Al-Baqara 2:13

Al-Baqara · from ayah 13

2:13

وَاِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ ؕ— اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَلٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ ۟وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اٰمِنُوۡا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوۡاۤ اَنُؤۡمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ‌ ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمۡ هُمُ السُّفَهَآءُ وَلٰـكِنۡ لَّا يَعۡلَمُوۡنَ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لے آئے، تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں، بھلا جس طرح بےوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں؟ سن لو کہ یہی بےوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when it is said to them, "Believe as the people have believed," they say, "Should we believe as the foolish have believed?" Unquestionably, it is they who are the foolish, but they know [it] not.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:13

اور جب ان سے کہا گیا جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے یہی جواب دیا "کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں؟" خبردار! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں، مگر یہ جانتے نہیں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لے آئے، تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں، بھلا جس طرح بےوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں؟ سن لو کہ یہی بےوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اور لوگوں (یعنی صحابہ) کی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو جواب دیتے ہیں کہ کیا ہم ایسا ایمان ﻻئیں جیسا بیوقوف ﻻئے ہیں، خبردار ہوجاؤ! یقیناً یہی بیوقوف ہیں، لیکن جانتے نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم بھی اسی طرح ایمان لے آؤ جیسے دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم بھی اسی طرح ایمان لائیں جیسے بیوقوف لوگ ایمان لائے ہیں ؟ خوب اچھی طرح سن لو کہ یہی لوگ بیوقوف ہیں لیکن وہ یہ بات نہیں جانتے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ان سے کہا جائے ایمان لاؤ جیسے اور لوگ ایمان لائے تو کہیں کیا ہم احمقوں کی طرح ایمان لے آئیں سنتا ہے وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں -

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (تم بھی) ایمان لاؤ جیسے (دوسرے) لوگ ایمان لے آئے ہیں، تو کہتے ہیں: کیا ہم بھی (اسی طرح) ایمان لے آئیں جس طرح (وہ) بیوقوف ایمان لے آئے، جان لو! بیوقوف (درحقیقت) وہ خود ہیں لیکن انہیں (اپنی بیوقوفی اور ہلکے پن کا) علم نہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لاؤ جس طرح لوگ ایمان لائے ہیں، تو کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جیسے بیوقوف ایمان لائے ہیں ؟ سن لو ! بیشک وہ خود ہی بیوقوف ہیں اور لیکن وہ نہیں جانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جیسے اور لوگ ایمان لائے ہیں، تو کہتے ہیں کیا ہم ایسے ایمان لائیں، جیسے احمق لوگ ایمان لائے ہیں ؟ خوب سن لو ! (حقیقتاً) یہی لوگ احمق ہیں مگر وہ (یہ بات) جانتے نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس طرح ایمان لاؤجس طرح لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں، کیا ہم اس طرح ایمان لائیں جس طرح بیوقوف لوگ ایمان لائے ہیں ؟ آگاہ رہو، کہ بیوقوف یہی لوگ ہیں لیکن یہ جانتے نہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (اسی طرح) ان سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ (سچے دل سے) ایمان لے آؤ جس طرح کہ یہ دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح کے بیوقوف لوگ ایمان لائے ہیں آگاہ رہو کہ بیوقوف یہ خود ہیں لیکن یہ جانتے نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لے آؤ جیسا کہ لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کہ کہا ہم (ایسا) ایمان لے آئیں جیسا کہ بیوقوف ایمان لائے ہیں ؟ سن رکھو کہ بیوقوف تو خود یہی لوگ ہیں اور اس کبھی علم نہیں رکھتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جیسے یہ بیوقوف لوگ ایمان لائے ہیں ؟ آگاہ ہوجاؤ کہ وہی بیوقوف ہیں لیکن انہیں علم نہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لے آئو، جیسے لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیا ہم ایمان لائیں جیسا کہ بیوقوف ایمان لائے ہیں۔ سن رکھو کہ خود وہی لوگ بیوقوف ہیں۔ لیکن وہ علم نہیں رکھتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And when it is said to them, "Believe sincerely as the other people have believed", they reply, "Should we believe as fools have believed?" Beware! they themselves are the fools, but they know it not.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And when it is said to them, :Believe as people have believed, they say, :Shall we believe as the fools have believed? Beware, it is, in fact, they who are the fools, but they do not know.

— Muhammad Taqi Usmani

And when it is said to them, :Believe as people have believed, they say, :Shall we believe as the fools have believed? Beware, it is, in fact, they who are the fools, but they do not know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when it is said to them: Believe as the people believe," They say: "Shall we believe as the fools have believed" Verily, they are the fools, but they do not know.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when it is said unto them: believe as the people believe, they say: shall we believe as the foolish believe? are not they indeed the foolish? But they know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when it is said to them, "Believe as the people have believed," they say, "Should we believe as the foolish have believed?" Unquestionably, it is they who are the foolish, but they know [it] not.

— Saheeh International

When they are told to believe as everyone else does, they say, "Should we believe as fools do?" In fact, they themselves are fools, but they do not know it.

— Muhammad Sarwar

And when it is said to them: Believe as the people believe, they say: Shall we believe as the fools believe? Now surely they themselves are the fools, but they do not know.

— Muhammad Habib Shakir

And when it said unto them: believe even as mankind have believed, they say: shall we believe even as the fools have believed? Lo! verily it is they who are the fools; and yet they know not.

