Explained with ayahs 14–15
فریب زدہ لوگ
مطلب یہ ہے کہ یہ بدباطن مسلمانوں کے پاس آ کر اپنی ایمان دوستی اور خیر خواہی ظاہر کر کے انہیں دھوکے میں ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ مال و جان کا بچاؤ بھی ہوجائے، بھلائی اور غنیمت کے مال میں حصہ بھی قائم ہوجائے۔ اور جب اپنے ہم مشربوں میں ہوتے ہیں تو ان ہی کی سی کہنے لگتے ہیں۔ خلوا کے معنی یہاں ہیں انصرفوا اذھبوا خلصوا اور مضوا یعنی لوٹتے ہیں اور پہنچتے ہیں اور تنہائی میں ہوتے ہیں۔ اور جاتے ہیں پس خلوا جو کہ الیٰ کے ساتھ متعدی ہے اس کے معنی لوٹ جانے کے ہیں۔ فعل مضمر اور ملفوظ دونوں پر یہ دلالت کرتا ہے۔ بعض کہتے ہیں الیٰ معنی میں مع کے مترادف ہے مگر اول ہی ٹھیک ہے، ابن جریر کے کلام کا خلاصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
سورة الْبَقَرَة 15
شیطان عربی زبان میں سرکش، متمرّد اور شوریدہ سر کو کہتے ہیں۔ انسان اور جِنّ دونوں کے لیے یہ لفظ مستعمل ہوتا ہے۔ اگرچہ قرآن میں یہ لفظ زیادہ تر شیاطین جِنّ کے لیے آیا ہے، لیکن بعض مقامات پر شیطان صفت انسانوں کے لیے بھی یہ استعمال کیا گیا ہے اور سیاق وسباق سے بآسانی معلوم ہوجا تا ہے کہ کہاں شیطان سے انسان مراد ہیں اور کہاں جِنّ۔ اس مقام پر شیاطین کا لفظ ان بڑے بڑے سرداروں کے لیے استعمال ہوا ہے، جو اس وقت اسلام کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔
Read the full tafseer →آٹھویں آیت میں ان کی اس احمقانہ گفتگو کا جواب ہے کہ یہ بےشعور سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمانوں سے استہزاء کرتے ہیں اور ان کو بیوقوف بنا رہے ہیں حالانکہ درحقیقت خود بیوقوف بن رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حلم وکرم سے ان کو ڈھیل دے کر خود انہی استہزاء کا سامان کردیا ہے کہ ظاہر میں کسی عذاب کے نہ آنے سے وہ اور غفلت میں پڑگئے اور اپنی سرکشی میں بڑہتے چلے گئے یہاں تک کہ ان کا جرم اور سنگین ہوگیا پھر دفعۃً پکڑ لئے گئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ عمل چونکہ ان کے استہزاء کے جواب میں تھا اس لئے اس عمل کو بھی استہزاء سے تعبیر کیا گیا۔
Read the full tafseer →اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ: مد کے معنی ڈھیل دینے اور کسی کی رسی دراز کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں آگے بڑھتے جا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان پر حجت تمام کرنے کے لئے ان کی رسی دراز کرتا جارہا ہے تاکہ جب ان کو پکڑے تو ان کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ اپنے جس مذاق کا ذکر فرمایا ہے يَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ کے الفاظ اسی کی وضاحت کر رہے ہیں۔ یہ لوگ خوش تھے کہ مسلمانوں کو بے وقوف بنانے اور اللہ تعالیٰ کو دھوکا دینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ حالانکہ صحیح راہ بتانے والے کو اپنے خیال کے مطابق جو شخص دھوکا دے کر ایک غلط راہ…
Read the full tafseer →1 اللہ تعالیٰ بھی ان سے مذاق کرتا ہے کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جس طرح مسمانوں کے ساتھ استہزاء استخفاف کا معاملہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی ان سے ایسا ہی معاملہ کرتے ہوئے انہیں ذلت میں مبتلا کرتا ہے۔ اس کو استہزاء سے تعبیر کرنا، زبان کا اسلوب ہے، ورنہ حقیقتا یہ مذاق نہیں ہے، ان کے فعل کی سزا ہے جیسے برائی کا بدلہ، اسی کی مثل برائی، میں برائی کے بدلے کو برائی کہا گیا حالانکہ وہ برائی نہیں ہے ایک جائز فعل ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ بھی ان سے فرمائے گا۔ جیسا کہ سورة حدید کی آیت (يَوْمَ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ) 57:13 میں وضاحت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
