Al-Baqara 2:11

Al-Baqara · from ayah 11

2:11

وَاِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ ۙ— قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ ۟وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِىۡ الۡاَرۡضِۙ قَالُوۡاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں، ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when it is said to them, "Do not cause corruption on the earth," they say, "We are but reformers."

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:11

جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین پر فساد برپا نہ کرو تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں، ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم زمین میں فساد نہ مچاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اوران سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو، تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد بپا نہ کرو، تو کہتے ہیں: ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد مت ڈالو تو کہتے ہیں ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد بپا نہ کرو، تو کہتے ہیں کہ ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پیدا کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے لوگ ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ فساد مت مچاؤ تم لوگ (اللہ کی) اس زمین میں تو یہ لوگ کہتے ہیں (کہ نہیں صاحب) ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین پر فساد مت پھیلاؤ تو کہتے ہیں کہ ارے ! ہم تو اصلاح کررہے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ مت فساد کرو زمین میں وہ کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلائو تو کہتے ہیں بلا شبہ ہم اصلاح کر رہے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Whenever it is said to them, "Spread not disorder on the earth", their reply is, "We only seek to put things aright".

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When it is said to them, :Do not spread disorder on the earth , they say, :We are but reformers.

— Muhammad Taqi Usmani

When it is said to them, :Do not spread disorder on the earth , they say, :We are but reformers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when it is said to them: "Do not make mischief on the earth," they say: "We are only peacemakers."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when it is said unto them: Make not mischief in the earth, they say: We are peacemakers only.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when it is said to them, "Do not cause corruption on the earth," they say, "We are but reformers."

— Saheeh International

When they are told not to commit corruption in the land, they reply, "We are only reformers".

— Muhammad Sarwar

And when it is said to them, Do not make mischief in the land, they say: We are but peace-makers.

— Muhammad Habib Shakir

And when it said unto them: act not corruptly on the earth, they say: we are but reconcilers.

— Abdul Majid Daryabadi

When it is said to them: "Make not mischief on the earth," they say: "Why, we only Want to make peace!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–12

سینہ زور چور حضرت عبداللہ بن عباس حضرت عبداللہ بن مسعود اور نبی ﷺ کے بعض اور صحابہ ؓ سے مروی ہے کہ یہ بیان بھی منافقوں سے ہی متعلق ہے ان کا فساد، کفر اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی تھی مطلب یہ ہے کہ زمین میں اللہ کی نافرمانی کرنا یا نافرمانی کا حکم دینا زمین میں فساد کرنا ہے اور زمین و آسمان میں اصلاح سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ انہیں جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے روکا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہدایت و اصلاح پر ہیں۔ حضرت سلمان فارسی ؓ فرماتے ہیں اس خصلت کے لوگ اب تک نہیں آئے۔ مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں یہ بدخصلت لوگ تھے تو سہی لیکن اب جو آئیں گے وہ ان سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 10–12

سورة الْبَقَرَة 12 بیماری سے مراد منافقت کی بیماری ہے۔ اور اللہ کے اس بیماری میں اضافہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ منافقین کو ان کے نفاق کی سزا فوراً نہیں دیتا بلکہ انہیں ڈھیل دیتا ہے اور اس ڈھیل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ منافق لوگ اپنی چالوں کو بظاہر کامیاب ہوتے دیکھ کر اور زیادہ مکمل منافق بنتے چلے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–12

چوتھی اور پانچویں آیتوں میں منافقین کا یہ مغالطہ مذکور ہے کہ فساد کو اصلاح سمجھتے اور اپنے آپ کو مصلح کہتے تھے قرآن کریم نے واضح کیا کہ فساد و اصلاح زبانی دعوؤں پر نہیں ہوتے ورنہ کوئی چور ڈاکو بھی اپنے آپ کو مفسد کہنے کو تیار نہیں بلکہ مدارکار اس کام پر ہے جو کیا جارہا ہے وہ فساد ہے تو کرنے والے کو مفسد ہی کہا جائے گا خواہ اس کی نیت فساد کی نہ ہو، (7) اصلاح و فساد کی تعریف اور مصلح ومفسد کی پہچان آیات مذکورہ میں گذر چکا ہے کہ جب کوئی ان منافقین سے یہ کہتا کہ اپنے نفاق کے ذریعہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ بڑے زور اور تاکید سے کہتے تھے۔ میں لفظ اِنَّماَ جو حصر و انحصار کے لئے بولا جاتا ہے اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 11–12

لَا تُفْسِدُوا فِي الأرْضِ: فساد فی الارض قرآن مجید کی ایک اصطلاح ہے جس کا مفہوم اس نظام حق کو بگاڑنا یا اس کو بگاڑنے کی کوشش کرنا ہے جو اللہ واحد کی عبادت اور اس کے احکام و قوانین کی اطاعت پر مبنی ہوتا ہے اور جس کی دعوت انبیائے کرام علیہم السلام لے کر آتے ہیں۔ قرآن کا دعویٰ یہ ہے کہ جس طرح اس کائنات کا نظام تکوینی اس وجہ سے قائم ہے کہ اس کے اندر ایک ہی رب قدیر و قہار کا ارادہ کارفرما ہے، اگر اس کے اندر کسی اور کا زور و اختیار بھی چلتا ہوتا تو یہ آن کے آن میں درہم برہم ہو کے رہ جاتا اسی طرح اس کے نظام تشریعی کے اندر اگر کسی اور کی عبادت و اطاعت کے جواز یا دخل کو تسلیم کر لیا جائے تو اس سے اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 10–11

