Explained with ayahs 11–12
سینہ زور چور
حضرت عبداللہ بن عباس حضرت عبداللہ بن مسعود اور نبی ﷺ کے بعض اور صحابہ ؓ سے مروی ہے کہ یہ بیان بھی منافقوں سے ہی متعلق ہے ان کا فساد، کفر اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی تھی مطلب یہ ہے کہ زمین میں اللہ کی نافرمانی کرنا یا نافرمانی کا حکم دینا زمین میں فساد کرنا ہے اور زمین و آسمان میں اصلاح سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ انہیں جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے روکا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہدایت و اصلاح پر ہیں۔ حضرت سلمان فارسی ؓ فرماتے ہیں اس خصلت کے لوگ اب تک نہیں آئے۔ مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں یہ بدخصلت لوگ تھے تو سہی لیکن اب جو آئیں گے وہ ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
سورة الْبَقَرَة 12
بیماری سے مراد منافقت کی بیماری ہے۔ اور اللہ کے اس بیماری میں اضافہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ منافقین کو ان کے نفاق کی سزا فوراً نہیں دیتا بلکہ انہیں ڈھیل دیتا ہے اور اس ڈھیل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ منافق لوگ اپنی چالوں کو بظاہر کامیاب ہوتے دیکھ کر اور زیادہ مکمل منافق بنتے چلے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
چوتھی اور پانچویں آیتوں میں منافقین کا یہ مغالطہ مذکور ہے کہ فساد کو اصلاح سمجھتے اور اپنے آپ کو مصلح کہتے تھے قرآن کریم نے واضح کیا کہ فساد و اصلاح زبانی دعوؤں پر نہیں ہوتے ورنہ کوئی چور ڈاکو بھی اپنے آپ کو مفسد کہنے کو تیار نہیں بلکہ مدارکار اس کام پر ہے جو کیا جارہا ہے وہ فساد ہے تو کرنے والے کو مفسد ہی کہا جائے گا خواہ اس کی نیت فساد کی نہ ہو،
(7) اصلاح و فساد کی تعریف اور مصلح ومفسد کی پہچان
آیات مذکورہ میں گذر چکا ہے کہ جب کوئی ان منافقین سے یہ کہتا کہ اپنے نفاق کے ذریعہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ بڑے زور اور تاکید سے کہتے تھے۔ میں لفظ اِنَّماَ جو حصر و انحصار کے لئے بولا جاتا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
لَا تُفْسِدُوا فِي الأرْضِ: فساد فی الارض قرآن مجید کی ایک اصطلاح ہے جس کا مفہوم اس نظام حق کو بگاڑنا یا اس کو بگاڑنے کی کوشش کرنا ہے جو اللہ واحد کی عبادت اور اس کے احکام و قوانین کی اطاعت پر مبنی ہوتا ہے اور جس کی دعوت انبیائے کرام علیہم السلام لے کر آتے ہیں۔ قرآن کا دعویٰ یہ ہے کہ جس طرح اس کائنات کا نظام تکوینی اس وجہ سے قائم ہے کہ اس کے اندر ایک ہی رب قدیر و قہار کا ارادہ کارفرما ہے، اگر اس کے اندر کسی اور کا زور و اختیار بھی چلتا ہوتا تو یہ آن کے آن میں درہم برہم ہو کے رہ جاتا اسی طرح اس کے نظام تشریعی کے اندر اگر کسی اور کی عبادت و اطاعت کے جواز یا دخل کو تسلیم کر لیا جائے تو اس سے اس…
Read the full tafseer →1 فساد، اصلاح کی ضد ہے۔ کفر و معصیت سے زمین میں فساد پھیلاتا ہے اور اطاعت الٰہی سے امن و سکون ملتا ہے۔ ہر دور کے منافقین کا کردار یہی رہا ہے کہ پھیلاتے وہ فساد ہیں اشاعت وہ منکرات کی کرتے ہیں اور پامال حدود الٰہی کو کرتے ہیں اور سمجھتے اور دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اصلاح اور ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
(12) یہ وہی بات ہے جو پیچھے آیت نمبر 7 میں کہی گئی تھی۔ یعنی شروع میں انہوں نے اپنے اختیار سے اس گمراہی کو اپنایا اور اس پر اڑگئے، یہ ان کے دل کی بیماری تھی، پھر ان کی ضد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری کو اور بڑھادیا کہ اب انہیں واقعی ایمان لانے کی توفیق نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
