an alliance with the Arab tribes of Aws and Khazraj. When the Arab tribes fought against one another each Jewish tribe fought on the side of its allies, which led to fratricide and so to a flagrant violation of the Book of God. Moreover, when the war ended the captives were ransomed. This ransom was justified on the basis of scriptural arguments; they extolled the Word of God when it permitted the ransom of prisoners of war, but attached no significance at all to the…
Read the full tafseer →