1 بیماری سے مراد وہی کفر و نفاق کی بیماری ہے جس کی اصلاح کی فکر نہ کی جائے تو بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ اسی طرح جھوٹ بولنا منافقین کی علامات میں سے ہے، جس سے اجتناب ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–13

(12) یہ وہی بات ہے جو پیچھے آیت نمبر 7 میں کہی گئی تھی۔ یعنی شروع میں انہوں نے اپنے اختیار سے اس گمراہی کو اپنایا اور اس پر اڑگئے، یہ ان کے دل کی بیماری تھی، پھر ان کی ضد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری کو اور بڑھادیا کہ اب انہیں واقعی ایمان لانے کی توفیق نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

گویا یہ لوگ جھوٹ اور فریب پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ وہ مومنین کو بیوقوف سمجھتے ہوئے الٹا یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ہم تو مصلح ہیں وہ اس نصیحت کا کہ ” زمین میں فساد نہ کرو۔ “ یہ سادہ جواب نہیں دیتے کہ ” بھائی ہم کب فساد برپاکر رہے ہیں ؟ بلکہ وہ اکڑ کر یہ ادعا کرتے ہیں کہ ” مصلح تو ہیں ہی ہم۔ “ ہر دور اور ہر زمانے میں لوگوں کی یہ قسم دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ عملاً فساد کی بدترین شکلیں برپاکررہی ہوتی ہیں اور اس کا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ ہم تو بس اصلاح معاشرہ چاہتے ہیں جب معاشرہ میں بلند اقدار تباہ ہوتی ہیں تو ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں ۔ وہ اخلاص اور پاکیزگی نفس سے محروم ہوتے ہیں اور جب اخلاص جاتا رہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 خلاصہ یہ ہے کہ منافقین بچند وجوہ فساد پھیلاتے تھے اول تو خواہشات نفسانیہ میں منہمک تھے اور انقیاد احکام شرعیہ سے کاہل اور متنفر تھے، دوسرے مسلمانوں اور کافروں دونوں کے پاس آتے جاتے تھے اور اپنی قدر و منزلت بڑھانے کو ہر ایک کی باتیں دوسروں تک پہنچاتے رہتے تھے، تیسرے کفار سے نہایت مدارات و مخالطت سے پیش آتے تھے۔ اور امور دین کی مخالفت پر کفار سے اصلا مزاحمت نہ کرتے تھے اور کفار کے اعتراضات و شبہات کو جو دین کی باتوں پر ہوتے تھے مسلمانوں کے روبرو نقل کرتے تھے تاکہ ضعیف الاعتقاد اور ضعیف الفہم احکام شرعیہ میں متردد ہوجائیں اور جب کوئی ان فسادات سے ان کو منع کرتا تو جواب دیتے تھے کہ ہم تو اصلاح…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 11 وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ لا اس سے مراد یہ ہے کہ جب تم نے محمد ﷺ کو اللہ کا رسول مان لیا تو اب ان کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرو ‘ ان ﷺ کے پیچھے چلو۔ ان ﷺ کا حکم ہے تو جنگ کے لیے نکلو۔ ان ﷺ کی طرف سے تقاضا آتا ہے تو مال پیش کرو۔ اور اگر تم اس سے کتراتے ہو تو پھر جماعتی زندگی کے اندر فتنہ و فساد پھیلا رہے ہو۔ قَالُوْآ اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ ہم تو صلح کرانے والے ہیں۔ ہماری نظر میں یہ لڑنا بھڑنا کوئی اچھی بات نہیں ہے ‘ ٹکراؤ اور تصادم کوئی اچھے کام تھوڑے ہی ہیں۔ بس لوگوں کو ٹھنڈے ٹھنڈے دعوت دیتے رہو ‘ جو چاہے قبول کرلے اور جو چاہے ردّ کر دے۔ یہ خواہ مخواہ دشمن سے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 ان کا فساد یہ تھا کہ ان کی دلی ہمدردیاں تو کافروں سے تھیں اور مسلمانوں میں شامل رہ کر ان کے حالات سے انہیں باخبر رکھتے اور ان کے لیے جاسوسی کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔ نئے اور ضعیف الاعتقاد مسلمانوں کو حیلوں بہانوں سے برگشتہ کرتے تھے اور جنگ کی صورت میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے تھے۔ 17 یعنی ہم ہر ایک سے صلح رکھنا چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ پہلے کی طرح سب شیر و شکر ہو کر رہیں اور نئے دین (اسلام) کی وجہ سے جو مخالفت بڑھ رہی ہے وہ ختم ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ قانون شریعت کے علاوہ کسی دین جاہلی پر قائم رہنا، اس کے طور طریقوں کی اشاعت کرنا فسادفی الارض کے مرادف ہے۔ امن عالم ونظام اقوام قائم جئب ہی رہ سکتا ہے جب عملدرآمد قانون شریعت پر رہے۔ اس راہ سے انحراف، بلکہ سرموتجاوز کرنا بھی دنیا کو بدنظمی، ابتری، کشت وخون اور ہر قسم کی طبقاتی جنگ وکشمکش کو دعوت دنیا ہے۔ چناچہ دنیا عملا اس کا تجربہ بارہا کرچکی ہے، اور اس وقت بھی رہی ہے۔ اسلام کے اس پہلو پر کہ وہ نظام عالم کا بہترین ضامن ہے، اللہ مراتب میں اضافہ کرے، ہمارے زمانہ میں اقبال نے شاعرانہ زبان میں خوب ہی لکھ دیا ہے۔ (آیت) ” واذا قیل لھم “ اس قول کا قائل کون تھا ؟ بعض نے اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–12

