Explained with ayahs 14–15
فریب زدہ لوگ
مطلب یہ ہے کہ یہ بدباطن مسلمانوں کے پاس آ کر اپنی ایمان دوستی اور خیر خواہی ظاہر کر کے انہیں دھوکے میں ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ مال و جان کا بچاؤ بھی ہوجائے، بھلائی اور غنیمت کے مال میں حصہ بھی قائم ہوجائے۔ اور جب اپنے ہم مشربوں میں ہوتے ہیں تو ان ہی کی سی کہنے لگتے ہیں۔ خلوا کے معنی یہاں ہیں انصرفوا اذھبوا خلصوا اور مضوا یعنی لوٹتے ہیں اور پہنچتے ہیں اور تنہائی میں ہوتے ہیں۔ اور جاتے ہیں پس خلوا جو کہ الیٰ کے ساتھ متعدی ہے اس کے معنی لوٹ جانے کے ہیں۔ فعل مضمر اور ملفوظ دونوں پر یہ دلالت کرتا ہے۔ بعض کہتے ہیں الیٰ معنی میں مع کے مترادف ہے مگر اول ہی ٹھیک ہے، ابن جریر کے کلام کا خلاصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
سورة الْبَقَرَة 15
شیطان عربی زبان میں سرکش، متمرّد اور شوریدہ سر کو کہتے ہیں۔ انسان اور جِنّ دونوں کے لیے یہ لفظ مستعمل ہوتا ہے۔ اگرچہ قرآن میں یہ لفظ زیادہ تر شیاطین جِنّ کے لیے آیا ہے، لیکن بعض مقامات پر شیطان صفت انسانوں کے لیے بھی یہ استعمال کیا گیا ہے اور سیاق وسباق سے بآسانی معلوم ہوجا تا ہے کہ کہاں شیطان سے انسان مراد ہیں اور کہاں جِنّ۔ اس مقام پر شیاطین کا لفظ ان بڑے بڑے سرداروں کے لیے استعمال ہوا ہے، جو اس وقت اسلام کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔
Read the full tafseer →ساتویں آیت میں منافقین کے نفاق اور دو رخی پالیسی کا اس طرح ذکر کیا گیا ہے کہ یہ لوگ جب مسلمانوں سے ملتے تو کہتے تھے کہ ہم مومن مسلمان ہوگئے اور جب اپنی قوم کے کافر لوگوں سے ملتے جو کہتے تھے کہ ہم تو تمہارے ہی ساتھ ہیں اور تمہاری قوم کے فرد ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ تو محض تمسخر و استہزاء کے لئے یعنی ان کو بیوقوف بنانے کے لئے ملتے ہیں
(2) ایمان و کفر کی حقیقت
آیات مذکورہ میں غور کرنے سے ایمان واسلام کی پوری حقیقت واضح ہوجاتی ہے اور اس کے بالمقابل کفر کی بھی کیونکہ ان آیات میں منافقین کی طرف سے ایمان کا دعوٰی اٰمَنَّابِاللہ میں اور قرآن کریم کی طرف سے ان کے اس دعوے کا غلط ہونا وَمَا ھُمْ بِمُؤ…
Read the full tafseer →وَاِذَا خَلَوْا اِلٰى شَيَاطِينِهِمْ: خلوا کے بعد اِلٰی کا صلہ تقاضا کرتا ہے کہ یہاں کوئی فعل ایسا محذوف مانا جائے جو اس صلہ سے مناسبت رکھنے والا ہو۔ ہم نے ترجمہ میں اس کا لحاظ رکھنے کی کوشش کی ہے۔
شیطان کا لفظ شاط یشیط سے فعلان کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اس کے معنی جلد باز، تندخو، مشتعل مزاج اور شریر و سرکش کے آتے ہیں۔ ان خصوصیات کے حامل جنوں میں سے بھی ہوتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی۔ یہاں یہ لفظ یہود کے ان لیڈروں کے لئے استعمال ہوا ہے، جو فساد فی الارض کے اس سارے کھیل کی رہنمائی کر رہے تھے۔
Read the full tafseer →1 شیٰطین سے مراد سرداران قریش و یہود ہیں۔ جن کی ایماء پر وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے تھے یا منافقین کے اپنے سردار۔
Read the full tafseer →13”اپنے شیطانوں“ سے مراد وہ سردار ہیں جو ان منافقین کی سازشوں میں ان کے سربراہ اور رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔
Read the full tafseer →سوال یہ ہے کہ کوئی بیوقوف کبھی یہ سمجھا ہے کہ وہ بیوقوف ہے ، یا کوئی گمراہ کبھی یہ شعور رکھتا ہے کہ وہ جادہ مستقیم سے ہٹ چکا ہے ۔ اس کے اب منافقین کی آخری صفت کو بیان کیا جاتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ صرف جھوٹ ، فریب کاری ، تحقیر مسلمین اور ادعاء وتعلی ہی میں مبتلا نہیں بلکہ ان مذموم صفات کے ساتھ وہ پست ہمت ، لئیم ، سازشی اور مکار بھی ہیں ۔ ان کی حالت یہ ہے کہ وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ ” جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان…
Read the full tafseer →2 شیاطین (یعنی شریر لوگ) مراد ان سے یا تو وہ کفار ہیں جو اپنے کفر کو سب پر ظاہر کرتے تھے یا وہ منافقین مراد ہیں جو ان میں رئیس سمجھے جاتے تھے۔
3 یعنی کفر و اعتقاد دین کے معاملہ میں ہم بالکل تمہارے ساتھ ہیں تم سے کسی حالت میں جدا نہیں ہوسکتے۔
