شک و شبہ بیماری ہے
بیماری سے مراد یہاں شک و شبہ ہے۔ حضرت ابن عباس حضرت ابن مسعود اور چند صحابہ سے یہی مروی ہے۔ حضرت مجاہد عکرمہ، حسن بصری، ابو العالیہ، ربیع بن انس، قتادہ، کا بھی یہی قول ہے۔ حضرت عکرمہ اور طاؤس نے اس کی تفسیر سے ریا اور ابن عباس سے اس کی تفسیر نفاق بھی مروی ہے۔ زید بن اسلم فرماتے ہیں یہاں دینی بیماری مراد ہے نہ کہ جسمانی۔ انہیں اسلام میں شک کی بیماری تھی اور ان کی ناپاکی میں اللہ تعالیٰ نے اور اضافہ کردیا۔ جیسے قرآن میں اس کا ذکر ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ ہے۔ آیت (فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْھُمْ اِيْمَانًا وَّھُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ01204 وَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
سورة الْبَقَرَة 12
بیماری سے مراد منافقت کی بیماری ہے۔ اور اللہ کے اس بیماری میں اضافہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ منافقین کو ان کے نفاق کی سزا فوراً نہیں دیتا بلکہ انہیں ڈھیل دیتا ہے اور اس ڈھیل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ منافق لوگ اپنی چالوں کو بظاہر کامیاب ہوتے دیکھ کر اور زیادہ مکمل منافق بنتے چلے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →تیسری آیت میں فرمایا کہ ان کے دلوں میں بڑا مرض ہے سو اور بھی بڑھا دیا، اللہ نے ان کے مرض کو مرض اور بیماری اس کیفیت کو کہتے ہیں جس سے انسان اپنے اعتدال مناسب سے نکل جائے اور اس کے افعال میں خلل پیدا ہوجائے جس کا آخری نتیجہ ہلاکت اور موت ہوتا ہے ،
قرآن و حدیث کی اصطلاح میں ان نفسانی کیفیات کو بھی مرض کہا جاتا ہے جو نفس انسانی کے کمال میں خلل انداز ہوں اور جن کی وجہ سے انسان اپنے انسانی اعمال سے محروم ہوتا چلا جائے جس کا آخری نتیجہ روحانی موت و ہلاکت ہے،
حضرت جنید بغدادی نے فرمایا کہ دلوں کے امراض خواہشات نفسانی کے اتباع سے پیدا ہوتے ہیں جیسے بدن انسان کے امراض اخلاط انسان کی بےاعتدالی سے پیدا…
Read the full tafseer →فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ: مرض کا لفظ قرآن میں عموماً دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایک کینہ اور حسد کے معنی میں دوسرے نفاق کے معنی میں۔ جن مقامات میں یہ لفظ نفاق کے معنوں میں استعمال ہوا ہے وہاں تو یہ واضح طور پر کینہ اور حسد کے معنی میں ہے لیکن جن مقامات میں یہ تنہا استعمال ہوا ہے وہاں یا تو دونوں معانی اس کے اندر جمع ہیں یا قرینہ اس کے دونوں معانی میں سے کسی ایک معنی کو متعین کرتا ہے۔ یہاں واضح قرینہ اس بات کے لئے موجود ہے کہ اس سے مراد حسد ہے کیوں کہ یہاں جس گروہ کا بیان ہے آگے چل کر واضح ہو گا کہ یہ یہود ہی کے اندر کا ایک گروہ ہے اور یہود کو نبی کریم ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والوں سے جو حسد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
1 بیماری سے مراد وہی کفر و نفاق کی بیماری ہے جس کی اصلاح کی فکر نہ کی جائے تو بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ اسی طرح جھوٹ بولنا منافقین کی علامات میں سے ہے، جس سے اجتناب ضروری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
(12) یہ وہی بات ہے جو پیچھے آیت نمبر 7 میں کہی گئی تھی۔ یعنی شروع میں انہوں نے اپنے اختیار سے اس گمراہی کو اپنایا اور اس پر اڑگئے، یہ ان کے دل کی بیماری تھی، پھر ان کی ضد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری کو اور بڑھادیا کہ اب انہیں واقعی ایمان لانے کی توفیق نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →لیکن سوال یہ ہے کہ منافقین یہ حرکت کیوں کرتے ہیں ۔ روش نفاق اختیار کرکے وہ مومنین کو یہ دھوکہ کیوں دینا چاہتے ہیں ؟ اس لئے کہ فِی قُلُوبِھِم مَّرَضٌ” ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ “ ان کے دلوں کو یہ روگ لگ گیا ہے ۔ دماغوں پر یہ آفت آن پڑی ہے اور یہ انہیں حق کی راہ مستقیم پر چلنے نہیں دیتی ۔ اس کی وجہ سے وہ پھر اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قانون قدرت ان کے اس روگ کو اور زیادہ کردے فَزَادَھُمُ اللہ ُ مَرَضًا ” ان کی اس بیماری کو اللہ نے اور بڑھادیا۔ “ ظاہر ہے کہ ایک بیماری دوسری کو جنم دیتی ہے ۔ گمراہی ابتداء میں نہایت معمولی ہوتی ہے اور جونہی اس کے خطوط وحدود آگے بڑھتے ہیں اس کا…