— Abdul Majid Daryabadi

When it is said to them: "Believe as the others believe:" They say: "Shall we believe as the fools believe?" Nay, of a surety they are the fools, but they do not know.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

خود فریبی کے شکار لوگ مطلب یہ ہے کہ جب ان منافقوں کو صحابہ کی طرح اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں، کتابوں اور رسولوں ﷺ پر ایمان لانے، موت کے بعد جی اٹھنے، جنت دوزخ کی حقانیت کے تسلیم کرنے، اللہ اور رسول ﷺ کی تابعداری کر کے نیک اعمال بجا لانے اور برائیوں سے رکے رہنے کو کہا جاتا ہے تو یہ فرقہ ایسے ایمان والوں کو بیوقوف قرار دیتا ہے۔ ابن عباس، ابن مسعود اور بعض دیگر صحابہ، ربیع، انس، عبدالرحمن بن زید بن اسلم وغیرہ نے یہی تفسیر بیان کی ہے۔ سفھاء سفیہ کی جمع ہے جیسے حکماء حکیم کی اور حلماء حلیم کی۔ جاہل، کم عقل اور نفع نقصان کے پوری طرح نہ جاننے والے کو سفیہ کہتے ہیں۔ قرآن میں اور جگہ ہے آیت (وَلَا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 13 یعنی جس طرح تمہاری قوم کے دوسرے لوگ سچائی اور خلوص کے ساتھ مسلمان ہوئے ہیں اسی طرح تم بھی اگر اسلام قبول کرتے ہو تو ایمانداری کے ساتھ سچے دل سے قبول کرو۔ سورة الْبَقَرَة 14 وہ اپنے نزدیک ان لوگوں کو بیوقوف سمجھتے تھے جو سچائی کے ساتھ اسلام قبول کر کے اپنے آپ کو تکلیفوں اور مشقّتوں اور خطرات میں مبتلا کر رہے تھے۔ ان کی رائے میں یہ سراسر احمقانہ فعل تھا کہ محض حق اور راستی کی خاطر تمام ملک کی دشمنی مول لے لی جائے۔ ان کے خیال میں عقل مندی یہ تھی کہ آدمی حق اور باطل کی بحث میں نہ پڑے، بلکہ ہر معاملے میں صرف اپنے مفاد کو دیکھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چھٹی آیت میں منافقین کے سامنے صحیح ایمان کا ایک معیار رکھا گیا کہ اٰمِنُوْا كَمَآ اٰمَنَ النَّاس یعنی ایمان لاؤ جیسے ایمان لائے اور لوگ، اس میں ناس سے مراد باتفاق مفسرین صحابہ کرام ہیں کیونکہ وہی حضرات ہیں جو نزول قرآن کے وقت ایمان لائے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف وہی ایمان معتبر ہے جو صحابہ کرام کے ایمان کی طرح ہو جن چیزوں میں جس کیفیت کے ساتھ ان کا ایمان ہے اسی طرح کا ایمان دوسروں کا ہوگا تو ایمان لیا جائے گا، ورنہ نہیں اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کریم کا ایمان ایک کسوٹی ہے جس پر باقی ساری امت کے ایمان کو پرکھا جائے گا جو اس کسوٹی پر صحیح نہ ہو اس کو شرعا ایمان اور ایسا کرنے والے کو مومن…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

كَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ: یہاں الناس سے مراد وہ مسلمان ہیں جو نبی ﷺ پر ایمان لائے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1 ان منافقین نے ان صحابہ کو بیوقوف کہا جنہوں نے اللہ کی راہ میں جان و مال کی کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور آج کے منافقین یہ باور کراتے ہیں کہ نعوذ باللہ صحابہ کرام دولت ایمان سے محروم تھے اللہ تعالیٰ نے جدید و قدیم دونوں منافقین کی تردید فرمائی۔ فرمایا کسی اعلے ٰ تر مقصد کے لئے دینوی مفادات کو قربان کردینا بےوقوفی نہیں، عین عقلمندی اور سعادت ہے۔ صحابہ کرام نے اسی سعادت مندی کا ثبوت مہیا کیا۔ اس لئے وہ پکے مومن ہی نہیں بلکہ ایمان کے لئے ایک معیار اور کسوٹی ہیں، اب ایمان انہی کا معتبر ہوگا جو صحابہ کرام کی طرح ایمان لائیں گے (فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–13

(12) یہ وہی بات ہے جو پیچھے آیت نمبر 7 میں کہی گئی تھی۔ یعنی شروع میں انہوں نے اپنے اختیار سے اس گمراہی کو اپنایا اور اس پر اڑگئے، یہ ان کے دل کی بیماری تھی، پھر ان کی ضد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری کو اور بڑھادیا کہ اب انہیں واقعی ایمان لانے کی توفیق نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–13