4 یعنی ظاہری موافقت جو ہم مسلمانوں سے کرتے ہیں اس سے یہ نہ سمجھنا کہ ہم واقعہ میں انکے موافق ہیں۔ ہم تو ان سے تمسخر کرتے ہیں اور ان کی بیوقوفی سب پر ظاہر کرتے ہیں کہ باوجودیکہ ہمارے افعال ہمارے اقوال کے مخالف ہیں مگر وہ اپنی بیوقوفی سے صرف ہماری زبانی باتوں پر ہم کو مسلمان سمجھ کر ہمارے مال اور اولاد پر ہاتھ نہیں ڈالتے اور مال غنیمت میں ہم کو شریک کرلیتے…
Read the full tafseer →آیت 14 وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْآ اٰمَنَّا ج
عام یہودی بھی کہتے تھے کہ ہم بھی تو آخر اللہ کو اور آخرت کو مانتے ہیں ‘ جبکہ منافق تو رسول ﷺ ‘ کو بھی مانتے تھے۔
وَاِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِھِمْ لا یہاں ”شیاطین“ سے مرادیہود کے علماء بھی ہوسکتے ہیں اور منافقین کے سردار بھی۔ عبداللہ بن ابی منافقین مدینہ کا سردار تھا۔ اگر وہ کبھی انہیں ملامت کرتا کہ معلوم ہوتا ہے تم تو بالکل پوری طرح سے مسلمانوں میں شامل ہی ہوگئے ہو ‘ تمہیں کیا ہوگیا ہے تم محمد ﷺ کی ہر بات مان رہے ہو ‘ تو اب انہیں اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لیے کہنا پڑتا تھا کہ نہیں نہیں ‘ ہم تو مسلمانوں کو بیوقوف بنا رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
19 اس آیت میں الناس سے مراد سچے مومن ہیں، یعنی مہاجرین و انصار وغیرہ اور منافق انہیں احمق اس لیے کہتے تھے کہ یہ سچے مومن تھے۔ منافقوں کی طرح مفاد پرست نہیں تھے بلکہ دین کی خاطر کٹھن سے کٹھن حالات کا مقابلہ کرنے حتیٰ کہ جان تک دینے کو بھی تیار رہتے تھے۔
20 یعنی وہ یہ نہیں جانتے کہ دین و ایمان اور اصولوں پر وقتی اور دنیوی مفادات کو ترجیح دینا ہی سب سے بڑی حماقت ہے اور یہ وقتی مفادات کیا تھے ؟ وہ مسلمانوں کی طرف سے ان کے جان و مال کی حفاظت، مسلمانوں سے رشتے ناطے کرنا اور اگر جنگ میں شامل ہوں۔ خواہ ان کے دلی ارادے کیسے ہی ناپاک ہوں۔ فتح کی صورت میں انہیں اموال غنیمت سے حصہ مل جاتا تھا۔
Read the full tafseer →37 ( اور صاحب وجاہت وصاحب اثر بھی ہیں) اے ابابکر و اصحابہ (ابن عباس ؓ ۔
38 ۔ (اور آپ ہی جیسے مسلمان ہیں) امنا کا یمانکم (معالم) یہ بات یہ لوگ ذی اثر مسلمانوں کی رضا جوئی اور خوشنودی کے لیے کہتے۔ غرورا منہم للمومنین ومصانعۃ وتقیۃ (ابن کثیر) منافقین کی ایک ذہنیت یہ بھی تھی کہ غریب عوام مسلمانوں کے مقابلہ میں تو اکڑتے رہتے۔ لیکن مسلمانوں میں جو صاحب اثر واقتدار ہوتے ان کے آگے خود جھک جاتے اور ان سے بہ تملق پیش آتے۔
39 ۔ یعنی اپنے شریر رفیقوں یا سرداروں کے پاس۔ (آیت) ” شیطینھم۔ شیطان کا لفظ عربی میں بڑا وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ ہر سرکش اور ہر بھڑکانے والے کو شیطان کہتے ہیں۔ انسان، جنات، حیوانات سب پر…
Read the full tafseer →وَاِذَا خَلَوْا اِلیٰ شَیٰطِیْنِھِمْ (الآیۃ) شیطان کا مادہ، شَطْنٌ ہے، معنی ہیں حق اور خیر سے بعید ہونا، شیطان عربی زبان میں پڑا مفہوم رکھتا ہے ہر سرکش اور بھڑکانے والے کو شیطان کہتے ہیں انسان جنات حتی کہ حیوانات پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، کو اسم وصفی کے طور پر ابلیس کے ساتھ خاص ہے : ” کُلُّ عَاتٍ متمرّدٍ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنسِ وَالدَّوَابِّ شَیْطَانٌ“۔ (مجاز)
حدیث شریف میں شیطان اور وسیع مفہوم میں آیا ہے چناچہ تنہا سفر کرنے والے کو شیطان کہا گیا ہے، یہاں شیطان سے مراد رؤساء یہود و مشرکین و منافقین ہیں، جن کے ایماء پر وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔
اِنَّمَا نَحْنُ…
Read the full tafseer →وَ اِذَا لَقُوْا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْا اٰمَنَّا ( اور جب مؤمنین سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو ایمان لا چکے ہیں) یعنی ہم بھی تمہاری طرح ایمان لے آئے ہیں یہ آیت منافقین کے معاملہ کا بیان ہے کہ جس کو وہ کفار اور مؤمنین سے کیا کرتے تھے اور جس آیت سے اصل قصہ منافقین کا شروع کیا گیا ہے ( یعنی وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ ) وہ آیت ان کے نفاق کی تمہید کے لیے بیان کی گئی ہے۔ (مضمون مکرر نہیں ہے جیسا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے)