Read the full tafseer →6 یعنی انکے دلوں میں نفاق اور دین اسلام سے نفرت اور مسلمانوں سے حسد اور عناد یہ مرض پہلے سے موجود تھے اب نزول قرآن اور ظہور شوکت اسلام اور ترقی و نصرت اہل اسلام کو دیکھ دیکھ کر ان کی وہ بیماری اور بڑھ گئی۔
7 اس جھوٹ کہنے سے وہی اسلام کا جھوٹا دعوی اٰمنا باللّٰہ وبالیوم الاٰخر مراد ہے جو اوپر گزر چکا یعنی عذاب الیم حقیقت میں ان کے نفاق کی سزا ہے نہ مطلق جھوٹ بولنے کی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) کو اسی باریک فرق پر متنبہ فرمانا منظور ہے جو یکذبون کا ترجمہ جھوٹ بولنے کی جگہ " جھوٹ کہنا " فرماتے ہیں۔ فجزاہ اللّٰہ ما ادقَّ نظرہ۔
Read the full tafseer →آیت 10 فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ یہ روگ اور بیماری کیا ہے ؟ ایک لفظ میں اس کو ”کردار کی کمزوری“ weakness of character سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ایک شخص وہ ہوتا ہے جو حق کو حق سمجھ کر قبول کرلیتا ہے اور پھر ”ہرچہ بادا باد“ جو ہو سو ہو کی کیفیت کے ساتھ اس کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردینے کو تیار ہوجاتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو حق کو پہچان لینے کے باوجود ردّ کردیتا ہے۔ اسے ”کافر“ کہا جاتا ہے۔ جبکہ ایک شخص وہ بھی ہے جو حق کو حق پہچان کر آیا تو سہی ‘ لیکن کردار کی کمزوری کی وجہ سے اس کی قوت ارادی کمزور ہے۔ ایسے لوگ آخرت بھی چاہتے ہیں لیکن دنیا بھی ہاتھ سے دینے کے لیے تیار نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہاں کا…
Read the full tafseer →14 مرض سے مراد نفاق، دین اسلام سے نفرت اور مسلمانوں سے حسد اور عناد ہے۔ پھر جوں جوں اسلام اور اہل اسلام کی شوکت بڑھتی گئی، ان کی بیماری میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔
15 یہ جھوٹ ان کا وہی دعویٰ تھا جو وہ کہتے تھے کہ آیت (اٰمَنَّا باللّٰهِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ ) ۘ) (2 ۔ البقرة :8) جب کہ ان کے اعمال اور ان کی حرکات و سکنات اس دعویٰ کی مخالف سمت میں تھیں۔ اسی لیے انہیں دردناک عذاب ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا :
آیت ( اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ وَلَنْ تَجِدَ لَھُمْ نَصِيْرًا 145ۙ ) 4 ۔ النسآء :145) بلاشبہ منافق دوزخ…
Read the full tafseer →27 (کفر کی اور نفاق کی اور شک کی، جو انہوں نے اپنے ہاتھوں پیدا کر رکھی ہے) شک ونفاق و خلاف وظلمۃ (ابن عباس ؓ دوسرا پہلوان کم اعتقادوں کے مرض کا یہ تھا کہ جوں جوں مسلمانوں کو ترقیاں اور کامیابیاں حاصل ہوتی جاتی تھیں، ان کے رشک وحسد میں بھی ترقی ہوتی جاتی تھی، چناچہ ہمارے ائمہ تفسیر کی نظر سے یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں ہونے پایا ہے والمعنی ان المنافقین مرضت قلوبھم لھا۔ اواثبات امرالنبی ﷺ واستعلاء شانہ یوما فیوما (کبیر) والمرادبہ ھنا ما فی قلوبھم۔۔ من الغل والحسد والبغضاء لان صدورھم کانت تقلی رسول اللہ ﷺ وال مومنین (کشاف) مرض لغوی اعتبار سے نام ہے انسان کے حالت طبعی سے خروج کا۔ المرض الخروج عن…
Read the full tafseer →فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ: مرض روحانی اور جسمانی دونوں ہوسکتے ہیں روحانی امراض مثلاً کفر، شرک، نفاق، شک وغیرہ، جو انہوں نے خود پیدا کر لئے تھے، ان کے مرض کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ جوں جوں مسلمانوں کو ترقیاں اور کامیابیاں ہوتی جاتی تھیں، ان کے رشک و حسد میں بھی ترقی ہوتی جاتی تھی، اسی کو اللہ تعالیٰ نے فَزَادَھُمُ اللہُ مَرَضًا، فرمایا : منافقین کے مرض میں ترقی اور اضافہ کا دوسرا سبب قرآن کا وقتاً فوقتاً نزول تھا، حتی کہ ہر ہر آیت کے نزول سے ان کے غیظ و غضب اور نفاق و حسد میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔
کُلَّمَا اَنْزَلَ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْوحیَ کَفَرُوْا بِہٖ فَاذْدَادُوْا کَفْرًا اِلی کفرھِمْ ۔…
Read the full tafseer →فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ ( ان کے دلوں میں یہ پہلے ہی کفر کا مرض تھا) مَرَض اسے کہتے ہیں جو بدن کو عارض ہو کر اسے حد اعتدال سے خارج کردے اور (رفتہ رفتہ) ضعیف و کمزور کرکے ہلاکت ( کے گڑھے) تک پہنچا دے اور کبھی اس کا اطلاق اعراض نفسانیہ جیسے جہل ‘ حسد ‘ کفر اور سوء اعتقاد پر بھی مجازاً ہوجایا کرتا ہے کیونکہ ( جس طرح مرض حقیقی مانع صحت ہوتا اور ہلاکت و موت کے پنجہ میں گرفتار کردیتا ہے اسی طرح) یہ اوصاف بھی فضائل و محامد کے حاصل ہونے سے مانع ہوتے ہیں اور ہلاکت ابدی تک پہنچا دیتے ہیں منافق جن اغراض نفسانیہ کی بیماری میں مبتلا تھے وہ نہایت ہی موذی اور خبیث تھی۔ اس کے علاوہ ریاست و عظمت کے فوت ہونے…
Read the full tafseer →(10) ان کے دلوں میں شک، نفاق، نافرمانی اور اندھیرا ہے رب تعالیٰ ان کے شک نفاق نافرمانی اور اندھیرے میں اضافہ فرماتا ہے اور ان لوگوں کو آخرت میں ایسا تکلیف دہ عذاب ہوگا جس کی تکلیف ان کے دلوں میں ہوگی کیوں کہ وہ پوشیدہ اور خفیہ طریقہ پر اللہ کو جھٹلاتے تھے اور یہ منافقین یعنی عبداللہ بن ابی، جدی بن قیس اور معتب بن قشیر ہیں۔
Read the full tafseer →فِىْ قُلُوْبِهِمْ) خبر مقدم ہے، جس سے حصر پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے ترجمہ ”ان کے دلوں ہی میں“ کیا گیا ہے۔
یہ اس سوال کا جواب ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص اللہ کو دھوکا دے جو عالم الغیب ہے اور مومنوں کو دھوکا دے جن سے زیادہ فراست والا کوئی ہو نہیں سکتا اور سمجھے کہ میں دھوکا دینے میں کامیاب ہوں۔ فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دل ہی ایک ایسے مرض میں مبتلا ہیں، جس نے انھیں خود فریبی کی آخری حد تک پہنچا دیا ہے۔ وہ مرض نفاق ہے جو کفر کو چھپانے کی کوشش کا نام ہے۔ اس بیماری سے بیشمار نفسیاتی بیماریاں مزید پیدا ہوتی اور بڑھتی چلی جاتی ہیں، مثلاً جھوٹ، خیانت، وعدہ خلافی، بد عہدی، بد زبانی جنھیں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 10
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فی قلوبھم مرض یہ مبتدا اور خبر ہے۔ المرض سے مراد وہ فساد ہے جوان کے عقائد میں تھا یا تو یہ شک اور نفاق تھا یا انکار اور تکذیب تھی۔ معنی یہ ہے ان کے دل مریض ہیں کیونکہ وہ عصمت، توفیق، رعایت اور تائید سے خالی ہیں۔ ابن فارس لغوی نے کہا : مرض سے مراد ہر وہ چیز ہوتی ہے جو انسان کو صحت کی حد سے خارج کر دے خواہ وہ بیماری ہو یا نفاق ہو یا کسی امر میں کوتاہی ہو۔ قراء کا مرض کے راء کے فتحہ پر اجماع ہے مگر اصمعی نے ابو عمرو سے روایت کیا ہے کہ اس نے راء کو ساکن کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فزادھم اللہ مرضا بعض علماء نے فرمایا : یہ منافقین کے خلاف بددعا ہے۔ اس…
Read the full tafseer →(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مرض سے مراد شک ہے اور لفظ آیت ” فزادھم اللہ مرضا “ یعنی زیادہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو شک میں۔
ابن جریر نے ابن مسعود سے اس کی مثل روایت کیا ہے۔
(2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ لفظ آیت ” فی قلوبھم “ سے مراد ہے نفاق اور ” ولہم عذاب الیم “ سے مراد ہے عبرت ناک اور دردناک (عذاب) اور لفظ آیت ” بما کانوا یکذبون “ سے مراد ہے وہ بدلتے ہیں اور تحریف کرتے ہیں۔
(3) الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نافع بن ازرق نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” فی قلوبھم مرض “ کے بارے میں پوچھا تو…
Read the full tafseer →[ فِىْ قُلُوْبِهِمْ : ان کے دلوں میں ] [ مَّرَضٌ ۙایک مرض ہے ] [ فَزَادَ : تو بڑھایا ] [ ھُمُ : ان کو ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ مَرَضًا ۚ: مرض کے لحاظ سے ] [ وَلَھُمْ : اور ان کے لیے ] [ عَذَابٌ اَلِيْمٌۢ: ایک دردناک عذاب ] [ ڏ بِمَا : اس سبب سے جو ] [ كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ : وہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں ]