اَلآَ اِنَّہُم ھُمُ المُفسِدُونَ وَ ٰلکِن لَّا یَشعُرُونَ ” خبردار ! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے ۔ “ ان لوگوں کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ کبر و غرور میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو عوام الناس سے اونچے درجے (Upper Class) کے لوگ سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کے دلوں میں اپنا جھوٹاوقار قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وَ اِذَا قِیلَ لَہُم اٰمِنُوا کَمَآ ٰامَنَ النَّاسُ قَالُوآ اَنُؤمِنُ کَمَآ ٰامَنَ السُّفَہَاءُ ، اَلآَ اِنَّہُم ھُمُ السُّفَہَآءُ وَلَکِن لَّا یَعلَمُون ” اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے…
Read the full tafseer →9 یعنی اصلاح تو حقیقت میں یہ ہے کہ دین حق جملہ ادیان پر غالب ہو اور جملہ اغراض و منافع دنیاوی سے احکام شرعیہ کی رعایت زیادہ کی جائے اور دربارہ دین کسی کی موافقت و مخالفت کی پروا نہ ہو۔ " خاک بردلداری اغیار پاش " منافقین بحیلہ مصالحت و مصلحت اندیشی جو کچھ کرتے ہیں وہ حقیقت میں فساد محض ہے مگر ان کو اس کا شعور نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 12 اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰکِنْ لاَّ یَشْعُرُوْنَ
یہی تو ہیں جو فساد پھیلانے والے ہیں۔ اس لیے کہ محمد ﷺ کی دعوت تو زمین میں اصلاح کے لیے ہے۔ اس اصلاح کے لیے کچھ آپریشن کرنا پڑے گا۔ اس لیے کہ مریض اس درجے کو پہنچ چکا ہے کہ آپریشن کے بغیر اس کی شفا ممکن نہیں ہے۔ اب اگر تم اس آپریشن کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہو تو درحقیقت تم فساد مچا رہے ہو ‘ لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں۔ آیت کے آخری الفاظ وَلٰکِنْ لاَّ یَشْعُرُوْنَ سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ شعوری نفاق اور شے ہے ‘ جبکہ یہاں سارا تذکرہ غیر شعوری نفاق کا ہو رہا ہے۔
Read the full tafseer →18 یعنی اس لگائی بجھائی اور ان کی حرکات و سکنات سے کافروں کا بھی ان سے اعتماد اٹھ جائے گا اور ان کی حیثیت دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا کے مصداق ہوجائے گی تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ ان کے اعمال سراسر فتنہ و فساد پر مشتمل تھے۔
Read the full tafseer →32 ۔ (کہ فساد تو تمام تر انہی کی ذات سے پھیل رہا ہے) کیا ٹھکانا ہے ان کی غباوت کا، مسخ شدہ ذہنیت کا ! سیاہ کو سفید کہہ رہے ہیں، تاریکی کا نام کا فور رکھ رہے ہیں، اور احساس اپنے اس جہل کا بھی نہیں رکھتے ! الا کلمہ تنبیہ ہے، عربی میں ” خبردار ہوجاؤ “ ” آگاہ رہو “ کے معنی میں۔ لفظ ” اجی “ میں اگر متانت کی کمی نہ ہوتی تو اردو میں اس مفہوم کے لیے یہی بہترین لفظ ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
آیت نمبر 11
ترجمہ : جب ان سے کہا جاتا ہے کہ : کفر کے ذریعہ اور ایمان میں رکاوٹ ڈال کر زمین میں فساد برپا نہ کرو، تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں، اور وہ جس طریقہ پر ہیں فساد نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا، خبردار درحقیقت یہی لوگ مفسد ہیں اَلَا تنبیہ کے لئے ہے مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ : لوگوں (یعنی صحابہ نبی ﷺ کی طرح تم بھی ایمان لے آؤ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ کیا ہم بیوقوفوں (یعنی) جاہلوں کی طرف ایمان لے آئیں ؟ یعنی ہم ایسا نہ کریں گے، خبردار حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں، لیکن اس کو وہ سمجھتے نہیں ہیں اور جب یہ اہل ایمان…