آیت نمبر 11 ترجمہ : جب ان سے کہا جاتا ہے کہ : کفر کے ذریعہ اور ایمان میں رکاوٹ ڈال کر زمین میں فساد برپا نہ کرو، تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں، اور وہ جس طریقہ پر ہیں فساد نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا، خبردار درحقیقت یہی لوگ مفسد ہیں اَلَا تنبیہ کے لئے ہے مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ : لوگوں (یعنی صحابہ نبی ﷺ کی طرح تم بھی ایمان لے آؤ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ کیا ہم بیوقوفوں (یعنی) جاہلوں کی طرف ایمان لے آئیں ؟ یعنی ہم ایسا نہ کریں گے، خبردار حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں، لیکن اس کو وہ سمجھتے نہیں ہیں اور جب یہ اہل ایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ملک میں فساد نہ پھیلاؤ) فساد ضد ہے صلاح کی اور یہ دونوں لفظ ہر قسم کی ضرر دینے والی اور نفع بخشنے والی چیزوں کو عام ہیں ( یعنی فساد کا لفظ ہر طرح کی مضرت رساں اور تکلیف دہ چیزوں کو شامل ہے اور صلاح کا لفظ ہر قسم کی مفید اور نفع بخش چیزوں کو) منافقوں کا ملک میں فساد پھیلانا (کیا تھا) مسلمانوں کو دھوکا دے کر لڑائیوں کی شورش پھیلانا ‘ آتش جنگ ہر طرف بھڑکانا ‘ مسلمانوں کے بھیدوں کو طشت ازبام کرکے کافروں کو ان پر پل پڑنے کی ترغیب دینا ! جناب نبی کریم ﷺ اور قرآن مقدس پر ایمان لانے سے لوگوں کو روکنا تھا۔ کسائی نے قیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(11) اور جب یہود سے کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو رسول اکرم ﷺ کے دین سے نہ روکو، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اطاعت پر لگانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 11–12

یہاں منافقین کے دو اوصاف بیان ہوئے ہیں، فساد یعنی زمین میں بگاڑ پیدا کرنا۔ اس میں اللہ کی ہر نافرمانی شامل ہے، کیونکہ اس سے زمین میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے، فرمایا : (ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ) [ الروم : 41 ] ”خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا، اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا۔“ دوسرا وصف بگاڑ پیدا کرنے کو عین اصلاح قرار دینا۔ یہ لوگ دل میں کفر رکھنے کی وجہ سے کفار سے دوستی رکھتے تھے، مسلمانوں کے راز انھیں بتاتے اور اسلام کے عقائد و احکام پر اعتراض کرتے تھے اور منع کرنے پر اپنے اس عمل بد کو اصلاح کا نام دیتے تھے۔ اب بھی مسلمانوں میں بہت سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 11 اذا ظرف کی بنا پر حالت نصبی میں ہے اور اس میں عامل قالوا ہے، اذا یہ فعل منتظر کے وقوع پر دلالت کرتا ہے۔ جوہری نے کہا اذا اسم ہے جو زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے اور یہ جملہ کی طرف مضاف ہو کر استعمال ہوتا ہے مثلاً اجیئک اذا احمر البسر واذا قدم فلان، یعنی میں تیرے آؤں گا جب کھجوریں سرخ ہوجائیں گے اور جب فلاں آجائے اور جو چیز اس کے اسم ہونے پر دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ یوم کی جگہ واقع ہوتا ہے۔ مثلاً آتیک یوم یقدم فلان یہ ظرف ہے اور اس میں مجازاۃ کا معنی بھی پایا جاتا ہے۔ شرط کی جزا تین چیزیں ہوتی ہیں : الفعل، الفاء اور اذا۔ فعل کی مثال ان تاتنی آتک۔ فاء کی مثال ان تاتنی فانا احسن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–12