م ر ض
[ مرضا : (س) بیمار ہونا۔] [ وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ : اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ مجھے شفا دیتا ہے) ۔
[ مَّرَضٌ: اسم ذات ہے ، بیماری۔ [ وَاِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا : اور جب کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
منافقین کی تاریخ اور نفاق کے اسباب
جب سرور عالم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے اور دین اسلام خوب پھیلنے لگا تو یہودیوں اور خاص کر ان کے علماء اور احبار کو یہ بات زیادہ کھلی اور یہ لوگ دشمنی پر اتر آئے۔ کچھ لوگ اوس اور خزرج میں سے بھی اسلام کے مخالف ہوگئے۔ اسلام کی اشاعت عام ہوجانے کے بعد کھل کر یہ لوگ مقابلہ نہیں کرسکتے تھے اور دشمنی کے اظہار سے بھی عاجز تھے۔ اس لیے انہوں نے یہ چال چلی کہ ظاہری طور پر اسلام قبول کرلیا، اندر سے کافر تھے اور ظاہر میں مسلمان تھے۔
ان کا سردار عبداللہ ابن ابی تھا۔ حضور اقدس ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے پہلے اوس اور خزرج نے عبداللہ بن ابی کو اپنا بادشاہ بنانے اور اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
یخدعون اللہ والذین امنوا وما یخدعون الا انفسھم وما یشعرون۔ یہ منافقین اپنے زعم میں اللہ اور مومنین سے فریب اور دھوکہ کرتے ہیں۔ حالانکہ نہیں دھوکہ دیتے مگر اپنے نفسوں کو اس لیے کہ حق تعالیٰ عالم الغیب والشہادۃ ہیں۔ ان سے کوئی شے مخفی نہیں اور مومنین کو بذریعہ وحی ان کی دغا بازی کی اطلاع دیتے رہتے ہیں ان کے اس فریب سے اہل ایمان کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ الٹآ انہی کو نقصان ہوتا ہے۔
: مخادعت مفاعلت کا وزن ہونے کی وجہ سے مشارکت کو مقتضی ہے۔ سو منافقین کی طرف سے تو خداع اور مکر ظاہر ہے۔ مگر حق جل شانہ کی طرف سے ان پر ظاہرا احکام اسلام کا جاری ہونا یا دنیوی نعمتیں دیکر استدراج اور امہال میں مبتلا…
Read the full tafseer →ف 16 ۔ ان کے باطن کی خرابی اور فساد عقائد کو بیماری سے تعبیر فرمایا۔ والمرض عبارۃ مستعارۃ للفساد الذی فی عقائدھم (قرطبی ص 197 ج 1 اور یہ لفظ نفاق رشک وریب، جحود و انکار، پیغمبر خدا ﷺ اور مسلمانوں سے عداوت اور بغض وحسد وغیرہ سب کو شامل ہے۔ فِىْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ شَک ونفاق (معالم ص 28 ج 1، ابن جریر ص 93 ج۔۔ استعیر ھھنا لما فی قلوبھم من الجھل وسوء العقیدۃ وعداوۃ النبی ﷺ وغیر ذلک من فنون الکفر (ابو السعود ص 307 ج 1) ومجازا بان یستعار لبعض اعراض القلب کسوء الاعتقاد والغل والحسد والمیل الی المعاصی فان صدورھم کانت تغلی علی رسول اللہ ﷺ غکا وغبقا (تفسیر نیشا پوری ص 154 ج 1) اور بیماری عضو کی اس غیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
گزشتہ سے پیوستہ : ہدایت کے اعتبار سے انسانوں کے تین گروہوں کا ذکر آچکا ہے۔ پہلا گروہ وہ ہے جو ظاہراً اور باطنا ہدایت کو قبول کرتے ہیں ، وہ مومن اور متقی کہلاتے ہیں۔ سورة بقرہ کی پہلی چار آیتوں میں ان کا حال بیان ہوا ہے۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو ظاہر اور باطناً ہدایت الٰہی کا انہار کرتا ہے۔ وہ کافروں کا گروہ ہے۔ اگلی دو آیات میں ان کا حال بیان ہوچکا ہے اب ان آیات میں تیسرے گروہ منافقین کا تذکرہ ہے جو ظاہر میں تو ہدایت کو تسلیم کرتے ہیں مگر ان کے باطن میں کفر ہوتا ہے۔ اگلی تیرہ آیات میں منافقین کی خرابیاں ، انکی سازشوں اور چال بازیوں کا حال ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مثالوں کے ذریعے سارا معاملہ سمجھایا…
Read the full tafseer →فِىْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ 0 ۙ فَزَادَھُمُ اللہُ مَرَضًا 0 ۚ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِـيْمٌۢ 0ۥۙ بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ 10
قلب
قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] .
