صدائے باز گشت
اللہ تبارک و تعالیٰ بنی اسرائیل کی خطائیں مخالفتیں سرکشی اور حق سے روگردانی بیان فرما رہا ہے کہ طور پہاڑ جب سروں پر دیکھا تو اقرار کرلیا جب وہ ہٹ گیا تو پھر منکر ہوگئے۔ اس کی تفسیر بیان ہوچکی ہے بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں رچ گئی۔ جیسے کہ حدیث میں ہے کہ کسی چیز کی محبت انسان کو اندھا بہرا بنا دیتی ہے حضرت موسیٰ ؑ نے اس بچھڑے کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے جلا کر اس کی راکھ کو ہوا میں اڑا کر دریا میں ڈال دیا تھا جس پانی کو بنی اسرائیل نے پی لیا اور اس کا اثر ان پر ظاہر ہوا گو بچھڑا نیست و نابود کردیا گیا لیکن ان کے دلوں کا تعلق اب بھی اس معبود باطل سے لگا رہا دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
سورة الْبَقَرَة 96
اس آیت کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے ”کیسی بری چیز ہے، جس کی خاطر انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا۔“ یعنی فلاح وسعادت اور اپنی نجات کو قربان کردیا۔
سورة الْبَقَرَة 97
یہ لوگ چاہتے تھے کہ آنے والا نبی ان کی قوم میں پیدا ہو۔ مگر جب وہ ایک دوسری قوم میں پیدا ہوا، جسے وہ اپنے مقابلے میں ہیچ سمجھتے تھے، تو وہ اس کے انکار پر آمادہ ہوگئے۔ گویا ان کا مطلب یہ تھا کہ اللہ ان سے پوچھ کر نبی بھیجتا جب اس نے ان سے نہ پوچھا اور اپنے فضل سے خود جسے چاہا، نواز دیا، تو وہ بگڑ بیٹھے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب ہم نے تمہارا قول وقرار لیا تھا اور (اس قول وقرار لینے کے لئے) طور کو تمہارے (سروں کے) اوپر لاکھڑا کیا تھا (اور اس وقت حکم دیا تھا کہ) لو جو کچھ (احکام) ہم تم کو دیتے ہیں ہمت (اور پختگی) کے ساتھ لے لو اور (ان احکام کو دل سے) سنو (اس وقت) انہوں نے (ڈر کے مارے زبان سے تو) کہہ دیا کہ ہم نے (قبول کرلیا اور) سن لیا اور (چونکہ واقع میں یہ بات دل سے نہ تھی، اس لئے گویا بزبان حال یوں بھی کہہ رہے تھے کہ) ہم سے عمل نہ ہوگا اور (وجہ ان کی اس بددلی کی یہ تھی کہ) ان کے قلوب (کے ریشہ ریشہ) میں وہی گوسالہ پیوست ہوگیا تھا ان کے کفر (سابق) کی وجہ سے (جبکہ دریائے شور سے اتر…
Read the full tafseer →اسی سورہ کی آیت ۶۳ کی تفسیر کرتے ہوئے اس ٹکڑے کے تمام اہم اجزا کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔ یہاں یہود کا یہ جواب جو نقل ہوا ہے، قَالُوْا سَمِعْنَا وَعَصَیْْنَا (انہوں نے کہا ہم نے سنا اور نافرمانی کی) یہ صورت حال کی تعبیر ہے۔ انہوں نے عہد تو یہی کیا تھا کہ“ہم نے سنا اور ہم اطاعت کریں گے”۔ لیکن عمل ان کا یہی ہوا کہ انہوں نے جو کچھ سنا اس کی نافرمانی کی۔ اس صورت حال کو، جو ان کے عمل سے ظاہر ہوئی، قرآن نے ان کے قول کی جگہ رکھ دیا ہے۔ گویا انہوں نے شروع ہی میں اقرار و اطاعت کا نہیں بلکہ نافرمانی کا کیا تھا۔
منافقین اور یہود آنحضرت ﷺ کی مجلس میں جب کبھی آتے تو سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا کی جگہ قَالُوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
93۔ 1 یہ کفر اور انکار کی انتہا ہے کہ زبان سے تو اقرار کر کے سن لیا یعنی اطاعت کریں گے اور دل میں یہ کہتے کہ ہم نے کونسا عمل کرنا ہے۔
93۔ 2 ایک تو محبت خود ایسی چیز ہوتی ہے کہ انسان کو اندھا اور بہرہ بنا دیتی ہے دوسرے اس کو اشرِبُوا (پلا دی گئی) سے تعبیر کیا گیا کیونکہ پانی انسان کے رگ و ریشہ میں خوب دوڑتا ہے جب کہ کھانے کا گزر اس طرح نہیں ہوتا (فتح القدیر)
93۔ 3 یعنی بچھڑے کی محبت و عبادت کی وجہ وہ کفر تھا جو ان کے دلوں پر گھر کرچکا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
63: اس واقعے کی تفصیل اسی سورت میں پیچھے آیت نمبر 63 کے حاشیہ میں گذرچ کی اور بچھڑے کا واقعہ آیت 53 کے تحت۔
Read the full tafseer →یہی نہیں بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک چٹان اور پہاڑ کے سائے میں تم سے ایک پختہ میثاق لیا تھا ، کیا تمہیں یاد نہیں کہ تم نے اس قسم کے غیر معمولی میثاق کو بھی توڑدیا تھا اور تم سرکشی اور معصیت میں مبتلا ہوگئے تھے ۔