(1) امام ابن جریر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واذا قیل لہم لا تفسدوا فی الارض “ میں فساد سے مراد کفر اور گناہ کا کام ہے۔ (2) امام ابن جریر نے مجاہد سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا قیل لہم لا تفسدوا فی الارض، قالوا انما نحن مصلحون “ کا معنی ہے کہ جب وہ معصیت کا ارتکاب کرتے ہیں تو ان سے کہا جاتا ہے کہ ایسا مت کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں۔ (3) امام ابن اسحاق اور ابن جریر نے حضرت عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” انما نحن مصلحون “ یعنی (ان کافروں کا کہنا یہ ہے کہ) ہم دونوں فریقین یعنی مؤمنین اور اہل کتاب کے درمیان اصلاح کا ارادہ کرتے ہیں۔ (4) وکیع، ابن جریر اور ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِذَا قِيْلَ : اور جب بھی کہا جاتا ہے ] [ لَھُمْ : ان لوگوں سے ] [ لَا تُفْسِدُوْا : تم لوگ نظم خراب مت کرو ] [ فِى الْاَ رْضِ ۙ : زمین میں ] [ قَالُوْٓا : وہ لوگ کہتے ہیں ] [ اِنَّمَا نَحْنُ : ہم تو بس ] [ مُصْلِحُوْنَ : اصلاح کرنے والے ہیں ] س د [ فسادا : (ن۔ ض) کسی چیز کا نظم بگڑ جانا، خراب ہونا، یہ صلح کی ضد ہے۔ [ وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ : اور اگر نہ ہوتا اللہ کا دفع کرنا لوگوں کو، ان کے بعض کو بعض سے تو زمین بگڑ جاتی یعنی اجتماعی نظام کا توازن بگڑجاتا) [ فساد : اسم ذات ہے۔ نظم کی خرابی یا بگاڑ۔ [ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–15

منافقوں کے دعوے اور ان کا طریق کار ان آیات میں منافقین کے بعض دعوے نفل فرمائے ہیں۔ اور ان کا طریقہء کار ذکر فرمایا ہے اور وہ یہ کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے تھے کہ اجی ہم کہاں فساد کہاں ؟ ہمارا کام تو اصلاح کرنا ہی ہے۔ ان کی تردید میں فرمایا کہ خبر دار بلاشبہ یہ لوگ فسادی ہی ہیں لیکن اس کا شعور نہیں رکھتے، جس فساد میں یہ لوگ مبتلا تھے اس میں کئی طرح سے حصہ لیتے تھے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فتنے کھڑے کرتے تھے۔ اور دشمنان اسلام کو لڑائیوں پر آمادہ کرتے تھے اور مسلمانوں کے بھید دشمنوں تک پہنچاتے تھے۔ اور جو لوگ مسلمان ہونے کا ارادہ کرتے ان کو اسلام سے روکنے کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–12

منافقین کی دوسری قباحت قال تعالیٰ واذا قیل لھم لا تفسدوا فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ ولکن لا یشعرون۔ اور یہ منافقین اپنے باطنی مرض کی وجہ سے اس درجہ کو پہنچ گئے ہیں کہ فساد کو صلاح اور صلاح کو فساد اور مرض کو صحت سمجھنے لگے ہیں۔ کیونکہ جب اسے یہ کہا جائے کہ زمین میں فساد مت کرو تو یہ کہتے ہیں کہ جز ایں نیست کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ منافقین کئی طرح سے ساد پھیلاتے تھے۔ کبھی مسلمانوں کے راز فاش کرتے۔ کبھی کافروں کو مسلمانوں کی مخالفت پر آمادہ کرتے اور کبھی کافروں کے اعتراضات اور ضعیف الاعتقاد مسلمانوں کے سامنے نقل کرتے تاکہ وہ مذبذب اور متزلزل ہوجائیں ان سب کو حق تعالیٰ نے فساد سے تعبیر فرمایا ہے۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 19 ۔ منافقین بظاہر مسلمان تھے لیکن در پردہ کافروں سے ربط قائم کر رکھا تھا۔ مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے اور اس طرح فتنہ و فساد کیلئے زمین ہموار کر رہے تھے۔ وکان فساد المنافقین فی الارض انھم کانوا مما یلون الکفار ویمالئونھم علی المسلمین بافشاء اسرارھم الیھم واغرائھم علیھم وذلک مما یودی الی ھیج الفتن بینھم (مدارک ص 16 ج 1) والفساد منھا النفاق الذی مما صافوا بہ الکفار فاطلعوھم علی اسرار المومنین فان کل ذلک یودی الی خراب الارض وقلۃ الخیر ونزع البرکۃ وتعطل المنافع (روح ص 153 ج 1) ۔ 20 ۔ یعنی ہم نے جو مسلمانوں اور کافروں دونوں فریقوں سے میل جول قائم کر رکھا ہے اس سے ہمارا مقصود صرف دونوں فریقوں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–12

گزشتہ سے پیوستہ : ہدایت کے اعتبار سے انسانوں کے تین گروہوں کا ذکر آچکا ہے۔ پہلا گروہ وہ ہے جو ظاہراً اور باطنا ہدایت کو قبول کرتے ہیں ، وہ مومن اور متقی کہلاتے ہیں۔ سورة بقرہ کی پہلی چار آیتوں میں ان کا حال بیان ہوا ہے۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو ظاہر اور باطناً ہدایت الٰہی کا انہار کرتا ہے۔ وہ کافروں کا گروہ ہے۔ اگلی دو آیات میں ان کا حال بیان ہوچکا ہے اب ان آیات میں تیسرے گروہ منافقین کا تذکرہ ہے جو ظاہر میں تو ہدایت کو تسلیم کرتے ہیں مگر ان کے باطن میں کفر ہوتا ہے۔ اگلی تیرہ آیات میں منافقین کی خرابیاں ، انکی سازشوں اور چال بازیوں کا حال ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مثالوں کے ذریعے سارا معاملہ سمجھایا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِى الْاَرْضِ۝ 0 ۙ قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ۝ 11 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–12