( ق ل ب ) قلب
الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔
مرض
الْمَرَضُ : الخروج عن الاعتدال الخاصّ…
Read the full tafseer →ترکیب : مرض مبتداء موخر فی قلوبہم خبر دونوں مل کر جملہ اسمیہ خبر یہ ہوا زاد فعل اللہ فاعل ھم مفعول اول مرضاً مفعول ثانی۔ فعل فاعل اور دونوں مفعولوں سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔ عذاب موصوف الیم اس کی صفت پھر بما کانو ایکذبون جملہ بتاویل مصدر کے ہو کر متعلق کائن کے ہوا اور الیم کی صفت ہوا یہ موصوف اپنی صفات سے مل کر مبتدا لہم خبر مبتداء خبر مل کر جملہ اسمیہ خبر یہ ہوا اور اس کا عطف کلام سابق پر ہے۔
تفسیر : یعنی ان کی یہ فریب بازی اس لیے ہے کہ ان کی فطرت میں صحت و سلامتی نہیں اور دل پر مرض ناراستی عارض ہے۔ پس جوں جوں فطرت کو درست کرنے والی اور روح کو صحت بخشنے والی باتیں نبی (علیہ السلام) پر نازل…
Read the full tafseer →فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَرَضٌ لا فَزَادَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًاج وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌم بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ ۔
(ان کے دلوں میں بیماری ہے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری کو بڑھا دیا ہے، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، اس سبب سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے) (البقرۃ : 10)
مرض کا مفہوم
اب ان کی دکھتی رگ کو چھیڑا جارہا ہے کہ یہ اپنی بےایمانی کو جس طرح ایمان کے پردے میں چھپانے کے لیے کوششیں کررہے ہیں اور باربار اپنے ایمان کا یقین دلا رہے ہیں۔ حقیقت میں یہ سب کچھ ان کی ایک خفیہ بیماری کی وجہ سے ہورہا ہے۔ یہ بیماری وہ ہے جسے ” نفاق “ کہا جاتا ہے۔ ان کے اندر حقیقت میں ایمان نہیں بلکہ نفاق ہے۔ نفاق کا مطلب…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافقت ایک روحانی بیماری ہے جس سے کئی جرائم جنم لیتے ہیں۔
منافق جھوٹ بولنے کا عادی ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی روحانی اور اخلاقی بیماریوں میں اضافہ ہی ہوا جاتا ہے بالکل اس مریض کی طرح جس کے لیے بہترین خوراک بھی بیماری میں اضافے کا سبب بنتی ہو۔ یہاں یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ انسان جسمانی طور پر ہی بیمار نہیں ہوتا اس کی روح بھی بیمار ہوتی ہے جسم مادی عناصر سے بنا ہے۔ اس کا علاج مادی عوامل سے ہوتا ہے۔ روح اللہ تعالیٰ کا حکم اور ملکوتی ہے۔ اس کا علاج روحانی یعنی اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کے نبی کی تابعداری سے ہوتا ہے۔
(إِنَّ الْحَلَالَ بَیِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَیِّنٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ : (اور آخرت میں ان کو بڑا عذاب ہونے والا ہے) عذاب کا لفظ نکال کی طرح ہے بناوٹ ومعنی ہر دو لحاظ سے کیونکہ تم کہو گے۔ اعذب عن الشیٔ یعنی جب وہ کسی چیز سے رک جائے جیسا کہتے ہیں نکل عنہ وہ اس سے باز آیا۔
عظیم و کبیر کا فرق :
یہ ہے کہ عظیم حقیر کے بالمقابل آتا ہے۔ کبیر صغیر کے مقابل آتا ہے گویا عظیم کبیر سے بڑھ کر ہے جیسا حقیر صغیر سے کمتر ہے۔ یہ دونوں اجسام واحداث کے بارے میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلًا کہو گے رجل عظیم و کبیر۔ مراد یہ ہوگی کہ اس کا جسم بڑا ہے یا رعب بڑا ہے۔
نکرہ لانے کی وجہ :
غشاوۃ کو نکرہ لائے کہ ان کی آنکھوں پر ایک قسم کا پردہ ہے یہ وہ پردہ نہیں جس کو لوگ…
Read the full tafseer →(تفسیر) (10)
(آیت)” فی قلوبھم مرض “ شک ومنافقت کامرض مرض کا اصل معنی ضعف ہے، دنیا میں شک کو مرض کا نام دیا گیا ہے کیونکہ وہ دین کو کمزور کردیتا ہے جیسے مرض بدن کو کمزور کرتا (آیت)” فزادھم اللہ مرضا “۔ اس لیے کہ آیات یکے بعد دیگرے مسلسل ومتواتر نازل ہو رہی تھیں ، جب بھی کسی آیت کا انکار کرتے تو کفر ونفاق میں بڑھ جاتے اور یہی معنی ہے فرمان الہی کا ، (آیت)” واما الذین فی قلوبھم مرض فزادتھم رجسا الی رجسھم “ ابن عامر اور حمزہ نے (فزادھم اللہ مرضا) کو امالہ کے ساتھ پڑھا ہے اور حمزہ نے (زاد) کے امالہ کو زیادہ کیا اور جہاں کہیں واقع ہو وہاں پر بھی امالہ کیا اور لفظ (زاغ اور خاب اور طاب اور حاق اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
