Explained with ayahs 8–9
منافقت کی قسمیں۔
دراصل نفاق کہتے ہیں بھلائی ظاہر کرنے اور برائی پوشیدہ رکھنے کو۔ نفاق کی دو قسمیں ہیں اعتقادی اور عملی۔ پہلی قسم کے منافق تو ابدی جہنمی ہیں اور دوسری قسم کے بدترین مجرم ہیں۔ اس کا بیان تفصیل کے ساتھ انشاء اللہ کسی مناسب جگہ ہوگا۔ امام ابن جریج فرماتے ہیں " منافق کا قول اس کے فعل کے خلاف، اس کا باطن ظاہر کے خلاف اس کا آنا جانے کے خلاف اور اس کی موجودگی عدم موجودگی ہوا کرتی ہے۔ نفاق مکہ شریف میں تو تھا ہی نہیں بلکہ اس کے الٹ تھا یعنی بعض لوگ ایسے تھے جو زبردستی بہ ظاہر کافروں کا ساتھ دیتے تھے مگر دل میں مسلمان ہوتے تھے۔ جب آنحضرت ﷺ ہجرت کر کے مکہ چھوڑ کر مدینہ تشریف لائے اور…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 11
یعنی وہ اپنے آپ کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر رہے ہیں کہ ان کی یہ منافقانہ روش ان کے لیے مفید ہوگی، حالانکہ دراصل یہ ان کو دنیا میں بھی نقصان پہنچائے گی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں ایک منافق چند روز کے لیے لوگوں کو دھوکا دے سکتا ہے مگر ہمیشہ اس کا دھوکا نہیں چل سکتا۔ آخر کار اس کی منافقت کا راز فاش ہو کر رہتا ہے۔ اور پھر معاشرے میں اس کی کوئی ساکھ باقی نہیں رہتی۔ رہی آخرت، تو وہاں ایمان کا زبانی دعویٰ کوئی قیمت نہیں رکھتا اگر عمل اس کے خلاف ہو۔
Read the full tafseer →معارف و مسائل
ربط آیات
جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ سورة بقرہ کے شروع میں قرآن کریم کا شک وشبہ سے بالاتر ہونا بیان کرنے کے بعد بیس آیتوں میں اس کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے اوّل پانچ آیتوں میں ماننے والوں کا تذکرہ متقین کے عنوان سے ہے، پھر دو آیتوں میں ایسے نہ ماننے والوں کا ذکر ہے جو کھلے طور پر قرآن کا معاندانہ انکار کرتے تھے، ان تیرہ آیتوں میں ایسے منکریں و کفار کا ذکر ہے جو ظاہر میں اپنے آپ کو مومن مسلمان کہتے تھے مگر حقیقت میں مومن نہ تھے ان لوگوں کا نام قرآن میں منافقین رکھا گیا ہے،
مذکورہ بالا آیات میں پہلی دو آیتوں میں منافقین کے متعلق فرمایا کہ لوگوں…
Read the full tafseer →يُخَٰدِعُوۡنَ ٱللَّهَ: مخادعت کے معنی دھوکا دینے کی کوشش کرنا، عام اس سے کہ وہ دھوکا کامیاب ہوسکے یا نہ ہوسکے۔ یہاں مخادعت کا لفظ بھی استعمال فرمایا ہے اور خدع کا لفظ بھی استعمال فرمایا ہے۔ جہاں لفظ کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے وہاں تو مخادعت استعمال ہوا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو دھوکا دینے کی خواہش ہو تو کوئی شخص اپنی حماقت کے سبب سے کرسکتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس کو دھوکا دے نہیں سکتا۔ برعکس اس کے خود ان کے لئے خدع کا لفظ استعمال ہوا ہے کیونکہ جو شخص خدا کو دھوکا دینے کا ارادہ کرتا ہے وہ اپنی اس کوشش میں ناکام تو رہتا ہے لیکن خود اپنے آپ کو وہ ضرور دھوکے میں ڈال دیتا ہے۔
وَمَا يَشْعُرُونَ: شعور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
1 یہاں سے تیسرے گروہ یعنی منافقین کا تذکرہ شروع ہوتا ہے جن کے دل تو ایمان سے محروم تھے مگر وہ اہل ایمان کو فریب دینے کے لئے زبان سے ایمان کا اظہار کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نہ اللہ کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ تو سب کچھ جانتا ہے اور اہل ایمان کو مستقل فریب میں رکھ سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے سے مسلمانوں کو ان کی فریب کاریوں سے آگاہ فرما دیتا تھا یوں اس فریب کا سارا نقصان خود انہی کو پہنچتا ہے کہ انہوں نے اپنی عاقبت برباد کرلی اور دنیا میں بھی رسوا ہوئے۔
Read the full tafseer →(11) یعنی بظاہر تو وہ اللہ اور مسلمانوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں ؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں ؛ کیونکہ اس دھوکے کا انجام خود ان کے حق میں برا ہوگا، وہ سمجھ رہے ہیں کہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرکے وہ کفر کے دنیوی انجام سے بچ گئے، حالانکہ آخرت میں ان کو جو عذاب ہوگا وہ دنیا کے عذاب سے زیادہ سنگین ہے۔