وَ اِذَا خَلَوْا ( اور جب تنہائی میں) لفظ خَلَوْا آیا تو خلوت بفلان الیہ سے مشتق ہے اور یہ اس وقت بولتے ہیں جبکہ ایک آدمی دوسرے آدمی کے ساتھ تنہا اور اکیلا ہو یا یہ کہ…
Read the full tafseer →(14) منافقین جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور دوسرے صحابہ کرام ؓ سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی صدق دل سے اسی طرح ایمان لائے ہیں جس طرح کہ تم لوگ ایمان لائے ہو اور تم لوگوں نے تصدیق کی ہے اور جب اپنے بڑوں اور سرداروں کے پاس جاتے ہیں اور وہ پانچ آدمی ہیں، مدینہ منورہ میں کعب بن اشرف، بنی اسلم میں ابوبردہ اسلمی، ابن السوداشام میں، جہینہ میں عبدالدار اور بنی عامر میں عوف بن عامر تو ان سے آکر کہتے ہیں کہ اصل میں ہم تم لوگوں کے ہی دین پر ہیں ہم تو کلمہ لا الہ الا اللہ۔ زبان سے کہہ کر (معاذ اللہ) رسول اللہ ﷺ اور آپ کی جماعت سے ٹھٹھہ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →شیاطین سے مراد کفر کے سردار ہیں، خواہ مشرکین و یہود سے ہوں یا خود ان منافقین سے۔ شیطان ہر سرکش اور فسادی شخص کو کہتے ہیں، شیاطین جنوں اور انسانوں دونوں سے ہوتے ہیں، فرمایا : (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا) [ الأنعام : 112 ] ”اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں کے شیطانوں کو دشمن بنادیا، ان کا بعض بعض کی طرف ملمع کی ہوئی بات دھوکا دینے کے لیے دل میں ڈالتا رہتا ہے۔“ لفظ شیطان شَطَنَ سے مشتق ہے جس کے معنی بعد کے ہیں، یعنی وہ جو ہر خیر سے دور ہو۔
وَاِذَا لَقُوا الَّذِيْنَ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 14
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا یہ آیت منافقین کے ذکر میں نازل ہوئی۔ اصل میں لقوا، لقیوا تھا۔ ضمہ کو قاف کی طرف نقل کیا گیا اور یاء کو التقاء ساکنین کی وجہ سے حذف کیا گیا۔ محمد بن سمیقع یمانی نے لا قوا الذین آمنوا پڑھا ہے۔ اصل میں لا قیوا تھا۔ یاء کا ما قبل فتحہ تھا۔ اس لئے وہ الف سے بدل گئی پھر دو ساکن لام اور واؤ جمع ہوئے تو الف التقائے ساکنین کی وجہ سے حذف ہوگیا پھر واؤ کو ضمہ کے ساتھ حرکت دی گئی۔
اگر یہ کہا جائے کہ لاقوا میں واؤ کو کیوں ضمہ دیا گیا اور لقوا میں حذف کیوں کیا گیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ لقوا میں جو واؤ ہے اس سے پہلے ضمہ تھا۔ اگر واؤ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(1) امام الواحدی اور ثعلبی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ اس طرح سے کہ یہ لوگ ایک دن باہر نکلے تو رسول اللہ ﷺ سے اصحاب کی ایک جماعت سے ان کی ملاقات ہوگئی تو عبد اللہ بن ابی کہنے لگا دیکھو ان بیوقوفوں کو تم سے کس طرح دور کرتا ہوں۔ پھر جب یہ صحابہ کی جماعت سے ہو کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس گیا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا اسے صدیق ! مرحبا بنی تمیم کے سردار اور شیخ الاسلام اور رسول اللہ ﷺ کے غار میں دوسرے اور اپنی جان اور اپنے مال کو رسول اللہ ﷺ کے لیے خرچ کرنے والے۔ پھر عمر ؓ کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا مرحبا عدی بن کعب…
Read the full tafseer →[ وَاِذَا : اور جب کبھی ] [ لَقُوا : وہ لوگ ملتے ہیں ] [ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : ان لوگوں سے جو ایمان لائے ] [ قَالُوْٓا : تو وہ لوگ کہتے ہیں ] [ اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے ] [ ښ وَاِذَا : اور جب کبھی ] [ خَلَوْا اِلٰى: تنہائی میں ملتے ہیں ] [ شَيٰطِيْنِهِمْ ۙ: اپنے شیطانوں سے ] [ قَالُوْٓا : تو کہتے ہیں ] [ اِنَّا : بیشک ہم ] [ مَعَكُمْ ۙ: تمہارے ساتھ ہیں ] [ اِنَّمَا نَحْنُ : ہم تو بس ] [ مُسْتَهْزِءُوْنَ : مذاق کرنے والے ہیں ]
ل ق ی
[ لقاء : کسی کے سامنے آنا، ملنا۔ [ ۚوَاِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا ۑ وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ : اور جب بھی تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