14 یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی رسی دراز کر رکھی ہے کہ ان کے دوغلے پن کی فوری سزا دنیا میں انہیں نہیں مل رہی ہے، جس سے وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہماری تدبیر کارگر ہوگئی، چنانچہ وہ اپنی اس گمراہی میں اور پختہ ہوتے جارہے ہیں، آخرت میں انہیں ایک دم پکڑلیا جائے گا، چونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ عمل ان کے مذاق کا نتیجہ تھا اسے یہاں اللہ ان سے مذاق کرتا ہے کے عنوان سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ” اللہ ان سے مذاق کررہا ہے ، وہ ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے اور یہ اپنی رو میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں ۔ “ کس قدر بدبخت ہے وہ شخص کہ آسمان و زمین کا قہار وجبار جس کے ساتھ مذاق کررہا ہے ؟ اس سے بڑی شقاوت کوئی اور نہیں ” اللہ ان کی رسی دراز کئے جارہا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے ہیں ۔ “ جب ایک حساس انسان ان الفاظ پر غور کرتا ہے اور مرکب خیال جو لانی دکھاتا ہے تویہاں آکر وہ نہایت ہی خوفناک اور کپکپا دینے والے منظر کے سامنے بےحس و حرکت کھڑا ہوجاتا ہے ۔ یہ اس قدر خوفناک انجام ہے جس سے دل دہل جاتے ہیں…
Read the full tafseer →5 چونکہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کو فرما دیا کہ منافقین کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ کرو ان کے جان و مال سے ہرگز تعرض نہ کرو اس سے منافقین اپنی حماقت سے سمجھ گئے کہ ایمان لانے سے جو فائدہ مسلمانوں کو ہوا وہ سب فوائد ہم کو بھی صرف زبانی اظہار اسلام سے حاصل ہوگئے اس وجہ سے بالکل مطمئن ہوگئے حالانکہ انجام کار یہ امر منافقین کو سخت بلا میں پھنسانے والا ہے اس کا انجام نہایت خراب ہے تو اب انصاف کیجیئے کہ حقیقت میں تمسخر مسلمانوں کا ہوا یا منافقین کا اور یا تمسخر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس تمسخر کا بدلہ اور سزا ان کو دے گا۔
6 یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انکو ڈھیل دی گئی حتیٰ کہ انہوں نے سرکشی…
Read the full tafseer →آیت 15 اَللّٰہُ یَسْتَھْزِئُ بِھِمْ وَیَمُدُّھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ
اللہ تعالیٰ سرکشوں کی رسّی دراز کرتا ہے۔ کوئی شخص سرکشی کے راستے پر چل پڑے تو اللہ تعالیٰ اسے فوراً نہیں پکڑتا ‘ بلکہ اسے ڈھیل دیتا ہے کہ چلتے جاؤ جہاں تک جانا چاہتے ہو۔ تو ان کی بھی اللہ تعالیٰ رسّی دراز کر رہا ہے ‘ لیکن یہ سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اصل میں مذاق تو اللہ کے نزدیک ان کا اڑ رہا ہے۔
لفظ ”یَعْمَھُوْنَ“ عقل کے اندھے پن کے لیے آیا ہے۔ اس کا مادہ ”ع م ھ“ ہے۔ آگے آیت 18 میں لفظ ”عُمْیٌ“ آ رہا ہے جو ”ع م ی“ سے ہے۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ ”عَمِہَ یَعْمَہُ“ بصیرت سے محرومی کے لیے آتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
21 اوصاف کا سدہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں ؟ قرآن کی بعض آیات میں بعض اوصاف ذمیمہ مثلاً استہزاء مکر اور خدع کی اللہ تعالیٰ کی طرف جو نسبت کی گئی ہے، یہ محض اہل عرب کے محاورہ کی وجہ سے ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ قرآن اہل عرب اور بالخصوص قریش کے محاورہ کے مطابق نازل ہوا ہے۔ ایسے افعال اللہ تعالیٰ کی طرف کبھی اکیلے منسوب نہیں ہوتے بلکہ کافروں کے افعال کے جواب کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ عرف عام میں ایسی صورت کو مشاکلہ کہتے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ کی ذات ایسے اوصاف سے پاک ہے۔ ایسے عرب محاوروں کی ایک مثال درج ذیل آیت میں بھی موجود ہے۔
(وَجَزَاءُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِثْلُھَا) (42: 40) برائی کا بدلہ…
Read the full tafseer →42 ۔ یعنی ان کے تمسخر کو انہیں پر پلٹے دیتا ہے۔ مجازات، سزا، معاوضہ کے موقع پر لغت عرب میں یہ محاورہ وام ہے، کہ جزائے فعل کو اصل فعل ہی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ اے یجازیھم جزاء الھزو (راغب) مثل قول نسو اللہ فنسیھم اے جاز اھم جزاء النسیان (ابن قتیبہ) جزاء الااستھزاء باسمہ کما جزاء السیءۃ سیءۃ (بیضاوی) ہنسی اور تمسخر کا انتساب ذات باری تعالیٰ کی جانب قدیم صحیفوں میں برابر موجود ہے۔ ” تو اے خداوندان پر ہنسے گا۔ تو ساری قوموں کو مسخرہ بنادے گا “۔ (زبور 79:8) ”۔۔۔ میں تمہاری پریشانی پر ہنسوں گا۔ اور جب تم پر دہشت غالب ہوگئی تو میں ٹھٹھے ماروں گا “ (امثال 1: 26)
43 ۔ (اپنے قانون تکوینی کے مطابق) خالق…