Read the full tafseer →اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ ( سنو جی ! یہی لوگ فسادی ہیں لیکن وہ سمجھتے نہیں) یہ خدا کی طرف سے منافقوں کے دعوے کی تردید ہے اور یہ تردید بھی نہایت بلیغ ( یعنی منافق جو اس بات کے دعوے دار تھے کہ ہم ملک میں فساد نہیں پھیلاتے بلکہ لوگوں میں میل جول پیدا کراتے ہیں تو خدا تعالیٰ نے ان کے اس دعوے باطل کو ایسے پر زورطرز کے ساتھ رد کیا کہ اس سے بلیغ زیادہ کوئی وجہ ہو نہیں سکتی مثلاً ) جملے کا مستانفہ ہونا حرف تنبیہ کے ساتھ شروع کرنا جو تحقیق مضمون کا فائدہ دیتا ہے پھر کلمہ اِنَّ سے اس کی تاکید مزید کرنا خبر کو معروف بالام لانا اسم اور خبر کے بیچ میں ضمیر فصل داخل…
Read the full tafseer →(12) جان لو یہی رکاوٹ ڈالنے والے ہیں، لیکن ان کے ضعیف لوگ نہیں سمجھتے کہ ان کے سردار ہی انکو گمراہ کررہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
یہاں منافقین کے دو اوصاف بیان ہوئے ہیں، فساد یعنی زمین میں بگاڑ پیدا کرنا۔ اس میں اللہ کی ہر نافرمانی شامل ہے، کیونکہ اس سے زمین میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے، فرمایا : (ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ) [ الروم : 41 ] ”خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا، اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا۔“ دوسرا وصف بگاڑ پیدا کرنے کو عین اصلاح قرار دینا۔ یہ لوگ دل میں کفر رکھنے کی وجہ سے کفار سے دوستی رکھتے تھے، مسلمانوں کے راز انھیں بتاتے اور اسلام کے عقائد و احکام پر اعتراض کرتے تھے اور منع کرنے پر اپنے اس عمل بد کو اصلاح کا نام دیتے تھے۔
اب بھی مسلمانوں میں بہت سے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 12
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الا انھم ھم المفسدون یہ منافقین کے قول کا رد ہے اور ان کو جھٹلانا ہے، ارباب المعانی نے کہا : جس نے دعویٰ ظاہر کیا اس نے جھوٹ بولا، کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا الا انھم ھم المفسدون یہ صحیح ہے ان کو کسرہ دیا گیا ہے، کیونکہ یہ ابتداء کلام میں ہے۔ یہ نحاس کا قول ہے۔ علی بن سلیمان نے کہا : ان پر فتحہ بھی جائز ہے جیسا کہ سیبویہ نے جائز قرار دیا ہے۔ حقا انک منطلق بمعنی الا ہے، اور “ ھم ” اس کا مبتدا ہونا جائز ہے۔ اور المفسدون خبر ہے پھر مبتدا اور خبر، ان کی خبر ہیں اور یہ بھی جائز ہے کہ “ ھم ” انھم میں جو ہاء اور میم ہے اس کی تاکید کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(1) امام ابن جریر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واذا قیل لہم لا تفسدوا فی الارض “ میں فساد سے مراد کفر اور گناہ کا کام ہے۔
(2) امام ابن جریر نے مجاہد سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا قیل لہم لا تفسدوا فی الارض، قالوا انما نحن مصلحون “ کا معنی ہے کہ جب وہ معصیت کا ارتکاب کرتے ہیں تو ان سے کہا جاتا ہے کہ ایسا مت کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں۔
(3) امام ابن اسحاق اور ابن جریر نے حضرت عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” انما نحن مصلحون “ یعنی (ان کافروں کا کہنا یہ ہے کہ) ہم دونوں فریقین یعنی مؤمنین اور اہل کتاب کے درمیان اصلاح کا ارادہ کرتے ہیں۔
(4) وکیع، ابن جریر اور ابن…
Read the full tafseer →[ اَلَآ : خبردار رہو ] [ اِنَّھُمْ : بیشک یہ لوگ ] [ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ : ہی نظم بگاڑنے والے ہیں ] [ وَلٰكِنْ : اور لیکن ] [ لَّا يَشْعُرُوْنَ : یہ لوگ ادراک حاصل نہیں کرتے ]
نوٹ 4 : اَلَآ۔ ایک لفظ ہے اور یہ کلمہ تنبیہ ہے اسی لحاظ سے اس کے مختلف ترجمے کیے جاتے ہیں مثلا، سنو۔ آگاہ ہوجاؤ، خبردار ہو۔ وغیرہ ۔ کبھی حرف استفہام أ اور لا نافیہ ساتھ آتے ہیں تب بھی الا بنتا ہے جس کے معنی ہیں کیا نہیں ان دونوں میں فرق عبارت کے مفہوم سے کیا جاتا ہے۔