منافقوں کے دعوے اور ان کا طریق کار
ان آیات میں منافقین کے بعض دعوے نفل فرمائے ہیں۔ اور ان کا طریقہء کار ذکر فرمایا ہے اور وہ یہ کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے تھے کہ اجی ہم کہاں فساد کہاں ؟ ہمارا کام تو اصلاح کرنا ہی ہے۔ ان کی تردید میں فرمایا کہ خبر دار بلاشبہ یہ لوگ فسادی ہی ہیں لیکن اس کا شعور نہیں رکھتے، جس فساد میں یہ لوگ مبتلا تھے اس میں کئی طرح سے حصہ لیتے تھے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فتنے کھڑے کرتے تھے۔ اور دشمنان اسلام کو لڑائیوں پر آمادہ کرتے تھے اور مسلمانوں کے بھید دشمنوں تک پہنچاتے تھے۔ اور جو لوگ مسلمان ہونے کا ارادہ کرتے ان کو اسلام سے روکنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
منافقوں کی چوتھی قباحت
قال تعالیٰ واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا۔۔ الی۔۔۔ وما کانوا مھتدین
اور جب وہ منافقین ملتے ہیں اہل ایمان سے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے شیاطین الانس یعنی اپنے رؤسا کے پاس تنہا ہوتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ سوائے اس کے نہیں کہ ہم تو مسلمانوں کے ساتھ تمسخر اور ہنسی کرتے ہیں تاکہ لوگوں پر مسلمانوں کی سفاہت اور بیوقوفی ظاہر ہو کہ محض زبانی اقرار سے ہم کو دعوائے ایمان میں سچا سمجھتے ہیں۔ شیاطین سے منافقین کے پیشوا اور سردار مراد ہیں جو دین الٰہی کے مقابلہ میں ہر قسم کے فتنہ اور فساد کے سرغنہ بنے ہوئے تھے۔ شیطان لغت میں سرکش اور…
Read the full tafseer →ف 27 ۔ یہ منافقوں کی تیسری خباثت ہے کہ جب وہ بااثر اور مخلص مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم خالص ایمان لا چکے ہیں آمنا سے منافقین مسلمانوں کو اس بات کا یقین دلانا چاہتے تھے کہ اب انہوں نے نفاق چھوڑ دیا ہے اور دل سے خالص ایمان قبول کرلیا ہے کیونکہ ان کا زبانی ایمان تو مسلمانوں کو پہلے بھی معلوم تھا۔ فالمراد اخلصنا بالقلب والدلیل علیہ انا الاقرار باللسان کان معلوما منھم (کبیر ص 309 ج 1) مگر یہی لفظ ان کے نفاق کی غمازی کرتا ہے کیونکہ مسلمانوں کو پہلے سے اس نفاق کا علم تھا اب اس کی تردید کیلئے اور ان کے دلوں میں اپنے اخلاص کا سکہ بٹھانے کے لئے انہیں کوئی تاکیدی جملہ استعمال کرنا چاہئے تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
گزشتہ سے پیوستہ : ہدایت کے اعتبار سے تیسرا گروہ منافقین کا ہے۔ کل بھی ان کا ذکر ہوا تھا۔ اور آج کی آیت میں بھی منافقین کا ہی ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کی خرابیوں کو ذرا تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے پہلی آیات میں آیا تھا کہ بعض لوگ زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی نفی فرما دی ہے۔ کہ یہ لوگ مومن نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور ایمانداروں دونوں سے دغا بازی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو تو دھوکا نہیں دے سکتے اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو بھی ان کے دھوکے سے بچائے گا۔ کیونکہ ان کا دھوکا ان کی اپنی ہی جانوں پر ہے اور یہ ان باتوں کو سوچتے تک نہیں۔ ان…
Read the full tafseer →وَاِذَا لَقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا 0 ۚۖ وَاِذَا خَلَوْا اِلٰى شَيٰطِيْنِہِمْ 0 ۙ قَالُوْٓا اِنَّا مَعَكُمْ 0 ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَہْزِءُوْنَ 14
( لقی) تلقی
السّماحة منه والنّدى خلقاویقال : لَقِيتُه بکذا : إذا استقبلته به، قال تعالی: وَيُلَقَّوْنَ فِيها تَحِيَّةً وَسَلاماً [ الفرقان/ 75] ، وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُوراً [ الإنسان/ 11] . وتَلَقَّاهُ كذا، أي : لقيه . قال : وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ [ الأنبیاء/ 103] ، وقال : وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ [ النمل/ 6]
وتلقی السماحۃ منہ والندیٰ خلقا سخاوت اور بخشش کرنا اس کی طبیعت ثانیہ بن چکی ہے ۔ لقیت بکذا ۔ میں…