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُوا قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ ” پھر ذرا اس میثاق کو یاد کرو جو طور کو تمہارے اوپر اٹھاکر ہم نے تم سے لیا تھا۔ ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں ، ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کر سنو ۔ تمہارے…
Read the full tafseer →6 یعنی احکام تورات کی جو تکلیف دی گئی اس کو پوری ہمت و استقلال سے مضبوط پکڑو ' چونکہ پہاڑ سر پر معلق تھا جان کے اندیشہ سے زبان سے (یا اس وقت) تو کہہ لیا سمعنا یعنی احکام تورات ہم نے سن لیے اور دل سے (یا بعد میں) کہا عصینا یعنی ہم نے قبول نہیں کیا احکام کو اور وجہ اس کی یہ تھی کہ صورت پرستی ان کے دل میں راسخ ہوچکی تھی ان کے کفر کے باعث وہ زنگ بالکل ان کے دل سے زائل نہیں ہوا بلکہ رفتہ رفتہ بڑھتا گیا۔
Read the full tafseer →آیت 93 وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ ط خُذُوْا مَآ اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاسْمَعُوْا ط
ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کرسنو۔
قَالُوْا سَمِعْنَا وَعَصَیْنَاق۔
یعنی ہم نے سن تو لیا ہے ‘ مگر مانیں گے نہیں ! قوم یہود کی یہ بھی ایک دیرینہ بیماری تھی کہ زبان کو ذرا سا مروڑ کر الفاظ کو اس طرح بدل دیتے تھے کہ بات کا مفہوم ہی یکسر بدل جائے۔ چناچہ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا کے بجائے سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا کہتے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو منافقین تھے ان کا بھی یہی وطیرہ تھا۔ ان کی جب سرزنش کی جاتی تو کہتے تھے…
Read the full tafseer →110 میثاق کے وقت بھی تمہارے دل میں چور تھا :۔ یعنی جب تم سے تمہارے سروں پر طور پہاڑ کو جھکا کر تورات کے احکام پر عمل پیرا ہونے کا عہد لیا جا رہا تھا۔ جس کا پہلا اور بنیادی حکم یہی تھا کہ تم اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہ کرو گے اور نہ کسی کو اللہ کا شریک بناؤ گے تو تمہارے اسلاف نے کہا تھا کہ ہم نے یہ احکام سن لیے ہیں، اس وقت بھی تمہارے دل میں چور موجود تھا۔ کیونکہ گؤ سالہ پرستی کے جراثیم تمہارے دلوں میں موجود تھے۔ اور تم نے تورات کے احکام کو دل سے قطعاً تسلیم نہیں کیا تھا۔
111 یعنی ایمان کا تقاضا تو یہ ہوتا ہے کہ انسان مشرکانہ اعمال و عقائد کو یکسر چھوڑ کر نیکی اور بھلائی کے کاموں کی طرف…
Read the full tafseer →324 ۔ (تمہارے اوپر نزول شریعت کے وقت) اس پر حاشیہ رکوع (7) میں گزر چکا۔
325 ۔ یعنی یہ احکام وشرائع جو ابھی تم پر نازل کئے ہیں۔
326 ۔ (ان احکام وشرائع کو گوش دل سے سنو، اور ان پر عمل کرو) اے اقبلو ما سمعتم (بحر) قال الماتریدی معنی اسمعوا اقیموا (بحر) وقیل اعملوا (بحر) ۔
327 ۔ آیت سے یہ لازم نہیں آتا کہ (آیت) ” عصینا “ (ہم نے نہیں مانا) ان لوگوں نے زبان سے بھی کہا ہو، قال ابو مسلم و جائز ان یکون المعنی سمعوہ وتلقوہ بالعصیان فیعبر عن ذلک بالقول وان لم یقولوہ (کبیر) یہ بھی کہا گیا ہے، کہ قول یہاں بطور مجاز، زبان حال کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ نطق لسانی مراد نہیں۔ قیل یعبر بالقول للشئی عما یفھم…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ ، (الآیۃ) یہ یہود کے کفر و انکار کی انتہاء کا بیان ہے چونکہ پہاڑ سروں پر معلق تھا جان کے خوف سے زبان سے تو اقرار کرلیا کہ سن لیا یعنی اطاعت کریں گے اور دل میں یہ نیت تھی کہ ہم کو عمل کرنا نہیں ہے یا بعد میں کہہ دیا نہ مانیں گے۔
وَاُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِھِمْ الْعِجْلَ یہاں سے ان کے کفر و انکار کی وجہ بیان کی جارہی ہے، وجہ اس کی یہ تھی کہ مدتوں مصر میں غلامانہ زندگی گزارنے کی وجہ سے صورت پرستی ان کے دلوں میں بھی راسخ ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے ان کے قلوب زنگ آلود ہو کر قبولیت حق کی صلاحیت کھو چکے تھے، اس لئے کہ اول تو محبت خود ایسی چیز ہوتی ہے کہ انسان کو اندھا اور…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ ۭخُذُوْا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّاسْمَعُوْا ۭ (اور جب ہم نے تم سے اقرار لیا اور اٹھایا تمہارے اوپر طور ( اور کہا ہم نے) کہ پکڑو جو کچھ دیا ہے ہم نے تم کو مضبوطی سے اور سنو) یعنی قبول کرو اور اطاعت کرو۔ اطاعت کو سننے سے اس لیے تعبیر کیا کہ سننا اطاعت کا سبب ہے۔
قَالُوْا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا ( تو بولے سناہم نے اور نہیں مانا) یعنی ہم نے تمہاری بات تو سن لی اور تمہارا حکم نہ مانا۔ اہل معافی نے کہا ہے کہ یہود نے سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَازبان سے نہیں کہا تھا بلکہ زبان سے تو اقرار اطاعت ہی کیا لیکن بعد میں جب نافرمانیاں کرنے لگے تو…
Read the full tafseer →(93) اور جس وقت ہم نے تمہارا اقرار لیا، اور پہاڑ کو اکھاڑ کر تمہارے سروں پر اٹھایا کہ جو اپنی کتاب میں تم پر احکام اتارے گئے ہیں اسے پوری کوشش اور ہمیشگی کے ساتھ پورا کرو، تو گویا کہ یہ لوگ کہنے لگے کہ اگر پہاڑ اوپر نہ ہوتا تو صرف ہم آپ کی بات کو سنتے مگر حکم کی نافرمانی کرتے، ان کے دلوں میں تو ان کے کفر کی وجہ سے کفر کی سزا کے طور بچھڑے کی پرستش کی محبت داخل کردی گئی تھی، اے حضور اکرم ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اگر بچھڑے کی پرستش کی محبت تمہارے خالق ومالک کی محبت کے برابر ہے اور اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ ہمارے دادا مومن تھے تو تمہارا یہ ایمان بہت ہی برا ہے جو تمہیں بچھڑے کی پوجا کا حکم دیتا ہے۔
Read the full tafseer →(سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا ۤ) ہم نے سنا اور نہیں مانا۔“ یہ دونوں لفظ انھوں نے زبان سے کہہ دیے ہوں تو کچھ تعجب نہیں، جو قوم (فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ) کہہ سکتی ہے ان سے یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ رفع طور کے وقت ”سَمِعْنَا“ کہہ دیا ہو اور بعد میں صاف ”ہم نہیں مانتے“ کہہ دیا ہو۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ ان کے زبان سے اقرار کو ”سَمِعْنَا“ اور عمل نہ کرنے کو ”وَعَصَيْنَا“ سے بیان فرمایا ہے، گویا انھوں نے زبان حال سے یہ کہا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین سے کہا : (ائْتِيَا طَوْعًااَوْ كَرْهًا ۭ قَالَتَآ اَتَيْنَا طَاۗىِٕعِيْنَ) [ حٰآ السجدۃ : 11 ] ”تم دونوں آؤ خوشی سے یا ناخوشی سے،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 93
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا خذنا میثاقکم ورفعنا فوقکم الطور خذوا ما اتینکم بقوۃٍ واسمعوا اس پر کلام گزر چکی ہے۔ اسمعوا کا معنی ہے : اطاعت کرو اس سے مراد صرف قول کا ادراک نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ جو تم نے سنا اس پر عمل کرو اور اسے لازم پکڑو۔ اسی سے ہے سمع اللہ لمن حمدہ یعنی قبول فرمایا۔
شاعر نے کہا : (2)
دعوت اللہ حتی خفت الا یکون اللہ یسمع ما اقول
میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی حتیٰ کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ قبول نہ فرمادے جو میں کہتا ہوں۔
الراجز نے کہا :
والسمع والطاعۃ والتسلیم خیرٌ واعفی لبنی تمیم
قبول کرنا، اطاعت کرنا، تسلیم کرنا بنی تمیم کے لئے بہتر ومناسب ہے اور…
Read the full tafseer →(1) عبد الرزاق اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واشربوا فی قلوبھم العجل بکفرہم “ یعنی اس بچھڑے کی محبت کو انہوں نے پیا۔ یہاں تک کہ وہ محبت ان کے دلوں میں رچ گئی۔