ترکیب : اذا حرف شرط قیل فعل مجہول لہم متعلق قیل کے لاتفسدوا فی الارض مفعول مالم یسم فاعلہ ہوا قیل کا۔ یہ دونوں مل کر شرط ہوئے اور قالوا فعل۔ انمانحن مصلحون جملہ اس کا مفعول فعل اپنے فاعل ضمیر ھم اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبر یہ ہو کر جواب ہوا شرط کا شرط و جزا مل کر جملہ شرطیہ ہو کر معطوف ہوا یکذبون یا یقول پر ان مشبہ بفعل ھم اس کا اسم اور ھم المفسدون مبتداء خبر بن کر اس کی خبر۔ ولکن کلمہ استدراک اس کا مابعد لایشعرون جملہ استدراکیہ۔ الا حرف تنبیہ جو صدر جملہ پر تنبیہ مخاطب کے لیے آتا ہے۔ یہ جملہ خبر یہ مستانفہ ہے جواب میں ان کے قول کے۔ تفسیر : یعنی مرض قلب ان پر یہاں تک غالب آگیا ہے کہ ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–12

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِیْ الْاَرْضِلا قَالُوْآ اِنَّمَانَحْنُ مُصْلِحُوْنَ ۔ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ۔ (البقرۃ : 11 تا 12) (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پید اکروتو ” جواب دیتے ہیں “ کہ ہم تو اصلاح کرنے والے لوگ ہیں۔ آگاہ رہو کہ یہی لوگ فساد برپا کرنے والے ہیں، لیکن یہ محسوس نہیں کررہے ہیں) فسادفی الارض کی حقیقت کسی بھی ادارے کی کامیابی کا دارومدار صرف ایک بات پر ہے کہ اس ادارے میں حکم اس شخصیت کا چلے جو اس ادارے کی مالک اور اس ادارے کی حقیقی سربراہ ہو اور اگر ایسا نہ ہو، تو پھر اس ادارے کو تباہی سے کوئی نہیں بچاسکتا۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : منافقت کی بیماری کی وجہ سے منافق کو اصلاح اور بگاڑ کے درمیان شعور نہیں رہتا۔ اصلاح و فساد کی ابتدا انسان کے ضمیر سے ہوتی ہے۔ ضمیر بگڑتا ہے تو طبیعت میں برائی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ جو آدمی کے کردار پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ جس سے اکثر اوقات سوچ کے زاویے اس قدر بگڑ جاتے ہیں کہ آدمی کو اصلاح اور بگاڑ میں فرق محسوس نہیں ہوتا۔ خاص کر ایسا شخص جو اپنے مفاد کے لیے اللہ تعالیٰ کے مقدس نام اور آخرت کے عقیدہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے۔ اس کا ضمیر اس حد تک پستی کا شکار ہوجاتا ہے کہ اس سے ہر گناہ اور جرم کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ایسے لوگوں پر جتنے نگران مقرر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 11–12

وَمَایَشْعُرُوْنَ : (اور وہ محسوس نہیں کرتے) ۔ نتیجہ : ان کے دھوکہ کا نتیجہ دوسروں کی طرف سے ان کی طرف ہی لوٹنے والا ہے۔ معنی شعور : الشعور : کسی چیز کا حس سے معلوم کرنا۔ یہ شعار سے لیا گیا ہے۔ شعار وہ کپڑا ہے جو جسم کے قریب ہوتا ہے (بنیان وغیرہ) مشاعر الانسان : انسانی حواس کو کہتے ہیں کیونکہ شعور کے آلات یہی ہیں۔ اب معنی یہ ہوگا۔ ان کو اس کا ضررحسی چیز کی طرح پہنچ رہا ہے۔ اور وہ اپنی طویل غفلت کی وجہ سے اس شخص کی طرح ہوگئے ہیں جس میں حس ہی نہ ہو۔ فِیْ قُلُوْ بِھِمْ مَّرَضٌ : (ان کے دلوں میں بیماری ہے) یعنی شک ونفاق، شک، دو معاملوں میں تردد کو کہتے ہیں۔ اور منافق مترددہوتا ہے۔ حدیث میں فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(آیت)” واذا قیل “ کسائی نے (قیل اور غیض اور جیئی اور جیل اور سیق اور سیئت) ان تمام لفظوں کے اول حروف کو قدرے پیش کی طرف مائل کرکے پڑھا ، اہل مدینہ نے (سیئی اور سیئت) میں موافقت کی اور ابن عامر نے (سیق اور جیل اور سیئی اور سیئت) میں موافقت کی اس لیے کہ ان کا اصل قول قاف کی پیش اور واؤ کی کسرہ کے ساتھ ہے ۔ ” قتل “ کی طرح پش پیش کی طرف اشارہ کیا گیا تاکہ اس واؤ پر دلالت کرے جواب (یاء سے) بدل چکی ہے اور باقی حضرت ان الفاظ کے پہلے حروف کو کسرہ کے ساتھ پڑھتے ہیں ، انہوں نے واؤ پر حرکت کو ثقیل محسوس کیا تو اس کی کسرہ (زیر) کو فعل کی فاء کی طرف منتقل کردیا اور واؤ پہلے حرف کی زیر کی وجہ سے یاء سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–20