نوٹ 5 ۔ لٰكِنْ : اور لکنَّ کے معنی میں کوئی فرق نہیں ہے اور دونوں کے معنی ہیں لیکن۔ البتہ ان کے استعمال میں فرق ہے لکن اسم اور فعل دونوں پر آتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
منافقوں کے دعوے اور ان کا طریق کار
ان آیات میں منافقین کے بعض دعوے نفل فرمائے ہیں۔ اور ان کا طریقہء کار ذکر فرمایا ہے اور وہ یہ کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے تھے کہ اجی ہم کہاں فساد کہاں ؟ ہمارا کام تو اصلاح کرنا ہی ہے۔ ان کی تردید میں فرمایا کہ خبر دار بلاشبہ یہ لوگ فسادی ہی ہیں لیکن اس کا شعور نہیں رکھتے، جس فساد میں یہ لوگ مبتلا تھے اس میں کئی طرح سے حصہ لیتے تھے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فتنے کھڑے کرتے تھے۔ اور دشمنان اسلام کو لڑائیوں پر آمادہ کرتے تھے اور مسلمانوں کے بھید دشمنوں تک پہنچاتے تھے۔ اور جو لوگ مسلمان ہونے کا ارادہ کرتے ان کو اسلام سے روکنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
منافقین کی دوسری قباحت
قال تعالیٰ واذا قیل لھم لا تفسدوا فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ ولکن لا یشعرون۔
اور یہ منافقین اپنے باطنی مرض کی وجہ سے اس درجہ کو پہنچ گئے ہیں کہ فساد کو صلاح اور صلاح کو فساد اور مرض کو صحت سمجھنے لگے ہیں۔ کیونکہ جب اسے یہ کہا جائے کہ زمین میں فساد مت کرو تو یہ کہتے ہیں کہ جز ایں نیست کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ منافقین کئی طرح سے ساد پھیلاتے تھے۔ کبھی مسلمانوں کے راز فاش کرتے۔ کبھی کافروں کو مسلمانوں کی مخالفت پر آمادہ کرتے اور کبھی کافروں کے اعتراضات اور ضعیف الاعتقاد مسلمانوں کے سامنے نقل کرتے تاکہ وہ مذبذب اور متزلزل ہوجائیں ان سب کو حق تعالیٰ نے فساد سے تعبیر فرمایا ہے۔…
Read the full tafseer →ف 21 ۔ یہ منافقوں کے دعویٰ کا نہایت ہی بلیغ طریقہ سے رد ہے۔ جملہ مستانفہ لا کر اور حرف تنبیہ سے سامعین کو متوجہ کر کے حرف تاکید اور کلمہ حصر سے اس حقیقت کو واضح فرمایا کہ یہ لوگ مصلح ہونے کا دعوی کر رہے ہیں حالانکہ فتنہ و فساد کا سرچشمہ یہی لوگ ہیں اور زیادہ تر فساد انہیں کے ذریعے پھیل رہا ہے۔
22 ۔ ان کے دل مرض نفاق کی وجہ سے اس حد تک مردہ اور بےحس ہوچکے تھے کہ اصلاح و فساد میں امتیاز نہیں کرپاتے اور شر و فساد کو امن وصلاح قرار دے رہے ہیں۔ وھذا امانا شئی عن جھل مرکب فاعتقد وا الفساد صلاح واصروا واستکبروا استکبارا (روغ ص 153 ج 1)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
گزشتہ سے پیوستہ : ہدایت کے اعتبار سے انسانوں کے تین گروہوں کا ذکر آچکا ہے۔ پہلا گروہ وہ ہے جو ظاہراً اور باطنا ہدایت کو قبول کرتے ہیں ، وہ مومن اور متقی کہلاتے ہیں۔ سورة بقرہ کی پہلی چار آیتوں میں ان کا حال بیان ہوا ہے۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو ظاہر اور باطناً ہدایت الٰہی کا انہار کرتا ہے۔ وہ کافروں کا گروہ ہے۔ اگلی دو آیات میں ان کا حال بیان ہوچکا ہے اب ان آیات میں تیسرے گروہ منافقین کا تذکرہ ہے جو ظاہر میں تو ہدایت کو تسلیم کرتے ہیں مگر ان کے باطن میں کفر ہوتا ہے۔ اگلی تیرہ آیات میں منافقین کی خرابیاں ، انکی سازشوں اور چال بازیوں کا حال ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مثالوں کے ذریعے سارا معاملہ سمجھایا…
Read the full tafseer →اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ 12
«أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء
«أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له من لفظه، وقد يقصر نحو قول الأعشی: هؤلا ثم هؤلا کلّا أع طيت نوالا محذوّة بمثال