Read the full tafseer →اَللہُ یَسْتَھْزِئُ بِھِمْ : اللہ بھی انسان سے مذاق کرتا ہے، اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ : وہ جس طرح مسلمانوں کے ساتھ استہزاء اور استخفاف کا معاملہ کرتے ہیں، اللہ بھی ان سے ایسا معاملہ کرتا ہے انہیں ذلت و ادبار میں مبتلا کرتا ہے، اسی کو مشاکلت کے طور پر استہزاء سے تعبیر کردیا گیا ہے یہ زبان کا ایک اسلوب ہے، حقیقۃً استہزاء نہیں بلکہ ان کے فعل استہزاء کی سزا ہے، جس کو استہزاء سے تعبیر کردیا گیا جیسے : ” وَجَزٰؤُا سَیِّئَۃٍسَیِّئَۃٌ مِّثْلُھا “ (الشوریٰ آیت 40) میں برائی کے بدلہ کو برائی سے تعبیر کیا گیا ہے حالانکہ وہ برائی نہیں ہے ایک جائز عمل ہے۔
ذات باری کی طرف تمسخر کا انتساب قدیم صحیفوں میں…
Read the full tafseer →اَللّٰہُ یَسْتَھْزِئُ بِھِمْ ( خدا انکے ساتھ ٹھٹھا کرتا ہے) یعنی انہیں ٹھٹھا کرنے کی جزا دیتا ہے لفظی مقابلہ کے طور پر ٹھٹھا کرنے کی سزا کو ٹھٹھا کرنے سے تعبیر کردیا ہے۔ علامہ بغوی (صاحب معالم التنزیل) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ٹھٹھا کرنا یہ ہے کہ ان کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جائے گا۔ جب وہ اس دروازہ تک پہنچیں گے تو فوراً بند کردیا جائے گا اور آگ کی طرف دھکیل دیئے جائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ اللہ کا ٹھٹھا کرنا یہ ہے کہ مؤمنین کے لیے ایک نور پیدا کیا جائے گا کہ جس کی روشنی سے پل صراط پر چلیں گے جب منافق اس نور تک پہنچیں گے تو ان کے اور مؤمنین کے مابین ایک پردہ…
Read the full tafseer →(15) اللہ تعالیٰ بدلے کے طور پر قیامت کے دن ان کا مذاق اڑائے گا، اس طرح کہ ان کے سامنے پہلے جنت کا ایک دروازہ کھولے گا اور پھر انھیں وہ دروازہ دکھا کر ان پر بند کردے گا اس بات پر مومنین ان منافقین کا مذاق اڑائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
3 منافقین دل میں کفر رکھنے اور کفار کا ساتھ دینے کے باوجود مسلمانوں سے ملتے تو ”اٰمَنَّا“ کہتے اور اسے اہل ایمان کے ساتھ مذاق قرار دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی جواباً ان کے ساتھ یہی معاملہ فرمایا کہ ان کے متعلق یہ طے کردیا کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے حصے میں ہوں گے، اس کے باوجود دنیا میں انھیں مسلمان قرار دیا اور ان کی رسی دراز کردی، تاکہ وہ سرکشی میں زیادہ سے زیادہ بڑھ جائیں، فرمایا : (اِنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ لِيَزْدَادُوْٓا اِثْمًا) [ آل عمران : 178 ] ”ہم انھیں صرف اس لیے مہلت دے رہے ہیں کہ وہ گناہ میں بڑھ جائیں۔“ وہ ان کا مذاق تھا یہ اللہ تعالیٰ کا مذاق ہے۔ قرآن مجید میں ایسے الفاظ مقابلے میں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 15
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ یستھزیء بھم یعنی اللہ تعالیٰ ان سے انتقام لے گا اور انہیں سزا دے گا اور ان سے تمسخر کرے گا اور انہیں ان کے تمسخر کی سزا دے گا۔ سزا کو گناہ کے نام سے ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ جمہور علماء کا قول ہے۔ اور عرب اپنے کلام میں اس قسم کی ترکیب کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ عمرو بن کلثوم کا قول ہے :
الا لا یجھلن احد علینا فنجھل فوق جھل الجاھلینا (1)
خبردار ! کوئی ہم پر (حملہ کر کے) جہالت کا مظاہرہ نہ کرے ورنہ ہم زمانہ جاہلیت کی جہالت سے زیادہ جہالت کا مظاہرہ کریں گے۔
اس نے اپنے غلبہ کو جہل سے تعبیر کیا۔ حالانکہ کوئی صاحب عقل جہالت پر فخر نہیں کرتا۔ یہ اس نے کلام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(1) امام الواحدی اور ثعلبی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ اس طرح سے کہ یہ لوگ ایک دن باہر نکلے تو رسول اللہ ﷺ سے اصحاب کی ایک جماعت سے ان کی ملاقات ہوگئی تو عبد اللہ بن ابی کہنے لگا دیکھو ان بیوقوفوں کو تم سے کس طرح دور کرتا ہوں۔ پھر جب یہ صحابہ کی جماعت سے ہو کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس گیا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا اسے صدیق ! مرحبا بنی تمیم کے سردار اور شیخ الاسلام اور رسول اللہ ﷺ کے غار میں دوسرے اور اپنی جان اور اپنے مال کو رسول اللہ ﷺ کے لیے خرچ کرنے والے۔ پھر عمر ؓ کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا مرحبا عدی بن کعب…
Read the full tafseer →[ اَللّٰهُ يَسْتَهْزِئُ :: اللہ مذاق کرتا ہے ] [ بِهِمْ : ان سے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ يَمُدُّھُمْ : وہ ڈھیل دیتا ہے ان کو ] [ فِىْ طُغْيَانِهِمْ : ان کی سرکشی میں ] [ يَعْمَھُوْنَ : وہ لوگ بھٹکتے ہیں ]