(8 ۔ 20): 8۔ 20۔ شروع سورة سے یہاں تک چار آیتوں میں خالص مومنوں کا ذکر تھا۔ اور پھر دو آیتوں میں کافروں کا اب ان تیرہ آیتوں میں منافقوں کا ذکر ہے۔ منافق وہ ہے جو زبان سے اچھی بات کہے اور دل میں اس کے بدی ہو۔ منافقوں کا ذکر قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ میں آنے کے بعد شروع ہوا ہے۔ ہجرت سے پہلے جس قدر حصہ قرآن شریف کا مکہ میں اترا ہے اس میں منافقوں کا ذکر اس واسطے نہیں ہے کہ مکہ میں یا کھلم کھلا مسلمان تھے یا کافر۔ منافق لوگ وہاں نہیں تھے کیونکہ مکہ میں کفار کا غلبہ تھا جس کے سبب سے آنحضرت ﷺ کو مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا۔ اس اپنے غلبہ کے سبب سے وہاں کے کافر اپنی اصلی حالت پر تھے۔ جب آنحضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–12

آیت 11 تا 12 جب ان منافقوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکا جاتا ہے اور فساد سے مراد اعمال کفر اور معاصی ہیں۔ نیز دشمن کے پاس اہل ایمان کے راز پہنچانا اور کفار کے ساتھ دوستی رکھنا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرتے ہیں۔ پس انہوں نے دو باتوں کو اکٹھا کردیا۔ (1) فساد فی الارض کا ارتکاب (2) اس بات کا اظہار کہ یہ فساد پھیلانا نہیں، بلکہ اصلاح ہے۔ یوں گویا ایک تو انہوں نے حقائق کو بدل دیا (فساد کا نام اصلاح رکھا) دوسرے، فعل باطل اور اس کے حق ہونے کے اعتقاد کو جمع کردیا۔ یہ لوگ ان لوگوں سے زیادہ بڑے مجرم ہیں جو گناہ کو حرام سمجھتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یہ لوگ سلامتی کے زیادہ قریب ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 11–22

قول باری ہے : الذی جعل لکم الارض فراشاً (وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا) یعنی تمہارے لئے قرار اور ٹھکانا بنایا اور صرف فراش کا لفظ علی الاطلاق ذکر کیا جائے تو یہ زمین کو شامل نہیں ہوگا، بلکہ زمین کو فرش کا نام اسی لفظ کے ساتھ مقید کر کے دیا جاتا ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : والجبال اوتاداً (اور پہاڑوں کو میخیں ) اوتاد یعنی میخوں کے اسم کا اطلاق پہاڑوں کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ اسی طرح قول باری ہے : والشمس سراجاً اور سورج کو چراغ ) اسی بنا پر فقہاء نے کہا ہے کہ جو شخص فرش اور بچھونے پر نہ سونے کی قسم کھالے اور پھر زمین پر سو جائے تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص چراغ تلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 11–12

28 کفر و نفاق، فساد فی الارض کی جڑ بنیاد، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ اللہ کی زمین میں فساد مت مچاؤ اپنے کفر و نفاق سے جو کہ فساد کی جڑ بنیاد ہے۔ وَالْعِیَاذ باللَّہِ ۔ کما قال ابن مسعود ؓ (ابن جریر، ابن کثیر، محاسن، صفوہ، وغیرہ) سو کفر و نفاق خرابی و فساد کی جڑ بنیاد ہے، اگرچہ اس کے روگی اور علمبردار اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتے اور بڑے خوشنما وعدے اور دعوے کرتے ہوں، اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ امن و صلاح کا مدارو انحصار اس پر ہے کہ ہر ایک کے حقوق کی صحیح تعیین و تشخیص سے آگہی حاصل ہو، اور اس کے مطابق ان تمام حقوق کو ادا کرنے کی سعی اور کوشش کی جائے،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–12

منافقوں کی مفسدانہ چالیں تشریح : منافق لوگ جن کا تفصیلی ذکر ہوچکا ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ اپنی منافقت سے زمین میں فساد نہ پھیلائو بلکہ سیدھا راستہ اختیار کرکے اپنی اور لوگوں کی اصلاح کا سامان پیدا کرو تو وہ اپنی دانش اور مصلحت کے تحت یہی جواب دیتے ہیں کہ ہم اصلاح کر رہے ہیں، ان کا خیال تھا کہ دونوں فریقوں مسلمان اور کفار کو خوش رکھنا ہی عقلمندی ہے اور دونوں فریق انہیں اپنا دوست سمجھیں ان کے نزدیک یہی اصلاح کا راستہ تھا اور انہیں یہ خیال نہ رہا کہ اس طرح وہ اپنی دنیا و عاقبت خراب کر رہے ہیں سچائی، حسن سلوک اور اصلاح معاشرہ کا باعث بنتی ہے جبکہ منافقت سے تباہی اور بےسکونی پھیلتی ہے ان آیات میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 8–20