الا) الا یہ حرف استفتاح ہے ( یعنی کلام کے ابتداء میں تنبیہ کے لئے آتا ہے ) ( الا) الا یہ حرف استثناء ہے اولاء ( اولا) یہ اسم مبہم ہے جو جمع مذکر و مؤنث کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس کا مفرد من لفظہ نہیں آتا ( کبھی اس کے شروع ۔ میں ھا تنبیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ترکیب : اذا حرف شرط قیل فعل مجہول لہم متعلق قیل کے لاتفسدوا فی الارض مفعول مالم یسم فاعلہ ہوا قیل کا۔ یہ دونوں مل کر شرط ہوئے اور قالوا فعل۔ انمانحن مصلحون جملہ اس کا مفعول فعل اپنے فاعل ضمیر ھم اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبر یہ ہو کر جواب ہوا شرط کا شرط و جزا مل کر جملہ شرطیہ ہو کر معطوف ہوا یکذبون یا یقول پر ان مشبہ بفعل ھم اس کا اسم اور ھم المفسدون مبتداء خبر بن کر اس کی خبر۔ ولکن کلمہ استدراک اس کا مابعد لایشعرون جملہ استدراکیہ۔ الا حرف تنبیہ جو صدر جملہ پر تنبیہ مخاطب کے لیے آتا ہے۔ یہ جملہ خبر یہ مستانفہ ہے جواب میں ان کے قول کے۔
تفسیر : یعنی مرض قلب ان پر یہاں تک غالب آگیا ہے کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِیْ الْاَرْضِلا قَالُوْآ اِنَّمَانَحْنُ مُصْلِحُوْنَ ۔ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ۔ (البقرۃ : 11 تا 12)
(اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پید اکروتو ” جواب دیتے ہیں “ کہ ہم تو اصلاح کرنے والے لوگ ہیں۔ آگاہ رہو کہ یہی لوگ فساد برپا کرنے والے ہیں، لیکن یہ محسوس نہیں کررہے ہیں)
فسادفی الارض کی حقیقت
کسی بھی ادارے کی کامیابی کا دارومدار صرف ایک بات پر ہے کہ اس ادارے میں حکم اس شخصیت کا چلے جو اس ادارے کی مالک اور اس ادارے کی حقیقی سربراہ ہو اور اگر ایسا نہ ہو، تو پھر اس ادارے کو تباہی سے کوئی نہیں بچاسکتا۔…
Read the full tafseer →تفسیر بالقرآن
فسادی کون ؟
1۔ منافقین (البقرۃ : 11) 2۔ زمین میں فساد لوگوں کے اعمال کا نتیجہ ہے (الروم : 41) 3۔ یاجوج و ماجوج (الکہف : 94)
4۔ فرعون (یونس : 91) 5۔ یہودی (المائدۃ : 64) 6۔ بچوں کے قاتل (القصص : 4)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
وَمَایَشْعُرُوْنَ : (اور وہ محسوس نہیں کرتے) ۔
نتیجہ :
ان کے دھوکہ کا نتیجہ دوسروں کی طرف سے ان کی طرف ہی لوٹنے والا ہے۔
معنی شعور :
الشعور : کسی چیز کا حس سے معلوم کرنا۔ یہ شعار سے لیا گیا ہے۔ شعار وہ کپڑا ہے جو جسم کے قریب ہوتا ہے (بنیان وغیرہ)
مشاعر الانسان : انسانی حواس کو کہتے ہیں کیونکہ شعور کے آلات یہی ہیں۔ اب معنی یہ ہوگا۔ ان کو اس کا ضررحسی چیز کی طرح پہنچ رہا ہے۔ اور وہ اپنی طویل غفلت کی وجہ سے اس شخص کی طرح ہوگئے ہیں جس میں حس ہی نہ ہو۔
فِیْ قُلُوْ بِھِمْ مَّرَضٌ : (ان کے دلوں میں بیماری ہے) یعنی شک ونفاق، شک، دو معاملوں میں تردد کو کہتے ہیں۔ اور منافق مترددہوتا ہے۔
حدیث میں فرمایا…
Read the full tafseer →(12) ۔۔۔۔۔ (الا) کلمہ تنبیہ ہے جس سے مخاطب کو متنبہ کیا جاتا ہے (آیت)” انھم ھم المفسدون “ اپنے آپ کو (فاسد کرنے والے ہیں) کفر کرکے اور لوگوں کو خراب کرنے والے ہیں ۔ ایمان سے روک کرکے۔ (آیت)” ولکن لا یشعرون “ ۔ یعنی نہیں جانتے اس بات کو کہ وہ فاسد کرنے والے ہیں کیونکہ ان کا گمان یہ ہے کہ بیشک وہ جس حال پر ہیں کفر (کی گندگی) سے باطن بھر کر یہ حال ، حال صلاح ہے اور کہا گیا ہے کہ ” لا یعلمون “ کا معنی ہے کہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کچھ عذاب تیار کر رکھا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
(8 ۔ 20): 8۔ 20۔ شروع سورة سے یہاں تک چار آیتوں میں خالص مومنوں کا ذکر تھا۔ اور پھر دو آیتوں میں کافروں کا اب ان تیرہ آیتوں میں منافقوں کا ذکر ہے۔ منافق وہ ہے جو زبان سے اچھی بات کہے اور دل میں اس کے بدی ہو۔ منافقوں کا ذکر قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ میں آنے کے بعد شروع ہوا ہے۔ ہجرت سے پہلے جس قدر حصہ قرآن شریف کا مکہ میں اترا ہے اس میں منافقوں کا ذکر اس واسطے نہیں ہے کہ مکہ میں یا کھلم کھلا مسلمان تھے یا کافر۔ منافق لوگ وہاں نہیں تھے کیونکہ مکہ میں کفار کا غلبہ تھا جس کے سبب سے آنحضرت ﷺ کو مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا۔ اس اپنے غلبہ کے سبب سے وہاں کے کافر اپنی اصلی حالت پر تھے۔ جب آنحضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