اَلآَ اِنَّہُم ھُمُ المُفسِدُونَ وَ ٰلکِن لَّا یَشعُرُونَ ” خبردار ! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے ۔ “ ان لوگوں کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ کبر و غرور میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو عوام الناس سے اونچے درجے (Upper Class) کے لوگ سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کے دلوں میں اپنا جھوٹاوقار قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وَ اِذَا قِیلَ لَہُم اٰمِنُوا کَمَآ ٰامَنَ النَّاسُ قَالُوآ اَنُؤمِنُ کَمَآ ٰامَنَ السُّفَہَاءُ ، اَلآَ اِنَّہُم ھُمُ السُّفَہَآءُ وَلَکِن لَّا یَعلَمُون ” اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی اپنے دلوں میں یہ کہتے تھے یا آپس میں یا ان ضعفائے مسلمین سے جو کسی وجہ سے ان کے رازدار بن رہے تھے۔ 11 سفہاء کہا سچے مسلمانوں کو کہ احکام خداوندی پر دل سے ایسے فدا تھے کہ لوگوں کی مخالفت اور اس کے نتائج بد سے اور انقلاب زمانہ کے مضرات گوناگوں سے اپنا بچاؤ نہ کرتے تھے بخلاف منافقین کے کہ مسلمان و کفار سب سے ظاہر بنا رکھا تھا اور اغراض نفسانی کے سبب آخرت کا کچھ فکر نہ تھا مصلحت بینی اس درجہ غالب تھی کہ ایمان و پابندی احکام شرع کی ضرورت نہ سمجھتے تھے فقط دعویٰ زبانی اور ضروری اعمال بمجبوری ادا کرلینے پر قناعت تھی۔ 1 یعنی بیوقوف حقیقت میں منافقین ہی ہیں کہ مصالح و اغراض دنیاوی پادر ہوا کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ آخر دیکھو ‘ یہ دوسرے اہل ایمان ہیں ‘ جب بلاوا آتا ہے تو فوراً لبیک کہتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں ‘ جبکہ تم نے اور ہی روش اختیار کر رکھی ہے۔ قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ کَمَآ اٰمَنَ السُّفَھَآءُ ط منافقینّ سچے اہل ایمان کے بارے میں کہتے تھے کہ انہیں تو اپنے نفع کی فکر ہے نہ نقصان کی ‘ نہ خطرات کا کوئی خیال ہے نہ اندیشوں کا کوئی گمان۔ جان ‘ مال اور اولاد کی کوئی پروا نہیں۔ یہ گھر بار کو چھوڑ کر آگئے ہیں ‘ اپنے بال بچے کفار مکہ کے رحم و کرم پر چھوڑ آئے ہیں کہ سرداران قریش ان کے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں ‘ تو یہ تو بیوقوف لوگ ہیں۔ آج کل آپ ایسے لوگوں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 13–14

19 اس آیت میں الناس سے مراد سچے مومن ہیں، یعنی مہاجرین و انصار وغیرہ اور منافق انہیں احمق اس لیے کہتے تھے کہ یہ سچے مومن تھے۔ منافقوں کی طرح مفاد پرست نہیں تھے بلکہ دین کی خاطر کٹھن سے کٹھن حالات کا مقابلہ کرنے حتیٰ کہ جان تک دینے کو بھی تیار رہتے تھے۔ 20 یعنی وہ یہ نہیں جانتے کہ دین و ایمان اور اصولوں پر وقتی اور دنیوی مفادات کو ترجیح دینا ہی سب سے بڑی حماقت ہے اور یہ وقتی مفادات کیا تھے ؟ وہ مسلمانوں کی طرف سے ان کے جان و مال کی حفاظت، مسلمانوں سے رشتے ناطے کرنا اور اگر جنگ میں شامل ہوں۔ خواہ ان کے دلی ارادے کیسے ہی ناپاک ہوں۔ فتح کی صورت میں انہیں اموال غنیمت سے حصہ مل جاتا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

33 ۔ (اسلام اور رسول اللہ ﷺ پر صدق واخلاص کے ساتھ) دعوی ایمان کا تو اب بھی ان لوگوں کو تھا۔ سمجھانے والوں کا مطلب یہ تھا کہ ایمان دل سے لاؤ۔ دیانت اور راستی کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کو تسلیم کرو۔ اے ایمانا مقرونا بالاخلاص بعیدا عن النفاق (کبیر) اخلصوا فی ایمانکم (خازن) (آیت) ” الناس “ ناس، ال کے داخلہ کے بعد معرفہ ہوگیا۔ اب مراد ساری نوع انسان نہ رہی، بلکہ وہ متعین ومخصوص افراد رہ گئے جو مخاطبین کے لیے معلوم ومعروف تھے۔ روایتوں میں عبداللہ بن سلام وغیرہ حق شناس یہود کے نام آئے ہیں۔ ، جنہوں نے اسلام کی صداقت کو قبول کرلیا تھا۔ ھم بعض الناس لاجمیعھم (ابن جریر) کما صدق المھاجرون والمحققون من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ : جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام پر صدق و اخلاص کے ساتھ ایمان لے آؤ، جیسا کہ اصحاب رسول ایمان لائے، بعض روایتوں میں، الناس سے مراد عبداللہ بن سلام وغیرہ حق شناس یہود کے نام آئے ہیں۔ جنہوں نے اسلام کی صداقت کو قبول کرلیا تھا، اس کے جواب میں منافقین نے صحابہ ؓ کو بیوقوف کہا، گویا کہ یہ طنز ہے، اس وقت کے پکے اور سچے مسلمانوں یعنی صحابہ ؓ پر جنہوں نے اللہ کی راہ میں جان و مال کی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا، منافق اپنے نزدیک ان صحابہ ؓ کو بیوقوف سمجھتے تھے، ان کی رائے میں یہ سراسر احمقانہ فعل تھا کہ محض حق و راستی کی خاطر تمام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النّاسُ ( اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لائے ہیں تم بھی ایمان لے آؤ) یعنی جس طرح مہاجرین و انصار اسلام میں سچے دل سے داخل ہوگئے ہیں تم بھی ویسے ہی صاف دل سے داخل ہوجاؤ یا یہ معنی کہ جس طرح یہودیوں میں سے عبد اللہ بن سلام وغیرہ ایمان لے آئے ہیں تم بھی اسی طرح ایمان لے آؤ۔ یہ جملہ ان ہی ناصحین کا مقولہ ہے جو منافقوں کو ملک خدا میں فساد پھیلانے سے منع کرتے تھے اور تکمیل نصیحت کے لیے لایا گیا ہے کیونکہ فساد سے اعراض کرنا اور تقاضائے ایمان کو بجا لانا یہی کمال انسان ہے کَمَا اٰمَنَ النَّاس نصب کے محل میں ہے کیونکہ اٰمَنُوْا کا مفعول…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(13) اور جب یہود سے کہا جاتا ہے کہ محمد ﷺ اور قرآن پاک پر ایمان لاؤ جیسا حضرت عبد اللہ ؓ بن سلام اور ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں، تو کہتے ہیں کہ ہم محمد ﷺ اور قرآن پاک پر اس طرح ایمان لائیں جیسا کہ بیوقوف اور ذلیل لوگ ایمان لائے ہیں، آگاہ رہو بالیقین یہی لوگ بیوقوف اور ذلیل ہیں لیکن اس بات کو سمجھتے نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