م د د
[ مددا : (ن) مدد دینا ]
[ مدا : دراز کرنا۔ مہلت دینا [ اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ : کیا آپ نے دیکھا نہیں اپنے رب کو کہ اس نے کیسے دراز کیا سائے کو ] [ كَلَّا ۭ سَنَكْـتُبُ مَا يَقُوْلُ وَنَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا : ہم لکھ لیں گے جو وہ کہتا ہے اور ہم دراز کریں گے اس کے لیے عذاب جیسا کہ دراز کرنے کا حق ہے ]
[ مددُ : مصدر کے علاوہ اسم ذات بھی ہے ۔ مدد ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
منافقوں کے دعوے اور ان کا طریق کار
ان آیات میں منافقین کے بعض دعوے نفل فرمائے ہیں۔ اور ان کا طریقہء کار ذکر فرمایا ہے اور وہ یہ کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے تھے کہ اجی ہم کہاں فساد کہاں ؟ ہمارا کام تو اصلاح کرنا ہی ہے۔ ان کی تردید میں فرمایا کہ خبر دار بلاشبہ یہ لوگ فسادی ہی ہیں لیکن اس کا شعور نہیں رکھتے، جس فساد میں یہ لوگ مبتلا تھے اس میں کئی طرح سے حصہ لیتے تھے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فتنے کھڑے کرتے تھے۔ اور دشمنان اسلام کو لڑائیوں پر آمادہ کرتے تھے اور مسلمانوں کے بھید دشمنوں تک پہنچاتے تھے۔ اور جو لوگ مسلمان ہونے کا ارادہ کرتے ان کو اسلام سے روکنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
منافقوں کی چوتھی قباحت
قال تعالیٰ واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا۔۔ الی۔۔۔ وما کانوا مھتدین
اور جب وہ منافقین ملتے ہیں اہل ایمان سے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے شیاطین الانس یعنی اپنے رؤسا کے پاس تنہا ہوتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ سوائے اس کے نہیں کہ ہم تو مسلمانوں کے ساتھ تمسخر اور ہنسی کرتے ہیں تاکہ لوگوں پر مسلمانوں کی سفاہت اور بیوقوفی ظاہر ہو کہ محض زبانی اقرار سے ہم کو دعوائے ایمان میں سچا سمجھتے ہیں۔ شیاطین سے منافقین کے پیشوا اور سردار مراد ہیں جو دین الٰہی کے مقابلہ میں ہر قسم کے فتنہ اور فساد کے سرغنہ بنے ہوئے تھے۔ شیطان لغت میں سرکش اور…
Read the full tafseer →ف 31 ۔ بعض اوقات " جرم " کی سزا پر لفظ " جرم " کا اطلاق کردیا جاتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس تمسخر اور استہزا کی سزا دیگا۔ ان ینتقم منھم ویعاقبہم ویسخر بہم ویجازبھم علی استھزائہم فسمی العقوبۃ باسم الذنب (قرطبی ص 207 ج 1) اور بعض نے کہا کہ جس طرح منافقین مسلمانوں کو بنا رہے ہیں اسی طرح اللہ بھی منافقوں کو بنا رہا ہے اور ان سے تمسخر کا سا معاملہ کر رہا ہے مثلا دنیا میں ان پر اسلام کے احکام جاری کرا رکھے ہیں اور انہیں مہلت دے رکھی ہے۔ جب وہ کفر وسرکشی کی انتہا کو پہنچ جائینگے تو اچانک دھر لیے جائینگے۔ منافقین ان چیزوں کو اپنے حق میں مفید سمجھ رہے ہیں مگر حقیقت میں یہ چیزیں ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
گزشتہ سے پیوستہ : ہدایت کے اعتبار سے تیسرا گروہ منافقین کا ہے۔ کل بھی ان کا ذکر ہوا تھا۔ اور آج کی آیت میں بھی منافقین کا ہی ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کی خرابیوں کو ذرا تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے پہلی آیات میں آیا تھا کہ بعض لوگ زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی نفی فرما دی ہے۔ کہ یہ لوگ مومن نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور ایمانداروں دونوں سے دغا بازی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو تو دھوکا نہیں دے سکتے اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو بھی ان کے دھوکے سے بچائے گا۔ کیونکہ ان کا دھوکا ان کی اپنی ہی جانوں پر ہے اور یہ ان باتوں کو سوچتے تک نہیں۔ ان…
Read the full tafseer →اَللہُ يَسْتَہْزِئُ بِہِمْ وَيَمُدُّھُمْ فِىْ طُغْيَانِہِمْ يَعْمَھُوْنَ 15
اسْتِهْزَاءُ :