(8 ۔ 20): 8۔ 20۔ شروع سورة سے یہاں تک چار آیتوں میں خالص مومنوں کا ذکر تھا۔ اور پھر دو آیتوں میں کافروں کا اب ان تیرہ آیتوں میں منافقوں کا ذکر ہے۔ منافق وہ ہے جو زبان سے اچھی بات کہے اور دل میں اس کے بدی ہو۔ منافقوں کا ذکر قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ میں آنے کے بعد شروع ہوا ہے۔ ہجرت سے پہلے جس قدر حصہ قرآن شریف کا مکہ میں اترا ہے اس میں منافقوں کا ذکر اس واسطے نہیں ہے کہ مکہ میں یا کھلم کھلا مسلمان تھے یا کافر۔ منافق لوگ وہاں نہیں تھے کیونکہ مکہ میں کفار کا غلبہ تھا جس کے سبب سے آنحضرت ﷺ کو مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا۔ اس اپنے غلبہ کے سبب سے وہاں کے کافر اپنی اصلی حالت پر تھے۔ جب آنحضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
آیات نمبر 8 تا 10
معلوم ہونا چاہیے کہ نفاق کا اظہار کرنے اور باطن میں برائی چھپانے کا نام ہے۔ اس تعریف میں نفاق اعتقادی اور نفاق عملی دونوں شامل ہیں۔ جیسے نبی ﷺ نے بھی اپنے اس فرمان میں اس کا ذکر فرمایا :” آیۃ المنافق ثلاث، اذا حدت کذب واذا وعدا خلف واذا ئتمن خان) (1) ” منافق کی تین نشانیاں ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے۔ “ ایک اور روایت میں آتا ہے (واذا خاصم فجر)-2” جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔ “
رہا نفاق اعتقادی جو دائرہ اسلام سے خاج کرنے والا ہے۔ تو یہ نفاق ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منافقین کو اس سورت میں اور…
Read the full tafseer →دنیاوی سزائیں جرائم کے مطابق نہیں ہوتیں
منافقین کی مجرمانہ روش کفر کا کھلم کھلا اظہار کرنے والے کافروں کی مجرمانہ روش سے زیادہ سنگین تھی کیونکہ انہوں نے استہزاء اور دھوکہ وہی دونوں کو یک جا کرلیا تھا، جیسا کہ قول باری : یخادعون اللہ اور انما نحن مستھزون سے واضح ہے۔ یہ بات کفر میں زیادتی ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ : فی الدرک الاسفل من النار (جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے منافقین کی سزا اور آخرت میں عذاب کے استحقاق کی خبر دیتے ہوئے دنیا میں ان کے احکام اور شرک کا کھلم کھلا اظہار کرنے والوں کے احکام کے درمیان فرق رکھا ہے، یعنی ان کی طرف…
Read the full tafseer →24 منافقوں کے دلوں کے ہولناک روگ کا بیان : یعنی کفر و نفاق کا وہ ہولناک روگ اور خطرناک بیماری جو کہ ظاہری اور حسی بیماریوں سے کہیں بڑھ کر مضر اور نقصان دہ بیماری ہے۔ کیونکہ ظاہری اور جسمانی بیماری کسی کو دوزخ میں نہیں لے جاتی۔ جبکہ کفر و نفاق کی یہ بیماری ایسے مریضوں کو دوزخ کے نچلے گڑھے میں گرا کر چھوڑے گی۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم۔ سو کتنے نادان اور برخود غلط ہیں وہ لوگ جو اپنی جسمانی بیماریوں کی فکر تو کرتے ہیں مگر نار جہنم سے ہم کنار کرنے والی ان خطر ناک روحانی بیماریوں کی پروا ہی نہیں کرتے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ ان لوگوں کے دلوں میں…
Read the full tafseer →منافقوں کا روگ
تشریح : جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت نمبر 7 میں دل کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے کہ انسان کی تمام کیفیات کا منبع دل ہی ہوتا ہے، منافقوں کے روگ کا ذکر یہاں روحانی بیماری کی صورت میں کیا گیا ہے۔ روحانی بیماری سے اخلاق بگڑ جاتے ہیں اور روح کو روگ لگ جاتا ہے اور یہ نفسیاتی روگ انسان کو جہالت، حسد، کینہ دنیا کی محبت اور جھوٹ جیسی برائیوں میں مبتلا کرکے اس کی دنیا و عاقبت کو تباہ کردیتا ہے، جب وہ مسلمانوں کی کامیابیوں کو دیکھتے ہیں تو وہ حسد کے روگ سے اور بھی زیادہ تکلیف اٹھاتے ہیں۔ اللہ ان کا روگ اس طرح بڑھا دیتا ہے کہ اللہ تو ہر انسان کے لئے انہیں راستوں کو کشادہ کرتا چلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