النَّاسُ“ سے مراد صحابہ کرام ؓ ہیں جو خلوص دل سے ایمان لائے اور ایک ہی طرف کے ہوگئے اور اپنے کسی دنیوی نقصان کی پروا نہ کی، منافقین نے انھیں بیوقوف کہا اور اپنے آپ کو عقل مند، کیونکہ اپنے خیال میں انھوں نے دونوں طرف سے فائدہ اٹھایا اور اپنی دنیا کا نقصان نہ ہونے دیا۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین ہی کو بیوقوف قرار دیا، کیونکہ ان کا نہ مسلمانوں کے ہاں کچھ اعتبار رہا نہ کفار کے ہاں اور وہ چند روزہ زندگی کے فائدے کے لیے ہمیشہ کی زندگی کا نقصان کر بیٹھے۔ فرمایا یہ ایسے بیوقوف ہیں جنھیں اپنی بےوقوفی کا بھی علم نہیں۔ اس آیت سے صحابہ کرام ؓ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ منافقین کو ان کے ایمان جیسا ایمان لانے کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 13 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا قیل لھم، ھم ضمیر سے مراد منافقین ہیں۔ یہ مقاتل وغیرہ کا قول ہے امنوا کما امن الناس یعنی تم بھی محمد ﷺ اور آپ کی شریعت کی تصدیق کرو جیسا کہ مہاجرین نے تصدیق کی اور اہل یثرب میں سے مختلف لوگوں نے تصدیق کی۔ امنوا میں الف قطعی ہے۔ تو کہتا ہے یؤ من، کاف نصب کے مقام پر ہے کیونکہ یہ مصدر محذوف کی صفت ہے یعنی ایمانا کا یمان الناس۔ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے : قالوا انؤمن کما امن السفھاء یعنی اصحاب محمد ﷺ ۔ یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ منافقین نے السفھاء سے اہل کتاب کے مؤمنین مراد لئے۔ یہ منافقین کا قول ہے۔ وہ پوشیدہ اور استہزاء…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن جرید اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واذا قیل لہم امنوا کما امن الناس “ سے مراد ہے یعنی اے منافقوں تم بھی ایسی ہی تصدیق کرو جیسی اصحاب محمد ﷺ نے کی کہ وہ نبی ہیں اور رسول ہیں۔ اور جو ان پر اتارا گیا وہ حق ہے لفظ آیت ” قالوا انؤمن کما امن السفھاء “ (یعنی کہنے لگے کیا ہم ایمان لائیں جیسے یہ بیوقوف ایمان لائیں ہیں۔ لفظ آیت ” کما امن السفھاء “ السفھاء سے اصحاب محمد مراد لیتے ہیں ” الا انھم ہم السفھاء “ یہاں ” السفھاء “ سے جہال مراد ہیں ” ولکن لا یعلمون “ یعنی وہ نہیں جانتے۔ (2) امام ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں ایک کمزور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ : اور جب بھی کہا جاتا ہے ان لوگوں سے ] [ اٰمِنُوْا : تم لوگ ایمان لاؤ ] [ كَمَآ : جیسا کہ ] [ اٰمَنَ النَّاسُ : ایمان لائے یہ لوگ ] [ قَالُوْٓا : وہ لوگ کہتے ہیں ] [ اَنُؤْمِنُ : کیا ہم ایمان لائیں ] [ كَمَآ : جیسا کہ ] [ اٰمَنَ السُّفَهَاۗءُ ۭ: ایمان لائے یہ بیوقوف لوگ ] [ اَلَآ : خبردار رہو ] [ اِنَّھُمْ ھُمُ السُّفَهَاۗءُ : یقینا یہ لوگ ہی بیوقوف ہیں ] [ وَلٰكِنْ لَّا يَعْلَمُوْنَ : اور لیکن وہ جانتے نہیں ہیں ] سھ [ سفھا : جسم کا ہلکا ہونا۔ بیوقوف ہونا۔ [ وَمَنْ يَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰھٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ ۭ: اور کون منہ پھیرتا ہے ابراہیم کے دین…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–15

منافقوں کے دعوے اور ان کا طریق کار ان آیات میں منافقین کے بعض دعوے نفل فرمائے ہیں۔ اور ان کا طریقہء کار ذکر فرمایا ہے اور وہ یہ کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے تھے کہ اجی ہم کہاں فساد کہاں ؟ ہمارا کام تو اصلاح کرنا ہی ہے۔ ان کی تردید میں فرمایا کہ خبر دار بلاشبہ یہ لوگ فسادی ہی ہیں لیکن اس کا شعور نہیں رکھتے، جس فساد میں یہ لوگ مبتلا تھے اس میں کئی طرح سے حصہ لیتے تھے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فتنے کھڑے کرتے تھے۔ اور دشمنان اسلام کو لڑائیوں پر آمادہ کرتے تھے اور مسلمانوں کے بھید دشمنوں تک پہنچاتے تھے۔ اور جو لوگ مسلمان ہونے کا ارادہ کرتے ان کو اسلام سے روکنے کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