Read the full tafseer →[ وَاِذْ اَخَذْنَا : اور جب ہم نے لیا ] [ مِيْثَاقَكُمْ : تم سے پختہ عہد ] [ وَرَفَعْنَا : اور ہم نے بلند کیا ] [ فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ : تمہارے اوپر کوہ طور کو ] [ ۭخُذُوْا : کہ تم لوگ پکڑو ] [ مَآ اٰتَيْنٰكُمْ : اس کو جو ہم نے دیا تم کو ] [ بِقُوَّةٍ : عمل کی قدرت سے ] [ وَّاسْمَعُوْا ۭ: اور تم لوگ سنو ] [ قَالُوْا : انہوں نے کہا ] [ سَمِعْنَا : ہم نے سنا ] [ وَعَصَيْنَا ۤ : اور ہم نے نافرمانی کی ] [ وَاُشْرِبُوْا : اور پلادی گئی ] [ فِيْ قُلُوْبِهِمُ : ان کے دلوں میں ] [ الْعِجْلَ : بچھڑے کی محبت ] [ بِكُفْرِھِمْ ۭ : ان کے کفر کے سبب ] [ قُلْ بِئْسَمَا : آپ کہہ دیجیے کتنا برا ہے وہ ] […
Read the full tafseer →یہودیوں سے عہد و پیمان اور ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت
اس سے پہلے بھی اسی سورت کے آٹھویں رکوع میں یہودیوں سے پختہ عہد لینے اور کوہ طور ان پر اٹھانے اور مضبوطی کے ساتھ توریت شریف کو تھامنے اور اس پر عمل کرنے کا عہد لینے کا ذکر گزرا ہے یہاں پھر اس کو دھرایا ہے اور ساتھ ہی یہ فرمایا کہ جب ان کو حکم ہوا کہ توریت شریف کو مضبوطی سے تھام لو اور اس کے احکام کو سن لو تو انہوں نے کہا کہ ہم نے سن تو لیا لیکن ہم اس پر عمل نہ کریں گے حکم تھا کہ دل کے کانوں سے سنو، قبول کرنے کے لیے سنو، عمل کرنے کے لیے سنو لیکن انہوں نے اپنے اوپر پہاڑ گرنے کے ڈر سے اس وقت تو کہہ دیا کہ ہاں ہم نے سنا اور اوپر کے دل سے…
Read the full tafseer →شناعت ہشتدہم (18)
قال تعالیٰ ۔ واذ اخذنا میثاقکم۔۔۔ الی۔۔۔ ان کنتم مومن ین۔
اور ایک قصہ سنو جس سے توریت کے ساتھ یہود کے ایمان کا حال معلوم ہوگا۔ جب ہم نے تم سے اس بات کا عہد لیا کہ جب توریت تمہارے پاس پہنچے تو دل وجان سے اس کو قبول کرنا اور اس کے احکام پر عمل کرنا مگر تم اپنے اس عہد سے پھرگئے۔ اور توریت پر عمل کرنے میں حیلے اور بہانے شروع کیے۔ اس وقت ہم نے تمہارے سروں پر کوہ طور لا کھڑا کیا اور حکم دیا کہ جو احکام ہم نے تم کو دئیے ہیں ان کو نہایت مضبوطی اور پختگی کے ساتھ پکڑو اور گوش ہوش سے ان کو سنو مبادا کوئی حکم تم کو یاد نہ رہے اور پھر تمہاری یہ غفلت معصیت کا سبب بنا جائے اس کے جواب میں…
Read the full tafseer →181 یہ یہودیوں کے کذب دعویٰ کی پانچویں دلیل ہے یعنی تورات کو بھی تم نے ہرگز نہیں مانا۔ جب تورات تمہارے سامنے پیش کی گئی تو تم نے اسے ماننے اور اس پر عمل کرنے سے انکار کردیا۔ چناچہ تورات کو منوانے کے لیے ہم نے کوہ طور کو اٹھا کر تمہارے سروں پر کھڑا کیا۔ تمہارے سروں پر پہاڑ کھڑا کر کے تمہیں یہ حکم دیا گیا کہ تورات کے احکام کو قبول کرو اور ان پر مضبوطی سے عمل کرو۔ قَالُوْا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا۔ تو ان ظالموں نے زبان سے تو ماننے کا اقرار کرلیا لیکن عملی طور پر نافرمانی کی اور اسے نہ مانا۔ یا واؤ مطلق جمع کے لیے۔ سمعنا وعصینا دونوں باتیں انہوں نے مختلف اوقات میں کہی تھیں۔ سمعنا تو اس وقت کہا جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–96
گزشتہ سے پیوستہ : یہودیوں کی قباحتیں اور ان کی سزائیں بیان ہو رہی ہیں۔ اس سے پہلی آیات میں یہودیوں کی برائیوں اور ان کے کفر پر اصرار کا ذکر تھا۔ یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ خاتم النبین ﷺ کی آمد سے پہلے یہودی ان کے منتظر تھے۔ کہ جب وہ نبی آخر الزمان آئے گا تو اس کا ساتھ دیں گے۔ یہودی لوگ آپ کی برکت سے مشرکین پر غلبہ حاصل کرنے کی تمنا بھی کرتے تھے۔ اور اس کے لیے دعائیں بھی کرتے تھے۔ مگر جب وہ رسول آگیا جس کا انتظار تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب بھی آگئی اور ان لوگوں نے پہچان بھی لیا تو پھر انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ کے دوہرے غضب میں مبتلا ہوئے۔
دعوت ایمان : ان آیات میں بھی یہودیوں کی ہٹ دھرمی کا…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ 0 ۭ خُذُوْا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاسْمَعُوْا 0 ۭ قَالُوْا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا 0 ۤ وَاُشْرِبُوْا فِيْ قُلُوْبِہِمُ الْعِـجْلَ بِكُفْرِھِمْ 0 ۭ قُلْ بِئْسَمَا يَاْمُرُكُمْ بِہٖٓ اِيْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 93