Read the full tafseer →ترکیب : واؤ حرف عطف کہ جو کلام سابق پر ہے اذا حرف شرط لقوا کہ دراصل لقیو تھا فعل بافاعل اور الذین آمنوا موصول وصلہ جملہ اس کا مفعول یہ اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر شرط ہوا قالوا فعل بافاعل امنا مفعول سب مل کر جواب ہوا شرط کا اور جملہ شرطیہ ہو کر معطوف علیہ ہوا۔ اذا حرف شرط خلوا فعل بافاعل الٰی شیاطینہم متعلق ہوا خلوا کے یہ سب شرط ہوئی اور قالوا فعل بافاعل انا معکم جملہ اسمیہ اس کا مفعول انما نحن مستہزئون جملہ اسمیہ اس کی تاکید یا بدل مل کر جواب ہوا شرط کا اور جملہ شرطیہ بن کر عطف ہوا پہلے جملے پر۔ لفظ اللہ مبتداء ایستہزیٔ بہم جملہ اس کی خبر معطوف علیہ و حرف عطف یمدھم جملہ فعلیہ معطوف فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
وَاِذَا لَقُوْالَّذِیْنَ اٰٰمَنُوْا قَالُوْآاٰمَنَّا ط وَاِذَا خَلَوْااِلٰی شَیٰطِیْنِھِمْ لا قَالُوْآ اِنَّامَعَکُمْ لا اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَھْزِء ُ وْنَ ۔ اَللّٰہُ یَسْتَھْزِیُٔ بِھِمْ وَیَمُدُّھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَہُوْنَ ۔
(اور جب وہ ملتے ہیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی مومن ہیں۔ اور جب اپنے سرداروں کے ساتھ تنہا ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو آپ لوگوں کے ساتھ ہیں ہم تو ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں۔ اللہ ان سے مذاق کررہا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دئیے جارہا ہے، یہ بھٹکتے پھر رہے ہیں) (البقرۃ : 14 تا 15)
ان دو آیات کریمہ میں پروردگار نے منافقین کی ایک اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافقت کے سبب اور حقیقی شعور سے تہی دامن ہونے کی وجہ سے کردار میں کھوکھلہ پن پیدا ہوجاتا ہے۔ جس وجہ سے منافق ایسی گفتگو کرتا ہے۔
منافق جب ایمان داروں سے ملتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور اسلام کی خوبیاں، رسول محترم ﷺ کے اوصاف اور مومنوں کے حسن کردار کا ذکر کرتے ہوئے ایمان کے دعویدار بنتے ہیں۔ لیکن جب اپنے لیڈروں کی طرف پلٹتے ہیں تو ان کو تسلی دیتے ہیں کہ ہمارے بارے میں فکر نہ کرنا ہم تمہارے ہی ہیں ہم تو مسلمانوں کے ساتھ شغل اور دکھاوے کے لیے ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہاں قرآن مجید نے ان کے بڑوں کو شیطان قرار دیا ہے کیونکہ ان کے بڑے شیطان کی طرح نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
نحو : الا۔ یہ ہمزہ استفہام اور حرف نفی سے مرکب ہے۔ تاکہ مابعد کے ثبوت پر تنبیہ ہوجائے۔
ایک قاعدہ :
استفہام جب نفی پر آجائے۔ تو ثبوت کا فائدہ دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سورة قیامہ آیت نمبر 40 میں ہے اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ (یقینا وہ قادر ہے) تحقیق کے اس مقام پر ہونے کی وجہ سے اس کے بعد آنے والا جملہ اسی انداز سے شروع ہوگا۔ جس سے قسم ملی ہو۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے مصلحین کی صف میں شامل ہونے کے دعویٰ کو بلیغ انداز سے رد کردیا۔
نمبر 1: سخت ناراضگی کے مقام پر رکھا۔
نمبر 2: جملہ مستانفہ لا کر اس میں مبالغہ کردیا۔
نمبر 3: پھر تاکید کے لیے اَلَا اور اِنّ لائے۔
نمبر 4: خبر معرفہ…
Read the full tafseer →(14) (آیت)” واذا لقوا الذین امنوا “۔ یعنی یہ منافق جب مہاجرین و انصار کو ملتے ہیں (آیت)” قالوا آمنا “ ہم ایمان لائے تمہارے ایمان کی طرح (آیت)” واذا خلوا “ جب لوٹتے ہیں ” لفظ خلوا “ جائز ہے کہ خلوت سے ہو اور (الی) بمعنی باء ہو تو (آیت)” الی شیاطینھم “ بمعنی بشیاطینھم “۔ ہوگا یعنی اپنے شیطانوں کے ہمزاہ اور کہا گیا ہے کہ الی بمعنی معنی ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ولا تاکلوا اموالھم الی اموالکم “۔ یعنی مع اموالکم (شیاطینھم) یعنی ان کے سردار اور ان کے کاہن شیاطین پانچ تھے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ یہود کے پانچ بڑے سرغنہ تھے ،
1۔ کعب بن اشرف مدینہ میں ۔
2۔ ابو بردہ بنو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