Read the full tafseer →ٍاس قسم کے لوگ ہمیشہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان (اور خادم اسلام ہونے ) کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ لیکن درحقیقت ان کے دل دولت ایمان سے خالی ہوتے ہیں ، یہ صریح طور پر منافقت میں مبتلا ہوتے ہیں ، یہ بزدل ہوتے ہیں اور مومنین کے بارے میں ان کی جو حقیقی رائے ہوتی اس کا اظہار کرنے کی جراءت ان کے اندر نہیں ہوتی ۔
ایسے لوگ ہمیشہ اس زعم میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ غایت درجے کے ذہین ، معاملہ فہم اور پالیسی باز ہیں اور وہ ہر حال میں ان سادہ لوح مومنین کو طرح دے سکتے ہیں ۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ ایسے لوگ صرف مومنین ہی کو نہیں بلکہ اللہ کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یُخٰدِعُونَ اللہ وَ الَّذِینَٰامَنُوا ” وہ…
Read the full tafseer →5 یعنی ان کی فریب بازی نہ خدائے تعالیٰ کے اوپر چل سکتی ہے کہ وہ عالم الغیب ہے اور نہ مومنین پر کہ حق تعالیٰ مومنین کو بواسطہ پیغمبر ﷺ اور دیگر دلائل و قرائن کے منافقین کے فریب سے آگاہ فرما دیتا ہے بلکہ ان کی فریب بازی کا وبال اور اس کی خرابی حقیقت میں ان ہی کو پہنچتی ہے مگر وہ اس کو اپنی غفلت اور جہالت اور شرارت سے نہیں سوچتے اور نہیں سمجھتے اگر غور کریں تو سمجھ لیں کہ اس فریب بازی سے مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچتا بلکہ اس کا نتیجہ خراب ہم کو پہنچ رہا ہے حضرت شاہ صاحب قدس سرہ (شاہ عبدالقادر صاحب (رح) علیہ) کے فہم کی نزاکت ہے کہ یہاں یشعرون کا ظاہر ترجمہ چھوڑ کر اسکا ترجمہ بوجھنا یعنی سوچنا…
Read the full tafseer →آیت 9 یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاج
یُخٰدِعُوْنَباب مفاعلہ ہے۔ اس باب کا خاصہ ہے کہ اس میں ایک کشمکش اور کشاکش موجود ہوتی ہے۔ لہٰذا میں نے اس کا ترجمہ کیا : ”وہ دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔“
وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ
یہ بات یقینی ہے کہ اپنے آپ کو تو دھوکہ دے رہے ہیں ‘ لیکن یہ اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ کو اور اہل ایمان کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ سورة النساء کی آیت 142 میں منافقین کے بارے میں یہی بات بڑے واضح انداز میں بایں الفاظ آئی ہے : اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ج ”یقیناً منافقین اللہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں ‘ حالانکہ اللہ ہی…
Read the full tafseer →13 وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اگر وہ اللہ اور مومنوں سے دغا بازی کرنا چاہیں بھی تو ایسا کر نہیں سکتے۔ کیونکہ اللہ تو دلوں کے راز تک جانتا ہے اور ان ارادوں اور حرکات سے مسلمانوں کو اپنے رسول کے ذریعے مطلع کردیتا ہے۔ اس طرح ان کی دغا بازی کا وبال انہیں پر پڑے گا اور وہی ذلیل و رسوا ہوں گے۔
Read the full tafseer →24 یعنی محض مسلمانوں سے نفع حاصل کرنے کے لیے ان کی گرفت سے اپنے کو بچانے کے لیے اپنے تئیں مسلمان کہہ رہے ہیں۔ اور جرم کفر پر اضافہ جرم خدع کا کررہے ہیں۔ (آیت) ” یخدعون “ باب مفاعلہ سے ہے اور اس کا خاصہ طرفین سے مشارکت ہے، لیکن یہاں (آیت) ” یخدعون “ کے معنی میں ہے۔ اور باب مفاعلہ محض زور اور تاکید کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔ المفاعلۃ لا فادۃ المبالغۃ فی الکیفیۃ (ابو سعود) اخرج فی زنۃ فاعلت للمبالغۃ (بیضاوی) (آیت) ” یخدعون اللہ۔ حق کی مخالفت اور تکذیب کرتے کرتے جسارت اتنی بڑھ گئی تھی کہ اپنے خیال وپندار میں خدا کو بھی دھوکا دے چلے تھے۔ اجترء وا علی اللہ حتی ظنوا انہم یخدعون اللہ (ابن جریر، عن ابن…
Read the full tafseer →وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ : یعنی ان کے نفاق کا نقصان کسی اور کا نہیں، خودا نہیں کا ہوتا ہے اور ہوگا اور وہ ہے آخرت میں عذاب اور دنیا میں رسوائی اور منافقت کی پردہ دری : ” ضَرَرُھَا یَلْحَقُھُمْ وَمَلْرُھَا ئَحِیْقُ بِھِمْ “۔ (کشاف) ” یَفْتَضِحُوْنَ فِی الدنیا وَیَسْتَوْجِبُوْنَ العِقَابَ فی الْعُقبٰی “۔ (معالم، بحوالہ ماجدی)