آیت 11 تا 12
جب ان منافقوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکا جاتا ہے اور فساد سے مراد اعمال کفر اور معاصی ہیں۔ نیز دشمن کے پاس اہل ایمان کے راز پہنچانا اور کفار کے ساتھ دوستی رکھنا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرتے ہیں۔ پس انہوں نے دو باتوں کو اکٹھا کردیا۔ (1) فساد فی الارض کا ارتکاب (2) اس بات کا اظہار کہ یہ فساد پھیلانا نہیں، بلکہ اصلاح ہے۔ یوں گویا ایک تو انہوں نے حقائق کو بدل دیا (فساد کا نام اصلاح رکھا) دوسرے، فعل باطل اور اس کے حق ہونے کے اعتقاد کو جمع کردیا۔ یہ لوگ ان لوگوں سے زیادہ بڑے مجرم ہیں جو گناہ کو حرام سمجھتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یہ لوگ سلامتی کے زیادہ قریب ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
قول باری ہے : الذی جعل لکم الارض فراشاً (وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا) یعنی تمہارے لئے قرار اور ٹھکانا بنایا اور صرف فراش کا لفظ علی الاطلاق ذکر کیا جائے تو یہ زمین کو شامل نہیں ہوگا، بلکہ زمین کو فرش کا نام اسی لفظ کے ساتھ مقید کر کے دیا جاتا ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : والجبال اوتاداً (اور پہاڑوں کو میخیں ) اوتاد یعنی میخوں کے اسم کا اطلاق پہاڑوں کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ اسی طرح قول باری ہے : والشمس سراجاً اور سورج کو چراغ ) اسی بنا پر فقہاء نے کہا ہے کہ جو شخص فرش اور بچھونے پر نہ سونے کی قسم کھالے اور پھر زمین پر سو جائے تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص چراغ تلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
28 کفر و نفاق، فساد فی الارض کی جڑ بنیاد، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ اللہ کی زمین میں فساد مت مچاؤ اپنے کفر و نفاق سے جو کہ فساد کی جڑ بنیاد ہے۔ وَالْعِیَاذ باللَّہِ ۔ کما قال ابن مسعود ؓ (ابن جریر، ابن کثیر، محاسن، صفوہ، وغیرہ) سو کفر و نفاق خرابی و فساد کی جڑ بنیاد ہے، اگرچہ اس کے روگی اور علمبردار اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتے اور بڑے خوشنما وعدے اور دعوے کرتے ہوں، اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ امن و صلاح کا مدارو انحصار اس پر ہے کہ ہر ایک کے حقوق کی صحیح تعیین و تشخیص سے آگہی حاصل ہو، اور اس کے مطابق ان تمام حقوق کو ادا کرنے کی سعی اور کوشش کی جائے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
منافقوں کی مفسدانہ چالیں
تشریح : منافق لوگ جن کا تفصیلی ذکر ہوچکا ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ اپنی منافقت سے زمین میں فساد نہ پھیلائو بلکہ سیدھا راستہ اختیار کرکے اپنی اور لوگوں کی اصلاح کا سامان پیدا کرو تو وہ اپنی دانش اور مصلحت کے تحت یہی جواب دیتے ہیں کہ ہم اصلاح کر رہے ہیں، ان کا خیال تھا کہ دونوں فریقوں مسلمان اور کفار کو خوش رکھنا ہی عقلمندی ہے اور دونوں فریق انہیں اپنا دوست سمجھیں ان کے نزدیک یہی اصلاح کا راستہ تھا اور انہیں یہ خیال نہ رہا کہ اس طرح وہ اپنی دنیا و عاقبت خراب کر رہے ہیں سچائی، حسن سلوک اور اصلاح معاشرہ کا باعث بنتی ہے جبکہ منافقت سے تباہی اور بےسکونی پھیلتی ہے ان آیات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
آیات 8- 20
اسرارو معارف