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
ترکیب : قالوا فعل بافاعل سمعنا وعصینا مفعول واشربوا فی قلوبہم العجل ای حب العجل بکفرھم ای بسبب کفرھم یہ جملہ بہ تقدیر قدحال ہے ضمیر قالوا سے۔ قل بئسما یامرکم الخ جواب ہے ان کے قول سمعنا وعصینا کا۔ قل فعل بافاعل ان کانت الخ جملہ شرطیہ مقولہ الدار موصوف الآخرۃ صفت مجموعہ اسم کان لکم متعلق ہے کانت سے خالصۃ خبر کان عنداللہ ظرف خالصۃ ہے من دون الناس بسبب خالصۃ کے موضع نصب میں ہے کہتے ہیں خلص کذامن کذایہ سب جملہ شرط اور فتمنوا الموت شرط اول اور ان کنتم صادقین 1 ؎ شرط ثانی (دونوں کا جواب ہے) (جلالین) ابدًا ظرف ہے بماقدمت کا و من الذین اشرکوا 2 ؎ میں دو وجہ ہیں ایک یہ کہ یہ بمعنی الناس پر معطوف ہے ای…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَـکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَـکُمُ الطُّوْرَط خُذُوْا مَآ اٰتَیْنٰـکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاسْمَعُوْاط قَالُوْا سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا ق وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِھِمُ الْعِجْلَ بِکُفْرِھِمْ ط قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُکُمْ بِہٖٓ اِیْمَانُکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ ۔
(اور یاد کرو جب کہ ہم نے تم سے عہد لیا تھا اور تمہارے اوپر طور کو اٹھایا اور حکم دیا تھا کہ جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور سنو۔ انھوں نے کہا ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور ان کے کفر کے سبب سے بچھڑے کی پرستش ان کے دلوں میں رچ بس گئی۔ ان سے کہو ! اگر تم مومن ہو تو کیا ہی بری ہے وہ چیز جس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : یہود کہتے ہیں کہ ہم تو وہی مانیں گے جو ہم پر نازل ہوا یہ اس بات میں بھی سچے نہیں کیونکہ ان پر طور پہاڑ بلند کرکے عہد لیا گیا تھا اس کے باوجود انہوں نے انکار کردیا تھا۔ ان کے شرک اور دنیا کی ہوس کا نتیجہ ہے۔
اس آیت کی تفسیر آیت 63 کے ساتھ ملا کر پڑھیے جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے جبری ہدایت کی بجائے اختیاری ہدایت کا طریقہ پسند فرمایا ہے۔ جبری ہدایت کے نظریے کی تردید کے لیے بنی اسرائیل کا عملی تجربہ پیش فرمایا ہے جس میں یہ ثابت کیا ہے کہ جبری ہدایت دیر پا نہیں ہوا کرتی جب تک انسان اخلاص اور دل کی صفائی کے ساتھ حقیقت قبول نہ کرے۔ یہودیوں کے سر پر…
Read the full tafseer →93: وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ خُذُوْامَآ اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ : (اور جب لیا ہم نے تم سے پختہ وعدہ اور تمہارے اوپر طور کو اٹھایا۔ پکڑو جو کچھ دیا ہم نے تم کو مضبوطی کے ساتھ) طور کے اٹھانے کا دوبارہ تذکرہ کیا۔ اس میں یہ اضافہ بھی ملادیا۔ جو پہلے مقام کے تذکرے میں موجود نہیں۔
وَّاسْمَعُوْا : (اور سنو) جو حکم تمہیں تورات میں ملا۔
قَالُوْاسَمِعْنَا : (انہوں نے کہا ہم نے سنا) تمہارا قول۔
وَعَصَیْنَا : (اور نافرمانی کی ہم نے) تیرے حکم کی
صورتِ مطابقت :
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ان کے جواب کے ساتھ اس طرح مطابقت رکھتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا۔ اسمعوا۔ تم…
Read the full tafseer →خاصیت آیت 93 ۔
(آیت)” وَإِذْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّورَ خُذُواْ مَا آتَیْْنَاکُم بِقُوَّۃٍ وَاسْمَعُواْ قَالُواْ سَمِعْنَا وَعَصَیْْنَا وَأُشْرِبُواْ فِیْ قُلُوبِہِمُ الْعِجْلَ بِکُفْرِہِمْ قُلْ بِئْسَمَا یَأْمُرُکُمْ بِہِ إِیْمَانُکُمْ إِن کُنتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (93)
اگر کوئی بات دشمن سے پوشیدہ رکھنی ہو کہ اسے سمجھ نہ آئے (اور صورت ایسی ہو کہ وہ ہر وقت مجلس میں موجود رہتا ہے اس کے سامنے باتیں ضروری کرنی پڑتی ہیں) تو یہ آیت ہفتہ کے دن میٹھی روٹی کے ٹکڑے پر لکھ کر اس کو کھلا دے ، اب جو بات آپ چاہیں گے تو اس کی سمجھ نہ آئے تو اسے سمجھ نہیں آئے گی ۔