ارتیاد الْهُزُؤِ وإن کان قد يعبّر به عن تعاطي الهزؤ، کالاستجابة في كونها ارتیادا للإجابة، وإن کان قد يجري مجری الإجابة . قال تعالی: قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] ، وَحاقَ بِهِمْ ما کانوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [هود/ 8] ، ما يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [ الحجر/ 11] ، إِذا سَمِعْتُمْ آياتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِها وَيُسْتَهْزَأُ بِها[ النساء/ 140] ، وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ [ الأنعام/ 10] والِاسْتِهْزَاءُ من اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ترکیب : اولئک مبتدا۔ الذین موصول اشترو الخ جملہ فعلیہ اس کا صلہ مجموعہ بن کر خبر ہوئی فا تفرعیہ ما حرف نفی ربحت فعل تجارتہم فاعل مجموعہ جملہ فعلیہ خبریہ معطوف علیہ اور وما کا نوا مہتدین جملہ اس پر معطوف۔
تفسیر : یعنی وہ جو انسان کو خدا کی طرف سے ایک فطری ہدایت ہے (اگر اس پر کوئی عوارض و موانع پیش نہ آئے تو اس کی وجہ سے نیکی اور حیات ابدی کے رستہ پر چل سکے) ان منافقوں نے اپنے اندر اخلاق رذیلہ اور ملکات فاسدہ پیدا کرکے اس نور فطرت کو بجھا دیا (جس کو خدائے تعالیٰ نے ہدایت کے بالعوض گمراہی خریدنے کے ساتھ تعبیر فرمایا ہے) ان لوگوں نے اپنے نزدیک بڑی عمدہ اور نفع دینے والی تجارت کی تھی کہ منہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
وَاِذَا لَقُوْالَّذِیْنَ اٰٰمَنُوْا قَالُوْآاٰمَنَّا ط وَاِذَا خَلَوْااِلٰی شَیٰطِیْنِھِمْ لا قَالُوْآ اِنَّامَعَکُمْ لا اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَھْزِء ُ وْنَ ۔ اَللّٰہُ یَسْتَھْزِیُٔ بِھِمْ وَیَمُدُّھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَہُوْنَ ۔
(اور جب وہ ملتے ہیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی مومن ہیں۔ اور جب اپنے سرداروں کے ساتھ تنہا ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو آپ لوگوں کے ساتھ ہیں ہم تو ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں۔ اللہ ان سے مذاق کررہا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دئیے جارہا ہے، یہ بھٹکتے پھر رہے ہیں) (البقرۃ : 14 تا 15)
ان دو آیات کریمہ میں پروردگار نے منافقین کی ایک اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافقت اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔
یہاں منافقین کے کردار کے بارے میں لفظ طغیان استعمال کیا ہے جو ایک محاورہ بھی ہے کہ دریا میں طغیانی ہے۔ یعنی دریا اپنی حد سے آگے بڑھ گیا ہے۔ یہی حالت گناہ کے وقت انسان کی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنی فطرت سلیم سے آگے بڑھ کر گناہ کرتا ہے۔ مذاق کرنا اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے لیکن منافقوں پر ناراضگی اور مومنوں سے مذاق کرنے کی وجہ سے منافقوں کے مذاق کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسوب فرما رہا ہے۔ کیونکہ مومنوں کو اللہ پر ایمان لانے کی وجہ سے مذاق نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ مذاق کرنے کے مترادف سمجھتا ہے۔ نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
نحو : الا۔ یہ ہمزہ استفہام اور حرف نفی سے مرکب ہے۔ تاکہ مابعد کے ثبوت پر تنبیہ ہوجائے۔
ایک قاعدہ :
استفہام جب نفی پر آجائے۔ تو ثبوت کا فائدہ دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سورة قیامہ آیت نمبر 40 میں ہے اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ (یقینا وہ قادر ہے) تحقیق کے اس مقام پر ہونے کی وجہ سے اس کے بعد آنے والا جملہ اسی انداز سے شروع ہوگا۔ جس سے قسم ملی ہو۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے مصلحین کی صف میں شامل ہونے کے دعویٰ کو بلیغ انداز سے رد کردیا۔
نمبر 1: سخت ناراضگی کے مقام پر رکھا۔
نمبر 2: جملہ مستانفہ لا کر اس میں مبالغہ کردیا۔
نمبر 3: پھر تاکید کے لیے اَلَا اور اِنّ لائے۔
نمبر 4: خبر معرفہ…
Read the full tafseer →(15) (آیت)” اللہ یستھزی بھم “ یعنی ان کو بدلہ دیں گے ان کے استہزاء کا بدلہ استہزاء کے بدلہ کو بھی استہزا دیا گیا کیونکہ وہ استہزاء کے مقابلہ میں ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ استہزاء کا بدلہ اس طرح ہوگا کہ ان کے لیے جنت کا دروازہ کھولا جائے گا پس جب اس کی طرف پہنچیں گے تو وہ دروازہ ان سے بند کردیا جائے گا اور آگ کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے اور بعض نے کہا کہ استہزاء کا بدلہ اس طرح ہوگا کہ ایمان والوں کے لیے نور رکھا جائے گا جس سے وہ صراط پر چلیں گے ۔ جب منافق وہاں تک پہنچیں گے تو منافقوں اور مؤمنوں کے درمیان رکاوٹ کردی جائے گی جیسے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