اس منافقت کا وبال خود ان ہی پر پڑ کر رہے گا : ” لا یَعْلَمُوْنَ أنَّ وَبَالَ خداعِھِمْ یَعُوْدُ عَلَیھم ‘ (معالم) یَعْلَمونَ کے بجائے، یَشْعُرُوْنَ وارد ہوا ہے، شعور عربی میں علم حسی کو کہتے ہیں اور اسی کو اردو میں احساس کہتے ہیں اور مشاعر،…
Read the full tafseer →یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ( اللہ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لا چکے ہیں دھوکہ دیتے ہیں) اصل میں خَدْعٌ اسے کہتے ہیں کہ تم کسی شخص کو اس مکروہ اور ناپسند بات کے بر خلاف دھوکہ میں ڈالو جسے تم مخفی رکھتے ہو اور یہ عرب کے قول خدَعَ الضَّبُّ سے لیا گیا یعنی جب گوہ اپنے بل میں چھپ کر شکاری کو ظاہر ہونے اور نکلنے کا دھوکہ دیتی ہے ( تو اہل زبان اسے خدع الضب سے تعبیر کرتے ہیں) خدَعَکے لغوی معنے پوشیدہ کرنے کے ہیں۔ خدا کو دھوکہ دینے کا یہ مطلب ہے کہ وہ رسول خدا ﷺ کو دھوکا دیتے ہیں اس صورت میں یُخَادِعُوْنَ اللّٰہَ میں ایک مضاف محذوف ماننا پڑیگا یا یوں کہو کہ منافقوں کا رسول کے ساتھ یہ…
Read the full tafseer →(9) یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں اور دلی طور پر اس کے احکام کو جھٹلاتے ہیں، ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت میں اس قدر دلیر اور بہادر واقع ہوئے ہیں کہ وہ خود اس جھوٹے خیال میں مبتلا ہیں کہ الیعاذ باللہ وہ اللہ تعالیٰ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور رسول اکرم ﷺ کے تمام صحابہ کرام ؓ کو دھوکا دے رہے ہیں، مگر حقیقت میں وہ اپنے آپ کو ہی جھٹلا رہے ہیں کیوں کہ ان کو یہ پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی رسول اللہ ﷺ کو ان کے دلوں کے راز بتا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →يُخٰدِعُوْنَ باب مفاعلہ سے ہے جس میں مشارکت پائی جاتی ہے، اس لیے ترجمہ ”دھوکا بازی“ کیا گیا ہے، یعنی وہ دل میں کفر چھپاتے اور ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور ایمان والوں کو دھوکا دینے میں کامیاب ہیں، حالانکہ دھوکا ان کے ساتھ ہو رہا ہے کہ دنیا میں انھیں مسلمان قرار دیا گیا اور انھیں مسلمانوں والے حقوق اور فوائد حاصل رہے، مگر آخرت میں وہ آگ کے سب سے نچلے حصے میں ہوں گے، فرمایا : (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ) [ النساء : 142 ] ”بیشک منافق لوگ اللہ سے دھوکا بازی کر رہے ہیں، حالانکہ وہ انھیں دھوکا دینے والا ہے۔“ اور انھیں اس خود فریبی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 9
ہمارے علماء نے فرمایا : یخدعون اللہ کا معنی ہے : وہ اپنے گمان اور خیال کے مطابق اللہ تعالیٰ کو دھوکا دیتے ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ اس لئے فرمایا کیونکہ ان کا عمل، ایک دھوکا دینے والے کے عمل جیسا ہوتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : کلام میں حذف ہے۔ اصل میں ہے یخادعون رسول اللہ ﷺ ۔ وہ اللہ کے رسول کو دھوکا دیتے ہیں۔ حسن وغیرہ سے مروی ہے، ان کے رسول اللہ کو دھوکا دینے کو اللہ تعالیٰ کو دھوکا دینے کے مترادف فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ ﷺ کی رسالت کے ساتھ بلایا۔ اسی طرح جب انہوں نے مومنین کو دھوکا دیا تو یقیناً انہوں نے اللہ تعالیٰ کو دھوکا دیا۔ ان کا دھوکا یہ تھا کہ وہ ایمان…
Read the full tafseer →(1) احمد بن منیع نے اپنی مسند میں سند ضعیف کے ساتھ ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں مسلمانوں میں سے ایک کہنے والے نے کہا یا رسول اللہ ! کل نجات کیسے ہوگی ؟ آپ نے فرمایا کہ تو اللہ تعالیٰ کو دھوکہ نہ دے عرض کیا ہم کس طرح اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ تو عمل تو وہ کرے جس کا تجھے حکم دیا گیا مگر تو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کی خوشنودی کا ارادہ کرے۔ پس تم ریا سے بچو کیونکہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے بلاشبہ ریا کار کو قیامت کے دن لوگوں کے سامنے چار ناموں سے بلایا جائے گا یا کافر، یا فاجر، یا خاسر، یا غادر (اے دھوکہ دینے والا) تو نے اپنے عمل کو ضائع کردیا اور تیرا ثواب ختم…