(8 ۔ 20): 8۔ 20۔ شروع سورة سے یہاں تک چار آیتوں میں خالص مومنوں کا ذکر تھا۔ اور پھر دو آیتوں میں کافروں کا اب ان تیرہ آیتوں میں منافقوں کا ذکر ہے۔ منافق وہ ہے جو زبان سے اچھی بات کہے اور دل میں اس کے بدی ہو۔ منافقوں کا ذکر قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ میں آنے کے بعد شروع ہوا ہے۔ ہجرت سے پہلے جس قدر حصہ قرآن شریف کا مکہ میں اترا ہے اس میں منافقوں کا ذکر اس واسطے نہیں ہے کہ مکہ میں یا کھلم کھلا مسلمان تھے یا کافر۔ منافق لوگ وہاں نہیں تھے کیونکہ مکہ میں کفار کا غلبہ تھا جس کے سبب سے آنحضرت ﷺ کو مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا۔ اس اپنے غلبہ کے سبب سے وہاں کے کافر اپنی اصلی حالت پر تھے۔ جب آنحضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت 14 تا 15
یہ قول ان کی ان باتوں میں سے ہے جس کا اظہار وہ اپنی زبانوں سے کرتے تھے درآنحالیکہ ان کے دل میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ کیونکہ جب یہ منافقین اہل ایمان کے پاس جاتے ہیں تو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ان کے طریقے پر گامزن ہیں اور ان کے ساتھ ہیں اور جب وہ اپنے شیطان سرداروں یعنی شریر رؤسا سے تنہائی میں ملتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں :” ہم تو درحقیقت تمہارے ساتھ ہیں ہم تو اہل ایمان کو یہ کہہ کر کہ، ہم تمہارے ساتھ ہیں، ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔ “ ” ہم تو درحقیقت تمہارے ساتھ ہیں ہم تو اہل ایمان کو یہ کہہ کر کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔ “ یہ ہیں ان کے ظاہری اور باطنی احوال، بری چال کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
قول باری ہے : الذی جعل لکم الارض فراشاً (وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا) یعنی تمہارے لئے قرار اور ٹھکانا بنایا اور صرف فراش کا لفظ علی الاطلاق ذکر کیا جائے تو یہ زمین کو شامل نہیں ہوگا، بلکہ زمین کو فرش کا نام اسی لفظ کے ساتھ مقید کر کے دیا جاتا ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : والجبال اوتاداً (اور پہاڑوں کو میخیں ) اوتاد یعنی میخوں کے اسم کا اطلاق پہاڑوں کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ اسی طرح قول باری ہے : والشمس سراجاً اور سورج کو چراغ ) اسی بنا پر فقہاء نے کہا ہے کہ جو شخص فرش اور بچھونے پر نہ سونے کی قسم کھالے اور پھر زمین پر سو جائے تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص چراغ تلے…
Read the full tafseer →34 منافقوں کی دو رخی پالیسی کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے منافقوں کی دو رخی پالیسی کو واضح فرما دیا گیا اور ایسا کہ یہ لوگ محض دنیاوی مفاد کے لیے کرتے ہیں۔ سو ایمان سے محروم لوگوں کا منتہائے مقصود دنیائے فانی کا متاع فانی ہے اور بس۔ یعنی اس طرح کے بےایمان لوگ اہل ایمان کے سامنے اس طرح کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے تاکہ اس طرح زبانی کلامی دعوی کرکے یہ لوگ اہل ایمان کے زمرے میں اپنے آپ کو شامل کرکے ان فوائد و منافع سے مستفید و متمتع ہوتے رہیں، جو کہ مسلمانوں کو ملتے ہیں، اور جب یہ لوگ تنہائی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں، تاکہ اس طرح یہ دوسری طرف کے فوائد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
منافقوں کا مذاق اڑانا
تشریح : اس آیت مبارکہ میں منافقین کی حماقتوں، بےوقوفیوں اور نااہلی کا ذکر تفصیلاً بیان کیا گیا ہے کہ جب وہ مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے بھائی دوست اور مسلمان ہیں اور جب کفار سے ملتے ہیں تو انہیں یقین دلاتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں، مسلمان چونکہ سیدھے سادے سے لوگ ہیں ہم ان کی سادگی کا فائدہ اٹھا کر ان سے راز معلوم کرلیتے ہیں۔ ان منافقوں کو اتنا نہیں معلوم کہ اللہ نے ان کی رسی دراز کر رکھی ہے اور ان کو اپنے گناہوں میں ڈھیل دے رہا ہے۔ اللہ تو خود ان سے مذاق کر رہا ہے اور ان منافقوں کو نہ سمجھ ہے نہ عقل اور نہ ہی اپنے برے انجام کا علم ہے یہ اس دنیاوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
آیات 8- 20
اسرارو معارف