(8 ۔ 20): 8۔ 20۔ شروع سورة سے یہاں تک چار آیتوں میں خالص مومنوں کا ذکر تھا۔ اور پھر دو آیتوں میں کافروں کا اب ان تیرہ آیتوں میں منافقوں کا ذکر ہے۔ منافق وہ ہے جو زبان سے اچھی بات کہے اور دل میں اس کے بدی ہو۔ منافقوں کا ذکر قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ میں آنے کے بعد شروع ہوا ہے۔ ہجرت سے پہلے جس قدر حصہ قرآن شریف کا مکہ میں اترا ہے اس میں منافقوں کا ذکر اس واسطے نہیں ہے کہ مکہ میں یا کھلم کھلا مسلمان تھے یا کافر۔ منافق لوگ وہاں نہیں تھے کیونکہ مکہ میں کفار کا غلبہ تھا جس کے سبب سے آنحضرت ﷺ کو مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا۔ اس اپنے غلبہ کے سبب سے وہاں کے کافر اپنی اصلی حالت پر تھے۔ جب آنحضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت 14 تا 15
یہ قول ان کی ان باتوں میں سے ہے جس کا اظہار وہ اپنی زبانوں سے کرتے تھے درآنحالیکہ ان کے دل میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ کیونکہ جب یہ منافقین اہل ایمان کے پاس جاتے ہیں تو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ان کے طریقے پر گامزن ہیں اور ان کے ساتھ ہیں اور جب وہ اپنے شیطان سرداروں یعنی شریر رؤسا سے تنہائی میں ملتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں :” ہم تو درحقیقت تمہارے ساتھ ہیں ہم تو اہل ایمان کو یہ کہہ کر کہ، ہم تمہارے ساتھ ہیں، ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔ “ ” ہم تو درحقیقت تمہارے ساتھ ہیں ہم تو اہل ایمان کو یہ کہہ کر کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔ “ یہ ہیں ان کے ظاہری اور باطنی احوال، بری چال کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
قول باری ہے : الذی جعل لکم الارض فراشاً (وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا) یعنی تمہارے لئے قرار اور ٹھکانا بنایا اور صرف فراش کا لفظ علی الاطلاق ذکر کیا جائے تو یہ زمین کو شامل نہیں ہوگا، بلکہ زمین کو فرش کا نام اسی لفظ کے ساتھ مقید کر کے دیا جاتا ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : والجبال اوتاداً (اور پہاڑوں کو میخیں ) اوتاد یعنی میخوں کے اسم کا اطلاق پہاڑوں کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ اسی طرح قول باری ہے : والشمس سراجاً اور سورج کو چراغ ) اسی بنا پر فقہاء نے کہا ہے کہ جو شخص فرش اور بچھونے پر نہ سونے کی قسم کھالے اور پھر زمین پر سو جائے تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص چراغ تلے…
Read the full tafseer →37 برائی کا بدلہ برا ۔ والعیاذ باللہ : سو خبث باطن اور سوء نیت کا نتیجہ و انجام بہرحال برا ہوتا ہے۔ سو اللہ پاک کی ڈھیل سے ان کو دھوکہ لگتا ہے اور یہ اور مست ہوجاتے ہیں، اور اس سے ان کی محرومی اور بڑھتی جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی وہ ان کو جو ڈھیل دے رہا ہے، اور اپنے رحم و کرم کا جو معاملہ وہ ان سے فرما رہا ہے اس سے یہ نامراد اور دلیر ہوتے ہیں، اور اپنی سرکشی میں بڑھتے چلے جارہے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ اس دائمی عذاب میں گرفتار ہوں گے جس سے نکلنے کی پھر کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہ ہوگی، اور اس طرح ان کو اپنے اس مذاق کے سنگین نتائج بہرحال بھگتنا ہوں گے، یہاں پر عربی زبان کی مشہور صنعت جس کو "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
منافقوں کا مذاق اڑانا
تشریح : اس آیت مبارکہ میں منافقین کی حماقتوں، بےوقوفیوں اور نااہلی کا ذکر تفصیلاً بیان کیا گیا ہے کہ جب وہ مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے بھائی دوست اور مسلمان ہیں اور جب کفار سے ملتے ہیں تو انہیں یقین دلاتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں، مسلمان چونکہ سیدھے سادے سے لوگ ہیں ہم ان کی سادگی کا فائدہ اٹھا کر ان سے راز معلوم کرلیتے ہیں۔ ان منافقوں کو اتنا نہیں معلوم کہ اللہ نے ان کی رسی دراز کر رکھی ہے اور ان کو اپنے گناہوں میں ڈھیل دے رہا ہے۔ اللہ تو خود ان سے مذاق کر رہا ہے اور ان منافقوں کو نہ سمجھ ہے نہ عقل اور نہ ہی اپنے برے انجام کا علم ہے یہ اس دنیاوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
آیات 8- 20
اسرارو معارف