آیات 8- 20
اسرارو معارف
یہاں کفر کی دوسری قسم بیان ہوتی ہے جسے نفاق کہتے ہیں اور یہ اپنے ضرر کے اعتبار سے شدید تر ہے پہلی پانچ آیات میں مومنین کی تعریف ، پھر دو آیات میں کفر کی وضاحت کے بعد تیرہ آیات میں نفاق اور منافق کے حالات ارشاد ہوئے ہیں تاکہ اس کی خوب وضاحت ہوجائے جس طرح منافق ضرر میں بڑھا ہوا ہے اسی طرح نفاق کا عذاب بھی دوسری قسم کے کفر سے زیادہ ہوگا۔
ان المنافقین فی الدرک الاسغل من النار ، یعنی کفار سے نیچے کے دجے میں ان کو رکھا جائے گا کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں مگر وہ مومن نہیں ہیں اور مومن نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں بھئی…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی شک ونفاق ریا کاری ارومومنوں سے حسد و بغض وغیرہ کے امراض قلبیہ میں مبتلا تھے ہی اب اسلامی اقتدار کی روز افزوں ترقی سے اور جل بھن رہے ہیں ( قرطبی) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ ایک بیماری یہ کہ جس دین کو دل نہ چاہتا تھا نا چار قبول کرنا پڑا۔ اور دوسری بیماری اللہ تعالیٰ نے یہ زیادہ کردی یکہ حکم دیا جہاں کا جب کے خیر خواہ تھے ان سے لڑنا پڑا۔ ( مو ضح)
Read the full tafseer →(2:10) مرض۔ المرض۔ کے معنی ہیں انسان کے مزاج خصوصی کا اعتدال اور توازن کی حد سے نکل جانا یہ دو قسم پر ہے۔ (1) مرض جسمانی جیسا کہ ارشاد ہے۔ ولا علی المریض حرج (24:61) اور نہ بیمار پر کچھ گناہ ہے۔ (2) مرض کا لفظ اخلاق کے بگڑنے پر بھی بولا جاتا ہے اور اس سے اخلاق رذیلہ مثلاً جہالت، شک، بزدلی، نجل، نفاق وغیرہ مراد ہوتے ہیں۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے کہ : واما الذین فی قلوبھم مرض فزادتھم رجسا الی رجسھم (9:125) اور جن کے دلوں میں مرض ہے ان کے حق میں خبث پر خبث زیادہ کیا۔ آیت ہذا میں یہی دوسرے معنی لئے گئے ہیں ۔ کیونکہ جس طرح مرض جسمانی انسان کے بدن کو کمزور کردیتا ہے اسی طرح یہ اخلاق رذیلہ بھی انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
لغات القرآن آیت نمبر 8 تا 16
(الناس): لو گ ، انسان، آدمی۔ (یقول): وہ کہتا ہے ، اردو میں اس کا ترجمہ ” امنا “ کی وجہ سے اس طرح کیا جائے گا، ” وہ کہتے ہیں۔ ” (امنا): ہم ایمان لے آئے۔ (یوم آخر): آخری دن، قیامت کا دن۔ (یخدعون): اور یخدعون کے الفاظ ” خدع “ سے بنے ہیں دھوکہ دینا، دل میں بری بات چھپا کر بظاہر اچھا بننے کی کوشش کرنا تا کہ دوسرے اس سے دھوکہ کھا جائیں۔ (انفس): نفس کی جمع ہے۔ جان، ذات شخصیت۔ (ما یشعرون): وہ شعور نہیں رکھتے، انہیں سمجھ نہیں ہے، بیخبر ہیں، اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنی حماقت میں مبتلا ہیں مگر ان کو اس کا احساس اور خبر نہیں ہے۔ (مرض): بیماری ، بیماری ایک تو وہ ہوتی ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–18
شان نزول : جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں ہجرت کرکے تشیف لائے اور اہل اسلام کی جماعت کی قوت بڑھی تو اہل مدینہ میں سے جن کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے اسلام لکھا تھا وہ تو خالص مسلمان ہوگئے۔ لیکن ایک جماعت اہل مدینہ کی ان یہود سے میل جول رکھتی تھی، جو مدینہ کے گرد و نواح میں رہتے تھے۔ ان یہود کے بہکانے سے اہل مدینہ کے کچھ لوگ مسلمانوں کی قوت اور شوکت کو دیکھ کر جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنا جان و مال بچانے کے لیے مسلمانوں کے روبرو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے۔ اور جب اپنے ساتھیوں سے ملتے تو کہتے : ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو دل لگی کے طور پر اپنا اوپری اسلام ظاہر کردیتے ہیں۔ لوگوں کی دغا بازی ظاہر کرنے کو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