93۔ (آیت)”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
(91 ۔ 93) ۔ اس آیت میں یہود نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہمارا ایمان حضرت موسیٰ اور تورات پر ایسا مضبوط ہے کہ غیر دین کے انکار پر ہم مجبور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کے اس دعوے کو کئی طرح جھٹلایا۔ ایک تو یہ کہ جب قرآن میں تورات کی تصدیق موجود ہے تو جس کا ایمان تورات پر مضبوط ہوگا وہ قرآن کا منکر نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ قرآن کا انکار اس صورت میں تورات کے سچے ہونے کا گویا انکار ہے۔ دوسرے یہ کہ جس کا ایمان تورات پر مضبوط تھا اس نے ان انبیاء کو کیوں شہید کیا جو تورات کے احکام کی مضبوطی کے لئے آئے تھے۔ تیسرے یہ کہ جس کا ایمان موسیٰ (علیہ السلام) پر مضبوط تھا تو اس نے بچھڑے کی پوجا کیوں کی۔ کیا موسیٰ نے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
جب یہود کو حکم دیا گیا کہ وہ اس کتاب پر ایمان لائیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے یعنی قرآن کریم پر تو انہوں نے تکبر اور سرکشی سے کہا : (قالوا نومن بمآ انزل علینا ویکفرون بما ورآۂ ) یعنی وہ (تورات کے سوا) تمام کتابوں کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ ان پر فرض تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ تمام کتابوں پر علی الاطلاق ایمان لائیں خواہ یہ کتابیں بنی اسرائیل کے نبیوں پر نازل کی گئی ہوں یا ان کے علاوہ کسی اور نبی پر، اور یہی وہ ایمان ہے جو فائدہ مند ہے۔ یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان جو تمام انبیاء کرام ( علیہ السلام) پر نازل کی گئی ہیں۔
رہا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی نازل کردہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–94
قول باری ہے : قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ عند اللہ خالصۃ من دون الناس قسموا الموت ان کنتم صدقین (ان سے کہو کہ اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لئے مخصوص ہے تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو) روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ” اگر یہود موت کی تمنا کرتے تو سب مرجاتے اور جہنم کے اندر اپنے اپنے ٹھکانے دیکھ لیتے اور اگر اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ مباہلہ کرنے والے اپنے گھروں سے نکل آتے تو واپس جا کر نہ تو وہ اپنے اہل و عیال کو پاتے اور نہ ہی کوئی مال ملتا۔ “ حضرت ابن عباس نے فرمایا :” اگر یہ لوگ موت کی تمنا کرتے تو انہیں موت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
258 یہود کا ذکر بحیثیت ایک ظالم قوم : کہ خدائے وحدہ لاشریک اور اس کی توحید و بندگی سے منہ موڑ کر تم بچھڑے کے اور وہ بھی ایک مصنوعی اور بےحقیقت بچھڑے کے آگے جھک گئے، اس کو اپنا معبود بنا لیا، اور اس کی پوجا کرکے تم نے اپنی تذلیل و رسوائی اور عذاب مہین میں مبتلا ہونے کا سامان کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ واضح رہے کہ گوسالہ پرستی کے اس جرم کا ارتکاب اگرچہ ان یہودیوں نے نہیں کیا تھا، جن سے خطاب کیا جارہا ہے بلکہ ان کے ان بڑوں نے کیا تھا جو ان سے صدیاں پہلے گزر چکے تھے، لیکن یہ لوگ چونکہ انہی کی اولاد و اَحفاد ہونے کے علاوہ ان کے کیے کرائے پر خوش تھے اور یہ انہی کے طور طریقوں پر تھے، اور ان سے…
Read the full tafseer →یہود کی گوسالہ پرستی