یہاں کفر کی دوسری قسم بیان ہوتی ہے جسے نفاق کہتے ہیں اور یہ اپنے ضرر کے اعتبار سے شدید تر ہے پہلی پانچ آیات میں مومنین کی تعریف ، پھر دو آیات میں کفر کی وضاحت کے بعد تیرہ آیات میں نفاق اور منافق کے حالات ارشاد ہوئے ہیں تاکہ اس کی خوب وضاحت ہوجائے جس طرح منافق ضرر میں بڑھا ہوا ہے اسی طرح نفاق کا عذاب بھی دوسری قسم کے کفر سے زیادہ ہوگا۔
ان المنافقین فی الدرک الاسغل من النار ، یعنی کفار سے نیچے کے دجے میں ان کو رکھا جائے گا کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں مگر وہ مومن نہیں ہیں اور مومن نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں بھئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 1 عام محاروے میں ہر برے کام کی جزا یا جواب کو اسی برائی کا نام دے دیا جاتا ہے قرآن مجید کئی مقامات پر یہ محاورہ استعمال کیا ہے چناچہ اسی محاورہ کے مطابق کے مکر و فریب اور ہنسی مذاق کے مقابلہ میں جو انھیں مہلت دی اور اب ہر فورا گرفت نہ کی اس کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے ہنسی ٹھٹھہ کرتا ہے مطلب یہ ہے کہ ان منافقین سے ہمارا یہ بر تاؤ اس وجہ سے نہیں ہے کہ ہم ان سے خوش ہیں بلکہ یہ ہمارا غضب ہے اور یہ امہال دراصل ان کے ہنسی مزاح کا بد لہ ہے جو وہ مسلمانوں سے کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی سرکشی میں خوب قدم بڑھا لیں جیسے فرمایا ( :إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا : آل عمران آیت…
Read the full tafseer →(2:15) یستھزی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ استھزاء (استفعال) مصدر۔ عربی زبان میں جب وہی یا ویسا ہی فعل جواباً استعمال کیا جائے تو اس کے معنی ہوتے ہیں اس فعل کی سزا دیتا یا اس کی مدافعت کرنا۔ اللہ یستھزیء بھم ۔۔ کے یہ معنی نہیں کہ اللہ ان سے مذاق کرے گا۔ بلکہ اس کے معنی ہیں یرجع وبال الاستھزاء علیہم، ان کے استہزاء کا بوجھ یا عذاب ان ہی پر لوٹا دے گا۔ (بیضاوی)
بعض علماء نے الفاظ پر مبنی دیگر تاویلات بھی کی ہیں۔ جو کتب تفسیر میں دیکھی جاسکتی ہیں۔
یمدھم : یمد۔ فعل مصارع واحد مذکر غائب۔ مد یمد (باب نصر) مد۔ مصدر۔ وہ ڈھیل دے رہا ہے، وہ مہلت دے رہا ہے۔ ھم ۔ ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ضمیر کا مرجع (وہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
لغات القرآن آیت نمبر 8 تا 16
(الناس): لو گ ، انسان، آدمی۔ (یقول): وہ کہتا ہے ، اردو میں اس کا ترجمہ ” امنا “ کی وجہ سے اس طرح کیا جائے گا، ” وہ کہتے ہیں۔ ” (امنا): ہم ایمان لے آئے۔ (یوم آخر): آخری دن، قیامت کا دن۔ (یخدعون): اور یخدعون کے الفاظ ” خدع “ سے بنے ہیں دھوکہ دینا، دل میں بری بات چھپا کر بظاہر اچھا بننے کی کوشش کرنا تا کہ دوسرے اس سے دھوکہ کھا جائیں۔ (انفس): نفس کی جمع ہے۔ جان، ذات شخصیت۔ (ما یشعرون): وہ شعور نہیں رکھتے، انہیں سمجھ نہیں ہے، بیخبر ہیں، اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنی حماقت میں مبتلا ہیں مگر ان کو اس کا احساس اور خبر نہیں ہے۔ (مرض): بیماری ، بیماری ایک تو وہ ہوتی ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–18
شان نزول : جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں ہجرت کرکے تشیف لائے اور اہل اسلام کی جماعت کی قوت بڑھی تو اہل مدینہ میں سے جن کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے اسلام لکھا تھا وہ تو خالص مسلمان ہوگئے۔ لیکن ایک جماعت اہل مدینہ کی ان یہود سے میل جول رکھتی تھی، جو مدینہ کے گرد و نواح میں رہتے تھے۔ ان یہود کے بہکانے سے اہل مدینہ کے کچھ لوگ مسلمانوں کی قوت اور شوکت کو دیکھ کر جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنا جان و مال بچانے کے لیے مسلمانوں کے روبرو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے۔ اور جب اپنے ساتھیوں سے ملتے تو کہتے : ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو دل لگی کے طور پر اپنا اوپری اسلام ظاہر کردیتے ہیں۔ لوگوں کی دغا بازی ظاہر کرنے کو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
[10] شیطان کے معنی شریر و سرکش کے ہیں۔ یہ لفظ جنوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور ان انسانوں کے لئے بھی جو اس خصوصیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہاں شیطانوں سے مراد یا تو وہ کفار ہیں جو اپنے کفر کو سب پر ظاہر کرتے تھے یا وہ منافقین مراد ہیں جو ان میں رئیس سمجھے جاتے تھے۔