منافقین کی تیسری قباحت قال تعالیٰ واذا قیل لھم امنوا کما امن الناس۔۔ الی۔۔۔ الا انھم ھم السفہاء و لکن لا یعلمون اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم ایمان لاؤ جیسا کہ ایمان لائے وہ لوگ جو حقیقۃً انسان اور آدمی ہیں۔ انسان حقیقت میں وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر اخلاص کے ساتھ ایمان رکھتا ہو ورنہ وہ شخص " نہ ابن آدم بل غلاف آدمند " کا مصداق ہے۔ ناس سے اس جگہ مطلقآً صحابہ کرام مراد ہیں یا علماء بنی اسرائیل مراد ہیں جیسے عبداللہ بن سلام وغیرہ اور تاریخ ابن عساکر میں ابن عباس سے کما آمن الناس کی تفسیر اس طرح منقول ہے۔ کما آمن ابوبکر وعمر وعثمان وعلی اور ان چار کی تخصیص اس لیے فرمائی کہ ایمان وہی معتبر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 23 ۔ یہ منافقین کی دوسری خباثت ہے۔ زبان سے آمنا کہہ کر مومن ہونے کا دعویٰ تو وہ پہلے ہی کرچکے تھے۔ یہاں دوبارہ انہیں ایمان لانے کا حکم دیا جارہا ہے۔ وہ منافقانہ طور پر ایمان لائے ہوئے تھے اب انہیں مخلصانہ طور پر ایمان لانے کا حکم دیا جارہا ہے۔ ای ایمانا مقروناً بالاخلاص بعیدا عن النفاق (کبیر ص 289 ج 1) مقروناً بالاخلاص خالصا عن شوائب النفاق (روح ص 154 ج 1) اور الناس میں الف لام عہد کا ہے اور اس سے مراد مہاجرین وانصار ہیں یا وہ مومنین مراد ہیں جو اہل کتاب میں سے ایمان لا چکے تھے۔ عبداللہ بن سلام وغیرہ من مومنی اھل لکتاب وقیل کما امن المھاجرون والانصار (معالم ص 29 ج 1) انہا للعرمدای کما امن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–16

گزشتہ سے پیوستہ : ہدایت کے اعتبار سے تیسرا گروہ منافقین کا ہے۔ کل بھی ان کا ذکر ہوا تھا۔ اور آج کی آیت میں بھی منافقین کا ہی ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کی خرابیوں کو ذرا تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے پہلی آیات میں آیا تھا کہ بعض لوگ زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی نفی فرما دی ہے۔ کہ یہ لوگ مومن نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور ایمانداروں دونوں سے دغا بازی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو تو دھوکا نہیں دے سکتے اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو بھی ان کے دھوکے سے بچائے گا۔ کیونکہ ان کا دھوکا ان کی اپنی ہی جانوں پر ہے اور یہ ان باتوں کو سوچتے تک نہیں۔ ان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا كَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ كَمَآ اٰمَنَ السُّفَہَاۗءُ۝ 0 ۭ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ السُّفَہَاۗءُ وَلٰكِنْ لَّا يَعْلَمُوْنَ۝ 13 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : اذا حرف شرط قیل فعل مجہول قول اس کا مفعول مالم یسم فاعلہ محذوف اور لہم متعلق ہے قیل کے اور آمنوا فعل بافاعل اس کی تفسیر کما امن الناس بتاویل آمنوا ایمانا مثل ایمان الناس مصدر محذوف کی صفت قالو افعل بافاعل اور انؤمن الخ جملہ اس کا مفعول جواب ہوا شرط کا۔ الا حروف تنبیہ انہم الخ اسم و خبر ان کی مل کر جملہ خبریہ مستانفہ ہوا اور ولکن حرف استدراک لایعلمون جملہ استدراکیہ۔ تفسیر : یعنی جب ناصح ان سے یہ کہتا ہے کہ ایمان حقیقی لاؤ جس سے ترک فتنہ و فساد اور نفرت دنیا اور اعراض از لذات فانیہ حاصل ہو اور وہ ایمان مردان خدا کے ایمان کے مثل ہو کہ جو نفع و نقصان دنیا کو آخرت کے مقابلہ میں کچھ بھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْ اکَمَا اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْآاَنُؤْمِنُ کَمَآ اٰمَنَ السُّفَہَآئُ ط اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ السُّفَھَآئُ وَلٰکِنْ لَّایَعْلَمُوْنَ ۔ (البقرۃ۔ 13) (اور جب ان سے کہا جاتا ہے اس طرح ایمان لائو جس طرح لوگ ایمان لائے، تو کہتے ہیں کیا ہم اس طرح ایمان لائیں جس طرح بیوقوف لوگ ایمان لائے ہیں۔ آگاہ رہو ! کہ بیوقوف یہی لوگ ہیں لیکن یہ جانتے نہیں ) اس آیت کریمہ میں مندرجہ ذیل باتیں غور کی دعوت دیتی ہیں۔ 1 اس آیت میں خطاب کن لوگوں سے ہے ؟ 2 یہاں ایمان سے کیا مراد ہے ؟ 3 الناس کون لوگ ہیں ؟ 4 السفھاء سے کون لوگ مراد ہیں ؟ 5 قرآن کریم نے جن لوگوں کو سفھاء کہا ان کے بارے میں یہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : منافق دوغلا، جھوٹا اور فسادی ہی نہیں ہوتا بلکہ اپنی منافقت کے کھوٹ کی وجہ سے مخلص مسلمانوں کو بیوقوف کہتا اور سمجھتا ہے۔ منافق ابن الوقت اور مفاد پرست ہوتا ہے۔ اسی لیے مخلص، ایثار پیشہ اور با اصول شخص کو پسند نہیں کرتا۔ صحابہ کرام ؓ ایثار کے پیکر اور قربانی کے خوگر تھے۔ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور اسلام کی سر بلندی کی خاطر ہر چیز قربان کرنے کی بےمثال اور لا زوال مثالیں قائم کیں تھیں۔ منافقین ایسے مخلص حضرات کو کس طرح پسند کرسکتے تھے ؟ ربِّ کریم نے جب منافقوں کو حکم دیا کہ تم بھی نبی ﷺ کے اصحاب کی طرح مخلصانہ ایمان اور فدا کاری کا رویہ اختیار کرو۔ منافقین نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 13–15