یہاں کفر کی دوسری قسم بیان ہوتی ہے جسے نفاق کہتے ہیں اور یہ اپنے ضرر کے اعتبار سے شدید تر ہے پہلی پانچ آیات میں مومنین کی تعریف ، پھر دو آیات میں کفر کی وضاحت کے بعد تیرہ آیات میں نفاق اور منافق کے حالات ارشاد ہوئے ہیں تاکہ اس کی خوب وضاحت ہوجائے جس طرح منافق ضرر میں بڑھا ہوا ہے اسی طرح نفاق کا عذاب بھی دوسری قسم کے کفر سے زیادہ ہوگا۔
ان المنافقین فی الدرک الاسغل من النار ، یعنی کفار سے نیچے کے دجے میں ان کو رکھا جائے گا کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں مگر وہ مومن نہیں ہیں اور مومن نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں بھئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 1 عام محاروے میں ہر برے کام کی جزا یا جواب کو اسی برائی کا نام دے دیا جاتا ہے قرآن مجید کئی مقامات پر یہ محاورہ استعمال کیا ہے چناچہ اسی محاورہ کے مطابق کے مکر و فریب اور ہنسی مذاق کے مقابلہ میں جو انھیں مہلت دی اور اب ہر فورا گرفت نہ کی اس کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے ہنسی ٹھٹھہ کرتا ہے مطلب یہ ہے کہ ان منافقین سے ہمارا یہ بر تاؤ اس وجہ سے نہیں ہے کہ ہم ان سے خوش ہیں بلکہ یہ ہمارا غضب ہے اور یہ امہال دراصل ان کے ہنسی مزاح کا بد لہ ہے جو وہ مسلمانوں سے کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی سرکشی میں خوب قدم بڑھا لیں جیسے فرمایا ( :إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا : آل عمران آیت…
Read the full tafseer →(2:14) لقوا : ماضی جمع مذکر غائب ، لقی ولقاء (باب سمع) مصدر، لقوا اصل میں لقیوا تھا۔ ی پر ضمہ دشوار تھا۔ ماقبل کو دیا۔ ی بسبب اجتماع ساکنین گرگئی۔ لقوا ہوگیا۔ جب وہ ملتے ہیں، جب وہ سامنے آتے ہیں ۔ لقوا ماضی کا صیغہ ہے۔ لیکن حرف شرط کے بعد آنے کی وجہ سے بمعنی مضارع آیا ہے۔ ملاحظہ ہو (2:11) ۔
الذین : اسم موصول ۔ امنوا صلہ موصول اپنے صلہ سے مل کر لقوا کا مفعول ہے۔
خلوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ (ماضی بمعنی مضارع بحوالہ (2:11) خلا یخل (باب نصر) خلاء مصدر وہ تنہا ہوا۔ وہ اکیلا ہوا۔ خلاء خلوت میں ہونا یا اکیلا ہونا۔ خلا الی۔ کسی کے ساتھ اکیلا ہونا۔ یا خلوت میں ہونا واذا خلوا الیٰ شیاطینھم ۔ اور جب وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
لغات القرآن آیت نمبر 8 تا 16
(الناس): لو گ ، انسان، آدمی۔ (یقول): وہ کہتا ہے ، اردو میں اس کا ترجمہ ” امنا “ کی وجہ سے اس طرح کیا جائے گا، ” وہ کہتے ہیں۔ ” (امنا): ہم ایمان لے آئے۔ (یوم آخر): آخری دن، قیامت کا دن۔ (یخدعون): اور یخدعون کے الفاظ ” خدع “ سے بنے ہیں دھوکہ دینا، دل میں بری بات چھپا کر بظاہر اچھا بننے کی کوشش کرنا تا کہ دوسرے اس سے دھوکہ کھا جائیں۔ (انفس): نفس کی جمع ہے۔ جان، ذات شخصیت۔ (ما یشعرون): وہ شعور نہیں رکھتے، انہیں سمجھ نہیں ہے، بیخبر ہیں، اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنی حماقت میں مبتلا ہیں مگر ان کو اس کا احساس اور خبر نہیں ہے۔ (مرض): بیماری ، بیماری ایک تو وہ ہوتی ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–18
شان نزول : جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں ہجرت کرکے تشیف لائے اور اہل اسلام کی جماعت کی قوت بڑھی تو اہل مدینہ میں سے جن کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے اسلام لکھا تھا وہ تو خالص مسلمان ہوگئے۔ لیکن ایک جماعت اہل مدینہ کی ان یہود سے میل جول رکھتی تھی، جو مدینہ کے گرد و نواح میں رہتے تھے۔ ان یہود کے بہکانے سے اہل مدینہ کے کچھ لوگ مسلمانوں کی قوت اور شوکت کو دیکھ کر جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنا جان و مال بچانے کے لیے مسلمانوں کے روبرو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے۔ اور جب اپنے ساتھیوں سے ملتے تو کہتے : ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو دل لگی کے طور پر اپنا اوپری اسلام ظاہر کردیتے ہیں۔ لوگوں کی دغا بازی ظاہر کرنے کو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