[11] اردو کے محاورے میں بنانے کے معنی احمق بنانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
(ف 2) اللہ ایسے لوگوں سے دنیا وآخرت میں سلوک بھی اسی طرح کا روا رکھتے ہیں کہ جو بجائے خود ایک قسم کا مذاق ہو نہ ایمان وذوق کی شیرینی سے یہ جماعت بہرہ ور ہوتی ہے اور نہ کفر والحاد کے فوائد ظاہری سے متمتع ، کفر اگر تذبذب کے خرخشوں سے معرا ہو تو کم از کم ظاہری وعارضی لذات سے محروم نہیں اور ایمان و عقیدت اگر شک وارتباب سے پاک ہو تو پھر دونوں جہان کے مزے ہیں ۔ اللہ بھی خوش ہے اور دنیا بھی تابع ۔
امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن جب یہ جنت کی طرف بڑھیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ یہ مقام سرور وجسور ہمارے لئے ہے تو یکایک ان میں اور جنات نعیم مین ایک دیوار حائل ہوجائے گی اور گویا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ف 1۔ اور جب ان منافقوں سے کہا جاتا ہے کہ تم اس طرح ایمان لائو جس طرح دوسرے مخلص اور کامل انسان ایمان لائے ہیں تو یہ جواب دیتے ہیں کیا ہم بھی اس طرح ایمان لائیں جس طرح یہ کم عقل اور بیوقوف ایمان لائے ہیں آگاہ رہو کہ یہ منافق خود ہی بیوقوف ہیں مگر یہ اپنی بیوقوفی سے واقف نہیں ہیں اور یہ منافق جب مسلمانوں سے ملاقات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان دار ہیں اور جب خلوت و تنہائی میں اپنے سرداروں کے پاس جمع ہوتے ہیں تو ان کو اپنی معیت کا یقین دلاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں مسلمانوں سے تو ہم صرف ہنسی اور مذاق کیا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان منافقوں کو ان کے مذاق کی سزا دے رہا ہے اور ان کو ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
ف 5۔ مرج ہیں ان کی بداعتقادی وحسد اور ہر وقت کا اندیشہ وخلجان سب کچھ آگیا چونکہ اسلام کو روزانہ رونق ہوجاتی تھی اس یے ان کے دلوں میں ساتھ ساتھ یہ امراض ترقی پاتے جاتے تھے۔
Read the full tafseer →اللہ کا استہزاء منافقین کے ساتھ کیسا ہے ؟
33: استہزاء و تمسخر جہالت ہے۔ قرآن کریم اور احادیث رسول ﷺ نے استہزاء و تمسخر کی اجازت کسی مسلمان کو بھی نہیں دی بلکہ بار بار ان افعال شنیعہ سے منع فرمایا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے وحی پا کر قوم کو ایک گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ یہ حکم سن کر قوم کے لوگوں نے موسیٰ سے کہا کہ اے موسیٰ ایسا حکم دے کر آپ ہم سے ہنسی کر رہے ہیں ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا اللہ کی پناہ ! میں آپ سے ہنسی کیوں کروں گا ؟ ہنسی کرنا تو جاہلوں اور نااہلوں کا کام ہے۔ یہ واقعہ آگے چل کر اس سورة البقرہ میں آئے گا۔ اس لحاظ سے قابل غور امر یہ ہے کہ اللہ اس سے کیوں کر ہنسی…
Read the full tafseer →The eighth verse is a comment on this attitude of complacency and self-congratulation on the part of the hypocrites. They are mightily pleased with themselves in the belief that they can so easily make a fool of the Muslims and get away with it, while they are, in fact, only making a fool of themselves. For Allah has, in His forbearance and mercy, given them a long rope, but this is a provision for their being thrown into ridicule. It took place like this. Since the hypocrites saw no apparent signs of divine punishment descending on themselves, they were encouraged in their complacency and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
15. 'Satan' in Arabic means refractory, rebellious and headstrong, and is used for both human beings and jinn. Although this word is generally used in the Qur'an for the satans amongst the jinn, it is also used occasionally for human beings possessing satanic characteristics. The context generally explains whether the word 'satan' refers to jinn or to human beings. In this particular case the word 'satans' refers to those influential leaders of the time who were in the vanguard of opposition and hostility to Islam
Read the full tafseer →