آیات 8- 20 اسرارو معارف یہاں کفر کی دوسری قسم بیان ہوتی ہے جسے نفاق کہتے ہیں اور یہ اپنے ضرر کے اعتبار سے شدید تر ہے پہلی پانچ آیات میں مومنین کی تعریف ، پھر دو آیات میں کفر کی وضاحت کے بعد تیرہ آیات میں نفاق اور منافق کے حالات ارشاد ہوئے ہیں تاکہ اس کی خوب وضاحت ہوجائے جس طرح منافق ضرر میں بڑھا ہوا ہے اسی طرح نفاق کا عذاب بھی دوسری قسم کے کفر سے زیادہ ہوگا۔ ان المنافقین فی الدرک الاسغل من النار ، یعنی کفار سے نیچے کے دجے میں ان کو رکھا جائے گا کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں مگر وہ مومن نہیں ہیں اور مومن نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں بھئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 فساد دراصل صلاح کی ضد ہے اور اس کے معنی ہیں استقامت سے ہٹ جانا یہاں فساد سے مراد ہے کفر و معصیت کا ارتکاب حضرت عبدا اللہ مب مسعود ؓ اور دیگر صحا بہ نے یہی تفسیر کی ہے۔ ( ابن کثیر) یہ واقعہ ہے کہ ہر زمانے میں مفسد اور گم راہ لوگ نشر و اشاعت کے لیے خوبصورت عنوان تجویز کرتے رہے ہیں جیسا کہ آجکل دعا بتول سل غیر کے نام سے شرک ہو رہا ہے ( للنار) ۔ ہمارے زمانے میں بھی منافقوں کی چھوٹی ذریت پیدا ہوئی ہے جس کا دعوی تو مسلمانوں کی اصلاح و ترقی کا ہے۔ اور وہ خود کو پکے مسلمان سمجھتے ہیں مگر در اصل وہ اسلام کے ڈھانے اور اس کے عقائد و شرائع اور احکام کو نیست وبابود کرنے کی فکر میں جس ترقی کے یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:11) واذا قیل لہم لا تفسدوا فی الارض۔ واؤ عاطفہ ہے۔ اذا شرطیہ، قیل ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ قول (باب نصر) مصدر ، یہ کثیر المعانی لفظ ہے۔ اور قرآن مجید میں مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً بولنا، رائے، نظریہ، کسی کو کوئی بات الہام کرنا۔ حکم دینا۔ روایت کرنا وغیرہ۔ قیل اگرچہ ماضی کا صیغہ ہے لیکن قرآن مجید میں جس جگہ حرف شرط کے بعد آیا ہے وہاں مضارع کا ترجمہ کیا جائے گا۔ کہیں حال کا کہیں مستقبل کا ۔ کہا گیا۔ کہا جاتا ہے۔ کہا جائے گا۔ لا تفسدوا فی الارض، مقولہ نائب فاعل قیل کا ہے ۔ سارا جملہ جملہ فعلیہ ہوکر شرط ہے۔ اگلہ جملہ قالوا ۔۔ مصلحون تک ۔ اس شرط کی جزاء ہے۔ انما۔ یہ مرکب ہے ان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–16

لغات القرآن آیت نمبر 8 تا 16 (الناس): لو گ ، انسان، آدمی۔ (یقول): وہ کہتا ہے ، اردو میں اس کا ترجمہ ” امنا “ کی وجہ سے اس طرح کیا جائے گا، ” وہ کہتے ہیں۔ ” (امنا): ہم ایمان لے آئے۔ (یوم آخر): آخری دن، قیامت کا دن۔ (یخدعون): اور یخدعون کے الفاظ ” خدع “ سے بنے ہیں دھوکہ دینا، دل میں بری بات چھپا کر بظاہر اچھا بننے کی کوشش کرنا تا کہ دوسرے اس سے دھوکہ کھا جائیں۔ (انفس): نفس کی جمع ہے۔ جان، ذات شخصیت۔ (ما یشعرون): وہ شعور نہیں رکھتے، انہیں سمجھ نہیں ہے، بیخبر ہیں، اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنی حماقت میں مبتلا ہیں مگر ان کو اس کا احساس اور خبر نہیں ہے۔ (مرض): بیماری ، بیماری ایک تو وہ ہوتی ہے جو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–18

شان نزول : جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں ہجرت کرکے تشیف لائے اور اہل اسلام کی جماعت کی قوت بڑھی تو اہل مدینہ میں سے جن کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے اسلام لکھا تھا وہ تو خالص مسلمان ہوگئے۔ لیکن ایک جماعت اہل مدینہ کی ان یہود سے میل جول رکھتی تھی، جو مدینہ کے گرد و نواح میں رہتے تھے۔ ان یہود کے بہکانے سے اہل مدینہ کے کچھ لوگ مسلمانوں کی قوت اور شوکت کو دیکھ کر جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنا جان و مال بچانے کے لیے مسلمانوں کے روبرو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے۔ اور جب اپنے ساتھیوں سے ملتے تو کہتے : ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو دل لگی کے طور پر اپنا اوپری اسلام ظاہر کردیتے ہیں۔ لوگوں کی دغا بازی ظاہر کرنے کو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–13