Read the full tafseer →[ يُخٰدِعُوْنَ : وہ لوگ دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ] [ اللّٰهَ : اللہ کو ] [ وَالَّذِيْنَ : اور ان لوگوں کو جو ] [ اٰمَنُوْا ۚ: ایمان لائے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ مَا يَخْدَعُوْنَ : وہ لوگ دھوکہ نہیں دیتے ] [ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ : مگر اپنے جی کو ] [ وَمَا يَشْعُرُوْنَ : اور وہ لوگ ادراک حاصل نہیں کرتے ]
خ د ع
[ خدعا : دھوکا دینا۔ وَاِنْ يُّرِيْدُوْٓا اَنْ يَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ ](اور اگر وہ لوگ ارادہ کریں کہ وہ لوگ آپ کو دھوکا دیں تو بیشک آپ کے لیے اللہ کافی ہے)
[ خادع : اسم الفاعل ہے ، دھوکا دینے والا [ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ](بےشک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
منافقین کی تاریخ اور نفاق کے اسباب
جب سرور عالم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے اور دین اسلام خوب پھیلنے لگا تو یہودیوں اور خاص کر ان کے علماء اور احبار کو یہ بات زیادہ کھلی اور یہ لوگ دشمنی پر اتر آئے۔ کچھ لوگ اوس اور خزرج میں سے بھی اسلام کے مخالف ہوگئے۔ اسلام کی اشاعت عام ہوجانے کے بعد کھل کر یہ لوگ مقابلہ نہیں کرسکتے تھے اور دشمنی کے اظہار سے بھی عاجز تھے۔ اس لیے انہوں نے یہ چال چلی کہ ظاہری طور پر اسلام قبول کرلیا، اندر سے کافر تھے اور ظاہر میں مسلمان تھے۔
ان کا سردار عبداللہ ابن ابی تھا۔ حضور اقدس ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے پہلے اوس اور خزرج نے عبداللہ بن ابی کو اپنا بادشاہ بنانے اور اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
یخدعون اللہ والذین امنوا وما یخدعون الا انفسھم وما یشعرون۔ یہ منافقین اپنے زعم میں اللہ اور مومنین سے فریب اور دھوکہ کرتے ہیں۔ حالانکہ نہیں دھوکہ دیتے مگر اپنے نفسوں کو اس لیے کہ حق تعالیٰ عالم الغیب والشہادۃ ہیں۔ ان سے کوئی شے مخفی نہیں اور مومنین کو بذریعہ وحی ان کی دغا بازی کی اطلاع دیتے رہتے ہیں ان کے اس فریب سے اہل ایمان کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ الٹآ انہی کو نقصان ہوتا ہے۔
: مخادعت مفاعلت کا وزن ہونے کی وجہ سے مشارکت کو مقتضی ہے۔ سو منافقین کی طرف سے تو خداع اور مکر ظاہر ہے۔ مگر حق جل شانہ کی طرف سے ان پر ظاہرا احکام اسلام کا جاری ہونا یا دنیوی نعمتیں دیکر استدراج اور امہال میں مبتلا…
Read the full tafseer →ف 12 ۔ اس آیت میں منافقین کے ایمان کی حقیقت بیان فرمائی کہ زبان سے تو وہ اللہ کی توحید اور آخرت کا اقرار کرتے ہیں لیکن ان کے دل یقین و ایمان اور تصدیق وا ان سے یکسر خالی ہیں۔ اس کے بعد منافقت اور دو رخی چال سے ان منافقین کی غرض وغایت بیان کی گئی ہے۔
13 ۔ اس دو رخی چال سے وہ مسلمانوں کو فریب دیکر ان سے دنیوی اور مادی فائدے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ ظاہری طور پر اسلام قبول کرلینے سے دنیوی احکام میں وہ مسلمان ہی شمار ہوں گے۔ ان کا جان ومال محفوظ ہوجائے گا اور مسلمانوں کو وقتاً فوقتاً حاصل ہونے والے اموالِ غنیمت اور دیگر مادی فوائد میں وہ ان کے ساتھ برابر کے شریک ہوں گے۔ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
گزشتہ سے پیوستہ : ہدایت کے اعتبار سے انسانوں کے تین گروہوں کا ذکر آچکا ہے۔ پہلا گروہ وہ ہے جو ظاہراً اور باطنا ہدایت کو قبول کرتے ہیں ، وہ مومن اور متقی کہلاتے ہیں۔ سورة بقرہ کی پہلی چار آیتوں میں ان کا حال بیان ہوا ہے۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو ظاہر اور باطناً ہدایت الٰہی کا انہار کرتا ہے۔ وہ کافروں کا گروہ ہے۔ اگلی دو آیات میں ان کا حال بیان ہوچکا ہے اب ان آیات میں تیسرے گروہ منافقین کا تذکرہ ہے جو ظاہر میں تو ہدایت کو تسلیم کرتے ہیں مگر ان کے باطن میں کفر ہوتا ہے۔ اگلی تیرہ آیات میں منافقین کی خرابیاں ، انکی سازشوں اور چال بازیوں کا حال ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مثالوں کے ذریعے سارا معاملہ سمجھایا…
Read the full tafseer →يُخٰدِعُوْنَ اللہَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا 0 ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ 9 ۭ
خدع
الخِدَاع : إنزال الغیر عمّا هو بصدده بأمر يبديه علی خلاف ما يخفيه، قال تعالی:
يُخادِعُونَ اللَّهَ [ البقرة/ 9] ، أي : يخادعون رسوله وأولیاء ه، ونسب ذلک إلى اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معاملة الرّسول کمعاملته، ولذلک قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ يُبايِعُونَكَ إِنَّما يُبايِعُونَ اللَّهَ [ الفتح/ 10] ، وجعل ذلک خدا عا تفظیعا لفعلهم، وتنبيها علی عظم الرّسول وعظم أولیائه . وقول أهل اللّغة : إنّ هذا علی حذف المضاف، وإقامة المضاف إليه مقامه، فيجب أن يعلم أنّ المقصود بمثله في الحذف لا يحصل لو…
Read the full tafseer →ترکیب : یخادعون فعل ضمیرھم جو راجع ہے منافقین کی طرف اس کا فاعل اور لفظ اللہ اور الذین آمنوا موصول صلہ سے مل کر معطوف
ہوا لفظ اللہ پر مفعول۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ بن کر کلام مستانف ہوا یا یہ حال ہے فاعل یقول سے۔ اور مایخدعون فعل بافاعل احدا مفعول محذوف مستثنیٰ منہ الانفسہم مستثنیٰ فعل فاعل اور مستثنیٰ منہ اور مستثنیٰ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر بذریعہ واو حال ہوا فاعل یخادعون سے اور مایشعرون جملہ فعلیہ بذریعہ واو کے اس مایخدعون الخ سے حال واقع ہے۔
تفسیر : یعنی وہ منافقین جو یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اپنے زعم میں خدا سے اور مسلمانوں سے فریب بازی کر…
Read the full tafseer →قرآن نے ان کی اس دلیل کا پردہ چاک کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاج وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآاَنْفُسَھُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ ۔
(یہ لوگ دھوکہ دینا چاہتے ہیں اللہ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے حالانکہ یہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہیں اور اس کا احساس نہیں کرتے) (البقرۃ : 9)
خدع اور مخادعت میں فرق
سب سے پہلے تو الفاظ کو دیکھئے یُخٰدِعُوْن کا مصدر مخادعت ہے۔ یہ مفا علہ کا وزن ہے۔ مفا علہ کے باب میں فعل جانبین سے ہوتا ہے۔ لیکن یہ مستقل قاعدہ نہیں کبھی کبھی اس خاصہ سے مجرد ہو کر بھی یہ فعل استعمال ہوتا ہے اور جانبِ واحد سے اس کا لحاظ کیا جاتا ہے۔ دوسری بات…
Read the full tafseer →درحقیقت یہ اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔
کتنا برا اور بد بخت ہے وہ آدمی جو اپنی ذات کو دھوکے میں مبتلا رکھے۔ کیونکہ منافق اللہ کے رسول کو دھوکہ دیتے، دین اور دین داروں کو مذاق کرتے ہیں۔ دین اللہ تعالیٰ نے بھیجا اور رسول کریم ﷺ کو بھی اسی نے مبعوث فرمایا ہے اور مومنوں کو بھی دین کی وجہ سے استہزا کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے دھوکہ کو اپنی ذات کے ساتھ دھوکہ اور مذاق قرار دیا ہے۔
رسول محترم ﷺ نے منافق کے کردار کو اس طرح بیان فرمایا ہے :
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاۃِ الْعَاءِرَۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ تَعِیْرُإِ لٰی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ : (اور آخرت میں ان کو بڑا عذاب ہونے والا ہے) عذاب کا لفظ نکال کی طرح ہے بناوٹ ومعنی ہر دو لحاظ سے کیونکہ تم کہو گے۔ اعذب عن الشیٔ یعنی جب وہ کسی چیز سے رک جائے جیسا کہتے ہیں نکل عنہ وہ اس سے باز آیا۔
عظیم و کبیر کا فرق :
یہ ہے کہ عظیم حقیر کے بالمقابل آتا ہے۔ کبیر صغیر کے مقابل آتا ہے گویا عظیم کبیر سے بڑھ کر ہے جیسا حقیر صغیر سے کمتر ہے۔ یہ دونوں اجسام واحداث کے بارے میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلًا کہو گے رجل عظیم و کبیر۔ مراد یہ ہوگی کہ اس کا جسم بڑا ہے یا رعب بڑا ہے۔
نکرہ لانے کی وجہ :
غشاوۃ کو نکرہ لائے کہ ان کی آنکھوں پر ایک قسم کا پردہ ہے یہ وہ پردہ نہیں جس کو لوگ…
Read the full tafseer →خداع کا لغوی معنی اخفاء ہے اور اسی سے مخدع ہے جو گھر کا خصوصی کمرہ (سٹور) ہوتا ہے جس میں سامان پوشیدہ رکھا جاتا ہے مخادع کو مخادع اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ ضمیر کے خلاف اظہار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول میں (آیت)” وھو خادعھم “ خداع کا معنی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ظاہرا دنیا میں ان کو نعمتیں عطا فرماتے ہیں ۔ یہ خلاف ہے اس کے جو اللہ تعالیٰ ان منافقوں کے لیے آخرت میں عذاب غائبانہ تیار کیے ہوئے ہیں، اور کہا گیا ہے کہ خداع کا اصل معنی فساد ہے اور اس جملہ کا معنی ہوگا کہ منافق لوگ ایمان کے اس بول کو (جو انہوں نے ظاہری طور پر بولا) دل میں پوشیدہ کفر کے ذریعے فاسد کر رہے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ کا قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