یہاں کفر کی دوسری قسم بیان ہوتی ہے جسے نفاق کہتے ہیں اور یہ اپنے ضرر کے اعتبار سے شدید تر ہے پہلی پانچ آیات میں مومنین کی تعریف ، پھر دو آیات میں کفر کی وضاحت کے بعد تیرہ آیات میں نفاق اور منافق کے حالات ارشاد ہوئے ہیں تاکہ اس کی خوب وضاحت ہوجائے جس طرح منافق ضرر میں بڑھا ہوا ہے اسی طرح نفاق کا عذاب بھی دوسری قسم کے کفر سے زیادہ ہوگا۔
ان المنافقین فی الدرک الاسغل من النار ، یعنی کفار سے نیچے کے دجے میں ان کو رکھا جائے گا کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں مگر وہ مومن نہیں ہیں اور مومن نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں بھئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ف 8 منافقین کا ایک شیوہ وہ یہ بھی تھا کہ جو لوگ صدق دل سے اسلام قبول کر کے اپنے آپ کو تکا لیف اور خطرات میں مبتلا کر رہے تھے ان کو بیوقوف سمجھتے۔
Read the full tafseer →(2:12) الا۔ خبردار ہوجاؤ، سن لو، جان لو، حرف تنبیہ ہے۔
ھم المفسدون۔ ھم۔ ضمیر جمع مذکر غائب، تاکید کے لئے ہے۔ المفسدون۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ المفسد۔ واحد۔ فساد ڈالنے والے۔ بگاڑ کرنے والے (بےشک) یہی فساد ڈالنے والے ہیں ۔
لا یشعرون ۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب، وہ شعور نہیں رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے نہیں ہیں، نیز ملاحظہ ہو
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
لغات القرآن آیت نمبر 8 تا 16
(الناس): لو گ ، انسان، آدمی۔ (یقول): وہ کہتا ہے ، اردو میں اس کا ترجمہ ” امنا “ کی وجہ سے اس طرح کیا جائے گا، ” وہ کہتے ہیں۔ ” (امنا): ہم ایمان لے آئے۔ (یوم آخر): آخری دن، قیامت کا دن۔ (یخدعون): اور یخدعون کے الفاظ ” خدع “ سے بنے ہیں دھوکہ دینا، دل میں بری بات چھپا کر بظاہر اچھا بننے کی کوشش کرنا تا کہ دوسرے اس سے دھوکہ کھا جائیں۔ (انفس): نفس کی جمع ہے۔ جان، ذات شخصیت۔ (ما یشعرون): وہ شعور نہیں رکھتے، انہیں سمجھ نہیں ہے، بیخبر ہیں، اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنی حماقت میں مبتلا ہیں مگر ان کو اس کا احساس اور خبر نہیں ہے۔ (مرض): بیماری ، بیماری ایک تو وہ ہوتی ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–18
شان نزول : جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں ہجرت کرکے تشیف لائے اور اہل اسلام کی جماعت کی قوت بڑھی تو اہل مدینہ میں سے جن کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے اسلام لکھا تھا وہ تو خالص مسلمان ہوگئے۔ لیکن ایک جماعت اہل مدینہ کی ان یہود سے میل جول رکھتی تھی، جو مدینہ کے گرد و نواح میں رہتے تھے۔ ان یہود کے بہکانے سے اہل مدینہ کے کچھ لوگ مسلمانوں کی قوت اور شوکت کو دیکھ کر جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنا جان و مال بچانے کے لیے مسلمانوں کے روبرو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے۔ اور جب اپنے ساتھیوں سے ملتے تو کہتے : ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو دل لگی کے طور پر اپنا اوپری اسلام ظاہر کردیتے ہیں۔ لوگوں کی دغا بازی ظاہر کرنے کو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
[9] یہ انسانوں کی تیسری قسم ہے یعنی منافقین جو باطن میں کافر تھے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ یہاں بیماری سے مراد منافقت کی بیماری ہے۔ ان کے نفاق سے نقصان کسی اور کا نہیں ان ہی کا ہے، یعنی دنیا میں رسوائی اور فضیحت اور آخرت میں عذاب۔ اللہ کے اس بیماری میں اضافہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ منافق کو اللہ فوراً سزا نہیں دیتا بلکہ اسے ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے اور منافق اور زیادہ منافق بنتا چلا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