نحو : الا۔ یہ ہمزہ استفہام اور حرف نفی سے مرکب ہے۔ تاکہ مابعد کے ثبوت پر تنبیہ ہوجائے۔ ایک قاعدہ : استفہام جب نفی پر آجائے۔ تو ثبوت کا فائدہ دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سورة قیامہ آیت نمبر 40 میں ہے اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ (یقینا وہ قادر ہے) تحقیق کے اس مقام پر ہونے کی وجہ سے اس کے بعد آنے والا جملہ اسی انداز سے شروع ہوگا۔ جس سے قسم ملی ہو۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے مصلحین کی صف میں شامل ہونے کے دعویٰ کو بلیغ انداز سے رد کردیا۔ نمبر 1: سخت ناراضگی کے مقام پر رکھا۔ نمبر 2: جملہ مستانفہ لا کر اس میں مبالغہ کردیا۔ نمبر 3: پھر تاکید کے لیے اَلَا اور اِنّ لائے۔ نمبر 4: خبر معرفہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(13) (آیت)” واذا قیل لھم “ یعنی منافقوں کو کہا گیا ہے یا یہود کو ” امنوا کما امن الناس “ جیسے عبداللہ بن سلام وغیرہ جو اہل کتاب میں سے ایمان لائے اور گیا ہے جیسے کہ مہاجرین و انصار ایمان لائے (آیت)” قالوا انؤمن کما آمن السفھاء “ سے مراد جاہل لوگ ۔ منافقت سے متعلق سوال اور اس کا جواب : پس اگر کہا جائے کہ (آیت)” انومن کما امن السفھائ “ کا قول جہرا کہنے کے بعد ان پر نفاق کا قول کرنا صحیح ہوگا ، جوابا کہا گیا ہے کہ منافق کہ لوگ یہ بات آپس میں کہتے تھے ایمان والوں کے سامنے نہیں کہتے تھے ، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور ایمان والوں کو ان کے اس قول کی خبردی ، پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا رد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–20

(8 ۔ 20): 8۔ 20۔ شروع سورة سے یہاں تک چار آیتوں میں خالص مومنوں کا ذکر تھا۔ اور پھر دو آیتوں میں کافروں کا اب ان تیرہ آیتوں میں منافقوں کا ذکر ہے۔ منافق وہ ہے جو زبان سے اچھی بات کہے اور دل میں اس کے بدی ہو۔ منافقوں کا ذکر قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ میں آنے کے بعد شروع ہوا ہے۔ ہجرت سے پہلے جس قدر حصہ قرآن شریف کا مکہ میں اترا ہے اس میں منافقوں کا ذکر اس واسطے نہیں ہے کہ مکہ میں یا کھلم کھلا مسلمان تھے یا کافر۔ منافق لوگ وہاں نہیں تھے کیونکہ مکہ میں کفار کا غلبہ تھا جس کے سبب سے آنحضرت ﷺ کو مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا۔ اس اپنے غلبہ کے سبب سے وہاں کے کافر اپنی اصلی حالت پر تھے۔ جب آنحضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 13 یعنی جب منافقین سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جیسے لوگ ایمان لائے ہیں۔ یعنی جیسے صحابہ کرام ؓ ایمان لائے ہیں جو کہ قلب و زبان کا ایمان ہے تو یہ اپنے زعم باطل میں جواب دیتے ہیں ” کیا ہم ویسا ایمان لائیں جیسا بیوقوف لوگ ایمان لائے ہیں ؟ “ ان کا برا ہو۔ بیوقوف لوگوں سے ان کی مراد صحابہ کرام ؓ ہیں، کیونکہ ان کے زعم باطل کے مطابق صحابہ کرام ؓ کی بیوقوفی اور حماقت ہی ان کے ایمان، ترک وطن اور کفار سے دشمنی مول لینے کی موجب ہے۔ ان کے نزدیک عقل اس کے متضاد اور برعکس رویئے کا تقاضا کرتی ہے۔ بنابریں انہوں نے صحابہ کرام ؓ کو سفاہت و حماقت سے منسوب کیا۔ ضمنی طور پر اس سے سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 11–22

قول باری ہے : الذی جعل لکم الارض فراشاً (وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا) یعنی تمہارے لئے قرار اور ٹھکانا بنایا اور صرف فراش کا لفظ علی الاطلاق ذکر کیا جائے تو یہ زمین کو شامل نہیں ہوگا، بلکہ زمین کو فرش کا نام اسی لفظ کے ساتھ مقید کر کے دیا جاتا ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : والجبال اوتاداً (اور پہاڑوں کو میخیں ) اوتاد یعنی میخوں کے اسم کا اطلاق پہاڑوں کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ اسی طرح قول باری ہے : والشمس سراجاً اور سورج کو چراغ ) اسی بنا پر فقہاء نے کہا ہے کہ جو شخص فرش اور بچھونے پر نہ سونے کی قسم کھالے اور پھر زمین پر سو جائے تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص چراغ تلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