(8 ۔ 20): 8۔ 20۔ شروع سورة سے یہاں تک چار آیتوں میں خالص مومنوں کا ذکر تھا۔ اور پھر دو آیتوں میں کافروں کا اب ان تیرہ آیتوں میں منافقوں کا ذکر ہے۔ منافق وہ ہے جو زبان سے اچھی بات کہے اور دل میں اس کے بدی ہو۔ منافقوں کا ذکر قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ میں آنے کے بعد شروع ہوا ہے۔ ہجرت سے پہلے جس قدر حصہ قرآن شریف کا مکہ میں اترا ہے اس میں منافقوں کا ذکر اس واسطے نہیں ہے کہ مکہ میں یا کھلم کھلا مسلمان تھے یا کافر۔ منافق لوگ وہاں نہیں تھے کیونکہ مکہ میں کفار کا غلبہ تھا جس کے سبب سے آنحضرت ﷺ کو مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا۔ اس اپنے غلبہ کے سبب سے وہاں کے کافر اپنی اصلی حالت پر تھے۔ جب آنحضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
آیات نمبر 8 تا 10
معلوم ہونا چاہیے کہ نفاق کا اظہار کرنے اور باطن میں برائی چھپانے کا نام ہے۔ اس تعریف میں نفاق اعتقادی اور نفاق عملی دونوں شامل ہیں۔ جیسے نبی ﷺ نے بھی اپنے اس فرمان میں اس کا ذکر فرمایا :” آیۃ المنافق ثلاث، اذا حدت کذب واذا وعدا خلف واذا ئتمن خان) (1) ” منافق کی تین نشانیاں ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے۔ “ ایک اور روایت میں آتا ہے (واذا خاصم فجر)-2” جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔ “
رہا نفاق اعتقادی جو دائرہ اسلام سے خاج کرنے والا ہے۔ تو یہ نفاق ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منافقین کو اس سورت میں اور…
Read the full tafseer →قول باری : یخد عون اللہ والذین امنوا لغت کے اعتبار سے مجاز ہے۔ اس لئے خدیعہ کے اصل معنی اخفاء کے ہیں۔ منافق دوسروں کو دھوکا دینے کے لئے اشتراک ، یعنی شرک کو چھپائے رکھتا اور دھوکے اور ملمع کاری کے طور پر ایمان کا اظہار کرتا ہے لیکن اللہ کی نظروں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رکھی جاسکتی اور نہ ہی حقیقت میں اسے دھوکا دیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو خداع کی صفت بد سے موصوف کیا ہے ان کا معاملہ دو میں سے ایک حال سے خالی نہیں ہے۔ یا تو وہ اللہ کی معرفت رکھتے تھے اور یہ جانتے تھے کہ اپنے عقائد پر پردہ ڈال کر وہ اللہ کو کسی طرح دھوکا نہیں دے سکتے یا انہیں اس کی معرفت نہیں تھی۔ یہ بات ذرا بعید ہے…
Read the full tafseer →22 منافق لوگ اور ان کی دھوکے بازی : کہ یہ لوگ دھوکہ دیتے ہیں اللہ کو اور ایمان والوں کو۔ یعنی اپنے خیال کے مطابق، کہ اپنے طور پر یہ لوگ یوں سمجھتے ہیں کہ اس طرح اندر کچھ اور باہر کچھ کی اس منافقانہ پالیسی سے یہ حقیقت حال کو پوشیدہ رکھ کر اپنی بڑی مہارت اور چالاکی دکھا رہے ہیں، حالانکہ یہ ان کی پرلے درجے کی حماقت تھی، اور ہے، بھلا اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کو جو کہ " عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْر " ہے کسی طرح کا کوئی دھوکہ دینا کیونکر ممکن ہوسکتا ہے ؟ سو اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جو لوگ نور ایمان کی دولت سے محروم ہوتے ہیں وہ کیسی کیسی حماقتوں کا ارتکاب کرتے ہیں، اور کیسی کیسی ٹھوکریں کھاتے…
Read the full tafseer →منافقوں کا دھوکہ
تشریح : اس آیت مبارکہ میں منافقوں کی بےوقوفی کا ذکر کیا گیا ہے وہ بظاہر ایمان لے آتے ہیں جس میں ان کا مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ اس طرح ہم مسلمانوں کے درمیان رہ کر ان کے راز اور منصوبوں سے واقفیت حاصل کرسکتے ہیں اور وہ یہی کچھ کرتے تھے وہ تمام حالات سے کفار کو آگاہ کرتے رہتے اور کفار مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