(ف 2) ایمان وکفر میں ہمیشہ دانائی وسفاہت کی حدود الگ الگ رہی ہیں ، ایمان کی دعوت عقل وبصیرت کی دعوت ہے اور کفر وضلالت کی طرف بلانا درحقیقت بےعلمی وجہالت پر آمادہ کرنا ہے کفر والے ہمیشہ اس غلط فہمی میں رہے کہ ایمان قبول کرنا گھاٹے اور خسارے کو خواہ مخواہ مول لینا ہے ، قرآن حکیم کا ارشاد ہے ۔ (آیت) ” الا انھم ھم السفھآء “۔ درحقیقت وہ خود بیوقوف ہیں نفع و نقصان کو صرف مادیات تک محدود سمجھتے ہیں ، نگاہوں میں بلندی نہیں ہے ‘ ورنہ دین ودنیا کی نعمتوں کا حصول کسی طرح بھی خسارہ نہیں ۔ اور مذہب تو کہتے ہیں اس نظام عمل کو جس کو مان کر فلاح دارین حاصل ہوجائے ،
حل لغات :
السفھآء ۔ جمع سفیہ ، کم عقل ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ف 5۔ اور جب ان منافقین سے یہ کہا جائے کہ تم ملک میں فساد برپا نہ کرو تو یہ لوگ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنیوالے ہیں ۔ آگاہ رہو یہی لوگ فساد کرنیوالے ہیں مگر ان کو اپنے مفسد ہونے کا شعور نہیں ۔ ( تیسیر)
فساد اور اصلاح یہ دو لفظ قرآن میں ہیں عام طور پر استعمال ہوتے ہیں ۔ اگرچہ فساد کے اصل معنی تو حد اعتدال سے نکل جانے کے ہیں اور اصلاح اس کا مقابلہ ہے یعنی حد اعتدال کی پابندی کرنے کا نام اصلاح ہے مگر عام طور پر اس کے معنی ہر قسم کی شرارت اور ہر قسم کی درستی اور اصلاح کئے جاتے ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے فساد کا ترجمہ بگڑا اور اصلاح کا ترجمہ سنوار کیا ہے چونکہ آج کل یہ دونوں لفظ اردو میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
ف 5۔ مرج ہیں ان کی بداعتقادی وحسد اور ہر وقت کا اندیشہ وخلجان سب کچھ آگیا چونکہ اسلام کو روزانہ رونق ہوجاتی تھی اس یے ان کے دلوں میں ساتھ ساتھ یہ امراض ترقی پاتے جاتے تھے۔
Read the full tafseer →خبردار ہو جائو :
24: اَلَاۤ : کلمہ تنبیہ ہے جس طرح اردو میں ” خبردار ہو جائو “ ” آگاہ رہو “ ” یاد رکھو “ کے الفاظ بولے جاتے ہیں اس طرح اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے عربی میں اَلَاۤ ، کا استعمال ہوتا ہے۔ لفظ ” اجی “ بھی اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے بولا جاتا ہے۔
کیا کہنا ہے ان کی مسخ شدہ ذہنیت کا ! سیاہ کو سفید کہہ رہے ہیں اور تاریکی کو روشنی کا نام دے رہے ہیں ڈھیٹ اتنے ہیں کہ ان کو اپنی اس جہالت کا ذرا احساس بھی نہیں۔ یہ وہی بات ہوئی کہ ” چور بھی کہے چور چور “۔
شعور کیا ہے ؟
25: ہر انسان کے اندر ایک طاقت و قوت ایسی موجود ہے جو صحیح اور غلط ، ماں اور بیوی میں امتیاز کردیتی ہے اور اس طاقت و قوت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
The fourth and the fifth verses expose the sophistry of the hypocrites -their activities threatened to produce a general chaos and disorder, and yet, in their mealy-mouthed way, they pretended to be men of good will and to be serving the cause of peace and order. The Holy Qur'an makes it clear that oral claims alone do not decide the question whether one is working for order or disorder, for what thief would call himself a thief? It depends on what one does, not on what one says. If a man's activities do result in mischief, he will be called a mischief-maker, even if he had no such…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
12. ' Disease' here refers to the disease of hypocrisy. The statement that 'Allah has intensified this disease' means that He does not punish the hypocrites immediately but allows them to indulge in their hypocrisy and exult in the success of their ruses. This feeling of success intensifies their hypocrisy
Read the full tafseer →