تشریح : بینات سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئے مثلاً عصاء، یدبیضا دریا کا پھٹنا ان کا ذکر تفصیل سے گزشتہ آیات میں ہوچکا ہے۔ یہاں ذکر اس لئے کیا گیا یہ بھی تمہارے کفر کی دلیل ہیں۔ گائے کی پرستش کا واقعہ اگرچہ ان یہودیوں کے ساتھ پیش نہیں آیا تھا جو حضور ﷺ کے زمانے میں نزول قرآن کے وقت موجود تھے۔ مگر چونکہ یہ اپنے آباؤو اجداد کے حامی و طرف دار تھے اس لئے اس کو دہرایا گیا ہے اور اسی سے یہ بات نکلتی ہے کہ جن کے اسلاف نے موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کرکے کفر کیا وہ اگر محمد ﷺ پر ایمان نہ لائیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں، کیونکہ اس وقت کے یہودی ہر بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–96
آیات 87- 96
اسرار و معارف
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی ، ایک لائحہ عمل ، پوری زندگی کا پروگرام اور ایسا جو دنیا وآخرت ہر دو عالم کی کامیابی کا ضامن ہو دیا۔ انسان کی ساری سوچ بچار ، ساری تگ ودو اور انتخاب واسمبلیاں صرف اس لئے ہیں کہ زندگی بسر کرنے کا بہترین طریقہ تلاش کیا جائے مگر ہم نے آسمان نازل فرما کر اللہ کی طرف سے تمہیں ایک مکمل ضابطہ حیات دیا اور ساتھ ایک الوالعزم رسول بھیجا کہ صرف کتاب نافع نہیں جب تک دل پاک ہو کہ اس کی تعلیمات کو قبول نہ کرنے لگ جائیں جو صحبت رسول کا حاصل ہے اور جب یہ استعداد حاصل ہو تب بھی کتاب اللہ کی شرح نبی اور رسول ہی کرسکتا ہے کہ ہمیشہ…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی ماننے کا اقرار کیا لیکن پورا نہ کیا (دجیز)5 یعنی درحقیت تم مومن ہو ہی نہیں اس لیے کہ ایمان کے ہوتے ہوئے تم بچھڑے کی پوچا جیسا کھلا شرک اروآنحضرت ﷺ کی تکذیب کر ہی نہیں سکتے تھے (فتح القدیر)
Read the full tafseer →(2:93) واذا اخذنا میثاقکم ورفعنا فوقکم الطور خذوا ما اتینکم بقوۃ ملاحظہ ہو (2:63)
واسمعوا۔ واؤ عاطفہ ہے ۔ اسمعوا فعل امر، جمع مذکر حاضر۔ سماع (باب سمع) سے۔ تم سنو، یعنی قبول کرو اور اطعت کرو، اطاعت کو سننے سے اس لئے تعبیر کیا کہ سننا اطاعت کا سبب ہے۔
عصینا۔ ماضی جمع متکلم ۔ ہم نے انکار کیا۔ ہم نے ہمیں مانا۔ معصیۃ وعصیان (باب ضرب) مصدر سے واشربوا فی قلوبہم العجل بکفرہم۔ اور ان کے کفر کے سبب بچھڑا (گویا) ان کے دلوں میں رچ گیا یا العجل۔ مضاف الیہ ہے اس کا مضاف حذف کیا گیا ہے اصل میں حب العجل تھا۔ معنی ہونگے اور ہلادی گئی ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت بہ سبب ان کے کفر کے۔ عربی محاورہ میں جب کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
لغات القرآن : آیت نمبر 89 تا 93
یستفتحون (وہ فتح مانگتے تھے) ۔ عرفوا (انہوں نے پہچان لیا) ۔ بئسما (وہ برا ہے) ۔ بغی (ضد ) ۔ مھین (ذلیل ورسوا کرنے والا) ۔ وراء (سوا، پیچھے) ۔ العجل (بچھڑا) ۔ رفعنا (ہم نے بلند) ۔ اسمعوا (تم سنو) سمعنا (ہم نے سن لیا) ۔ عصینا (ہم نے نافرمانی کرلی، نہیں مانا) ۔ اشربوا (رچ بس گیا (پلا دیا گیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 89 تا 93
نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور قرآن مجید سے متعلق یہودیوں کی کتابوں میں بہت سے پیشین گوئیاں اور نشانیاں بتا دی گئی تھیں اسی لئے وہ نبی آخر الزماں ﷺ کا بڑی شدت اور بےچینی سے انتظار کر رہے تھے۔ جب کبھی ان کی کفار اور مشرکین سے جنگ ہوتی تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
شان نزول : یہود کا دعوٰ ی تھا کہ ہم اللہ کے پیارے ہیں اور جنت خاص ہمارے لئے ہے اور کوئی ملت و مذہب اس کا مستحق نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں اس دعویٰ کو اس طرح باطل کیا کہ اے محبوب ﷺ ان سے کہ دو کہ اگر تم کو اس بات کا یقین ہے کہ دار آخرت خالص ہمارا حصہ ہے تو تم کو لازم ہے کہ موت کی آرزو کرو ۔ اگر تم نے موت کی آرزو نہ کی تو یہ تمارے جھوٹ کی دلیل ہوگی ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر وہ موت کی تمنا کرتے تو سب ہلاک ہوجاتے ، اور روئے زمین پر کوئی یہودی باقی نہ رہتا ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ یہ لوگ پکے دنیا دار ہیں ۔ ان کے سب دعوے جھوٹے ہیں اور اپنے عملوں کے نتیجوں کو جان چکے ہیں ، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
[64] یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر جانے کے بعد۔