30 حضرات صحابہ کرام کا ایمان معیار و مدار کی حیثیت رکھتا ہے : یعنی ویسا ایمان لاؤ جیسا کہ حضرات صحابہ کرام، ؓ اور دوسرے تمام سچے مومن لائے ہیں، ( ابن کثیر، محاسن التاویل، اور صفوۃ التفاسیر، وغیرہ) تاکہ تم لوگ بھی ان ہی کی طرح سچے ایمان کی بدولت اس کے پاکیزہ فوائد وثمرات سے بہرہ ور ہوسکو۔ یہاں سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایمان و عمل معیار و مدار کی حیثیت رکھتا ہے۔ پس جو کوئی ان قدسی صفت حضرات سے بغض وعناد رکھے گا وہ مومن نہیں قرار پاسکتا، جیسا کہ روافض وغیرہ خَذَلَہُمُ اللَّہُ وَقَاتَلَہُمْ اور ان کے اذناب و اَتباع کا حال ہے والْعِیَاذ باللَّہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

منافقوں کی بےعقلی تشریح : اس آیت مبارکہ میں کفار کی ہٹ دھرمی اور ناعاقبت اندیشی کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اسلام قبول کرکے اپنے آپ کو تکلیفوں اور مشقتوں میں مبتلا کرنا سراسر بےوقوفی ہے، محض ایمان کی خاطر اتنی بڑی طاقت یعنی کفار کی دشمنی مول لینا عقلمندی نہیں ان کا خیال تھا کہ حق و باطل کے چکر میں پڑ کر اپنے ذاتی مفادات کو نقصان پہنچانا ہوش مندی نہیں، وہ جانتے تھے کہ مدینہ کے منافق طاقتور ہیں۔ ان کے مقابلہ میں اجنبی اور غریب الوطن مسلمان زیادہ دیر ٹھہر نہ سکیں گے اور اسلام چند دنوں میں خود بخود ختم ہوجائے گا تو جو لوگ اس میں شامل ہو رہے ہیں وہ اپنے مفاد اور برے انجام سے بالکل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 8–20

آیات 8- 20 اسرارو معارف یہاں کفر کی دوسری قسم بیان ہوتی ہے جسے نفاق کہتے ہیں اور یہ اپنے ضرر کے اعتبار سے شدید تر ہے پہلی پانچ آیات میں مومنین کی تعریف ، پھر دو آیات میں کفر کی وضاحت کے بعد تیرہ آیات میں نفاق اور منافق کے حالات ارشاد ہوئے ہیں تاکہ اس کی خوب وضاحت ہوجائے جس طرح منافق ضرر میں بڑھا ہوا ہے اسی طرح نفاق کا عذاب بھی دوسری قسم کے کفر سے زیادہ ہوگا۔ ان المنافقین فی الدرک الاسغل من النار ، یعنی کفار سے نیچے کے دجے میں ان کو رکھا جائے گا کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں مگر وہ مومن نہیں ہیں اور مومن نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں بھئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 12–13

ف 8 منافقین کا ایک شیوہ وہ یہ بھی تھا کہ جو لوگ صدق دل سے اسلام قبول کر کے اپنے آپ کو تکا لیف اور خطرات میں مبتلا کر رہے تھے ان کو بیوقوف سمجھتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:9) امنوا۔ فعل امر، جمع مذکر حاضر، ایمان۔ (افعال) مصدر تم ایمان لاؤ۔ کما مرکب ہے ک اور ما سے ک حرف تشبیہ ہے۔ ما مصدر یہ ہے، ای امنوا ایمانا مثل ایمان الناس۔ السفھائ۔ السفیہ کی جمع۔ بےوقوف، کم عقل، بےسمجھ، احمق، السفیہ کے اصل معنی جسمانی ہلکاپن کے ہیں۔ عرب بولتے ہیں سفھت الریح الشیئ۔ اس چیز کو ہوا لے اڑی۔ پھر بسبب خفیف ہونے عقل کے اس کا اطلاق بےوقوفی اور حماقت پر ہونے لگا۔ سفیہ بروزن فعیل ۔ اسم فاعل ہے بمعنی بےوقوف۔ الناس : (1) ال جنس کے لئے ہے جس سے مراد مرد کامل ہے کیونکہ جنس بول کر فرد کامل مراد لیا جاتا ہے۔ جیسے کہ ہم بولتے ہیں ” فلاں انسا ہے “ یعنی کامل انسان ہے اس تقدیر پر الناس سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–16

لغات القرآن آیت نمبر 8 تا 16 (الناس): لو گ ، انسان، آدمی۔ (یقول): وہ کہتا ہے ، اردو میں اس کا ترجمہ ” امنا “ کی وجہ سے اس طرح کیا جائے گا، ” وہ کہتے ہیں۔ ” (امنا): ہم ایمان لے آئے۔ (یوم آخر): آخری دن، قیامت کا دن۔ (یخدعون): اور یخدعون کے الفاظ ” خدع “ سے بنے ہیں دھوکہ دینا، دل میں بری بات چھپا کر بظاہر اچھا بننے کی کوشش کرنا تا کہ دوسرے اس سے دھوکہ کھا جائیں۔ (انفس): نفس کی جمع ہے۔ جان، ذات شخصیت۔ (ما یشعرون): وہ شعور نہیں رکھتے، انہیں سمجھ نہیں ہے، بیخبر ہیں، اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنی حماقت میں مبتلا ہیں مگر ان کو اس کا احساس اور خبر نہیں ہے۔ (مرض): بیماری ، بیماری ایک تو وہ ہوتی ہے جو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–18