ان کا دوسرا مقصد یہ بھی ہوتا تھا کہ اس طرح مسلمانوں کی گرفت سے بھی بچنے کی کوشش کریں اور اس طرح دہرا عذاب اکٹھا کرتے کیونکہ اس طرح وہ کفر کے علاوہ دھوکہ دیہی اور فریب کاری کے مرتکب بھی ہو رہے تھے اور خوش تھے کہ ہم اللہ اور مسلمانوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
آیات 8- 20
اسرارو معارف
یہاں کفر کی دوسری قسم بیان ہوتی ہے جسے نفاق کہتے ہیں اور یہ اپنے ضرر کے اعتبار سے شدید تر ہے پہلی پانچ آیات میں مومنین کی تعریف ، پھر دو آیات میں کفر کی وضاحت کے بعد تیرہ آیات میں نفاق اور منافق کے حالات ارشاد ہوئے ہیں تاکہ اس کی خوب وضاحت ہوجائے جس طرح منافق ضرر میں بڑھا ہوا ہے اسی طرح نفاق کا عذاب بھی دوسری قسم کے کفر سے زیادہ ہوگا۔
ان المنافقین فی الدرک الاسغل من النار ، یعنی کفار سے نیچے کے دجے میں ان کو رکھا جائے گا کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں مگر وہ مومن نہیں ہیں اور مومن نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں بھئی…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی زبان سے اسلام کا اظہار کر کے اور دلوں میں کفر چھپاکر آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ مسلم معاشرے میں کچھ مراعات سے بہرہ مند ہوں اور ان کے راز بھی معلوم کرتے رہیں میگر یہ لوگ خود فیر یبی میں مبتلا ہیں۔ گو یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں اتی مگر ایک نہ ایک دن ان کے نفاق کی سزا ان کو مل کر رہے گی۔
Read the full tafseer →(2:9) یخدعون۔ مضارع جمع مذکر غائب ، مخارعۃ۔ (مفاعلۃ) مصدر ۔ وہ فریب کرتے ہیں۔ وہ دھوکہ دیتے ہیں الخداع کے معنی ہیں کہ جو کچھ دل میں ہو اس کے برعکس ظاہر کرکے کسی کو اس چیز سے پھیر دینا جس کے وہ درپے ہو۔
امام راغب (رح) تعالیٰ رقمطراز ہیں : (اس میں) اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینے سے مراد اس کے رسول اور اولیاء کو فریب دینا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کرکے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ کوئی سامعاملہ کرنا گویا اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہوتا ہے۔ اسی بناء پر فرمایا ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ۔ (47:10) جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔
اللہ۔ فعل یخدعون کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
لغات القرآن آیت نمبر 8 تا 16
(الناس): لو گ ، انسان، آدمی۔ (یقول): وہ کہتا ہے ، اردو میں اس کا ترجمہ ” امنا “ کی وجہ سے اس طرح کیا جائے گا، ” وہ کہتے ہیں۔ ” (امنا): ہم ایمان لے آئے۔ (یوم آخر): آخری دن، قیامت کا دن۔ (یخدعون): اور یخدعون کے الفاظ ” خدع “ سے بنے ہیں دھوکہ دینا، دل میں بری بات چھپا کر بظاہر اچھا بننے کی کوشش کرنا تا کہ دوسرے اس سے دھوکہ کھا جائیں۔ (انفس): نفس کی جمع ہے۔ جان، ذات شخصیت۔ (ما یشعرون): وہ شعور نہیں رکھتے، انہیں سمجھ نہیں ہے، بیخبر ہیں، اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنی حماقت میں مبتلا ہیں مگر ان کو اس کا احساس اور خبر نہیں ہے۔ (مرض): بیماری ، بیماری ایک تو وہ ہوتی ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–18
شان نزول : جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں ہجرت کرکے تشیف لائے اور اہل اسلام کی جماعت کی قوت بڑھی تو اہل مدینہ میں سے جن کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے اسلام لکھا تھا وہ تو خالص مسلمان ہوگئے۔ لیکن ایک جماعت اہل مدینہ کی ان یہود سے میل جول رکھتی تھی، جو مدینہ کے گرد و نواح میں رہتے تھے۔ ان یہود کے بہکانے سے اہل مدینہ کے کچھ لوگ مسلمانوں کی قوت اور شوکت کو دیکھ کر جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنا جان و مال بچانے کے لیے مسلمانوں کے روبرو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے۔ اور جب اپنے ساتھیوں سے ملتے تو کہتے : ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو دل لگی کے طور پر اپنا اوپری اسلام ظاہر کردیتے ہیں۔ لوگوں کی دغا بازی ظاہر کرنے کو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