Read the full tafseer →(ف 3) (آیت) ” سمعنا وعصینا “ کے معنی یہ نہیں کہ وہ ایک دم سنتے بھی تھے اور انکار بھی کردیتے تھے ، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ ان کی ساری مزہبیت سماع تک محدود تھی ، جہاں عمل کا وقت ہوتا ، وہ یکسر عصیاں ہوجاتے ، (آیت) ” سمعنا وعصینا “ ان کی ساری تاریخ مذہبیت کی پوری پوری اور صحیح تفسیر ہے ، ہمیشہ وہ باتوں اور موشگافیوں کے شائق رہے اور عمل سے بیزار ، مختصر سے مختصر لفظوں میں یہودیوں کی ذلت ونفسیات کا جو مرقع قرآن حکیم نے ان دو لفظوں میں کھینچا ہے وہ ناقابل اضافہ ہے ۔
حل لغات :
الحق : سچا معقول اور مفید مصلحت ۔
Read the full tafseer →ف 1 اور اس بات کو یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد اور قول لیا اور تمہارے اوپر طور کو معلق کردیا اور تم کو حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اس کو پوری عزیمت اور قوت سے قبول کرو تو انہوں نے پہاڑ کو دیکھ کر یہ کہا کہ ہم نے سن تو لیا لیکن ہم سے اس پر عمل نہیں ہوگا اور ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے کفر کے باعث ان کے قلوب میں اس گئو سالہ کی محبت پیوست کردی گئی تھی۔ آپ فرما دیجیے اگر تم واقعی اپنے خیال اور گمان میں اہل ایمان ہو تو جن اعمال و افعال کی تم کو تمہارا ایمان تعلیم دے رہا ہے وہ افعال و اعمال بہت برے ہیں۔ (تیسیر)
مدعا یہ ہے کہ ان کے کفر اور حسد کی یہ حالت ہے کہ جب ان سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
ف 1۔ بینات سے مراد وہ دلائل ہیں جو اس قصہ سے پہلے کہ اس وقت تک تورات نہ ملی تھی صدق موسیٰ پر قائم ہوچکی تھیں مثلا عصا اور ید بیضاء اور فلق بحر وغیرذالک۔
Read the full tafseer →تم وہی نہیں ہو جن سے طورؔ کے نیچے عہد لیا گیا تھا ؟
180: اپنے گریبان میں ذرا جھانک کر تو دیکھو تم وہی لوگ ہو کہ تورات کے پابند رہنے کے لئے تیار نہ تھے۔ کوہ طور کے نیچے عہد و پیمان کر کے تم پھرگئے تھے۔ تمہارا جب بس چلتا تو انبیاء کرام کو تم قتل کردیتے تھے۔ تم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پابندیٔ تورات کا عہد کیا مگر اعمال حیات سے ثابت کردیا کہ اس کتاب کو اپنی زندگی کا دستور العمل نہیں بناؤ گے۔ اس انکار اور ہٹ دھرمی کا اصل سبب کیا تھا ؟ یہی نا کہ کفر و باطل نے تمہارے دلوں میں مال و دولت کی محبت پیدا کردی تھی۔ تم نے اس مال و دولت کو اپنا قبلہ بنا لیا تھا اور تمہارے دلوں نے کفر کو اس طرح قبول کرلیا…
Read the full tafseer →In refuting the claim of the Jews to be authentic and true already referred to in Verse 63. When the Israelites succeeded, with the help of Allah, in escaping from Egypt and crossing the sea, they came upon a people who used to worship idols. They found this cult so attractive that they requested Sayyidna Musa (Moses علیہ السلام) to fabricate a visible and concrete god for them too. When he reprimanded them, they realized their error, and offered' repentance. But repentance has many degrees. Since their repentance was not of a very high order, the darkness of their error did not altogether…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
96. Another possible rendering of the same verse is: 'And how evil is that for the sake of which they have sold themselves', i.e. for the sake of which they have sacrificed their ultimate happiness and salvation.
97. They had longed for the promised Prophet to arise from among their own people. But when he arose among a diffirent people, a people they despised, they decided to reject him. It was as if they thought God was duty-bound to consult them in appointing Prophets, and since in this case He had failed to do so they felt they had a right to be offended by God's 'arbitrariness'.
Read the full tafseer →