[9] یہ انسانوں کی تیسری قسم ہے یعنی منافقین جو باطن میں کافر تھے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ یہاں بیماری سے مراد منافقت کی بیماری ہے۔ ان کے نفاق سے نقصان کسی اور کا نہیں ان ہی کا ہے، یعنی دنیا میں رسوائی اور فضیحت اور آخرت میں عذاب۔ اللہ کے اس بیماری میں اضافہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ منافق کو اللہ فوراً سزا نہیں دیتا بلکہ اسے ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے اور منافق اور زیادہ منافق بنتا چلا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ یہ جتنا اسلام کی کامیابی پر کڑھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ اسی سے اسلام کو کامیابی بخش رہا ہے نتیجہ یہ ہے کہ دل میں نفاق وحسد کا مرض بڑھتا ہی جاتا ہے کم نہیں ہوتا اس کو اپنی طرف منسوب کرنا یہ بتانا ہے کہ سب کام اللہ کی قدرت سے ہوتے ہیں گو اس کا منشاء یہ نہیں کہ لوگ کفر اختیار کریں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ف 4۔ اور لوگوں میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو ظاہر ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لے آئے ہیں ۔ لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ وہ مومن نہیں ہیں بلکہ منافق ہیں ۔ وہ اپنے خیال میں اللہ کو اور مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں حالانکہ وہ خود ہی اپنے آپ کو دھوکے میں مبتلا کر رہے ہیں اور ان کو اس کا بالکل شعور اور تمیز نہیں ہے۔ ان لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا اور ان کو ان کی جھوٹی باتیں بنانے کے باعث درد ناک سزا ملنے والی ہے۔
قلب اور زبان میں چونکہ موافقت نہ تھی اس لئے ان کو منافق فرمایا پھر جس عرض کیلئے فریب دینے کی کوشش کی تھی وہ نا کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
ف 5۔ مرج ہیں ان کی بداعتقادی وحسد اور ہر وقت کا اندیشہ وخلجان سب کچھ آگیا چونکہ اسلام کو روزانہ رونق ہوجاتی تھی اس یے ان کے دلوں میں ساتھ ساتھ یہ امراض ترقی پاتے جاتے تھے۔
Read the full tafseer →منافقین کے روگ کی حقیقت :
19: مرض اور بیماری کو کون نہیں جانتا ؟ لیکن یہ دل کاروگ ظاہری امراض سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے مثل مشہور ہے کہ تلواروں کے گھائو بھر جاتے ہیں لیکن زبان کے زخم ہمیشہ تازہ رہتے ہیں کبھی نہیں بھرے جاتے بالکل اسی طرح ظاہری امراض بھی اگرچہ پریشان کن ہوتے ہیں تاہم ان کا علاج ممکن ہے لیکن دل کے مرض کا علاج سوائے اللہ کے ممکن ہی نہیں ہے یہ صحیح ہے کہ مرض اور بیماری اس کیفیت کو کہتے ہیں جس سے انسان اپنے اعتدال مناسب سے نکل جائے اور اس کے افعال میں خلل پیدا ہوجائے جس کا آخری نتیجہ ہلاکت اور موت ہوتا ہے۔
قرآن کریم کی اصطلاح میں ان نفسانی کیفیات کو بھی مرض کہا جاتا ہے جو نفس انسانی…
Read the full tafseer →The third verse indicates why the hypocrites behave so foolishly and why they fail to see the folly of their course:
فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّـهُ مَرَضًا
In their hearts there is a malady, so Allah has made them grow in their malady.
Now, illness or disease, in the general medical sense, is a state in which a man has lost the balanced proportion of the elements within him necessary to keep him healthy, so that his body can no longer function properly, which may finally lead to his total destruction. In the terminology of the Holy Qur'an and the Hadith, the word 'disease' is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
12. ' Disease' here refers to the disease of hypocrisy. The statement that 'Allah has intensified this disease' means that He does not punish the hypocrites immediately but allows them to indulge in their hypocrisy and exult in the success of their ruses. This feeling of success intensifies their hypocrisy
Read the full tafseer →