[10] شیطان کے معنی شریر و سرکش کے ہیں۔ یہ لفظ جنوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور ان انسانوں کے لئے بھی جو اس خصوصیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہاں شیطانوں سے مراد یا تو وہ کفار ہیں جو اپنے کفر کو سب پر ظاہر کرتے تھے یا وہ منافقین مراد ہیں جو ان میں رئیس سمجھے جاتے تھے۔
[11] اردو کے محاورے میں بنانے کے معنی احمق بنانا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) یہ بےعلم منافق اس قدر دلوں کے کمزور اور بودے ہیں کہ نہ کفر پر ثبات و استقلال ہے اور نہ ایمان و استحکام جب مسلمانوں سے ملتے ہیں تو منہ پر ایمان کے نعرے ہوتے ہیں اور جب اپنے لگے بندھوں سے تنہائی میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ تو محض مذاق تھا ، مانتا کون ہے ، دل کا یہ مرض لاعلاج ہے اور اس سے دلوں کی آلودگی خطرناک اور مہلک ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ف 1۔ اور جب ان منافقوں سے کہا جاتا ہے کہ تم اس طرح ایمان لائو جس طرح دوسرے مخلص اور کامل انسان ایمان لائے ہیں تو یہ جواب دیتے ہیں کیا ہم بھی اس طرح ایمان لائیں جس طرح یہ کم عقل اور بیوقوف ایمان لائے ہیں آگاہ رہو کہ یہ منافق خود ہی بیوقوف ہیں مگر یہ اپنی بیوقوفی سے واقف نہیں ہیں اور یہ منافق جب مسلمانوں سے ملاقات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان دار ہیں اور جب خلوت و تنہائی میں اپنے سرداروں کے پاس جمع ہوتے ہیں تو ان کو اپنی معیت کا یقین دلاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں مسلمانوں سے تو ہم صرف ہنسی اور مذاق کیا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان منافقوں کو ان کے مذاق کی سزا دے رہا ہے اور ان کو ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
ف 5۔ مرج ہیں ان کی بداعتقادی وحسد اور ہر وقت کا اندیشہ وخلجان سب کچھ آگیا چونکہ اسلام کو روزانہ رونق ہوجاتی تھی اس یے ان کے دلوں میں ساتھ ساتھ یہ امراض ترقی پاتے جاتے تھے۔
Read the full tafseer →منافقین کا اظہار ایمان :
30: ” اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے “ یہ بات منافقین دراصل ذی اثر مسلمانوں کی دلجوئی اور خوشنودی کے لئے کہتے۔ ان لوگوں کی ایک عادت یہ بھی تھی کہ غریب عوام مسلمانوں کے مقابلے میں تواکڑتے ، اتراتے رہتے لیکن مسلمانوں میں جو لوگ صاحب ثروت ، صاحب اثر و اقتدار ہوتے ان کے سامنے فوراً گھٹنے ٹیک جاتے اور اظہار ایمان کا بار بار اقرار کرتے۔ بات شروع کرتے ہی ایسا انداز اختیار کرتے کہ وہ لوگ سمجھیں کہ یہ لوگ دین اسلام کے گویا ستون ہیں ؟ اس طرح کی حرکات سے وہ دوہرا فائدہ اٹھاتے۔ ایک یہ کہ صاحب اثر لوگ ان کو اپنا ہمدرد اور بہی خواہ سمجھیں اور دوسرا فائدہ یہ کہ اس طرح وہ مسلمانوں کے خاص…
Read the full tafseer →As we have seen, the Surah Al-Baqarah opens with the declaration that the Holy Qur'an is beyond all doubt. The first twenty verses of the Surah delineate the features of those who believe in the Holy Qur'an and of those who do not -- the first five dealing with the former, under the title of Al-Muttaqun المتقون (the God-fearing); the next two with those disbelievers who were quite open and violent in their hostility -- that is, Al-Kafirun الکافرون (the disbelievers or the infidels), and the following thirteen with those crafty disbelievers who claimed to be Muslims but, in reality, were not…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
15. 'Satan' in Arabic means refractory, rebellious and headstrong, and is used for both human beings and jinn. Although this word is generally used in the Qur'an for the satans amongst the jinn, it is also used occasionally for human beings possessing satanic characteristics. The context generally explains whether the word 'satan' refers to jinn or to human beings. In this particular case the word 'satans' refers to those influential leaders of the time who were in the vanguard of opposition and hostility to Islam
Read the full tafseer →