[9] یہ انسانوں کی تیسری قسم ہے یعنی منافقین جو باطن میں کافر تھے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ یہاں بیماری سے مراد منافقت کی بیماری ہے۔ ان کے نفاق سے نقصان کسی اور کا نہیں ان ہی کا ہے، یعنی دنیا میں رسوائی اور فضیحت اور آخرت میں عذاب۔ اللہ کے اس بیماری میں اضافہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ منافق کو اللہ فوراً سزا نہیں دیتا بلکہ اسے ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے اور منافق اور زیادہ منافق بنتا چلا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–13

(ف 2) ایمان وکفر میں ہمیشہ دانائی وسفاہت کی حدود الگ الگ رہی ہیں ، ایمان کی دعوت عقل وبصیرت کی دعوت ہے اور کفر وضلالت کی طرف بلانا درحقیقت بےعلمی وجہالت پر آمادہ کرنا ہے کفر والے ہمیشہ اس غلط فہمی میں رہے کہ ایمان قبول کرنا گھاٹے اور خسارے کو خواہ مخواہ مول لینا ہے ، قرآن حکیم کا ارشاد ہے ۔ (آیت) ” الا انھم ھم السفھآء “۔ درحقیقت وہ خود بیوقوف ہیں نفع و نقصان کو صرف مادیات تک محدود سمجھتے ہیں ، نگاہوں میں بلندی نہیں ہے ‘ ورنہ دین ودنیا کی نعمتوں کا حصول کسی طرح بھی خسارہ نہیں ۔ اور مذہب تو کہتے ہیں اس نظام عمل کو جس کو مان کر فلاح دارین حاصل ہوجائے ، حل لغات : السفھآء ۔ جمع سفیہ ، کم عقل ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 11–12

ف 5۔ اور جب ان منافقین سے یہ کہا جائے کہ تم ملک میں فساد برپا نہ کرو تو یہ لوگ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنیوالے ہیں ۔ آگاہ رہو یہی لوگ فساد کرنیوالے ہیں مگر ان کو اپنے مفسد ہونے کا شعور نہیں ۔ ( تیسیر) فساد اور اصلاح یہ دو لفظ قرآن میں ہیں عام طور پر استعمال ہوتے ہیں ۔ اگرچہ فساد کے اصل معنی تو حد اعتدال سے نکل جانے کے ہیں اور اصلاح اس کا مقابلہ ہے یعنی حد اعتدال کی پابندی کرنے کا نام اصلاح ہے مگر عام طور پر اس کے معنی ہر قسم کی شرارت اور ہر قسم کی درستی اور اصلاح کئے جاتے ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے فساد کا ترجمہ بگڑا اور اصلاح کا ترجمہ سنوار کیا ہے چونکہ آج کل یہ دونوں لفظ اردو میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–15

ف 5۔ مرج ہیں ان کی بداعتقادی وحسد اور ہر وقت کا اندیشہ وخلجان سب کچھ آگیا چونکہ اسلام کو روزانہ رونق ہوجاتی تھی اس یے ان کے دلوں میں ساتھ ساتھ یہ امراض ترقی پاتے جاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سچ سچ ہی ہے خواہ کوئی اور کہے : 22: وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ : اس قول کا قائل کون ہے ؟ قرآن کریم نے واضح نہیں کیا اور اس کی وضاحت نہ کرنے میں ایک خاص راز پوشیدہ ہے وہ یہ کہ تم سے کوئی بات کہی جائے تو اس بات پر غور کرو ، اس کو اچھی طرح سمجھو اور یہ چیز اپنی عادت میں پختہ کرلو۔ ایسا نہ ہو کہ بات سنتے ہی تم کہنے والے کی تلاش میں لگ جائو۔ کیونکہ سچ ہمیشہ سچ ہی ہے خواہ اس کا کہنے والا کوئی ہو اور جھوٹ ہمیشہ جھوٹ ہی ہے خواہ اس کا کہنے والا کوئی ہو۔ اس حقیقت کو یاد رکھو کہ سچ قبول کرنا ہے اور جھوٹ سے اجتناب کرنا ہے ۔ ہاں ! اللہ اور اس کے رسول ہمیشہ سچ ہی کہنے والے ہیں ان کی طرف کسی جھوٹ کی نسبت ہو تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–12

The fourth and the fifth verses expose the sophistry of the hypocrites -their activities threatened to produce a general chaos and disorder, and yet, in their mealy-mouthed way, they pretended to be men of good will and to be serving the cause of peace and order. The Holy Qur'an makes it clear that oral claims alone do not decide the question whether one is working for order or disorder, for what thief would call himself a thief? It depends on what one does, not on what one says. If a man's activities do result in mischief, he will be called a mischief-maker, even if he had no such…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–12

12. ' Disease' here refers to the disease of hypocrisy. The statement that 'Allah has intensified this disease' means that He does not punish the hypocrites immediately but allows them to indulge in their hypocrisy and exult in the success of their ruses. This feeling of success intensifies their hypocrisy

Read the full tafseer →