شان نزول : جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں ہجرت کرکے تشیف لائے اور اہل اسلام کی جماعت کی قوت بڑھی تو اہل مدینہ میں سے جن کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے اسلام لکھا تھا وہ تو خالص مسلمان ہوگئے۔ لیکن ایک جماعت اہل مدینہ کی ان یہود سے میل جول رکھتی تھی، جو مدینہ کے گرد و نواح میں رہتے تھے۔ ان یہود کے بہکانے سے اہل مدینہ کے کچھ لوگ مسلمانوں کی قوت اور شوکت کو دیکھ کر جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنا جان و مال بچانے کے لیے مسلمانوں کے روبرو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے۔ اور جب اپنے ساتھیوں سے ملتے تو کہتے : ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو دل لگی کے طور پر اپنا اوپری اسلام ظاہر کردیتے ہیں۔ لوگوں کی دغا بازی ظاہر کرنے کو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–13

[9] یہ انسانوں کی تیسری قسم ہے یعنی منافقین جو باطن میں کافر تھے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ یہاں بیماری سے مراد منافقت کی بیماری ہے۔ ان کے نفاق سے نقصان کسی اور کا نہیں ان ہی کا ہے، یعنی دنیا میں رسوائی اور فضیحت اور آخرت میں عذاب۔ اللہ کے اس بیماری میں اضافہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ منافق کو اللہ فوراً سزا نہیں دیتا بلکہ اسے ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے اور منافق اور زیادہ منافق بنتا چلا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–13

(ف 2) ایمان وکفر میں ہمیشہ دانائی وسفاہت کی حدود الگ الگ رہی ہیں ، ایمان کی دعوت عقل وبصیرت کی دعوت ہے اور کفر وضلالت کی طرف بلانا درحقیقت بےعلمی وجہالت پر آمادہ کرنا ہے کفر والے ہمیشہ اس غلط فہمی میں رہے کہ ایمان قبول کرنا گھاٹے اور خسارے کو خواہ مخواہ مول لینا ہے ، قرآن حکیم کا ارشاد ہے ۔ (آیت) ” الا انھم ھم السفھآء “۔ درحقیقت وہ خود بیوقوف ہیں نفع و نقصان کو صرف مادیات تک محدود سمجھتے ہیں ، نگاہوں میں بلندی نہیں ہے ‘ ورنہ دین ودنیا کی نعمتوں کا حصول کسی طرح بھی خسارہ نہیں ۔ اور مذہب تو کہتے ہیں اس نظام عمل کو جس کو مان کر فلاح دارین حاصل ہوجائے ، حل لغات : السفھآء ۔ جمع سفیہ ، کم عقل ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 13–15

ف 1۔ اور جب ان منافقوں سے کہا جاتا ہے کہ تم اس طرح ایمان لائو جس طرح دوسرے مخلص اور کامل انسان ایمان لائے ہیں تو یہ جواب دیتے ہیں کیا ہم بھی اس طرح ایمان لائیں جس طرح یہ کم عقل اور بیوقوف ایمان لائے ہیں آگاہ رہو کہ یہ منافق خود ہی بیوقوف ہیں مگر یہ اپنی بیوقوفی سے واقف نہیں ہیں اور یہ منافق جب مسلمانوں سے ملاقات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان دار ہیں اور جب خلوت و تنہائی میں اپنے سرداروں کے پاس جمع ہوتے ہیں تو ان کو اپنی معیت کا یقین دلاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں مسلمانوں سے تو ہم صرف ہنسی اور مذاق کیا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان منافقوں کو ان کے مذاق کی سزا دے رہا ہے اور ان کو ان کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–15

ف 5۔ مرج ہیں ان کی بداعتقادی وحسد اور ہر وقت کا اندیشہ وخلجان سب کچھ آگیا چونکہ اسلام کو روزانہ رونق ہوجاتی تھی اس یے ان کے دلوں میں ساتھ ساتھ یہ امراض ترقی پاتے جاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

صرف دعویٰ اسلام ، اسلام نہیں : 26: ظاہر ہے کہ ایمان کا دعویٰ تو وہ پہلے ہی رکھتے ہیں جب انہوں نے یہ کہا ہے کہ : ” نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ 1ۘ“ ہم گواہی دیتے ہیں آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اب اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ کہنے والوں کا مطلب یہ تھا کہ سچے دل سے ایمان لائو ، دیانت اور راستی کے ساتھ رسول کی رسالت کو تسلیم کرو۔ صرف کاغذی مسلمان نہ بنو کہ کاغذات میں تمہارا مذہب اسلام لکھ دیا گیا یا تم نے لکھوا لیا تو تم مسلمان ہوگئے۔ منافقین انسانیت سے عاری ہوتے ہیں : 27: كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ ” جیسا کہ دوسرے لوگ ایمان لائے “ جن لوگوں سے خطاب ہے یعنی منافقین وہ ان اہل ایمان کو جانتے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

This verse also places before the hypocrites a criterion of true faith (Iman ایمان) آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ :"Believe as people have believed". According to the consensus of commentators, the Arabic word Na-s النَّاسُ : (people) in this verse refers to the blessed Companions of the Holy Prophet ﷺ because it is just these 'people' who had embraced the Faith and had accepted the Holy Qur'an as the word of Allah while it was being revealed. So, the verse indicates that the only kind of Iman ایمان (faith) acceptable to Allah is the one which should be similar to that of the blessed…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

13. They are being asked to become Muslims in the same manner as others of their community became Muslims 14. They think that those people who sincerely embraced Islam and thereby exposed themselves to all kinds of trials and persecutions, and confronted risks and dangers, were merely fools. To them it seems sheer folly to invite the hostility of the entire land merely for the sake of Truth and righteousness. In their view, wisdom consists not in bothering oneself with the distinction between truth and falsehood, but in remaining concerned only with one's own interests.

Read the full tafseer →