[8] اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ نے مہر لگا دی تھی اس لئے انہوں نے نافرمانی کی راہ اختیار کی بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے قرآن کے پیش کردہ راستہ کے خلاف دوسرا راستہ اختیار کرلیا تو اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی۔ اس سلسلے میں یہ بات جان لینی چاہئے کہ اللہ نے انسان کو نیکی و بدی کا امتیاز بخشا ہے اور ساتھ ہی اس کو اختیار دیا ہے کہ چاہے وہ نیکی کا راستہ اختیار کرے چاہے بدی کا۔ اگر وہ نیکی اور بھلائی کی راہ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو نیکی کی راہ میں ترقی کی توفیق ملتی ہے اور اگر وہ بدی کے راستے پر چل پڑتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ اس کا دل برائی کا رنگ پکڑنا شروع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ یہ جتنا اسلام کی کامیابی پر کڑھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ اسی سے اسلام کو کامیابی بخش رہا ہے نتیجہ یہ ہے کہ دل میں نفاق وحسد کا مرض بڑھتا ہی جاتا ہے کم نہیں ہوتا اس کو اپنی طرف منسوب کرنا یہ بتانا ہے کہ سب کام اللہ کی قدرت سے ہوتے ہیں گو اس کا منشاء یہ نہیں کہ لوگ کفر اختیار کریں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ف 4۔ اور لوگوں میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو ظاہر ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لے آئے ہیں ۔ لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ وہ مومن نہیں ہیں بلکہ منافق ہیں ۔ وہ اپنے خیال میں اللہ کو اور مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں حالانکہ وہ خود ہی اپنے آپ کو دھوکے میں مبتلا کر رہے ہیں اور ان کو اس کا بالکل شعور اور تمیز نہیں ہے۔ ان لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا اور ان کو ان کی جھوٹی باتیں بنانے کے باعث درد ناک سزا ملنے والی ہے۔
قلب اور زبان میں چونکہ موافقت نہ تھی اس لئے ان کو منافق فرمایا پھر جس عرض کیلئے فریب دینے کی کوشش کی تھی وہ نا کام…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی اس چالبازی کا انجام بد خود ان ہی کو بھگتنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →دھوکہ باز ہمیشہ خود دھوکے میں رہتا ہے :
18: یہاں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ دھوکا باز ، مکاری کرنے والا اور فریب دینے والا ہمیشہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکا دیتا ہے ، کیوں ؟ ظاہر ہے کہ اس کا یہ عمل کبھی اچھا نہیں ہوسکتا اور جب عمل اچھا نہ ہوا تو اس کا نتیجہ کیونکر اچھا ہوگا ؟ عمل اور ردعمل یعنی عمل کا نتیجہ لازم و ملزوم ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ اس کے نفاق سے نقصان کسی اور کا نہیں ہوگا خود اسی کا ہوگا۔ جو یقیناً آخرت میں عذاب کی شکل اختیار کرے گا اور دنیا میں بھی رسوائی و فضیحت اور منافقت کی پردہ دری ہوگی۔
آپ کو معلوم ہوگا کہ عبداللہ بن ابی بن سلول کی رسم تاجپوشی ادا ہونے ہی والی تھی جو رسول اللہ ﷺ کی…
Read the full tafseer →Misbehaving Prophets (علیہم السلام) is to misbehave with Allah
(4) These verses denounce the hypocrites for trying to be clever with Allah Himself and to deceive Him, although no one among them could probably have had such an intention or even thought of such a possibility. What they were actually doing was to try to deceive the Holy Prophet ﷺ and the Muslims. Allah has equated this effort with an attempt to deceive Him, and has thus indicated that a man who is in any way impertinent to a prophet or a man of Allah is ultimately guilty of being impertinent to Allah Himself - this should be…
Read the full tafseer →11. These people delude themselves that their hypocritical behaviour will profit them when in fact it will prove harmful both in this world and the Next. A hypoctite may be able to fool people for a while, but it does not last long; his hypocrisy is ultimately seen through. As for the Next Life, it is obvious that his claim to be a true believer is contradicted by his own actions and is thus quite worthless.
Read the full tafseer →